Hijaab Nov 15

امہات المومنین

ندا رضوان

حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ
آپ کا نام خدیجہؓ تھا اور لقب طاہرہ۔ ان کے والد خویلد بن اسد اور والدہ فاطمہؓ بنت زائدہ دونوں قریشی النسل تھے اور یوں خدیجتہ الکبریٰؓ نہ صرف نجیب الطرفین تھیں بلکہ ان کا شجرہ نسب جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد خویلد بن اسد بہت بڑے تاجر تھے اور عرب کے معزز ترین قبائل بنی تمیم اور بنی کعب میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے۔ اپنی خوش معاملگی و دیانت داری کی بدولت وہ تمام اہل قریش میں بے حد ہر دلعزیز محترم تھے۔
خدیجتہ الکبریٰؓ ۵۵۵ء میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی آپ نہایت نیک بہادر اور شریف الخیال تھیں۔ جب خدیجہؓ سن شعور کو پہنچیں تو آپ کی شادی ابو ہالہ نباش بن زارہ تمیمی سے ہوئی‘ نباش سے حضرت خدیجہؓ کے دو لڑکے ہوئے۔ ایک نام ہالہ تھا جو زمانہ جاہلیت میں مرگیا۔ دوسرے کا نام ہند تھا‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں شمار ہوئے اور جنگ جمل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حمایت میں داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔
نباش کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہؓ کی دوسری شادی عتیق بن عائد مخرومی سے ہوئی۔ ان سے بھی ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ہند تھا۔ یہ ہند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین صحابیات میں شمار ہوتی ہیں کچھ عرصہ بعد عیتق بن عائد بھی فوت ہوگئے۔
ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجہؓ کا تیسرا نکاح ان کے ابن عم صیفی ابن امیہ کے ساتھ ہوا اور ان کے انتقال کے بعد انہیں جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف زوجیت حاصل ہوا لیکن دوسری روایتوں میں ہے کہ جناب خدیجتہ الکبریٰؓ کا تیسرا اور آخری نکاح جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہوا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے سے پیشتر خدیجتہ الکبریٰؓ اپنی بیوگی کے ایام خلوت گزینی میں گزار رہی تھیں۔ وہ اپنا کچھ وقت خانہ کعبہ میں گزارتیں اور کچھ وقت اس زمانہ کی معزز کاہنہ عورتوں میں صرف کرتیں اور ان سے زمانے کے انقلاب پر وقتاً فوقتاً بحث کیا کرتیں۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے انہیں نکاح کے پیغامات بھیجے لیکن انہوں نے سب رد کردیئے کیونکہ پے در پے صدمات نے ان کی طبیعت دنیا سے اچاٹ کردی تھی۔
ادھر ان کے والد ضعف پیری کی وجہ سے اپنی وسیع تجارت کے انتظام سے عاجز آگئے۔ نرینہ اولاد کوئی زندہ نہ تھی‘ تمام کام اپنی ذہین اور عاقلہ بیٹی کے سپرد کرکے خود گوشہ نشین ہوگئے‘ کچھ عرصہ بعد خویلد کا انتقال ہوگیا۔
خدیجتہ الکبریٰؓ نے تمام کاروبار تجارت نہایت احسن طریقہ سے جاری رکھا۔ اس وقت ان کی تجارت ایک طرف شام میں پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف اطراف یمن میں‘ اس وسیع کاروبار کو چلانے کے لیے انہوں نے ایک بہت بڑا عملہ رکھا تھا جو بیسیوں عرب یہودی اور عیسائی ملازموں اور غلاموں پر مشتمل تھا۔ حسن تدبیر اور دیانت داری کی بدولت ان کی تجارت دن بدن ترقی کررہی تھی اور اب ان کی نظریں ایک ایسے شخص کی متلاشی تھیں جو بے حد قابل‘ ذہین اور دیانت دار ہو تاکہ وہ اپنے تمام ملازمین کو اس کی سرکردگی میں تجارتی قافلوں کے ہمراہ باہر بھیجا کریں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آفتاب رسالت طلوع ہوچکا تھا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ابھی ۲۵ سال ہی تھی کہ ان کے پاکیزہ اخلاق اور ستودہ صفات کا چرچا عرب کے گھر گھر میں پھیل چکا تھا۔ ساری قوم میں وہ امین کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے۔ یہ ناممکن تھا کہ خدیجتہ الکبریٰؓ کے کانوں تک اس مقدس ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ کی بھنک نہ پڑتی۔ وہ اپنی تجارت کی نگرانی کے لیے ایسی ہمہ صفت موصوف شخصیت کی متلاشی تھیں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اگر آپ میرا سامان تجارت شام تک لے جایا کریں تو دوسرے لوگوں سے دو چند معاوضہ آپ کو دیا کروں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں اپنے چچا ابو طالب کی سرپرستی میں تھے انہیں وقتاً فوقتاً حضرت خدیجہؓ کی تجارت کا حال معلوم ہوتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہؓ کا پیغام منظور فرمالیا اور اشیائے تجارت لے کر عازم بصرہ ہوئے چلتے وقت حضرت خدیجہؓ نے اپنا غلام میسرہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا اور اسے تاکید کی کہ اثنائے سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت داری و سلیقہ شعاری کی بدولت تمام سامان تجارت دوگنے منافع پر فروخت ہوگیا۔ دوران سفر میں سردار قافلہ یعنی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا کہ ہر ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مداح بلکہ جاں نثار بن گیا۔ جب قافلہ مکہ واپس آیا اور حضرت خدیجہؓ کو میسرہ کی زبانی سفر کے حالات اور منافع کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو ان کے دل میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ان کے دل نے گواہی دی کہ یہ ہاشمی نوجوان وہی نبی آخرالزماں ہے جس کی کتب عتیقہ میں خبر دی گئی ہے اس سے بیشتر انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ آسمان سے ایک چاند ان کی گود میں آکر گرا ہے جس سے سارا عالم منور ہوگیا۔ جب انہوں نے اپنے خواب کی تعبیر ایک عیسائی عالم سے پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ’’اے شریفہ عرب! تمہیں خوش خبری ہو کہ دعائے خلیل و نوید مسیحا پیدا ہوچکے ہیں اور تم ان کے عقد میں آئو گی۔‘‘ خدیجتہ الکبریٰؓ کے دل کی دنیا اب پلٹ چکی تھی چنانچہ آپؓ نے اپنی لونڈی نفیسہ کی معرفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایما پاکر وہ حضرت خدیجہؓ کے چچا اور سرپرست عمرو بن اسد کو بلا لائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابو طالب اور دوسرے اکابر خاندان کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے مکان پر تشریف لائے۔ ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور ۵۰۰ درہم مہر قرار پایا‘ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۲۵ سال اور حضرت خدیجہؓ کی عمر ۴۰ سال تھی۔
تمام کتب سیر متفق ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خدیجتہ الکبریٰؓ تھیں۔ نکاح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گھر سے باہر رہنے لگے کئی کئی روز مکہ کے پہاڑوں میں جاکر معتکف رہتے۔ غرض اسی طرح دس برس کا زمانہ گزر گیا‘ ایک دن اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں معتکف تھے کہ آپ پر وحی نازل ہوئی۔ ربّ ذوالجلال کے حکم سے جبریل امینؑ آپ کے پاس تشریف لائے اور کہا۔
’’قم محمد!‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نظریں اوپر اٹھائیں تو اپنے سامنے ایک نورانی صورت کو کھڑے پایا جس کے ماتھے پر نجط نور کلمہ طیبہ رقم تھا۔ جبریل امینؑ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے سے لگا کر دبایا اور کہا۔
ترجمہ:۔ ’’پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے سب کچھ پیدا کیا جس نے انسان کو پانی کے کیڑے سے بنایا‘ پڑھ تیرا پروردگار بہت کرم والا ہے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہی کلمات جاری ہوگئے بعد ازاں حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا پائوں زمین پر مارا وہاں سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ اس پانی سے پہلے جبریل علیہ السلام نے وضو کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا اور نماز پڑھا کر چلے گئے۔
اس حیرت انگیز واقعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بے حد متاثر ہوئی‘ گھر تشریف لائے تو فرمایا۔
’’زتلونی!‘‘ اے خدیجہؓ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ حضرت خدیجہؓ نے تعمیل ارشاد کی اور پوچھا کہ آپ کہاں تھے میں سخت فکر مند تھی اور کئی آدمیوں کو آپ کی تلاش میں بھیجا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام و اقعہ بی بی خدیجہؓ کے سامنے من و عن بیان کردیا۔
حضرت خدیجہؓ نے فرمایا کہ ’’آپ سچ بولتے ہیں‘ غریبوں کے دستگیر ہیں‘ مہمان نواز ہیں۔ صلہ رحمی کا خیال رکھتے ہیں‘ امانت گزار ہیں اور دکھیوں کے خبر گیر ہیں‘ اللہ آپ کو تنہا نہ چھوڑے گا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں جو اس زمانہ کا مشہور نصرانی عالم تھا اور گزشتہ الہامی کتابوں توریت‘ زبور و انجیل میں بہت ادرک رکھتا تھا۔ بی بی خدیجہؓ نے تمام واقعہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آیا تھا اس کے سامنے بیان کیا‘ ورقہ سب کچھ سمجھ گیا اور پکار اٹھا۔
’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم! قسم ہے رب ذوالجلال کی تم خدا کے رسول ہو اور جو غار میں تمہارے پاس آیا وہ خدا کا فرشتہ جبریل علیہ السلام ہے۔ اے کاش کہ میں اس زمانے تک زندہ رہتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قو م آپ کو مکہ سے نکال دے گی‘ اس وقت آپ کی مدد کے لیے میں سینہ سپر ہوتا۔‘‘
ورقہ کی اس گفتگو سے حضرت خدیجہؓ کو اطمینان ہوگیا اور انہیں یقین کامل ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم منصب رسالت پر فائز ہوچکے ہیں چنانچہ چند دنوں بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی کہ یعنی ’’اے کملی اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کر۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر تشریف لاکر حضرت خدیجہؓ کو وحی کے الفاظ پڑھ کر سنائے۔
خدیجتہ الکبریٰؓ اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں گر پڑیں اور عرض کرنے لگیں۔
’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کی رسالت کی گواہی دیتی ہوں‘ آپ خدا کے سچے رسول ہیں۔‘‘
سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی خدیجہؓ کا سر اپنے قدموں سے اٹھایا‘ گلے سے لگایا دعائے خیر دی اور علائے کلمتہ الحق کے لیے باہر تشریف لے گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد خدیجتہ الکبریٰؓ ۲۴ سال (یعنی نزول وحی کے ۹ سال) زندہ رہیں۔ اس مدت میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر قسم کے روح فرسا مصائب کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور آقائے دو جہاںﷺ کی رفاقت اور جاں نثاری کا حق ادا کردیا۔ خدیجتہ الکبریٰؓ کے اسلام لانے کے بعد سرور کائناتﷺ کے متعلقین میں بھی اسلام کی تڑپ پیدا ہوئی۔ نوجوانوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ بڑوں میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت زید بن حارثؓ سب سے پہلے ایمان لائے۔ ان کے بعد حضرت عثمانؓ بن عفان‘ زبیر العوامؓ‘ طلحہ ؓ بن عبد اللہ‘ سعدؓ بن ابی وقار اور عبد الرحمنؓ بن عوف بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ انہیں دیکھ کر صالح فطرت رکھنے والے دوسرے شرفائے عرب بھی آہستہ آہستہ حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت خدیجہؓ کو اسلام کی وسعت پذیری سے بے حد مسرت حاصل ہوتی تھی اور وہ اپنے غیر مسلم اعزاو اقارب کے طعن و تشنیع کی پروا کیے بغیر اپنے آپ کو تبلیغ حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست و بازو ثابت کررہی تھیں۔ انہوں نے اپنا تمام زر و مال اسلام پر نثار کردیا تھا۔ ان کی دولت یتیموں اور بیوائوں کی خبر گیری‘ بے کسوں کی دستگیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لیے وقف ہوچکی تھی۔
ادھر کفار قریش نو مسلموں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے اور تبلیغ حق میں ہر طرح کے روڑے اٹکا رہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔
حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ کو اللہ تعالیٰ نے دینی فراست بھی کمال درجہ کی عطا کی تھی۔
ہجرت کے تین سال پہلے حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ کی طبیعت ناساز ہوئی‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے علاج معالجہ اور تسکین و تشفی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا لیکن موت کا کوئی علاج نہیں۔ ۲۰ رمضان المبارک (تین سال قبل ہجرت) ۶۵ برس کی عمر میں اسلام کی خاتون اول نے سفر آخرت فرمایا اور مکہ کے قبرستان حجون میں دفن کی گئیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close