Aanchal Dec 15

خواہش نا تمام

ام اقصی

ایک بچی کی سب سے بڑی خواہش… ایک خوب صورت سا گڑیا کا گھر‘ ایک لڑکی کی سب سے بڑی خواہش… خوابوں کا محل اور اس میں بستا شہزادہ… ایک عورت کی سب سے بڑی خواہش‘ سکون کا مسکن گھر‘ خوش باش بچے‘ ایک خواہشِ ناتمام… اس نے اپنے بیٹے سے خواہش کی وہ حیران سا اٹھ کے چلا گیا۔ اور وہ اپنے بیٹے کی حیرت انجوائے کرتی سوچ رہی تھی اگر اس دنیا کی ساری خواتین سے اس وقت ان کی برسوں سے دل میں دبی خواہش پوچھی جائے تو شاید سن کے رونا آجائے۔ خوب صورت سوٹ‘ جیولری سے متعلقہ کوئی چیز‘ گول گپے‘ چند فراغت کے سکون بھرے لمحے‘ عورتوں کی خوشی اس سے بڑھ کے کیا ہوتی ہے بھلا؟ پر کوئی سمجھے تو…؟
/…/…/
نجانے یہ خواہش اس کے دل میں کیسے در آئی تھی پر تھی بہت شدت بھری۔ ایک خوب صورت سا گڑیا کا گھر۔ وہ تندہی سے دن بھر لگی رہتی‘ گھر میں مٹی گھول کے دیکھا‘ نہر کنارے گیلی ریت کو پائوں اوپر تھپکا‘ شیدے ترکھان کے گھر بچی کچھی لکڑیوں کو جوڑ دیکھا… شبیر لالے کے بھٹے پہ کچی پکی اینٹوں کو ملا دیکھا مگر اس کا مطلوبہ گڑیا کا گھر بن کے نہ دیا ایسے میں اماں کی پکاریں۔
’’او ستارہ کبھی کتاب بھی کھول کے دیکھ لیا کر… اس بار قاعدے کا سبق نہ آیا تو استانی نے اگلی جماعت میں نہیں کرنا۔‘‘ سو ایک مضبوط اور پائیدار سے گڑیا کے گھر کی خواہش اس نے پھر کبھی پہ اٹھا رکھی۔ آٹھویں کا امتحان پاس کرلینے اور فی الوقت پڑھائی کا سلسلہ موقوف ہونے کے بعد ایک بار پھر سے گڑیا کا گھر بنانے کی خواہش شدت سے اس کے من میں جاگی… مگر اماں نے ایک بار پھر اسے کڑھائی کے دھاگوں میں الجھا دیا… اور ستارہ کی خواہش بھی انہی دھاگوں میں کہیں الجھ گئی۔ سلائی کڑھائی میں ہاتھ سیدھے کرلیے اپنی جہیز کی ساری چادریں کاڑھ کے وہ پھر ہارڈ بورڈ لے بیٹھی… وہی گڑیا کا گھر بنانے کو جس میں سب کچھ ہو… مگر اماں کی آوازیں۔
’’اری او ستارہ چولہے میں جھونک یہ سب… کچھ کھانا پکانا بھی تو سیکھ لے… اگلے گھر ماں کی ناک کٹوائے گی کیا؟‘‘ اور ستارہ اپنی خواہش من کے چولہے میں جھونک کے کھانا پکانے لگ جاتی… ادھر کھانا پکانا مکمل آیا ادھر ماں کو اسے بیاہنے کی فکر لاحق ہوگئی۔ مناسب تعلیم‘ گھریلو امور سلائی کڑھائی‘ صفائی ستھرائی‘ سگھڑاپا سب فکروں سے آزاد ہوکے ماں نے اپنا آخری فرض بھی چکا دیا یعنی اسے بیاہ دیا۔
/…/…/
عزیر کے سنگ زندگی نوے فیصد مشرقی لڑکیوں کی زندگی کی طرح سمجھوتے بھری تھی۔ مائیں مشرقی لڑکیوں کی تربیت میں سب کچھ سکھا دیتی ہیں سوائے سمجھوتے کے… مائیں سمجھوتہ نہیں سکھاتی پھر بھی بیٹیاں ماں کی تربیت پہ حرف نہ آنے اور باپ کے شملے اونچے رکھنے کی خاطر یہ ازخود سیکھ جاتی ہیں شاید اپنی ماں کی زندگی سے ہی… یہ ایک خاموش سبق ہے جو ازل سے مشرقی لڑکیوں کی مڈل کلاس مائوں سے بیٹیوں تک بغیر سکھائے منتقل ہوتا آرہا ہے۔ ایک پیارے سے گڑیا کے گھر کی خواہش ابھی بھی ستارہ کے من آنگن میں بستی تھی مگر گھریلو خرچے اس کی اجازت نہ دیتے تھے۔ ایک وقت کا کھانا مکمل کرتے ہی دوسرے وقت کے کھانے کے لیے کوشش شروع ہوجاتی‘ اوپر سے اگلے ہی برس عباد کی آمد… پھر حوریہ… جویریہ اور پھر جڑواں صائم اور صمد… خواہش اور فرمائشیں تو نجانے کہاں جاچھپی تھیں‘ ضرورتیں پوری ہوجاتیں تو بڑی بات تھی۔
زندگی کچھ آگے سرکی بچوں کے رزق کا اللہ کا وعدہ پورا ہوا… عزیر کے بزنس میں ترقی ہوئی… بچے سارے ہی ذہین تھے۔ عباد کارڈیالوجی پڑھنے برطانیہ روانہ ہوگیا‘ حوریہ کی بی ایس سی کے بعد ہی شادی ہوگئی‘ جویریہ سی اے کے آخری سمسٹر میں تھی‘ صائم کی انجینئرنگ ختم ہونے کو تھی‘ صمد آرٹ سے وابستہ تھا‘ خواہشیں پوری ہوسکتی تھیں عزیر کے بزنس نے اتنی ترقی کرلی تھی مگر اب ستارہ کی خواہشیں بدل چکی تھیں‘ جویریہ کے جہیز کے لیے ملک بھر سے نادر اور قیمتی چیزیں… صائم کے لیے چاند سی دلہن کی تلاش‘ عباد نے وہیں کسی پاکستانی فیملی کی لڑکی سے ستارہ کی رضامندی سے شادی کرلی تھی۔ جویریہ پیا کے سنگ رخصت ہوئی اور ثمن صائم کے سنگ‘ ان کے انگنا میں مانند بہار اتری۔ عباد پاکستان شفٹ ہوچکا تھا‘ اس کی دو پیاری سی بیٹیاں فارینہ اور فاطمہ ستارہ کا خوب جی بہلائے رکھتیں‘ صمد کو اپنی کلاس فیلو پسند آگئی تھی‘ عزیر کو اس کا خاندان کوئی خاص پسند نہ تھا مگر ستارہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ عبیر اچھی تھی سو خاندان سے کیا لینا دینا۔ سب نے مل کے بلآخر عزیر کو بھی منا ہی لیا۔ ستارہ اپنے بوڑھے وجود کو بازاروں میں لیے صمد کی دلہنیا کے لیے اچھی سے اچھی چیز پسند کررہی تھی‘ آج کے دن بری فائنل کرلینی تھی‘ حوریہ اور ستارہ کو صائم مارکیٹ تک ڈراپ کرگیا تھا۔ مارکیٹ کے داخلی دروازے پہ ہی مختلف چھوٹی چیزوں کی سیل لگی تھی‘ اسی میں ستارہ کو ایک خوب صورت گڑیا گھر نظر آیا پل کی پل میں اسے اپنے بچپن کی خواہش یاد آئی وہ چند قدم آگے سرکی کہ سامنے انشاء کی فریم شدہ تصویر پہ نظر پڑی‘ ساتھ ہی ذہن میں نظم تازہ ہوگئی۔
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا اک اک شے کو مگر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر! محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہے تو اک اک دکان مول لوں
آج چاہے تو سارا جہاں مول لوں
نارسائی کا جی میں دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں…!!!
’’اماں آئیں بھی…‘‘ حوریہ کی آواز پہ وہ سانس بھرتی پلٹی وہ شاید آگے تک جاکے ان کو نہ پاکر پلٹی تھی۔ ستارہ ایک نظر گڑیا گھر کو دیکھتی پلٹی تھی عباد کی بیٹیوں کو ایسی چیزوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی ورنہ وہ شاید خرید ہی لیتی۔
/…/…/
بڑھاپا… بیماریوں کا مجموعہ!
بڑھاپا… زندگی بھر کی گئی غلطیوں کا نچوڑ
بڑھاپا… اپنی کرنیوں کا پھل
بڑھاپا… خود کو خود سے کی ہوئی زیادتیوں کا نتیجہ
زندگی اللہ کی ایک بیش بہا نعمت اور اس نعمت کے ساتھ جو ناانصافی کی جائے جو سلوک برتا جائے بڑھاپے میں وہی سامنے آتا ہے۔ تبھی تو بہت کم لوگ بڑھاپے میں بیماریوں سے مبرا ہوتے ہیں۔ بچپن اور شادی کے ابتدائی ایام کے علاوہ ستارہ نے زندگی کو خوب برتا تھا اور زندگی اب اس کو برتنے پہ آئی تھی۔ کینسر کی تشخیص ستارہ میں تب ہوئی تھی جب وہ بالکل آخری اسٹیج پہ تھا… سر درد کو ستارہ نے ہمیشہ معمولی لیا تھا… اس وقت وہ بستر مرگ پہ بے بس لیٹی تھی‘ خواہشِ ناتمام کے سلسلے میں ایک وزیر ہسپتال میں بچے سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ بچہ اتنا لاغر تھا کہ خود سے چل پھر نہ سکتا تھا‘ سب مل ملا کے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے۔ ہسپتال کی سیکیورٹی بہت سخت تھی‘ ستارہ کے پاس صرف عباد تھا‘ تبھی اس نے ستارہ سے اس کی آخری خواہش پوچھی تھی۔
’’گڑیا گھر…‘‘ عباد حیران سا اٹھ گیا۔ ستارہ بچپن کی محرومی سے کچھ دیر کھیلنا چاہتی تھی‘ جب دن رات اس کے لبوں پہ ایک دعا ہاتھوں پہ ایک کوشش ہوا کرتی تھی‘ خوب صورت سے گڑیا گھر کی… جب خواہش تھی تب لے نہ سکتی تھی‘ اور جب لے سکتی تھی تو خواہش میں شدت نہ رہی تھی مگر آج یہ خواہش پھر اسی شدت سے ابھری تھی۔ تو ثابت ہوا خواہش وقت کے ساتھ معدوم نہیں ہوتی بلکہ دوسری خواہشات‘ ضرورتوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
عباد ایک خوب صورت گڑیا گھر لیے عجلت بھرے انداز میں واپس آیا تھا… اور ستارہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند چکی تھی۔
کچھ خواہشوں کو زندگی بھر کے لیے ناتمام ہی رہنا ہوتا ہے شاید…!!
/

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close