Hijaab Nov 15

رخ سخن

سباس گل

حجاب: السلام علیکم سباس! کیا حال چال ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ! الحمدللہ‘ حال بھی اچھا ہے اور چال بھی شریفانہ ہے۔
حجاب: ہاہاہا‘ جی ماشااللہ‘ یہ بتایئے کہ جنم کہاں لیا؟
جواب:امی‘ ابو کے گھر میں۔
حجاب: (ہاہاہا) میرا مطلب ہے کس شہر میں ولادت ہوئی آپ کی اور کس تاریخ کو دنیا کو شرفِ رونق بخشی آپ نے؟
جواب: مابدولت پندرہ فروری کو اس دارِ فانی میں تشریف لائے تھے اور شہر پیدائش ون اینڈ اونلی رحیم یار خان ہے۔
حجاب: بچپن کیسا گزرا؟
جواب:بہت زیادہ تھرلنگ‘ شوخیوں‘ شرارتوں سے بھرپور گزرا۔
حجاب: امی ابو سے کبھی مارپڑی؟
جواب: کبھی (حیران ہوتے ہوئے) یہ پوچھئے کہ کب نہیں پڑی؟ ہر وقت تو شرارتیں کرتے تھے ٹک کے بیٹھنا تو آتا ہی نہیں تھا سو اکثر لتر تھراپی ہوجایا کرتی تھی۔
حجاب: آپ کی تعلیم؟
جواب: جاری ہے۔
حجاب: کس کلاس میں ہیں آپ؟
جواب: ابھی تو لرننگ کلاس میں ہیں ہم۔‘‘
حجاب: لکھنا کب شروع کیا؟
جواب: لکھنا تو پہلی جماعت سے ہی شروع کردیا تھا‘ الف ب‘ پ سے… ہاں کہانیاں لکھنا بھی اسکول کے دور میں شروع کردیا تھا۔ اسکول میں بزم ادب میں حصہ لیا کرتے تھے۔ ڈرامے‘ خاکے وغیرہ پیروڈی خود ہی لکھا کرتے تھے اور ایکٹ اور ڈائریکٹ بھی خود کیا کرتے تھے۔ ہر کسی کی نقل اتارتے تھے جب ہی معین اختر (مرحوم) اور بشریٰ انصاری کے نام سے مشہور تھے۔ بس جو دل و دماغ میں آتا تھا لکھ دیتے تھے کسی کو وہ شاعری لگتی تھی تو کسی کو کہانی۔
حجاب: پہلا ناول اور افسانہ کون سا لکھا آپ نے؟
جواب: ناول تھا ’’دعا‘‘ جس کا نام بعد میں تبدیل کردیا گیا تھا اور وہ ’’روشن شمع ڈائجسٹ‘‘ میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ پہلا افسانہ جو شائع ہوا وہ تھا ’’سوکھے ٹکڑے‘‘ جو ایک ادبی پرچے میں شائع ہوا تھا اور بہت پسند کیا گیا تھا۔
حجاب: پہلا ناول کس ڈائجسٹ میں شائع ہوا؟
جواب:پہلا شائع ہونے والا مکمل ناول تھا ’’محبت یوں بھی ہوتی مگر‘‘ جو ’’کومل‘‘ ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا جس کے مدیر کاوش صدیقی صاحب اور سمیرا حق صاحبہ تھیں اسی ڈائجسٹ سے ہمارے ناولز ہماری پہچان کی بنیاد بنے اور ہمارے پہلے ہی ناول کو ’’کومل رائٹرز ایوارڈز‘‘ کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔
حجاب: پہلی کہانی شائع ہونے پر آپ کے کیا احساسات تھے اور گھر والوں کے کیا تاثرات تھے؟
جواب:وہ کہتے ہیں ناں کہ خوشی کے مارے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے تو ایسی ہی کیفیت تھی ہماری‘ پہلا ناول شائع پر اور گھر والے حیرت زدہ تھے کہ اس نے ناول لکھ بھی لیا اور شائع بھی ہوگیا۔ بابا جان نے ہمیں مبارک باد کے ساتھ ایک ہزار روپے بطور انعام دیئے تھے جس میں سے آدھے پیسے تو ادھار چکانے میں نکل گئے تھے کیونکہ امی حضور ہمیں کاغذ قلم منگوانے کے لیے پیسے نہیں دیا کرتی تھیں اور ہم بھائی بہنوں سے ادھار مانگ مانگ کر کام چلایا کرتے تھے۔ کسی کو یقین بھی نہیں تھا کہ ہمارے ناول ‘ افسانے شائع ہوں گے اور ہمیں پیسے بھی ملیں گے تو بہنیں بڑی سوچ بچار کے بعد ہمیں ادھار دیا کرتی تھیں کہ یہ ہمارا جیب خرچ ہے لوٹا دینا‘ ہاہاہا۔
حجاب: انٹرسٹنگ‘ اچھا یہ بتایئے موسم کون سا پسند ہے؟
جواب:دل کا موسم۔
حجاب: وہ کیوں؟
جواب:کیونکہ اگر دل کا موسم اچھا اور باہر لُو چل رہی ہو‘ سخت گرمی ہو یا برف جیسی سردی ہو تو وہ بھی مزا دیتی ہے نہ لُو سے بدن جھلستا محسوس ہوتا ہے نہ ہی برف جیسی ٹھنڈک ہڈیوں میں سرایت کرتی محسوس ہوتی ہے۔
حجاب: آپ نے لکھنا کیوں کم کردیا ہے؟
جواب:عمر کا تقاضا ہے نا پہلے جیسی انرجی نہیں رہی جو ایک ماہ میں تین سے چار ناول لکھ لیا کرتے تھے‘ بس تھوڑے سست اور موڈی ہوگئے ہیں ہم۔
حجاب: ارے ابھی تو آپ ینگ ہیں‘ کتنے برس کی ہیں ماشاء اللہ؟
جواب: جتنے برس کی نظر آتی ہوں۔
حجاب: ہاہاہا… یعنی ستائیس‘ اٹھائیس برس سے زیادہ کی نہیں ہیں۔
جواب:ارے یہ تو بہت زیادہ ہیں بھئی اب کیا ہم اتنے بڑے نظر آتے ہیں؟
حجاب: ہاہاہا‘ نہیں نہیں یو آر ٹو ینگ‘ اچھا جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ فیملی میں؟
جواب:جی ہاں بالکل کرنا پڑا تھا۔
حجاب: کیا لکھنا آسان ہے؟
جواب:کیا درد سہنا آسان ہے؟
حجاب: نہیں۔
جواب:بس اسی طرح لکھنا بھی آسان نہیں ہے‘ ہم درد سہتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں جب تک کوئی چیز آپ کو متاثر نہیں کرے گی‘ اکسائے گی نہیں اپنی جانب کھینچے گی نہیں تب تک آپ اسے زیر قلم نہیں لاسکتے۔
حجاب: ہوں‘ آپ نے ماشاء اللہ ناول‘ افسانہ‘ شاعری‘ کالم نگاری اور آرٹیکل سب ہی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے آپ کو ذاتی طور پر کس صنف پر طبع آزمائی کرکے لطف آتا ہے؟
جواب:ہمیں ناول لکھنے میں زیادہ چارم اور دلچسپی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہم ان کرداروں کے ساتھ سانس لیتے ہیں‘ سوتے جاگتے دل و دماغ میں ان کی کہانی بُنتے آگے بڑھتے ہیں اس کا ایک انوکھا مزا ہے اور شاعری کا الگ چارم ہے آپ ایک شعر یا نظم میں ایک کہانی بیان کرسکتے ہیں‘ دریا کو کوزے میں بند کرسکتے ہیں۔
حجاب: اب تک کتنے ناول افسانے تخلیق کرچکی ہیں؟
جواب:الحمدللہ! دو سو سے زائد ناول افسانے تخلیق کرچکی ہوں۔
حجاب: ماشاء اللہ! اللہ نظر بد سے بچائے اور زورِ قلم اور کرے۔
جواب:آمین‘ جی بہت شکریہ۔
حجاب: کہتے ہیں کہ لکھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہے کیا یہ بات درست ہے؟
جواب:جی ہاں۔
حجاب: آپ آج کل کسے پڑھ رہی ہیں؟
جواب: زندگی کو۔
حجاب: زندگی سے کیا سیکھا؟
جواب: سیکھا یہ ہے کہ صبر سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہے اور سچ سے بڑا اطمینان کوئی نہیں ہے۔
حجاب: واہ بہت خوب! آپ دوسری رائٹرز کو پڑھتی ہیں؟
جواب: جی اگر وقت ملے اور موڈ بھی ہو تو ضرور پڑھتی ہوں۔
حجاب: آج کل کیا لکھ رہی ہیں؟
جواب: کچھ ناولز ادھوے رکھے ہیں‘ انہیں مکمل کرنے کا ارادہ ہے اور چھوٹے موٹے افسانے‘ شاعری‘ ناولٹ ساتھ ساتھ لکھتے رہتے ہیں۔
حجاب: کس رائٹرز کا اندازِ تحریر و تقریر آپ کو پسند ہے؟
جواب:بشریٰ رحمن صاحبہ کا اور ان کا ناول ’’بہشت‘‘ بہت پسند ہے وہ جتنا اچھا بولتی ہیں اتنا اچھا لکھتی بھی ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد صاحب کا اپنا منفرد مقام ہے یہ لوگ اردو ادب کے ستون ہیں۔
حجاب: کھانے پینے میں کیا پسند ہے؟
جواب: رزقِ حلال۔
حجاب: سبحان اللہ‘ کوئی بہت فیورٹ ڈش ہو آپ کی؟
جواب: یخنی والا پلائو‘ شامی کباب‘ پزا اور آئس کریم آل ٹائم فیورٹ ہیں۔ ویسے چائنیز‘ میکیکن‘ اٹالین اور پاکستانی کھانے سب کا ذائقہ چکھ چکے ہیں۔
حجاب: پسندیدہ مشروب؟
جواب: اسکنجبین‘ ملک شیک اور پانی۔
حجاب: کوکنگ کرلیتی ہیں؟
جواب: جی ہاں‘ کوکنگ ہی تو ہے جو ہم ہر حال میں کرلیتے ہیں بھئی بھوک تو روز لگتی ہے نا‘ ہاہاہا۔
حجاب: (ہاہاہا) جی آپ نے کافی بھی بہت اچھی بنائی ہے۔(کافی کا سپ لیتے ہوئے) چائے کیسی بناتی ہیں؟
جواب: چائے بہت اچھی بناتی ہوںلیکن پیتے نہیں ہیں۔
حجاب: واقعی؟
جواب: جی (مسکراتے ہوئے)۔
حجاب: حیرت ہے بھئی‘ چائے کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے؟ ویسے زندگی کیسی ہے؟
جواب: یہ کافی کیسی ہے ؟ (کافی کے مگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔
حجاب: تھوڑی کڑوی ہے۔
جواب:بس زندگی بھی ایسی ہی ہے تھوڑی میٹھی‘ تھوڑی کڑوی۔
حجاب: اچھا ناولز کے ہیروز‘ ہیروئن ہمیشہ اتنے منفرد‘ ڈیشنگ‘ اسمارٹ اور حسین و جمیل کیوں ہوتے ہیں؟
جواب: سچ تو یہ ہے کہ لوگ خوب صورت اور حسین لوگوں کی کہانی پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ناول کا مطلب ہے نیا‘ انوکھا اور منفرد تو جب تک ہم ناول میں عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ نیا شامل نہیں کریں گے پڑھنے والے اٹریکٹ نہیں ہوں گے۔ کہانی میں ان کی دلچسپی پیدا نہیں ہوگی‘ ہیرو‘ ہیروئن خوب صورت‘ حسین الوہی حسن و جمال کے مالک ہوں بہت اچھے کردار و اطوار کے مالک ہوں تو اگر ان کے ساتھ کچھ غلط یا بُرا ہوتا ہے تو قارئین کی دلچسپی اور ہمدردی بڑھتی ہے۔ کہانی مضبوط ہو اور کردار خوب صورت ہوں تو قارئین ناول ضرور پڑھنا چاہیں گے کیونکہ ہیرو ہیروئن کسی بھی ناول کا سرورق ہوتے ہیں اگر سرورق خوب صورت ہے تو آپ ناول اور کتاب کے اندر بھی جھانگیں گے اگر سرورق میں ہی اٹریکشن نہیں ہے تو اچھی سے اچھی کہانی بھی بعض اوقات اپنے قاری کی راہ تکتی رہ جاتی ہے۔
حجاب: ناول کی ہیروئن کا خاکہ تراشتے ہوئے آپ کیا کرتی ہیں؟
جواب:ہم آئینہ دیکھ لیتے ہیں‘ ہاہاہا۔
حجاب: (ہنستے ہوئے) واقعی ہمیں بھی ایسا ہی لگتا ہے۔
جواب: سیریسلی ہمیں سب سے مشکل مرحلہ یہی لگتا ہے۔ ناول کی ہیروئن اور ہیرو کا خاکہ تخلیق کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ہمارے لیے۔ وہ جو خالق کائنات ہے یہ سب اسی کا کام ہے اس کی مصوری کمال ہے۔ ہم تو محتاج ہیں اس کی مدد اور رحمت کے ہم تو کہانی کے کرداروں کے خاکے تراشتے ہوئے بھی سو بار سوچتے‘ اٹکتے اور الجھتے ہیں وہی رب ہے جو ’’کُن‘‘ کہہ کر ایک کائنات کو وجود میں لے آتا ہے بے شک اللہ اکبر۔
حجاب: صحیح کہا آپ نے۔
جواب:آئیے کھانا تیار ہے‘ باقی باتیں کھانے کی میز پر ہوجائیں گی۔
( سباس ہمیں ڈرائنگ روم سے ڈائننگ ٹیبل پر لے آئیں‘ میز پر مرغ پلائو‘ شامی کباب‘ مٹن کڑاہی‘ پالک گوشت‘ سلاد‘ رائتہ اوردیگر لوازمات دیکھ کر تو ہماری بھی بھوک چمک اٹھی تھی اور ہم انٹرویو لینے کے ساتھ ساتھ کھانے سے دو دو ہاتھ کرنے میں جت گئے)۔
حجاب: آپ کی باتوں کی طرح کھانا بھی بہت مزے دار ہے۔(ہم نے کھانا کھاتے ہوئے تعریف کی تو سباس مسکراتے ہوئے بولیں)
جواب: بہت شکریہ‘ بلا تکلف کھایئے کیونک پیٹ تو کھانے سے ہی بھرے گا‘ باتوں سے نہیں۔ باتوں سے آپ صرف ڈائجسٹ کا پیٹ بھرسکتے ہیں۔
حجاب: (مسکراتے ہوئے) ہوں‘ اچھا سباس! آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟
جواب: الحمدللہ!ہمارے ناولز کی دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں‘ حال ہی میں ہمارا ناول ’’تمہارے بن ادھورے ہیں‘‘ شائع ہوا ہے ۔ یہ ناول ہم نے تیرہ برس پہلے لکھا تھا مگر کتاب کی صورت میں اس سال مارکیٹ میں آیا ہے۔
حجاب: ماشاء اللہ‘ بہت خوب۔
جواب:اگر پبلشر حضرات ایک کتاب پر تین سے چار سال نہیں لگاتے تو ممکن تھا کہ اب تک ہماری پندرہ‘ سولہ کتب مارکیٹ میں دستیاب ہوتیں۔
حجاب: وائو گریٹ‘ چلیں ان شاء اللہ جلد ہی آپ مزید دس‘ بیس کتابوں کی مصنفہ بن جائیں گی
جواب: (ہنستے ہوئے) جی ان شاء اللہ۔
حجاب: شائع ہونے والی کتابوں کے نام؟
جواب: تم ایسی شرارت مت کرنا ‘ میں محبت اور تم‘ امل‘ سرِ لوحِ شامِ فراق پھر‘ چلو چاہت نبھائیں ہم‘ اک تیرے آنے سے محبت رنگ بدلتی ہے‘ تم سنگ نیناں لاگے‘ تمہارے بن ادھورے ہیں۔
حجاب: آپ کے ناولز کے نام بہت خوب صورت اور دلکش ہوتے ہیں۔
جواب:آہم… ہماری طرح (قہقہہ)
حجاب: (ہنستے ہوئے) اچھا آپ کو بھی تو ٹی وی کی طرف سے ڈرامہ لکھنے کی آفرز آتی رہتی ہیں تو ڈرامہ کیوں نہیں لکھا آپ نے اب تک؟
جواب: شاید ہماری اپنی کاہلی ہے روز سوچتی ہوں آج لکھیں کل لکھیں گے‘ بس اسی آج کل میں وقت گزر رہا ہے۔ آپ دعا کیجیے کہ ہم میں لکھنے کا پہلے جیسا شوق اور جنوں دوبارہ پیدا ہوجائے بس پھر ان شاء اللہ چل سو چل۔
حجاب: ان شاء اللہ جی ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو جلد ہی کامیاب ڈرامہ رائٹر کی حیثیت سے عزت و شہرت سے نوازے۔
جواب:آمین‘ جزاک اللہ۔
حجاب: ٹی وی ڈرامے شوق سے دیکھتی ہیں؟
جواب: پہلے شوق سے دیکھتے تھے اب شاک سے دیکھتے ہیں۔
حجاب: اچھا ایسا کیوں؟
جواب: کیا… کیا دکھایا جارہا ہے ہمارے چینلز پر خواتین کے سروں سے دوپٹہ اتر کر شانے پر آیا‘ شانے سے گلے میں پھر گلے سے بھی جاتا رہا۔ حجاب کا‘ حیا و حسن کا آنچل سرے سے غائب کردیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم ترقی کررہے ہیں یہ کیسی ترقی اور کامیابی ہے جس میں آپ اپنی خواتین کو بے حجاب کررہے ہیں اور خوش ہو کر تالیاں بجارہے ہیں۔
حجاب: کمرشل ازم کا دور ہے نا لہٰذا ایسا کرنا پڑتا ہے جبھی تو ڈرامہ چلتا اور بکتا ہے۔
جواب: ہاں جی‘ آج کل تو سب چلتا ہے اور سب بکتا ہے لیکن اینڈ آف دی ڈے بچتا کچھ نہیں ہے سوائے کفِ افسوس ملنے کے۔
حجاب: آپ کو آپ کے قارئین کی طرف سے کئی خطابات سے بھی نوازا گیا ہے جیسے ’’رائٹرآف رئیل ازم (حقیقت شناس لکھاری) رائٹر آف لو‘ کوئین آف رومینٹک ناولز وغیرہ… تو کیسا لگتا ہے پڑھنے والوں کی جانب سے یہ اعزاز ‘ یہ پذیرائی اور محبت؟
جواب: الحمدللہ! بہت اچھا لگتا ہے اور ہم حجاب کے توسط سے اپنے قارئین اور چاہنے والوں کا‘ مداحوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی پسندیدگی‘ محبتوں اور چاہتوں سے آج ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔
حجاب: آپ کی شاعری بھی مختلف اخبارات اور ڈائجسٹوں میں پڑھنے کو ملتی رہتی ہے اور یقینا پسند بھی کی جاتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے ابھی تک اپنا شعری مجموعہ شائع نہیں کرایا؟
جواب:یہ سوال اور شکایات ہمارے بہت سے دوست احباب ہم سے کرتے ہیں‘ بس آپ اسے ہماری سستی کہہ لیں یا دیگر کاموں کی مصروفیات جن کے باعث ہم اب تک اپنا کلام منتخب نہیں کرسکے یوں تو ہم خود کو شاعرہ بھی نہیں سمجھتے یہ تو آپ احباب کی محبت ہے کہ ہمارے ٹوٹے پھوٹے‘ بے ترتیب سے لفظوں کو شاعری سمجھتے ہیں اور داد و تحسین سے نوازتے رہتے ہیں‘ ان شاء اللہ جلد ہی ہم اپنے چاہنے والوں کی یہ خواہش اور فرمائش پوری کریں گے ( ان شاء اللہ)۔
حجاب: محبت پر یقین ہے؟
جواب: محبت پر ہی تو یقین ہے۔
حجاب: کسی سے محبت کی؟
جواب:ہر کسی سے محبت کی۔
حجاب: کوئی خاص محبت جو ملی ہو؟
جواب:خاص محبت‘ خاص لوگوں کو ملا کرتی ہے اور ہم بہت عام سے ہیں۔
حجاب: کبھی تنقید ہوتی ہے تو کیسا محسوس کرتی ہیں؟
جواب: ہم مسکرانے لگتے ہیں۔
حجاب: وہ کیوں؟ آپ کو غصہ نہیں آتا؟
جواب: ان کو آتا ہے پیار پر غصہ
ہم کو غصے پر پیار آتا ہے
بھئی تنقید اگر کبھی ہوتی ہے تو صرف یہ کہ سباس گل ہمیشہ محبت پر لکھتی ہیں بس اسی بات پر ہم مسکرادیتے ہیں۔
حجاب: لیکن آپ نے بہت تلخ‘ سنجیدہ اور رنجیدہ حقائق پر مبنی افسانے بھی لکھے ہیں مثلاً ’’سوکھے ٹکڑے‘ میٹھی سویاں‘ لاج‘ یہ ہم لڑکیاں‘ رخصتی‘ اعتبار‘ اللہ کے نام پہ‘ حی علی الفلاح‘ لبیک اللھم لبیک‘ جگنو‘ عورت‘ تیرے ہجر کی شام‘ معصومہ… ایک طویل فہرست ہے آپ کے سنجیدہ افسانوں کی بدولت آپ کو ’’حقیقت شناس‘‘ رائٹر کا ٹائٹل بھی دیا گیا ہے۔
جواب: جی بالکل ایسا ہی ہے۔
حجاب: آپ نے محبت اور مزاح بھی خوب لکھا ہے‘ ہنسایا بھی ہے‘ دلوں کو گدگدایا بھی ہے اور رلایا بھی ہے۔جذبوں کے یہ سارے رنگ‘ احساس کے یہ سارے ڈھنگ کیسے آپ اپنی تحریروں میں سمولیتی ہیں؟
جواب: یہ سارے جذبے زندگی کا حصہ ہیں اور جو جذبہ و احساس زندگی سے جڑا ہو آپ اسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ دیکھئے زندگی ’’آئی لو یو‘‘ اور ’’آئی لو یو ٹو‘‘ کا نام نہیں ہے اس میں آنسو بھی ہیں‘ آہیں بھی ہیں‘ خوشیاں بھی ہیں اور دکھ بھی ہیں۔ آپ کو سب کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے یہی زندگی کا مزاج ہے اور زندگی کا مزاج سمجھ لینا بھی ایک فن ہے۔
حجاب: آپ کی تحریروں کہانیوں کی تعریف ہوتی ہے تب آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
جواب: الحمد للہ‘ الحمدللہ… اللہ اکبر۔
بس یہی الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہیں مسکراہٹ کے ساتھ۔
حجاب: کوئی خواہش؟
جواب: نہیں‘ اب ہم خواہش نہیں کرتے صرف دعا کرتے ہیں۔
حجاب: اللہ سے کیسا رشتہ ہے آپ کا؟
جواب:جیسا جسم کا روح سے رشتہ ہے۔
حجاب: آپ کی نظر میں انمول رشتے؟
جواب: ماں‘ باپ۔
حجاب: کیا محبت آسانی سے مل جاتی ہے؟
جواب:جو آسانی سے مل جائے وہ محبت نہیں ہوتی۔
حجاب: دعا مانگتی ہیں؟
جواب:دعا ہی تو مانگتی ہوں۔
حجاب: محبت‘ دولت‘ شہرت‘ صحت‘ عزت میں آپ کی ترجیح کیا ہوگی ترتیب وار بتایئے؟
جواب: عزت‘ صحت‘ محبت‘ دولت شہرت۔
حجاب: ’’حجاب‘‘ کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
جواب: جی سب سے پہلے تو حجاب کے اجراء پر آنچل اور حجاب کی تمام ٹیم کو ‘ انکل مشتاق احمد قریشی کو‘ طاہر بھائی اور عمران بھائی کو ’’حجاب‘‘ کے تمام اسٹاف اراکین کو ہماری جانب سے دلی مبارک باد قبول ہو۔ ہمارے لیے باعث مسرت ہے یہ لمحہ کے ہم بھی حجاب کا حصہ بن رہے ہیں۔ ہماری دلی دعا ہے کہ حجاب بھی آنچل کی طرح بلکہ آنچل سے زیادہ کامیابی ‘ پسندیدگی اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے اور سب کی امیدوں پر پورا اترے‘ آمین۔
حجاب: )بہت شکریہ آپ کی محبت بھری دعائوں کے لیے۔
جواب: ارے اپنوں کا شکریہ تھوڑی ادا کرتے ہیں‘ آنچل ہمارا ہے تو حجاب بھی ہمارا ہے۔
حجاب: جی جی بالکل صحیح کہا آپ نے (ہنستے ہوئے)۔ انٹرویو طویل ہوگیا مگر سوالات اب بھی بہت سے باقی ہیں‘ ان شاء اللہ زندگی بخیر پھر کسی نشست میں آپ سے بات ہوگی۔ کھانے کے ساتھ ساتھ آپ کے انٹرویو کا بھی بہت لطف آیا‘ بہت شکریہ حجاب کے لیے وقت دینے کا۔ آخر میں حجاب کے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: گل کا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔
حجاب: (واہ بہت خوب)۔
جواب: آپ کا اور حجاب کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں قارئین سے ملاقات کا موقع دیا۔ خوش رہیے‘ سلامت رہیے‘ اللہ پاک آپ سب کو بہت کامیابیوں اور عزتوں سے نوازے۔
آمین ثم آمین… اللہ حافظ۔

حجاب: آپ کا نام؟
ج: میرا نام شگفتہ شفیق ہے۔
حجاب: شہر پیدائش؟
ج: رو شنیو ں کے شہرکر ا چی میں ۸ اگست کو آنکھ کھولی۔
حجاب: تعلیمی قابلیت؟
ج: پی ای سی ایچ ایس کالج سے میں نے بی ایس سی کیا اور گورنمنٹ کالج فیڈرل بی ایریا سے بی ایڈ کیا۔
حجاب: کس عمر؟ یا کس سن میں شاعری کا آغاز ہُوا؟
ج: ۱۳ سا ل کی عمر میں اپنی ماں کی دائمی جدائی پر میں نے نظم کی صورت اپنے دل کی کیفیت بیان کی تھی۔
ایسا ہوا ہے اکثر
میر ے ساتھ بار بار
جب میں ہوئی ہوں تنہا
اور روئی ہوں زار زار
پیاری ماں کا سایہ اور مہربان ہاتھ
دھیر ے سے میر ے نزدیک
آکے ٹھہر گیا ہے
اور مسکرا کے مجھ کو
پھر حوصلہ دیا ہے
اور مجھ سے یہ کہا ہے
ہمت سے کاٹنی ہے تم کو یہ زندگانی
پو نچھو یہ اپنے آ نسو
ہنستی رہا کرو تم
حجاب: آپ کو خود کب احساس ہُوا کے آپ واقعی شعر کہہ سکتی ہیں؟ یا کہہ سکتے ہیں؟
ج: میں نویں جماعت میں تھی جب مجھے محسوس ہوا کہ میں شعر کہہ سکتی ہوں۔
حجاب: آپ کی نظر میں شاعری کیا ہے؟ خدا داد صلاحیت ہے، عطا ہے، ہُنر ہے یا شوق ہے؟
ج: اپنے دلی جذبات کو لطیف پیرائے میں بیان کرنا میر ے نزدیک شاعری ہے اور یہ ہنر اور عطا خداداد صلاحیت ہے جو کہ قدرت کی طر ف سے ودیعت کی گئی ہے یعنی شاعر بنایا نہیں جاتا۔
حجاب: کیا شاعری سچ بولتی ہے؟
ج: با لکل، شاعری ہمار ے احساسات کی سچی عکاسی کرتی ہے اور سچی شاعری ہی دل کو بھاتی ہے۔
اپنے ہو جاتے ہیں بد ذات تو دُکھ ہوتا ہے
جب دکھاتے ہیں وہ اوقات تو دُکھ ہوتا ہے
حجاب: آپ کو ذاتی طور پر کیا پسند ہے شاعری میں؟ نظم، غزل، قطعہ یا رباعی؟
ج: میں غزل اور نظم بہت شوق سے لکھا کرتی ہوں۔
حجاب: آپ اشعار میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کر کے کیا محسوس کرتی ہیں؟
ج: میں شعر اُس وقت تک نہیں لکھ سکتی جب تک کوئی بات میرے دل کو نہ چھوجائے اور پھر اُن احساسات کو لکھ کے بہت سکون محسوس کرتی ہوں۔
حجاب: کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ خواتین شاعرات کے کلام سے اُن کے کردار کو جانچا، پرکھا جاتاہے؟
ج: جی میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ بالکل غلط بات ہے کہ مشاہدہ بھی کچھ اہمیت رکھتا ہے اور شاعروں کی تو شاعری میں ان کے تخیل کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔
حجاب: مرد اور خاتون کی شاعری میں بنیادی فرق کیا محسوس کرتی ہیںآپ؟
ج: جی میرا خیال ہے کہ خواتین ذرا ڈھکے چھپے انداز میں واردات قلبی لکھتی ہیں جب کہ مرد شعرا آزادی کے ساتھ اپنے احساسات کو بیا ن کرتے ہیں۔ ویسے تو لکھنے والوں میں ہم کو مرد اور عورت کی تخصیص پسند نہیں ہے۔
حجاب: ایک شاعر کے لیے داد و تحسین کتنی ضروری ہے؟
ج: پزیرائی اور داد و تحسین آ گے بڑ ھنے میں وا ضح کر دا ر ادا کر تے ہیں حو صلہ ا فزا ئی سے مز ید اور لکھنے کا ر ُ جحا ن پیدا ہو تا ہے ۔ اس ضمن میں اپنی مثا ل د ینا چا ہو ں گی کہ اللہ کے فضل سے میر ی پہلی کتا ب ۔ میرا د ل کہتا ہے ۔ کے بعد مجھے لو گو ں نے اندرو نِ ملک اور بیرو ن ملک بہت زیادہ پزیرائی سے نوازا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ۳ کتابیں بہت تیزی سے منصہ شہو د پر آ گئیں۔
حجاب: کیا شاعری سے معاشرے کی اصلاح کا کام کیا جا سکتا ہے؟
ج: جی ہا ں، با لکل لیا جا سکتا ہے اور لو گ اُ س کو تو جہ بھی د یتے ہیں اور عمل کر نے کی کو شش بھی کر تے ہیں
حجاب: آپ کو کن شعرا کا کلام پسند ہے؟
ج: مجھے غا لب ۔فیض ۔ ا حمد فرا ز اور پر وین شا کر بہت پسند ہیں ۔و یسے کو ئی بھی ا چھا شعر میر ے د ل میں فٹا فٹ جگہ بنا تا ہے اس کے لیئے شا عر کا مشہو ر ہو نا کو ئی ضرو ر ٰ نہیں ہے۔
حجاب: کیا آپ موجودہ ملکی حالات کو اپنی شاعری کا حصہ بناتی ہیں؟
ج:مجھے رو ما نس لکھنا ز یا دہ پسند ہے لیکن میں حالاتِ حا ضرہ کو بھی اکثر اپنی شاعری میں سموتی ہوں کہ وقت اور حالات سے کٹ کے نہیں رہا جاسکتا ہے۔
حجاب: آپ کا کوئی مجموعہ کلام مارکیٹ میں دستیاب ہے؟
ج: جی میرے۳ مجمو عے ِ کلا م ما ر کیٹ میں د ستیا ب ہیں جن کے نا م یہ ہیں
(۱) میرا د ل کہتا ہے ۔۱۰ ۲۰
(۲) یا د آ تی ہے ۔ ۱۲ ۲۰
(۳) جا گتی آ نکھو ں کے خوا ب۔ ۱۳ ۲۰
حجاب: صاحبِ کتاب ہُوئے بِنا آپ کو شاعر یا ناول نگار نہیں مانا جاتا، اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کیا ایسا رویہ یا اندازِ فکر صحیح ہے؟
ج: نہیں، میں اس با ت کو نہیں ما نتی کیو نکہ یہ رو یہ ٹھیک نہیں ہے ا کثر بہت با صلاحیت لوگ معاشی مجبوریوں کی بناء پر صاحب کتاب نہیں بن پا تے ۔ یہا ں میں یہ ضرور کہنا چا ہو ں گی کہ اس ضمن میں اگر حکو مت مدد نہیں کرسکتی تو صا حب ِ حیثیت لو گو ں کو سا منے آ نا چا ہیئے اور ایسے لوگوں کی کتا بیں چھپوا نے کا ا ہتما م کر نا چا ہیے۔
حجاب: چاندنی راتوں کا اور شاعری کا آپس میں کیا کنکشن ہے؟
ج: چا ند نی ر اتیں میر ی تو کمزوری ہیں ۔ شا عر ی ایسے خوب صورت ما حو ل میں خو د بخو د ہم پر اُترتی چلی جاتی ہے اور بہت زیادہ شاعری پر اُکساتی ہے۔
حجاب: اپنی پسند کا کوئی شعر سُنائیں؟
ج: میں آ پ کو اپنا ہی ا یک شعر سنا نا چا ہو ں گی
تھی ہما ری ز ند گی بس چا ر دن
سا تھ جو ہم نے گذارے آ پ کے
حجاب: زندگی ایک جُملے میں بیان کیسے ہو؟
ج:ز ند گی اللہ کی خوب صورت نعمت ہے جس کوبہت محبت سے بسر کر نا چاہیئے
حجاب: کوئی خوشبو جیسی بات جو آپ قارئین بہنوں سے کہنا چاہیں؟
ج:
جب بھی د یکھے وہ گہر ی نظروں سے
آپ ہی آپ ہم سنور جائیں
اور
د ینے وا لے کے لیئے تو ہے ا شا رہ کا فی
کیا ضروری ہے کو ئی ہا تھ میں کا سہ ر کھے
حجاب: پاکستان کے لیے سوچتی ہیں؟
ج:بہت ۔ ہم کو اپنے و طن سے عشق ہے
د عا ہے یہ کہ شگفتہ بہا ر کا مو سم
چھا ئے ایسے چمن میں کو ئی مثا ل نہ ہو
حجاب: آپ کی پسند نا پسند کھانے پینے میں پہننے اوڑھنے میںکیسی ہے؟
ج: کھا نے پینے کی بہت شو قین نہیں ہو ں جو مل جا ئے ٹھیک ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پکا نا نہیں آ تا ۔ لو گ کہتے ہیں کہ بہت ا چھی کک ہو ں البتہ مجھے سلا د بہت ز یا دہ پسند ہے ۔ پہننے میں ہروہ اچھا فیشن پسند ہے جس میں اپنا آ پ مجھے خو د پسند آ ئے۔
حجاب: شہرت کیسی لگتی ہے؟
ج: بہت ا چھی لگتی ہے اور لو گو ں کی محبت د یکھ کے میں اللہ کا شکر ادا کر تی ہو ں اور اپنے چا ہنے وا لو ں کو ہمیشہ اپنی دعائوں میں شامل رکھتی ہوں۔
حجاب: ماشااﷲ! آپ کو کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں اُن کے بارے میں بتائیے ہمارے قارئین کو؟
ج: میری شاعری پاکستان، انڈیا، امریکہ، انگلینڈ، جرمنی اور مغربی یورپ میں چھپی اور پڑھی جاتی ہے۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ٹورنٹو میں لائونچ ہوا تھا اور دوسرا مجموعہ کلام فرینکفرٹ جرمنی میں اور ٹورنٹو میں لائونچ کیا گیا تھا اور تیسرا مجموعہ کلام ڈنمارک اور ٹورنٹو میں لائونچ کیا گیا۔ اردو سوسائٹی آ ف کینیڈا کی طرف سے ایوارڈ آف ایکسلینس اور ستارۂ ادب ایوارڈ ملے۔ کراچی یونیورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کی طرف سے جامعہ کراچی ادبی ایوارڈ ۲۰۱۱ء اور الجامعہ کراچی ادبی ایوارڈ ۲۰۱۳ء ملے ہیں اور حال ہی میں انڈس یونیورسٹی ادبی فورم کراچی اور میٹرو ون ادبی فورم کی طرف سے شگفتہ شفیق کو گولڈ میڈل اور ۲ شیلڈز د ی گئی ہیں۔
حجاب: کیا موسم کا مزاج شاعر کے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے؟
ج:و یسے تو د ل کا ا پنا الگ ہی مو سم ہو تا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مو سم اور فطر ی نظا رے مز ا ج پر بہت اثر ا نداز ہو تے ہیں۔
حجاب: کوئی پیغام دینا چاہیں گی قارئین ، حجاب کو؟
ج:کبھی کسی کا دل نہ دُ کھائیں اور دل آ زا ری سے بچیں کہ ٹوٹے دل کبھی نہیں جڑ تے۔ محبت اور پیار سے ز ند گی گذا ر یں کہ میرا تو یہ ہی طریقہ ہے کہ
کتنی بھی چھا ئے غم کی گھٹا اس حیات میں
ملتے ہیں لیکن سب سے بڑی د لبر ی سے ہم
غز ل
ہاں تیرا انتظار رہتا ہے
میرا دل بے قرار ر ہتا ہے
اُ س کے ملنے سے پھو ل کِھلتے ہیں
چہر ہ بھی پُر بہا ر ر ہتا ہے
کبھی فر صت ملے تو آ جا نا
تیر ا آ نا ا د ھا ر ر ہتا ہے
اُ س سے ملنا سکو ن د یتا ہے
و ر نہ د ل سو گو ا ر ر ہتا ہے
د ل سے اُ س کو بُھلا یئں ہم کیسے
و ہی بس بے شما ر ر ہتا ہے
اب مسیحا کہا ں سے لا یئں ہم
د ل تو ا کثر بیما ر ر ہتا ہے
تیر ا کڑ و ا سا طنز یہ لہجہ
بس جگر کے ہی پا ر ر ہتا ہے
جا نتی ہے شگفتہ ا چھی طر ح
وہ کیو ں شر مسا ر ر ہتا ہے
شگفتہ شفیق
غز ل نذ ر سا غر صد یقی
مل جو پا ئیں تو کیا تما شا ہو
چھو ڑ جا ئیں تو کیا تما شا ہو
را ت دن سنگ جو گر ا تے ہیں
چو ٹ کھا ئیں تو کیا تما شا ہو
جو بلا ئیں ہمیں وہ محفل میں
ہم نہ جا ئیں تو کیا تما شا ہو
اُ س کی آ نکھیں بہت ہی پیا ر ی ہیں
اُ ن پر مر جا ئیں تو کیا تما شا ہو
اُ س کے د ل کو بھی چو ٹ آ ئے یو نہی
دل جلا ئیں تو کیا تما شا ہو
چپ چا پ ر ہنے و ا لے ا گر
بو ل جا ئیں تو کیا تما شا ہو
جب کے ا مید ہو منا نے کی
نہ منا ئیں تو کیا تما شا ہو
میر ے گھر کے آ سا ن ر ستے کو
ڈ ھو نڈ پائیں تو کیا تما شا ہو
جا ن د ینے کی با تیں کر تے ہیں
مر ہی جا ئیں تو کیا تما شا ہو
ز ند گی کی کہا نی ہم اُ ن کو
سُنا پا ئیں تو کیا تما شا ہو
جن پہ تکیہ کیا ہو جیو ن بھر
وہ گر ا ئیں تو کیا تما شا ہو
جا نتے ہیں تر ی حقیقت کو
کہہ بھی جا ئیں تو کیا تما شا ہو
جب و ہ پر یو ں کے سا تھ بیٹھے ہو ں
پہنچ جا ئیں ہم تو کیا تما شا ہو
پیا ر کی با زی شگفتہ محفل میں
جیت جا ئیں تو کیا تما شا ہو
شگفتہ شفیق
غز ل
سا ر ے و عد ے ہو ں و فا د ل یہ تمنا ر کھے
جستجو یہ ہے فقط تجھ کو ہی ا پنا ر کھے
د ینے وا لے کے لیئے تو ہے ا شا رہ کا فی
کیا ضرو ر ی ہے کو ئی ہا تھ میں کا سہ ر کھے
ہر گھڑ ی د ل کو میر ے وہ تو جلا نا چا ہے
اور چا ہے کہ و فا پر بھی بھر و سہ ر کھے
وہ تو کہتا ہے کہ تم جو نہیں او ر سہی
کس طر ح ایک فقط ہم پہ ہی تکیہ ر کھے
اپنے ا شعا ر پر ا نے و ہ د ھرا ئے ا کثر
اس طر ح پر یو ں کا تنگ وہ گھیرا ر کھے
تیر ی ا کڑ ی ہو ئیـ گر دن میں بھی خم آ ئے
ـجا خدا میر ی طر ح تجھ کو بھی تنہا ر کھیـ
پر یشا ں کر کے مجھے اُ س کو سکو ں ملتا ہے
دل کی شگفتہ ہے د عا اُ س کو ا چھا ر کھے
شگفتہ شفیق
غز ل
ا یسے ملنے سے تو بہتر ہے خفا ہو جا نا
ہم کو آ تا ہے محبت میں فنا ہو جا نا
ہا ں میر ے جر م کی بھر پو ر سزا مجھ کو ملے
تم تو معصو م ہو تم دور ذرا ہو جا نا
ہم سے ملنے کا فقط ا تنا ہی مقصد تھا تیرا
کر کے بد نا م ہمیں ہم سے جدا ہو جا نا
بھو ل پا ئو گے مجھے یہ تو ہے نا ممکن
ز ند گی مو ت ہے یا دو ں سے جد ا ہو جا نا
تیر ے ہونے سے ہیں دنیا میں مرے رنگ سارے
میر ے محبو ب بس تم نہ خفا ہو جا نا
میر ے ہو نٹو ں کی ہنسی سے جلتے کیو ں ہو؟
تم کو معلو م ہے مرا ا ٓ بلہ پا ہو جا نا
عشق کر نا ہے کٹھن یہ کو ئی کھیل نہیں
بہت آ سا ں تو نہیں بے و فا ہو جا نا
فر ش تو فر ش وہ عر ش ہلا د یتی ہیں
د ل جلے لو گو ں کی آ ہوں کا دعا ہو جا نا
اُ س کی ہر با ت ہے تسلیم او ر سر خم ہے
شگفتہ آ تا ہی نہیں اُن سے خفا ہو جا نا
شگفتہ شفیق

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close