Hijaab Nov 15

ذکر اس پری وش کا

زینب احمد

سب سے پہلے قارئین‘ رائٹرز اور پورے اسٹاف کو پُرخلوص‘ محبت اور دعائوں بھرا سلام۔ امید ہے تمام قارئین خیر وعافیت سے ہوں گے۔ ویسے تو آپ نے میرا نام پڑھ ہی لیا ہے لیکن پھر بھی بتادیتی ہوں‘ میرا نام ہے طیبہ احمد۔ آنچل سے میرا تعلق تقریباً پانچ سال پرانا ہے میں حجاب میں پہلی دفعہ لکھنے کی جسارت کررہی ہوں‘ امید ہے کہ میرا تعارف آپ کو پسند آئے گا۔ تو جی جناب اب آتے ہیں تعارف کی طرف 25 جولائی کو ضلع ننکانہ صاحب کے ایک چھوٹے سے گائوں واربرٹن میں دنیا کی رونق میں اضافہ کرنے کے لیے تشریف لائی۔ ہم چھ بہن بھائی ہیں‘ میرا نمبر دوسرا ہے لیکن بہنوں میں سب سے بڑی ہوں اس لیے سب بہنوں پر میرا خاصہ رعب ہے۔ میٹرک کے بعد قرآن پاک کا ترجمہ کیا۔ جہاں تک پسند اور ناپسند کی بات ہے تو مجھے شلوار قمیص اور لمبا سا دوپٹہ‘ کلرز میں پنک اور وائٹ۔ پھلوں میں کیلا اور سیب‘ پھولوں میں گلاب کا پھول‘ تمام سبزیاں شوق سے کھاتی ہوں اور کھانے میں بریانی اور دال چاول پسند ہیں۔ جہاں تک جیولری کا تعلق ہے تو رِنگ اور بالیاں پسند ہیں۔ رائٹرز کی بات کریں تو سمیرا شریف طور‘ نازیہ کنول نازی‘ فرحت اشتیاق‘ فرحت آراء‘ عمیرہ احمد اور عفت سحر طاہر بہت ہی پسند ہیں۔ میرے پسندیدہ ناول ’’یہ چاہتیں اور شدتیں‘ متاع جاں‘ پیر کاملؐ ، پتھروں کی پلکوں پر اور ’’دل پہ دستک ‘‘ پسند ہیں۔ میری پسندیدہ شخصیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پسندیدہ کتاب قرآن مجید ہے۔ اب آتے ہیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کی طرف‘ خوبیوں کا تو پتا نہیں البتہ خامیاں ڈھیر ساری ہیں (بقول بھیا کے) میں اپنا نقطہ نظر کسی کو سمجھا نہیں سکتی اور دوسری خامی یہ ہے کہ غصہ میں رونا بہت جلد آجاتا ہے‘ جو مجھے بھی پسند نہیں۔ اب ہمیں یاد آیا کہ ہم میں تھوڑی سی خوبیاں بھی ہیں (ہائے رے خوش فہمی)۔ کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتی اور اس دکھ کو دل سے محسوس کرتی ہوں کیونکہ بہت حساس ہوں اور منافقت‘ مغرور اور انا پرست لوگوں سے سخت نفرت ہے۔ میرے خیال میں انسان کو انا پرست نہیں ہونا چاہیے‘ ہمیشہ سمجھوتا کرنا سیکھو کیونکہ تھوڑا سا جھک جانا کسی رشتے کو ہمیشہ کے لیے توڑنے سے بہتر ہے۔ خواہشیں تو بہت ساری ہیں کیونکہ زندگی کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے لیکن میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ آقا دو جہاںﷺ کے روضہ مبارک کا دیدار کروں اور حج کی سعادت حاصل کروں۔ میری دوستیں بھی ہیں لیکن بہت کم ‘ ہاں کزنز کے ساتھ خوب بنتی ہے۔ اپنے گھر والوں سے بہت محبت کرتی ہوں۔
یکم جنوری کو حاجی محمد اکرم اعوان صاحب کے گھر ایک سوہنی موہنی گڈو تشریف لائی۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور میں آخری ہوں‘ میں اپنے جانِ جاناں ابو‘ دادی جان کی قلب و جان ہوں۔ جی تو جناب میں بورے والا شہر اور گائوں 471 سے بی لانگ ٹو کرتی ہوں۔ مادری زبان پنجابی اور کاسٹ ملک اعوان ہے۔ میرا نام صدف نگین ہے لیکن میری ایک دوست فریحہ مجھے ملک کہتی ہے۔ نبیلہ‘ گڈو‘ فرحین صدفنی‘ تعظیم صدف اور اقراء صرف نگین کہتی ہیں۔ یہ سب میری بہت اچھی دوست ہیں‘ باقی کلاس فیلوز میں تنزیلہ‘ سعدیہ ‘ نبیرہ‘ ماریہ‘ آمنہ‘ عابدہ‘ جنت‘ ساجدہ‘ سمیرا‘ ثمرین‘ ثوبیہ شامل ہیں۔ لو جی اہم بات تو بتادوں یعنی میری خامیاں‘ خوبیاں… عافیہ جو میری فرسٹ کزن پلس بیسٹ فرینڈ ہے کہتی ہے کہ کافی سگھڑ ہوں اور ماما کہتی ہیں‘ خدمت گزار ہوں۔ محسن بھائی کئیرنگ اور نبیلہ کہتی ہے کہ تمہارے چہرے کی مسکراہٹ اچھی ہے۔ خامیاں سوچنی پڑیں گی (خوش فہمی) اپنا غصہ کنٹرول نہیں‘ رونا جلدی آتا ہے‘ ڈانٹ برداشت نہیں۔ ادھار معاف نہیں‘ ایک روپیہ بھی نکلوالیتی ہوں۔ منافق لوگوں سے شدید نفرت‘ پسندیدہ کھانا بریانی‘ چکن فرائی اینڈ رائس بہت پسند ہیں۔ پھلوں میں مالٹا‘ تربوز اور آم پسند ہے۔ ڈرنک میں ملک اور ٹینگ۔ لباس میں فراک‘ چوڑی دار پاجامہ‘ لانگ شرٹ اور بڑا سا دوپٹہ بہت پسند ہے۔ جیولری میں صرف سادی بلیک چوڑیاں ۔ موسموں میں موسم بہار اور سردیوں کا موسم جب دھند زوروں پر ہو‘ چاندنی رات ہو جب بادلوں میں چاندآنکھ مچولی کھیلتا ہے‘ پسند ہے۔ شاعروں میں وصی شاہ اور پروین شاکر پسند ہیں۔ سنگرز میں فریحہ پرویز اور ساحر علی بگا‘ ایکٹر میں احسن خان‘ جلال شاہ‘ وہاج علی خان‘ صبا قمر‘ صبا فیصل اور ناجیہ بیگ اچھے لگتے ہیں۔ ناولوں میں پیر کاملؐ، جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘‘ پسند ہے۔ پسندیدہ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلیم ‘ حضرت امام حسینؓ کی زندگی سے بہت متاثر ہوں۔ ان کے بعد امی ابو جان ‘ اپنے اساتذہ سرجاوید اقبال صاحب اور مس نادیہ بہت پسند ہیں۔ اسلامی باتیں بہت غور سے سنتی ہوں اور عمل میں جلدی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اب اجازت دیں ‘ بس دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔

ڈئیر قارئین السلام علیکم! امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے ارے امید نہیں یقین ہے اور اللہ سے دعا بھی ہے کہ آپ ہمیشہ صحت یاب تندرست رہیں ویسے اس پیاری سی سویٹ سی لڑکی کو سنبل خان کہتے ہیں۔ میری ذات بٹ ہے اور میں بورے والا شہر کی رہنے والی ہوں ویسے میرا کوئی بھی نک نیم نہیں ہے جس کی مجھے بے حد خوشی ہے خوشی اس بات کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’سیدھے نام سے پکارنا ثواب ہے‘‘ میرانام میرے تایا جان نے رکھا ہے۔ میرے ماما‘ پاپا دنیا کے سب سے پیارے اور سویٹ ماما پاپا ہے۔ ماما کا نام پروین اور پاپا کا نام محمد خان ہے۔ دو بھائی اور مجھے ملا کر تین بہنیں ہیں‘ سب مجھ سے چھوٹے ہیں ۔ مجھ سے چھوٹی بہن کا نام سمیرا خان ہے اس سے چھوٹا بھائی امیر حمزہ ‘ پھر بہن مشعل خان‘ بھائی امیر حسن خان ہے۔ میں 10 اپریل کو پیدا ہوئی‘ تھوڑی سی بھلکڑ ہوں‘ ماما توکہتی ہیں کہ بہت زیادہ بھلکڑ ہوں۔ بچپن سے ہی ڈانس کا بہت شوق رہا ہے جب بھی اسکول آتی تھی تو کھانا بعد میں پہلے ڈانس کرتی تھی۔ اب آتے ہیں پسند اور ناپسند کی طرف‘ پھلوں میں سیب‘ انگور‘ آلو بخارے اورکیلے بہت پسند ہیں۔ آم سے میرے ہونٹوں پر الرجی ہوجاتی ہے اس لیے بہت کم کھاتی ہوں‘ کھانے میں پلائو‘ آلو گوبھی مڑ اور میتھی مکس سبزیوں کا سالن بہت پسند ہے اور بھنڈی گوشت تو بہت پسند ہے۔ میٹھا اتنا نہیں کھاتی لیکن جب دل کرے تو اپنی پسند کی چیزیں کھاتی ہوں مثلاً کسٹرڈ‘ کھیر‘ گلاب جامن‘ چاکلیٹ اور چاکلیٹ کیک بہت پسند ہے۔ فیورٹ کھیل کرکٹ ہے‘ فیورٹ کھلاڑی شاہد آفریدی اور انضمام الحق ہے۔ فیورٹ ہیرو سلمان خان اور شامل خان ۔ شاعری اور غزلیں پڑھنا اچھا تو لگتا ہے مگر یاد نہیں رہتی لیکن فیورٹ کہانیاں ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘ بھیگی پلکوں پر ‘ اور کچھ خواب‘ بجھ گئے دیپ سارے‘‘ یہ مجھے اچھے سے یاد ہیں۔ کام چور ہوں ‘ دل تو بہت چاہتا ہے کہ جس طرح کہانیوں میں لڑکیوں کو کام کرتا بتایا جاتا ہے میں بھی ویسے بن جائوں لیکن سستی تو جان نہیں چھوڑتی۔

السلام علیکم! ڈئیر قارئین امید ہے نہیں بلکہ یقینا آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے کیونکہ میری دعائیں ہر وقت آپ سب لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ نام تو آپ پڑھ چکی ہوں گی مگر کیا کروں دوبارہ بتارہی ہوں جناب کا نام شفق رحمان ہے ۔ تو جناب اب آتے ہیں میری تاریخ پیدائش کی طرف 4 جنوری 1995ء کو تحصیل گوجرہ کے ایک قصبے نیا لاہور میں پیدا ہوئی۔آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ زیادہ تر عظیم شخصیتیں جنوری میں پیدا ہوتی ہیںاس لیے مابدولت بھی جنوری میں اس دنیا میں تشریف لائیں۔ پانچ بہن بھائیوں میں میرا پہلا نمبر ہے‘ ددھیال میں پہلی پوتی اور ننھیال میں پہلی نواسی ہونے کا بھی شرف حاصل ہے اس لیے دونوں جانب سے خوب پیار ملا۔ ابو اسکول ٹیچر ہیں اس لیے ان کو بہت شوق ہے کہ ہم سب بہن بھائی ڈھیر سارا پڑھیں لکھیں اور میرے بارے میں ان کی خواہش ہے کہ میں پروفیسر بنوں ۔ چھوٹی بہن صبا کو وکیل بننے کا بہت شوق ہے۔ اب آتے ہیں خوبیوں اور خامیوں کی طرف تو جناب ہر انسان کی طرح مجھ میں بھی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ میرے نزدیک میری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ میں مجھ میں مستقل مزاجی نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں اور کسی وقت تو اپنی یہ خامی بہت بُری لگتی ہے کہ حساس بہت ہوں‘ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتی ہوں۔ خامیاں تو اور بھی بہت ہیں مگر دوسروں کے سامنے اتنی صاف گوئی بھی اچھی نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ خوش اخلاق ہوں اور دوسروں کا دل رکھنا جانتی ہوں (یہ صرف میں نہیں کہہ رہی سب کہتے ہیں) شاید اسی وجہ سے میری دوستوں کی تعداد زیادہ ہے اور میری بعض دوستیں یہ بھی کہتی ہیں کہ باتیں بنانا کوئی شفق سے سیکھے۔ شاعری بہت پسند ہے ‘ بارش بھی بہت پسند ہے اور رنگوں میں بلیک کلر پسند ہے اور کھانے میں ہر وہ چیز اچھی لگتی ہے جو میری امی نے بنائی ہو دوسروں کے بنائے ہوئے کھانے بہت کم پسند آتے ہیں۔ بہت عجیب مزاج کی حامل ہوں وہ جو کہاوت ہے نہ پل میں تولہ پل میں ماشہ‘ میرا مزاج بھی ویسا ہی سمجھ لیجیے۔ کبھی موڈ ہو تو گھر کے سارے کام خود ہی کرتی ہوں اور اگر موڈ نہ ہو تو امی کے کہنے کے باوجود بھی… (آپ سمجھ رہی ہیں نا؟)۔اللہ کا شکر ہے کہ آج تک بہت اچھے ٹیچر اور بہت اچھی دوستیں ملی ہیں‘ اوکے جی‘ دعائوں میں ضرور یاد رکھیے گا ‘ اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close