Aanchal Dec 15

گمان کا سفر

سیمابنت عاصم

ہمیشہ میرا فخر یہ رہا کہ میں نے کبھی غرور نہیں کیا، غرور اللہ سے دوری کا سبب ہے۔ اللہ نے مجھے بہت نوازا، عطا کی انتہا کردی لیکن میں نے کبھی غرور نہیں کیا، میرے پاس پرکشش صورت، اعلیٰ عہدہ، حسب نسب، بلند کردار، عزت، مالی آسودگی سب ہی کچھ تھا لیکن انکساری میرا اوڑھنا بچھونا رہے، کبھی جو کہیں دو چار لفظ ستائش کے سن ہی لیتی بے اختیار کہتی۔
’’الحمدللہ… اللہ کی دین ہے۔‘‘ بے شک یہ سب اللہ ہی کی دین تھی۔
اور محبت… محبت جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کبھی جو افتخار احسن کہتا۔
’’تم میری زندگی ہو سچ مر جائوں گا تمہارے بغیر۔‘‘
یا یہ کہ ’’تم ایک مکمل لڑکی ہو، سچ میری خوش بختی کا ستارہ ہو تم۔‘‘ یہ سچ تھا سب ہی کچھ تو تھا میرے پاس کامیابی آسودگی، صحت، محبت، ستائش۔
افتخار احسن کی تعریف جیسے جسم میں آکسیجن بھر دیتی، ہوتا ہے نا ساری دنیا آپ کو سراہتی پھرے لیکن محبوب کی ستائش سب سے بھاری ہوتی ہے۔ میں طمانیت سے مسکرا دیتی۔ اس وقت گمان کے کسی گوشے میں بھی یہ سوال نہ ابھرتا کہ اس مسافت کا آخر انت کیا ہے محبت، حصول پر سرخرو یا پھر مکمل ہوتی ہے۔ مگر محبت کا انت حصول بھی تو ہے لوگ ایک دوسرے کو پانے کے لیے زمانے سے ٹکرا جاتے ہیں مگر ہمارے درمیان کبھی ’’ملن‘‘ کا موضوع آیا ہی نہیں۔ وہ میرڈ لائف گزار رہے تھے نو عمر بچوں کے باپ تھے حصول ناممکن تھا ہم دونوں کا اس پر تکیہ تھا۔ میں بھی میچور امیج لڑکی تھی۔ خواب ضرور دیکھتی، مگر حقائق پر بھی نظر رکھتی۔ ہم اکثر ملتے باتیں کرتے جدا ہوجاتے۔ وہ اکثر شام کے وقت مجھے آفس کی بلڈنگ کے نیچے منتظر ملتے ہم کچھ وقت ساتھ گزارتے، یہ وقت میری زندگی کا ماحاصل ہوتا۔ جب لگتا میری زندگی میں میرا اپنا کچھ ہے اور بس انسان حقائق کی بدصورتی پر تکیہ کر جائے تو قرار پاجاتا ہے وہی عالم تھا۔ موبائل پر ہمارے میسجز چلتے ہر صبح مارننگ میسج ان کی طرف سے فارورڈ میسج پھر میرا جوابی فاروڈ میسج دعائیہ، ادبی، علمی، اسلامی، جیسے بس ایک رسید دیتی ہو، اپنے پن کی اس کے سوا میں لاکھ سر پٹختی پھروں، خاموشی…! انہیں میسج ٹائپ کرنے کی عادت ہی نہ تھی۔ سات سال ہوگئے تھے میں نے انہیں ان کی تمام کوتاہیوں سمیت قبول کر رکھا تھا۔ ہوتا ہے نا، جب آپ کسی میں شدت سے انوالو ہوتے ہو تو بس پھر وہ ہی وہ رہ جاتا ہے خود اپنی ذات تو کہیں پس پشت چلی جاتی ہے وہی معاملہ تھا۔
ان پر گھریلو، آفیشل ذمہ داریوں کا بار تھا۔ بچوں کی پڑھائی خاندانی تقاریب جس کے لیے وہ ہفتہ ہفتہ آئوٹ آف سٹی رہتے۔ دور افتادہ کوئی گائوں ان کی جنم بھومی تھا۔ جاب کے بکھیڑے یہ وہ، میری ذات تو جیسے سب سے آخر میں آتی تھی مگر وہ کہتے ’’میں تم سے دنوں نہ ملوں رابطہ نہ رکھوں لیکن تم میرے اندر سے نکل جائو یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ میرے لیے اتنا بھی کافی تھا۔ میں ایک سوئی جاگی سی کیفیت کچھ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان۔
اماں مجھے اٹھتے بیٹھتے زندگی کے تلخ حقائق باور کراتی رہتیں انہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا بنے گا۔ مگر یہ کہیں دور پرے کی بات تھی۔ محبت ان سب سے بالاتر ہے میں نے کہیں پڑھا تھا ’’جو لمحہ کسی کی یاد میں گزر جائے وہ ضائع نہیں ہوتا۔‘‘ بس یہی احساس مجھے تھامے رکھتا۔
بات ہورہی تھی غرور کی کہ میں نے کبھی غرور نہیں کیا۔
مگر فخر، ناز، گمان یہ سب گھمنڈ کے ہی پہلو ہیں اس کا ادراک بہت آگے جاکر ہوا۔ میں ہاتھ اٹھاتی تو تمام امت مسلمہ کے لیے دعا کرتی۔
موسم کی سختیوں کی نذر کتنی زندگیاں ہوجاتی ہیں۔ پروردگار کل مومنین کو اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔
بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں شاد و آباد تھے۔ ان کے چھوٹے بڑے مسائل، مشکلات، مصائب خود میرے پاس اماں تھیں۔ ان کی درازی عمر، سکھ کے لیے ہاتھ پھیلاتی وہی میرا سہارا تھیں۔ بلکہ ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا اور ہم دونوں کا ہی ایک دوسرے پر تکیہ تھا۔
خود مجھے رب نے بہت نوازا تھا جتنا عطا کیا کافی تھا خود کے لیے تو کوئی دعا ہی نہ تھی اور شاید یہی گمان غرور تھا بس ایک ثانیے کا گمان جو پکڑ کی لپیٹ میں آگیا۔ یہ کچھ دن پہلے کی بات تھی وہ کوئی قومی چھٹی کا دن تھا میں گھر کے سارے بکھیڑے چھٹی والے روز نمٹاتی، صفائی ستھرائی، جھاڑو پونچھا ہفتہ بھر کے کپڑوں کی دھلائی۔ علی الصبح سارا گھر بکھیر کے بیٹھ جاتی جانے کیسے لوگ ہوتے ہیں جو چھٹی کے روز دن چڑھے تک سوکر چھٹی کا حق ادا کرتے ہیں۔ میرے لیے اس دن کام چار گنا ہوتا، جھاڑو پونچھا صفائی دھلائی میں مشغول رہتی۔ واشنگ مشین کی گھنٹی بجتی تو درمیان میں کپڑے نچوڑ کر ڈالتی رہتی۔ اس دن بھی بالٹی بھر کے واشنگ مشین میں ڈالی، وجود کے ایک گوشے میں ٹیس سی اٹھی۔ میںنے پروا نہ کی۔ جتی رہی مگر سب کاموں سے فراغت تک درد بڑھ چکا تھا۔ میں کراہنے لگی اماں صلواتیں سناتی ہوئی درد کھینچنے والے تیل کی مالش، گرم پانی کی ٹکور کرتی رہیں۔
’’اس لڑکی کو ذرا قرار نہیں نہ خود چین سے بیٹھتی ہے نہ دوسروں کو بیٹھنے دیتی ہے۔‘‘ آج قومی چھٹی اسپتال بند تھے اب ایسی ایمرجنسی بھی نہ تھی خیر درد کم ہوہی گیا، مگر اماں کی تاکید تھی۔ ڈاکٹر کو ضرور دکھانا ہے ان کی تاکید کے سبب ہی اگلے روز آفس جاتے ہوئے اسپتال دکھایا مگر ڈاکٹر نے دوا کی بجائے چند ٹیسٹ لکھ کر پکڑا دیے۔ اب کون ٹیسٹ کراتا پھرے مجھے آفس سے دیر ہورہی تھی۔ کل پر رکھ کر راہ لی مگر درد ایک بار پھر بڑھا مجھے وقت نکال کر ٹیسٹ کرانے ہی پڑے، ڈاکٹر نے رپورٹس پڑھ کر خاصے سنجیدہ نظروں سے مجھے تکا پھر مایوسی سے سر ہلایا۔
’’کوئی اچھی خبر نہیں۔‘‘ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
’’یہ ایک رسولی کہلائی جاسکتی ہے، جو ابھی تکمیل کے مرحلہ میں ہے آپریشن کے سوا کوئی حل نہیں۔‘‘ مانو میرے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، ایسا تو سوچا بھی نہ تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب کوئی علاج؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’اس وقت اس کا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مکمل ہوجائے تب ہی آپریشن ہوسکتا ہے۔‘‘ مگر میری تکلیف بڑھتی جارہی تھی ڈاکٹر نے کہا تکلیف تو ہوگی پھر ایک عام سی پین کلر کاغذ پر گھسیٹ دی۔
اسپتال سے لوٹتے وقت میرے قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔ مصلحتاً اماں کو نہ بتایا آج کل کے ڈاکٹر مایوس بہت کرتے ہیں۔ کھٹ سے مریض کے منہ پر جو دل میں آئے بک دیتے ہیں۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے ہر مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل تو ہوتا ہی ہے نا۔
میں نے اپنی ایک تجربہ کار سینئر کو رپورٹس دکھا کر مشورہ طلب کیا ان کا جواب یکساں تھا۔ مگر حوصلہ مضبوط یہ زندگی ہے اور زندگی میں بہت کچھ ہوتا ہے مجھے کچھ قرار نصیب ہوا۔ وہ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے بولیں۔ ’’آفس میں ہوا اڑ رہی ہے ادارہ خسارے میں جارہا ہے کچھ ملازمین کو برطرف کیے جانے کا خدشہ ہے۔‘‘ یہ باتیں میں نے بھی سنی تھیں لیکن ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ بات درست ہی ہے سو یہی ہوا، میں بھی لپیٹے میں آگئی گو کہ آفس سے کافی پیسہ ملا تھا۔ مگر کب تک چلتا میرے سر پر ذمہ داریوں کا بار تھا۔ اسی فکر کے تحت جگہ جگہ سر پٹختی پھری تعلیمی قابلیت، تجربہ، اہلیت، سبھی کچھ تھا مگر لگتا تھا ہر دروازہ بند ہوچکا ہے ہر جگہ ناکامی یہاں تک کہ میں تھکنے لگی۔ حالات کی خرابی نے صحت پر برا اثر ڈالا۔ پے در پے ناکامیوں نے مایوسی کی انتہا کو پہنچا دیا۔ اور وہ جو ایک دل خوش کن محبت کا احساس تھا مانو وہ بھی مصیبت کی ان گھڑیوں میں کوئی بھولا بھٹکا خواب بن کر رہ گیا۔ افتخار احسن مجھے آفس سے پک کرتے ہم کچھ وقت ساتھ گزارتے تھے ان کی پروموشن ہوئی اب شہر شہر پھرنے کا کام سر پر آپڑا مانو ملاقاتوں کے وہ خمار آلود لمحے آزمائش کی ان گھڑیوں کی نذر ہوگئے اب کئی کئی دن ایس ایم ایس نہ آتے ان کی شکل کو ترس گئی۔ ایک بار ایک کام کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان جانا ہوا۔ ان کا آفس قریب تھا ان سے ملنے کو کہا وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے کاموں کی طویل فہرست، میں نے منہ پھیر لیا تب وہ مانے بھاگم بھاگ آئے مگر آج کی ملاقات میں وہ دل ربائی نہ تھی نہ میرا ہاتھ تھاما نہ ستائش نہ محبت۔ انہیں بہت کام تھے لشتم پشتم کچھ وقت گزار کے مجھے میرے مطلوبہ اسٹاپ پر اتار دیا۔ مجھے افسوس ہوا وہ بزی تھے یا موڈ نہ تھا تو مجھے بھی اصرار نہیں کرنا تھا۔ محبت ہم دونوں نے کی ہے جب انہیں مجھ سے ملنے کی لگن نہیں تھی تو… اس دن ٹھان لی کہ اب کبھی ان سے ملاقات کو نہ کہوں گی۔
جہاں اتنے ستم اپنی جان پر جھیل رہی ہوں یہ ایک اور سہی۔ مگر کچھ دن نہ گزرتے تھے کہ ملاقات کا سندیسہ آیا۔ اس بار وہ میری ہم راہی کے خواہش مند تھے میں دنگ رہ گئی۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ ناقابل توقع وہ اپنے حالات سے تھک چکے تھے بیوی کی بے اعتنائی، اولاد اپنی دنیا میں مگن، انہیں بھی تو محبت، توجہ، اپنائیت درکار تھی۔ ان کی زندگی میں ان کا اپنا کچھ نہ تھا۔ گھر کی ذمہ داریاں اور پیسہ کمانے کی جدوجہد میں مجھے اندازہ تھا اولاد منہ پر آجائے تو مرد تنہا ہوجاتا ہے، مجھ پر شادی مرگ کی کیفیت تھی۔ جیسے مصائب کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں خوشی کا جگنو، یہ خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔
انہیں یقین تھا اپنائیت وہی دے سکتا ہے جو محبت کرتا ہو میری محبت پر یقین تھا ایک نہ دو، سات سال کا ساتھ تھا۔ یہ عرصہ کم نہیں ہے لوگ مجبوریاں سنا کر راہ بدل جاتے ہیں۔ مگر مجھے ان کے سوا کوئی بھاتا ہی نہ تھا۔ یہ وہ بھی جانتے تھے اماں کو سو اختلاف تھے۔ مگر سوال میری خوشی کا تھا سو وہ مان گئیں مگر سیکیورٹی مانگی، انہوں نے پہلے ہی میرے نام کافی کچھ لکھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مکان، زمین، بینک بیلنس اپنا ہر وعدہ پورا کیا مگر اس وعدے کے ساتھ کہ یہ نکاح خفیہ رہے گا۔ وہ آہستہ آہستہ سب بہتر کردیں گے۔ پھر بھید کھولیں گے۔ اماں کو یہی اعتراض تھا مگر میں تصویر کا روشن رخ دیکھتی تھی۔ یہ بات یہاں تک آہی پہنچی تھی تو آگے بھی بہتر ہوگا نکاح کے بعد بھی میرا رہنا سہنا اماں کے ساتھ ہی رہا۔ بس وہ کچھ گھنٹوں کے لیے آتے، چلے جاتے ہر بار وعدوں کی پوٹلی کہ وہ سب بہتر کرلیں گے مگر کچھ بہتر نہ ہوسکا۔ بھید بھید نہ رہا۔ جوان اولاد پر ان کے نکاح کا بھید کھلا تو منہ کو آگئے چڑھائی کردی۔ اختلاف اتنا شدید تھا کہ خود انہیں بھی توقع نہ تھی۔ اس عمر میں مرد کمزور پڑجاتا ہے۔ وہ کب پسپا ہوئے معلوم ہی نہ ہوسکا۔ ایک روز خاموشی سے طلاق نامہ اور مہر کی رقم کا چیک تکیے تلے رکھ کر دنیا کی بھیڑ میں گم ہوگئے جس خاموشی سے اپنایا تھا اسی خاموشی سے چھوڑ دیا۔ میری دنیا اندھیر ہوگئی تھی۔ مانو قدموں تلے زمین اپنی رہی نہ سر پر آسمان۔ اماں مجھے دیکھ کر آٹھ آٹھ آنسو روتیں۔ اس سے تو کنواری بھلی تھی۔ بیٹھے بٹھائے داغ لگ گیا مگر یہ داغ نہ تھا شاید گمان کی سزا تھی ایک روز میں نے اپنی زندگی پر نظر دوڑائی تو یہاں سے وہاں تک اندھیرا پایا تنگی حالات، بیماری اور اب یہ سر پر ٹوٹ پڑنے والا پہاڑ سا دکھ۔ لوگ کتنی جلدی بدل جاتے ہیں۔ کہیں کسی کوتاہی کی سزا تو نہیں، ایک وقت تھا میں اسٹائلش سا ڈریس پہن کر بے نیازی کے ساتھ ڈرائیو کرتی آفس تک جاتی تو کتنی رشک بھری نظریں اٹھتیں اب تو خیر سر تا پا ٹوٹ چکی تھی مگر غرور تب بھی نہ کیا تھا، آفس کے طویل راہداری سے گزرتی تو گردن جھکا لیتی خدا کی زمین پر اکڑ کر نہ چلو مگر ناز، فخر، گمان، کچھ ہونے پر کچھ پا لینے پر غرور کی ہی تو ایک قسم ہے۔ یہ گمان شاید ان ہی لمحات کی دین تھا۔ بس ایک پل کی نفوس سوچ کا بھٹکاوا، ثانیے کا عمل، جس نے مجھے تو ڑکر رکھ دیا۔ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔ شاید رب یوں بھی ہدایت عطا کرتا ہے۔ میرے پاس بہت کچھ ہے۔ اگر عہدہ نہیں رہا تو… بے شک انسان کو رتبے اور مقام اللہ تعالیٰ کی ذات عطا کرتی ہے۔ وہ کبھی لے کے آزماتا ہے کبھی دے کے اس کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔ میں بھی اس سے بہتری کی طلب کرتی ہوں اپنی خواہشات کی نہیں۔ میرے لیے بہتر کیا ہے یہ وہ جانتا ہے مجھے پتا ہے وہ پل کے پل میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی رفتہ رفتہ عطا کرتا ہے۔ دعا میں اب بھی کرتی ہوں تمام امت مسلمہ کے لیے اپنے عزیز و اقارب… اپنی اماں کے لیے اور خود اپنی دین و دنیا کے لیے ڈھیروں ڈھیر دعائیں اور وہ جو پل پھر کو ایک گمان نے سر اٹھایا تھا کہ مجھے خود اپنے لیے کوئی حاجت نہیں، میرے پاس سب کچھ ہے خاک میں مل گیا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close