Hijaab Nov 15

آپ کی الجھن

ڈاکٹر تنویر عشرت

تنویر احمد صاحبہ ایک آرگنائزیشنل فزیولوجسٹ ہیں ان کا نیشنل، ملٹی نیشنل، انٹرنیشنل کنسلٹنگ فرم، گورنمنٹ اور نان گورنمنٹ کے ساتھ کام کرنے کا 20 سال کا تجربہ ہے۔ انہیں تعلیمی، سماجی، تحقیقاتی اور مینجمنٹ کے شعبوں میں تنویر صاحبہ اپنے سماجی حلقہ احباب میں ان لوگوں کی جو کہ تعلیمی، سماجی، گھریلو، پیشہ ورانہ اور جذباتی مسائل کا سامنا کررہے ہوتے ہیں ان کی کائونسلنگ کرتی ہیں۔ انہوں نے آرگنائزیشنل فزیولوجی کا شعبہ اس لیے منتخب کیا تاکہ اداروں کو انسانی نفسیات کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے اور اس طرح وہاں کام کرنے والوں کی کارکردگی کو بڑھایا جاسکے۔ یہ بطور استاد مختلف مقامی یونیورسٹیز میں پڑھاتی ہیں‘ انہوں نے بطور سماجی ماہر ترقیاتی پروجیکٹس میں بھی کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی تربیتی ورک شاپس بھی کرواتی ہیں۔
اریبہ ملک… لاہور
سوال:۔ میں اپنے تعلیم کیرئیر کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پارہی کہ میں اپنی خواہش پہ انٹر میں پری میڈیکل پڑھوں یا اپنے بڑے بھائی کی خواہش پر پری انجینئرنگ میں داخلہ لوں؟
جواب:۔ آپ کا سوال آپ کی کیرئیر پلاننگ اور رہنمائی سے متعلق ہے اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس کام کے لیے پیدا کیا ہے اور آپ کے اندر کون سی منفرد صلاحیتیں رکھ دی ہیں اس کو ہم طبعی رحجان یا ایٹی ٹیوڈ کہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ابھی تک باقاعدہ کیرئیر پلاننگ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اس نظام کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے معاشرتی رویوں اور سوچ کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے والدین کو اپنی سوچ اور رویہ تبدیل کرنا ہوگا کہ بچے کو ان کی ذاتی جائیداد کا حصہ نہیں ہیں بلکہ اللہ نے امانتاً انہیں آپ کو سونپا ہے لہٰذا والدین اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل اپنے بچوں کے ذریعے کرنے کے بجائے بچوں کو اپنی خداداد منفرد صلاحیتوں کے مطابق ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے دیں۔
اس حوالے سے میں آپ کو یہاں یہ مشورہ دوں گی کہ آپ اپنے اندر کی صلاحیتوں کو شناخت کیجیے اور پھر فیصلہ کریں کہ آپ کو اپنا تعلیمی مستقبل کس شعبے میں بنانا ہے کیونکہ اگر آپ دوسروں کی خواہشات کے مطابق تعلیمی میدان کا انتخاب کریں گی تو نہ تو اس تعلیم میں آپ کا دل لگے گا نہ ہی بہت اچھی کارکردگی کا اظہار کرسکیں گی۔ آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتی ہیں پھر اس کے مطابق فیصلہ کریں۔
ملیحہ طارق… سرگودھا
سوال:۔ میں بی ایس کی طالبہ ہوں‘ میں یونیورسٹی میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں جبکہ میرے والدین اس لڑکے کو میرے قابل نہیں سمجھتے اور دوسری جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ آج کل میں بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں؟
جواب:۔ اخلاقی قدروں کے حامل والدین جب اپنی بیٹیوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ ہماری بیٹیاں ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی جب بچیاں اس اعتماد کو قائم کرنے سے پہلے ہی والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں تو ان کے تحفظات اپنی بچیوں کے لیے اور زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ بچیوں کی جائز اور مناسب باتوں کو بھی ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
آپ نے بھی اپنے والدین کے اعتماد کو مضبوطی دینے کے بجائے اپنی زندگی کے اہم فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ ایک انسان اس وقت اپنے فیصلے کرنے کا اہل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی حالت خاص طور پر معاشی اس سطح پر لے جائے جہاں وہ دوسروں پر انحصار نہ کررہا ہو۔ آپ ابھی تعلیم حاصل کررہی ہیں اور آپ کے والدین آپ کی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں کو پورا کررہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ یہ اہم فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس معاشرے میں با اختیار ہوکر رہنے کا فن سیکھ لیں پھر آپ کے فیصلے زیادہ بہتر ہوں گے فی الحال آپ اپنے والدین کی باتوں پر توجہ دیں اور ان کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں۔
مسز غفار… کراچی
سوال:۔ میری بچی تیرہ سال کی ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ضد کرتی ہے‘ ضد پوری نہ ہو تو بدتمیزی کرنے لگتی ہے۔
جواب:۔ بچیوں کی گیارہ سال سے لے کر انیس سال تک کی عمر ان کی تربیت اور حفاظت کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس عمر میں تمام مائوں کو بہت بردباری اور سمجھ داری کے ساتھ بچیوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ اس عمر میں بچیوں کے اندر کام کرنے کی صلاحیت‘ تجسس اور توانائی ہوتی ہے اگر آپ ان تمام چیزوں کو درست سمت مہیا نہیں کریں گی تو آپ کی بچیوں کو بگڑنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے۔
سب سے پہلے آپ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ اپنے بڑوں کی‘ اپنے سسرال والوں اور اپنے شوہر کی عزت کرتی ہیں کیونکہ اس عمر میں بچیاں وہی کچھ کرتی ہیں جو کہ وہ اپنی ماں کو کرتا دیکھتی ہیں۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ بات بات پر ضد تو نہیں کرتیں اگر آپ خود بڑوں کی عزت کرتی ہیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ضد نہیں کرتیں‘ اپنی بات منوانے کے لیے تو پھر آپ کو یہ تجزیہ کرنا ہوگا کہ کیا آپ نے اپنی بچی کو مناسب سرگرمیاں مہیا کر رکھی ہیں یا آپ کی بچی کے پاس بہت سا فارغ وقت ہے جس میں وہ فضول کاموں یا باتوں پر متوجہ رہتی ہے۔ آپ اپنی بچی کو صحت مندانہ کاموں کی عادت ڈالیں مثال کے طور پر اس سے آپ چھوٹے چھوٹے کام کروائیں اس کے ساتھ مل کر اچھی کتابیں پڑھیں یا قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس سے بات چیت کریں تو بتدریج آپ اپنی بچی کی ضد اور بدتمیزی پر قابو پالیں گی۔
مسز ضیاء الحق… کراچی
سوال:۔ میرا چھ سال کا بیٹا بہت ضدی ہے، خاص طور پر اسکول جاتے وقت چھوٹی چھوٹی باتوں پر ضد کرنے لگتا ہے۔ آپ بتائیں کہ ہم اس کی ضد کیسے ختم کرسکتے ہیں؟
جواب:۔ بچوں کے ضد کرنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اگر والدین بچوں کی ضد پہلی بار پوری کردیتے ہیں تو بچے یہ سیکھ جاتے ہیں کہ ضد کرنے سے کام بن جاتا ہے اور اس طرح وہ آئندہ بھی ضد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کے کیس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچے کی نیند پوری نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ اسکول جاتے وقت ضد کرتا ہے۔ لہذا آپ کوشش کریں اپنے بیٹے کو رات جلدی سلانے کی اور اس کے ناشتے کا خیال رکھیں بلا ضرورت اس کی ضد کو پورا کرنے سے اجتناب کریں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close