Naeyufaq Feb 2019

متروک کنواں

ریاض بٹ

مجھے نئے تھانے کاچارج سنبھالے ابھی ایک ہفتہ ہی ہواتھا‘ اورابھی میں پوری طرح سب کچھ سمجھنے کی تگ ودو میں لگاہواتھا… ریکارڈ چیک کرچکاتھا‘ عملے اور مخبروں کے متعلق جان چکاتھا۔
بہرحال محل وقوع سے میں سب سے پہلے آپ کو آگاہ کردوں‘ ہمارے تھانے کی حدود میں گائوں جعفر آباد‘ ڈھوک بیری والا کھوہ گائوں آصف آباد‘ گائوں فیروز آباد‘ شہر کاکچھ حصہ جس میں دو سینما‘ دوپارک‘آٹے کی مل‘ گھی بنانے والی (لوکل) فیکٹری‘ وغیرہ شامل تھی۔
یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ یہ سارے نام اصلی نہیں ہیں‘ صرف کہانی سنانے کے لیے ہیں… ہاں ایک بات اور ریلوے اسٹیشن کے عقب میں آڑھت کی ایک منڈی بھی تھی۔
ابھی میرا تھانے کی حدود میں واقع علاقے کے خاص الخاص مکینوں سے تعارف اور واسطہ نہیں پڑاتھا۔ البتہ اے ایس آئی عشرت علی نے کچھ گائوں کے معتبر اثرورسوخ رکھنے والے بندوں اوران کی خاصیت سے مجھے آگاہ کردیاتھا۔ باقی تھانے کے عملے او رمخبروں کے متعلق آپ کوآگاہی ہوتی ر ہے گی … البتہ اتنا بتادیتاہوں کہ یہ علاقہ سردیوں میں سخت سردی کی لپیٹ میں رہتاتھا۔
ایک صبح میں ابھی چند ہی لمحے پہلے آکر اپنی سیٹ پربیٹھاتھا کہ مجھے اطلاع دی گئی کہ گائوں جعفر آباد کاچوہدری مراتب علی آیاہے اور مجھ سے ملنے کا خواہشمند ہے۔
چوہدری مراتب علی کے متعلق مجھے بتایاگیاتھا کہ انتہائی ظالم شخص ہے۔ کسی کی چھوٹی سی غلطی کو بھی معاف کرنے کاروادار نہیں تھا‘ بلکہ یہ بھی سناگیاتھا کہ جس کوسزا دینی ہوتی تھی‘ اس کی غلطی پلے سے ڈال دیتاتھا۔اس کے ظلم کی داستان ہرسو تھی لیکن آج تک وہ اس لیے دندناتا پھررہاتھا کہ اس کے خلاف شکایت لے کرتھانے تک کوئی نہیں آیا تھا۔ اس کے دوبیٹے اور ایک بیٹی تھی‘ بڑابیٹا شرافت علی‘ اسم بامسمی تھا‘ جبکہ چھوٹا بیٹا قاسم علی روایتی چوہدری تھا اور باپ سے بھی دوہاتھ آگے تھا۔ اس کے لیے اکثر کہاجاتاتھا کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ… دونوں کی عمریں بالترتیب چوبیس اور بائیس سال تھیں۔ ان سے چھوٹی بہن نغمہ تھی جس کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ شراعت علی شہر میں واقع یونیورسٹی میں ایم اے کے آخری سال میں تھا۔ اس نے ضد کرکے نغمہ کوبھی میٹرک تک پڑھوایا تھاورنہ چوہدری صاحب تو اس کے خلاف تھے۔ اب وہی چوہدری مراتب علی میرے سامنے بیٹھاہواتھا۔
لیکن …!
جس چوہدری مراتب علی کانقشہ میرے سامنے کھینچا گیاتھا وہ اس سے بہت مختلف ‘بلکہ یکسر مختلف تھا۔ لگتا یہی تھا کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیاہے… اس کے شانے ڈھلکے ہوئے تھے‘ آنکھیں بار بار جھک جھک جاتی تھیں۔
’’چوہدری صاحب کیابات ہے؟ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔‘‘ میں نے سلسلہ کلام کی ابتدا کرتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب آپ اس تھانے میں نئے آئے ہیں اس لیے شاید مجھے نہیں جانتے۔‘‘
’’واقعی … میں آپ کے متعلق زیادہ نہیں جانتا… میں نے مصلحت آمیز جھوٹ کاسہارا لیتے ہوئے کہا۔
کیونکہ یہی وقت کاتقاضہ تھا۔
’’تھانیدار صاحب جتنامجبورمیں اس وقت ہوں‘ پہلے کبھی نہیں ہواتھا۔ میری پگ کاشملہ کبھی نیواں(نیچا) نہیں ہواتھا… مگر اب… ‘‘وہ اس طرح خاموش ہوگیا جیسے اپنامسئلہ بیان کرنے کے لیے اس کے پاس الفاظ نہ ہوں۔
’’دیکھیں… چوہدری صاحب‘ میں بہت عدیم الفرصت ہوں‘ آپ نے جو کچھ کہنا ہے ذرا جلدی کہیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب‘ میری دھی(بیٹی) نغمہ لاپتہ ہوگئی ہے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ میں سیدھا ہو کربیٹھ گیا۔ میری معلومات(جواے ایس آئی) نے مجھ تک پہنچائی تھیں کے مطابق یہ چوہدری وہ تھا جو کسی کی بہو بیٹی کی عزت نہیں کرتاتھا… بلکہ عزتوں کالٹیراتھا‘ آج اپنے گھر آگ لگی تو سارا گھمنڈ اور فرعونیت ناک کے راستے بہہ گئی۔
’’نغمہ… کل کس وقت سے لاپتہ ہے ؟‘‘ میں نے اپنے فرض سے مجبور ہو کر سوال کیا۔ ورنہ میرا دل تو یہ چاہتاتھا کہ اسے چلتا کرتا…!
’’کل رات وہ اچھی بھلی اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلی گئی تھی۔ صبح جب فہمیدہ (نوکرانی) اسے جگانے گئی تو کمرے کادروازہ اندر سے بند تھا… نوکرانی نے یہ بات جب مجھے بتائی تو چوہدرانی بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ ہم دونوں افراتفری میں اس کے کمرے کی طرف بھاگنے کے سے انداز میں گئے۔
وہاں واقعی بند دروازہ ہمارا منہ چڑارہاتھا‘پھرہم اس کے کمرے کے پچھلے دروازے کی طرف گئے وہاں لگاہوا تالا کوئی اور ہی کہانی سنارہاتھا۔‘‘ چوہدری خاموش ہواتومیںنے کہا۔
’’اس کامطلب ہے وہ اپنی مرضی سے گئی ہے۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! جوبھی ہے آپ اسے ڈھونڈیں…ورنہ میرا چھوٹابیٹا قاسم علی قاتل بن جائے گا۔‘‘
میرادل تو چاہتاتھا کہ میں اسے کہتا بن جانے دو‘ تمہاری دولت آخر کس کام آئے گی۔ وہ لوگوں کواپنی دولت اور اثرورسوخ کاڈراوادیتارہتا تھا۔
لیکن …!
میں نے دل کی آواز کودبا تے ہوئے کہا۔
’’کیامطلب…؟‘‘
’’دراصل میں اپنے بیٹے قاسم علی سے چھپ کر آیاہوں‘ وہ کہتا ہے تھانے میں بالکل نہیں جانا… وہ خود نغمہ کو تلاش کرلے گا‘ اور…!‘‘
’’ میں ساری بات سمجھ گیا ہوں۔‘‘ میں نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے کہا‘ آپ کابڑابیٹا اس معاملے میں کیا کہتاہے؟‘‘
اس کوابھی اس آئی ہوئی قیامت کاپتہ نہیں ہے وہ شہر میں ہی رہتا ہے۔ مہینے میں ایک دوچکر گائوں کے لگالیتاہے۔ کہتاہے زیادہ آنے جانے سے پڑھائی کاحرج ہوتاہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آپ حویلی جائیں ہم تھوڑی دیر میں آپ کی حویلی میں آئیں گے۔‘‘
’’تھانیدار صاحب اس طرح یہ بات پھیل جائے گی‘ کہ میں نے پولیس کی مدد حاصل کی ہے۔‘‘
’’پھر تو آپ اسی طرح چلے جائیں اور اپنے بیٹے کوہی ڈھونڈنے دیں‘ ‘ میں نے خشک لہجے میں کہا۔
’وہ اس طرح میری طرف دیکھنے لگا جس میں بے بسی‘ لاچارگی تھی۔ اس کی حالت ایسی تھی کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کی عملی تصویر بن کر ر ہ گیاتھا۔
’’تھانیدار صاحب… آ پ جو کہیں گے میں آپ کی خدمت کرنے کوتیارہوں۔ براہ مہربانی کچھ کریں… لیکن سامنے آئے بغیر…‘‘
یہ عجیب کیس تھا‘ ورنہ مجھے ایسے حالات سے شاذونادر ہی پالاپڑاتھا۔ اب چوہدری نے ایسی بات کہہ دی تھی کہ مجھے غصہ آگیا۔
’’چوہدری صاحب‘ آپ کے نزدیک دولت ہی سب کچھ ہے تو جائیے اپنی دولت کے زور پر بیٹی کوواپس لائیے… یہ تھانیدار آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘
’’اوہ … جناب… آپ میری ذہنی حالت کو نہیں سمجھ سکتے‘ میں ایک مجبور باپ ہوں… براہ مہربانی میری مدد کریں… ابھی توہم نے کسی کونہیں بتایا‘ چوہدرانی اپنی بہن کشور کے پاس گئی ہے‘ تاکہ اس کو پکا کرآئے… ہم ادھریہی کہیں گے کہ نغمہ اپنی خالہ کے گھر گئی ہے۔‘‘
’’اب آپ صحیح ٹریک پر آئے ہیں… لیکن اگر آپ نے ہمارے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی تو ہماری تفتیش کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکے گی… آپ اپنے بیٹے کو راضی کریں… میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے تھانیدار صاحب ویسے میری آپ سے ایک درخواست ہے کہ حویلی میں سفید کپڑوں میں آئیں۔‘‘
اس نے اپنے شملے کی پگ اتنی نیچی کرلی تھی کہ مجھے اس پر ترس بھی آیا اورافسوس بھی ہوا۔
افسوس اس لیے ہوا کہ اگر یہ شخص اتنا ظلم نہ کرتا ‘ فرعون نہ بنتاتو آج ایسے حالات سے دوچار نہ ہوتا۔
بہرحال میں نے اپنا فرض ادا کرناتھا‘ اس لیے ۔ چوہدری کو کہا کہ وہ محرر کے پاس جاکر رپورٹ درج کروائے اور حویلی میں جاکر میدان ہموار کرے‘ تفتیش کے لیے۔ میں دوگھنٹے بعد آئوں گا۔
جب وہ جانے لگا تومیں نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’دیکھیں چوہدری صاحب نغمہ کے کمرے کی طرف اب کسی کونہ جانے دیں‘ خاص کر پچھلی طرف۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ جی ایساہی ہوگا۔‘‘
اس کے بعد میںنے دفتر کے کچھ ضروری کام نمٹائے‘ اور پھر کانسٹیبل ظہیرالدین اور دوسپاہیوں کوساتھ لے کر اس کی حویلی پہنچ گیا۔
حویلی پرانے وقتوں کی تھی… اس کی بیرونی دیواروں پر گزرے موسموں نے کافی تبدیلیاں رونما کی تھیں… لیکن پائیداری میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔
کوٹھی میں سب سے پہلے چوہدری سے ملاقات ہوئی۔
’’تھانیدار صاحب شکر ہے آپ سفید کپڑوں میں آئے ورنہ …‘‘
’’یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے مجھے آپ نغمہ کے کمرے کی طرف لے چلیں۔‘‘
یہاں یہ بات بتادوں کہ میں نے کانسٹیبل اور سپاہیوں کو ایک کمرے میں بٹھادیاتھا۔ میں خواہ مخواہ کی سراسیمگی نہیں پھیلانا چاہتاتھا ‘نغمہ کاکمرہ دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے یہ کسی شہزادی کاکمرہ ہو… اور کیوں نہ ہوتا… نغمہ چوہدری کی اکلوتی بیٹی تھی۔
کمرے میں نفیس فانوس بھی لگے ہوئے تھے۔ ایک خوبصورت الماری میں بہت سی کتابیں نفاست اور قرینے سے رکھی ہوئی تھیں۔
میںنے نغمہ کا ادبی ذوق دیکھنے کے لیے کتابوں پرطائرانہ نظرڈالی… چار پانچ ناول رضیہ بٹ صاحبہ کے تھے‘ جن میں مجھے دوناول یاد رہ گئے ہیں جن میں ایک وحشی‘ اور ایک نوکر نیا ناول تھا… جون ایلیا کی کچھ کتابیں تھیں‘ سفر نامہ ابن بطوطہ‘اور دنیا کی معلومات پرمبنی کچھ کتابیں تھیں… اس کامطلب تھا کہ لڑکی کوپڑھنے کاشوق تھا لیکن اسے میٹرک سے آگے پڑھنے نہیں دیاگیاتھا۔
بہرحال کمرے کے اچھی طرح معائینے کے بعد کوئی ایسا سراغ ‘بات یااشارہ نہ ملا جو نغمہ کے غائب ہونے میں مددگار ثابت ہوتا۔
پچھلی طرف دروازے کے باہر پکی سڑک تھی… جس پر کسی قسم کاکھرا ڈھونڈنا دیوانے کے خواب کے مترادف تھا۔
بہرحال باقی کام میں نے اپنے مخبروں سے لیناتھا۔ میں نے حویلی کے چند نوکروں کوبھی ٹٹولا لیکن وہ اس کے علاوہ کچھ نہ بتاسکے کہ نغمہ بی بی اپنی خالہ کے گھر گئی ہوئی ہے‘ البتہ ایک مسکین صورت نوکر دین محمد نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’ہمیں واقعی کچھ نہیں پتہ کہ نغمہ بی بی کہاں گئی ہیں البتہ جمیلہ ان کی خاص نوکرانی تھی آگے آپ خود سمجھ دار ہیں۔‘‘
’’یہ جمیلہ کہاں ہے ؟ اس وقت؟‘‘ میں نے سرگوشی میں اس سے پوچھا۔
’’وہ جی… کل شام کواپنے گھر گئی تھی پھر آج حویلی نہیں آئی۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘ کیوں کہ واقعی میں کچھ سمجھ نہیں پایاتھا۔
’’وہ جی د راصل جمیلہ کی ماں حسنہ بی بی بیمار رہتی ہے اس لیے وہ رات اپنی ماں کے پاس گزارتی ہے۔‘‘
’’دین محمد… بات ذرا کھل کر کرو اور میں تمہیں یہ یقین دلاتاہوں کہ جوبات تم مجھے بتائوگے وہ مجھ تک محدود رہے گی۔ یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی کہ نغمہ کی خاص نوکرانی حویلی میں نہیں رہتی۔‘‘
’’تھانیدار صاحب اس کے متعلق میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔اگر آپ جمیلہ سے مل لیں تو شاید اندر کی بات معلوم ہوجائے ۔‘‘
میںنے اپنے تجربے کی بدولت یہ اندازہ لگالیا تھا کہ دین محمد سچ بول رہاہے… یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ حویلی کے نوکروں کوپتہ تھا کہ پولیس حویلی میں تفتیش کررہی ہے‘ بہرحال دین محمد کو اندر کی کہانی نہیں معلوم تھی۔
اس لیے میں نے جمیلہ کاپتہ اس سے پوچھ کر اس کی جان چھوڑ دی۔
اس دوران ایک بار بھی چوہدری کے بیٹے کی شکل نظر نہیں آئی تھی۔میں نے جب چوہدری سے استفسار کیاتووہ بولا۔
’’تھانیدار صاحب! جب میں تھانے سے حویلی میں واپس آیا تو مجھے بتایاگیا کہ قاسم علی اپنے دوستوں کے ساتھ شکار کھیلنے چلاگیاہے…!‘‘
لیکن میری چھٹی حس مجھے کچھ اور کہانی سنارہی تھی۔ چھوٹاشہزادہ اپنی بہن کی تلاش میں گیاتھا… ورنہ اس جیسی تفسیات رکھنے والے بندے سے یہ توقع رکھنا بے وقوفی والی بات تھی کہ بہن گھر سے غائب ہو‘ اوروہ شکار کھیلنے چلاجائے… اوریہ بات بھی بعیدازقیاس نہیں تھی کہ اسے پتہ نہ چل سکاہو… کہ اس کاباپ تھانے میں گیا ہے۔
بہرحال مجھے اپناکام کرناتھا‘ ہم حویلی سے نکل آئے۔
ہم عام گاڑی میں آئے تھے… میں نے تھانے کی طرف جانے والے ایک ٹانگے میں کانسٹیبل اور سپاہیوں کو بٹھادیا اور خود گاڑی میں جمیلہ کے گھر پہنچ گیا۔
وہ ایک کچاساگھرتھا… جومکینوں کی زبوں حالی کی عملی تصویر پیش کررہاتھا۔
میں نے جب جمیلہ کے دروازے پر آنے کے بعد اپناتعارف کروایاتووہ پریشان نظر آنے لگی۔
گاڑی کومیں نے اس کے گھر سے کافی دور کھڑاکیاتھا۔
چاروناچار وہ مجھے اپنے گھر کے اندر لے گئی۔
ایک کمرے میں اس کی ماں چارپائی پرسوئی ہوئی تھی۔
دوسرے کمرے میں‘میں نے اسے اپنے سامنے بٹھالیا… او رنرم لہجے میں کہا۔
’’دیکھو… بی بی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ میں چند سوال کروں گا اور جس خاموشی سے آیا ہوں اسی خاموشی سے واپس چلاجائوں گا۔‘‘ جمیلہ کارنگ گوراآنکھیں موٹی موٹی اور ہونٹ مالٹے کی کاشوں جیسے تھے۔ میری یہ بات سن کر اس کے ہونٹوں پرذرامسکراہٹ آگئی۔
جومجھے مالٹے کی خشک پھانک جیسی لگی۔
’’سب سے پہلے تم یہ بتائو کہ آج حویلی کیوں نہیں گئی…؟‘‘
’’وہ… جی … جی… ماں کی طبیعت ذر ازیادہ خراب تھی‘ اس لیے …‘‘
اس کے چہرے پرپسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جھلملارہے تھے اوراس کے الفاظ اس کے چہرے کے تاثرات کاساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
’’دیکھو بی بی … تم جھوٹ کی سیڑھی پرچڑھ کراوپر توجاسکتی ہو لیکن پھرواپس نیچے نہیں آسکتی… اس لیے سچ بول دو…‘‘
’’تھانے دار صاحب‘ آپ ہم غریبوں کی مجبوریوں کونہیں سمجھ سکتے‘ سچ بولیں تو مالک جان کو آجاتے ہیں اور اگر جھوٹ بولیں تو…‘‘ وہ خاموش ہوگئی۔
آخر تسلی دلاسے دے کرمیں نے اس سے کچھ باتیں اگلوا ہی لیں۔
اس نے جو کچھ بتایا… اسے میں اپنے الفاظ میں آپ کوسنادیتاہوں۔
جیسا کہ ذکر آچکاہے کہ جمیلہ‘ نغمہ کی خاص نوکرانی تھی‘ نغمہ تو چاہتی تھی کہ وہ اپنی ماں اور بھائی کو لے کرحویلی میں ہی آجائے لیکن چوہدری مراتب علی اور قاسم علی اس کے حق میں نہیں تھے‘ جمیلہ نے مجھے بتایا کہ بڑے بھائی شرافت علی نے ایک دن اسے کہا۔
’’جمیلہ میں تمہیں پسند کرتاہوں… میں پڑھالکھاہوں… میں اونچ نیچ کو نہیں مانتا… مجھے پتہ ہے لڑکیاں میناچوڑیوں کی طرح ہوتی ہیں‘ دیدہ زیب نازک نازک‘ ذراسی ٹھیس لگے تو ٹوٹ جاتی ہیں۔ میں تمہیں دل میں چھپاکررکھوں گا… اورچھتری کی طرح بغل میں داب کر جہاں جہاں اور نگر نگرکی سیر کروائوں گا۔
جمیلہ نے ہاتھ جوڑ کراسے کہا۔
مجھے آپ کی طرح باتیں کرنا نہیں آتا… بڑے سرکار یہ محبت بڑی ظالم چیز ہے کہیں فرہاد سے دودھ کی نہر نکلواتی ہے‘ کہیں کان پھڑوا(چھیدا) کرجوگی بنناپڑتاہے… اور…!‘‘
’’میں ہر امتحان میں پوراتروں گا‘تم صرف ایک بار ہاں کہہ دو۔ میں فرعونیت کاقائل نہیں ہوں‘ میں اباجی اور قاسم کوبھی سمجھاتارہتا ہوں کہ سب انسان برابر ہیں… شرافت علی نے اس کوآگے نہیں بولنے دیااور بڑے جذباتی اندا زمیں یہ سب کچھ کہا۔
بہرحال بقول جمیلہ کے اسے شرافت علی سے ڈر لگنے لگا‘ اس کے خیال میں یہ باتیں قصے کہانیوں‘ ڈراموں اور فلموں میں اچھی لگتی ہیں‘ حقیقت کی دنیا میں اس کے بڑے بھیانک نتیجے نکلتے ہیں‘ اس نے فلمیں نہیں دیکھی تھیں ڈراموں کے متعلق بھی صرف سن رکھاتھا۔ ورنہ اسے یہ بھی پتہ ہوتا کہ اکثر محبت کرنے والے یاتو مرجاتے ہیں یاایک دوسرے کوپالیتے ہیں۔
اس کا ذہن گڈمڈ تھا۔ ویسے اسے شرافت علی اچھا لگتاتھا۔
لیکن ایک بات اپنی جگہ پرایک اٹل حقیقت تھی کہ اگر بڑے چوہدری اورسب سے چھوٹے چوہدری کویہ بات پتہ چل جاتی کہ شرافت علی مخمل میں ٹاٹ کاپیوند لگانے کے چکر میں ہے تووہ جمیلہ کے خاندان والوں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے اور انہیں عبرت کانشان بنادیتے۔
کہانی تو جمیلہ نے مجھے سنادی تھی لیکن میرے مسئلے کے ساتھ اس کہانی کاکوئی تعلق نہیں بنتاتھا۔
’’جمیلہ مجھے نغمہ کے متعلق کچھ بتائو‘ کیا وہ کسی کوچاہتی تھی… کسی سے محبت کرتی تھی۔‘‘
’’تھانے دار صاحب… اگر آپ میر اپردہ رکھیں تو…‘‘
’’تم بالکل بے فکر ہو کر جوبات تمہارے دل میں ہے کرو… یہ باتیں مجھ تک رہیں گی۔‘‘
’’نغمہ بی بی ایک جوان سے محبت کرتی ہیں… لیکن انہوں نے مجھے اس نوجوان کے متعلق کبھی نہیں بتایا‘ کہتی تھیں کہ مین اس کے متعلق نہیں بتاسکتی۔‘‘
’’چلوٹھیک ہے … تم اس کے نام وغیرہ سے لاعلم ہو‘ اب مجھے یہ بھی بتادو کہ تم آج حویلی میں کیوں نہیں گئیں؟‘‘
’’صبح صبح چوہدری صاحب ہمارے گھر آئے تھے‘ انہوں نے بتایاتھا کہ آج صبح نغمہ اپنی ماں کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی ہے‘ تم جب تک نغمہ نہیں آتی‘ حویلی میں نہیں آنا… تمہیں پیسے اور دوائیاں ملتی رہیں گی۔‘‘
’’اچھا… تویہ بات ہے۔‘‘ میں نے فی الحال اسے حالات سے بے خبر رکھناہی مناسب سمجھا۔
اور…اس کے گھر سے نکل آیا۔
ایک اشارہ تو ملاتھا لیکن وہ جوان کون تھا؟ کیانغمہ اس کے ساتھ گئی ہے؟
اب بھوسے میں سے سوئی ڈھونڈنے والا معاملہ ہوگیاتھا۔
پہلے کچھ باتیں میں نے دانستہ چھپالی تھیں… اب ان کاذکر کردیتاہوں۔
چوہدری نے بتایاتھا کہ نغمہ اپنا زیور اور نئے کپڑے وغیرہ لے گئی تھی… پیسوں (رقم) کے متعلق چوہدری کااندازہ تھا کہ دس ہزار کے قریب ہوگی… یہ رقم وقتاً فوقتاً چوہدرائن اس کودیتی رہتی تھی… وہاں پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی… تویہ پری پلاننگ ہواتھا۔
اس تھانے میں آتے ہی مجھے بتایاگیاتھا کہ خالہ نصرت اور چمن بیگم نادر علی اور فیاض خان باقاعدہ تھانے کے مخبر تھے۔
میںنے تھانے میں واپس آتے ہی اے ایس آئی کواپنے کمرے میں بلالیا۔
’’عشر ت علی …!‘‘
’’جی سر…!‘‘ اس نے مودبانہ لہجے میں کہا۔
’’جن مخبروں کے نام تم نے مجھے بتائے تھے ان میں تیز طرار او رکام کے مخبر(خاص کرموجودہ کیس کے سلسلے میں) کون ہیں ؟‘‘
ویسے تو اپنی اپنی جگہ سب فٹ ہیں لیکن چوہدری مراتب علی کی حویلی کے راز صرف خالہ نصرت ہی لاسکتی ہیں… کیونکہ وہ چوہدرائن کی مٹھی چاپی کرنے جاتی رہتی ہے۔
’’ٹھیک ہے تم نے جو کچھ کرناہے جلدی کرو… اس سے پہلے کہ کوئی بڑی واردات ہوجائے۔‘‘
وہ اثبات میں سرہلا کرچلاگیا۔
اگلے دن مجھے بتایاگیا کہ قاسم علی آیاہے‘ او رمجھ سے ملنا چاہتاہے‘ جوسپاہی میرے کمرے میں آیا تھا میں نے اسے کہا۔
قاسم علی سے کہہ دو کہ صاحب ابھی م صروف ہیں‘ آدھے گھنٹے بعد اسے بھیج دینا۔
’’ٹھیک ہے سر۔‘‘ اس نے مجھے سیلوٹ کیااور میرے کمرے سے نکل گیا۔
آدھے گھنٹے بعد جب وہ میرے سامنے آیاتو میں نے اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگالیا کہ شہزادہ انگاروں پر لوٹتارہاہے اور جب وہ بولاتویہ بھی پتہ چل گیا کہ انگارے چبارہاہے۔
’’تھانیدار اصاحب… یہ سب کیاہے؟‘‘
’’کیوں چوہدری صاحب کیاہوا؟‘‘ میں نے تجاہل عارفانہ سے کہا۔
’’جناب اتنا انتظار تو کبھی ڈی سی صاحب نے نہیں کروایا پھرآپ کے عملے نے میرے باڈی گارڈز کو تھانے سے باہر نکال دیاہے۔‘‘
’’دیکھیں نہ چوہدری صاحب… ہرآدمی کے کام کرنے کااپنانداز ہوتاہے‘ آپ تشریف رکھیں نا۔‘‘
اس نے تشریف رکھ دی‘ لیکن اس طرح رکھی جیسے میری سات پشتوں پراحسان کیاہو۔
’’فرمائیں کیسے آناہوا؟‘‘
میں دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو بقول مراتب علی شکار کھیلنے گیا ہواتھا‘ اچانک کیسے وارد ہوگیا‘ اس کامطلب ہے میں نے جو اندازہ لگایاتھا وہ صحیح تھا یعنی وہ بہن کی تلاش میں تھا۔
’’تھانیدار صاحب میں نے نغمہ کاسراغ لگالیاہے‘ آپ اپنی تفتیش موقوف کردیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ میں استہزائیہ انداز میں ہنسا۔ ’’کدھر ہے اس وقت۔‘‘
’’یہ میں ابھی نہیں بتاسکتا… تھوڑاانتظار کریں۔‘‘
اس کے چہرے کے تاثرات چیخ چیخ کراس بات کا اظہار کررہے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہاہے… صرف میری تفتیش رکوانا چاہتاہے۔
’’قاسم علی … میں نے تکلف برطرف رکھتے ہوئے خشک لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’میں ذرا اوکھری ٹائپ کاتھانے دار ہوں… اگر آپ نے قانون کوہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو میرا ہاتھ آپ کی گردن پرہوگا۔‘‘
’’تھانے دار صاحب آپ اپنے قانون کواپنے پاس ہی رکھیں توبہتر ہے‘ بہرحال امید ہے جلد ہی ملاقات ہوگی۔‘‘
’پھروہ مجھ سے اجازت لیے بغیر چلاگیاتھا۔
میں نے بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دی اور روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوگیا… اسے اپنی دولت اور اثر ورسوخ پربڑاناز تھا۔ لیکن شاید وہ یہ بھول گیاتھا کہ چھری خربوزے پر چلتی یا خربوزہ چھری پرگرتا… نقصان خربوزے کا ہی ہوناتھا… جس آگ کی لپیٹ میں یہ خاندان آگیاتھا اس نے اس خاندان کوہی جلاناتھا۔
دو دن مزید گزرگئے اس کیس کے سلسلے میں مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
اس دن ‘ یعنی قاسم علی کے تھانے میں آنے کے تیسرے دن مطلع صبح سے ابرآلود تھا‘ وہ ستمبر کامہینہ تھا… ابھی ابھی بھادوں گزراتھا۔
گائوں جعفر آباد کاقبرستان گائوں کے آخری کونے میں تھا… یہ عام قبرستان تھا‘جبکہ چوہدریوں کاقبرستان حویلی کے ساتھ ہی تھا… جس میں ان کے آبائواجداد ابدی نیند سو رہے تھے۔بہرحال عام قبرستان کاگورکن دو بجے کے قریب میرے پاس آیا ‘ وہ شکل سے گھبرایاہوالگ رہاتھا۔ اس کی عمر پچاس سال سے اوپر ہی ہوگی‘رنگ گندمی‘ بظاہر دھان پان سا لگتاتھا‘ لیکن قوی اس کے مضبوط لگتے تھے‘ نام اس کا عبدالرشید تھا ۔ لوگ اسے شیدا گورکن کہتے تھے۔ قارئین نام بگاڑنے کی روایت پتہ نہیں کب سے چلی آرہی ہے اچھے بھلے نام کاحلیہ بلکہ مٹی پلید کردی جاتی ہے‘ بہرحال یہ بحث لمبی ہے‘ میںنے گورکن عبدالرشید سے پوچھا۔
’’کیوں چاچا خیرتوہے…بڑے گھبرائے ہوئے ہو۔‘‘
’’موتیوں والی سرکار ایک عجیب واردات ہوگئی ہے۔‘‘
بعد میں مجھے پتہ چلا تھا کہ موتیوں والی سرکار اس کاتکیہ کلام تھا۔
’’کیامطلب …‘‘ میرے نہ صرف کان کھڑے ہوگئے بلکہ تھانیداروں والی حس بھی بیدار ہوگئی۔
’’رات قبرستان میں ایک قبر کااضافہ ہوگیاہے۔‘‘
’’چاچالگتاہے‘ رات کوئی ڈرائوناسپنا دیکھاہے۔‘‘
’’نہیں جی … موتیوں والی سرکار… بات دراصل یہ ہے کہ ابھی تین دن پہلے میں نے ایک قبر کھودی تھی… بعدمیں ان کاپروگرام بدل گیا‘ وہ اپنی میت کواپنے آبائی شہر گوجرانوالہ لے گئے۔ میں نے غلطی یہ کی کہ قبر کو کھلا چھوڑ دیا… آج صبح میں نے دیکھا کہ باقاعدہ قبر بنی ہوئی ہے… یعنی مٹی ڈال کرباقی قبروں کے برابر کردیاگیاہے۔‘‘
’’چاچا تم نے دوغلطیاں کیں ایک توقبر کو کھلا چھوڑ دیا‘ اور دوسرے رات خواب غفلت کے مزے لیتے رہے۔‘‘
’’نہیں جی… دراصل پرسوں رات مجھے اطلاع ملی تھی کہ میری بہن خورشید بیگم سخت بیمار ہے… اس وقت رات کافی بیت چکی تھی… کل صبح صبح میں اپنے پنڈ روانہ ہوگیا… وہاں جاکرمعلوم ہوا کہ وہ توبھلی چنگی ہے… میں نے بڑی مشکل سے دن کاکچھ حصہ اور رات وہاں گزاری… اور آج صبح پہلی بس سے وہاں سے نکل آیا۔یہاں آکر پتہ چلا کہ میری غیرموجودگی میں یہ کام ہوگیاہے۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اس کاطولانی بیان ختم ہواتو میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’چاچا… تم نے قبر کی مٹی ہٹا کر کیوں نہیں دیکھا… ہوسکتا ہے ویسے ہی سنسنی پھیلانے کے لیے کسی نے قبر بنادی ہو؟‘‘
’’توبہ کریں جی … میں تو سیدھا آپ کے پاس آگیاہوں۔‘‘
’’واہ… لیکن جوشخص تمہیں یہ اطلاع دینے آیاتھا کہ گائوں میں تمہاری بہن بیمار ہے… کیاتم اس کوپہچانتے تھے۔‘‘
’’نہیں جی… میں نے پہلی بار اسے دیکھاتھا۔‘‘
’’پھر…تمہارے جیسے گرگ باراں دیدہ شخص نے اس کی بات پراعتبار کیسے کرلیا؟‘‘
’’وہ جی اس نے مجھے یہ کہاتھا کہ اسے میرے گائوں کے انور علی نے بھیجاہے… انورعلی میرا بہنوئی ہے جی‘اور اس کی گائوں میں سبزی کی دکان ہے… تھانیدار صاحب آپ مجھے معاف کردیں‘ بس میں دھوکا کھاگیا۔‘‘
’’خیر… جوہوناتھا… وہ ہوچکاہے… تم قبرستان میں جائو… میں جلد ہی تمہارے پاس ہوں گا۔‘‘
لیکن … یہ جلد ہی دوگھنٹے بعد آئی کیونکہ اس کے نکلنے کے آدھے گھنٹے بعد ہی (جبکہ ہماری تیاری آخری مراحل میں تھی ) بارش شروع ہوگئی جوتقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی‘ جس نے ہرطرف جل تھل کردیا۔
خیر… جب میں‘ ہیڈ کانسٹیبل عارف محمود اور سپاہی جمعہ خان قبرستان میں پہنچے تو ساڑھے چار بج چکے تھے۔
آسمان دھل کر نکھرگیاتھا… بادل پانی برسا کرشاید اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔
ہرطرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔
گورکن عبدالرشید اپنے ہتھیاروں سمیت ہائی الرٹ کھڑاتھا۔
میں نے اسے کہا۔’’چاچاقبر سے مٹی ہٹائو… دیکھیں اس کے اندر کیا ہے؟‘‘
ایک دفعہ پہلے بھی ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آچکاتھا… وہاں کاگورکن گھبرایاہوا میرے پاس آیا تھا… اور بالکل اسی قسم کی اطلاع دی تھی لیکن قبر کی مٹی ہٹانے سے یہ پتہ چلاتھا کہ کسی بدبخت یابدبختوں نے شاید صرف سراسیمگی پھیلانے کے لیے یہ سب کچھ کیاتھا… دنیا میں ہر قسم کے انسان بستے ہیں… پولیس کی سروس میں مجھے ایسے عجیب وغریب انسانون سے پالاپڑتا رہاتھا… جوذرا سے ایڈونچر کے لیے عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے۔
بہرحال قبر کے اندر سے لاش برآمد ہوئی… وہ بھی ایک لڑکی کی…اور…! یہ لڑکی نغمہ تھی‘ یعنی نغمہ کی لاش تھی کیونکہ میں اس کی تصویر اس کے کمرے میں دیکھ چکاتھا… اس لیے مجھے پہچاننے میں ذرا بھی مشکل نہیں ہوئی۔
میںنے دیکھا کہ لاش دیکھ کر چاچا کاچہرہ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہوگیاہے۔
’’تھانیدار صاحب… یہ یہ …کیاہے؟‘‘
’’یہ لاش ہے … چاچا تمہارے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے … تمہارا اکثروپیشتر ان سے پالا پڑتاہی رہتاہے۔‘‘
گورکن خاموش ہوگیا… لگتا یہی تھا کہ وہ اندر باہر سے ہل کررہ گیاہے‘ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’چاچا… اگرتم نے مجھ سے کسی قسم کاجھوٹ نہیں بولا ہے توتمہیں کچھ نہیں ہوگا ورنہ …!!‘‘
’’موتیوں والی سرکار… میں نے سوہنے رب کی قسم آپ سے رتی برابر جھوٹ نہیں بولاہے… بے شک آپ اپنی تسلی کرلیں۔‘‘
میںنے اسے کوئی جواب دینے کی بجائے لاش کامعائنہ شروع کردیا۔
اس سلسلے میں سپاہی جمعہ خان میرا معاون تھا… ہیڈ کانسٹیبل عارف محمود قبرستان کے گیٹ پرکھڑاتھا‘ کیونکہ درجن بھرافراد اب وہاں جمع ہو گئے تھے۔
بظاہر تشدد کاکوئی نشان نہیں تھا… نغمہ کا گلا گھونٹ کرہلاک کیاگیاتھا۔ ابھی میرا معائنہ ختم ہی ہواتھا کہ ایک جیپ قبرستان کے دروازے پرآکر رکی۔
میںنے دیکھا…کہ چوہدری مراتب علی اور اس کے حواری جیپ سے اتررہے ہیں۔ ہیڈ کانسٹیبل عارف محمود نے قبرستان کا دروازہ کھول دیا… اورجب چوہدری اوراس کے حواری قبرستان میں داخل ہوگئے تو اس نے گیٹ بند کردیا۔
وہ تیزی سے میری طرف آیااور اپنی بیٹی کی لاش جومیںنے گورکن سے چارپائی منگوا کر اس پرڈال دی تھی… کودیکھ کربولا۔
’’تھانیدار صاحب… یہ کیاہوگا… اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی… اوراس کے چہرے پر دنیا جہان کی یاسیت ڈیراجمائے ہوئے تھی۔
’’حوصلہ رکھیں… چوہدری صاحب… میں لاش کوپوسٹ مارٹم کے لیے بھیجناچاہتاہوں۔‘‘
’’تھانے دار صاحب‘ یہ کس بدبخت نے میری پھل جیسی بیٹی کوقتل کیاہے؟‘‘
’’یہ پتہ میں انشاء اللہ لگالوں گا… آپ فکر نہ کریں… آپ کاچھوٹابیٹا کدھرہے؟‘‘
’’اس کا تو فی الحال کوئی پتہ نہیں ہے ‘مجھے تویہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں شکار کھیلنے گیاہے۔‘‘
’’خیر… آپ میرے ساتھ تعاون کریں۔‘‘
’’ٹھیک ہے … تھانیدار صاحب‘ آپ اپنا کام کریں میں چوہدرانی کواس اندوہناک واقعے کی اطلاع دیتاہوں… اور شرافت علی کی طرف بندہ دوڑاتاہوں۔‘‘
میںنے ہیڈ کانسٹیبل عارف محمود کی نگرانی میں لاش کوپوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیا۔
اور خود قبرستان سے باہر آگیا… ہمارے بوٹ کیچڑ میں لت پت ہوگئے تھے بارش نے جہاں ہمارا یہ حال کردیاتھا‘ وہاں کھروں کابھی کباڑہ کردیاتھا… خیرقدرت کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے‘ وہاں موجود لوگوں سے میں نے رسمی سے سوال وجواب کیے تھے۔
لیکن کوئی کام کی بات معلوم نہ ہوسکی …البتہ ایک باریش سے آدمی نے جوباتیں کی تھیں وہ میں یہاں تحریر کردیتاہوں… اس کانام کرم دین تھا۔ اس نے کہاتھا… یہ سب مکافات عمل ہے‘ جو خدا کی زمین پر اکڑ کر چلتاہے ‘ دوسرے انسانوں کوحقیر سمجھتاہے‘ اس کے ساتھ ایسے ہی ہوتاہے‘ یہ بات تو اپ نے بھی سنی ہوگی کہ خدا جب دیتاہے تو ہاتھ نظر نہیں آتے‘ اور جب مارتا ہے تو لاٹھی نظر نہیں آتی‘ چوہدری ‘چوہدرائن اور قاسم علی ایسے ہی بندے ہیں لیکن …شرافت علی اورنغمہ اپنے ماں باپ اور بھائی سے بالکل مختلف… غریبوں کے ہمدرد‘ ان کوبھی انسان سمجھنے والے‘ اور عزت دینے والے … اوران کی وقتاً فوقتاً مددکرنے والے۔‘‘
’’کرم دین… تمہارے خیال میں یہ کام کس کاہوسکتا ہے؟‘‘
تھانیدار صاحب‘ میں صرف اتنا اشارہ دے سکتاہوں کہ قاتل کویاتو حویلی کے اندر تلاش کریں یاہم جیسے انسانوں میں ڈھونڈیں۔‘‘
اتناکہہ کر کرم دین نے مجھے سلام کیا… اور ایک طرف چلاگیا۔
قارئین اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی مجھے یہ باتیں یاد تھیں‘ اس لیے میں نے آپ کوسنادی ہیں۔
اس دوران چاچا عبدالرشید نے میرے حکم پر قبر والی جگہ کی مٹی برابر کردی تھی۔
میںنے اسے چند ہدایات دیں… اورہم سرکاری گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔تھانے میں اپنی سیٹ سنبھالتے ہی میں نے اے ایس آئی عشرت علی کوبلالیا۔
یہاں ایک بات بتادوں کہ قاسم علی کی باتیںدوران ملاقات میں نے ریکارڈ کرلی تھیں… آدھا گھنٹہ میں نے اسے اسی لیے انتظار کروایا تھا‘ یہ باتیں ابھی تک میں نے بڑے چوہدری مراتب کونہیں بتائی تھیں۔
’’عشرت علی… خالہ نصرت کی طرف سے کوئی رپورٹ ملی۔‘‘
’’سرابھی تک توخاموشی ہے۔‘‘
’’چلو…انتظار کرو‘ لیکن یہ انتظار اب زیادہ لمبا نہیں ہوناچاہیے۔ کیونکہ…پھرمیںنے تازہ ترین معلومات اس کے گوش گزار کردیں‘ اس سے پہلے میں نے قاسم علی کی باتیں بھی اسے سنادی تھیں۔
ابھی وہ کوئی بات کرنے ہی لگاتھاکہ سپاہی کی شکل دروازے میں نظرآئی۔
اس نے بتایا کہ …چوہدری مراتب علی کانوکر علائوالدین آیاہے۔کہہ رہاہے تھانیدار صاحب کوچوہدری صاحب کاپیغام دیناہے۔‘‘
’’بھیج دو۔ اب چوہدری کو کیامسئلہ درپیش ہوگیاہے ؟‘‘
علائولدین ویساہی بندہ تھا جیسے بڑے لوگوں نے اپنی مٹھی چاپی کے لے رکھے ہوتے ہیں۔ وہ آکر مودب کھڑاہوگیا۔
’’ہاں… علائوالدین چوہدری صاحب نے کیا پیغام دیاہے؟‘‘
’’جناب وہ بستر سے اٹھ نہیں سکتے … انہوں نے آپ کوحویلی میں بلایاہے… کہتے ہیں کوئی خاص بات کرنی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم جائو میں فارغ ہوکر آئوں گا۔‘‘
اس کے جانے کے بعد اے ایس آئی بولا۔
’’سر… ایسے لوگوں کی خداتعالیٰ رسی دراز کرتارہتاہے‘ اوروہ باری تعالیٰ جب رسی کھینچتاہے تو…توبہ توبہ …ہمیں ہروقت توبہ کرنی چاہیے۔‘‘
’’بالکل عشرت علی … ایک وقت ہوگا جب وہ ہم جیسے تھانیداروں کولفٹ نہیں کرواتاہوگا… اب زہریلے سانپ سے بے ضرر کینچوا بن گیاہے… بہرحال تمہارے خیال میں یہ کام کس کاہوسکتاہے؟‘‘
’’میںاپنا صحیح خیال تو پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی ظاہرکرسکوں گا سر… لیکن چند لمحے اس نے اپنا کان کھجایا…پھربولا’’قاسم علی کی باتیں سن کرتو یہی محسوس ہوتاہے کہ یہ کارروائی اس کی ہے۔‘‘
’’خیرجو کچھ پردہ راز میں ہے وہ ایک دن تو پتہ چل ہی جائے گا… تم اس طرح کرو چوہدری کی طرف چکر لگاآئو دیکھو تو وہ کیا کہتاہے ؟‘‘
’’ٹھیک ہے سر…‘‘
اے ایس آئی نے واپس آکر جو رپورٹ دی وہ میں آپ کو اپنے الفاظ میں سنادیتاہوں۔
’’چوہدری کی حالت زیادہ تسلی بخش نہیں تھی … اس نے یہ انکشاف کیاتھا کہ جمیلہ اس کی ماں اور جواں سال بھائی ابراہیم اچانک غائب ہوگئے تھے… چوہدری اور چوہدرائن نے تویہاں تک کہاتھا کہ نغمہ کے متعلق جمیلہ کو کچھ نہ کچھ ضرور پتہ تھا تبھی وہ منظر سے غائب ہوگئی تھی… چوہدری نے کہاتھا کہ اگر وہ مل جائے تو نغمہ کے قتل کامعمہ حل ہوسکتا ہے۔
میراخیال کچھ اور تھا… میںنے جمیلہ کواچھی طرح ٹھوک بجا کر دیکھ لیاتھا یہ سب آپ پڑھ چکے ہیں‘ مجھے قاسم علی کوتلاش کرناتھا… جمیلہ اتنی اہم نہیں تھی۔
اگلے دن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آگئی‘ رپورٹ بڑی سنسنی خیز تھی‘ رپورٹ کے مطابق پہلے نغمہ کی آبروریزی کی گئی تھی اس کے بعد اس کاگلا گھونٹ کر ہلاک کیاگیاتھا۔
مجرم کون تھا…؟؟
کچھ ہی دیربعد مجھے بتایاگیا کہ لاش لینے شرافت علی اور چاردوسرے بندے آئے ہیں۔
میںنے کاغذی کارروائی کرکے لاش ان کے حوالے تو کرنی ہی تھی لیکن میں نے کاغذی کارروائی ہونے کے درمیان موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شرافت علی کوبلالیا۔
وہ ایک وجیہہ جوان تھا‘ شکل سے پریشان تو تھاہی لیکن اندرسے ایک معقول اور خداترس انسان لگتاتھا۔
میںنے اپنے سامنے پڑی کرسی پراسے بٹھالیاتھا۔
چند لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے پھر میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’چوہدری صاحب یہ صدمہ تو آپ کے لیے بہت بڑاہے… لیکن اب آپ نے ہمت سے کام لیناہے میں اپنی پوری لگن سے نغمہ کے مجرم کوکیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
تھانے دار صاحب باقی باتیں تو دوتین دن بعد میں آکر آپ سے کروں گا اس وقت صرف اتنابتادیتاہوں کہ اگر اباجی اور قاسم میری بات مان لیتے توہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔‘‘
میں نے بھی اسے مزید کریدنا مناسب نہ سمجھا… اور لاش اس کے حوالے کردی … ویسے اس کی بات نے مجھے چونکاضرور دیاتھا۔
شام کومخبر خالہ نصرت میرے کمرے میں موجود تھی۔
اس نے جو رپورٹ دی … اس کے متعلق میں ابھی آپ کو نہیں بتائوں گا‘ اس کاذکرآگے آئے گا… جوذومعنی بات شرافت علی کرگیاتھا… اس پر کافی حد تک روشنی خالہ نصرت کی رپورٹ سے پڑگئی تھی …لیکن معاملہ ابھی شک کی حدیں پھلانگ کرحقیقت تک نہیں پہنچاتھا۔
حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ابھی بہت پاپڑ بیلنے تھے‘ میں نے ایک بات شرافت علی سے یہ بھی کہی تھی کہ وہ نغمہ کے جنازے کے وقت سے مجھے ضرور مطلع کرے… بعد میں مجھے بتایاگیا کہ شام کوجنازہ ہے۔
میں جنازے میں شریک ہوا… قارئین کسی نے سچ کہاہے کہ جہاں کی خاک ہوتی ہے‘ وہاں ہی جاتی ہے‘ میرے خیال میں یہ بھی مکافات عمل کاحصہ ہی تھا‘ کہ نغمہ کووہاں دفن کیاگیاتھا جہاں سے اس کی لاش برآمد ہوئی تھی‘ گویاوہ قبر عبدالرشید گورکن نے نغمہ کے لیے کھودی تھی … کیونکہ جس میت کے لیے قبر کھودی گئی تھی وہ گوجرانوالہ چلی گئی تھی۔
جنازے میں گائوں کے نمبردار سے بھی ملاقات ہوگئی۔ اس کانام عبدالقادر تھا… وہ گورے رنگ کاایک ساڑھے چار فٹ کابندہ تھا‘ سر کے بال آدھے سے زیادہ جھڑچکے تھے‘ عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔
تھانے دار صاحب مجھے افسوس ہے کہ پہلے آپ سے ملاقات نہ ہوئی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نمبردار صاحب جس کام نے جس وقت‘ اور جہاں ہوناہوتاہے وہیں ہوتاہے‘ اب میں اس گائوں کے متعلقہ تھانے میں آگیاہوں اس لیے ملاقات تو ہوتی ہی رہے گی۔‘‘
’’کیوں نہیں جی … اگر اس وقت آپ میرے غریب خانے پرتشریف لے چلیں تو…‘‘
’’نہیں…نمبردار صاحب اس وقت نہیں جاسکتا… پھرکبھی سہی۔‘‘
’’ٹھیک ہے جناب‘ جیسی آپ کی خوشی ہم توحکم کے بندے ہیں۔‘‘
مجھے ایک بات بڑی عجیب لگ رہی تھی کہ ابھی تک قاسم علی کی شکل نظر نہیں آئی تھی… یاتووہ کہیں دور نکل گیاتھا جہاں اسے بہن کے قتل کے متعلق پتہ نہیں چلاتھا‘ یاپھر کوئی اور بات تھی…لیکن …!
یہ کوئی اور بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
دوسری صبح ابھی میں کوارٹر میں ہی تھا کہ میرے کوارٹر کے دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے سپاہی جمعہ خان کودیکھ کر خطرے کی گھنٹی میرے ذہن میں بج اٹھی۔
’’کیابات ہے … جمعہ خان۔‘‘
’’سر…قاسم علی کی لاش گائوں جعفر آباد میں موجود ایک متروک کنویں سے ملی ہے۔‘‘
’’اندرآجائو جمعہ خان ابھی تھانے چلتے ہیں۔‘‘
آدھے گھنٹے بعدہم تھانے میں موجود تھے‘ جودوبندے لاش کی اطلاع دینے آئے تھے ان سے اتنامعلوم ہوسکاتھا کہ آج صبح گائوں جعفر آباد کاچرواہا حسب معمول بکریاں وغیرہ لے کر جارہاتھا کہ اس کی ایک بکری ریوڑ سے الگ ہو کر متروک کنویں کی طرف چلی گئی… اس کاکتاڈبو بھی ساتھ تھا… وہ کنویں کے پاس پہنچ کرزور زور سے بھونکنے لگا… چرواہے نے ہاتھ میں پکڑی سوٹی(چھڑی) سے کتے کوپیچھے کیا… اور کنویں میں جھانک کردیکھا کنواں زیادہ گہرانہیں تھا اس میں کچراوغیرہ پھینکنے کی وجہ سے اس کی سطح زیادہ گہری نہیں رہی تھی … اسے کنویں میں لاش نظر آگئی‘ اس کاپانی عرصہ ہوا خشک ہوگیاتھا۔
تھوڑی دور کھیتوں میں لوگ کام کررہے تھے‘ اس نے آوازیں دے کر انہیں بلالیا۔
یہ تعداد میں آٹھ بندے تھے… جب انہیں اصلی بات کاپتہ چلاتوایک بندہ رسہ لے آیا… دوبندے چارپائی لینے دوڑے‘ بہرحال قصہ مختصر آدھے گھنٹے کے اندراندر لاش چارپائی پر منتقل ہوچکی تھی۔
لاش کی شکل دیکھتے ہی سب نے اسے جاگیردار چوہدری مراتب علی کے چھوٹے بیٹے کی حیثیت ے پہچان لیا۔
دوبندے حویلی کی طرف دوڑے‘ چوہدری مراتب علی تو صاحب فراش یعنی بیمار تھا‘ قاسم علی کی لاش ملنے کاسن کر اس کی طبیعت مزید بگڑگئی… اور دو ڈاکٹروں کواس کی طرف خصوصی توجہ دینی پڑی‘ بہرحال بڑابیٹا شرافت علی چار حواریوں کے ساتھ کنویں کی طرف چلاگیا۔
اس کے بعد دو حواری تھانے کی طرف دوڑادیئے گئے۔
قارئین ان میں کچھ باتیں مجھے بعد میں معلوم ہوئی تھیں لیکن ترتیب کے خیال سے یہاں ہی لکھ دی ہیں‘ بہرحال ضروری تیاری کے بعد میں نے دوسپاہیوں کوساتھ لیا‘ اور متروک کنویں پر پہنچ گیا۔
وہاں پرشرافت علی اوراس کے حواریوں کے علاوہ گائوں کے کچھ لوگ بھی جمع ہوگئے تھے… چادر سے لاش کوڈھانپ دیا گیاتھا۔میںنے چادراتار کرسپاہی کوپکڑادی اور گھٹنوں کے بل جھک کر لاش کامعائنہ کرنے لگا… لاش کے سینے میں کسی تیز دھار آلے مثلاً چھری یاخنجر کے چار زخم تھے… ہاتھوں کی دو تین انگلیاں بھی فگار تھیں‘ ایک کان بھی کٹاہواتھا… لگتایہی تھا کہ قاتل انتہائی غصے میں تھا۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی‘اس نے اپنا غصہ دل کھول کرقاسم پراتاراتھا… میں نے اسی رسے کی مدد سے سپاہی جمعہ خان کومتروک کنویں میں اتاراتھا… دس منٹ کی تک ودو کے بعد آلہ قتل مل گیاتھا یہ ایک انتہائی خوفناک دس انچ لمبے پھل والی چھری تھی… جس پرخون جم کر سیاہی مائل ہوگیاتھا اور یہ خون اس دن سے دو دن پہلے کالگتاتھا… جب نغمہ کی لاش برآمد ہوئی تھی… یعنی قاسم علی کوپہلے قتل کیاگیاتھا…(بعد میں قاسم علی کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی یہ سب کچھ ثابت کردیاتھا) لگتایہی تھا کہ قاتل کے دل میں چوہدری کے خاندان کے لیے بہت غصہ بھراہواتھا… اور خاص کر یہ غصہ قاسم علی کے لیے تھا۔ چوہدری کے خاندان کے متعلق کچھ باتیں ‘بلکہ کافی باتیں خالہ نصرت(مخبر) مجھے بتاگئی تھی… جس سے یقین کی حد تک شک ایک بندے پرجاتاتھا‘ اب وہ بندہ ہمارے ہتھے چڑھتاتو دودھ کادودھ اور پانی کاپانی ہوتا۔
بہرحال ضروری کاغذی کارروائی کرواکے میں نے لاش سپاہی بہادر علی کی معیت میں سول اسپتال پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی… اور جمعہ خان کوساتھ رکھا‘ جب لاش چلی گئی تو شرافت علی نے مجھے کہا۔
’’تھانیدار صاحب‘ ایک توابا جی آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ دوسرے میں بھی آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتاہوں‘ آپ حویلی چلیں… میں نے اس کی بات مان لی‘ کیونکہ وقت اور حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا۔
دوسرے مجھے کچھ باتوں کی تصدیق بھی کرنی تھی… حویلی پہنچ کر میںنے سپاہی جمعہ خان کوسرکاری گاڑی میں ہی چھوڑا… اور خود شرافت علی کے ساتھ حویلی کے اندر چلاگیا۔
حویلی میں کہرام مچاہواتھا… عورتوں کے بین اکرنے اور سینہ کوبی کی آوازیں آرہی تھیں۔
شرافت علی مجھے حویلی کے پچھواڑے سے لے کرگیاتھا‘ اوریہ وہی راستہ تھا جونغمہ کے کمرے سے ہوکرگزرتاتھا۔
چوہدری مراتب علی کی حالت دیکھ کرمیں اندرباہر سے کانپ گیا۔
اس کاچہرہ کھڑی(پھولی) سرسوں کی طرح زرد تھا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے‘ اس نے مجھے دیکھ کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کے سینے پرہاتھ رکھ کراسے دوبارہ لیٹنے پرمجبور کردیا۔
شرافت علی اپنے باپ کے پائوں کی طرف بیٹھ گیا اورمجھے اس کرسی پربیٹھنے کے لیے کہا جواس نے باپ کے سرہانے کے پاس کردی تھی۔
میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی چوہدری مراتب علی کی کانپتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
’’تھانیدار صاحب! میں بہت گناہ گار ہوں‘ اب مجھے اپنی زندگی کی کوئی امید نہیں رہی اس لیے …‘‘
’’اباجی… یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں… اللہ آپ کاسایہ سدا ہمارے سروں پرقائم ودائم رکھے۔‘‘
’’تم پترچپ کرو… آج مجھے اپنے دل کابوجھ ہلکا کرلینے دو… پھرپتہ نہیں یہ موقع ملے یانہ ملے۔‘‘
شرافت علی نے باپ کے پائوں پراپناسررکھ کرسسکنا شروع کردیا۔
بڑے چوہدری مراتب علی کی آواز لفظ لفظ بن کرمیرے کانوں میںٹپکنے لگی۔ بعد میں ان باتوں کی تصدیق چھوٹے چوہدری شرافت علی نے بھی کردی۔
’آخر میں اس نے کہا تھانیدار صاحب ایک بات کااقرار میں بھی آپ کی موجودگی میں اباجی کے سامنے کرتاہوں کہ میں جمیلہ سے محبت کرتاہوں‘ اسے دل کی گہرائیوں سے چاہتاہوں‘ میں نے ہی اسے اس کے بھائی اور اماں کوشہر میں بلایاتھا‘ آج کل وہ شہر میں رہ رہے ہیں … چند لمحے کے لیے وہ خاموش ہوا پھر بولا۔
’’تھانیدار صاحب‘ ہرانسان برابر ہے‘ اسے اس کی امارت سے نہیں اخلاق اور محبت سے پہچاننا چاہیے… جمیلہ سے مجھے ایسی محبت ہے جیسے شہد کی مکھی کلی میں سرشام بندہوجائے‘ میں اس سے شادی کروں گا… اگربااجی اجازت دے دیں تومیری منزل آسان ہوجائے گی ۔‘‘
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ابھی چوہدری مراتب علی اس کی گوشمالی شروع کردے گا۔
لیکن ایساکچھ نہیں ہوا… چوہدری نے انتہائی محبت اور دھیمی آواز میں کہا۔
’’شرافت علی تم صحیح کہتے تھے‘ کہ جن لوگوں نے ہمیں عزت دی ہے انہیں بھی عزت دینی چاہیے … اگربال کاٹنے والے نہ ہوں‘ جوتی بنانے والے نہ ہوں‘ کپڑا بنانے والے اور کپڑا سینے والے نہ ہوں تو ہماری حالت کیاہو‘ صفائی کرنے والے میسرنہ ہوں تو ہمارے اندراور باہر کاگند ہر کسی پرعیاں ہوجائے۔ خیر… تم اب بالکل فکرنہ کرو‘ میںاپنے ہاتھوں سے تمہاری شادی جمیلہ سے کروں گا‘ پہلے ہی میری پھول جیسی‘ نازوں پلی بیٹی میرے اور اپنے بھائی قاسم کے کرتوتوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔‘‘
پھر جو دونوں باپ بیٹا روئے ہیں تومجھ سے سنبھالنامشکل ہوگیا۔ حویلی میں ویسے بھی آہ وبکا اور رونادھونا ہورہاتھا۔ اس لیے یہ آوازیں ان میں دب گئیں یوں جیسے زلزلے کے بعد مکینوں کی آہیں مکانوں کے ملبے میں دب جاتی ہیں۔
میں بوجھل دل کے ساتھ سپاہی جمعہ خان کولے کرتھانے میں واپس آگیا… ایک بار پھر…!!
اس ساری کہانی سے وہی کردار سامنے آیا جس پرپکاشک ظاہر کیاگیاتھا۔ اس سے پہلے کہ میں اسے بلانے کے لیے اپنے اہلکاروں کو بھیجتا وہ خود ہی آگیا۔
میںنے اسے غور سے دیکھا… یہ ایک گورا چٹا چوبیس پچیس سالہ پٹھان تھا چہرے پر غیرت اپنی جھلک دکھارہی تھی‘ وہ بالکل پرسکون تھا… جیسے کوئی جھیل پرسکون ہو‘ کوئی سمندر طوفان برپا کرکے پرسکون ہوگیاہو… وہ ایک قوی الجثہ جوان تھا۔
’’مجھے گرفتار کرلیں تھانے دار صاحب خوچہ …‘‘
اس نے اپنے ہاتھ میرے آگے کردیئے۔
مجھے آج بھی یاد ہے اس وقت کہ مجھے اس کوگرفتار کرتے ہوئے دکھ ہو رہاتھا‘ مجھے یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے میرے اندر ایک کشمکش جاری ہو۔
لیکن میں اس قانون کے ہاتھوں مجبور تھا جس کی پاسداری کی میں نے قسم کھائی تھی… جس کاحلف اٹھایاتھا‘ کہ میں قانون کوسربلند کرنے کے لیے کسی رشتے‘ کسی جذباتی کیفیت کوخاطر میں نہیں لائوں گا‘ میں نے اس کے ہاتھوں میں آہنی زیور پہنادیا۔
قارئین آپ نے اتنے صبر سے یہاں تک کہانی پڑھی ہے‘ اب میں آپ کے صبر کومزید نہیں آزمائوں گا… سارے پردے اٹھادیتاہوں۔
یہ کہانی دوسال پہلے شروع ہوئی‘ جب قاسم علی کی نظر گل بانوپرپڑی… وہ عورتوںکاشکاری تھا… دولت کی فراوانی سے کچے کردار والیاں اور مجبور لڑکیاں اس کی جھولی میں آگرتی تھیں… لیکن گل بانو اس کے لیے ایک ایسی چٹان ثابت ہوئی جس کووہ اپنی دولت‘ دھونس دھاندلی اور زور زبردستی سے ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلاسکا… الٹاایک دن گل بانو نے اسے کھری کھری سنادیں اس وقت کھیتوں میں دونوں کی اچانک ملاقات ہوگئی تھی … اور دونوں اکیلے تھے۔
گل بانو نے اسے کہاچوہدری ہرلڑکی بکائو مال نہیں ہوتی‘ میں تمہارے شیطانی ارادے کبھی پورے نہیں ہونے دوں گی … میں پٹھانی ہو ں‘ پٹھانی… اس کے بعددو ہی دن گزرے تھے کہ گل بانوغائب ہوگئی۔ تیسرے دن اس کی لاش کنویں میں تیررہی تھی۔ یہ کنواں وہی تھا جسے آج متروک کنویں کانام دے دیاگیاتھا۔ جی ہاں پہلے یہ کنواں چالوتھا۔ گائوں کی بالڑیاں(جوان لڑکیاں) اور عورتیں یہاں سے پانی بھرتی تھیں… جب گل بانو کی لاش برآمد ہوئی تو اس کنویں کوبند کروادیاگیا تھااوراسے متروک کنویں کانام دے دیاگیاتھا… ان دنوں گل بانو کابھائی انار گل (جو اس وقت تھانے میں موجود تھا‘ اوراقبال جرم کرچکاتھا) کسی باہر ملک گیاہواتھاروزی کمانے کے لیے … گل بانو کے ماں باپ غریب تھے‘ اور خاندانی دشمنی کی وجہ سے اپناعلاقہ چھوڑ کر یہاں آکرآباد ہوگئے تھے… انہیں یقین کی حد تک شک توتھا کہ یہ کارروائی قاسم کی ہے کیونکہ گل بانو نے اپنی ماں کوقاسم علی کے ارادوں سے آگاہ کردیاتھا… لیکن ان کے پاس ثبوت کوئی نہیں تھا‘ گل بانو کی لاش کاپوسٹ مارٹم ہواتھا جس سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ پہلے گل بانو کوزیادتی کانشانہ بنایاگیاتھا پھراسے گلہ گھونٹ کر ہلاک کردیاگای تھا… یہ بات مشہور تھی کہ گل بانو وقار سے محبت کرتی تھی اور بدقسمتی سے اس وقت یہاں کاتھانیدار چوہدری مراتب علی کارشتے دار تھا جس نے سارا کیس وقار پرڈال دیا تھا۔ وقار ایک سفید پوش اسکول ٹیچر نثار علی کابیٹاتھا… چونکہ سارا ملبہ اس پر ڈال دیاگیاتھااس لیے وہ ابھی بھی جیل میں تھا… ایک دن نثار علی نے چوہدری قاسم کوکہاتھاکہ چوہدری خدا کی زمین پر اتنا ظلم نہ کر کہ یہ زمین تم پر تنگ ہوجائے … غریب اور مجبور انسان کی آہ تو حشر تک ہلا دیتی ہے‘ عدالت میں تو واقعاتی شہادتوں پربحث ہوتی ہے ثبوت مانگے جاتے ہیں ابھی یہ کیس چل رہاتھا۔
بہرحال قاسم کوصاف بچالیاگیاتھا۔ یہ بات بھی یہاں ہی بتادیتاہوں کہ شرافت علی نے اپنے باپ سے یہ کہاتھا کہ ایک بے گناہ پر ظلم نہ کریں ‘ اسے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا نہ چھوڑیں… اس وقت چوہدری مراتب علی نے بڑے غصے سے اپنے بیٹے شرافت علی کو کہاتھا کہ کیاتم یہ چاہتے ہو کہ میں قاسم کوقانون کے حوالے کردوں۔قاسم نے اپنے کرتوت کے بارے میں اپنے باپ کوبتادیاتھا کہ اس نے گل بانو سے اپنی بے عزتی کابدلہ اس طرح لیاہے کہ پہلے اسے خراب کیاہے پھر اس کاگلہ گھونٹ کر کنویں میں پھنکوادیا ہے۔ حالانکہ گل بانو نے تو قاسم کوآئینہ دکھایاتھا۔
اب باقی باتیں انار گل کی زبانی سن لیں۔
’’تھانیدار صاحب میں تین مہینے پہلے چھٹی لے کرگھرآیاتھا‘ یہاں آکر سارے حالات مجھے معلوم ہوئے‘ میں نے اس دن تہیہ کرلیا کہ چوہدریوں کومزہ چکھائوں گا‘ مجھے یہ پتہ چلاتھا کہ نغمہ غریبوں کی ہمدرد ہے‘ او رغریبوں میں خوش رہتی ہے‘ میں نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کردیئے… یہاں پہنچ کروہ چند لمحے کے لیے خاموش ہوا پھربولا۔
’’اسے ڈورے ڈالنا ہی کہیں گے‘ کیونکہ میری نیت شروع سے ہی خراب تھی‘ نغمہ میرے جال میںپھنس گئی… میں اپنے جال کو آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے کھینچنے لگا… یہ شک تو مجھے بھی یقین کی حد تک تھا کہ یہ سب قاسم علی کاہی کیادھراہے… کیونکہ سارے واقعات اور اشارے یہی کہہ رہے تھے … لیکن میں پھر بھی کوئی ثبوت حاصل کرنا چاہتاتھا… نغمہ کے متعلق مجھے یقین تھا کہ جب بھی بلائوں گا کچے دھاگے سے بندھی چلی آئے گی… آخر ایک دن متروک کنویں(آج کے) پاس قاسم علی سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ شاید اسے موت گھسیٹ کروہاں لے آئی تھی… کیونکہ وہ اس وقت اکیلاتھا… اور نہتابھی تھا‘ لگتایہی تھا کہ شاید کسی شکار سے ملنے آیا تھا‘ بہرحال لمبے پھل والی چھری میرے پاس تھی‘ وہ میں نے نکال لی اور اس کی شہ رگ پررکھتے ہوئے کہا‘ قاسم علی میں جوپوچھوں بالکل سچ سچ بتانا ورنہ میں تمہاری شہ رگ کاٹ کر چلتابنوں گا… یہ جھوٹ میں نے اس سے اس لیے بولاتھا تاکہ اس سے سچ اگلوایاجاسکے۔ ایسا بندہ اندرسے بزدل ہوتاہے مجبور بے کسوں اور لاچاروں پرظلم کرنے والا ایسا ہی ہوتاہے‘ اس نے موت کوسامنے دیکھ کر اس شرط پرمجھے سچ بتادیا کہ مین اس کو معاف کردوں گا… میں نے جھوٹا وعدہ کرلیا‘ اس نے بتایا کہ چونکہ گل بانو نے اس کوچیلنج کیاتھااس لیے اس نے اس کی آبرو روزی کرکے اور گلہ کاٹ کر لاش اس کنویں یں پھنکوادی تھی… تھانیدار صاحب ایسا شخص معافی کے قابل نہیں ہوتا… اگر ظلم کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں تووہ بڑھتا رہتاہے پھراس نے تو میری معصوم بہن پرظلم کیاتھا… میں اسے کسی صورت معاف نہیں کرسکتاتھا… میں نے اسے قتل کرکے لاش آلہ قتل سمیت کنویں میں پھینک دی… جب سے اس کنویں کومتروک کنویں کانام دیاگیاتھااس طرف کوئی نہیں جاتاتھا… پھروہ شام سے تھوڑی دیر بعد کاوقت تھا‘ اجالااندھیرے کی گود میں جانی کومچل رہاتھا‘ اس لیے میرا کام آسان ہوگیاتھا۔ گل بانو والے معاملے میں قاسم کے دوحواری بھی ملوث تھے‘ انہوں نے لاش (گل بانو کی) کنویں میں پھینکی تھی… انار گل کی نشاندہی پرمیں نے دونوں حواریوں کو بھی گرفتار کرلیاتھا… اب بات رہ جاتی ہے نغمہ کی ‘ قاسم علی کوقتل کرنے سے پہلے ہی انارگل نے نغمہ کو پیغام بھجوادیاتھا کہ اگراسے سچی محبت ہے تو آج رات کوہمیشہ کے لیے آجائو… ورنہ میں سمجھوں گا کہ وہ صرف دل لگی کررہی ہے… ایسی دل لگی جو امیر غریبوں سے کرتے رہتے ہیں… دوسرے نغمہ کوآنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے انارگل نے پیغام لے جانے والی عورت (زلیخا) کے ہاتھ یہ بات بھی اس تک پہنچادی تھی کہ اس کے گھروالے(نغمہ کے) کبھی بھی ہمیں ایک نہیں ہونے دیں گے بلکہ اگر ان کوپتہ چل گیا تو وہ کم از کم مجھے تووہاں پہنچادیں گے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتابہرحال نغمہ آگئی‘انارگل کی توقع کے عین مطابق… اس نے اسے ایک گھر میں رکھا جو اس کے دوست کاتھا… نغمہ کی قسمت کافیصلہ کرنے سے پہلے وہ قاسم علی سے سچ اگلوانا اہتاتھا آخر میں انارگل نے کہاتھا تھانیدار صاحب مجھے پتہ تھا کہ نغمہ بے گناہ اور معصوم ہے لیکن میری نظروں کے سامنے ہروقت میری بہن کاچہرہ رہتاہے… وہ بھی معصوم تھی‘ بے گناہ تھی‘ میرے ماں باپ زندہ درگور ہیں… جوان بیٹی کی حسرت ناک موت ماں باپ اور بھائیوں کو خون کے آنسو رلاتی ہے میں ایسی ہی حالت سے چوہدری اور چوہدرائن کودوچار کرنا چاہتاتھا… اس لیے میں نے نغمہ کے ساتھ وہی کیا جومیرے دل نے کہا… تھانیدار صاحب آپ کے قانون میں ایسے انتقام کی کوئی گنجائش نہیں … بہرحال متروک کنواں ہمیشہ اس بات کاگوارہ رہے گا کہ میں نے اپنی معصوم بہن کے مجرم کواذیت ناک موت مار کر اسی متروک کنویں میں پھینک دیاتھا جو کبھی لوگوں کی پیاس بجھاتاتھااور جہاں سے میری بہن کی لاش ملی تھی۔
جاتے جاتے یہ بھی بتادوں کہ وقار حقیقت کھلنے کے بعد باعزت بری ہوکر اپنے گھر واپس آگیاتھا… اس بندے کی نشاندہی بھی انار گل نے کردی تھی جسے اس نے جھوٹا پیغام دے کر گورکن عبدالرشید کے پاس بھیجاتھا کہ اس کی بہن خورشید بیگم بیمار ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close