Hijaab Nov 15

آغوش مادر

نادیہ فاطمہ رضوی

میں نے جب ہوش سنبھالا تو ایک ہستی کو اپنے اردگرد موجود پایا جو مختلف کاموں میں ہمہ وقت مصروف دکھائی دیتی تھیں چوں کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور میرا نمبر سب سے آخری ہے لہٰذا اپنے بڑے بہن بھائیوں کے دیکھا دیکھی میں نے بھی اس ہستی کو امی کہہ کر پکارنا شروع کردیا۔ مجھے جب کبھی ڈر لگتا یا کبھی میں بیمار ہوتی تو میری امی مجھے اپنے سینے سے یوں لپٹا لیتیں جیسے اب وہ کبھی مجھے خود سے الگ ہی نہیں کریں گی۔
جب شعور کی منزل پر میں نے قدم رکھا تو اپنی امی کو ذرا سخت مزاج پایا میں اپنے پاپا کے مقابلے میں امی سے بہت ڈرتی تھی کیوں کہ ایک آدھ بار میں نے کسی غلط بات پر ان سے اچھی والی مار بھی کھائی تھی لہٰذا امی کا رعب و دبدبہ مجھ پر بہت حاوی تھا۔ دراصل وہ ہم بہن بھائیوں کی تربیت کے حوالے سے بہت سخت گیر تھیں جب کہ پاپا سے میرے تعلقات انتہائی دوستانہ تھے میں اپنی ہر خواہش‘ ہر بات ان کے سامنے بیان کردیتی تھی۔ اسکول میں اگر کوئی پارٹی ہے یا مجھے گڑیا وغیرہ چاہیے تو میں بلاجھجک پاپا سے کہہ دیا کرتی تھی اور وہ ہمیشہ میری پریشانی کو دور کردیتے۔ میری ہر خواہش پوری کردیا کرتے تھے جب کہ امی یہ سب دیکھ کر پاپا سے کہا کرتیں۔
’’آپ نادیہ کو بگاڑ دیں گے۔‘‘ دراصل سب سے چھوٹا ہونے کی بدولت مجھے خصوصی مراعات حاصل تھیں جو میرے بڑے بہن بھائیوں کو میسر نہیں تھیں۔ میری بڑی بہنیں بھی اکثر پاپا سے شکوہ کرتیں کہ ’’پاپا آپ نادیہ کی تو ہر ضد پوری کردیتے ہیں جب کہ ہم جب چھوٹے تھے تو ہمارے ساتھ تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔‘‘ اس بات پر پاپا مسکرانے لگتے تھے پھر انہیں سمجھا کر کہتے تھے۔
’’نادیہ سب سے چھوٹی ہے نا اسی لیے میں اس کی باتیں مان لیتا ہوں۔‘‘ وہ امی سے بھی کہا کرتے کہ ’’نجانے کب میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جائوں گا اس لیے میں نادیہ کے زیادہ لاڈ اٹھاتا ہوں کہ نجانے کتنی زندگی میری باقی ہے۔‘‘ کیوں کہ شاید انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ وہ میرے ساتھ زیادہ عرصے نہیں رہیں گے۔
جس طرح ایک بچہ اپنی ماں سے بے پناہ اٹیچڈ ہوتا ہے اسی کے آگے پیچھے پھرتا ہے ان کے ساتھ ہی سوتا جاگتا ہے میں اس طرح اپنے پاپا کے ساتھ اٹیچڈ تھی جب تھوڑی بڑی ہوئی تو اپنی امی کے ساتھ سونا ان کے بیڈ پر آکر لیٹ جاتی تھی پاپا میری سالگرہ پر بھی خصوصی اہتمام کرواتے تھے جب کہ تحفہ میں شور مچا مچا کر ان سے ایک مہینے پہلے ہی لے لیا کرتی تھی غرض کہ میرے پاپا میری زندگی میرا سب کچھ تھے پھر چار سال کی سخت علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا تو یقینی طور پر یہ حادثہ میرے لیے بے حد سنگین تھا ان کی جدائی نے میرے اوپر بہت گہرے اثرات مرتب کیے تھے کیوں کہ میں نے جیسے بتایا کہ امی سے زیادہ میں ان کے بے حد قریب تھی پھر میں نے اپنی امی کا ایک نیا روپ‘ نیا انداز دیکھا انتہائی شفیق بے حد محبت و خیال کرنے والی بے پناہ فکر کرنے والی ماں۔
میں جو پہلے امی سے خائف سی رہتی تھی اب امی کے قریب آگئی تھی‘ دراصل امی ہمیں اچھی تربیت دینے کی غرض سے ہم پر کڑی نگاہ رکھتی تھیں‘ روک ٹوک کرتی تھیں‘ نصیحتیں کرتی تھیں مگر جب پاپا اس دنیا سے چلے گئے تو وہ سمجھ گئیں کہ اب ہمیں ان کے پیارو شفقت کی ضرورت ہے۔ ساری سختی انہوں نے جیسے لپیٹ کر رکھ دی اور اس وقت مجھے ان کا حقیقی پیار ان کا خیال نظر آیا۔
پیاری بہنو! یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ ہی بچے کو چلنا سکھاتے ہیں‘ اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ زمانے کی سردو گرم ہوائوں سے بچاتے ہیں‘ اونچ نیچ سے آگاہ کرتے ہیں اور اسے ایک کامیاب انسان اور مکمل مسلمان بناتے ہیں۔ آج جو کچھ بھی میں ہوں وہ اپنے والدین کی بدولت ہوں‘ انہوں نے ہی مجھے اچھے بُرے کی تمیز سکھائی‘ میری شخصیت پروان چڑھائی مجھے اپنے دین کو سمجھنے اس کے ارکان پر چلنے کی ترغیب دلائی۔
جب میں نے اپنا گریجویشن مکمل کیا تو میرا ارادہ مکمل طور پر ماسٹرز کرنے کا تھا آپ یوں کہہ لیں کہ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنا میرا خواب تھا مگر کراچی یونیورسٹی ہمارے گھر سے بہت دور تھی لہٰذا امی نے مجھے یونیورسٹی بھیجنے کی پہلے پہل اجازت نہیں دی کیوں کہ بقول ان کے کہ تم اتنی دور بسوں میں دھکے کھاکر کیسے یونیورسٹی جائوں گی پھر وہ دیگر مائوں کی طرح میرے حوالے سے کچھ خوفزدہ تھیں کہ نادیہ بھلاء اکیلے اتنی دور کیسے جائے گی اور حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں مختصراً انہوں نے صاف انکار کردیا میں نے کافی احتجاج کیا مگر پھر خاموش ہوگئی‘ انہی دنوں ان کی طبیعت کچھ ناساز ہوگئی چونکہ صرف میں گھر پر ہوتی تھی اور مجھ سے بڑی بہن جاب کرتی تھیں لہٰذا گھر کی ساری ذمہ داری اور ان کی تیمارداری مجھ پر آن پڑی‘ اللہ کا کرم ہوا کہ پہلی بار میں نے سارا گھر بھی بخوبی سنبھال لیا اور امی کی اچھی طرح دیکھ بھال بھی کی۔ امی میرے اس عمل سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے مجھے یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت دے دی اور بہنو… میرا تو خوشی سے بُرا حال ہوگیا یوں صرف اپنی امی کی بدولت میں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی پھر بعد ازاں ’’بین الاقوامی تعلقات‘‘ میں دوسرا ماسٹرز کیا غرض کہ امی نے اپنے اور پاپا دونوں کے فرائض اکیلے اپنی ذات سے پورے کیے انہوں نے اپنے عمل سے ہر ممکن کوشش کی کہ کہیں کسی موڑ کسی موقع پر مجھے یہ احساس نہ ہو کہ ’’اگر پاپا زندہ ہوتے تو میری یہ خواہش یا کام ضرور کردیتے‘‘ پاپا کی طرح امی بھی دیگر بہن بھائیوں میں مجھے سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ مجھ سے بے تحاشا محبت کرتی ہیں اور بعض اوقات وہ میری ان باتوں کو بھی مان لیتی ہیں جو دوسرے بہن بھائیوں کی نہیں مانتیں‘ اسی لیے میری دونوں بڑی بہنیں کوئی بات امی کو سمجھانے یا منوانے کی کوشش کرتی ہیں اور جب وہ ان کی بات نہیں مانتیں تو پھر وہ مجھے آگے کردیتی ہیں پہلے تو وہ مجھ سے بھی تھوڑی خفا ہوتی ہیں‘ ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہیں مگر بالآخر میری بات مان ہی لیتی ہیں۔
جب میں چھوٹی تھی تو کبھی مجھے کوئی چوٹ لگتی کہیں زخم آجاتا تو میں منہ بسورتی ہوئی امی کے پاس جاتی اور اپنی تکلیف بیان کرتی تو امی انتہائی بے پروا انداز میں بولتیں کہ ’’کچھ نہیں ہوا اتنی معمولی سی چوٹ ہے یا زخم ہے چلو بھاگو یہاں سے۔‘‘ یا کبھی میری طبیعت خراب ہوئی تو کہتیں۔ ’’کوئی بڑی بات نہیں ہے سب کو ہی بخار آتا ہے‘ تم بھی ان شاء اللہ ٹھیک ہوجائو گی۔‘‘ تو امی کا یہ رویہ دیکھ کر میں ان سے بدگمان ہوجایا کرتی تھی مجھے ایسا لگتا تھا کہ انہیں میری کوئی پروا ہی نہیں ہے جب کہ اپنی سہیلیوں کی امائوں کو میں انتہائی پریشان ہوتا دیکھتی تھی جس کی بناء پر وہ اور ’’ہائے اوئی‘‘ کرتی تھیں۔ آج میں سوچتی ہوں کہ امی کے اسی عمل کی بناء پر آج میں معمولی معمولی تکلیفوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی اگر کبھی تھوڑی بہت طبیعت خراب ہوجائے تو میں زیادہ پریشان بھی نہیں ہوتی۔
اگر میں گھر کے کام کاج کے حوالے سے بات کروں تو اس معاملے میں وہ کوئی رعایت برتنے کو تیار نہیں تھیں اگر بگھار کی پیاز تیز ہوجائے یا کوئی اور گڑبڑ ہوجائے تو میری اچھی خاصی کلاس ہوجاتی تھی پیاری بہنو…! مجھے کھانا پکانے کا بہت شوق ہے اور زیادہ تر وقت میں اسی کام میں صرف کرتی ہوں۔ میں بہت اچھا کھانا پکاتی ہوں خاص طور پر حلیم‘ چکن پلائو‘ چائنیز وغیرہ وغیرہ جب میرے کھانے کی تعریف ہوتی ہے تو میں سوچتی ہوں کہ بگھار کی پیاز تیز ہوجانے پر یا تیل زیادہ ڈالنے پر امی میری کھچائی نہ کرتیں تو آج میں کبھی بھی اتنے عمدہ کھانے نہیں پکا سکتی تھی۔ ایک بات میں یہاں ضرور کہنا چاہوں گی کہ بعض مائیں لاڈ پیار میں اپنی بچیوں کو گھر کے کام کاج کے جھمیلے میں نہیں ڈالتیں انہیں خاص طور پر کچن کے کاموں سے دور رکھتی ہیں‘ انہیں گھریلو امور کے بالکل ٹریننگ نہیں دیتیں ایسا کرکے وہ اپنی بچیوں کے ساتھ ہم درد و محبت نہیں بلکہ بہت بڑا ظلم اور زیادتی کرتی ہیں۔ میں نے اپنے بہت قریب سے ایسی لڑکیوں کو دیکھا جو اپنے سسرال شادی ہوکر آئیں اور جب انہوں نے کچن میں قدم رکھا تو ہر بات سے نابلد اور کام کاج میں کوری ثابت ہوئیں اور جس کی بناء پر انہیں انتہائی سبکی وخفت اٹھانا پڑی اور لوگوں کی طنزیہ باتوں کو بھی الگ برداشت کرنا پڑا اس معاملے میں‘ میں اپنی امی کی بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنا یہ ہنر یہ گن ہم تینوں بہنوں کو منتقل کیا جب کہ میری دو بڑی شادی شدہ بہنیں اس حوالے سے اپنی سسرال میں سرخرو رہیں۔
ہر گزرتا دن ہماری عمروں کے ڈھلنے کا سبب بنتا ہے ہم بھی آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ہمارے بڑے بڑھاپے کی دہلیز پر جا پہنچے ہیں ہمارے والدین جو پہلے تندرست و توانا اور چاق و چوبند تھے وہ اب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کمزور‘ ناتواں اور ضعیف ہورہے ہیں بقول میری امی کہ ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی مشینری بھی کمزور ہوجاتی ہے اب ہماری بھی جسمانی مشینری کمزور ہوگئی‘‘ یہ حقیقت ہے مگر میں یہ سن کر اداس ہوجاتی ہوں ہر بیٹی کی طرح میں بھی یہ چاہتی ہوں کہ میری ماں ہمیشہ تندرست و سلامت رہے اور ہر طرح کی فکر و پریشانی سے آزاد رہے مگر ہمارے ہاتھ میں سب کچھ نہیں ہوتا۔ امی کی پریشانی ان کی تکلیف مجھے بے تحاشا پریشان کردیتی ہے ان کی صحت بھی اب پہلے والی نہیں ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ اگر امی کی طبیعت خراب ہوجائے یا انہیں کوئی تکلیف در آئے تو میں بے حد گھبرا جاتی ہوں اسی بناء پر وہ اپنی تکلیف اپنی پریشانی مجھ سے کہنے سے کتراتی ہیں وہ اپنی طبیعت کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں چھپالیتی ہیں بعد میں جب چھپانا ناگزیر ہوجاتا ہے اور مجھے جب معلوم ہوتا ہے تو میں ان سے بہت ناراض ہوتی ہوں ان سے شکایت کرتی ہوں تو وہ کہتی ہیں کہ ’’اچھا میں آئندہ بتا دیا کروں گی‘‘ مگر ہر بار وہ یہ بات بھول کر اپنی طبیعت کی ناسازی ہم سے چھپالیتی ہیں۔
پیاری بہنو! کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں کہ ہم ماشاء اللہ پانچ بہن بھائی ہیں ہم سب کے الگ الگ مسئلے‘ الگ الگ معاملے ہیں مجھ سمیت ہر بہن اور بھائی اپنی پریشانیاں اپنی کہانیاں ان سے بیان کرتا ہے‘ وہ سب کی سنتی ہیں اور سب کے لیے یکساں طور پر پریشان اور ہراساں ہوجاتی ہیں۔ کتنی عجیب یہ ماں کی ہستی ہوتی ہے کہ وہ اپنے لیے تو کبھی جیتی نہیں ہے وہ صرف اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے‘ ہر لمحہ ہر پل صرف اور صرف اپنے بچوں کی فکرو پریشانی میں گھلتی رہتی ہے اور بالآخر صحت و تندرستی جیسی انمول نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جب بچہ دنیا میں آکر پہلا سانس لیتا ہے تو اس وقت سے لے کر اپنی زندگی کی آخری سانس تک صرف اور صرف اپنے بچوں کی ذات کی بھول بھلیوں میں گم رہتی ہے۔
میری امی کی زندگی کا بھی محور و مرکز ہم بہن بھائی ہیں وہ ہمہ وقت ہماری ہی فکروں میں الجھی رہتی ہیں۔ میں امی کو تسلی دینے کی غرض سے کہتی ہوں کہ ’’ارے آپ کیوں ٹینشن لیتی ہیں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ تو وہ کہتی ہیں کہ…
’’ٹینشن لینا میرے اپنے بس میں تو نہیں ہے یہ تو خودبخود سر پر سوار ہوجاتی ہے۔‘‘ میں نے اپنی امی کو دیکھا کہ وہ نہ صرف ہماری فکر کرتی ہیں‘ ہمارا بے پناہ خیال رکھتی ہیں بلکہ اسی طرح وہ میری بہن کے بچوں اور بھائی کی بیٹی کے لیے بھی متفکر رہتی ہیں ایک ماں کی طرح انہیں نواسیوں‘ نواسوں اور پوتی کی فکر لگی رہتی ہے۔ ہم تینوں بہنیں امی کی صحت کو دیکھتے ہوئے آپس میں یہ طے کرتے ہیں کہ اب ہم کوئی پریشانی والی بات ان کے گوش گزار نہیں کریں گے پھر بڑی مشکلوں سے خود پر کنٹرول کرکے ہم دو تین باتیں اگر چھپا بھی لیتے ہیں تو چوتھی بات بالآخر ہم ان کے سامنے کہہ دیتے ہیں دراصل ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ان کو بغیر بتائے ہماری پریشانی یا مشکل دور ہوگی ہی نہیں اور بہنو…! ایسا ہی ہوتا ہے ان کو اپنی پریشانی بتاکے ہمارے دل کا بوجھ انتہائی ہلکا ہوجاتا ہے اور پھر جس طرح وہ ہمیں تسلی دیتی ہیں‘ ہمیں حوصلہ دیتی ہیں یا ہماری پریشانی کا ہمیں حل بتاتی ہیں تو یقین کیجیے کہ پھر وہ پریشانی یا مسئلہ ہونے کے باوجود متفکر یا ملول نہیں کرتا بلکہ ہمارے اندر ایک نئی ہمت و عزم پیدا ہوجاتا ہے۔
بہنو! کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں کہ جو محبت شفقت ہمارے والدین نے ہمیں دی جس طرح بچپن میں انہوں نے ہمارا خیال رکھا‘ ہماری حفاظت کی ہماری تربیت کی‘ ہماری شخصیت کو نکھارا۔ کیا ہم ان کے ان تمام احسانات کا صرف ایک فیصد بھی حق ادا کیا؟ نہیں… میں سمجھتی ہوں کہ میں نے اپنے امی پاپا کی ویسی خدمت نہیں کی ویسا خیال و احساس نہیں رکھا جس کے والدین مستحق ہوتے ہیں۔ پاپا چار سال کی علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے مگر میں ان کا صرف اس رات کا بھی قرض ادا نہیں کرسکی جب مجھے بخار آگیا تھا اور رات دو بجے جب میری آنکھ کھلی تو میرے پاپا میرے سرہانے بیٹھے میرا سر دبا رہے تھے اور میں انہیں اپنے پاس دیکھ کر مطمئن ہوکر سوگئی تھی۔ اسی طرح میری امی جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ صرف اور صرف ہماری ذات میں مصروف ہوکر گزارا اور آج تک گزار رہی ہیں‘ میں نے تو ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ وہ تو ہم سے خدمت بھی نہیں لیتیں خود اپنے کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ہمیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ میری وہ امی جنہوں نے ہمیں راتوں کو جاگ جاگ کر پالا ہماری خاطر اپنی نیند اپنے آرام کی قربانیاں دیں وہ میرے بارہا کہنے کے باوجود رات کو کسی چیز کی ضرورت پڑنے پر بھی مجھے نہیں جگاتیں کہ کہیں میری نیند نہ خراب ہوجائے ان کی خدمتوں ان کی محبتوں کا ہم کیسے قرض ادا کرسکتے ہیں۔
میرا امی سے کبھی کبھار کھانے پینے کی چیزوں پر اختلاف ہوجاتا ہے کیوں کہ کچھ اشیا ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں منع کی گئی ہیں جب اس بات پر ہماری بحث ہوتی ہے تو امی مجھ سے ناراض ہوجاتی ہیں اور یہاں میں ان سے زچ ہوجاتی ہوں۔ میں کہتی ہوں کہ یہ آپ کے لیے مضر صحت ہے اور اپنی جانب سے انہیں جذباتی طور پر دبائو میں لاتی ہوں تو پھر وہ میری بات مان جاتی ہیں مگر اس معاملے میں صرف میں ہی ہوں جس کی وہ بات مان لیتی ہیں۔
بہنو! یقینا آپ سب کی مائیں بھی بالکل میری ماں کی طرح ہوں گی‘ خود سے بے پروا مگر اولاد کی فکر و پریشانی میں ہر پل گھلنی والی‘ میرے نزدیک وہ شخص دنیا کا خوش نصیب ترین انسان ہے جس کے حصے میں اپنے والدین کی خدمت آتی ہے اور اپنا یہ فرض یہ ذمہ داری وہ انتہائی خندہ پیشانی سے ادا کرتا ہے ایسے لوگوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں جو اپنے والدین یا اگر ان میں سے کوئی ایک حیات ہے ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں‘ ان کا بڑھاپا سمیٹتے ہیں‘ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ ہم سب کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم بھی اپنے والدین کی خدمت کرسکیں۔
امی آج بھی اپنے بچوں کی فکروں میں مبتلا رہتی ہیں انہی کی ذات انہی کی خوشیوںکے لیے ہمہ وقت دعاگو رہتی ہیں۔ میں ان سے بے پناہ محبت کرتی ہوں ان کی صحت کے حوالے سے بھی بہت فکر مند رہتی ہوں کیوں کہ وہ ڈاکٹروں سے ذرا کتراتی ہیں‘ ڈاکٹر کے پاس تو انہیں بھیجنا جوئے شیر کے مترادف ہوتا ہے اور پھر وہ اپنی اندرونی کیفیت سے بھی ہمیں آگاہ نہیں کرتیں تاکہ ہم پریشان نہ ہوجائیں۔ امی میری زندگی ہیں اگر وہ سارا دن کے لیے کہیں چلی جائیں اور میں ان کو چار پانچ گھنٹے کے بعد نہ دیکھوں تو میں اداس ہونے لگتی ہوں‘ مجھے وہ بے پناہ یاد آنے لگتی ہیں پھر میں ان کو فون کرکے کہتی ہوں کہ ’’بھئی جلدی سے گھر آئیں میں بور ہورہی ہوں‘‘ یہ رشتہ ہوتا ہے ماں اور اولادکا اٹوٹ و محبت بھرا…
اللہ تعالیٰ میری ماں کو سدا صحت مند و سلامت رکھے اور بہنو! آپ سب کی مائوں کو بھی ہمیشہ ہمیشہ خوش و تندرست رکھے میں اس سلسلے کے توسط سے اپنی ماں کے ساتھ ساتھ آپ سب کی مائوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتی ہوں کیوں کہ ساری مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔
’’اے ربّ العزت! ہم سب کو اپنے اپنے والدین کی خدمت و فرماں برداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے لیے ہمارے اعمال کو قابل فخر اور ثواب جاریہ کا ذریعہ بنادے اور جس طرح بچپن میں انہوں نے ہم پر رحم کیا تُو بھی ان پر اپنا رحم و کرم نازل کر (آمین)۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close