Aanchal Dec 15

نیرنگ خیال

ایمان وقار

دسمبر
دسمبر جب بھی آتا ہے
بارش کی بوندوں سے
میرے کمرے کی کھڑکی کے
شیشے سارے بھیگ جاتے ہیں
میرے آنگن کے پودوں پر
اداسی سی اترتی ہے
جہاں تک دیکھتی ہوں میں
نظارے بھیگ جاتے ہیں
بھیگی یخ بستہ راتوں میں
میں تنہا جب بھی ہوتی ہوں
میرے بستر کی سلوٹیں
اچانک بڑھنے لگتی ہیں
کبھی جو تم نے بھیجے تھے
وہ تحفے‘ پھول اور وہ ڈھیر سارے خط
میرے ٹیبل پر جو رکھے ہیں
وہ سارے بھیگ جاتے ہیں
مجھے ’’تم ‘‘ یاد آتے ہو
میرا تکیہ…
میرا آنچل…
میری پلکوں کے کنارے
بھیگ جاتے ہیں…!

نزہت جبین ضیاء… کراچی

غزل
ہمارے خوابوں کی خوشبو‘ خیال کا موسم
بکھر رہا ہے ہر سو جمال کا موسم
ابھی تو وقت ہے اونچی اڑان اڑنے کا
ابھی تو آیا ہے ہم پر کمال کا موسم
عروج سب کو ہے پیارا مگر یہ یاد رہے
پلٹ کے آتا ہے اک دن زوال کا موسم
مصیبتوں میں ہی رشتے نبھائے جاتے ہیں
یونہی پنپتا ہے فکر و خیال کا موسم
خزاں کا ذائقہ ہرآن چکھنا پڑتا ہے
سدا کب رہتا ہے حسن و جمال کا موسم
ہر ایک شخص نیا دکھڑا ہمیں سناتا ہے
جبھی تو رہتا ہے اکثر و بال کا موسم
ہمیں امیدیں ہمیشہ ہی اچھی رکھنی ہیں
ہمارے رخ پر رہے گلؔ گلال کا موسم

سباس گل… رحیم یار خان

آہ یہ زسمبر
خزاں کے زرد پتوں کو وہ منظر یاد کرتا ہے
اسے کہنا بہت اس کو دسمبر یاد کرتا ہے
اسے کہنا کہ یخ بستہ ہوائیں زخم دیتی ہیں
اسے کہنا اسے اک شخص اکثر یاد کرتا ہے
اسے کہنا بن اس کے اداسی میں ہیں سب رستے
اسے کہنا اسے بچھڑا سمندر یاد کرتا ہے
اسے کہنا کہ اس کو بھول جانا بس سے باہر ہے
اسے کہنا اسے کوئی برابر یاد کرتا ہے

وقاص عمر بنگڑنو… حافظ آباد

سانحہ پشاور
میرے غنچے
تو کیسا ہے؟
مجھے یقیں ہے
کہ تُو جنت کا مکین ہے
یہ دنیا تیرے قابل نہ تھی
نفرتوں‘ شر انگیزیوں
میں لپٹی ہوئی
تیرے رہنے کے لائق نہ تھی
جب ہی تو میرے رب نے تجھے
اپنے پاس بلالیا
تجھے رحمت میں اپنی چھپالیا
تیری مسکراتی صورت کو
میں تصور کی آنکھ سے
روز دیکھتی ہوں
کہ تُو ستر مائوں سے بھی زیادہ چاہنے والے
اپنے رب کے پاس ہے
مگر اس سب کے باوجود
ایک ماں کا دل
زخم خوردہ ہے‘ غم زدہ ہے
تیرے سر سے ٹپکتے خون کے قطرے
میرے دل کو آج بھی لہولہان کرتے ہیں
نہیں میرے بس میں
اپنے آنسوئوں کو روکنا
مگرپھر بھی…
میں راضی بہ رضا ہوں
میں خوش ہوں کہ تُو جنت کا مکین ہے
جنت ہی تیرا اصل ٹھکانہ تھا
اور تُو وہیں ہے
میرے اللہ میں راضی ہوں
میں راضی ہوں

حمیرا نوشین… منڈی بہائو الدین

نظم
اے وقت رواں ذرا
تھم تو سہی…
ابھی ارماں
کچی کلیاں ہیں
کھلے پھول نہیں
سب چاہت کے
دل پر ابھی تو نقش
ہیں پچھلے برس کی آہٹ کے
وہ مدہم مدہم لہجے میں
کرتے تھے باتیں ہم دونوں
کچھ گزرے بیتے لمحوں کی
کچھ آنے والے سالوں کی
کچھ وعدے تھے سانجھے اپنے
کچھ درد بھی بانٹے تھے نئے
کچھ اشک بھی چن کے
پوروں سے
خوشیوں کے جگنو بنائے تھے
تو تھم جا ذرا
بات تو سن…
پلٹ کے گنتی پھر سے گن
ابھی دن ہی کتنے بیتے ہیں
سنگ قربت میں
جو آئے تھے
وہ بدل نہ جائے اس
بدلتے سال کے ساتھ
ہم تو رہبر اسی کو
مانتے آئے تھے

مدیحہ نورین مہک… برنالی

غزل
میرے ہم درد میری زندگی کا منظر تو دیکھ
ہے کتنی اداس دل کی گہرائی جھانک کر اندر تو دیکھ
میری چاہتوں کی منزل کو پانے کا سوچ ذرا
سحر و شب تیرے لب پر میری محبت ہوگی
کبھی میرے دل کے قریب آکر تو دیکھ
تم نے بس دیکھی ہیں خوشیوں کی بہاریں
کبھی میری زندگی کو لگا پت جھڑ تو دیکھ
میں تنہا جل جائوں آگ محبت میں ندیمؔ
کبھی اس آگ کو دل میں لگا کر تو دیکھ

ندیم عباس… ڈھکو

اداس شام
دسمبر کی اداس شاموں میں
ویران آنکھوں میں نمی لیے
برف سے ڈھکے درختوں کے
خزاں رسیدہ پتوں پر
دبے پائوں چلتی
سرد ہوا‘ خاموش فضا
بیتے پل‘ گزرے لمحے
یادوں کی گہری جھیل میں
آنکھوں میں آس کے جگنو لیے
دفن ہوتی‘ پل پل مرتی
اداس فضائوں کی اک تتلی
ماریہ طفیل پارس… چکوال
شہدائے پشاور کے نام
انہیں ابھی کھلنا تھا
وہ پھول تھے بہاروں کے
وہ خواب تھے ستاروں کے
وہ جان تھے ہزاروں کے
جنہیں ٹہنی پر ابھی سجنا تھا
جن کی خوشبیو پھیل جانی تھی
جن کے پروان چڑھنے سے
مہک جاتا چمن سارا
خزائوں میں بہار آتی
جن کے مضبوط شجر سے
ابھی طوفانوں نے ٹکرانا تھا
جن کی نازک ٹہنیوں سے
ہوا نے بھی گزرنا تھا
ان گلابوں کی خوشبو
پھیلنی تھی چار سو
مگر وائے نصیب…!
میرے وطن تیرا
جہاں خوشبو ہونی تھی
پھولوں کی
وہاں خوشبو آتی
خونوں کی
میرے وطن…!
کیسی خزاں آئی
سب کچھ لٹ گیا تیرا
سب کچھ لٹ گیا تیرا

غزل فاطمہ…

نظم
سنو ہمدم…!
ذرا ٹھہرو
میری اک بات سن جائو
سنو…
تم جارہے تو ہو مگر
یہ یاد رکھنا کہ
ہمارے دل کی یہ آنکھیں
دروازے پر رکھی ہیں

دعائے سحر… فیصل آباد

نظم
اسے کہنا
مجھے آزاد کردے
اپنی یادوں کے زندان سے
اپنی باتوں کے گل رنگ جہاں سے
اس کی یاد کا بے آواز رقص
میری ہستی میں کبھی تھمتا ہی نہیں
اور جاں گسل لمحہ انتظار کا بھی
اب تو کٹتا ہی نہیں
کہ سرد دوپہریں اور
راتوں کا مہیب سناٹا
اس کے خیالوں میں کٹنے لگا ہے
اور انتظار مسلسل سے
من میرا اب تو تھکنے لگا ہے
اسے کہنا…
اپنی یادوں کے زندان سے
مجھے آزاد کردے
پر سنو…
مجھے تو اس تھکن سے اب
چاہت سی ہوگئی ہے
اور اس کے انتظار سے
محبت سی ہوگئی ہے
نہیں کیونکر کہوں کہ وہ
’’مجھے آزاد کرو
تم یوں کہنا اسے
پھر سے لوٹ آئے مری زندگی میں
اور مجھے آباد کردے

مدیحہ ارم… ہری پور

نظم
میری تلاش میں نکلو تو یوں کرنا
سب سے پہلے شہر خموشاں کا رخ کرنا اور
وہیں مٹی کے کسی اداس ٹیلے کے قریب
مرجھائی ہوئی کلیوں کے جلو میں
سوکھی ہوئی گھاس تلے
کسی کتبے کے بنا
کسی تاریک گوشے میں
چراغوں کی روشنی سے بے نیاز
اک لاوارث قبر پر دعا مانگتے جانا
کہ یہ تمہاری چاہت میں مرجانے والی کی
التجا ہے
یا پھر آخری خواہش کہہ لو

لاریب انشال… اوکاڑہ

چاند
کل رات چاند کو میں نے
دیکھا تھا
چوہدویں کا چاند
بالکل مکمل تھا
لیکن…
بہت اکیلا تنہا سا تھا
شاید میں بھی
اس کی طرح
بہت اکیلی تنہا سی تھی
چاند کے اردگرد تھی
اور…
میرے اردگرد
تمہاری یادیں

سیدہ فائزہ رازق… گھڑی‘ سیداں

نظم
سنو اک بات کہنی ہے
مجھے تم سے محبت ہے
پر دیکھو تم ناراض مت ہونا
میری اس بات کو بھی تم
پرانی سب باتوں کی طرح
نظر انداز کردو گے
اک خفگی بھری نظر تم
میری طرف اچھال دو گے
پر جانتے ہو تم
کہ جب تم روٹھ جاتے ہو
منانا اچھا لگتا ہے
مگر میں جانتی ہوں سب
تمہیں تو بے زاری ہوتی ہے
میری ذات سے
میرے عشق سے
میرے لو دیتے جذبات سے
پر پھر مجھ کو یہ کہنا ہے
سنو…
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جب بھی صبح ہوتی ہے
کہ جب بھی شام ڈھلتی
تیری یاد کے پھول
دل کے آنگن میں کھلتے ہیں
اک خواہش دل کے سمندر میں
بپھری موجوں کی مانند
دل کے اندر شور بپا کرتی ہے
اور تم سے یہ کہتی ہے
سنو مجھے تم سے محبت ہے
رُت بدلتی ہے جب بھی
میرا دل ایک سا رہتا ہے
یہ تیرا طلب گار سا رہتا ہے
مجھے ہر موسم ‘ ہرحال‘ ہر جگہ
بس تم سے یہ کہنا ہے
مجھے تم سے محبت ہے

شائستہ جٹ… چیچہ وطنی

غزل
چند تہمتیں جو ہمارے سر ہیں
مہر ہیں یا کوئی قہر ہیں
سیاہ مقدر کی سیاہ گھٹائیں
کسے خبر ہے؟ کس کے گھر ہیں
کس کو فرصت ہے ہم سے پوچھے
ہمیں کو لاحق غم دہر ہیں
تم اپنے محلوں میں خوش رہو
ہم تو برسوں سے دربدر ہیں
اسے یہ جاکے کوئی بتادے
ہم بھی جلتے شام و سحر ہیں
یا تو ہے سب قیاس آرائی
یا تمہارے بھی کان ادھر ہیں
خود بتایا ہے تم نے سب کو
کب بولتے یہ بام و در ہیں
کوئی چنداؔ کیوں جھوٹ بولے
جھوٹ کی عمریں تو مختصر ہیں

چندا چوہدری… حویلیاں‘ ڈپو گیٹ

غزل
نہیں پھول ہمیں خار ملتے ہیں
راستے سبھی دشوار ملتے ہیں
عشق و وفا کے تذکرے میں
غم ہجر بار بار ملتے ہیں
بیچو وفا شوق سے یہاں
خریدار وفا بے شمار ملتے ہیں
دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے
لوگ ایسے بہت سر بازار ملتے ہیں
نہ گھبرا کڑی دھوپ سے حراؔ
راہِ شوق میں کہاں اشجار ملتے ہیں

حرا رمضان… اختر آباد

غزل
زلفیں با کمال تیری
یہ چہرہ بے مثال تیرا
زمانہ چاہے لاکھ کہتا رہے
مگر نہیں ہے یہ غلط خیال میرا
کہہ بیٹھا ہوں ضد میں الوداع اس کو
مجھے سونے نہیں دیتا اب ملال میرا
میرے لفظوں میں دکھتے ہیں سب ہی رنگ اس کے
میرے لکھنے میں نہیں ہے کوئی کمال میرا
اک میں ہوں‘ کرتا ہوں ہر وقت ذکر اس کا
اک وہ ہے کہ سنتا ہی نہیں کوئی سوال میرا
چلو آئو دیکھتے ہیں صائمؔ
تو جلال میرا‘ میں جمال تیرا

ظہور احمد صائمؔ… مانگا منڈی‘ لاہور

محبت مرچکی ہے اب
بہت پہلے کی باتیں ہیں
تمہیں دل میں بسایا تھا
تمہارا نام لینے سے
ہمارا دل دھڑکتا تھا
تمہارے خواب دیکھے تھے
تمہیں پہروں بھی سوچا تھا
تمہاری آنکھ کے شیشے میں اپنا عکس دیکھا تھا
ہمارے لب جو ہلتے تھے
تمہارا نام لیتے تھے
تمہاری بات کرتے تھے
مگر جب ہم تھے مشکل میں
بہت ڈرتے تھے دنیا سے
تو تب اک آس کا جگنو
ہمیں تم میں ہی دکھتا تھا
ہمیں لگتا تھا رکھ لو گے
ہمیں سب سے چھپا کے تم
ہمارا ساتھ دو گے تم
ہمیں اک آس دو گے تم
مگر تم نے کیا‘ کیا جاناں!
ہمیں غم کے سمندر میں
اکیلا چھوڑ آئے تم
ہر رشتہ توڑ آئے تم
بہت مشکل کٹے وہ دن
بہت مشکل سے سنبھلے ہیں
حقیقت کو سمجھنے میں
بہت آنسو گرائے ہیں
اور اب جب مان بیٹھے ہیں
یہی ہے زندگی اپنی
تو اب تم لوٹ آئے ہو
’’تمہارا ساتھ دوں گا میں‘‘
یہ جملہ پھر سے کہتے ہو
تو اب خود ہی بتائو تم
یقین کیسے کریں گے ہم
تمہیں کیسے بتائیں اب
ہمیں اب بھول جائو تم
’’محبت مرچکی ہے اب‘‘

شفق راجپوت… گوجرہ

ریت کے گھروندے
بھولی بھالی نادان سی لڑکی
چاہت کے انجام سے
انجان سی لڑکی
اپنی پلکوں پر ہر پل نیا
اک خواب سجاتی ہے
ساحل کی گیلی ریت پر اک گھر بناتی ہے
اور اس گھر کے ہر اک ذرے پر
اسی کا نام لکھتی ہے
جسے چپکے چپکے سب سے چھپ کے
ٹوٹ کے چاہتی ہے
چاہت میں مگن ہوئے
پھولوں کے دیس میں
تتلی کے بھیس میں
خوشبو کے سنگ
ہوائوں میں اڑی جاتی ہے
یہ بھولی بھالی پاگل لڑکی بھلا کیا جانے کے
خواب تو بس خواب ہوتے ہیں
آنکھوں کا سراب ہوتے ہیں
دل پر بہت عذاب ہوتے ہیں
اور…
ریت کے گھروندے تو
وقت کی اک ہی ظالم موج سے ٹوٹ جاتے ہیں

علینہ اشرف… اسلام آباد

غزل
نہ تھا آغاز نہ انجام محبت
شب جو ہوا تھا انتقام محبت
آنکھوں نے تری مری آنکھوں کو
چپکے سے دیا پیغام محبت
کھونا چاہتا ہوں حواس اپنے
لبوں سے لگو اے جامِ محبت
یہاں دریا بہت گہرا ہے
یہاں دفن ہوگا کوئی نام محبت
اجڑ گئے زیدؔ ہاں اجڑ گئے
اجڑ گئے سبھی ناکام محبت
رانا محمد زید… ٹھیکری والا‘ فیصل آباد
بتائو کیسا لگتا ہے
بتائو کیسا لگتا ہے؟
کسی کو پاکے کھودینا
کسی کے ساتھ تو چلنا
مگر اس کا نہ ہوپانا
خود ہی کو کوستے رہنا
مگر اس کو نہ کچھ کہنا
خود ہی گرنا سنبھلنا
ہنسنا اور رو دینا
بتائو کیسا لگتا ہے کسی
کو پاکے کھودینا
خزاں کی سخت سردی میں
ہجر کی لمبی راتوں میں
کسی کی یاد میں رونا
کسی کو سوچتے رہنا
اور اپنی آنکھیں بند کرلینا
اور اندھیروں میں چلے جانا
بتائو کیسا لگتا ہے؟
نئے رشتوں میں رنگ جانا
مگر کسی کو بھول نہ پانا
بتائو کیسا لگتا ہے؟
کسی کو پاکے کھودینا

ثناء اعجاز… ساہیوال

غزل
کچھ ایسی زندگی کرنی پڑے گی
ہوا کی پیروی کرنی پڑے گی
شب ظلمت مٹانے کے لیے بھی
دلوں میں روشنی کرنی پڑے گی
سلیقہ ڈھونڈنا ہے دوستی کا
کسی سے دشمنی کرنی پڑے گی
کسی سے پھر محبت ہوگئی ہے
محبت آخری کرنی پڑے گی
کسی پتھر کی میں پوجا کروں گا
طبیعت کافری کرنی پڑے گی
نگاہِ فقر میں سب کچھ ملے گا
نگاہِ سروری کرنی پڑے گی
سفر کرنا پڑے گا کربلا کا
رقم ہر تشنگی کرنی پڑے گی
مرے نزدیک آتا جارہا ہے
جدائی سرسری کرنی پڑے گی

راشد ترین… مظفر گڑھ

غزل
ڈالی سے گل ٹوٹ گیا
ساتھ تیرا میرا چھوٹ گیا
ملے گا وقت تو پوچھیں گے
ہم سے کیوں وہ روٹھ گیا؟
جس لڑکی کی ماں مرجائے
اس کا میکہ چھوٹ گیا
ہر رشتہ اک شیشہ ہے
ٹھیس لگی اور ٹوٹ گیا
سپنا کب ہوتا ہے کسی کا
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گیا
کنولؔ ستارا قسمت کا
جانے کہاں اب ڈوب گیا

یاسمین کنول… پسرور

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close