Aanchal Dec 15

شناخت

بینا عالیہ

انہیں عادت تھی دیر تک اسٹڈی روم میں بیٹھنے کی‘ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے مضبوط انگلیوں کی پوریں تیزی سے کی بورڈ پر تھرتھرا رہی تھیں۔ ان کی توجہ اور نگاہیں چمکتی اسکرین پر مرکوز تھیں۔ یہ آخری ای میل تھی جو انہیں فرانس کی ایک ملٹی نیشنل فرم کو ارسال کرنی تھی۔ وہ ان کے دائیں جانب دودھ کا گلاس رکھ چکی تھی۔ انہوں نے سرعت سے نظریں اوپر اٹھائیں تشکرانہ مسکان ان کے چہرے پر پھیلی۔
’’تھینکس مائی گورجس وائف۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح شفق کی آنکھوں کی چمک بڑھی۔ ’’دودھ پئیں اور آکر سو جائیں۔‘‘ ان نو ماہ گیارہ دن میں دودھ ان کے قریب رکھتے ہوئے شفق کے اس جملے کے وہ پہلے سے منتظر رہتے۔
’’شفق تم جانتی ہو ساڑھے گیارہ سے پہلے میں نہیں اٹھنے والا۔‘‘
’’ہوں جانتی ہوں۔‘‘
’’پھر بھی؟‘‘
’’ہاں پھر بھی۔‘‘ وہ زیر لب مسکرائی۔
’’ای میل سینڈ کررہا ہوں پھر تھوڑا مطالعہ…‘‘
’’مجھے پتہ ہے۔‘‘
’’تم نے میڈیسن لیں؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’اچھا اب تم سو جائو میں آدھے گھنٹے میں آتا ہوں۔‘‘
’’دودھ ضرور پی لینا۔‘‘ شفق نے مسکراتے ہونٹوں کو جنبش دی۔ وہ مڑی ریان خان نے اس کا ہاتھ اپنی طرف کھینچا۔ وہ ان کی جانب کھینچتی چلی آئی۔ انہوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا‘ جواباً شفق نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور درواز ے کی جانب پلٹ گئی۔
ژ…ژ…ژ
کچن میں ڈائننگ ٹیبل پر رکھی ان تمام اشیاء کو بسورے منہ کے ساتھ گھور رہی تھی جو افروز بانو نے اس کے سامنے رکھی تھیں۔ ریان ہنسی دبائے شفق کی حالت زار کو انجوائے کررہا تھا۔ اس وقت وہ شفق کو زہر سے بھی برے لگ رہے تھے۔
’’شفق بٹر والے سلائس ختم کرو پھر تمہیں ملک شیک بھی لینا ہے۔‘‘ اماں کا لہجہ حتمی تھا‘ جس میں نرمی کی قطعی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
’’اماں۔‘‘ اس نے ناک چڑھائی۔
’’اماں دیکھیں آپ کی بہو ابھی تک اپنے سامنے ایگ سلائس رکھے بیٹھی ہے۔‘‘ شفق نے ریان کو گھورا جو چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرتے کرسی پیچھے دھکیلے اٹھ چکے تھے۔
’’اچھا بائے۔‘‘ انہوں نے گاڑی کی چابی اٹھائی۔
’’ریان شام سات بجے منتھلی ٹیسٹ کے لیے شفق نے کلینک جانا ہے۔‘‘
’‘’پیاری اماں مجھے یاد ہے۔‘‘ وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر حنا نے پھر تاکید کی تھی۔ ’’آپ خوب کھایا پیا کریں‘ آپ میں خون کی کمی ہے۔‘‘
’’ڈاکٹر کھاتی تو بہت ہوں۔‘‘
’’کلیجی‘ روزانہ کھائیں‘ ساتھ میں دودھ فروٹس جوسز استعمال کریں۔ آٹھویں منتھ کی رپورٹس میں بے بی کا ویٹ نارمل سے چند پوائنٹ نیچے ہے۔‘‘ ڈاکٹر حنا الٹرا ساؤنڈ رپورٹس دیکھ کر اس سے کہہ رہی تھیں۔ شفق جسمانی طور پر بھی کمزور تھی خون کی کمی پوری نہیں ہو پارہی تھی۔ بی پی بھی شوٹ کرجاتا۔
’’اگلے ماہ آئیں تو آپ کا ویٹ بڑھا ہونا چاہیے۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ ریان اور اماں اس کے لیے فکرمند تھے۔
ژ…ژ…ژ
ریان خان پاکستانی معروف فرم میں اچھی پوسٹ پر فائز تھے۔ ان سے بڑی دو بہنیں تھیں۔ ثمرہ اور ثروت دونوں شادی شدہ تھیں۔ ریان نے شفق کو فیملی کی ایک شادی میں دیکھا تھا۔ جو اماں کی سیکنڈ کزن کی بیٹی تھی۔ اماں کو بھی شفق پسند آگئی تھی۔ اس لیے ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہ آئی۔ ریان کو اس سے پہلی نظر کی محبت ہوگئی تھی۔ اگر کوئی ان سے پوچھتا کہ محبت کیسے ہوتی ہے تو وہ ضرور بتاتے‘ محبت کی رمزیں خود کو بے خودی کے مجسم ایستادہ میں گھیرے اسیر کرلیتی ہیں۔ شفق گندمی رنگت کی خوش شکل لڑکی تھی۔ اس کی مے کش سبز آنکھوں نے ریان کو اپنا دیوانہ بنالیا تھا۔ اس کے احساس کی دھنک ان کی روح کے ایوانوں کو مہکا گئی تھی۔ وہ جھکی جھکی متحرک آنکھیں‘ رکا رکا لہجہ بھنچے ہونٹوں سے ٹوٹتے فقرے‘ وہ ابر باداں کے پیرہن میں سموئی لڑکی ان کے نصیب میں لکھی جاچکی تھی تب قدرت نے ریان کی زیست میں اسے شامل کردیا۔ شفق ریان خان کا جنون تھی‘ وہ مخملی سراپے والی لڑکی جسے تکتے تکتے ان کی آنکھیں سیراب نہ ہوتیں وہ اس کا یوں خیال رکھتے جیسے کانچ کی گڑیا ہو۔ اماں بیٹے کو مسرور دیکھ کر خوش ہوتیں۔ شفق بھی یہاں کے مکینوں کی امیدوں پر پورا اتری تھی۔ رفاقتوں کے یہ سلسلے دونوں کو خواب آگئیں انمول ساعتوں میں لیے لیے پھرتے۔ شفق کی سبز آنکھیں ریان کی کمزوری تھیں۔ جن میں بار بار ان کا ڈوبنے کو دل چاہتا۔ ان مقناطیسی آنکھوں میں جو ان کی دسترس میں تھیں تب بھی وہ ہراساں ہوجاتے‘ اس کی بے انتہا محبتوں کی بارآوری پر… وہ گداز لبوں میں ان سے باتیں کرتی رہتی اور وہ ان دو آنکھوں میں کھوئے رہتے۔
وہ بہت سادہ تھی‘ وہ چوڑی دار پاجامے پر کوئی بھی شرٹ پہن کر مطمئن ہوجاتی اس کی طویل ہائٹ پر ہر لباس سجتا‘ کٹائو ہونٹوں کے اوپر خواب آگیں سبز آنکھیں جب وہ مڑی ہوئی پلکیں جھپکتی تو اس کی گندمی رنگت اسے اپسروں کے روپ میں رنگ جاتی۔ یہی آنکھیں ہی تو تھیں جو وہ ریان کا جنون بن چکی تھی۔ انتہائی مہذب پرسنالٹی کے ریان خان ان سبز آنکھوں کے سامنے اپنی سدھ بدھ گم کر بیٹھے‘ شانوں کو چھوتی سلکی بالوں کی پونی ٹیل اس پر سجتی تھی۔ ریان کو وہ ہر روپ میں اچھی لگتی‘ الوہی ماورائی کشش اس کے سراپے کی پور پور سے چھلکتی ان چند ماہ میں ریان کی محبتوں کی پناہوں نے شفق کو مزید سندر پن سونپ دیا تھا۔ جب اماں کو اس کی پریگنسی کا پتہ چلا تو کام نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا۔ اسے زبردستی کچھ نہ کچھ کھلاتی رہتیں۔ فرصتوں کے طویل لمحات سے وہ اوب جاتی‘ کچن میں مصروف اماں اور شمیم آپا کے قریب آگئی۔
’’اماں میں بور ہورہی ہوں۔‘‘
’’میرے پاس بیٹھو۔‘‘ انہوں نے ڈائننگ چیئر کی طرف اشارہ کیا۔ شفق ان سے سبزی کی ٹوکری لیے سبزی بنانے لگی۔
’’شام کو میں چائنیز بنائوں گی بتارہی ہوں‘ آپ دونوں خواتین کو۔‘‘ اماں مسکرائیں۔ ’’بس میں بنائوں گی اور آپ سب کھائیں گے۔‘‘
آفس آف ہوتے ہی ریان فوراً گھر آجاتے‘ ساس بہو انہیں فریش موڈ میں ویلکم کرتیں۔ اسے دیکھتے ہی ان کی دن بھر کی تھکان غائب ہوجاتی۔ وہ اسٹڈی روم سے نکل کر دبے پیروں بیڈ روم میں آئے تھے جانتے تھے شفق دس بجے تک سو جاتی ہے۔ صبح وہ جلدی اٹھتی تھی‘ نماز سے فارغ ہوکر کچن میں آجاتی‘ اس وقت اماں لائونج میں قرآن پاک پڑھ رہی ہوتیں۔ تین کپ چائے بناتی اس دوران ریان اپنے روم سے برآمد ہوتے‘ چائے کے دوران ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی‘ آج کل تو بات شفق کی صحت ہی کے بارے میں ہوتی تھی۔ چائے کے بعد ریان تیار ہونے چلے جاتے۔ اماں ناشتہ بنانے کچن میں آجاتی۔ شفق ان کے پیچھے چلی آتی۔ ناشتہ کے دوران ریان بس اسے دیکھتے ان کی نگاہیں شفق کے چہرے کا طواف کرتیں نہ تھکتی۔
’’یوں بھی کوئی دیوانگی دکھاتا ہے۔‘‘ شفق کے ہونٹ ہلکی سی سرزنش کرتے۔ تب اپنی آنکھوں کو اثبات میں جنبش دیتے گہری ہوتی معنی خیز مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتے۔ اس ویک اینڈ پر اماں کے اصرار پر وہ دونوں گھومنے نکلے تھے۔ حالانکہ شفق کا دل نہیں چاہ رہا تھا بے قرار کردینے والی بے زاری اس کے حواس پر مسلط رہتی‘ اس کا دل چاہتا کسی سے بات نہ کرے‘ بس اپنے کمرے میں لحاف میں دبکی رہے۔ ریان بھی اسے نوٹس کررہے تھے۔ وہ جبراً مسکراتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتی۔ اس روز وہ خوب گھومے تھے۔ وہ چلتے چلتے تھکنے لگی تھی۔ ہاتھ میں پکڑا پیناکولاڈا کا کپ جوں کا توں تھا۔ ناریل اور انناس کی رسیلی مہک بھی اسے اپنی جانب متوجہ نہیں کر پارہی تھی۔ جبکہ ریان نے اپنا کپ خالی کرکے ویسٹ باسکٹ میں پھینک دیا تھا۔ واپسی پر انہوں نے پی سی میں ڈنر لیا طبیعت قدرے بہتر ہونے کی بنا پر اس وقت وہ ریان خان سے خوب باتیں کررہی تھی۔ وہ تو بس اسے دیکھ رہے تھے۔ اس کے مقدم سراپے کو اپنی پتلیوں کے نور میں مقید کررہے تھے جوہمیشہ کے لیے امر ہوچکی تھی ان کی آنکھوں کے نور میں۔
شفق کا الٹراسائونڈ ہوا تھا بے بی کا وزن اور گروتھ تسلی بخش تھی۔ لیکن شفق کا بی پی کنٹرول نہیں ہو پارہا تھا۔ ڈاکٹر حنا فکرمند تھیں بار بار شفق سے خوش رہنے کی تاکید کرتیں۔ وہ مبہم سا مسکرا دیتی۔ ڈاکٹر میں خوش ہوں مطمئن ہوں‘ اماں اور ریان اس کی وجہ سے پریشان تھے۔ اس دوپہر اچانک شفق کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کرگیا تھا ڈاکٹر حنا نے تفصیلی چیک اپ کے بعد بتایا۔
’’ہمیں فوری طور پر انہیں آپریٹ کرنا ہوگا۔‘‘ بی پی کنٹرول کی میڈیسن اسے دی جارہی تھیں۔ ’’آپ بلڈ کی ارینج منٹ کرائیں اور باقی فارمیلٹی پوری کریں۔‘‘ ریان خان کی پریشانی دیدنی تھی۔ اماں خداوند قدوس سے ماں بچے کی زندگی اور صحت یابی کی دعائیں کررہی تھیں۔ ریان نے اپنے قریبی دوست اویس کو بلوالیا تھا جو ان کے فسٹ کزن بھی تھے۔ آپریشن چل رہا تھا دو گھنٹے گزر گئے۔ اماں سیٹنگ ایریا میں بیٹھی جھولی پھیلا کے دعائیں کرتیں رہیں ریان آپریشن تھیٹر کے سامنے نڈھال قدم گھسیٹتے رہے۔ ڈاکٹر حنا کو باہر نکلتے دیکھ کر جیسے ریان خان پر رعشہ کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر ان کے قریب آگئی۔
’’آ پ کی بیٹی ہوئی ہے۔‘‘
’’شا… فق…؟‘‘ لہجہ لڑکھڑایا۔
’’آئی ایم سوری ہم آپ کی وائف کو نہیں بچاسکے۔‘‘ ڈاکٹر حنا رنجیدگی سے گویا ہوئیں۔
’’ریان صاحب صبر کریں اللہ کو یہی منظور تھا۔‘‘ اس وقت اگر اویس انہیں تھام نہ لیتا تو وہ وہیں گر جاتے۔ اویس نے قریبی چیئر پر انہیں بٹھایا۔
’’ڈاکٹر جھوٹ بولتی ہے شفق کو کچھ نہیں ہوا‘ بھلا وہ کیسے مر سکتی ہے۔ ہم نے تو بہت ساری زندگی ایک ساتھ جینی ہے۔ شفق نے خود مجھ سے کہا تھا‘ ہم ان گنت ساعتیں ایک دوسرے کی ہمراہی میں گزاریں گے۔‘‘ ریان بمشکل اپنی جگہ سے اٹھے اور دھاڑیں مار کر روتی اماں کے گلے لگ گئے۔
’’کیا وہ اب کبھی نہیں آئے گی… نہیں آئے گی؟‘‘ دل خراش حقیقت نے بارہا انہیں باور کرایا تھا۔ اس سچائی کو تسلیم کرلو لبوں میں پھیلی ان سفاک پکاروں کو وہ قطعی نہیں سننا چاہتے تھے۔ وہ لمحہ کی ہر ساعت اپنی لازوال محبتوں کے گجرے اس کی کلائیوں میں پہنایا کرتے تھے اب کہاں سے تلاشیں وہ شیشے جیسی کلائیاں‘ شفق تم نے کیوں مجھے منجدھار میں چھوڑ دیا۔ اس کی قربتوں کا احساس ریان خان کو بے بس کر جاتا۔ اندر کی کسک ان کی جلتی آنکھوں میں بے بسی کی تیز دھاریں اتار گئی تھیں۔ انہوں نے بڑھی ہوئی شیو پر زور زور سے چوڑی ہتھیلیاں رگڑی تھیں‘ تب جیسے وہ دھیمے سے مسکائی ہو۔ دس ماہ گیارہ دن کی اس ازدواجی زیست میں انہوں نے بس اسے دیکھا اسے سوچا اپنے ہر لمحے کا اقتباس اس کے نام کیا۔ وہ تو جل پری تھی جو اپنی سبز آنکھوں کی سپردگی انہیں دے گئی تھی۔ وہ ان سبز زاروں کی عمیق جنبشوں میں اترتے چلے جاتے۔ اس وقت ان کے سامنے رکھا ایش ٹرے ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھر چکا تھا۔ اب بھی ان کی دو انگلیوں کی پوروں کے بیچوں بیچ سگریٹ سلگ رہا تھا۔ جس کے کناروں پر راکھ کی لمبی دھار بن چکی تھی۔ ان کی نگاہیں دیوار گیر کھڑکی کے گرین پردوں پر رکی ہوئی تھیں۔ اس کی زمرد آنکھوں کی مناسبت سے ریان خان نے شادی پر اپنے روم کی کلر تھیم رکھی تھی۔ جو گرین اور اسکن میں تھی۔
’’ریان لائٹ کیوں بند کی ہوئی ہے۔‘‘ ثروت آپا اندر آتے ہوئے بولیں‘ اور تمام لائٹس آن کردی۔ ثروت نے سوالیہ نگاہوں سے ایش ٹرے کی طرف دیکھا۔ پھر غم سے نڈھال اپنے اکلوتے بھائی کا جائزہ لیا۔ ملگجا لباس‘ بے ترتیب بال‘ گلابی آنکھیں‘ سگریٹ کی کثرت سے پپڑیاں جمے سیاہی مائل ہونٹ۔
’’سب لائونج میں بیٹھے ہیں‘ اٹھو وہی بیٹھتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں شکیل انکل اور ثوبیہ آنٹی جانے والے ہیں۔ آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘ ثروت نے شفق کے والدین کا نام لیا تھا۔
’’آپی میں یہیں پر ٹھیک ہوں۔‘‘ انہوں نے پھر گال انگلیوں کی پوروں سے کھجایا۔
’’اماں بلا رہی ہیں تمہیں۔‘‘ ثروت نے ایش ٹرے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ انہیں ہاتھ سے پکڑ کر اٹھانا چاہا‘ اب کی بار بغیر احتجاج کیے انہوں نے پیروں میں سلیپر پھنسائے اور کھڑے ہوگئے۔ سلام کرنے کے بعد وہ بیٹھ گئے۔ لائونج میں گھمبیرتا خاموشی مسلط تھی۔ ریان خان کو پل بھر کے لیے لگا یہاں پر شفق بھی موجود ہے۔ تمام نفوس کی سانسوں کے درمیان اس کی سانسیں بھی موجود ہیں۔ ان کی متورم آنکھوں میں اس کا چہرہ جھلملایا‘ ان پلوں میں شدت سے ان کا دل چاہا شفق کے نازک شانے انہیں میسر آجائیں۔ جن پر اپنی آنکھیں ٹیک کر خوب روئیں کہ ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔ اس وقت تمام لوگ خاموش تھے۔ کوئی کسی سے نگاہیں نہیں ملا سک رہا تھا۔ ثوبیہ آنٹی بار بار آنسو روکنے کی کوشش میں پلکیں جھپک رہی تھیں۔ ان کے ہونٹوں پر لرزہ طاری تھا۔ شکیل انکل ضبط کی طنابیں بمشکل سہارے بیٹھے تھے۔
اماں بچی کو گود میں لیے ہوئے تھیں۔ جو دنیا ومافیہا سے لاتعلق سو رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کہ اسے جنم دینے والی اس دنیا سے جاچکی ہے۔ ثمرہ اور ثروت بھی بے آواز آنسو بہا رہی تھیں۔ اس حولناکی سناٹے میں اچانک ارتعاش پھیلا‘ آواز آرہی تھی اس ویل ٹی ٹرالی کی‘ جو شمیم آپا گھسیٹتی ہوئی لائونج میں لائی تھیں۔ آپا نے خاموشی سے سب کے سامنے چائے کے کپ رکھ دیئے تھے۔ چائے کی گرم گرم خوش بو دار بھاپ نے بھی کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ کیا۔
’’ریان چائے پیو۔‘‘ شکیل انکل نے بات کرنے کا بہانہ تلاشا۔
’’جی۔‘‘ ریان نے چائے کی طرف دیکھا۔
’’آپا! بچی کا کوئی نام سوچا؟‘‘
’’ہاں ثوبیہ ریان اور شفق کو بیٹی کی خواہش تھی۔ ان دونوں نے سوچا تھا اگر بیٹی ہوئی تو اس کا نام احمرین رکھیں گے۔‘‘
’’تو پھر یہی نام ٹھیک ہے۔ کیوں ریان میاں۔‘‘ شکیل انکل نے اماں کی تائید میں ریان کی طرف دیکھا۔
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘
’’بیٹا ہم چاہتے ہیں احمرین کو ہم اپنے ساتھ لے جائیں۔‘‘ ثوبیہ آنٹی نے ریان کی طرف دیکھا جو سب سے لاتعلق دکھائی دے رہے تھے۔ جیسے انہیں فرق نہیں پڑتا بچی جہاں رہے جن کے پاس رہے۔
’’ثوبیہ میں اپنی پوتی کو خود پالوں گی‘ ثوبیہ تمہارا اور میرا غم مشترکہ ہے۔ شفق کے بعد اب میں احمرین کی جدائی برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ ثوبیہ اب بھلا کیا تکرار کرتیں۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گھر سدھار گئے تھے۔ لائونج میں اس وقت صرف اماں اور ریان موجود تھے۔ پنک کمبل میں لپٹی بے بی اب بھی دادی کی گود میں تھی۔ آپا شمیم کی بیٹی کو اماں نے مستقل یہاں رکھ لیا تھا‘ احمرین کی دیکھ بھال کے لیے۔ اچانک وہ کسمساتے ہوئے روئی اور پھر زور زور سے رونے لگی۔ ریان نے ایک بار بھی اپنی بیٹی کی طرف نہ دیکھا‘ ان کی پیشانی پر ناگواری کی گہری تیوریاں نمودار ہوئیں۔ اماں نے رینا کو آواز دی وہ فوراً کچن سے نکل کر اماں کے قریب پہنچی۔
’’بیٹا بے بی کے لیے دودھ بنا لائو۔‘‘ منہ میں فیڈر کا نیپل جاتے ہی احمرین نے رونا بند کردیا تھا۔
ہتھوڑے کی طرح مسلسل ایک ہی بازگشت ریان خان کے دماغ میں کھلبلی مچا رہی تھی۔ شفق میں تمہارے بغیر کیسے جیوں گا‘ کاش کاش یہ منحوس لڑکی اس دنیا میں نہ آئی ہوتی جس نے تمہاری جان لے لی۔ یہ مر جاتی تم زندہ رہتیں۔‘‘ آنسوئوں نے بھینچے ہونٹوں کو مزید دبایا۔ برزخ جیسی برفیلی کاٹ ان کی روح کے ذرے ذرے میں یخ بستگی بھرتے انہیں شدید اذیت پہنچا رہی تھی۔
’’کرب ناکیاں درد کی یہ انتہائیں میرے روشن مقدروں میں ایسی انمٹ سیاہی بھر جائیں گی‘ اگر مجھے علم ہوتا تو تمہیں کبھی ماں نہ بننے دیتا۔ شفق تمہیں ہی تو شوق تھا ماں بننے کا۔ پھر میں تمہاری خواہش کیسے رد کرتا۔‘‘ وہ ہستی جس سے ریان خان کا دل کا رشتہ تھا۔ اس کے مقدس درجات یوں دل میں جاگزین ہوئے تھے جو متحرک رفعتوں کے ہنڈولوں میں محو پرواز ان کی دائمی ہمراہی کو امر کردیتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں کے عشق کی انتہائیں سپرخاک کی گہرائیوں میں طمانیت کی چادر اوڑھے ان سے بے خبر ہوگئی۔ وہ پھر سگریٹ سلگا چکے تھے۔ تہجد کی نماز کے لیے اماں اٹھی تو ریان کے کمرے میں چلی آئیں۔ ان کی خواب گاہ سگریٹ کے کڑوے کسیلے دھویں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ صوفہ پر بے سدھ نیم دراز تھے۔ سامنے ٹیبل پر ایش ٹرے جلے ٹکڑوں سے بھرا ہوا تھا‘ اماں دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی ٹکرٹکر اپنے اکلوتے بیٹے کو گھورتی دم بخود نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ ریان کو ان کی آمد کی خبر نہ ہوئی۔ وہ نپے تلے قدم اٹھاتیں ان کے قریب آگئیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ بیٹے کی حالت زار پر۔ شفق کا اماں کو بھی بہت دکھ تھا۔ بیٹیوں سے بڑھ کر اس نے ان کا خیال رکھا۔
’’ریان۔‘‘ بالوں میں الجھا ان کا ہاتھ اماں نے نرمی سے تھپتھپایا۔ وہ چونکے۔ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔ اماں نے ان کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر ایش ٹرے میں رکھا سلگ سلگ کر جس کی راکھ فلٹر تک پہنچ گئی تھی۔
’’ریان سو جائو۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ ماں سے نگاہیں کترا رہے تھے۔
’’بیٹا بستر پر جاکر لیٹو۔‘‘ انہوں نے جلتی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے دبایا۔
’’اماں میں کیسے زندہ رہوں گا اس کے بغیر۔‘‘ انہوں نے گونگی سسکیاں گلے کے اندر روکیں۔
’’ریان صبر کرو۔ اللہ کے حکم کے سامنے ہماری کیا مجال۔‘‘
’’نہیں ہو پارہا صبر۔‘‘ وہ گلے کے بل رندھی آواز میں بولے۔ اماں نے انہیں گلے لگالیا۔ ’’اماں میں کیا کروں۔‘‘ کس قدر بے بسی لاچارگی شکست خوردگی سمٹی ہوئی تھی ان کی لغزش کھاتی آواز میں اور اب وہ چٹانوں کی مانند مضبوط ریان خان دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ ان کے بے آواز آنسو اماں کے کندھے کو بھگوتے رہے۔ اماں نے انہیں چپ کرانے کی کوشش نہ کی اور واقعی تھوڑی دیر بعد دل کا غبار نکلنے سے وہ پرسکون ہوگئے تھے اماں نے انہیں صوفہ سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا کمبل اوڑھایا اور ان کے قریب بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھتے انہیں دم کرتی رہیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ نیند میں چلے گئے۔ اس دن کے بعد انہیں کبھی اماں نے روتے نہ دیکھا۔
ژ…ژ…ژ
احمرین کے خدوخال ماں باپ کا مکسچر تھے۔ آنکھیں ماں کی طرح چمکتے زمرد کی مانند گرین تھیں۔ ناک بھی ماں کی طرح ستواں تھی۔ ہونٹ اور کشادہ پیشانی باپ پر گئی تھی اس کی آنکھیں کھول کر دیکھنے کا انداز بھی شفق جیسا تھا۔ احمرین کے معاملے میں تو ریان نے چپ سادھ رکھی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ اسے اگنور کیا تھا۔ سفاکی دکھائی۔ وہ جھولے میں پڑی روتی رہتی‘ ان کے دل کو ذرہ احساس نہ ہوتا‘ نہایت بے زاری سے اسے دیکھتے‘ احمرین کو دیکھتے ہی ان کے زخم تازہ ہوجاتے۔ اگر یہ دنیا میں نہ آتی تو میری دنیا نہ اجڑتی۔ بیٹیاں تو بہت بڑی نعمت ہوتی ہیں‘ وہ غیر ارادی طور پر اس نعمت کی نفی کرتے‘ اللہ کی ناراضگی کے مرتب ہوتے۔ اللہ تو بے نیاز ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ رب نے شفق کو اپنے پاس بلالیا یہ اس مالک کی مرضی‘ بدلے میں ننھی پری بھی تو انہیں عطا کی۔ وہ بدستور اس سے انکاری ہورہے تھے‘ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کررہے تھے۔ اماں نے بہت کوشش کی وہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ تب ان کی ویران آنکھوں میں بے بسی کی تلملاہٹ عود آتی۔ اگر ایسا ان کے اختیار میں ہوتا تو کب سے زیست کی طرف لوٹ آتے۔ جب بھی احمرین کو دیکھتے مندمل ہوتے زخموں کے کھرنڈ اکھڑنے لگتے۔ انہوں نے صبح کی بیڈ ٹی نہیں چھوڑی تھی۔ پہلے کی طرح صبح سات بجے آفس کے لیے نکل آتے‘ احمرین اب چلنے لگی تھی۔ وہ جیسے ہی ان کے قریب آتی‘ اس کے ننھے ننھے ہاتھ جھٹک دیتے۔ غصہ سے اسے گھورتے‘ وہ ڈر جاتی سہم کر ہونٹوں کو گولائی میں لرزنے سے نہ بچا پاتی۔ آنکھیں چھلک آنے کو بے قرار ہوتیں۔
’’ریان کیا ہوگیا ہے تمہیں‘ اس بچی سے کون سی دشمنی نکال رہے ہو۔‘‘ تب ان کی آنکھوں میں اس کے لیے ناپسندیدگی مزید بڑھتی کس قدر تنفر ہوتا تھا ان کے دیکھنے میں۔ احمرین نے پہلا لفظ ماں… بابا… اماں ہی تو سیکھا تھا۔ ان کی بصارتوں میں وہ دہکتی ریت بن کر چبھتی اس نحوست ماری نے میری شفق کو موت کے ذائقے سے ہم کنار کیا ہے۔ میں کیسے یہ سب بھلا سکتا ہوں۔ تیز آریاں ان کے سینے پر چلتی۔ اس شام وہ قالین پر ڈھیر لگے کھلونوں سے کھیل رہی تھی۔ ریان نیوز پیپر پڑھ رہے تھے۔اس کا کھلونا سامنے کے صوفے کے قریب جاگرا۔ وہ صوفہ کا ہینڈل پکڑتی کھڑی ہوگئی۔ اس کے پیروں کا بیلنس برقرار نہیں ہو پارہا تھا۔ اس نے مزید آگے پیر رکھنا چاہا معاً گر نہ جائے اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر ریان کے گھٹنوں کو زور سے پکڑ لیا۔
’’بابا… با…‘‘ وہ توتلی زبان میں ہونٹوں کو ہلا رہی تھی جو خودبخود لرزش کھانے لگے تھے۔ سبز آنکھیں آنسوئوں کے ریلے کی زد میں تھیں۔ ریان خان نے تھیکی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ بازوئوں سے اس سختی سے پکڑا کہ ننھی سی جان بلک اٹھی۔
’’احمرین کیا ہوا۔‘‘ اماں فوراً کچن سے نکلیں۔
’’اماں پلیز اسے سنبھال لیا کریں۔‘‘ ریان کی آواز میں تندی تھی۔
’’آخر اس ایک سال کی بچی نے کہہ کیا دیا ہے۔‘‘ اماں کے لہجے میں بھرپور احتجاج تھا۔
’’مت اسے میرے سامنے لایا کریں۔‘‘ اخبار ٹیبل پر پھینکتے ہوئے چیخے۔ اماں نے احمرین کو اٹھا لیا تھا۔ وہ اماں کے کندھے سے لگی آنکھیں بند کیے سانس پوری طرح روک چکی تھی۔
’’خدا سے ڈرو ریان مرے ہوئے انسان کو ترجیح دے رہے ہو ایک زندہ بن ماں کی بچی پر۔ شفق سے تمہاری یہ کون سی محبت ہے۔ تم اس کی بچی کے ساتھ جو کررہے ہو کیا اسے تکلیف نہیں ہوتی ہوگی۔ اس کی ماں تو خدا نے لے لی اور باپ نے بھی بے حسی سے منہ موڑ لیا۔ یہ تم کون سا ایصال ثواب شفق کی روح کو پہنچا رہے ہو۔‘‘ حلیم الطبع اماں جو اکثر ریان کے رویے سے ڈسٹرب رہتیں۔ آج ان کی برداشت کی تمام طنابیں بے قابو ہوگئی تھیں۔ وہ بلا تکان بولے چلی گئیں۔ وہ حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہے تھے۔ ریان خان خود کو حق بجانب گردانتے تھے۔ اماں کو تو ان کی سپورٹ کرنی چاہیے تھی ناں کہ وہ انہیں ڈانٹ رہی تھیں۔ وہ یک بارگی خود کو مزید بے بس اور نڈھال محسوس کررہے تھے۔ آج سے پہلے اماں نے ان سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ آخر اماں بھی تو پریشان ہوسکتی تھیں۔ ریان خان وہاں سے کب کے جاچکے تھے اماں احمرین کے لیے ریان خان کی فل پروٹیکشن چاہتی تھیں۔ انہیں اس شدید کریش سے باہر نکالنا چاہتی تھیں۔ احمرین ان کے کندھے سے لگے لگے سو گئی تھی۔ احمرین بڑی ہورہی تھی سارا دن گھر میں گھومتی توتلی زبان میں اماں سے باتیں کرتی تو وہ اسے خود سے بھینچ لیتیں۔ ریان تھوڑی دیر پہلے آفس سے آئے تھے۔ کب سے ان کے سامنے چائے کا کپ رکھا تھا۔ اماں اپنا کپ خالی کرچکی تھیں۔ اچانک احمرین ان کے سلیپر اٹھا کے باپ کے نزدیک آگئی۔
’’بابا یہ پہنو۔‘‘ وہ ان کے شوز پر ہاتھ مار رہی تھی کہ وہ اتاریں اور یہ پہنیں۔ ریان نے اس دوسالہ بچی کی طرف دیکھا۔ اس کی روشن سبز آنکھیں باپ کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ وہ مبہوت سے اسے دیکھتے رہے۔ آج فسٹ ٹائم وہ اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ہوبہو ان کی شفق کا پرتو تھی۔ اس کی آنکھوں میں براجمان کشش‘ ریان خان نے بے قراری سے پہلو بدلا۔ پیشانی بلاوجہ عرق ریز ہوئی جارہی تھی۔ جسے بائیں انگلیوں سے دبایا۔
اماں بغور ریان کو دیکھ رہی تھیں۔ آج خلاف توقع انہوں نے احمرین کو تضحیک آمیز نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔ سراسیمگی کیفیت میں مسلسل مبتلا تھے۔ وہ شخص جو ہمیشہ احمرین کو دیکھتے ہوئے غصے سے چلاتا تھا‘ اس وقت نارمل دکھائی دے رہا تھا۔ ریان یہ دوسال کی بچی جانتی ہے کہ تم اس کے باپ ہو‘ وہ کچھ کہے بنا ٹھنڈی بدذائقہ چائے کے بڑے بڑے گھونٹ حلق سے اتار رہے تھے۔
ژ…ژ…ژ
اس ویک اینڈ پر اویس اور اس کی بیوی ندا آئے ہوئے تھے۔ لنچ کے بعد لان میں گرین ٹی کا دور چل رہا تھا۔ ریان کا موڈ قدرے بہتر تھا۔ اویس کے بچے اور احمرین لان میں کھیل رہے تھے۔ ریڈ فراک میں سبز گھاس پر بھاگتی گرتی احمرین ریڈ روز معلوم ہورہی تھی۔ اماں کی نگاہیں بار بار احمرین کی طرف اٹھتیں۔
’’ریان بھائی میں نے آپ کے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے۔‘‘ انہوں نے چونک کر ندا کی طرف دیکھا۔
’’ریان ندا نے وہ لڑکی مجھے بھی دکھائی ہے۔ اچھی ہے۔‘‘ اویس نے شانے اچکائے۔
’’تم نک چڑھے سے تو بہت زیادہ خوب صورت اور خوش مزاج ہے۔‘‘ ریان کے ماتھے پر گھمبیرتا تیوریوں کا جال دیکھ کر اویس ماحول کو مکردہ ہونے سے بچانا چاہ رہا تھا۔
’’پلیز اویس۔‘‘ ریان نے ہاتھ کے اشارے سے مزید کچھ کہنے سے روکا۔
’’پھوپو کی بھی یہی خواہش ہے تم اب شادی کرلو۔‘‘
’’اویس میری شادی ہوچکی ہے۔‘‘ لہجہ سپاٹ تھا۔
’’ریان بھائی بھابی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔‘‘ ریان نے اویس کی جانب معنی خیز تپی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ سو چ رہے تھے‘ اویس تمہیں کیا معلوم وہ میرے ساتھ پل پل رہتی ہے۔ اس کا لمس ہر جگہ محسوس ہوتا ہے۔
’’ریان ہماری بات پر غور کرو۔ مانا کہ تم بھابی کو کبھی نہیں بھول سکتے‘ لیکن اس بے ثبات زندگی کو قدرے ڈگر پر لانے کی کوشش کرو۔‘‘
’’ریان بیٹا مان جائو۔‘‘ اماں نے پہلی بار ان کی گفتگو میں حصہ لیا۔ ان کا لہجہ بہت ہی ملتجیانہ تھا۔
’’آپ لوگ مجھ پر پریشر نہ ڈالیں‘ میں نے شادی نہیں کرنی۔ یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔ آئندہ اس ٹاپک پر مجھ سے بات نہ کی جائے۔‘‘ ان کی آنکھیں اچانک گلابی ڈوروں سے بھرگئی تھیں۔ چہرے پر اضطراب کی تہیں بڑھتی جارہی تھیں۔
کتنے ماہ وسال وقت اپنی پٹاری میں بھرتا لے اڑا۔ احمرین میٹرک میں پہنچ گئی۔ اس نے پوری ماں کی شکل چرائی تھی۔ اماں شفق کا ذکر احمرین کے سامنے یوں کرتیں جیسے وہ اس کے پاس ہر ساعت رہتی ہے۔ اس نے اپنے کمرے میں اپنی ماں کی ڈھیروں تصاویر لگا رکھی تھیں۔ ریان کی بے اعتنائی کا ذکر اماں نے مختصراً دوچار بار اس سے کیا تھا۔ احمرین نو سال کی تھی جب اس نے دادی سے سوال کیا تھا۔
’’اماں بابا مجھ سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ میں نے تو مما کو نہیں مارا‘ میں نے آج تک ایک بار بھی بابا کے منہ سے اپنا نام نہیں سنا نہ ہی وہ میری طرف دیکھتے ہیں‘ کبھی میرا نام میرا ذکر نہیں کیا۔ میں نے بھی تو اپنی ماں کو کھویا ہے‘ ایک بار بھی میں نے ان کی گود کی گرمائش وگداز پن محسوس نہیں کیا۔ میں نے تو کسی سے شکوہ نہیں کیا میں نے تو اللہ سے نہیں کہا تھا میری ماں کو لے لو پھر بابا مجھے کیوں ذمے دار ٹھہراتے ہیں‘ کیا واقعی میں قصوروار ہوں‘ ماں کی موت کی بابت‘ جب بھی بابا کے سامنے آئوں غصیلی نظروں سے دیکھتے ہیں‘ ان کا کوئی کام کروں تو جھڑک دیتے ہیں‘ چلاتے ہیں‘ اماں میں ان کے چیخنے سے ڈر جاتی ہوں۔ اماں آپ بابا سے کہو ناں مجھ پر نہ چیخا کریں۔ میری سانسیں بند ہونے لگتی ہیں۔‘‘ روہانسی ہوتے ہوئے وہ گم صم بیٹھی دادی کے دونوں ہاتھ پکڑے زور زور سے انہیں ہلا رہی تھی۔ اماں کے کانوں میں احمرین کے جملے گرم سیسے کی مانند اترتے محسوس ہوئے۔ اماں نے کس کس طریقے سے ریان کو نہیں سمجھایا تھا‘ یا تو وہ اماں کو جواب نہ دیتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔ اس روز انہوں نے اماں سے کہا تھا۔
’’اگر اب آپ نے مجھے شادی کے لیے یا اس لڑکی کے متعلق کچھ بھی کہا تو میں پاکستان چھوڑ کر چلاجائوں گا‘ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘ ان کا انداز جارحانہ تھا‘ لہجے میں کرچیاں بھری ہوئی تھیں۔
’’کس چیز کی کمی ہے اس لڑکی کو اچھے اسکول میں پڑھ رہی ہے لگژی لائف میسر ہے‘ آپ کو ایک بڑی امائونٹ اس کے لیے دیتا ہوں اور میں کیا کروں اس کے لیے۔‘‘
’’ریان احمرین کو تمہاری محبت چاہے‘ توجہ کی ضرورت ہے اسے۔ یہ دنیاوی ظاہری چیزیں اس کے لیے اہمیت نہیں رکھتی‘ یہ سب کچھ تو میں بھی اسے دلا سکتی ہوں۔‘‘
’’میں اس کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘ خشمگیں نظروں میں بے مروتی کی حدیں عود آئی تھیں۔
’’ریان وہ تمہاری اولاد ہے۔‘‘
’’جانتا ہوں۔‘‘ اس لڑکی نے ان سے ان کی خوشیاں چھین لی تھیں‘ یہ تو وہی جانتے تھے‘ تنہائی کو تنہائی سے کاٹنا کس قدر دشوار ہوتا ہے یہ وہی جانتے تھے۔ اماں زچ ہوکر رہ گئی تھیں۔
’’ریان تم ٹھیک نہیں کررہے۔‘‘
’’یہ بھی شفق کے ساتھ چلی جاتی تو اچھا تھا۔‘‘ وہ اکثر احمرین کے ذکر پر آگ بگولا ہوجاتے۔ بے بس کردینے والا جنون وہیجان ان پر مسلط ہوجاتا۔ ریان خان بہت اونچا بولتے تھے اوپن کچن میں کھڑی احمرین پیلی پڑ گئی اس کا سر گھوم رہا تھا حواس باختگی میں وہ کانپ رہی تھی۔
’’بابا اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘ گھٹی گھٹی سسکیاں اس نے گلے کی عمیق گھور کوٹھڑی میں چھپالی تھیں۔ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے وہ ہونٹوں کو سختی سے بند کیے ہوئے تھی۔ بلند ہوتی ہچکیوں کو اس نے آخری نیند سلانا چاہا۔ لائونج میں اب مکمل سناٹا تھا۔ وہ بھاگتے قدموں سے اپنے بستر پر اوندھی گرگئی تھی۔
’’بابا خدا آپ کی دعا کو قبولیت بخش دے‘ اگر مما کے ساتھ میں نہیں مری تو اب مرجائوں‘ میرے مرنے سے آپ کی زندگی میں سکون آسکتا ہے تو میرا رب مجھے اپنے پاس بلالے‘ میں اپنی ماں کے پاس جانا چاہتی ہوں۔‘‘ ریان کی رعونت بھری نگاہیں اس کے وجود میں چنگاڑ رہی تھیں۔ شام کو اماں احمرین کے کمرے میں آئیں تو وہ تیز بخار میں پھنک رہی تھی۔ رو رو کر اس کی آنکھیں سوجھ گئی تھیں‘ ریڈ پپوٹوں پر بھیگی پلکوں کے درمیان سبز آنکھیں بری طرح سلگ رہی تھیں۔
’’احمرین بیٹا کب سے سو رہی ہو۔‘‘ ماتھے پر بکھرے اس کے بال اماں نے سنوارے۔ اس کی پیشانی تپ رہی تھی۔ اماں نے پریشان ہوکر اس کی کلائی چھوئی‘ وہ تیز بخار میں تھی۔
’’بیٹا تمہیں تو تیز بخار ہے‘ اٹھو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتی ہوں۔‘‘
’’اماں کیوں پریشان ہورہی ہیں۔‘‘ اس کی آواز میں شدید نقاہت تھی۔ درد وبے بسی تھی احمرین کے لہجے میں۔ اماں کا دل دھک سے رہ گیا۔ بے انتہا اذیت ناکی عود رہی تھی احمرین کی آواز میں۔ اماں کا کلیجہ پھٹنے لگا تھا۔
’’میری جان ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ناں۔‘‘ اسے بٹھاتے ہوئے اماں نے پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا‘ وہ پورا گلاس پی گئی۔
’’تم اپنا حلیہ درست کرکے آئو میں گاڑی نکالتی ہوں۔‘‘
’’مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘ احمرین نے پھر تکیے پر سر رکھ لیا تھا۔ اب بھی اس کی آنکھوں میں نمی کی موٹی تہہ موجزن تھیں۔
’’احمرین تمہیں تیز بخار ہے‘ جلدی اٹھو میں گاڑی کی چابی لے لوں۔‘‘ اماں ہمیشہ خود اسے پک اینڈ ڈراپ کرتی تھیں۔ شاپنگ کے لیے بھی اسے خود لے جاتیں‘ اس کے لیے بہترین ڈریسز اور شوز خریدتیں ویک اینڈ پر اسے گھمانے لے جاتیں۔ لاہور کے تمام پارک باغات قدیم عمارتیں مسجدیں ان دادی پوتی نے ایک دوسرے کی سنگت میں خوب سیریں کیں واپسی پر فائیو اسٹار ہوٹل میں ڈنر لیتیں تو کبھی احمرین کی خواہش پر کسی ڈھابے سے کھانا کھاتیں۔ ہر بار احمرین باپ کو مس کرتی۔ کاش بابا آپ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تب ہم خوب گپیں لگاتے‘ میں آپ سے ضدیں کرتی‘ فرمائشیں کرتی جو آپ فوراً پوری کرتے۔ میں خود کو آپ کی گود میں چھپائے کس قدر خوشی کا اظہار کرتی۔ آپ میرے لیے کھلونے لاتے میں توڑ دیتی تو آپ ہنستے ہوئے غصہ دکھاتے۔ میں زور زور سے تالی بجاتی تو آپ مجھے اپنی گود میں بھینچ لیتے۔ میں کھل کھلا کر ہنستے ہوئے بانہیں آپ کی گردن کے گرد حمائل کرلیتی‘ آپ فرط جذبات سے میرا ماتھا چومتے‘ میرے گالوں کے بوسے لیتے لیتے نہ تھکتے‘ میں چیختی زور زور سے ہنستی‘ میری ہلتی پونی ٹیل پر آپ اپنے ہونٹ ٹیک دیتے۔ تب میں آپ کی بانہوں کو مزید کستے ہوئے ان میں چھپنے کی کوشش کرتی۔
’’ بابا… باباجی…‘‘ رقت آمیزی سے خود کو بچاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر چشمے پھوٹ پڑے۔
ریان خان اس وقت اپنے کمرے کی دیوار گیر گلاس ونڈو کے قریب کھڑے لان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آج کا دن ان کا اداسی میں گزرا تھا۔ کچھ دیر پہلے آفس سے آئے تھے۔ آج شفق کی چودھویں برسی تھی‘ وہی احمرین کی برتھ ڈے بھی تھی۔ اس وقت وہ فریش ہونے کے بعد پردے سائیڈ پر کرتے ویڈ سلائیڈ کا ہک اوپر کھینچتے ہوئے انہوں نے سلائیڈ ایک طرف کی تھی۔ اس وقت احمرین لان میں ایزی چیئر پر تنہا بیٹھی چیئر غیر ارادی طور پر آگے پیچھے کررہی تھی۔ اس نے سفید چوڑی دار پاجامے پر کاسنی لانگ فراک پہن رکھا تھا‘ گلے میں ٹائی اینڈ ڈائی دوپٹہ کسا ہوا تھا۔ وہ اداس تھی‘ ایک لمحہ کو ریان کو لگا ان کے سامنے شفق ہے۔ احمرین کی رنگت بہت سفید تھی۔ جبکہ شفق گندمی سنہری رنگت رکھتی تھی۔ وہ ٹکٹکی باندھے مسلسل اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کی چودہ سالہ بیٹی کا قد ماں جتنا ہوچکا تھا۔ وہ چونکے‘ ایک جھرجھری نے ان کے دماغ کے بخیے ادھیڑ دیئے۔
’’یہ شفق نہیں ہے‘ نخوت بھری وہ لڑکی ہے جس نے شفق کو مجھ سے چھین لیا میری شادمانی ہڑپ کرگئی۔ زندگی کو مجھ پر عذاب بنادیا بوجھ بنادیا۔ منحوس ہے یہ۔‘‘ ان کے دماغ کی نسیں پھڑپھڑائیں آنکھیں دہکتے انگارے بن گئیں۔ چہرے پرغیض وغضب ابھرا اہانت آمیز انداز تھا ان کا۔
’’ریان ہوش میں آئو۔‘‘ کسی نے انہیں جھنجوڑا‘ انہوں نے اپنے اطراف دیکھا۔ کمرے میں ملگجے اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے خود ایک نسوانی آواز محسوس کی تھی۔ ریان نے ذہن جھٹکا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔ آنکھیں بند کیے اضطرابی کیفیت میں بند مٹھی بار بار آہستگی میں پیشانی پر مار رہے تھے۔ ’’ریان احمرین کے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہو؟ وہ میری بیٹی ہے‘ آپ خود غرض ہیں‘ ایسی محبت کرتے ہیں مجھ سے‘ میری بچی کے ساتھ آپ کا ناروا سلوک۔ احمرین کی کراہیں سسکیاں بے بسیاں بے آواز آنسوئوں کی صدائیں میری روح کو کچوکے لگاتی ہیں۔ مجھے تو اتنا ہی آپ کے ساتھ رہنا تھا‘ اس میں اس معصوم کا کیا قصور؟‘‘ گھبرا کر انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ یہاں تو کوئی نہیں تھا۔ اندھیرا مزید ہیبت ناکی پھیلا چکا تھا۔
’’ریان تم رونگ ہو۔‘‘ اب بھی صدائیں ان کے کانوں میں ہتھوڑے برسارہی تھی۔ گھبرا کر وہ صوفہ سے اٹھے‘ انہوں نے پھر کھڑکی سے لان کی جانب دیکھا۔
موم بتیوں کی تھرتھراتی لو میں جو کیک پر جھلملا رہی تھیں‘ احمرین کا دبیز چہرہ مڑی لانبی پلکوں کی پناہوں میں اداس سبز آنکھیں لرزتے ہونٹ‘ اس نے یک بارگی غیر ارادی طور پر باپ کے کمرے کی ونڈو کی طرف دیکھا۔ جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اماں اور شمیم آپا ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈیئر احمرین کہہ رہی تھیں۔ اس نے کیک کاٹا‘ احمرین نے اماں کو کیک کھلایا‘ پھر شمیم آپا کو‘ اماں نے احمرین کے منہ میں کیک ڈالا‘ پھر اماں نے ریڈ گلابوں کا بکے اور ایک گفٹ پیک اس کے ہاتھ میں تھمایا۔ اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔ پھر شمیم آپا نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ اس وقت احمرین کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر ریان خان کی آنکھوں کی یورش بڑھی‘ اندر سے سرزنش ابھری۔
’’ریان تم سے اچھی تو وہ نوکرانی ہے جو تمہاری بیٹی کی خوشی سلیبریٹ کررہی ہے۔ ایک غریب خدمت گار نے اپنی بساط کے مطابق اسے تحفہ بھی دیا ہے۔ تم اس کے باپ ہو جو آج تک اپنی اولاد کے لیے ایک مٹی کا کھلونا بھی نہ لاسکا۔ کیسا بدنصیب ہے تمہارا سراپا جس کے لمس سے ہمیشہ وہ محروم رہی‘ عدم تحفظ کا شکار رہی تمہاری پدرانہ محبت اس کے نصیب میں نہ رہی۔ تم نے مری ہوئی بیوی کی خاطر اپنی لخت جگر کو ہمیشہ اگنور کیا، پھر سے چیخ وپکار برپا ہوئی۔
’’ریان خان تم نے ہمیشہ صرف اپنے بارے میں سوچا۔ صرف تم‘ تمہاری محبت‘ تمہاری امنگیں‘ خواہشیں‘ خوشیاں تمہاری جن کے کھو جانے کی وجہ اس لڑکی کو منحوس ثابت کرکے اپنا دفاع کیا تم نے۔‘‘
’’یہ سچ ہے‘ میری شفق اسی کی وجہ سے بچھڑی ہے‘ مجھ سے۔‘‘ اندر کی صدائوں کو دباتے گھبراہٹ سے آواز بلند کرتے دوبارہ صوفہ پر بیٹھ گئے۔ سامنے کی دیوار پر ان کی شادی کی تصویر آویزاں تھی۔ وہ سوچ رہے تھے اگر آج شفق ہوتی تو میری یہ بوجھل زندگی کس قدر خوب صورت ہوتی۔ ایک دوسرے کی سنگت میں ہم کس قدر مسرور ہوتے۔
’’ریان ہمیشہ تم دونوں بیٹی کی خواہش کرتے تھے۔ اللہ نے تمہارے گھر رحمت بھیجی تم نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔‘‘
’’نہیں ہے مجھے اس کی ضرورت۔‘‘ خود کلامی میں بڑبڑائے‘ پھر سے اندر بیٹھے منصف نے انہیں راہ ہدایت کی تلقین دینا چاہی۔
’’ریان خان کب سے اپنے خدا کی ناراضگی مول لے رہے ہو۔ بلاوجہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانا کسی سے نفرت کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ تم نے اپنی اولاد کے ساتھ ایسا برتائو رکھا‘ کیا قصور ہے اس لڑکی کا؟ وہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئی‘ اللہ کے حکم سے آئی اور سبب بنے تم اسے دنیا میں لانے کا۔ اب تم اس کے مرنے کی تمنا کرتے ہو۔ کیسے باپ ہو تم۔‘‘ اچانک ان کی نگاہوں میں وہ ننھی سی گڑیا جھلملائی۔
’’بابا پانی پی لو۔‘‘ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں گلاس پکڑے ان کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی تمام توجہ باپ پر تھی۔ انہوں نے نفی میں سرہلایا۔ ’’پیو ناں بابا۔‘‘ احمرین نے گلاس ان کے ہونٹوں سے لگانا چاہا تو وہ اسے گھورنے لگے۔ خوف سے اس کے ہاتھ کانپے پانی چھلک کر ان کے کپڑوں پر گرا۔
’’جائو یہاں سے۔‘‘ اسے زور سے پیچھے ہٹایا۔ ضبط کی سسکاریاں اندر ہی اندر روکنے کی کوشش میں اس کے ہونٹوں پر لرزش طاری تھی۔ سبز آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ وہ ہچکیاں روکنے کی کوشش کررہی تھی‘ گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا۔ جس کی کرچیاں اطراف میں پھیلی تھیں۔
ژ…ژ…ژ
احمرین کے اسکول میں پیرنٹس میٹنگ تھی۔ وہ ان کی ٹانگوں سے چمٹ گئی تھی۔ بابا میرے اور اماں کے ساتھ آپ بھی چلیں۔‘‘
’’نہیں جانا مجھے ہٹو میرے سامنے سے۔ اماں پلیز اسے میرے سامنے مت لایا کریں۔‘‘ اس روز وہ اماں سے کہہ رہے تھے۔ ’’اسے ہوسٹل بھیج دیں۔‘‘ وہ باپ کے پیچھے کھڑی سن رہی تھی۔ احمرین بھاگ کر آئی اور دادی کی گود میں چہرہ چھپائے سانسیں روک چکی تھی۔ اماں اسے گود میں بھرے اپنے کمرے میں لے آئیں تھیں۔
’’اماں میں نے کہیں نہیں جانا۔‘‘
’’میری جان کوئی نہیں تمہیں بھیج رہا تم میرے پاس رہوگی۔‘‘
’’بابا نے ابھی آپ سے کہا ہے ناں۔‘‘ وہ ابھی تک خوف زدہ تھی۔ اماں نے اسے بیڈ پر لٹایا خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گئیں۔
’’اماں مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائیں گی‘ مجھے ڈر لگتا ہے بابا مجھے ہوسٹل بھیج دیں گے۔‘‘
’’میری جانو کو کوئی نہیں ہوسٹل بھیج رہا‘ میں ہوں نا تمہارے پاس۔ سو جائو تم۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ احمرین کا کندھا تھپتھپا رہی تھیں۔ ان دنوں احمرین میٹرک کے ایگزیم سے فارغ ہوئی تھی۔ بوریت سے اکتا کر اماں کے پیچھے پیچھے رہتی‘ اماں کو کام کرتے دیکھتی رہتی۔ احمرین بہت کم گو تھی۔ اماں اس سے خوب باتیں کرتیں۔ اپنی جوانی کی اولین یادوں کی پٹاری کھول دیتیں۔ احمرین کے دادا افروزہ بانو کے کیسے مجنوں تھے‘ اماں ہنستی چلی جاتیں احمرین مسکراتی رہتی۔ نہ سوال نہ جواب‘ اماں ریان کے بچپن کی باتیں اسے بتاتیں‘ وہ دلچسپی سے سنتی پھر شفق کی باتیں اس سے کرتیں‘ ماں کے ذکر پر احمرین کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ ہونٹوں پر گہری آہ ابھرتی۔ اکثر لاشعوری طور پر ریان اپنے کمرے میں اندھیرا کیے لان میں گھومتی احمرین کو دیکھتے تھے۔ اب ان کی آنکھوں میں جوار بھاٹے نہیں اٹھتے تھے۔ چہرے کا تنائو نہیں بڑھتا تھا‘ وہ تو بس گم صم مبہوت دکھائی دیتے‘ اج تک پدرانہ شفیق ہاتھ انہوں نے اس کے سر پر نہیں رکھا تھا۔ اچانک سے کیسے اس کی جانب متوجہ ہوتے‘ جھجک اور انا پرستی کو کہاں چھپاتے۔
…٭٭٭…
اس دن اپنے لیے شاپنگ کرتے ہوئے انہوں نے لیڈیز سوٹ بھی پیک کرالیے تھے۔ اماں اور احمرین لائونج ہی میں تھیں۔ احمرین نے نگٹس بنائے تھے۔ کھاتے ہوئے اماں اس کی خوب تعریفیں کررہی تھیں۔ احمرین خوش تھی‘ اس وقت باپ کی بے اعتنائی کے چھالے اس کی آنکھوں میں کہیں نہیں تھے۔ وہ اللہ کا شکر ادا کرتی جو ماں جیسی دادی کا سہارہ اسے ملا تھا۔ ورنہ اس کے ساتھ کیا ہوتا۔ شاید بابا مجھے کسی شیلٹر ہوم میں دے آتے۔ ان سے بعید کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ وہ صرف اپنی خوشی وخواہشات کے پجاری تھے۔
’’اماں اور لیں۔‘‘ وہ ان کی پلیٹ میں مزید نگٹس بھررہی تھی۔
’’بس کردو لڑکی۔‘‘ وہ مسلسل احتجاج کررہی تھیں۔ یکبارگی ریان لائونج میں انٹر ہوئے۔ احمرین اسی پل ساکن ہوگئی۔
’’السلام علیکم بابا۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘ آج انہوں نے قدرے بلند آواز میں جواب دیا ورنہ پہلے صرف سر ہلاتے تھے۔ وہ کھسیانی شکل سے انہیں دیکھ رہی تھی‘ خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ آج پہلی بار اس کے باپ نے زبان سے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ اس کی سبز آنکھوں میں کیف آگیں ان گنت جگنو روشن ہوگئے تھے۔ آج بابا کے چہرے پر تنائو نہیں تھا۔ انہوں نے شاپنگ بیگز ٹیبل کے کنارے پر رکھے تھے۔ اماں نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’ڈریسز ہیں۔‘‘ مختصراً جوان دیا۔
’’کس کے لیے؟‘‘ اماں نے استفسار کیا۔ ان کی نگاہیں لمحہ بھر کے لیے احمرین پر رکیں۔ باپ کی اتنی سی توجہ پاکر اس کی دنیا روشن ہوگئی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا دنیا کو چیخ چیخ کر بتائے۔
’’دیکھو تو سہی میں بختاور بن گئی۔ میں خوش نصیب ہوں میرے بابا جانی نے آج میرے لیے شاپنگ کی ہے۔‘‘ اماں خوشی سے ریان کو دیکھ رہی تھیں۔ بولنے کی صلاحیت جیسے مفلوج اور زبان گنگ ہوچکی تھی۔ شاکڈ تھیں دادی پوتی۔
’’بابا فریش چائے بنا کر لائوں۔‘‘ آج احمرین کی آواز کی کھنک میں زیست کا رنگ چھلک رہا تھا۔ ریان کی آنکھوں میں مستقل پشیمانی کا موسم ٹھہرا دکھائی دے رہا تھا۔ کمپوزڈ فیز میں جانے کی سعی کررہے تھے۔
’’ہاں ہاں پئے گا۔‘‘ ریان کی خاموشی کو اماں نے زبان دے دی۔ کچھ دیر بعد وہ مزے دار سی چائے لے آئی تھی۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی بابا نگٹس رغبت سے کھا رہے تھے۔ اب وہ چائے کے ہلکے ہلکے سپ بھی لے رہے تھے۔ وہ اپنے ایموشنز چھپا رہی تھی۔ ایسی سچویشن پر بدستور اس کے مرنے جینے کا عمل جاری تھا۔ وہ سراپا تشکر بنی ممنون نگاہوں سے باپ کو دیکھ رہی تھی جو بظاہر مصروف انداز اپنائے ہوئے تھے۔ وہ باپ کے چہرے پر اپنے لیے گداز رمق تلاش کررہی تھی۔ ریان خان کی آنکھوں میں اب بھی لاتعلقی کی ہلکی سی لکیر تھی۔ احمرین کی آنکھوں کی بڑھتی دھند میں ان کا چہرہ دھندلا ہوتا چلا گیا۔ احمرین کے لیے تو بابا کی اتنی توجہ ہی کافی تھی۔ یہ منظر اس نے اپنی سبز آنکھوں کے نور میں ہمیشہ کے لیے پرولیا تھا۔ اب وہ گزشتہ لمحوں کو کبھی نہیں پکارے گی۔ بس اسی میں خوش رہے گی۔ اس کے بابا اس پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ ریان خان افیشل ٹور پر ترکی گئے تو وہاں سے بلجیم کی چاکلیٹ اور پرفیومز لائے تھے‘ احمرین کے لیے۔ اس وقت دادی پوتی لائونج میں بیٹھی تھیں جب وہ اپنے کمرے سے نکلے۔ ان کے ہاتھ میں دو بڑے بڑے شاپنگ بیگز تھے جو انہوں نے اس وقت اماں اور احمرین کے درمیان میں رکھے تھے‘ دونوں نے بے یقینی سے ریان کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی۔ جسے کنٹرول کرنے کی انہوں نے بہت کوشش کی تھی۔ وہ رکے نہیں تھے ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی کی رنگ گھماتے باہر نکل گئے تھے۔
’’اماں…!‘‘ احمرین دادی سے لپٹ گئی۔ اماں کے چہرے پر اطمینان تھا۔
’’آخر کو اولاد ہو اس کی احمرین‘ ریان تم سے بہت محبت کرتا ہے۔ بس انا کے نے اس کی سوچوں کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔ اگر وہ اس خول سے باہر نکلے تو اس کی ایگو مجروح ہو۔ میری بچی وہ لوٹ رہا ہے تمہاری طرف۔ اسے جب اللہ نے ہدایت دینی ہے تب ہی ایسا ہونا ہے۔‘‘ خوشی بھرا وجدان تھا جو ابھی ابھی رب نے شرف قبولیت عطا کیا تھا۔ قوس قزح اس کے رستوں میں کہکشاں بن کر اتری تھی۔ جگ مگ کرتے ستارے اس کی سبز آنکھوں میں نئی امیدوں کی دھمال ڈال رہے تھے۔ ایک ماہ پہلے ریان خان اپنے کولیگ کے ساتھ اسلامک سینٹر کے اجتماع میں گئے تھے۔ موضوع تھا والدین اور اولاد کے حقوق۔ جہاں والدین کے حقوق ہیں وہاں اولاد کے لیے بھی حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔
مقرر عراق سے آئے ہوئے تھے۔ انگریزی زبان میں ان کا لب ولہجہ بے حد پر تاثیر تھا۔ وہ نہایت سہل انداز میں قرآنی آیات کے ذریعے موضوع کی بابت بات کررہے تھے۔ خطیب کے بیان کا ایک ایک فقرہ ریان خان کے اندر بے چینی سمیٹ لایا تھا۔ انہوں نے بیٹی کے ساتھ کیسا برتائو رکھا جبکہ ان کی بیٹی تو بہت صالح تھی۔ لیکن ان کے اندر چودہ سال سے براجمان زہر‘ انا‘ ہٹ دھرمی انہیں روکتی رہی‘ کبھی انہوں نے سوچا ہی نہ کہ اللہ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں۔ مقرر نے آنحضرتﷺ کی زندگی میں بیٹیوں کی پرورش اور محبت کا ذکر کیا۔ وہ تمام باتیں فلیش کی طرح ان کے ذہن میں گھومتی رہیں۔ انہیں تو احمرین سے محبت کرنی چاہیے تھی‘ جس نے ماں کو کھویا تھا‘ باپ بھی اس سے دور ہوگیا۔ ان کے اندر ایک سرد جنگ جاری رہتی۔ اس روز وہ کئی دنوں بعد اسٹڈی روم میں آئے تھے جہاں فیملی وال فوٹوز میں شفق کی کئی تصاویر موجود تھیں۔ جہاں ان کی بیٹی تو کہیں بھی نہیں تھی۔ وہ کافی دیر سے شفق کی ایک تصویر کے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔ انہیں محسوس ہوا شفق کی آنکھوں میں شکوہ ہے۔ جیسے وہ التجائیں کررہی تھی۔
’’ریان احمرین کو مرنے کی بد دعائیں نہ دیا کرو‘ میں تمہارے پاس اسے امانت چھوڑ کر آئی تھی۔‘‘
’’شفق وہ تمہاری جدائی کی وجہ بنی ہے۔‘‘
’’ریان ایسا اللہ کا حکم تھا‘ احمرین کا کیا قصور۔ خدا کی رضا پر راضی رہنا سیکھو۔ ایسا کرکے دیکھو تم مطمئن وپرسکون ہوجائو گے۔‘‘ انہیں ایسا لگا جیسے شفق کے ہونٹ ہل رہے ہوں۔
’’ہاں شفق احمرین میری بیٹی ہے۔ اب میں اسے بد دعائیں نہیں دوں گا۔‘‘ ان کی گلابی آنکھوں کے ڈورے اچانک گہرے ہوئے۔ دروازے میں کھڑی احمرین جسے اماں نے چائے دے کر بھیجا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپے‘ ٹرے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ گرم گرم چائے اس کے پیر پر گری تھی۔ ہلکی سی کراہ اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی۔ ریان خان نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔ کوئی غیر مرئی طاقت تھی جو ان کے قدم احمرین کی طرف بڑھا رہی تھی۔ ان کے چہرے پر پریشانی تھی۔ احمرین کا پیر لال ہوچکا تھا۔ باپ کے چہرے پر اپنے لیے پریشانی اسے انہونی بات لگ رہی تھی۔ اس خوشی میں جلنے کی تکلیف وہ بھول چکی تھی۔
’’بیٹا خیال رکھا کرو۔‘‘ وہ اس کے پیر پر جھکے ہوئے تھے۔
’’بیٹا…!‘‘ وہ زیرے لب بڑبڑائی‘ اسے یقین نہیں آرہا تھا‘ انہوں نے جیب سے رومال نکالا اور اس کے پائوں پر لپیٹ دیا۔ ہلکی سی چیخ نما آواز اس کے حلق سے نکلی۔ اس نے جھٹ پیر سے رومال کھینچ کر آنکھوں سے لگا لیا۔ چودہ سالہ تمام نمی اس رومال میں جذب ہوچکی تھی۔
’’احمرین برنال لگا لینا‘ جب آرام آجائے تو میرے لیے اچھی سی چائے بنانا‘ جیسی شفق بناتی تھی۔‘‘ وہ تیزی سے اسٹڈی روم سے باہر نکل گئے۔
’’جی… جی بابا۔‘‘ وہ ہنس رہی تھی۔ اس کی پلکیں ابھی بھی گیلی تھیں‘ تب اس نے اماں کی طرف دیکھا۔ جو تھوڑی دیر پہلے کچھ گرنے کی آواز سن کر ادھر آئی تھیں۔ اماں کی آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close