Aanchal Dec 15

رنگ زندگی کے

عنبرین ولی

چہار سو گہری خاموشی کا راج تھا۔ باہر برف گر رہی تھی اس نے کھڑکی سے پردہ سرکا کر باہر دیکھا‘ سفید ننھے ننھے برف کے گولے زمین پر گررہے تھے۔ پردہ برابر کرکے وہ آتش دان کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ بہت عرصے بعد اسے یوں پرسکون ماحول ملا تھا اور مطالعہ کرنے کا دل بھی چاہ رہا تھا۔ اس نے کتاب اٹھائی اور پہلا صفحہ کھولا‘ عمارہ احمد کا نام جگمگا رہا تھا‘ یہ کتاب اسے عمارہ نے تحفتاً دی تھی اور بڑی خوب صورت ہینڈ رائٹنگ میں پہلے صفحے کے بالکل آخری کونے میں اپنا نام لکھ دیا تھا۔
اس کا نام پڑھ کراس کے ہونٹ مسکرا اٹھے۔ عمارہ نے اسے یہ کتاب ایک ماہ پہلے دی تھی اور آج اسے فرصت ملی تھی کہ کتاب کھول سکے۔ اس نے پڑھنا شروع کیا۔ ناول بے حد دلچسپ تھا۔ پڑھتے پڑھتے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ پانچ گھنٹوں میں اس نے ناول پڑھ لیا تھا کہ ناول طویل نہ تھا۔ مسلسل ایک ہی زاویے سے بیٹھنے کے باعث اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ چلتے ہوئے اس نے پھر سے پردہ سرکایا اور باہر جھانکا۔ برف باری تھم چکی تھی۔ وہ گہری سانس لیتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ عمارہ احمد کا دیا ہوا تحفہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے دائیں ہاتھ پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ عمارہ بارہ بجے تک سو جاتی تھی۔ اس وقت وہ گہری نیند میں ہوگی یہ جاننے کے باوجود اس نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور پیغام لکھا۔
’’تمہارا دیا گیا ناول میں پڑھ چکا ہوں۔ اتنے خوب صورت تحفے کا شکریہ۔‘‘ اوراس کے نمبر پر بھیج دیا۔
اپنے کمرے میں آکر اس نے شانوں پر پھیلی چادر اتار کر سائیڈ پر رکھی۔ ہیٹر بند کیا کمرہ کافی گرم ہوچکا تھا۔ وہ بستر پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں۔ ذہن ودل عمارہ اور اس کے تحفے سے ہٹ چکے تھے۔ اب وہ‘ وہ ساری باتیں سوچ رہا تھا جو اسے بے چین رکھتی تھیں۔ وہ اس محبت کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کا وہ مستحق تھا‘ مگر اسے غیر مستحق قرار دے کر اس سے اس کی جگہ تک چھین لی۔ فقط اس کی معصومیت کے باعث اس سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی تھی مگر وہ غلطی اس کی زندگی کا ناسور بن چکی تھی۔ معافی طلب کرنے پر بس ایک گہری جامد خاموشی‘ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ آنکھوں کے کنارے گیلے ہونے لگے۔ انہی باتوں کو سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ غافل ہوگیا۔ ہر رات اس کی بھیگی آنکھیں نیند سے گلے ملتی تھیں۔
:…٭…’
’’تمہاری ماں نے اس ذمہ داری کو نبھانے سے انکار کردیا ہے‘ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ ذمہ داری تمہاری بڑی بھابی کو سونپ دوں۔ تم کیا کہتے ہو؟‘‘ چھٹیوں پر وہ گھر آیا تو شکیل صاحب نے خیریت دریافت کرنے کے بعد اس سے جو پہلی بات کہی وہ یہی تھی۔ وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
’’پاپا‘ میں نے ماما جان کی خوشی کی خاطر یہ کہا تھا کہ وہ میرے لیے اپنی پسند کی لڑکی تلاش کریں۔ اس گھر میں سب نے اپنی مرضی سے اپنی جیون ساتھی کا انتخاب کیا‘ یقینا ماما جان کے دل میں اپنی مرضی کی لڑکی کو بہو بنانے کی خواہش مچلتی رہی ہوگی۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے میں نے اپنی خوشی سے دستبردار ہونا چاہا تھا۔‘‘ اس کے آخری جملے نے انہیں بری طرح چونکایا۔
’’کیا مطلب ارمغان؟ کیا تم کسی کو پسند کرتے ہو؟‘‘ شکیل صاحب نے بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میں عمارہ احمد سے بہت محبت کرتا ہوں پاپا۔‘‘ اس نے دھیرے سے نرم لہجے میں اعتراف کیا۔
’’تو پھر تم نے… تمہارا دماغ خراب ہوگیا تھا؟‘‘ وہ غصے سے بولے۔
’’ماما جان نے کبھی زبان سے نہیں جتایا مگر میں جانتا ہوں کہ انہیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ ان کے کسی ایک بیٹے نے بھی شادی کے معاملے میں ان کی پسند کو اہمیت نہیں دی تھی۔ ان کو ارمان تھا کہ کوئی ایک لڑکی تو ایسی ہو جو خالصتاً ان کی پسند پر اس گھر کی بہو بنے مگر… بس اسی لیے میں نے عمارہ احمد سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا وہ بھی اکیلے۔ میری وجہ سے انہیں بہت بڑ اصدمہ جھیلنا پڑا‘ میں تو بس اتنا چاہتا تھا کہ میری ذات سے انہیں تھوڑی خوشی مل جائے اور میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہو۔‘‘ اس کی آواز بھیگنے لگی تھی۔ وہ مضبوط اور توانا مرد تھا مگر جب دل روئے تو آنسو تو بہتے ہی ہیں۔ شکیل صاحب بہت دیر تک کچھ بول ہی نہ پائے تھے۔
’’یہ سب کرنے سے تمہارے دل کا بوجھ کم تو ہرگز نہیں ہوگا۔ عمارہ کو خود سے الگ کرکے تم کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔‘‘ وہ گہری سانس بھر کر بولے۔
’’مگر ماما جان تو خوش ہوجاتیں۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولا۔
’’بہت اچھا ہوا جو تمہاری ماں نے تمہارے لیے لڑکی تلاش کرنے سے منع کردیا۔ دل ہی دل میں تو تم بھی شکر ادا کررہے ہوگے۔‘‘ وہ شرارتاً بولے۔ ارمغان نے خفگی سے انہیں دیکھا۔ وہ ہنس دئیے۔
’’میں عمارہ سے ملنا چاہتا ہوں کل ہی۔‘‘ وہ آرڈر دینے کے انداز میں بولے تو وہ ہنس پڑا۔
’’ٹھیک ہے میں اس سے بات کرلیتا ہوں۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا‘ اب وہ اپنی جیب سے موبائل نکال رہا تھا‘ اس کے لبوں پر چمکتی مسکراہٹ کو شکیل صاحب نے بہت غور دیکھا تھا۔
:…٭…’
عمارہ نے انہیں لنچ پر انوائٹ کیا تھا۔ وہ شکیل صاحب سے ملنے کے لیے بہت ایکسائیٹڈ تھی۔ ارمغان نے گھر سے نکلنے سے پہلے اسے بتادیا تھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہیں۔ وہ صبح سے ہی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی‘ ان کے آنے کا سن کر وہ کچھ اور بھی تیزی سے کام نمٹانے لگی۔ آدھے گھنٹے بعد ہی اسے دروازے پر بیل بجنے کی آواز سنائی دی۔ دروازہ اسی نے کھولا۔
’’السلام علیکم!‘‘ بہت اعتماد اور بھرپور انداز میں اس نے سلام کیا اور پھر سائیڈ پر ہوگئی تاکہ وہ اندر آسکیں۔
شکیل صاحب نے سلام کا جواب دیا جبکہ ارمغان عمارہ کو دیکھ رہا تھا۔ عمارہ نے سفید رنگ کا پوری آستینوں والا جوڑا پہن رکھا تھا‘ سر پر بڑا سا دوپٹہ نہایت سلیقے سے اوڑھ رکھا تھا۔ وہ حیران ہی رہ گیا۔ اس نے عمارہ کو آج پہلی بار اس لباس میں دیکھا تھا۔ حیران ہونا لازمی تھا۔ شکیل صاحب کو تو وہ پہلی نگاہ میں ہی پسند آگئی۔ انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر وہ کچن میں غائب ہوگئی۔ پانچ منٹ بعد وہ چائے کی ٹرے کے ساتھ آتی دکھائی دی۔
’’سردی کا موسم ہے‘ دل کرتا ہے بار بار چائے پی جائے۔‘‘ عمارہ نے مسکرا کر کہا اور ٹرے ٹیبل پر رکھ دی۔ ٹرے میں تین کپ تھے۔ دو میں سادہ چائے جبکہ تیسرے کپ میں کشمیری چائے تھی۔ کشمیری چائے سے بھرا کپ اس نے شکیل صاحب کے سامنے رکھا۔ انہوں نے مسکرا کر ارمغان کو دیکھا‘ وہ تو خود حیران بیٹھا تھا۔
’’عمارہ تمہیں یاد ہے کہ پاپا کو کشمیری چائے پسند ہے؟‘‘ وہ حیرت اور خوشی سے ملے جلے انداز میں بولا‘ وہ بس مسکرائی۔
’’آپ نے محض پانچ منٹ میں اتنی جلدی چائے کیسے تیار کرلی؟‘‘ وہ چائے کا کپ تھام کر حیرانگی سے بولے۔
’’اصل میں گھر سے نکلتے وقت انہوں نے مجھے میسج کرکے بتادیا تھا کہ آپ لوگ آرہے ہیں پھر میں نے ٹائم کے حساب سے چائے بنائی اور باقی کام بھی نمٹالیے تاکہ جب آپ لوگ پہنچیں تو چائے تیار ہو اور میں زیادہ وقت آپ سب کے ساتھ گزار سکوں۔‘‘ وہ مسکرا کر بے حد سادگی سے بول رہی تھی۔ وہ تو بس بے ہوش ہونے والا تھا۔ یہ عمارہ کون تھی؟ وہ گھر میں کام کرتی‘ کھانا پکاتی‘ مشرقی لباس پہنتی عمارہ کو تو ہرگز نہیں جانتا تھا‘ شکیل صاحب عمارہ سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہے۔ ان کے انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ انہیں عمارہ بہت پسند آئی ہے۔ وہ تو بس اس بدلی ہوئی عمارہ کو دیکھتا رہا۔
:…٭…’
ارمغان کے شدید اصرار پر وہ اس سے ملنے کے لیے راضی ہوئی تھی۔ وہ کوکنگ کلاسز لے رہی تھی‘ اور سارا وقت کچن میں گزارتی تھی‘ اسی لیے کسی سے ملنے کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا مگر پھر بھی وہ آگئی۔ ہلکے نیلے رنگ کی قمیص اور کھلا سا ٹرائوزر پہنے‘ سردی سے بچنے کے لیے اس نے ہلکے نیلے رنگ کی جرسی بھی پہن رکھی تھی۔ اس روز کی طرح آج بھی اس نے سر پر بڑے خوب صورت انداز میں دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ ارمغان اسے آتا دیکھ کر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ درمیانے درجے کا ریسٹورینٹ تھا‘ ارمغان کو دیکھ کر وہ تیزی سے اس کی سمت بڑھی۔
’’میں آج بہت مصروف تھی‘ بڑی مشکل سے ٹائم نکال کر آئی ہوں۔‘‘ وہ کرسی سنبھالتے ہوئے بولی۔
’’یہ سب کیا ہے عمارہ؟‘‘ وہ بے حد سنجیدہ لہجے میں بولا۔ ساری رات وہ اس کے اندر آنے والی اتنی بڑی تبدیلی کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔ عمارہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
’’تم نے اپنا لائف اسٹائل کیوں تبدیل کرلیا۔‘‘ وہ اتنا سنجیدہ تھا کہ عمارہ گھبرا گئی۔
’’ارمغان‘ کیا میں تمہیں اس طرح اچھی نہیں لگ رہی؟‘‘ وہ بری طرح پریشان ہوکر بولی۔ ارمغان نے بے اختیار اس کے سرد ہاتھ تھامے اور مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔
’’میں نے ایسا کب کہا کہ مجھے یہ سب اچھا نہیں لگا تم یہ سب کیوں کررہی ہو عمارہ؟ تم جیسی ہو مجھے قبول ہو۔ میں تمہیں تمہاری شخصیت بدلنے کو مجبور نہیں کررہا نہ میں ایسا چاہتا ہوں کہ تم خود کو بدلو۔ تم اول روز سے جس طرح سے رہ رہی تھیں تم اس میں ایڈجسٹ ہوچکی ہو۔ میری وجہ سے تم پریشان رہو مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ وہ نرمی سے بول رہا تھا۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
’’ارمغان تمہیں یاد ہوگا ایک بار میں اور تم شاپنگ کررہے تھے تو ہمارے قریب سے ایک لڑکی گزری تھی جس نے بڑا سا دوپٹہ اور اسکارف لے رکھا تھا۔ تم نے اسے نہایت احترام سے دیکھا تھا اور تب تم نے کہا تھا کہ عورت کا لباس ایسا ہونا چاہیے کہ مرد اسے دیکھتے ہی اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوجائے۔ یہ بات تم نے بالکل بے اختیار کہی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ تم بھی چاہتے ہو کہ میں مغربی لباس پہننا چھوڑدوں مگر زبان سے کبھی نہیں کہا۔ صرف میرے جذبات کا خیال کرکے۔ تمہاری پوسٹنگ کے بعد جب تم پہلی بار چھٹیوں پر آئے تب تم نے فیملی البم دکھائی مجھے‘ تمہارے گھر کی ہر عورت نے بہت خوب صورت لباس پہن رکھا تھا۔ تب میں نے سوچا کہ اگر میں اس گھر میں اس حلیے میں گئی تو ان سب کے دل میں میرے لیے کیسے جذبات پیدا ہوں گے؟ شکیل انکل اور تمہارے بڑے بھائی میری موجودگی میں شرمندگی محسوس کریں گے۔ خواتین نگاہ نہیں اٹھا پائیں گی اور میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہو‘ میں کبھی خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتی۔ تم میری محبت کی وجہ سے مجھے بدلنے کو نہیں کہتے تو کیا ہوا؟ میں تمہارے لیے اپنے دل میں موجود محبت کے احترام میں تو خود کو بدل سکتی ہوں ناں؟ تم شخصی آزادی کے قائل ہو‘ میں جیسی ہوں تمہیں ویسے قبول ہوں مگر تم سے منسلک لوگ میری وجہ سے ضرور برا محسوس کریں گے اور میری ذات کسی کے لیے تکلیف کا باعث بنے میں کبھی ایسا نہیں چاہوں گی۔ اگر پاپا مجھے جینز اور اس چپکی ہوئی شرٹ میں دیکھتے تو وہ کبھی بھی مجھ سے مل کر خوش نہ ہوتے۔ وہ جو اتنے ریلیکس اور مطمئن ہوکر مجھ سے باتیں کررہے تھے اس طرح کبھی نہ کر پاتے۔ میں نے ان کی پسند کی چائے بنائی اس چیز نے انہیں کتنا خوش کیا‘ بس ان کی خوشی کے لیے میں نے تھوڑی سی محنت کی۔ میری اس ذرا سی محبت اور تبدیلی نے وہ دیا جس کے لیے میں ساری عمر ترستی رہی ہوں ارمغان۔ پاپا نے جاتے وقت جو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی اور میرے ہاتھ میں انعام کے طور پر پیسے رکھے ان کی اہمیت مجھ سے پوچھو۔ اس دعا اور اس محبت کے لیے میں برسوں ترسی رہی ہوں۔‘‘ وہ بغیر رکے بول رہی تھی اس کا گلا رندھ گیا تھا۔ ارمغان خاموشی سے اسے سن رہا تھا۔
’’جب پاپا نے دوسری شادی کرنے کے لیے ممی کو طلاق دے دی تھی۔ ا س وقت میں تیرہ سال کی تھی‘ جب ممی پاپا الگ ہوئے‘ مجھے ممی نے اپنے پاس رکھ لیا‘ پاپا ہر ماہ میرے اور ممی کے لیے خرچہ بھیجتے تھے۔ ممی پاپا سے بہت محبت کرتی تھیں۔ ان کی بے وفائی نے انہیں بیمار کردیا تھا‘ سال بھر کے اندر اندر ان کا انتقال بھی ہوگیا تھا۔ میں پھر سے پاپا کے پاس آگئی جہاں میرے پاپا میری سیکنڈ مدر کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ بھی پاپا کی طرح بہت سوشل تھیں۔ پاپا نے پہلے بھی کبھی مجھے وقت نہیں دیا تھا مگر اب تو لمحہ بھر کے لیے بھی وہ مجھ سے نہیں ملتے تھے۔ جبکہ علیزے آنٹی تو مجھ سے سرے سے بات ہی نہیں کرتی تھیں۔ میرا وجود ان کے لیے رتی بھر اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ میرا سارا وقت تنہا گزرتا۔ بظاہر میں نے اس سارے ماحول کو قبول کرلیا تھا مگر میرے اندر ایک مکمل گھر میں رہنے کی خواہش زور پکڑنے لگی۔ میری دوستی ان لڑکیوں سے ہوئی جو جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ تھیں‘ ان کے گھر کی باتیں‘ ماں باپ کا پیار‘ دادا دادی کے دلار کے قصے سنتی… اور پھر یونیورسٹی لائف میں مجھے تم ملے‘ میں اس روز بہت اداس تھی‘ کلاس لینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ یونہی ٹہلنے لگی تو تمہاری باتوں نے میرا دھیان تمہاری طرف کھینچ لیا۔ تم اپنے دوست سے اپنے پاپا کی باتیں کررہے تھے۔ میں تمہاری باتیں سننے لگی۔ میں نے تم سے صرف اسی وجہ سے دوستی کی۔ میں بہت سوچ سمجھ کر تمہاری طرف بڑھی تھی‘ میں نے پہلے دن ہی سوچ لیا تھا کہ میں تم سے شادی کروں گی۔‘‘ ارمغان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا‘ وہ پہلی بار اسے یہ بات بتا رہی تھی۔
’’ہاں ارمغان تمہاری باتوں سے مجھے اندازہ ہوا تھا کہ تم اپنے گھر والوں سے بہت محبت کرتے ہو اور مجھے ایسے ہی گھر کی تلاش تھی۔ تمہاری شرافت تو ویسے بھی مشہور تھی مجھ سے دوستی کرتے وقت تم جھجکتے رہے مگر بالآخر ہم دوست بن ہی گئے تھے۔ جب تم نے مجھ سے اظہار محبت کیا تو مجھے اسی لمحے اداراک ہوا کہ میں بھی تم سے پیار کرنے لگی ہوں‘ بات اب ضرورت کی نہیں رہی تھی‘ اس میں محبت بھی شامل ہوچکی تھی اور آج میں تمہارے سامنے اس حلیے میں ہوں تو صرف تمہاری وجہ سے‘ جن لوگوں سے تمہیں محبت ہے‘ مجھے بھی ان سب سے محبت محسوس ہوتی ہے اور جن لوگوں سے تمہیں محبت ہو انہیں تکلیف کیسے دیں گے؟‘‘ وہ دھیرے دھیرے بولتی ارمغان کو اپنے بے حد قریب محسوس ہوئی۔ وہ اپنے سگے رشتے کی خاطر اسے چھوڑ رہا تھا مگر وہ… وہ تو محض اپنے دل کے رشتے کی وجہ سے اس کے لیے اتنا سب کررہی تھی۔ عمارہ نے جو بھی کیا اسے متاثر کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ صرف اور صرف اس کی محبت اس کے احترام میں کیا‘ وہ برملا کہہ سکتا تھا کہ وہ دنیا کا خوش قسمت ترین مرد ہے کیونکہ اس کے پاس عمارہ احمد ہے۔
:…٭…’
’’آپ نے بلایا تھا مجھے۔‘‘ وہ ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ زبیدہ بیگم موجود نہیں تھیں‘ وہ کچھ دیر پہلے گھر آیا تھا۔ شکیل صاحب نے اس کے لیے پیغام بھیجا کہ وہ ان سے آکر مل لے۔
’’بیٹھو!‘‘ وہ چشمہ اتار کر ٹانگیں سمیٹنے لگے۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گیا۔
’’اس روز میں عمارہ سے مل کر بہت خوش ہوا‘ مگر کیا تم مجھے یہ بتائوگے کہ اس کی فیملی کہاں ہے اور وہ اکیلی فلیٹ میں کیوں رہتی ہے؟‘‘ ان کا دل تو اس وقت بھی چاہا کہ وہ یہ سوال پوچھیں جب وہ عمارہ سے ملے لیکن پھر انہیں یہ سب مناسب نہ لگا۔
’’پاپا عمارہ کی مدر تو کافی سال پہلے گزر چکی ہیں۔ پچھلے سال اس کے پاپا کا انتقال بھی ہوگیا تو وہ اس فلیٹ میں رہنے لگی۔ اس کی اسٹیپ مدر موجود ہیں اور اس کے پاپا کے گھر میں ہی رہتی ہیں مگر عمارہ ان کے ساتھ ایزی فیل نہیں کرتی‘ اس لیے وہ اس گھر کو چھوڑ کر الگ رہنے لگی ہے۔‘‘ اس نے تفصیل بتائی۔
’’وہ الگ رہتی ہے مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں مگر یہ دنیا ہے‘ یہاں کے کچھ اصول ہیں اور ہم ان اصولوں کو فالو کرنے پر پابند بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے تمہید باندھی ارمغان بغور انہیں سن رہا تھا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ جب ہم اس کے گھر رشتہ لے کر جائیں تو اس کی اسٹیپ مدر موجود ہوں۔ وہ عورت بھلے ہی سوتیلی ہے مگر ہے تو اس کی ماں‘ ماں باپ کے انتقال کے بعد وہی اس کی وارث بھی ہیں۔ تم عمارہ سے پوچھ لو‘ اگر اسے اعتراض نہ ہو تو میں چاہتا ہوں کہ وہ شادی تک کے عرصے میں اپنے باپ کے گھر چلی جائے‘ بہرحال یہ تو رسم ہے کہ لڑکی باپ کے گھر سے ہی وداع ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے بات سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے پاپا‘ میں عمارہ سے بات کرکے آپ کو بتا دیتا ہوں لیکن میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے۔
’’پاپا‘ جس عمارہ سے آپ ملے میں بھی پہلی بار اس سے مل رہا تھا۔ صرف اس لیے کہ آپ کو برا محسوس نہ ہو اس نے مشرقی لباس پہنا اور اتنا بڑا دوپٹہ اوڑھا۔ وہ کھانا پکانا سیکھ رہی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اس نے سب سے پہلے کشمیری چائے بنانا سیکھی کیونکہ آپ کو پسند ہے۔ عمارہ نے جس ماحول میں وقت گزارا وہ بہت آزاد ہے‘ مگر صرف میری خاطر اس نے اپنے آپ کو بدل لیا۔ میرے بغیر کہے وہ میرے دل کی بات سمجھ گئی۔ مگر اس کی اسٹیپ مدر آج بھی ویسی ہی ہیں جیسی ایلیٹ کلاس کی بیگمات ہوتی ہیں۔ وہی لباس‘ وہی طرز گفتگو‘ وہی نشست وبرخاست کا انداز‘ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ ہم سے ملنا بھی پسند کریں گی کہ نہیں‘ کیونکہ ایک تو ساری عمر انہوں نے عمارہ کو کوئی اہمیت نہیں دی دوسری بات وہ یہ کہ دولت میں وہ ہم سے بہت اونچی حیثیت رکھتی ہیں۔‘‘ وہ بچپن سے ان کے قریب رہا تھا اسی لیے وہ ہر بات ان سے بلاجھجک کہہ دیتا تھا۔ ایک طرح سے ذہنی طور پر وہ انہیں تیار کررہا تھا کہ اگر انہوں نے ان سے اچھا رویہ نہ رکھا تو وہ گھبرائیں ناں۔
’’بیٹا! بات یہ ہے کہ عمارہ ان سے اس لیے دور ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کے رشتے کو قبول نہیں کیا مگر ان کے درمیان جو رشتہ ہے اس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوسکتی اور ماں کی موجودگی میں وہ باپ کے گھر سے رخصت نہ ہو یہ بات بہت غلط ہوجائے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ عمارہ کے آنے سے پہلے ہی کوئی فضول بات اردگرد گردش کرے اور بچی کو دکھ ہو۔ اگر علیزے بیگم ہم سے اچھا رویہ نہیں رکھتیں تو بھی کوئی بات نہیں‘ ہم برداشت کرلیں گے‘ ہوسکتا ہے کہ تم جو کچھ ان کے بارے میں سوچ رہے ہو وہ غلط ہو‘ ان کے گزشتہ رویے کو دیکھا جائے تو یہ امکان ہے مگر گزرتا وقت تو بہت کچھ بدل دیا کرتا ہے۔‘‘ وہ رسان سے بولے۔ ارمغان نے گہری سانس بھری۔
’’اگر گزرتا وقت بدلائو لاسکتا تو ماما جان کے رویے میں کچھ تو لچک پیدا ہوتی۔‘‘ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ شکیل صاحب نگاہ چرا گئے۔
’’تم تو اپنی ماں کو جانتے ہو بیٹا‘ ایک بار ان کے دل میں کوئی بات بیٹھ جائے تو بہت مشکل سے نکلتی ہے۔ انہیں وقت چاہیے‘ تم انتظار کرو‘ میں بھی انہیں سمجھاتا رہتا ہوں یقینا جلد ہی انہیں اس بات کا احساس ہوجائے گا کہ ان کا رویہ شدت پسند ہے۔‘‘ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیتے بولے۔ اس نے سر اٹھا کر عجیب نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’پاپا ایک بات بتائیں؟ میں ماما جان کی سگی اولاد ہوں ناں۔‘‘ اس کے لہجے میں عجیب سا درد تھا۔ شکیل صاحب نے بے اختیار اسے دیکھا۔
’’کیونکہ کوئی بھی ماں اپنی سگی اولاد کے ساتھ اتنا نفرت انگیز رویہ نہیں رکھ سکتی۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ وہ بول کر اپنی جگہ سے یک دم اٹھا۔ شکیل صاحب کچھ بول ہی نہیں پائے‘ وہ پلٹا تو دروازے پر زبیدہ بیگم کو کھڑا پایا۔ وہ شاید ابھی ابھی آئی تھیں۔ وہ موجود ہوتا تو وہ کمرے سے کم باہر نکلتی تھیں‘ اگر وہ ان کے کمرے میں آجاتا تو کسی اور کمرے میں بیٹھ کر اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرتیں۔ یقینا وہ اس کی موجودگی سے لاعلم تھیں اسی لیے آگئیں۔ ارمغان نے ایک نظر انہیں دیکھا اور بنا کچھ کہے باہر نکل گیا وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں۔
:…٭…’
اپنی ضرورت کی چیزیں اس نے بڑے سے بیگ میں ڈالیں اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئی۔ فلیٹ کو تالا لگا کر وہ بیگ گھسیٹتی نیچے پہنچی۔ وہ اپنے پاپا کے گھر جارہی تھی‘ ارمغان نے اس سے بات کرلی تھی اور وہ اس کی بات ٹالے ایسا تو ناممکن تھا۔ وہ اس گھر کی دیواروں سے ٹپکتی وحشت سے گھبرا کر بھاگی تھی اور اب صرف اور صرف ارمغان کی خاطر وہ اس گھر واپس جارہی تھی۔ علیزے بیگم کو اس نے فون کرکے بتادیا تھا کہ وہ واپس آرہی ہے‘ وہ اس کی واپسی کا سن کر بہت خوش ہوئیں۔ ان کی خوشی کی وجہ عمارہ کو سمجھ نہیں آئی۔ وہ تو اس سے فون پر ہی ساری تفصیل پوچھ لینا چاہتی تھیں‘ مگر اس نے جلدی سے اللہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔ وہ ان کے اتنے دوستانہ رویے پر شدید حیران تھی‘ گو کہ پہلے بھی ان میں روایتی دشمنی تو نہیں تھی مگر لاتعلقی تھی اور ان کا لہجہ اسے حیران کررہا تھا۔
ڈرائیو کرکے وہ گھر پہنچی۔ پورے ایک سال بعد اس نے یہاں قدم رکھا تھا۔ اس گھر سے اس کی ایک بھی خوش گوار یاد وابستہ نہیں تھی مگر پھر بھی اسے اچھا محسوس ہوا علیزے اس کی شدت سے منتظر تھی‘ اسے دیکھ کر ان کے لبوں پر بڑی خوب صورت مسکراہٹ پیدا ہوئی اور انہوں نے اسے خود سے لگالیا۔ وہ بس حیران ہوتی رہی۔
’’بہت اچھا کیا تم نے واپس آکر عمارہ۔‘‘ وہ سچے لہجے میں بولیں۔ ان کی عمر اس وقت پینتالیس سال تھی مگر وہ عمارہ سے بھی کم عمر دکھتی تھیں۔ عمارہ نے انہیں دیکھا‘ آج بھی وہ پہلے جیسی ہی تھیں‘ ان کی ڈریسنگ‘ ان کے سجنے سنورنے میں کوئی فرق نہیں آیا تھا مگر‘ چہرے پر خوشی مفقود تھی۔ وہ مسکراہٹ غائب تھی جو شوہر کی موجودگی میں ان کے چہرے پر سجی رہتی تھی۔ وہ جتنی بے باک اور ماڈرن تھیں مگر محبت کے معاملے میں کافی مشرقی رہیں۔ احمد صاحب سے پیار کیا تو بس ان سے ہی جڑی رہیں۔ ان کے جانے کے بعد بھی وہ یہیں رہائش پذیر تھیں۔ نہ جانے کتنے لوگوں نے انہیں پروپوز کیا مگر ان کا دل نہ مانا۔ ریڈ کلر کی ہائف بلائوز ساڑھی میں وہ آج بھی غضب ڈھا رہی تھیں۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی جبکہ علیزے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
’’تم نے واپسی کا فیصلہ کیا میں بہت خوش ہوں تمہارے آنے سے۔ لیکن وجہ بتائوگی کہ اچانک سے تم…؟‘‘ وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولیں۔ عمارہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’اور تم نے ایسی ڈریسنگ کب سے شروع کردی؟‘‘ انہوں نے اس کے کپڑوں کی طرف اشارہ کرکے حیرت سے کہا۔ ان کے لہجے میں صرف حیرت تھی اور بس۔
’’بس کچھ ہی دن ہوئے ہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر مختصراً بولی۔
’’کوئی خاص وجہ تو ہوگی کیوں؟‘‘ وہ شرارت سے بولیں تو عمارہ جھینپ گئی اور اثبات میں سر ہلادیا۔
’’اصل میں… میں شادی کرنے والی ہوں۔‘‘ وہ سکون سے بولی۔ علیزے کے لیے یہ خبر شدید حیرانی کا باعث تھی۔
’’ارمغان کی فیملی کافی مذہبی ہے۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ اپنے لباس کو تبدیل کرلوں‘ اگر مجھے اس گھر کو اپنا بنانا ہے تو ان کے رنگ میں رنگنا ہوگا۔ ارمغان نے مجھ سے کبھی نہیں کہا مگر مجھے لگا کہ مجھے اپنا حلیہ تبدیل کرلینا چاہیے اور میں اس گھر میں بھی صرف اسی لیے آئی ہوں تاکہ ارمغان کے پاپا کی خواہش پوری کرسکوں۔ ارمغان کے پاپا چاہتے ہیں کہ میری شادی اسی گھر سے ہو آپ کی موجودگی میں‘ آپ ہی میری بڑی ہیں‘ وہ سارے معاملات آپ سے ڈسکس کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس نے ساری تفصیل مختصراً بتادی۔ علیزے خاموش سی ہوگئیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ ارمغان کی محبت نے اسے کتنا تبدیل کردیا ہے۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں کتنا سوچ رہی ہے جن سے اس کا رشتہ بھی اب تک نہیں بنا اور ایک وہ ہیں اگر وہ اس سے محبت کرتیں تو آج یوں تنہا نہ ہوتیں۔ آج وہ اسے محض اپنی شادی کی اطلاع نہ دے رہی ہوتی‘ بلکہ ہر بات میں ان سے ان کی مرضی پوچھتی‘ ان کے اندر عجیب سا خالی پن اتر آیا تھا۔ وہ تو خوش ہوگئی تھیں کہ اس گھر کا خالی پن کم ہوجائے گا‘ احمد صاحب کے جانے کے بعد تو ان کی مصروفیات بے حد کم ہوگئی تھیں اکیلے جانے کو دل ہی نہ چاہتا تھا۔ انہوں نے گہری سانس بھر کر اس درو دیوار کو دیکھا اور سر جھکا دیا‘ دل میں ڈھیروں ملال اتر آئے تھے۔
:…٭…’
ارمغان کا قیاس قیاس ہی رہا‘ علیزے نے ان کی آمد پر خوب تیاری کروائی تھی۔ ارمغان نے شاید اسی لیے ان کے بارے میں منفی انداز سے سوچا تھا کہ اس عورت نے عمارہ کے ساتھ سرے سے کبھی کسی تعلق کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی تو پھر وہ جس لڑکی کو اہمیت کے قابل نہیں سمجھتی ہوں اس کے سسرالیوں سے وہ کیونکر خوش اخلاقی سے پیش آئیں گی؟ مگر وہاں پہنچ کر انہیں خوش گوار حیرت نے گھیر لیا تھا۔
علیزے نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ ان کے لباس کی وجہ سے عمارہ کو شرمندگی محسوس نہ ہو۔ وہ ساری عمر اس سے لاتعلق رہیں مگر اب نجانے کیوں ان کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے لیے کچھ کریں۔ بے حد خوب صورت جدید فیشن کے مطابق لمبی قمیص شلوار انہوں نے پہنا تھا صرف اس لیے کہ عمارہ خوش ہو اور وہ انہیں اس طرح دیکھ کر بے اختیار ان کے گلے لگ گئی تھی۔ وہ پہلی بار ان سے یوں قریب ہوئی تھی۔ ارمغان اور ان کی فیملی بھی ان سے مل کر بہت خوش ہوئی تھی۔ زبیدہ بیگم سارا وقت خاموش رہیں۔ البتہ شکیل صاحب اور گھر کے باقی افراد کافی خوش اخلاقی برت رہے تھے۔
’’آپ کو عمارہ نے ہماری آمد کی وجہ تو یقینا بتادی ہوگی۔‘‘ شکیل صاحب نے گفتگو کا رخ اصل موضوع کی سمت موڑا۔
’’عمارہ نے مجھے بتادیا تھا اور میں عمارہ کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں کہ اس نے اپنی زندگی کے لیے بہترین ساتھی اور ایک اچھا گھر منتخب کیا ہے۔‘‘ وہ عمارہ کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولیں۔
’’میرا اور عمارہ کا رشتہ اگر میں چاہتی تو بہت خوب صورت بن سکتا تھا مگر میں نے کبھی اس تعلق کو سرے سے کوئی اہمیت دی ہی نہیں نہ عمارہ نے کبھی ایسی کوئی کوشش کی۔ وہ ایسی کوئی کوشش کرتی بھی کیسے؟ میری وجہ سے اس کی ماں کو طلاق ہوئی‘ وہ بھلا ایسی عورت کو اپنی ماں کی جگہ کیسے دے سکتی تھی؟‘‘ ان کے لہجے میں شرمندگی تھی عمارہ نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا‘ وہ پہلی بار ایسی کوئی بات کررہی تھیں۔
’’اب جب اس کے پاپا بھی نہ رہے تو اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے۔ جو وقت گزر گیا وہ واپس نہیں آسکتا مگر جو وقت بچا ہے اسے تو ہم اچھا بناسکتے ہیں۔‘‘ ان کی بات پر ارمغان نے بے اختیار زبیدہ بیگم کی طرف دیکھا مگر وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہیں تھیں۔
’’آپ نے بہت اچھا کیا جو عمارہ کو اس گھر سے رخصت کروانے کا سوچا‘ اب جبکہ آپ لوگ مجھے عمارہ کی ماں کی حیثیت دے رہے ہیں تو میں بھی عمارہ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ اس کی شادی کی ساری تیاریاں میں خود کروں گی اور بہت دھوم دھام سے عمارہ کو اس گھر سے رخصت کروں گی۔‘‘ وہ مسکرا کر بولیں۔ عمارہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ دل نجانے کیوں بھر آیا تھا۔ شکیل صاحب کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ عمارہ بہانہ بنا کر اٹھ گئی۔ آج اپنی سگی ماں کچھ زیادہ ہی یاد آرہی تھی۔ اس نے ایک نظر لائونج میں لگی اپنے پاپا کی تصویر کو دیکھا اور کچن میں آگئی تاکہ آنسو بہا سکے۔
:…٭…’
دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں۔ بری کے سارے کپڑے بڑی بھابی نے اپنی پسند سے خریدے تھے ان کی چوائس بہت زبردست تھی۔ اپنی ہونے والی سب سے چھوٹی دیورانی سے وہ اس سلسلے میں ایک بار مل بھی آئی تھیں۔ ارمغان انہیں بہت عزیز تھا‘ اسی حوالے سے عمارہ بھی انہیں عزیز ہوگئی تھی۔ عمارہ کی عادتوں کی وجہ سے وہ اسے بہت پسند کرنے لگی تھیں۔ تاریخ طے ہونے کے چند دن بعد ہی گھر میں ڈھولک رکھ دی گئی۔ ارمغان کے چاروں بھائی اس کی بھابیاں‘ ان کے بچے‘ اس گھر کے آخری بیٹے کی شادی پر بہت پرجوش تھے‘ سوائے زبیدہ بیگم کے۔ گھر کے سب لوگ اس وقت لائونج میں جمع تھے۔ محلے کی چند لڑکیاں بھی موجود تھیں اور خوب ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ شور اور گانوں کی آواز بند کمرے کو چیرتی اندر آرہی تھی۔ زبیدہ بیگم کا نیچے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ڈھولکی ہی ہے کون سا مہندی کی رسم ہے جو میری شمولیت ناگزیر ہو۔ یہ ان کی سوچ تھی اسی لیے بیڈ پر دراز رہیں۔
’’آپ بھی نیچے چلیے۔‘‘ وہ انہیں دیکھتے ہوئے بے لچک لہجے میں بولے‘ مگر وہ ان سنی کرکے لیٹی رہیں۔
’’آپ پر کسی بات کا اثر ہوتا بھی ہے؟ خدا نے آپ کو نجانے کس مٹی سے بنایا ہے۔‘‘ ان کا جواب نہ پاکر وہ شدید غصے میں آگئے۔
’’اگر میری مریم زندہ ہوتی تو آج اس کی بھی ڈھولکی ہوتی۔‘‘ وہ ان کی بات پر ہک دک رہ گئے پھر یک دم ان کے اندر شدید اشتعال امڈ آیا۔
’’جو مر گئی ہے اس کے ارمان جاگ رہے ہیں اور جو زندہ ہے اسے آپ اپنے رویے اور تلخ باتوں سے جیتے جی مارنے پر تلی ہوئی ہیں۔ ایسی باتیں وہ بھی ایسے موقع پر کرکے آپ کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ وہ دھاڑ کر بولے۔
’’آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں‘ میری باتوں سے اسے مرنا ہوتا تو کب کا مرچکا ہوتا۔ بہت ڈھیٹ ہے وہ۔‘‘ زبیدہ بیگم نے شدید نفرت سے کہا۔ شکیل صاحب ساکت رہ گئے۔ کتنی دیر تو وہ کچھ بول ہی نہ پائے۔ انہیں شدید حیرت ہورہی تھی‘ ان کے اندر کتنی نفرت بھری ہوئی تھی۔ وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’تم کیسی عورت ہو؟ اپنے منہ سے اپنی پیدا کردہ اولاد کے بارے میں تم اتنی گھٹیا بات کیسے کرسکتی ہو‘ ایسی بات تم اپنے منہ سے نکال بھی کیسے سکتی ہو؟‘‘ ان کا دل تو جیسے کسی نے مٹھی میں دبالیا تھا۔ ارمغان کے اندر تو ان کی جان تھی۔ انہوں نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو جھنجوڑا۔
’’نفرت ہے مجھے ارمغان سے‘ سنا آپ نے۔ صرف ارمغان کی وجہ سے مجھ سے میری مریم دور ہوئی۔ قاتل ہے وہ میری مریم کا۔‘‘ وہ چلانے لگیں۔
’’ارمغان نے جو بھی کیا وہ ناسمجھی کی عمر میں کیا۔ وہ بہت معصوم تھا۔ تم یہ بات کب سمجھوگی؟‘‘ وہ ہزار بار کی دہرائی بات پھر سے دہرانے لگے۔
’’اس نے میری گود اجاڑ دی‘ میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتی۔ کبھی نہیں۔‘‘ وہ اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے بولیں۔ شکیل صاحب نے بے بسی سے انہیں دیکھا۔
:…٭…’
شکیل صاحب اور زبیدہ بیگم کی شادی بڑوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔ زبیدہ اکلوتی بیٹی‘ چار بھائیوں کی ایک بہن‘ اتفاق ایسا کہ پورے ددھیال میں وہ اکلوتی تھیں۔ ان کی کوئی پھپو نہ تھیں۔ دو چچا تھے ان کے بھی بیٹے ہی بیٹے تھے۔ ساری عمر سہیلی کو ترستی رہیں‘ ابا ایسے سخت ملے کہ باہر کسی لڑکی سے بھی دوستی نہ کرنے دی۔ دل کی باتیں دل میں ہی رہ گئیں‘ سہیلی کا ارمان دل میں ہمکتا رہتا۔
شادی ہوئی تو وہاں بھی نند نام کی کوئی شے نہ تھی۔ شکیل صاحب اکلوتے بیٹے‘ یہاں بھی وہ افسوس میں رہیں کہ ایک نند تک نہ ملی۔ ساس سے اچھے تعلقات تھے مگر بے تکلفی نہ تھی۔ بہت سی باتیں کہنے کی خواہش رکھتے ہوئے بھی وہ خاموش رہ جاتیں۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی انہیں خوش خبری ملی کہ وہ ماں بننے والی ہیں۔ ساس تو یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئیں۔ اکلوتے بیٹے کی اولاد کو کھلانے کا ارمان بھی شدید تھا۔ شکیل صاحب کو معلوم ہوا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے۔
’’آپ کیا چاہتے ہیں‘ خدا ہمیں کیا دے؟‘‘ وہ شرماتے ہوئے ان سے ان کی خواہش جان رہی تھیں۔
’’جو بھی اللہ عطا کرے‘ وہ دینے والا ہے اور ہم لینے والے‘ تم بتائو کیا چاہتی ہو؟‘‘ انہوں نے بھی پوچھ لیا۔
’’مجھے تو بیٹی کا شدید ارمان ہے‘ آپ کو تو پتا ہے کہ میرے پورے ددھیال میں لڑکیوں کی کتنی قلت رہی ہے۔ ابا نے اتنی سختی رکھی کہ کسی سے دوستی تک نہ رکھنے دی۔ ہمیشہ بہن کے رشتے کو ترسی‘ سہیلی کے بغیر ساری عمر گزار دی۔ بیٹی آجائے تو شاید دل کو کچھ اطمینان ہو۔‘‘ ان کی حسرت پر وہ محض مسکرائے۔ وہ تو بس یہی سمجھے تھے کہ انہیں بیٹی کا ارمان ہے‘ مگر یہ سمجھنے میں انہیں دیر لگی کہ یہ محض ارمان نہیں ہے۔
پہلے بیٹے‘ عدنان کی پیدائش پر وہ سخت دکھی تھیں مگر پہلی پہلی بار ماں بننے کا احساس دکھ پر غالب آگیا۔ بیٹی کی خواہش میں اگلے سال ارمان اور پھر اس سے اگلے سال عمران کی آمد ہوئی۔ بیٹوں کو پاکر وہ ذرہ بھر بھی خوش نہ تھیں۔ ان کی صحت خراب ہورہی تھی مگر بیٹی کی خواہش انہیں اپنی صحت سے بے پروا کردیا تھا۔ عمران کے سال بھر کے ہونے کے بعد منیب پیدا ہوگیا۔ تین سال بعد ارمغان پیدا ہوا‘ ارمغان کے نقوش ان کی ماں جیسے تھے اور کچھ اس کی حرکتیں اتنی پیاری تھیں کہ وہ اسے بہت پیار کرتیں۔ اپنی ساری اولادوں میں سب سے زیادہ ارمغان سے ہی انہوں نے پیار کیا‘ ارمغان پانچ سال کا ہوا تو انہیں پھر سے خوش خبری ملی۔ شکیل صاحب بری طرح خائف ہوئے مگر کچھ نہ بولے۔ زبیدہ بیگم دن رات بیٹی کی دعائیں کرتیں۔ ان کی طبیعت بھی خراب رہتی تھی۔ ارمغان ان سے اتنا قریب ہوگیا تھا کہ کسی اور سے بہلتا ہی نہ تھا۔ زبیدہ بیگم کی خراب طبیعت کے پیش نظر وہ ارمغان کو سنبھالنا چاہتے مگر وہ ماں کے سوا کسی اور کے پاس جانا چاہتا ہی نہیں تھا۔ خراب طبیعت اور ارمغان نے انہیں چڑچڑا کردیا تھا۔ وہ ہر بار بیٹی کی دعا مانگا کرتی تھیں مگر دعا قبول نہ ہوئی۔ اس بار خدا نے ان کا ارمان پورا کردیا۔ مریم پیدا ہوئی تو وہ نجانے کتنی دیر تک بے یقینی کی کیفیت میں رہیں۔ خوشی کی شدت نے ان کی زبان ہی بند کردی تھی۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ ان پر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔
مریم اس گھر کی پہلی بیٹی تھی‘ پورا گھر خوشی سے جیسے پاگل ہوگیا تھا۔ سوائے ارمغان کے۔ جب سے مریم پیدا ہوئی تھی وہ بری طرح نظر انداز ہورہا تھا۔ ہر کوئی مریم مریم کرتا رہتا۔ زبیدہ بیگم تو جیسے مریم کی ہوکر رہ گئی تھیں۔ چاہے ساری دنیا اس سے دور ہوجاتی مگر وہ جس سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا‘ وہی اسے بھول بیٹھی تھیں۔ وہ تو ہر شے کو بھول گئی تھیں۔ مریم ذرا سا روتی تو وہ بے تحاشا گھبرا جاتیں۔ اسے ذرا سی تکلیف ہوجاتی تو ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے۔ ان کی اس درجہ دیوانگی پر شکیل صاحب کبھی مسکرا دیتے تو کبھی جھنجلا جاتے۔ پورا گھر ڈسٹرب ہوکر رہ گیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ زبیدہ بیگم پہلی بار سالوں بعد ماں بنی ہیں اسی لیے ان سے یہ خوشی سنبھالے نہیں جارہی۔
ارمغان بری طرح سے نظر انداز ہورہا تھا‘ اس بات کو وہ محسوس ہی نہیں کررہی تھیں۔ ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ بستر گیلا کردیتا‘ عجیب وغریب حرکتیں کرتا‘ ارمغان کی ان حرکتوں کا مطلب سمجھنے کے بجائے وہ الٹا اس سے زچ ہوجاتیں‘ اسے مارتیں‘ وہ معصوم سا بچہ تو بس اتنا سمجھ رہا تھا کہ ان کے گھر آنے والی اس مریم نے اس سے اس کی ماما جان کو چھین لیا ہے اور اسے اپنی ماما جان کو واپس پانا ہے‘ ان کا پیار‘ ان کی توجہ مریم پر سے ہٹا کر خود پر لانی ہے۔
:…٭…’
’’مہک کیا تم ایک دن کے لیے مجھے اپنی یہ ریڈ والی فراک دوگی؟‘‘ چھ سالہ ارمغان اپنی کلاس فیلو اور پڑوسن سے اس کی فراک مانگ رہا تھا۔
’’میری فراک تمہیں کیوں چاہیے؟‘‘ مہک بھی اس کی ہم عمر تھی اور بلا کی ذہین‘ گھور کر بولی‘ وہ فراک اس کی پسندیدہ ہے پھر بھی وہ ایسی بات کررہا ہے‘ مہک کو غصہ آگیا۔
’’تمہیں تو معلوم ہے کہ ہمارے گھر نئی منی آئی ہے‘ وہ نئی منی اتنے کلر فل ڈریس پہنتی ہے کہ ماما جان کو میں نظر ہی نہیں آتا۔ ان کلر فل ڈریسز کی وجہ سے ماما جان اس سے بہت پیار کرتی ہیں۔ تم مجھے اپنی وہ والی فراک دے دو‘ میں ایسی ڈریس پہنوں گا تو ماما جان پھر سے مجھ سے پیار کرنے لگیں گی۔‘‘ وہ اپنی سمجھ کے مطابق وجہ تلاش کررہا تھا۔
’’مگر تم تو بوائے ہو ناں‘ بوائز تو ایسی ڈریس کبھی نہیں پہنتے۔‘‘ اسے پھر سے اعتراض ہوا۔
’’مجھے بھی پتا ہے کہ بوائز فراک نہیں پہنتے مگر میں تو صرف ماما جان کی وجہ سے فراک پہنوں گا ناں‘ جب سے مریم آئی ہے ماما جان نے مجھے پیار تک نہیں کیا اور نہ ہی مجھے اپنے پاس سلاتی ہیں۔ دیکھنا تم جب میں یہ فراک پہن کر جائوں گا ناں تو وہ مجھ سے بہت پیار کریں گی۔‘‘ ارمغان کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔ مہک نے اس کے آنسو صاف کیے اور اسے اپنے کمرے میں لائی اور فراک اسے پکڑادی۔
’’تم یہ فراک پہنو‘ میں اپنی ریڈ والی لپ اسٹک اور پونیاں بھی لے کر آتی ہوں۔ میں جب بھی یہ پہنتی ہوں ناں ممی‘ مجھے لپ اسٹک بھی لگاتی ہیں اور پونیاں بھی باندھتی ہیں۔‘‘ وہ بول کر دراز کھنگالنے لگی۔ اس نے فراک پہنی‘ مہک نے اپنی سمجھ کے مطابق اسے لپ اسٹک لگائی اور پونیاں بھی باندھ دیں۔ بڑی بڑی آنکھوں اور سرخ سرخ گال‘ فراک پہنے وہ لڑکی لگ رہا تھا۔
’’اب چلو تمہاری ماما جان کے پاس چلتے ہیں مگر چپکے سے ممی اپنے روم میں ہیں انہوں نے دیکھ لیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی‘ دوپہر کا وقت تھا۔ لائونج بھی خالی تھا‘ وہ آرام سے نکل آئے۔ گھر پہنچے تو وہاں بھی سکون تھا۔ سارے بچے مسجد گئے ہوئے تھے۔ دادی بھی اپنے کمرے میں تھیں۔ مہک نے اس کی بیسٹ فرینڈ ہونے کا پورا پورا حق ادا کیا تھا۔ وہ اسے بیسٹ آف لک بول کر بھاگ گئی جبکہ وہ ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
’’ماما جان!‘‘ دروازہ کھول کر اس نے سر اندر گھسا کر کہا اور پھر اندر آگیا۔ زبیدہ بیگم بیڈ پر دراز تھیں ان کی آنکھیں بند تھیں۔ مریم ان کے برابر لیٹی سو رہی تھی۔ ارمغان نے پھر سے انہیں پکارا تو انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ارمغان نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔ وہ رات بھر کی جاگی ہوئی تھیں۔ مریم بیمار تھی‘ پریشانی اور نیند کی کمی نے انہیں چڑچڑا بنادیا تھا اور ان چند دنوں میں ارمغان نے انہیں اتنا بیزار کردیا تھا کہ وہ اس سے حددرجہ عاجز آچکی تھیں۔ اس کا یہ حلیہ دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہوگئی تھیں۔ انہیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ ان کے چلانے سے مریم جو بڑی مشکل سے سوئی ہے جاگ جائے گی‘ ارمغان کو انہوں نے مار مار کر ادھ موا کردیا تھا۔ ارمغان کا رونا اور مریم کا سوتے سے جاگ کر چلانا سن کر دادی بھاگتی ہوئی آئیں کچھ لمحے تو وہ بھی ارمغان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں پھر ارمغان کو ان سے چھڑا کر زبیدہ بیگم کو ٹھیک ٹھاک سنا کر اسے اپنے کمرے میں لے آئیں۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھیں کہ اس نے یہ سب کیوں کیا؟ مگر وہ بلک بلک کر رو رہا تھا اسے روتا دیکھ کر ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اس کا چہرہ بالکل سرخ ہوگیا تھا۔ اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشان چھپ گئے تھے۔ انہوں نے ارمغان کو خود سے بھیچ لیا۔
شکیل صاحب کی واپسی پر وہ انہیں زبیدہ بیگم کے غیر متوازن رویے کی بابت بتانا چاہتی تھیں تاکہ وہ انہیں سمجھائیں مگر ان کو تھکا ہوا دیکھ کر وہ خاموش ہوگئیں۔ مریم کی خرابی طبیعت کی وجہ سے ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ ان کی حالت دیکھ کر وہ چپ ہی رہیں۔
:…٭…’
اس پٹائی کے بعد سے تو ارمغان مریم کا پکا دشمن بن گیا تھا۔ اگر مریم کمرے میں اکیلی ہوتی تو وہ چپکے سے جاکر اسے کاٹتا‘ مارتا‘ زبیدہ بیگم پھر اس کی پٹائی کردیتیں۔ انہوں نے اسے مریم کا رشتہ سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر وہ اسے سمجھاتیں کہ وہ اس کی چھوٹی بہن ہے‘ اسے اس سے پیار کرنا چاہیے اپنی محبت کا احساس دلاتیں کہ وہ آج بھی اسی کی ماما جان ہیں مگر ساتھ ہی مریم کی ماما جان بھی ہیں تو یقینا ارمغان کے دل میں اتنی نفرت پیدا نہ ہوتی۔ ایک رات یونہی ان سے پٹنے کے بعد وہ دادی کی گود میں گھسا روئے جارہا تھا۔ اس گھر کا وہ واحد بچہ تھا جو زبیدہ بیگم سے اتنے تسلسل سے پٹ رہا تھا۔ وہ اسے مسلسل چپ کروانے کی کوشش میں تھیں مگر وہ روئے جارہا تھا۔
’’دیکھو‘ اب اگر تم خاموش نہ ہوئے تو میں تمہیں کالی چڑیل کے پاس بھیج دوں گی۔‘‘ انہوں نے اسے ڈرایا۔
’’کالی چڑیل‘ وہ کیسی ہوتی ہے؟‘‘ وہ رونا بھول کر حیرت سے سوال پوچھنے لگا۔ وہ مسکرائیں۔
’’کالی چڑیل بالکل کالی ہوتی ہے‘ اس کی سرخ سرخ بڑی بڑی آنکھیں ہوتی ہیں۔ لمبے لمبے دانت اور لمبے لمبے ناخن ہوتے ہیں۔‘‘ وہ اسے حلیہ بتانے لگیں۔
’’کالی چڑیل کیا کرتی ہے؟‘‘ وہ ڈرنے کی بجائے سوالات پوچھنے لگا۔
’’جو بچے ممی کو تنگ کرتے ہیں ناں اور بہت روتے ہیں وہ انہیں اٹھا کر لے جاتی ہے اور ان کا گلا دبا دیتی ہے۔‘‘ دادی کی بجائے عدنان نے جواب دیا جو ان کے پاس ہی جڑ کر بیٹھا تھا۔ وہ سہم سا گیا مگر لمحے بھر کے لیے۔
’’گلا کیسے دباتے ہیں؟‘‘ ارمغان نے پھر سے سوال کیا عدنان چڑ گیا۔
’’ایسے…‘‘ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر رکھے اور ہلکا سا دبائو ڈالا۔
’’گلا دبانے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ عدنان بال نوچنے لگا۔ دادی ہنس پڑیں۔
’’گلا دبانے سے بندہ مر جاتا ہے۔ پھر اسے مٹی میں دفنا دیتے ہیں۔‘‘ عدنان نے جواب دیا‘ ارمغان کی توجہ رونے سے ہٹ گئی تھی۔
’’دفنانے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ دادی نے اسے خود سے لپٹا لیا۔ اس کے سوال سنگین ہوتے جارہے تھے۔
’’جسے ایک بار دفنایا جائے تو وہ پھر کبھی واپس نہیں آتا۔‘‘ دادی کے گھورنے کے باوجود عدنان بول پڑا۔
انہیں نہیں معلوم تھا کہ اسے بہلانے کے لیے دیئے جانے والے جوابات اس کے دماغ پر کس طرح اثر کریں گے۔
:…٭…’
چند دنوں میں وہ ہوگیا جس کے ہونے کا کسی کو گمان تک نہ تھا۔ مریم کو سلا کر زبیدہ بیگم کچن میں آگئیں تاکہ کھانا پکا سکیں۔ بچوں کے آنے سے پہلے کھانا تیار ہوگیا تھا‘ ارمغان کی چھٹی پہلے ہوجایا کرتی تھی‘ اسکول گھر سے قریب ہی تھا۔ اسے دادی لے کر آیا کرتی تھیں۔ دادی ہی اسے اسکول چھوڑنے جایا کرتی تھیں۔ اسکول سے آکر اس نے کپڑے تبدیل کیے اور زبیدہ بیگم کے کمرے میں آگیا۔ مریم سوئی ہوئی تھی۔ اٹیچ باتھ سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ وہ نہایت خاموشی سے بیڈ پر چڑھ گیا۔
’’تم کتنی گندی ہو۔ کالی چڑیل سے بھی زیادہ گندی۔‘‘ ارمغان نے نفرت سے اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔ مریم گھبرا کر جاگ گئی۔
’’تم نے میری ماما جان کو مجھ سے چھین لیا۔ آئی ہٹ یو۔‘‘ اس کی آنکھیں ڈبڈبائیں۔ پھر اس کے بال نوچے وہ رونے لگی۔
’’شٹ اپ‘ چپ کر جائو۔ ورنہ میں تمہارا گلا دبا دوں گا۔‘‘ یہ جملہ ادا کرتے جیسے اس کے ذہن میں جھماکا ہوا تھا۔
گلا دبانے سے بندہ مر جاتا ہے… اسے مٹی میں دفنا دیا جاتا ہے… پھر وہاں سے کوئی واپس نہیں آتا… اس کے چاروں طرف عدنان کی آواز گونج رہی تھی۔
گلا کیسے دباتے ہیں…؟
’’ایسے…‘‘ اسے اپنے گلے پر عدنان کے ہاتھوں کا دبائو محسوس ہوا۔ اس کے ننھے ہاتھ روتی مریم کے قریب بڑھنے لگے پھر کوئی واپس نہیں آتا… بندہ مرجاتا ہے… مٹی میں دفنا دیا جاتا ہے… اس نے اپنے چھوٹے سے جسم کی ساری طاقت اپنے ہاتھوں کو دے دی تھی۔ مریم کی آنکھیں باہر کو ابل آئی تھیں۔ واش روم کا دروازہ کھلا تھا۔ ارمغان نے گھبرا کر اس سمت دیکھا۔ اس کے ہاتھ اب بھی مریم کی گردن پر تھے۔
تبھی دادی ارمغان کو دیکھنے کمرے میں آئی تھیں وہ کافی دیر سے انہیں دکھائی نہیں دیا تھا۔ اسے دیکھ کر تو وہ بھی منجمد ہوگئیں۔ مریم کا ساکت وجود‘ ارمغان کا پسینے سے تر چہرہ‘ اور واش روم کے دروازے پر کھڑی ساکت زبیدہ… انہیں لگا ان کا دل بند ہوجائے گا۔
:…٭…’
وہ دلہن بنی پور پور سجی پھولوں سے بھرے بیڈ کے عین وسط میں براجمان تھی۔ اس کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ بروکن فیملی کے ممبر کو آج ایک پورا خاندان مل گیا تھا۔ محبتوں کو ترسی ہوئی وہ لڑکی خوشی سے چھلکتے آنسوئوں کو بار بار صاف کررہی تھی۔ اتنی خوش تھی وہ کہ اس نے زبیدہ بیگم کے رویے کو محسوس کیا ہی نہیں تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ بالکل سیدھی ہو بیٹھی۔ وہ کبھی بھی شرمیلی نہیں رہی تھی‘ مگر آج اسے شرم آرہی تھی۔ ارمغان مناسب قدم اٹھاتا اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ آف وائٹ شیروانی جس پر سرخ کام کیا گیا تھا۔ پہنے ہوئے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اس کا بڑا دل چاہ رہا تھا کہ وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھے کہ وہ دلہا بنا کیسا لگ رہا ہے؟ مگر اس کی ہمت نہ ہوئی۔ اب بھی وہ شرمائی لجائی گہرے سرخ رنگ کے لہنگے میں نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی۔ ارمغان نے اس کے مہندی سے سجے ہاتھوں کو تھام لیا۔
’’آئی لو یو عمارہ…‘‘ گو کہ وہ پہلے بھی اس سے اظہار کرچکا تھا مگر اسے یوں لگا جیسے اس کے کان پہلی بار یہ الفاظ سن رہے ہوں۔ وہ اندر تک سرشار ہوگئی اور مسکرائی۔
’’آج تو تم میرے تصور سے بھی کہیں زیادہ حسین لگ رہی ہو۔‘‘ وہ لو دیتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔ اس کا سر مزید جھک گیا۔ ارمغان کو وہ شرماتی اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ اس کا جی چاہا وہ اسے دیکھتا رہے۔ یہاں اسے منع کون کررہا تھا۔ وہ بھی جی بھر کر اسے دیکھنے لگا۔ عمارہ نے اسے خاموش دیکھ کر سر اٹھایا اور پھر جھکا دیا۔ وہ ہنس پڑا۔
’’عمارہ‘ تم میری بیوی بن چکی ہو۔ میری بہترین دوست‘ محبوبہ اور بیوی بھی‘ اسی لیے آج میں تم سے کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ تمہید باندھ رہا تھا۔ عمارہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا‘ چہرے پر گہری سنجیدگی طاری کیے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
’’میں نے چھ سال کی عمر میں اپنی چھوٹی تین ماہ کی بہن کا گلا دبا کر اسے مار ڈالا تھا۔‘‘ ارمغان نے بڑی مشکل اور تکلیف سے سچائی کا اعتراف کیا۔ عمارہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ اسے بتاتا رہا وہ شاک میں تھی۔
’’میرے غصے اور نفرت نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا‘ مریم کی ڈیتھ کے بعد ماما جان نیم پاگل سی ہوگئی تھیں۔ انہیں مریم سے عشق تھا اور میں نے ان سے ان کی مریم کو چھین لیا۔ یہ بات گھر کے لوگوں کے علاوہ اور کسی کو بھی معلوم نہیں کہ مریم کی موت میری وجہ سے ہوئی۔ مریم ان دنوں بیمار تھی‘ سب کو کہا کہ ہیضے کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔ ارمغان کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔
’’میں نے جو بھی کیا صرف ماما جان کو واپس پانے کے لیے کیا‘ مگر وہ مجھ سے بہت دور ہوگئیں۔ اتنا کہ اگر میں یہ فاصلہ کاٹنا بھی چاہوں تو بھی نہیں کاٹ سکتا۔ وہ مجھ سے شدید نفرت کرتی ہیں‘ کلام تک کرنا پسند نہیں کرتیں۔ مجھ سے منسلک ہر شے سے انہیں نفرت ہے۔‘‘ وہ گہرے دکھ بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔ وہ اتنی حیران اور ساتھ ہی پریشان ہوگئی تھی کہ کچھ بول ہی نہ پارہی تھی۔
’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نفرت میں صرف اضافہ ہی ہوا ہے۔ وہ مجھے اس گھر میں دیکھنا تک نہیں چاہتیں‘ اگر میں مر گیا تو مجھے یقین ہے وہ آخری بار میرا چہرہ دیکھنے کی خواہش بھی نہیں کریں گی۔‘‘ ارمغان کے سفاکی سے کہنے پر وہ کانپ گئی۔
’’تم کیسی باتیں کررہے ہو ارمغان؟‘‘ وہ دہل کر بولی۔
’’جو بھی کہہ رہا ہوں حقیقت پر مبنی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم یہاں اس گھر میں سب کے درمیان رہنا چاہتی ہو۔ مگر ہم یہاں اس گھر میں نہیں رہ سکتے۔ میں تو خیر بچپن سے ان کی نفرت سہتا آرہا ہوں مگر تم یہ سب برداشت نہیں کر پائوگی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم جلد از جلد واپس چلے جائیں‘ تم میرے ساتھ چلوگی ناں؟‘‘ وہ امید لیے پوچھ رہا تھا۔ عمارہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ وہ خوشی سے بولا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اس کی باتیں سن کر دکھی ہوگئی ہے‘ اس کے باوجود اس نے یہاں سے جانے کے لیے دل سے ہامی نہیں بھری محض ارمغان کی خاطر اس نے اقرار کیا تھا۔ عمارہ کی فرماں برداری نے اسے سرشار کردیا تھا۔
:…٭…’
دن تیزی سے گزر رہے تھے۔ ولیمے کے بعد علیزے نے انہیں ہنی مون کے لیے ٹکٹس گفٹ کیے تھے۔ دو دن میں ساری تیاری کرکے وہ جانے کے لیے تیار تھے۔ جاتے وقت سارے گھر والے ان سے مل رہے تھے۔ صرف زبیدہ بیگم ہی نہیں تھیں‘ عمارہ نے شکیل صاحب سے ان کا پوچھا تو وہ ٹال گئے۔ ان کے جانے کے بعد وہ غصے سے بھرے کمرے میں آئے۔
’’عمارہ تم سے مل کر جانا چاہتی تھی مجھے جھوٹ بولنا پڑا کہ تم خراب طبیعت کی وجہ سے دوا کھا کر سو رہی ہو۔‘‘ وہ افسوس بھرے لہجے میں بولے۔
’’تو میرے نہ ملنے سے ان کا ٹرپ کینسل تو نہیں ہوگیا۔ دوسری بات آپ اتنا بھڑک کیوں رہے ہیں؟‘‘ وہ لیٹی ہوئی تھیں ان کی طرف رخ موڑ کر تیوری چڑھا کر بولیں۔
’’میں نے اپنی پوری زندگی میں تم جیسی پتھر دل عورت نہیں دیکھی نجانے کس مٹی کی بنی ہوئی ہو۔‘‘ انہیں شدید ترین غصہ آرہا تھا۔
’’آپ ہر روز ایک ہی بات دہرا دہرا کر میرا موڈ کیوں خراب کرتے ہیں؟‘‘ وہ جھنجلا کر اٹھ بیٹھیں۔
’’ تم ارمغان کی غلطی کیوں نہیں بھول جاتیں؟‘‘ وہ بھی دوبدو بولے۔
’’نہیں بھول سکتی۔‘‘ وہ پتھر ہوگئیں۔
’’مت بھولو زبیدہ بیگم کہ اگر ارمغان نے ایسی حرکت کی تو اس کی پوری ذمہ داری صرف تم پر آتی ہے تم ہو‘ جس کی غلطیوں نے ارمغان کو اس حد تک جانے پر مجبور کیا۔‘‘ وہ ان کی طرف انگلی سے اشارہ کرکے بولے۔
’’آپ کیسی…‘‘ ان کی بات ادھوری رہ گئی۔
’’ارمغان کو عرش سے فرش پر تم نے پٹخا۔ مریم کو پاکر تمہیں لگا کہ بس ایک وہی تمہاری اولاد ہے‘ باقی جائیں بھاڑ میں۔‘‘ وہ صرف تمہاری توجہ کھینچنے کو الٹی سیدھی حرکتیں کرتا اور تم‘ تم اس پر ہاتھ اٹھاتیں‘ وہ تم سے پیار لینے کی خاطر مہک کا ریڈ فراک پہن کر تمہارے پاس آیا تھا۔ پر تم نے کیا کیا؟ مار مار کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ ارمغان کے دل میں مریم کے لیے جو بھی نفرت پیدا ہوئی وہ تمہارے اس غیر متوازن اور شدت پسند رویے کی وجہ سے ہوئی۔ نہ تم ارمغان کو نظر انداز کرتیں‘ نہ وہ مریم کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے اس کا گلا دباتا۔ مریم تمہارے غلط رویوں کی بھینٹ چڑھی۔ ساری غلطی تمہاری ہے‘ قاتل ارمغان نہیں قاتل تم ہو۔ بولو اب کیا کروگی؟ خود کو معاف کرسکوگی؟‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر شدید غصے میں بولتے چلے گئے۔ وہ دھواں دھواں چہرہ لیے انہیں دیکھتی رہ گئیں۔ الفاظ کہیں کھو گئے تھے۔
:…٭…’
دونوں بالکل خاموشی سے بیٹھے اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ لیکن دونوں کی سوچیں زبیدہ بیگم کے گرد گھوم رہی تھیں۔ عمارہ کو وہ ماضی پرست عورت لگی تھیں‘ جن کی سوچ اس لمحے میں قید ہوکر رہ گئی تھی‘ جب انہوں نے ارمغان کو مریم کا گلا دباتے دیکھا تھا۔ انہوں نے پہلے تو انجانے میں اور پھر جان بوجھ کر ارمغان کے لیے اپنے دل میں موجود مامتا کا گلا دبا ڈالا تھا۔ وہ کیوں اس سے محبت جتائیں جس نے ان کی اس اولاد کو مار ڈالا جو لاکھوں دعائوں اور ہزاروں منتوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اس سارے معاملے میں وہ یہ یکسر فراموش کر بیٹھی تھیں کہ ارمغان اس وقت محض چھ برس کا تھا جو کچھ بھی ہوا وہ ایک معصوم اور ناسمجھ بچے کے ہاتھوں ہوا۔ اس نے سوچوں کے گرداب سے نکل کر اپنے برابر بیٹھے گم صم سے ارمغان کی طرف دیکھا‘ چہرے پر گہری سنجیدگی طاری کیے وہ کیا سوچ رہا ہے عمارہ جانتی تھی۔ اس نے ارمغان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک اٹھا۔ وہ اس کی سمت دیکھ کر مسکرائی‘ جواباً وہ بھی مسکرایا‘ اس کی جوابی کارروائی پر اسے ہنسی آگئی۔
’’ہنس کیوں رہی ہو؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
’’آج کل مجھے ہنسنے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ زندگی نے اتنی ساری خوشیاں میری جھولی میں ڈال دی ہیں کہ دل ہر وقت خوشی سے بھرا رہتا ہے۔‘‘ وہ اس کے توانا بازو پر سر ٹکا کر بولی اور آنکھیں موند لیں۔ ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا اور وہ دونوں پچھلی سیٹوں پر بیٹھے تھے‘ وہ پہلی بار یوں کسی اور کے سامنے اس کے قریب ہوئی تھی۔ ارمغان کو اس کی اس حرکت کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ وہ اسے خود میں مصروف رکھ کر تکلیف دہ سوچوں سے نجات دلانے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ مسکرایا اور پھر اس سے باتیں کرنے لگا۔ سارا سفر وہ دونوں ہنستے‘ بولتے رہے۔
:…٭…’
ان پندرہ دنوں میں وہ شمالی علاقہ جات کی ہر خوب صورت جگہ دیکھ کر‘ ڈھیر ساری قیمتی یادیں سمیٹ کر واپس آئے‘ عمارہ اور ارمغان دونوں نے گھر بھر کے لیے تحفے خریدے تھے اور اب وہ سب ساتھ بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ سفر کی تھکن گھر کے لوگوں سے مل کر ہی اتر گئی تھی۔
’’تم تو بہت پیاری ہوگئی ہو اور صحت مند بھی۔‘‘ عمران کی بیگم زونیرا نے اس کے بھرے بھرے چہرے کو دیکھ کہا تو وہ مسکرائی۔
’’عمارہ واقعی بہت پیاری ہوگئی ہے۔‘‘ بڑی بھابی نے بھی اس کی تعریف کی۔
’’کوئی میری تعریف بھی کردو۔‘‘ ارمغان نے دہائی دی سب ہنسنے لگے۔
کھانا کھانے کے بعد وہ سب لائونج میں بیٹھے تھے۔ ارمغان نے جو تحفے خریدے تھے وہ لے آیا جبکہ عمارہ اٹیچی کھول کر بیٹھ گئی۔ اٹیچی میں بھی کچھ گفٹس تھے۔ تحفے سب کو بہت پسند آئے تھے۔
’’عمارہ… یہ کس کے لیے خریدا ہے تم نے؟‘‘ ارحمہ جو منیب کی بیگم تھی اس نے اٹیچی میں رکھے پنک اور ریڈ کلر کی بچوں کی فراک اٹھا کر تعجب سے دیکھا۔
’’اس گھر میں تو کوئی لڑکی ہے ہی نہیں بس لڑکے ہی لڑکے ہیں پھر؟‘‘ وہ فراک الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے بولی تو سب ہی اس طرف متوجہ ہوگئے۔
’’یہ فراک تو میں نے اپنی فرینڈ کی بیٹی کے لیے خریدی ہے۔‘‘ اس نے جلدی سے مسکرا کر کہا۔
’’منیب… یہ ماما جان کے لیے ہم دونوں نے خریدا تھا‘ تم انہیں دے آئو۔‘‘ وہ گفٹ پیک ہاتھ میں تھامے اس سے بولا سب کی توجہ عمارہ پر سے ہٹ کر ارمغان کے سخت سے لہجے پر ہوئی۔ سب یک دم ہی خاموش ہوگئے۔ منیب نے خاموشی سے تحفہ تھام لیا۔
تھکن جب بڑھنے لگی تو وہ اٹھ کرکمرے میں آگئے۔ کپڑے بدل کر وہ بیڈ پر لیٹی تو اس نے ارمغان کو دیکھا۔ وہ گہری سوچ میں گم لگ رہا تھا۔ وہ بستر پر لیٹ گئی۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ اس کی طرف کروٹ لے کر بولی تو وہ چونک اٹھا۔
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ اس نے ٹالتے ہوئے کہا۔
’’گھر آکر کتنا اچھا محسوس ہورہا ہے ناں‘ کس قدر سکون مل رہا ہے۔‘‘ وہ آنکھیں موند کر بولی۔ ارمغان نے کچھ نہ کہا۔
’’عمارہ‘ تم نے وہ فراک کیوں خریدی تھی؟‘‘ کچھ دیر بعد وہ بولا۔
’’جب ہم بچوں کے لیے گفٹس خرید رہے تھے تو میری نظر اس فراک پر پڑی۔ مجھے وہ اتنی پیاری لگی کہ میں نے بنا کچھ سوچے سمجھے خرید لی۔ بھابی کے پوچھنے پر سمجھ نہ آیا کہ میں کیا جواز پیش کروں اس لیے جھوٹ بول دیا۔‘‘ وہ گہری سانس بھر کر بولی۔
’’مزے کی بات بتائوں جو فراک میں نے مہک سے لے کر پہنی تھی اس کا اور اس فراک کا ڈیزائن کافی مشابہہ ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔
’’آپ کو ابھی تک اس کا ڈیزائن یاد ہے؟ اس کا مطلب آپ کافی ذہین ہیں۔‘‘ وہ شرارت سے بولی۔
’’تو اب تک تم مجھے کوئی اونگا بونگا سا بندہ سمجھ رہی تھیں؟‘‘ وہ اسے گھور کر بولا تو وہ کھلکھلا اٹھی۔
:…٭…’
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ارمغان واپس لوٹنے کے بعد ان سے ملنے ان کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔ منیب نے اس کا دیا تحفہ ان کو تھمایا اور چلا گیا۔ وہ غیرارادی طور پر اس کی آمد کی منتظر تھیں اور جب انہیں یہ بات محسوس ہوئی تو وہ گڑبڑا کر رہ گئیں۔
اپنی شادی کے وقت ارمغان نے ان کا جو رویہ دیکھا تھا اور ڈھولکی کے وقت ان کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ جو اس نے غلطی سے سن لیے تھے۔ وہ انہیں پھر سے منانے اور اپنی خوشی میں شامل کرنے کی خواہش لے کر آیا تھا مگر ان کی غصے سے بھری نفرت میں ڈوبی آواز نے اس کے اندر زہر بھر دیا تھا۔ ایسے الفاظ اس نے پہلی بار سنے تھے اور ان کے زہر نے اس کے وجود کو نیلوں نیل کردیا تھا۔ جاتے قدموں کی آواز تو زبیدہ بیگم نے بھی سنی تھی اور پہلی بار ان کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔
اس روز کے بعد انہوں نے ارمغان کے رویے میں واضح فرق محسوس کیا تھا اور نجانے کیوں تب سے وہ بے چینی محسوس کررہی تھیں۔ ارمغان نے ان کی طرف لپکنا‘ ان سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ہنی مون گزار کر واپس آنے کے ایک ہفتے بعد زبیدہ بیگم پائوں مڑنے کے باعث سیڑھیوں سے گرگئیں تھیں۔ انہیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ ان کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ سب ان سے ملنے آئے‘ خیریت دریافت کی جب تک وہ ہسپتال میں رہیں ان کے سارے بیٹے ان کی خدمت میں لگے رہے۔ ان کی بہوئوں نے بھی ان کا خوب خیال رکھا۔ عمارہ بھی مسلسل ان کا خیال رکھ رہی تھی۔ واحد ارمغان تھا جس نے ایک بار بھی انہیں اپنی شکل نہیں دکھائی تھی۔
جس روز وہ ڈسچارج ہوکر گھر آئیں اس کے دو روز بعد وہ اور عمارہ واپس چلے گئے۔ ارمغان کی چھٹیاں ختم ہوگئی تھیں اور اب اسے جانا تھا۔ ارمغان ان سے ملنے بھی نہیں آیا تھا۔ وہ منتظر رہیں کیوں؟ وہ خود بھی انجان تھیں۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ان کی گاڑی کو جاتا دیکھتی رہیں۔
:…٭…’
عمارہ کو چند ہی دنوں میں بھرے پرے گھر میں رہنے کی اتنی عادت ہوگئی تھی کہ اب یہاں اس ٹھنڈے علاقے کے خوب صورت ماحول میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ دل تو اس کا وہیں شکیل ولا میں ہی رہ گیا تھا۔ بے شمار محبت کرنے والوں اور ننھی معصوم سی شرارتیں کرنے والوں کے بیچ۔
شروع شروع کے دن اس کے لیے بہت مشکل ثابت ہورہے تھے۔ اسے خود پر حیرت ہورہی تھی کہ اتنے سال تنہا رہنے کے باوجود بھی وہ اتنی جلدی سالوں پرانی عادت کیسے بھول گئی؟ سالوں سے وہ اکیلی رہتی آرہی تھی اب جبکہ ارمغان بھی اس کے ہمراہ تھا پھر بھی اسے یہاں رہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ بیزاریت اور بوریت سے بھرے دنوں میں اسے خوش خبری ملی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ ارمغان شکیل صاحب کو یہ خبر سناتے شرما رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ خوش تھے اور انہوں نے تو ضد لگالی کہ وہ واپس آجائیں۔ اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر عمارہ کی ضد اور اس کی طبیعت کے پیش نظر وہ مان گیا اور ٹرانسفر کے لیے درخواست دے دی۔
پانچ ماہ بعد کہیں درخواست قبول ہوئی اور اس کا ٹرانسفر اپنے شہر ہوگیا‘ عمارہ بے حد خوش تھی۔ ارمغان بھی اسے خوش دیکھ کر خوش تھا۔
:…٭…’
گھر آنے کے بعد سے سب ہی اس کا بہت خیال رکھ رہے تھے۔ وہ یہاں بہت زیادہ خوشی محسوس کررہی تھی۔ زبیدہ بیگم کا رویہ ہنوز ویسا ہی تھا۔ وہ ان کی بہو ہے‘ ماں بننے والی ہے انہوں نے کچھ نہ پوچھا۔ عمارہ کو ان کے رویے نے آبدیدہ کردیا تھا۔ ارمغان کچھ زیادہ ہی خاموش طبع ہوگیا تھا۔ ہمہ وقت خاموش رہتا پہلے پہل تو وہ یہ سمجھی کہ اسے آفس کی کوئی ٹینشن ہے مگر جب اسے پرانے البمز کھول کر اپنی اور اپنی ماما جان کی تصویریں دیکھ کر روتے ہوئے پایا تو اسے سمجھ آگیا وہ کیوں اتنا چپ ہوگیا ہے‘ وہ تیزی سے اس کے پاس آئی تھی۔ وہ تو یہی سمجھی کہ ارمغان نے سمجھوتہ کرلیا ہے یا پھر اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے مگر وہ تو آج بھی وہیں کھڑا تھا۔
’’ارمغان…‘‘ وہ بس اتنا ہی بول پائی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیسے دلاسا دے۔
’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں؟ ایسا کون سا اسم پڑھوں کہ ماما جان مجھ سے پیار کرنے لگیں‘ مجھے اپنا لیں ان کے اندر جو نفرت ہے وہ ختم ہوجائے۔‘‘ وہ روتے ہوئے بول رہا تھا۔ عمارہ بھی رونے لگی۔ وہ ارمغان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں آئی تھی‘ اسٹور روم کی لائٹ جلتی دیکھ کر وہ یونہی اندر داخل ہوئی‘ وہ اندر موجود ہوگا یہ تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا وہ یہاں بے حد تکلیف میں بھی تھا۔ اسے زبیدہ بیگم پر شدید غصہ آیا اور ارمغان پر بے تحاشا ترس۔
’’عمارہ‘ یاد ہے تمہیں جب تم مجھ سے کہا کرتی تھیں کہ تم خود کو بہت بدقسمت تصور کرتی ہو کہ تمہاری مما تمہیں اس وقت چھوڑ کر چلی گئیں جب تمہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی اور تب… تب میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ اگر تمہیں میں اپنی حقیقت بتادوں تو تمہیں میرے لیے بدقسمت لفظ بھی سب سے چھوٹا محسوس ہوگا۔ مجھے تو ہر لمحہ ان کی نفرت سہنی پڑتی ہے۔ ان کا دل میری وجہ سے ٹوٹا‘ ٹوٹ گیا… غلطی ہوگئی‘ کیا کروں میں؟‘‘ وہ اپنے بال نوچتے ہوئے تڑپ کر بولا۔
’’ارمغان پلیز تم…‘‘ وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی دلاسا دینا چاہتی تھی کہ دروازے پر اس کی نگاہ پڑی‘ زبیدہ بیگم کھڑی تھیں۔ شاید وہ وہاں کسی کام سے آئی تھیں۔ عمارہ انہیں دیکھ کر چپ ہوگئی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آنٹی… دیکھ رہی ہیں ناں آپ؟ آپ کی نفرت سہہ سہہ کر ان کا کیا حال ہوگیا ہے‘ خدا کا واسطہ بس کردیں۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولی۔ زبیدہ بیگم چپ کھڑی رہیں۔ ان کا چہرہ زرد ہورہا تھا۔ ارمغان اٹھ کھڑا ہوا۔
’’رہنے دو عمارہ‘ پتھروں سے سر ٹکرایا جائے تو صرف چوٹ ہی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ وہ تلخ لہجے میں بولا۔ زبیدہ بیگم نے اسے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔
’’میں تمہارا گناہ کبھی نہیں بھول سکتی؟‘‘ ان کے دل کو اس کی حالت دیکھ کر کچھ تو ہوا تھا مگر وہ ضدی لہجے میں بولیں۔
’’تو پھر کیا چاہتی ہیں آپ؟ میرا گناہ آپ معاف نہیں کرسکتیں‘ میری غلطی آپ بھول نہیں سکتیں تو پھر آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘ وہ چلا کر بولا پھر یک دم جیسے اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔
’’اوہ… اب سمجھا میں‘ آپ مریم کی موت کا بدلہ چاہتی ہیں… ہے ناں۔‘‘ وہ جیسے چونک کر بولا‘ عمارہ تو عمارہ وہ بھی اس کی بات پر ساکت رہ گئیں۔
’’مم…‘‘ الفاظ ان کے منہ میں ہی رہ گئے۔
’’میں نے آپ کی مریم کا گلا دبا کر اسے مار ڈالا تھا ناں‘ تو آپ بھی میرا گلا دبا کر مجھے مار ڈالیں۔ حساب برابر ہوجائے گا۔ ٹھیک ہے ناں… ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں؟‘‘ وہ انہیں ہوش میں نہیں لگ رہا تھا‘ وہ ان کے قریب آیا۔
’’ارمغان‘ بکواس بند کرو اپنی۔‘‘ وہ چلا کر بولیں ان کے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اس نہج پر بھی سوچ سکتا ہے اس نے ان کے دونوں ہاتھ اپنی گردن پر رکھ لیے۔ عمارہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔
’’میں نے آپ کی مریم کا گلا دبا کر مار ڈالا تھا ناں‘ تو آپ بھی یہی کریں۔‘‘ وہ ان کے ہاتھوں پر سختی سے اپنے ہاتھ جمائے زور ڈال رہا تھا۔ عمارہ گھبرا کر قریب آئی۔
’’ارمغان کیا کررہے ہو چھوڑو۔‘‘ وہ اپنی پوری طاقت لگانے لگی۔ تبھی عمارہ نے دیکھا اور زبیدہ بیگم نے بھی کہ اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہوگئی تھی۔ وہ لڑکھڑایا اور دھڑام سے نیچے گرا تھا۔
’’ارمغان…‘‘ زبیدہ بیگم تڑپ کر چلائی تھیں۔ ان کی چیخ پورے گھر میں گونجی تھی۔
:…٭…’
’’اتنا ہائی بی پی اور وہ بھی اس عمر میں۔‘‘ ڈاکٹر حیرت سے پوچھ رہا تھا۔ ارمغان بستر پر دراز تھا۔ عمارہ قریب بیٹھی مسلسل رو رہی تھی‘ ارحمہ اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی۔ سب اس کے کمرے میں جمع تھے۔ زبیدہ بیگم نگاہیں جھکائے مجرم سی کھڑی تھیں۔ ڈاکٹر کی بات پر سب ان کی طرف دیکھنے لگے۔
’’انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں اور پریشانیوں سے دور رکھیں۔‘‘ وہ دوائیں لکھنے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہے تھے۔ پھر ڈاکٹر کے جانے کے بعد سب آہستہ آہستہ ان کے کمرے سے جانے لگے۔
ارمغان بی پی ہائی ہونے کے باعث بے ہوش ہوگیا تھا۔ ہر وقت سوچنے اور پریشانی نے اس اعصاب اتنے کمزور کردیئے تھے عمارہ کے آنسو اس کے ہاتھوں پر گررہے تھے۔
اسے وہ لمحہ یاد آیا جب وہ ٹوٹے شہتیر کی طرح زمین بوس ہوا تھا۔ اسے گرتا دیکھ کر وہ سانس لینا بھول گئی تھی۔ ذہن جیسے مائوف ہوگیا تھا۔ ارمغان کی حالت دیکھ کر اس کی اپنی طبیعت خراب ہورہی تھی۔ مسلسل رونے سے وہ بالکل نڈھال ہوگئی تھی۔ وہ اب بھی رو رہی تھی۔
’’عمارہ…‘‘ ارمغان نے مدھم لہجے میں اسے پکارا۔ اس نے آواز پر روتے روتے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’پلیز خاموش ہوجائو‘ مت رو۔ تمہارے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ اور بے چارگی سے بولا تھا۔ عمارہ اور شدت سے رونے لگی۔ ارمغان نے اسے خود سے لگالیا۔ وہ اس کے سینے سے لگ کر سسکتی رہی۔
’’آپ کے سوا میرا اور کوئی نہیں اس دنیا میں۔ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میں بھی مرجائوں گی۔‘‘ وہ اس کی شرٹ مضبوطی سے تھامے بلک رہی تھی۔ اس نے عمارہ کے گرد اپنی گرفت کچھ اور مضبوط کرلی تھی۔
’’کچھ نہیں ہوا مجھے‘ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس اب تم رونا بند کرو۔‘‘ ارمغان نے اس کے آنسو صاف کیے۔
’’ارمغان ہم یہاں نہیں رہیں گے۔‘‘ اس نے سر اٹھا کر اس سے کہا وہ مسکرایا۔
’’ٹھیک ہے تم فارغ ہوجائو پھر ہم یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے۔‘‘ وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔ اس نے آنکھیں موند لیں۔
:…٭…’
وہ تنہا اپنے کمرے میں بیٹھی کیوں رو رہی ہیں انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا۔ انہیں تو لگتا تھا کہ اگر ارمغان کبھی مر بھی گیا تو وہ نہیں روئیں گی لیکن اس کی ذرا سی طبیعت خراب ہوجانے پر ان کا دل کیوں بند ہوگیا تھا؟ اسے روتا بلکتا دیکھ کر وہ منجمد کیوں ہونے لگی تھیں اگر انہیں ارمغان سے اتنی ہی نفرت ہے تو پھر اس کی یہ حالت دیکھ کر تو انہیں مطمئن ہوجانا چاہیے تھا مگر وہ اتنی بے قرار کیوں ہوگئی تھیں؟ ان کے اندر درد کیوں اٹھ رہا تھا؟ ان کے قلب میں ٹیسیں اٹھتی محسوس کیوں ہورہی ہیں انہیں سمجھ نہ آئی۔ وہ بس روتی رہیں۔
:…٭…’
ارمغان کی طبیعت خراب ہونے کے بعد سے عمارہ کو بھی جیسے چپ لگ گئی تھی۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں رہتی‘ جائے نماز پر کھڑی نجانے کون سے نوافل ادا کرتی تھی اس کی دعائیں طویل ہوتی جارہی تھیں‘ بچا کھچا وقت بہت تیزی سے گزرا تھا۔ صبح سویرے اس کی طبیعت خراب ہوئی تھی۔ ارمغان اسے ہسپتال لے آیا۔ اس کے ساتھ ارحمہ بھابی اور بڑی بھابی آئی تھیں۔ زبیدہ بیگم منتظر کھڑی رہیں مگر کسی نے بھی ان سے کچھ نہ کہا۔ ان کو اس رویے نے بہت تکلیف دی تھی۔ عمارہ کو لیبر روم میں پہنچا دیا گیا۔ وہ تینوں باہر کھڑے تھے۔ شکیل صاحب بھی پہنچ گئے۔ کافی انتظار کے بعد لیڈی ڈاکٹر باہر آئیں۔
’’مسز عمارہ ارمغان کے ہسبینڈ کون ہیں؟‘‘ وہ شائستہ لہجے میں پوچھ رہی تھی وہ تیزی سے ان کے قریب آیا۔
’’میں ہوں عمارہ کا ہسبینڈ۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔
’’مبارک ہو اللہ نے آپ کو بیٹی کی رحمت سے نوازا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولیں وہ تو شاک رہ گیا۔ کچھ مہینے پہلے جب الٹرا سائونڈ کروایا تھا تو پتا چلا کہ بیٹا ہے۔ یقینا ڈاکٹر نے اس وقت غلط بیانی کی تھی۔ ان کی بات سن کر تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ کچھ بول ہی نہ پایا۔
ارمغان تو ارمغان سب ہی شدید حیران تھے۔ پھر شکیل صاحب نے نرس کے ہاتھوں سے بچی کو لیا۔ ان کے دل کی عجیب کیفیت تھی‘ کچھ ایسی ہی کیفیت ان کے دل میں اس وقت بھی امڈی تھی جب انہوں نے مریم کو تھاما تھا اور آج بھی وہ بالکل وہی احساس محسوس کررہے تھے۔ خدا کی قدرت کہ بچی کی شکل وصورت بالکل مریم جیسی تھی۔ ان کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں۔
بڑی بھابی نے سب کو فون کرکے خوش خبری سنائی۔ وہ سب عمارہ کے پاس آگئے۔ اس کا چہرہ زرد ہورہا تھا۔ چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔ دن رات کی مانگی دعائیں پوری ہوگئی تھیں۔ عمارہ بالکل ٹھیک تھی اور بچی بھی لٰہذا انہیں شام تک ڈسچارج کردیا گیا۔ ارحمہ نے فون کرکے کسی کو بھی اسپتال آنے سے منع کردیا تھا کہ وہ لوگ گھر آرہے تھے۔ اس گھر کی پہلی بیٹی آرہی تھی شاندار استقبال ہورہا تھا۔ ڈھیر سارے پھول ان پر نچھاور کیے گئے۔ کیا چھوٹے کیا بڑے سب ہی اس گھر کی پہلی بچی کو گود میں بھرنے کے لیے بے تاب تھے۔ ان سب کی بے شمار محبتیں اور جوش وخروش دیکھ کر اس کی آنکھیں جھلملا گئیں۔ ایسے ہی گھر کی تو چاہ تھی اسے۔
’’ارمغان… میں ماما جان کے کمرے میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے ارمغان کو دھیرے سے کہا۔
’’مگر کیوں؟‘‘ وہ حیران سا بولا۔
’’میں وہیں جاکر بتائوں گی مجھے لے جائو۔‘‘ وہ نقاہت زدہ آواز میں بولی۔ وہ اسے سہارا دیتا ان کے کمرے میں لے آیا۔ ان دونوں کو دیکھ کر وہ شدید حیران ہوئی تھیں۔ تیزی سے عمارہ کے قریب آئیں اور اسے بیڈ پر بٹھایا۔
’’میں آپ سے کچھ کہنے آئی ہوں۔‘‘ اس نے شرمندہ شرمندہ سی زبیدہ بیگم کو دیکھ کر کہا۔
’’ارمغان کے غصے اور نفرت نے مریم کو آپ سے دور کردیا‘ اگر ہم آپ کی مریم آپ کو پھر سے لوٹا دیں تو کیا آپ ارمغان کو اپنالیں گی؟‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بولتے ہوئے رو پڑی۔ تب ہی شکیل صاحب اندر آئے ان کی گود میں مریم تھی۔ وہ لپک کر ننھی پری کو ان کی گود سے لے کر چومنے لگیں۔ وہ اسے دیوانہ وار چومے جارہی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔ ارمغان کمرے سے باہر نکلنے لگا۔
’’ارمغان…!‘‘ وہ اسے کمرے سے باہر نکلتا دیکھ کر جلدی سے پکار بیٹھیں۔ وہ ٹھہرا۔ اس ایک پکار کو سننے کی خاطر وہ بہت سال ترسا تھا۔ زبیدہ بیگم اس کے قریب آئیں اور اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بوسہ دیا۔ ارمغان نے آنکھیں بند کرلیں۔ آنسو لکیر کی صورت اس کے چہرے پر پھیل رہے تھے۔ وہ اسے چومتی رہیں۔ اس لمس کے لیے وہ کتنا بے قرار تھا اور پھر انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگالیا۔ وہ بلند آواز سے رو رہی تھیں۔ دونوں بس روئے جارہے تھے۔ دونوں کو لفظوں کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ خون کے رشتے ہوتے ہی ایسے ہیں۔ عمارہ بھیگی آنکھوں سے یہ جذباتی منظر دیکھ رہی تھی۔
’’ماما جان! ہم اس کا نام مریم رکھیں گے۔‘‘ عمارہ نے مسکرا کر کہا تو انہوں نے اثبات میں سرہلایا۔
ساری نفرتیں ختم ہوگئی تھیں اس ننھی سی جان کی وجہ سے‘ عمارہ نے دل ہی دل میں لاکھ شکر ادا کیا۔ ارمغان نے اسے ایک خاندان دیا اور اس کی دعائوں نے ارمغان کو اس کی ماما جان…!!!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close