Aanchal Dec 15

بیاض دل

میمونہ رومان

سباس گل… رحیم یار خان
تم سبب ہو میری اداسی کا
تم کو یہ بات تو پتا ہے نا…؟
سعدیہ رمضان سعدی… 186 پی
حرف حر ف رٹ کے بھی آگہی نہیں ملتی
آگ نام رکھنے سے روشنی نہیں ملتی
آدمی سے انسان تک آئو گے تو سمجھوگے
کیوں چراغ کے نیچے روشنی نہیں ملتی

پری… طور جہلم

ڈھونڈتے کیا ہو اُن آنکھوں میں کہانی میری
خود میں گم رہنا عادت ہے پرانی میری
بھیڑ میں بھی مل جائیں گے آسانی سے
کھویا کھویا سا رہنا ہے نشانی میری

ارم کمال… فیصل آباد

تیرے آنے کی امید بھی ہوچلی معدوم
نئے برس کا اہتمام ہے دسمبر آن پہنچا ہے
خنک رُت میں تنہائی بھی چوکھٹ پر کھڑی ہے
جاڑے کی اداس شام ہے‘ دسمبر آن پہنچا ہے

طیبہ سعدیہ عطاریہ… کھٹیالہ ‘ سیالکوٹ

مجھے کر عطا اے میرے خدا تو بہت بندہ نواز ہے
میری ہر صبح محتاج ہے تیری رحمتوں کے نزول کی

سامعہ ملک پرویز… خان پور‘ ہزارہ

یا اللہ میری ارض پاک کا قریہ قریہ
ہوسکون کا محور ہو امن کا گہوارہ
اس کے ہر خطے میں کریں خوشیاں راج
نہ ہوکوئی سانحہ پشاور جیسا دوبارہ

سویرا فیاض اسحاق مہیانہ… سلانوالی

پائوں پھیلائے تو نہ دیکھی چادر ہم نے
تجھ کو چاہا تو پھر اوقات سے بڑھ کر چاہا
زیست آسان بھی ہوسکتی تھی لیکن ہم نے
تیری چاہت کو ہر اک بات سے بڑھ کر چاہا

ام امتل مریم شاہین… گجرات

یارب یہ سال سب کی مسرت کا سال ہو
پیغام عیش لائے یہ عشرت کا سال ہو
آنسو کا سال ہو نہ یہ آہوں کا سال ہو
نغمے نئے سنائے بہاروں کا سال ہو

جویریہ ضیاء… ملیر‘ کراچی

منظر اداس ہے‘ پس منظر اداس ہے
گھر بھی اداس ہے‘ دیوار بھی در بھی اداس ہے
ہے دور تک اداسی کا یہ سلسلہ گیا
لگتا ہے میرے ساتھ دسمبر اداس ہے

جازبہ عباسی… دیول مری

اے دسمبر سن
میری عمر رواں میں کبھی نہ آنا
تیری سرد شاموں میں مجھے
کوئی بچھڑا ہوا بہت یاد آتا ہے

عائشہ پرویز… کراچی

ٹھنڈی ہوائیں کیا چلیں میرے شہر میں
ہر طرف یادوں کا دسمبر بکھر گیا

ارم وڑائچ… گجرات

سنا تھا زندگی مختصر ہے
پھر درد بے حساب کیوں؟

سدرہ سلیمان… شور کوٹ

لفظوں کی تمہید مجھے باندھنی نہیں آتی
کثرت سے یاد آتے ہو سیدھی سی بات ہے

تنہا… نامعلوم

میں تو خود سے ناراض ہوں
کسی اور کو کیا منائو…

شگفتہ خان… بھلوال

اگر اپنی قسمت لکھنے کا ذرا اختیار ہو مجھے
تو اپنے نام کے ساتھ تجھے بار بار لکھوں

فرحت اشرف گھمن…سید والا

کتابوں میں رکھ کے سلا گیا ہم کو
آنکھ بند تھی اوربھلا گیا ہم کو
کوئی عجیب مصور تھا جو بارشوں کے موسم میں
کچی دیوار پر بنا گیا ہم کو

حمیرا قریشی… لاہور

کرکے تمام تر کوشش بھی تم ناکام ٹھہرو گے
مجھے چاہنا آسان تھا بھولنا محال ہے

ماریہ وسیم … اللہ والا ٹائون‘ کراچی

کل تلک بہت بے کل تھے ہم غم دنیا کو سوچ کر
عشق الٰہی نے رات سے میرے سارے غم دھودیئے
وہ جو مخلص تھے مجھ سے میرے ساتھ ہیں اب تلک
جن میں کھوٹ تھا وہ خود ہی میں نے کھودیئے

سلمیٰ عنایت… کھلابٹ ٹائون شپ

خوشبو سے ہوائوں سے بھی ملتے نہیں کچھ لوگ
موسم کی ادائوں سے بھی ملتے نہیں کچھ لوگ
مل جائیں تو جیون کو سجادیتے ہیں
بچھڑ جائیں تو دعائوں سے بھی ملتے نہیں کچھ لوگ

پروین افضل شاہین… بہاولنگر

یہ سوچ کے غم کے خریدار آگئے
ہم خواب بیچنے سر بازار آگئے
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے ہر بار آگئے

ہاجرہ ظہور… پشاور‘ تاروجبہ

اٹھتے تھے جو قدم تیرے اللہ کے گھر کو
ناچار اب اٹھتے ہیں وہ بازار کی جانب
تم چھوڑ چلے کیا یونہی قرآن کی محبت
حق ہوگیا مغلوب اور باطل ہوا غالب

صائمہ ناز… پشاور‘ تاروجبہ

اب بھی الزام محبت ہے ہمارے سر پر
اب تو بنتی بھی نہیں ہماری‘ انُ کی
اقراء وسیم… اللہ والا ٹائون‘ کراچی
دل تو کسی اور ہی دیس کا پرندہ ہے سمیرؔ
سینے میں تو رہتا ہے مگر بس میں نہیں رہتا

پارس… چکوال

بس اک میری بات نہیں تھی‘ سب کا درد دسمبر تھا
برف کے شہر میں رہنے والا اک اک فرد دسمبر تھا
پچھلے سال کے آخر میں‘ حیرت میں تھے ہم تینوں
اک میں تھا‘ تنہائی تھی‘ اک بے درد دسمبر تھا

مہوش کلی… بورے والا

جانے سے پہلے کوئی دعا کر جائو
بھولی ہوئی محبت کو وفا کرجائو
جس سے زندگی حسیں لگنے لگے کلیؔ
ایسی کوئی چیز مجھے عطا کرجاؤ

نیلم ظہیر… کوٹلہ جام‘ بھکر

اس وقت رگ جاں پر بڑی چوٹ لگے گی
جب مجھ سے بچھڑ کر میرے ہم نام ملیں گے

فرحین عمران… کراچی

پھر دل کو ہوگئی ہے وہی راہ گزر عزیز
پھر آگئے فریب میں ہم مدتوں کے بعد

ملک تحسین حیدر… منچن آباد

حاجت نہیں تکلف کی میرے شعور کو
اقبال رہنما ہے بس اتنا ہی کافی ہے
اب وفا کی شمع جلانی ہے اے تحسینؔ
شعور کا عالم تو پہلے بھی کافی ہے

سنیاں و اقصیٰ زرگر… جوڑہ

مجھے اس طرح اپنی محبت میں مصروف کردے میرے اﷲ
مجھے سانس تک نہ آئے تیرے ذکر کے بغیر

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close