Aanchal Dec 15

تجھے دیکھوں

سلمٰی غزل

میرا خون اس وقت جوش مارنے لگا جب میں نے سنا کہ حریم کے والدین آج کل اس پر طلاق کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں وہ اس کی دوسری شادی کرنا چاہ رہے تھے اور مجھے یقین تھا یہ شادی اس کے کزن ہی سے ہونا تھی جو بچپن ہی سے اس کے ساتھ رہ رہا تھا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ میں اسے روک نہیں سکتا تھا‘ کیونکہ گھر سے نکالتے وقت میں نے ہی اسے طلاق کی دھمکی دی تھی۔ محبت میں نے اس سے طوفانی قسم کی ضرور کی تھی جو کڑھی کے ابال کی طرح جلد ہی بیٹھ بھی گئی تھی اور میں اس طبقاتی فرق کو مٹا نہیں سکا تھا جو میرے اور اس کے درمیان تھا کیونکہ میں جس کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر تھا وہ اس کی ایک معمولی ورکر‘ مگر بے حد خوددار‘ انا پسند‘ لیکن حد سے زیادہ حسین اور خوب رو اور تو اور خود اس کو اپنی خوب صورتی کا قطعی احساس نہیں تھا۔ میری شادی کی پیش کش پر اس نے جس سادگی اور معذرت خواہانہ انداز میں انکار کیا اس نے مجھے سر سے پائوں تک کھولا دیا تھا۔
’’کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔‘‘ بجائے اپنی خوش بختی پر ناز کرنے کے وہ شادی سے انکاری تھی؟ میرے والدین کے لاکھ سمجھانے کے باوجود میں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا اور اسے اپنا کر ہی دم لیا جس کزن کی وجہ سے وہ منع کررہی تھی‘ وہ آفس کی طرف سے ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔
شادی کے بعد مجھ پر اس کی بہت سی خوبیوں کا انکشاف ہوا‘ وہ خوب صورت ہی نہیں ذہین‘ سلیقہ شعار اور خوددار بھی بے حد تھی‘ اتنے بڑے محل جیسے گھر اور پرتعیش زندگی میں اس نے کبھی کسی ہلکے یا چھچھورے پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کی طبیعت میں ٹھہرائو‘ متانت اور وقار تھا‘ اس کے رکھ رکھائو اور وضعداری نے جلد ہی میرے والدین کو اس کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ گو ان کے اپنے بیٹے کے بارے میں خواب بہت اونچے تھے مگر اپنی خدمت‘ محبت اور خلوص سے جلد ہی اس کو ان کی لاڈلی بہو کا درجہ دے دیا اور میں…؟ میں تو اس کو گھر میں رکھ کر اس طرح بھول گیا تھا جیسے کوئی بچہ اپنے پسندیدہ کھلونے سے کچھ دن کھیل کر اسے کونے میں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ میرے لیے اب نہ اس کی حیثیت تھی نہ اہمیت۔
ژظژ… ژ… ژظژ
اب اٹھتے بیٹھتے میں کم ظرفوں کی طرح اس کو اس کی اوقات یاد دلاتا رہتا تھا حالانکہ آج کل اس کی طبیعت خراب تھی‘ نڈھال نڈھال کمزور سی‘ حریم میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی‘ اماں اور ابا چھ ماہ کے لیے لندن اپنے رشتہ داروں کے پاس گئے ہوئے تھے‘ مگر میں نے کبھی اس کی طبیعت پوچھنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی البتہ ہر رات اس کی التجائوں اور منتوں کے باوجود اس کو تختہ مشق بناتا رہا‘ جب بھی تسکین کے بعد میری آنکھ کھلتی اور میرے اندر کا وحشی مرد جاگ اٹھتا تو میں بھوکے شیر کی طرح اس پر ٹوٹ پڑتا یہ دیکھے بغیر کہ اس پر کیا گزر رہی ہے؟ وہ کیا محسوس کررہی ہے؟
وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا جب رات بارہ بجے میں حسب معمول کلب سے لوٹا‘ عموماً وہ مجھے جاگتی ہوئی ملتی تھی‘ مگر آج وہ سو رہی تھی اور سوتے میں حد سے زیادہ خوب صورت بھی لگ رہی تھی۔ اس کے سیاہ گھنے بالوں نے اس کے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا اور چودھویں کے چاند کی طرح اس کا چہرہ بالوں میں سے جھانک رہا تھا‘ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا‘ میری حیوانی خواہشات جاگ اٹھیں‘ جونہی میں اس کے چہرے کی طرف بڑھا اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔
’’پلیز ریان! میری طبیعت بالکل ٹھیک نہیں ہے!‘‘ اس نے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے کمزور سا احتجاج کیا۔
’’کیوں تمہاری طبیعت کو کیا ہوا؟ سارا دن عیش سے رہتی ہو‘ اچھا کھاتی ہو اور غراتی ہو اور میری قربت تمہاری طبیعت خراب کردیتی ہے؟‘‘ میں نے طنز سے کہا۔
’’میں آپ سے سچ کہہ رہی ہوں میری طبیعت واقعی خراب ہے میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔ ’’جو کچھ کھاتی ہوں قے کی شکل میں باہر آجاتا ہے۔‘‘
’’بدہضمی‘ اناپ شناپ کھانے کا نتیجہ! اس گھر میں ہر چیز تمہاری اوقات سے زیادہ ہے پھر یہ نخرہ کیوں؟ کبھی اپنے باپ کے گھر بھی یہ سب آسائشیں دیکھی تھیں؟ ٹکے ٹکے کے لیے آفس کے دھکے کھانے والی آج مجھے انکار کررہی ہے؟‘‘ میں غصے سے دھاڑا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ فق اور پھر سرخ ہوگیا۔
’’میں آپ کی بیوی ہوں کوئی طوائف نہیں جو آسائشوں کا حوالہ دے کر آپ میری بے عزتی کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے بھی حقوق رکھے ہیں‘ آپ مجھ سے ہر آسائش لے لیں لیکن میری عزت نفس مجروح نہ کریں۔‘‘ وہ متانت اور سنجیدگی سے بولی۔
’’تیری عزت نفس کی تو ایسی تیسی!‘‘ مغلظات بکتا میں غصے سے اس کی طرف بڑھا تو وہ پھرتی سے کھڑی ہوگئی۔
’’بس اس کے آگے ایک لفظ نہیں۔ بہت ہوگیا اب میں برداشت نہیں کروں گی۔ ہر شخص دوسرے کو وہی دیتا ہے جو اس کے پاس ہو اور آپ کے پاس عزت نام کی کوئی چیز ہی نہیں آپ مجھے کیا دیں گے۔‘‘
’’دفع ہوجائو اب میں تمہیں تین لفظ لکھ کر بھیجوں گا‘ زبانی نہیں کہوں گا کیا خبر تم اس عیش وآرام کے چکر میں مکر جائو۔‘‘ اس نے دکھ اور صدمے سے میری طرف دیکھا اور خاموشی سے باہر نکل گئی بعد میں مجھے پچھتاوا ہونے لگا‘ ایک سال میں اس کے ساتھ سونے کی عادت سی پڑگئی تھی اور جیسے نیند بھی مجھ سے روٹھ گئی ہو شاید آج کلب میں میں نے کچھ زیادہ ہی چڑھالی تھی‘ میں نے پانی سے نیند کی دو گولیاں حلق سے نیچے اتاریں اور بے خبر سوگیا۔
ژظژ… ژ… ژظژ
صبح کافی دیر سے آنکھ کھلی اور حسب عادت میں نے آواز لگائی۔ ’’حریم چائے لائو۔‘‘ اس لمحے دروازہ ناک کرکے ہمارا پرانا ملازم بچل کمرے میں آگیا۔
’’چھوٹے صاحب دلہن بی بی تو گھر میں نہیں ہیں۔‘‘
’’کہاں مرگئی…‘‘ میں غصے سے دھاڑا۔
’’جی وہ رات کو اکیلی اپنے گھر جارہی تھیں میں نے مجبور کرکے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیا۔‘‘
’’اف اتنا نخرہ اور غرور۔‘‘ میں غصے سے تلملا اٹھا۔
’’جائے جہنم میں۔‘‘ میں نے کشن اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ ’’میں بھی اب نہیں بلائوں گا‘ دو چار دن مفلسی میں گزارے گی تو یہ عیش وآرام یاد آئیں گے اور عقل ٹھکانے آجائے گی۔‘‘ مہینے گزر گئے وہ نہیں آئی بلکہ جونہی میرے والدین کو پتہ چلا وہ بھی اسے لینے پہنچ گئے مگر اس کی نا ہاں میں نہیں بدلی پھر میں نے سنا وہ میرے بیٹے کی ماں بن گئی ہے‘ میری خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا‘ میں بے قرار ہوکر اسے لینے پہنچ گیا لیکن اس نے آنے سے انکار کردیا۔ میرے والدین بھی اسے منانے میں ناکام رہے‘ اب مجھے اپنے رویے کی بدصورتی کا احساس ہوا۔ اس تکبر غرور اور اکڑنے مجھے کیا دیا؟ تنہائی اور بیوی بیٹے سے جدائی! ماں باپ بھی مجھے ہی لعنت ملامت کرتے تھے۔ وقت کا کام ہی گزر جانا ہے اور وہ گزر رہا تھا‘ میرا بیٹا آریان بے حد خوب صورت تھا‘ جو تین سال کا ہوگیا تھا اور جب میں اس سے ملنے جاتا تھا تو میرا دل اسے خود سے جدا کرنے کو نہیں چاہتا تھا‘ یہ بھی غنیمت اور حریم کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اس نے دادا‘ دادی اور باپ کی طرف سے آریان کے دل میں نفرت نہیں ڈالی تھی اس لیے ہمیشہ آریان بڑے والہانہ طریقے سے ملتا تھا البتہ کسی بھی قسم کی مالی امداد لینے سے حریم نے انکار کردیا تھا اور وہ خود ایک انگلش میڈیم اسکول میں پڑھا رہی تھی۔ بہت غور وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ حریم کو شادی سے روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے‘ آریان… کیونکہ میں نے آج تک اس کو لینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا شاید اندر کچھ تھوڑی بہت انسانیت تھی پھر میرے پاس اس کو سنبھالنے کا وقت بھی نہیں تھا اور نہ بوڑھے ماں باپ اس قابل تھے کہ اس کی دیکھ بھال کرسکیں مگر اب آریان کو خود سے جدا کرنے کا میرے پاس حوصلہ نہیں تھا‘ میں نے جب فون کرکے حریم سے کہا کہ میں چاہتا ہوں آریان میرے ساتھ کچھ وقت گزارے۔‘‘ تو وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔
’’خوب تو آپ کو یاد ہے آپ کا ایک بیٹا بھی ہے۔‘‘
’’نہیں حریم ایسی بات نہیں۔‘‘ میں نے فوراً جواب دیا۔ ’’میں نے ہمیشہ اس کی سال گرہ اور عید‘ بقرہ عید پر اس کے لیے تحفے اور پیسے بھیجے ہیں مگر تم نے لینے سے انکار کردیا۔ دراصل میں سوچتا تھا چھوٹے بچوں کو مائیں ہی بہتر طور پر سنبھال سکتی ہیں مگر اب وہ چونکہ تین سال کا ہوگیا ہے‘ اس لیے میں اسے سیر کرانا چاہتا ہوں۔‘‘ شادی کے بعد تقریباً ہم ایک سال ساتھ رہے تھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے بڑی عاجزی سے بات کی تھی۔
’’صبح نو بجے لے جانا مگر اس کو اوٹ پٹانگ کھلانا‘ اور نہ دلانا۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے فون بند کردیا۔
آریان بہت خوش تھا میں نے گھمانے کے بعد اس کو اس کی پسند کا کھانا کھلایا پھر گھر پہنچتے ہی وہ سیدھا دادا دادی کے پاس چلا گیا اور گرم جوشی سے ان سے لپٹ گیا۔ حریم کی اس خوبی کا میں دل سے معترف تھا کہ اس نے میرے یا دادا دادی کے خلاف بچے کے ذہن میں کوئی نفرت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ اس نے دادا دادی کے پیار کرنے پر کبھی کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں کیا تھا۔
ژظژ… ژ… ژظژ
رات میں آریان کو چھوڑنے گیا تو حریم بے قراری سے گیٹ پر ٹہل رہی تھی‘ آریان کو دیکھ کر وہ چیل کی طرح جھپٹی اور اسے اندر لے جانے لگی۔
’’سنو حریم میں آریان کو ایک دو دن اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔
’’یہ ممکن نہیں‘ نہ میں اس کے بغیر رہ سکتی ہوں‘ نہ اس کو میرے بنا نیند آتی ہے۔‘‘ وہ بے ر خی سے بولی۔
’’ماما ہم سب ساتھ کیوں نہیں رہتے کیا آپ پاپا سے ناراض ہیں؟‘‘ آریان کے معصومانہ سوال نے حریم کو سٹپٹا دیا اور میں خوش دلی سے بولا۔
’’بالکل بیٹا میں بھی یہی چاہتا ہوں مگر آپ کی ماما راضی نہیں ہوتیں۔‘‘ حریم نے کچھ کہے بغیر آریان کو جھپٹ کر گود میں اٹھایا اور اتنی زور سے غصے میں گیٹ بند کیا کہ اگر میں پیچھے نہیں ہوتا تو گیٹ منہ پر لگتا۔
اب یہ میرا معمول ہوگیا تھا کہ جمعہ کی رات میں آریان کو اپنے ساتھ لے آتا اور اتوار کی رات حریم کے پاس چھوڑ آتا کیونکہ اس نے اسکول جانا شروع کردیا تھا اور باوجود کوشش کے حریم اس کو میرے ساتھ آنے سے روکنے میں قاصر تھی کیونکہ آریان جانتا ہی نہیں تھا کہ کس طرح میں اس کو قیمتی کھلونے‘ آسائشیں اور محبت دے کر اپنی طرف مائل اور حریم کی طرف سے غافل کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ آریان کی وجہ سے میری باہر کی ایکٹویٹیز بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھیں۔ کلب جانے اور پینے پلانے کی باتیں تو خواب بن کر رہ گئی تھیں۔ میرا پورا ہفتہ آریان کے انتظار میں گزرنے لگا تھا اس کے معصوم وجود نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا تھا۔ ایک دن اماں نے وہ سوال کر ہی لیا جس کا مجھے ڈر تھا۔
’’تم آخر چاہتے کیا ہو؟ کیوں بچے کو ماں سے جدا کررہے ہو؟‘‘ اماں کے پوچھنے پر میں بھڑک اٹھا۔
’’آپ جانتی ہیں حریم کے والدین طلاق دلا کر اس کی دوسری شادی کرنا چاہ رہے ہیں غالباً اسی کزن سے جو ساتھ ہی رہتا ہے۔‘‘
’’ہاں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ حریم جوان ہے‘ خوش شکل ہے اور پھر شادی کرنا اس کا حق ہے‘ آخر ماں باپ کب تک زندہ رہیں گے کون سے ماں باپ بیٹی کا تحفظ نہیں چاہتے اور پھر آریان کو بھی باپ مل جائے گا۔‘‘
’’آپ میری ماں ہیں یا حریم کی؟ میں آریان کا باپ ہوں۔‘‘ میں غصے سے بھنا کر بولا۔
’’چلائو مت جو کچھ تم نے حریم کے ساتھ کیا ہے اس کے بعد تمہیں آریان پر حق جتانے کا کوئی حق نہیں‘ میں ان مائوں میں سے نہیں جو بیٹے کے ہر غلط فیصلے پر خوش ہوتی ہیں اور بیٹے کی غلطیاں بھی بہو کے کھاتے میں ڈال دیتی ہیں۔ تم دراصل اس کے قابل ہی نہیں تھے‘ تم اگر اکلوتے تھے تو وہ بھی ماں باپ کی تنہا اولاد تھی‘ غریب ہونا کوئی جرم نہیں‘ مگر تم تو اسے اٹھتے بیٹھتے طعنے دیتے تھے‘ اسے اس کی اوقات یاد دلاتے رہتے تھے‘ یہ سوچے بغیر کہ تمہاری خود کی اوقات کیا ہے کون سا شرعی عیب ہے جو تم میں نہیں‘ مجھے تو تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ ہم نے تو تمہیں بہت سمجھایا تھا کہ یہ بے جوڑ شادی ہے مگر تم پر تو عشق کا بھوت سوار تھا یہ حریم ہی تھی جس نے اپنے خلوص اور محبت سے ہمیں اپنا اسیر کرلیا تھا اور تمہیں بھی برداشت کررہی تھی اگر تم اس کے ساتھ اتنی زیادتی نہ کرتے‘ آخر عورت ہی کیوں ظلم سہے‘ مرد چار شادیاں بیک وقت کرلیں اور تم لوگ عورت کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت بھی نہ دو۔ اپنے مطلب کے لیے تمہیں آخر شرع کیوں یاد آجاتی ہے‘ میں کیا نہیں جانتی کہ تم کہاں کہاں جھک مارتے ہو مگر مجھے لگتا ہے تم اس کہاوت پر عمل کررہے ہو کہ ’جب دودھ بازار میں مل جاتا ہے تو گھر میں بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے!‘ وہ اگر اپنا شرعی حق استعمال کرنا چاہتی ہے تو کرنے دو‘ تمہیں کیا تکلیف ہے‘ لیکن تم جو کررہے ہو وہ ٹھیک نہیں‘ آریان کو دو کشتیوں کا سوار مت بنائو‘ ورنہ وہ دو باپوں کے درمیان پس کر رہ جائے گا‘ اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہے تو کرنے دو بلکہ اسے طلاق دے کر اس کا راستہ سہل بنا دو کیونکہ یہ تو طے ہے کہ تم گھر بسانے کے لائق ہی نہیں!‘‘ میرے پاس بغلیں جھانکنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا اماں کی ہر بات صحیح تھی لیکن میں اپنا بیٹا حریم کو نہیں دے سکتا تھا۔ اب تو ایک ایک پل اس کے بغیر گزارنا میرے لیے محال تھا اور میں نے سوچ لیا تھا دولت کے بل پر میں ہونے والے باپ کو تو کیا‘ میں ماں کو بھی بھلانے پر آریان کو مجبور کردوں گا۔
ژظژ… ژ… ژظژ
آج کل حریم بے حد پریشان تھی‘ آریان دن بدن باپ سے قریب ہوتا جارہا تھا‘ آریان نے اس پر تحفوں کی برسات کردی تھی‘ ریموٹ کار‘ ہوائی جہاز‘ بائیسکل اور نہ جانے کون کون سے قیمتی کھلونے۔ اس نے اپنے گھر میں جمع کرلیے تھے اور اب آریان کو بے چینی سے باپ کی آمد کا انتظار رہتا تھا۔ دوسری طرف ماں باپ کا بھی کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے دبائو بڑھتا جارہا تھا ارحم بھی آج کل ٹور پر تھا ورنہ اسی سے مشورہ کرلیتی‘ اسے آریان دن بدن خود سے دور ہوتا محسوس ہونے لگا تھا‘ گھر آکر بھی اس کے پاس باپ اور دادا دادی کے علاوہ بات کرنے کے لیے کوئی بات ہی نہیں ہوتی تھی۔ کھانا‘ پینا‘ گھومنا پھرنا اور بے تحاشہ قیمتی تحائف یہ سب معصوم بچے کے ذہن کو متاثر کررہے تھے اور میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح آریان کے قدموں کو باپ کی طرف بڑھنے سے روکوں؟ اماں ابا الگ ریان سے صلح کرنے کے لیے دبائو ڈال رہے تھے‘ لیکن اس معاملے میں وہ اٹل تھی اس گھر میں قدم رکھنے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس دن ریان بیٹے کو لینے آئے تو حریم باہر نکل آئی اور آریان سے پیار سے بولی۔ ’’بیٹا تم جاکر گاڑی میں بیٹھو میں ذرا تمہارے پاپا سے بات کرلوں!‘‘ آریان خوشی خوشی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تب وہ ریان کی طرف متوجہ ہوئی وہ اسے ٹکٹکی باندھے والہانہ انداز میں دیکھ رہا تھا‘ گزرے ہوئے وقت نے حریم کا کچھ نہیں بگاڑا تھا بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوب صورت‘ خود اعتماد اور پروقار ہوگئی تھی‘ متانت اور سنجیدگی نے اس کے چہرے پر ایک الوہی نکھار بخش دیا تھا‘ ریان کی نگاہوں نے اسے تھوڑی دیر کے لیے پزل کردیا پھر وہ خود پر قابو پاتے ہوئے اعتماد سے بولی۔
’’آپ اس پر اس قدر دولت لٹا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں‘ کہ وہ ایک لکھ پتی باپ کا بیٹا ہے اور اس کی ماں یہ سب افورڈ نہیں کرسکتی یا پھر آپ کی نیت آریان کو مجھ سے چھین لینے کی ہے؟‘‘ حریم کا اندازہ بالکل درست تھا مگر میں صاف مکر گیا۔
’’آخر وہ میرا بھی بیٹا ہے میرے بھی کچھ فرائض ہیں!‘‘
’’آپ کو تین سال بعد یاد آیا کہ آپ کے بھی کچھ فرائض ہیں۔‘‘ حریم کا لہجہ خودبخود تلخ ہوگیا۔
’’نہیں میں یہ کبھی نہیں بھولا مگر تمہاری خود ساختہ خودداری اور جھوٹی انا درمیان میں حائل رہی۔‘‘ میں نے سکون سے جواب دیا۔
’’جھوٹی انا‘ خود ساختہ خودداری‘‘ حریم چیخ پڑی اور اس کی چیخ پر آریان بھاگتا ہوا آکر ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
’’ماما آپ کیوں چیخی تھیں‘ پاپا نے آپ کو ڈانٹا ہے نا؟ میں پاپا سے ناراض ہوں اور میں اب ان کے ساتھ بالکل نہیں جائوں گا۔‘‘ مجھے لگا میرا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
’’سوری میری جان میں نے آپ کی ماما کو کچھ نہیں کہا‘ آپ خود پوچھ لیں۔‘‘ میں بری طرح اپنے بیٹے کے آگے گڑگڑایا‘ حریم نے ایک طنزیہ نگاہ مجھ پر ڈالی پھر پیار سے بولی۔
’’بیٹا آپ پاپا کے ساتھ جائیں انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا؟‘‘ میں آریان کو لے تو آیا مگر مجھے آئینے میں اپنی شکل نظر آگئی‘ میں کوشش کے باوجود حریم سے اس کی محبت کم کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ژظژ… ژ… ژظژ
حریم بے چینی سے ارحم کے انتظار میں ٹہل رہی تھی جونہی وہ گھر میں داخل ہوا وہ چیل کی طرح جھپٹی۔
’’کہاں چلے گئے تھے‘ کب سے انتظار کررہی ہوں تمہیں کچھ اندازہ ہے؟‘‘
’’زہے نصیب کہ آپ نے ہمیں یاد کیا‘ ہمارا انتظار کیا۔‘‘ وہ شوخی سے مسکرایا۔ ’’ورنہ آپ کو تو کسی اور کا ہی انتظار رہتا ہے۔‘‘
’’بکومت میں سنجیدہ ہوں۔‘‘ حریم چلائی۔
’’تو میں کون سا رنجیدہ ہوں‘ پہلے یہ بتائیے ہمارا پارٹنر کہاں ہے؟‘‘
’’سو گیا ہے اور اسی کے بارے میں تم سے بات کرنی تھی ریان‘ دولت کی چمک دکھا کر میرے بیٹے کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کررہا ہے اور میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔‘‘ وہ غصے سے چلائی۔
’’بھئی آخر وہ اس کا باپ ہے اور پیسے والا بھی تم اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرلیتیں؟‘‘ ارحم نے چھیڑا تو اس کے تلوئوں سے لگی اور سر پر بجھی۔
’’ارحم مجھ سے بکواس کرنے کی ضرورت نہیں‘ اس کی دولت پر میں لعنت بھیجتی ہوں اور اگر اس کے لیے مجھے آریان کو بھی چھوڑنا پڑا تو میں چھوڑ دوں گی مگر اس کے آگے نہیں جھکوں گی۔‘‘
’’دھیرج… دھیرج جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں‘ اس وقت ہمیں جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے‘ آریان تمہارا بیٹا ہے کہیں بھی جائے تمہارا ہی بیٹا کہلائے گا‘ مگر اس کے بہتر مستقبل کے لیے تمہیں کوئی ایک فیصلہ کرنا ہوگا یا اریان کو جانے دو اس کے بہتر مستقبل کی خاطر… یا پھر خود چلی جائو ریان کے پاس۔‘‘ حریم اس پر کشن اچھلاتی ہوئی بھنا کر کمرے سے باہر نکل گئی اور ارحم سوچ میں پڑ گیا۔
ژظژ… ژ… ژظژ
جمعہ کا دن تھا اور آج ریان کو چھٹی کے بعد آریان کو اسکول سے پک کرتے ہوئے لے جانا تھا‘ وہ اسے سیدھا اپنے آفس لے آیا جو قیمتی سامان اور آرائش سے مزین تھا‘ آریان کافی خوش اور مرعوب تھا اور یہی ریان کا مقصد تھا‘ ۶ بجے وہ آفس سے نکلا تو تقریباً سارا آفس خالی ہوچکا تھا۔
’’پاپا لفٹ سے نہیں سیڑھیوں سے چلیں گے۔‘‘ لفٹ کی طرف بڑھتے دیکھ کر آریان جلدی سے بولا اور سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی تب ریان کی نظر پڑی‘ کوئی نوجوان سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آرہا تھا۔
’’ارحم ماموں!‘‘ آریان نے آواز لگائی جب تک ریان اس کو پکڑتا‘ تیزی سے اترنے کی کوشش میں وہ سیڑھیوں سے لڑھکتا چلا گیا‘ بروقت وہ نوجوان نہ پکڑ لیتا تو شاید حادثہ اور شدید ہوتا‘ سیڑھیاں اندھا دھند پھلانگتا ہوا ریان جب نیچے پہنچا وہ نوجوان اسے گود میں اٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔
’’خبردار جو میرے بیٹے کو ہاتھ لگایا۔‘‘ ریان نے غصے میں اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’ریان بھائی‘ یہ بحث کا وقت نہیں‘ ہمیں آریان کو فوراً ہاسپٹل لے جانا چاہئے وہ بے ہوش ہے۔‘‘ ہوسپٹل میں ڈاکٹروں نے اطمینان دلادیا تھا کہ کوئی سیریس چوٹ نہیں ہے صرف خوف سے بے ہوش ہواہے بچہ۔ اب وہ دونوں بے چینی سے کوریڈور میں ٹہل رہے تھے۔ ریان نے غصے سے ارحم کا گریبان پکڑا اور چیخ کر بولا۔
’’میری بیوی پر تو تم نے قبضہ کر ہی لیا ہے اب میرے بیٹے کو تو معاف کردو‘ تم جب چاہو حریم سے شادی کرلو لیکن میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘
’’ریان بھائی کیا بات کررہے ہیں پاگل تو نہیں ہوگئے‘ یہ ہاسپٹل ہے تماشہ مت بنائیے۔‘‘ ارحم نے نرمی سے گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں‘ تم چاہتے ہو کہ میں حریم کو طلاق دے دوں تو میں دے دوں گا مگر اپنا بیٹا ہرگز نہیں دوں گا۔ وہ میری زندگی ہے‘ میری جان ہے۔‘‘ آخر میں ریان کا لہجہ التجایہ ہوگیا۔
’’میرا خیال ہے آریان کی جگہ آپ کے دماغ میں چوٹ لگی ہے جو اس قدر بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں‘ میں حریم سے شادی کیوں کرنے لگا‘ بلکہ کر ہی نہیں سکتا‘ کیونکہ وہ میری دودھ شریک بہن ہے مجھ سے ۶ مہینے بڑی‘ میرے والدین کی روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات کے بعد یہ چاچی ہی تھیں جنہوں نے حریم کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اپنا دودھ پلا کر نئی زندگی دی یہ علیحدہ بات ہے کہ کبھی اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں پڑی‘ مجھے تو حیرت آپ پر ہے کیوں ہم لوگ عورت اور مرد کے درمیان ایک ہی تعلق کو ڈھونڈتے ہیں‘ کیا ضروری تھا کہ میں اپنے گلے میں لیبل لگا کر گھومتا کہ حریم میری رضاعی بہن ہے۔‘‘ ارحم کے لہجے میں تلخی تھی اور میں شرمندگی اور خفت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا جارہا تھا۔ میری نگاہیں زمین میں گڑی تھیں‘ تب ہی حریم اپنے والدین کے ساتھ اور دادا دادی ہانپتے کانپتے آپہنچے‘ انہیں ان دونوں نے ہی فون کرکے اطلاع دی تھی۔ حریم‘ ارحم سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی مگر اب مجھے قطعی برا نہیں لگا‘ اسی لمحے ڈاکٹر نے آریان کے ہوش میں آنے کی اطلاع دی سب کمرے کی طرف بھاگے‘ اور حریم اس کو لپٹا کر بری طرح چومنے لگی‘ آریان نے نقاہت سے آواز لگائی۔
’’پاپا کیا آپ میرے پاس نہیں آئیں گے؟ میں آپ دونوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں‘ مجھے ماما پاپا دونوں چاہئیں۔‘‘
’’بس بیٹا بہت ہوگیا صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے اور پھر ہم گواہ ہیں کہ ہمارا بیٹا سدھر چکا ہے‘ تمہارے لائق ہوگیا ہے خدا کاشکر ہے ہم نے تمہارے ابو امی سے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنے کا وقت اب آگیا ہے۔‘‘
’’کیسا وعدہ!‘‘ ریا ن نے حیرت سے ماں باپ کی طرف دیکھا۔
’’تم خود کو جتنا بھی عقل مند سمجھو مگر ہو تو ہمارے بچے ہی‘ حریم تو اتنی سعادت مند بچی ہے کہ ہمارے اشارے پر فوراً آجاتی مگر ہم نے ہی منع کیا تھا کہ پہلے ہمارا بیٹا سیدھے راستے کا مسافر بن جائے‘ گمراہی کے راستے چھوڑ دے تم پھر اپنے گھر میں قدم رکھنا اور حریم کی شادی کی افواہیں پھیلانے میں ہمارا ہی ہاتھ تھا۔‘‘ ریان کو ماں باپ کی سازش پر پیار آنے لگا جو اسی کی بھلائی کے لیے تھی‘ حریم نے نظر اٹھا کر دیکھا ریان نے ہاتھ جوڑ رکھے تھے اور نگاہوں میں معاف کرنے کی التجا تھی اس نے بے ساختہ ارحم اور ماں باپ کی طرف دیکھا وہ بھی مسکرا رہے تھے وہ بے ساختہ ساس کے گلے سے لگ کر رونے لگی پھر آریان کو گود میں اٹھاتے ہوئے پیار سے بولی۔
’’چلیے ریان ہم اپنے گھر چلتے ہیں۔‘‘ اور اتنا سنتے ہی پورا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close