Aanchal Mar 2019

عشقے دی ماری میں جھلی (حصہ ۳)

صائمہ قریشی

عمر رائیگاں کردی تب یہ بات مانی ہے
موت اور محبت کی ایک ہی کہانی ہے
کھیل جو بھی تھا جاناں اب حساب کیا کرنا
جیت گو کسی کی ہو ہم نے ہار مانی ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

شمع اور جمشید کی شادی ہوجاتی ہے۔ جمشید مزاجاً حکیم اللہ جیسا ہی ہے۔ شمع کے ساتھ اس کا رویہ ہتک آمیز ہے۔ تنہائی میں وہ شمع کو جن کاموں سے روکتا ہے، سب کے سامنے وہی کام کرنے کی اجازت دے دیتا ہے اور بعد میں پھر شمع کو باتیں بناتا ہے۔ اسے باجرہ کی رضا سے بے تکلفی بھی پسند نہیں آتی۔ بانو آپا کو احساس ہوجاتا ہے کہ حسن کو پسند نہیں کہ شجیعہ انہیں اتنی اہمیت دے۔ وہ اسے اپنے اور حسن سے جنونی محبت کرنے سے باز رہنے کی تلقین کرتی ہیں۔ وجاہت سکندر، اپنی بہن ردا اور والدہ مسز سکندر کو تنہا چھوڑ کر یوکے تعلیم حاصل کرنے جاتا ہے۔ جہاں ایک روز کیفے میں کھانے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔ سکینرہ اس کی باتیں سن لیتی ہے اور اپنا لنچ اسے دے دیتی ہے۔ عبد المعید اپنی بیٹی سکینرہ سے دوستی کرلیتے ہیں اور اس فاصلے کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو ان کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان آگیا ہے۔ سکینرہ کو لگتا ہے کہ عبد المعید اپنا ماضی اس سے چھپا رہے ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

وہ ہوش میں تھی لیکن ہوش میں آنا نہیں چاہ رہی تھی۔
زمین و آسمان سلامت تھے لیکن وہ چاہ رہی تھی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے یا آسمان اس کے سر پر آگرے۔ اسے معلوم تھا وہاں سب موجود ہیں لیکن وہ آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی۔ اس میں کسی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
’’شمع… بیٹا کیا ہوا؟‘‘ خدیجہ کی ممتا بھری آواز پر اس کی بند پلکی لرزیں۔
’’کیوں طبیعت خراب ہوگئی ہے؟‘‘ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اس سے پوچھنے لگیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے آنکھیں کھولیں۔
’’کچھ نہیں تائی اماں‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ ان کا ہاتھ پکڑ کر وہ بھرائی آواز میں بولی۔
’’کہاں سے ٹھیک ہو بھلا‘ دیکھو تو رنگت کیسے پیلی ہورہی ہے۔‘‘ ان کے فکریہ لہجے پر اس نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
اسے یاد نہیں تھا وہ یہاں بستر پر کیسے پہنچی۔ جمشید وہاں موجود نہیں تھا۔ خدیجہ اس کے سرہانے بیٹھی تھیں۔ کلیم اللہ بھی کمرے میں موجود تھے۔ ان پر نظر پڑتے ہی وہ اُٹھ کر بیٹھنے لگی۔
’’سکینہ… تم پھل کاٹ کر لے آؤ اور سوپ بھی گرم کردینا۔‘‘ خدیجہ‘ کام والی مائی سے مخاطب ہوئیں اور شمع کو اُٹھتے دیکھ کر اسے سہارا دیا اور تکیہ اس کے پیچھے رکھا۔
’’تائی اماں… آپ پریشان نہ ہوں‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اسے خوامخواہ شرمندگی ہونے لگی۔
’’کیسے پریشان نہ ہوں۔‘‘ انہوں نے اسے گھورا۔
’’بہو آتے ہی بستر پر پڑ گئی‘ بجائے خدمت کرنے کے ساس کو خدمت پر لگادیا۔ خدیجہ بیگم‘ آپ کی ماڈرن سوچ پر آپ کی بہو خوب عمل کررہی ہے۔‘‘ کلیم اللہ ہنستے ہوئے بولے۔
شمع نے ان کے لہجے میں کسی ناگواری کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ٹھہری اور خدیجہ بھی ہنستی چلی گئیں۔
’’خوابوں کو تعبیریں ملنے لگیں تو اور کیا چاہیے ہوتا ہے کلیم اللہ صاحب۔‘‘ خدیجہ نے کلیم اللہ کو دیکھ کر شمع کو دیکھا‘ جو بے حد حیرانی سے ان کے خوش گوار تعلق کو دیکھ رہی تھی۔
’’شمع… تم پریشان نہ ہو‘ تمہارے تایا ایسے ہی میرے خوابوں کا مذاق اُڑاتے رہتے ہیں لیکن ایک بات بتاؤں…‘‘ خدیجہ نے مصنوعی خفگی سے انہیں گھورا اور راز دارانہ انداز میں اس کی طرف جھک کر بولیں تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’میرے خوابوں کو شہ دینے والے تمہارے تایا ہی ہیں۔ ان ہی کی بدولت تو یہ خواب زندہ ہیں۔‘‘ خدیجہ نے کلیم اللہ کا ذکر بہت محبت سے کیا تو شمع نے انہیں دیکھا۔
’’محبت انسان کو واقعی مکمل بنا دیتی ہے۔ کاش آغا حویلی میں بھی یہ محبتیں ہوتیں اور کاش… میرے نصیب میں بھی…‘‘ شمع نے اپنی پوروں سے آنکھوں کو صاف کیا اور مسکرانے لگی۔
’’میں نہیں جانتی تھی تائی اماں کہ تایا ایسے مزاج کے ہیں۔‘‘ اسے واقعی حیرت ہورہی تھی۔
’’تمہارے تایا بھی بہت کرخت ہوتے تھے بیٹا۔‘‘ خدیجہ بہت مدھم آواز میں بولیں۔
کلیم اللہ ابھی تک کمرے میں ہی موجود تھے لیکن ہمیشہ کی طرح منہ کے آگے اخبار کو پھیلائے بیٹھے تھے لیکن لاتعلق نہ تھے‘ اسی لیے خدیجہ آہستگی سے اسے بتانے لگی تھیں۔
’’آغا حویلی کو چھوڑنے کے بعد ان کے رویے میں بہت تبدیلی آئی ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہوا کہ آغا حویلی کے درو دیوار میں اینٹ اور سیمنٹ کی جگہ نفرت اور کرختگی بھری گئی ہے۔‘‘ شمع نے ہنستے ہوئے کہا تھا تو خدیجہ نے اسے دیکھا۔
’’نہیں بیٹا‘ صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ اللہ بخشے تم لوگوں کے دادا آغا ہاشم کو‘ ان میں اور حکیم اللہ میں صرف نام کا فرق ہے‘ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کے بہت قریب تھے‘ تو حکیم اللہ نے ان کی ہر اِک عادت کو اپنایا ہے لیکن تمہارے تایا الگ مزاج کے تھے۔‘‘
’’جمشید اور حکیم اللہ میں بھی صرف نام کا ہی فرق ہے تائی اماں… وہ تو…‘‘ شمع کچھ نہ کہنا چاہنے کے باوجود ایک ہی جملے میں بہت کچھ کہہ گئی تھی۔ یک دم زبان دانتوں تلے دبالی۔
’’نہیں بیٹا‘ جمشید تو بہت الگ طبیعت کا مالک ہے۔ دادا اور چاچا کی کچھ خصلت تو اس کی ذات کا حصہ ہیں لیکن…‘‘ شمع نے انہیں دیکھا‘ اس کی نظریں خدیجہ کی کہی باتیں جھٹلا رہی تھیں۔ وہ خاموش ہوگئی۔
’’تائی اماں‘ شاید آپ تو تایا کو آغا حویلی سے نکال لائی تھیں کہ وہاں وہ محبت کو پہچان نہیں پائیں گے لیکن میں جمشید کو یہاں سے نکال کر اب کہاں لے جاؤں؟‘‘ اب اس کی سوچیں اس کے اندر ہی رہ گئی تھیں۔ نہ لب ہلے تھے‘ نہ الفاظ گونجے تھے۔
’’خیر چھوڑو تم یہ ساری باتیں‘ تم نے اب کوئی ٹینشن نہیں لینی‘ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔‘‘ ان کی بات پر اس کا جی چاہا ایک قہقہہ لگائے‘ ایک ایسا قہقہہ جو درو دیوار کو چیر کر رکھ دے لیکن اس نے فقط سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔
’’تم اٹھو‘ اب فریش ہوجاؤ‘ فروٹ کھاؤ‘ میں نے سوپ بھی بنوایا ہے پھر وہ بھی پی لینا۔‘‘ خدیجہ اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹتے بولیں اور اس کے پاس سے اُٹھ گئیں۔
’’کلیم اللہ آپ کے لیے چائے تیار ہوچکی ہوگی۔ چلیں آپ‘ میں شمع کو کپڑے دے کر آتی ہوں۔‘‘ خدیجہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں تو کلیم اللہ نے یک دم اخبار فولڈ کرکے سامنے والی میز پر رکھ دیا۔
شمع کے لیے ان دونوں کے درمیان یہ محبت ایک ناقابلِ یقین سی بات تھی‘ ایک خواب کی سی کیفیت۔
’’بیٹا‘ اپنا خیال رکھا کرو اور اب جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ پھر آپ کے ہاتھ کی چائے پیا کریں گے۔‘‘ کلیم اللہ نے اسے تاکید کی اور باہر نکل گئے۔
’’اماں…‘‘ خدیجہ‘ شمع کے کپڑے دیکھ رہی تھیں کہ جمشید کمرے میں داخل ہوا۔ شمع نے اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔
’’اماں‘ کل صبح میرا شکار کا پروگرام بن گیا ہے تو میرے کپڑے…‘‘ ان کے متوجہ ہوتے ہی جمشید بولا۔ خدیجہ نے آنکھیں بند کیے پڑی شمع کو دیکھا۔
’’شمع کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ تم اپنا پروگرام ملتوی کردو۔‘‘ خدیجہ نے آہستگی سے کہا۔
’’کیا ہوا اسے؟‘‘ جمشید نے اس کی طرف دیکھا نہیں‘ شمع تک اس کی آواز پہنچی تو اس کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔
’’سکینہ کمرے میں آئی تو شمع بے ہوش پڑی تھی۔ میں نے تمہیں فون بھی کیا کرکے بتایا تھا کہ…‘‘
’’اوہو اماں‘ سکینہ کو میں نے ہی بھیجا تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہے تو دیکھ لے۔‘‘ جمشید کی اطلاع پر خدیجہ گنگ رہ گئی۔
’’سکینہ کیا ڈاکٹر ہے جو اسے بھیج کر خود آوارہ گردی کرنے نکل گئے اور اب لوٹ رہے ہو؟‘‘
’’اماں‘ اسی کے باپ کے کام سے گیا تھا‘ کسی آوارہ گردی کے لیے نہیں۔‘‘ جمشید نے انتہائی بے زاری اور بدتمیزی سے کہا۔ حکیم اللہ جیسا بھی تھا‘ اس کا باپ تھا اور اپنے باپ کے لیے اپنے شوہر کے لہجے میں بے زارگی اسے بہت ناگواری گزری تھی۔
’’جمشید…‘‘ خدیجہ نے دانت پیس کر اسے باز رکھنے کی کوشش کی۔
’’بیوی ہے تمہاری اور اپنے چاچا کے لیے کس لہجے میں بات کررہے ہو؟‘‘
’’اماں‘ میرے کپڑے دیکھ لینا‘ مجھے صبح جلدی نکلنا ہے۔‘‘ جمشید نے ان کی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا۔
’’جمشید…‘‘ خدیجہ نے سختی سے تنبیہہ کی۔
’’اماں…‘‘ وہ بھی اتنی ہی سختی سے بولا۔
بنا کوئی جواب دیے خدیجہ کمرے سے باہر نکل گئیں تو جمشید نے پلٹ کر شمع کو دیکھا۔ بند آنکھوں کے باوجود بھی وہ محسوس کررہی تھی کہ اس کی طرف اُٹھی ان نگاہوں سے شعلے برس رہے ہیں۔
’’تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں؟‘‘ جمشید چلتا ہوا اس کے قریب آرکا۔ آنکھیں بند کیے ہی اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’میری شکل اتنی ناگوار گزر رہی ہے کیا؟‘‘ جمشید کا اشارہ اس کی بند آنکھوں کی طرف تھا۔
’’آپ کی آنکھوں سے جھانکتی نفرت دیکھنے کی سکت نہیں ہے۔‘‘ وہ آہستگی بولی۔
جمشید کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ وہیں کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’آپ کے پاس تو اختیار تھا‘ پھر کیوں اپنی زندگی برباد کی؟‘‘ بہت دنوں سے سوچا جانے والا سوال بے اختیار لبوں پر آگیا۔ خدیجہ کا ایک جملہ ’’تم میرے جمشید کی پسند ہو‘‘ نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔
’’میں مجبور تھا۔‘‘ اس کا لہجہ پچھلے سارے دنوں کے لہجے سے یکسر مختلف تھا۔ شمع نے تعجب سے اس کی طرف دیکھا۔
’’مرد ہوکر مجبور…‘‘ اس نے رخ موڑ کر نخوت سے کہا۔
’’عاشق مزاج بندہ ہوں اور نیک بھی… ’عاشقی‘ کے لیے رشتے کو حلال کرنا ضروری تھا۔‘‘ اس کے لہجے پر شمع سمٹ کر رہ گئی۔
’’رشتوں کے طوق میں گلے میں نہیں ڈالتا لیکن… میں مجبور تھا… کچھ دل کے ہاتھوں اور کچھ چاچا حکیم اللہ نے کردیا تھا۔‘‘ اس کی پیش قدمی پر شمع لرز کر رہ گئی۔
پھر جمشید کے بلند ہوتے قہقہے پر اس نے مٹھیاں بھینچ لیں‘ زبان کو دانتوں تلے دبا لیا‘ آنکھیں بند کرلیں اور شمع گل ہوگئی۔

وجاہت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا بات کرے‘ ہزاروں باتیں تھیں اس کے پاس لیکن بات تب ہی شروع کی جاتی جب سامنے والا کوئی دلچسپی ظاہر کرے‘ بات کو بڑھایا جائے تو ہی بات سے بات نکلتی ہے لیکن سکیزہ عبدالمعید تو جیسے ایک چابی والی گڑیا تھا‘ جتنی بات پوچھو بتا کر پھر خاموشی‘ گویا چابی ہی اتنی بھری ہو۔
’’آپ کیا پڑھ رہی ہیں؟‘‘ وجاہت کا اشارہ اس کے ہلتے لبوں کی جانب تھا۔
’’میں لاء کے فرسٹ ایئر میں ہوں۔‘‘ سکیزہ نے ذرا سا رخ اس کی طرف کرکے کہا۔
’’نہیں‘ میرا مطلب ہے کہ آپ ابھی کیا ورد کررہی تھیں؟‘‘ وجاہت دھیمے سے مسکرا کر گویا ہوا۔
’’مجھے جب خوف محسوس ہوتا ہے تو میں لاالہ اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتی ہوں۔‘‘ سکیزہ نے مدھم انداز میں پورا کلمہ پڑھ کر اسے سنایا۔
’’خوف…! کس بات کا خوف؟‘‘ اس نے انتہائی متعجب لہجے میں پوچھا لیکن وہاں اب پھر ایک انجانا پن تھا۔
’’کیا آپ کا کونٹیکٹ نمبر لے سکتا ہوں؟‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تو وجاہت نے کہا۔ انداز میں بے ساختہ پن تھا۔
’’آ… آپ اپنا نمبر دے دیں۔‘‘ نجانے کیسے اس نے کہا‘ شاید اپنا نمبر نہ دینے کے لیے انکار کا یہ ایک طریقہ تھا۔
’’اوکے… میں آپ کے میسج کا انتظار کروں گا۔‘‘ میز پر رکھے کیفے ٹیریا کے لوگو والا ٹشو پیپر اُٹھایا‘ جیب سے قلم نکالا‘ نمبر لکھ کر ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھا کر کہا۔
سکیزہ نے ایک خاموش نظر اس پر ڈالی‘ ٹشو پیپر لیا اور چلی گئی۔ وجاہت چند لمحے اس کے بارے میں سوچتا رہا اور پھر سر جھٹک کر لائبریری کی طرف چلا گیا کہ احمر اس کا انتظار کررہا ہوگا۔

کمرے سے قدم باہر رکھتے ہی وہ سکتے میں آگئی۔ بنا ایک لفظ کہے حسن وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ شجیعہ کا دل یک لخت دھڑک کر رہ گیا یقینا حسن نے بانو آپا اور اس کی باتیں سن لی تھیں۔ پہلا خیال جو اسے آیا یہی تھا اسے یہ بھی نہ معلوم ہوسکا تھا کہ وہ کب سے وہاں کھڑا تھا اور اب کیا ہوگا؟
حسن تو پہلے ہی کہتا تھا کہ بانو آپا اسے پسند نہیں کرتیں۔ اب اگر اس نے کوئی ایک بات بھی سن لی تو اس کے شک پر یقین کی مہر ثبت ہوجائے گی‘ اسے بانو آپا سے مشورہ لینے کا خیال آیا‘ اگلے پل جو پہلا خیال آیا وہ یہی تھا۔ اس نے قدم واپس موڑے‘ ان کے بند دروازے پر ایک بار پھر دستک کے لیے بڑھے ہاتھ کو اگلے پل روک لیا۔ یہ بھی جانتی تھی کہ بانو آپا اب اسے بزدلی کا طعنہ دیں گی اور محبت کا مذاق اُڑائیں گی‘ جو اسے کسی طور گوارہ نہ تھا۔ حسن کچھ بھی کہے‘ وہ جواب ہی نہیں دے گی۔ اس نے طے کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ کمرے میں قدم رکھا تو ٹھٹک کر رہ گئی۔
’’میرے مجازی خدا کو کیا ہوگیا؟‘‘ شجیعہ نے آنکھیں بند کیے لیٹے حسن کی طرف دیکھا اور شوخ لہجے میں کہا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ اس کی شوخی کا جواب نہایت سنجیدگی سے دیا گیا۔ طرزِ تخاطب کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
’’کوئی بات ہے کیا؟‘‘ شجیعہ نے مدھم آواز میں دریافت کیا۔ دل میں چور تھا‘ اس لیے آواز کی کھنک بھی ماند تھی۔
’’نہیں تو‘ بات کیا ہوتی۔‘‘
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ شجیعہ کو فکر لاحق ہوئی۔
’’ہاں‘ میں ٹھیک ہوں۔ ایسے ہی معمولی سا سردرد ہے۔‘‘ حسن اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’معمولی سر درد ہے تو اسے اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے؟‘‘ شجیعہ نے خشمگین نظروں سے اسے گھورا۔
’’نہیں تو… تمہارے ہوتے ہوئے کسی اور درد کی کیا اہمیت۔‘‘ حسن مسکراہٹ دبا کر بولا۔
’’کیا…!‘‘ وہ چلائی تو حسن زور سے ہنستا دیا۔ پھر شجیعہ نے رخ موڑ لیا‘ گویا اس سے ناراضی ہوگئی ہو۔
’’مطلب تم پاس ہو تو کسی درد کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔‘‘ حسن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’واہ واہ… حسن صاحب میری محبت کا اتنا اثر تو ہوا کہ آپ کو ڈائیلاگز بولنا آگئے۔‘‘ شجیعہ نے ایک پل میں ناراضی کو خدا حافظ کہا۔
’’تمہارا ساتھ رہا تو میں سب کچھ سیکھ جاؤں گا۔‘‘ حسن نے ایک آنکھ دبا کر شریر لہجے میں کہا۔ شجیعہ نے یک دم ہاتھ کھینچا۔
’’تمہارے چہرے پر پرشانی نظر آرہی ہے مجھے تو بہتر ہوگا کہ بتادو۔‘‘ شجیعہ نے گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا تو حسن چونکا۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں‘ میں تو دیکھو کتنا ہنس رہا ہوں۔‘‘ حسن نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔
’’اتنا جو تم مسکرا رہے ہو… کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو۔‘‘ شجیعہ کے برجستہ جواب پر حسن کھل کر مسکرایا۔
’’تم بھی ناں شجو‘ صحیح ڈرامہ کوئین ہو۔‘‘ حسن نے گہری سانس خارج کی۔
’’ڈرامہ کوئین نہیں‘ تمہاری کوئین۔‘‘ شجیعہ پھر اسی حاضر جوابی سے بولی۔
’’کوئین صاحبہ… بات یہ ہے کہ…‘‘ حسن نے اس کی طرف دیکھ کر کہنا شروع کیا تو شجیعہ سانس روکے اسے سننے لگی۔ حسن اس کے تاثرات سے محظوظ ہونے لگا۔
’’تمہاری محبت شدت اختیار کرنے لگی ہے۔‘‘ اس کے انہماک پر حسن کو شرارت سوجھی۔ یا شاید وہ اس کے سوال اور پھر ضد کو ٹالنے کے لیے اسے بہلانے لگا تھا۔ شجیعہ‘ جس کی چھٹی حس اسے اشارے دے رہی تھی کہ حسن کسی بات کو سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ اس کے اس ردعمل پر وہ ذرا بھی نہ چونکی۔ اس پر نظریں جمائے بیٹھی رہی۔ وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ حسن نے بانو آپا اور اس کی باتیں سن لی ہیں۔
’’ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے جس پر پریشان ہوا جائے۔‘‘ بالآخر حسن نے بتانا شروع کیا۔
’’شاید ہمیں یورپ کا ٹرپ کینسل کرنا پڑے۔ جاب کی پرابلم ہے اور…‘‘
’’یہ کوئی ایسی بات تو نہیں جس پر منہ لٹکا کر بیٹھا جائے۔‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شجیعہ بولی۔
’’اور… لالہ کی بار بار کالز آرہی ہیں۔‘‘ حسن کی دوسری بات پر شجیعہ کا دل تھم کر رہ گیا‘ حسن نے اسے دیکھا۔ شجیعہ کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
’’ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔‘‘ حسن نے اسے تسلی دی تو وہ دھیرے سے مسکرائی۔
’’کل آؤٹنگ پر چلیں؟‘‘ شجیعہ نے سارے واہموں کو جھٹک کر کہا تو حسن نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’تھینک یو۔‘‘ شجیعہ نے اس کے بالوں کو منتشر کرکے کہا۔
’’اب تم آرام کرو‘ صبح جاب پر جانا ہے ناں۔‘‘ اسے ہدایت دے کر وہ وہاں سے جانے لگی۔
’’سنو…‘‘ حسن نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔
’’لالہ کی کالز کے بارے میں بانو آپا کو نہیں بتانا۔‘‘ اس کے ایک جملے نے اسے جتادیا کہ حسن نے ان دونوں کی باتیں سن لی تھیں لیکن شجیعہ سرخرو تھی کہ حسن کی غیر موجودگی میں بھی اس نے حسن کا ہی ساتھ دیا تھا‘ اسی کی محبت کا دَم بھرا تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے سے مسکرا کر ہاتھ چھڑایا اور بتی بند کرکے کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔

سکیزہ کی زندگی‘ اس کے شب و روز عبدالمعید سے شروع ہوکر عبدالمعید پر ختم ہوجاتے تھے یا پھر شفیق اور آسیہ تھے‘ جن کے وہ قریب تھی۔ ثناء نے بہت کوشش کی کہ سکیزہ اس سے دوستی کرے لیکن وہ اس سے باتیں ہی نہیں کرپاتی تھی۔ علی شوخ و شنگ لڑکا تھا‘ سکیزہ سے ہنسی مذاق کرتا لیکن اس کے لیے بھی اس کا رویہ دوستانہ نہ تھا۔ ان دونوں کے مقابلے میں سکیزہ‘ شفیق اور آسیہ سے باتیں کرلیا کرتی تھی۔ بچپن اچھا ہو یا برا‘ اس کے نقش ذہن میں بہت گہرے ہوتے ہیں۔ سکیزہ جس دَور سے گزری تھی‘ جن مشکلات سے وہ عبدالمعید تک پہنچی تھی‘ وہ وقت بھی ایک کبھی نہ مٹنے والی لکیر تھا‘ جو بہت سی خواہشوں کو ادھورا چھوڑ گیا تھا۔
’’ڈیڈ‘ میرا اتنا دل کرتا ہے ہماری ایک بڑی سی فیملی ہوتی‘ بہت سارے لوگ ہوتے‘ ہم باتیں کرتے۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے سکیزہ نے ایک بار پھر اپنی اس خواہش کا اظہار کیا‘ جس کو پورا کرنا عبدالمعید کے بس میں نہ تھا۔
’’جہاں زیادہ لوگ ہوتے ہیں‘ وہاں مسائل بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘ عبدالمعید نے سرسری انداز میں اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’جی ڈیڈ لیکن پھر بھی میرا دل کرتا ہے کہ میری فیملی میں چار‘ پانچ لوگ تو ہوتے‘ دو بندوں سے تو کبھی کبھی سب بورنگ لگتا ہے۔‘‘ سکیزہ کے لہجے میں ایک حسرت مچل رہی تھی۔
’’اب دیکھیں شفیق انکل کے گھر میں چار لوگ ہیں۔‘‘ اس کی باتوں پر عبدالمعید نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’تو بیٹا‘ آپ بھی تو شفیق انکل کی فیملی کا حصہ ہو ناں۔‘‘ عبدالمعید نے کھانے سے ہاتھ روک کر کہا۔
’’علی اور ثناء بھی تو ہیں‘ آپ ان سے باتیں کیا کرو۔‘‘ عبدالمعید نے مزید کہا۔
’’نہیں ناں ڈیڈ وہ لوگ تو… نہیں ڈیڈ‘ آپ نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ سکیزہ نے انہیں ناسمجھ قرار دیا‘ جس پر عبدالمعید مسکرا دیے۔
’’اچھا‘ تمہارے دوست کتنے ہیں؟‘‘ عبدالمعید اب کھانا ختم کرچکے تھے۔ اپنی پلیٹ سائیڈ پر رکھ کر بولے۔
’’بس ایک ہی۔‘‘ سکیزہ بولی۔
’’تو اس سے باتیں کیا کرو بلکہ اسے گھر پر انوائٹ کرو۔‘‘ عبدالمعید نے دوستانہ انداز میںکہا۔
’’اسی سے باتیں کررہی ہوں۔‘‘ سکیزہ چہکی تو عبدالمعید نے متغیر نظروں سے اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب…! کوئی دوست نہیں؟‘‘ عبدالمعید یک دم سمجھ گئے کہ سکیزہ کا اشارہ ان کی طرف ہے‘ سکیزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کیوں بیٹا؟ دوست تو بنانے چاہیں ناں۔‘‘ عبدالمعید متفکر نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولے۔ ایک ہی پل میں ان کو سکیزہ کے اکیلے پن کا احساس ہوا۔
’’میں دوست نہیں بناسکتی اور پھر جب میرے پاس بیسٹ فرینڈ ہے تو مجھے کسی اور دوست کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘‘ سکیزہ مسکرا کر بولی تو عبدالمعید کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا۔
’’میں نے سوچا تھا آپ کی شادی کرا دیتی ہوں۔‘‘ سکیزہ برتن اٹھاتے ہوئے مسکراہٹ دبا کر بولی۔ عبدالمعید نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔
’’گھر میں ایک عورت بھی آجائے گی‘ پھر آپ کے بچے ہوں گے تو گھر میں رونق لگ جائے گی۔‘‘ سکیزہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولی جبکہ عبدالمعید اس کی پلاننگ پر گنگ بیٹھے رہے۔ ’’پھر میں نے سوچا سکیزہ عبدالمعید سے برداشت نہیں ہوگا کہ اس کے ڈیشنگ ڈیڈ کی زندگی میں ان کی پرنسس کے علاوہ کوئی اور ہو… تو آپ کی شادی کا پروگرام کینسل۔‘‘ سکیزہ نے شاہانہ انداز میں کہا تو عبدالمعید نے کتنی دیر کا رُکا سانس خارج کیا۔
’’اب آپ زیادہ دُکھی نہ ہوجانا کہ آپ کی شادی کا پروگرام کینسل کردیا۔‘‘ سکیزہ نے انہیں دیکھ کر کہا۔
’’زیادہ کیا‘ میں تو تھوڑا سا بھی دُکھی نہیں اور یہ تو مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوگا کہ میری زندگی میں میری پرنسس کے علاوہ کوئی اور آئے۔‘‘ عبدالمعید نے سنجیدگی سے کہا تو سکیزہ نے خشمگیں نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’ویسے بھی اب آپ اولڈ ہوگئے ہیں‘ کوئی آپ کو اپنی لڑکی نہیں دے گا۔‘‘ سکیزہ نے ان کے سفید بالوں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’ویسے آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اولڈ مین کسی اولڈ لیڈی سے شادی کرسکتے ہیں۔‘‘ عبدالمعید کے لہجے میں شرارت کا عنصر واضح تھا۔ سکیزہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔

’’آغاز حویلی‘‘ میں صبح سے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ رافیہ ماتھے پر تیوریاں چڑھائے‘ ملازمین کو ڈانٹ ڈپٹ کررہی تھیں۔ اپنے چڑچڑے پن کو سکون غلط کرنے کی کوشش میں مبتلا تھیں۔ آغا حکیم اللہ مہمان خانے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھے۔ کبھی چائے‘ کبھی کھانا‘ قہقہے‘ سگریٹ کے دھوئیں۔ سارے شغل جاری تھے اور ان سب میں اگر کوئی گھن چکر بنا ہوا تھا تو وہ رضا تھا۔ رافیہ کی ذمہ داریوں میں بھی ان کا ہاتھ بٹا رہا تھا اور حکیم اللہ کے کاموں میں بھی۔ کبھی کوئی کام تو کبھی کہیں کی دیکھ بھال اور اس کے ساتھ ساتھ ذرا سی کوتاہی پر لعن طعن بھی سہنا۔
کلیم اللہ کی فیملی کو بھی دعوت پر مدعو کیا گیا تھا۔ حکیم اللہ کا حکم تھا کہ داماد کی دعوت میں کسی قسم کی کوئی کمی رہ گئی تو انجام برا ہوگا۔ رافیہ کو خاص ہدایت تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ رتی بھر بھی کمی رہی تو بھری برادری کے سامنے حکیم اللہ ان کو ’’عزت بخشنے‘‘ میں ایک پل نہیں لگائیں گے۔
اس ساری گہما گہمی اور افراتفری میں اگر کوئی صرف معائنہ کرنے میں مصروف تھا تو وہ تھی ہاجرہ… جو مہارانی کی طرح ادھر ادھر مٹرگشت کرنے میں مصروف تھی۔ ماں کی بے قدری‘ چڑچڑے پن اور تیوریوں کا سارا الزام‘ رافیہ بیگم کو ہی دے کر مطمئن تھی۔ رضا کی غلامانہ طبیعت پر اسے کبھی بھی کچھ کہنے کے بجائے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
’’مجھے یہ سب پسند نہیں‘ اگر آپ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ غلط ہورہا ہے تو اس غلط کو صحیح کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوشش کے بعد بھی آپ غلط کو صحیح نہیں کرپا رہے ہیں تو وہ اللہ کی مرضی ہے۔ اللہ نے تو ہمیں اختیار دیا ہے ناں کہ ہم غلط کو صحیح کرسکیں۔ پھر بغیر کوشش کے شکایت کرنا‘ آنسو بہانا سراسر حماقت ہے۔ کم از کم مجھے پھر ہمدردی نہیں ہوگی… میں ہاجرہ حکیم اللہ… دوسروں کے ساتھ غلط کی نشاندہی کرسکتی ہوں تو اپنے ساتھ ناانصافی کیسے ہونے دوں گی۔‘‘
’’تو کہاں کی نواب زادی ہے جو مسلسل آرام کیے جاری ہے۔‘‘ رافیہ کی تلخ آواز پر اس نے انہیں دیکھا۔
’’آغا حویلی کی۔‘‘ اس کے سکون سے جواب دینے پر رافیہ نے ایک قہرآلود نگاہ اس پر ڈالی۔
’’اور یقینا وہ نواب تیرا باپ ہوگا۔‘‘ الفاظ تھے کہ انگارہ لیکن وہ سکون سے سہہ گئی۔
’’اماں…‘‘ وہ کچھ کہنے لگی تھی لیکن شمع سے کیا وعدہ یاد آگیا۔
’’اماں کوئی کام ہے تو بتادیں۔‘‘ اس نے سپاٹ انداز میں پوچھا۔
’’نہیں‘ کام تو کوئی نہیں ہے‘ تو آرام کر۔‘‘ وہ نخوت سے کہہ کر وہاں سے ہٹ گئیں۔
’’باجی اب آجاؤ میں بور ہورہی ہوں۔‘‘ وہ بہ آواز بلند بولی۔ شمع ہی تھی جو رافیہ کو سنبھال لیا کرتی تھی۔ ہاجرہ تو ان کی اس بے بسی کے ہی خلاف تھی۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو نگاہ سامنے سے آتے رضا پر گئی۔
’’تمہاری تنخواہ کتنی تعین کی گئی ہے؟‘‘ اس کی کڑوے لہجے میں بلا کا طنز تھا۔ رضا نے پلٹ کر دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دیا۔
’’اگر میں کہوں کہ مجھے تنخواہ کی ضرورت نہیں ہے تو آپ میری اس بات پر بھی قہقہے لگائیں گی۔‘‘ رضا بولا اور دوبارہ سارا سودا سلف سمیٹنے لگا۔
’’یہ کام تمہارا نہیں ہے رضا۔‘‘ ہاجرہ نے اسے آگاہ کیا۔
’’میں جانتا ہوں۔‘‘
’’پھر کیوں کررہے ہو تم یہ کام؟‘‘ وہ چڑ کر بولی۔ وہ خاموش رہا۔
رضا… تم جانتے ہو مجھے اپنے سوال پر سامنے والے کا خاموش ہوجانا بہت برا لگتا ہے۔‘‘ وہ اس کے پاس آکھڑی ہوئی اور تیکھے لہجے میں بولی۔
’’آپ جانتی ہیں کہ آغا صاحب کے حکم کے آگے سب بے بس ہیں۔‘‘ رضا کے لب و لہجے میں بے بسی تھی۔
’’سب نہیں‘ محض چند لوگ اور اپنی بزدلی کو آغا صاحب کے حکم سے منسوب مت کیا کرو۔‘‘ وہ بمشکل اپنے غصے کو قابو میں کرکے بولی۔
’’آپ کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں‘ اس لیے آپ یہ سمجھنے سے قاصر بھی ہیں۔‘‘ رضا سنجیدگی سے بولا۔
’’جب اپنے آپ کو پیش کردو گے کہ میں تمہارے سامنے ہوں‘ میرے ساتھ جیسے تم چاہتے ہو برتاؤ کرو اور پھر سر جھکا کر اس شخص کا ہر ایک حکم بجا لاؤ‘ کسی زیادتی پر آواز نہ اٹھاؤ‘ انکار نہ کرو تو رضا یہ بزدلی ہے‘ بے بسی نہیں۔‘‘ ہاجرہ نے ہزار بار کی اپنی بات دہرائی۔
’’ایک بات یاد رکھنا رضا‘ مجھے بے بس مرد اور آنسو بہاتی عورتوں سے نفرت ہے۔‘‘ اپنی بات کہہ کر ہاجرہ وہاں رکی نہیں اور رضا ایک بار پھر اپنے آپ کو بے بس تصور کرنے لگا تھا۔

’’شمع تیار ہوگئیں؟‘‘ خدیجہ کی آواز پر شمع نے ایک نظر آئینے میں اپنا سراپا دیکھا۔
میکے میں پہلی دعوت کے لیے وہ خاص طور پر تیار ہوئی تھی۔ گہرے نیلے رنگ کا سوٹ‘ کلائیوں میں ہری چوڑیاں‘ بڑے بڑے جھمکے‘ گہری لپ اسٹک اور کاجل بھری آنکھیں‘ وہ سراپا حسن تھی۔ کمی تھی تو خوشی کی جو نہ چہرے پر عیاں تھی‘ نہ دل میں نہاں تھیں۔
’’جی تائی اماں‘ میں تیار ہوں۔‘‘ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس اس نے غٹاغٹ پیا اور بڑی سی چادر لپیٹ کر ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’ماشاء اللہ‘ ماشاء اللہ۔ چشم بددور۔‘‘ خدیجہ نے اس کی طرف دیکھتے ہی اس کی بلائیں لیں وہ اتنی بے ساختہ تعریف پر سر جھکا گئی۔
’’چلیں اماں۔‘‘ جمشید بھی آگیا لیکن شمع سے اب سر اوپر نہ اُٹھایا گیا۔ یک دم ہی اس نے چادر میں اپنا آپ لپیٹ دیا۔ جمشید نے ایک اُچٹتی نظر اس پر ڈالی لیکن اس کی تیاری اب چادر میں چھپ چکی تھی۔
’’شمع… ایسے کیوں لپیٹ لیا خود کو۔ یہاں سے گاڑی میں بیٹھنا اور بڑی حویلی کے اندر اُترنا ہے۔‘‘ خدیجہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’کمال کرتی ہیں اماں۔ بہو کو پردہ کروانے کے بجائے بے حیائی کا درس دے رہی ہیں۔‘‘ شمع کے بجائے جمشید کے ترش لب و لہجے پر خدیجہ حیران رہ گئی۔
’’تمہارا لب و لہجہ دن بدن خراب ہوتا جارہا ہے۔ ماں سے بات کی بھی تمیز بھول گئے ہو کیا؟‘‘ کلیم اللہ کی آواز پر جمشید تلملا کر رہ گیا۔
’’جوان بیٹے کو بہو کے سامنے نہ ٹوکیں۔‘‘ خدیجہ نے ان کے پاس آکر کہا۔
’’جوان بیٹا‘ بہو کے سامنے ماں سے بدتمیزی کرسکتا ہے تو اسے روک ٹوک بھی برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘ حکیم اللہ نے آگ بگولہ لہجے میں کہا جبکہ شمع بت بنی کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی صورت حال میں اسے کیا کرنا چاہیے۔ جمشید انتہائی غصے میں آچکا تھا۔ بار بار شمع کی طرف اُٹھتی نگاہوں میں بھڑکتے شعلے بنا قصور کے اسے مجرم ٹھہرا رہے تھے۔
’’چلو چھوڑو‘ موڈ خراب نہ کرو۔ آغا حویلی میں سب انتظار کررہے ہوں گے‘ ہمیں اب چلنا چاہیے۔‘‘ خدیجہ نے بات کو سمیٹ کر ماحول کو سازگار کرنا چاہا‘ شمع نے قدم اُٹھائے۔ جمشید برق رفتاری سے وہاں سے نکل گیا جبکہ کلیم اللہ نے افسوس سے سر کو دائیں بائیں ہلایا۔ خدیجہ نے انہیں مزید کچھ بھی کہنے سے باز رہنے کا اشارہ کیا۔
گاڑی میں خدیجہ اور کلیم اللہ آرام سے بیٹھ گئے لیکن وہ گرتے گرتے بچی تھی۔ خدیجہ کی بلند چیخوں کے باعث جمشید کو گاڑی روکنا پڑی۔ شمع خوف سے کانپ رہی تھی۔ خدیجہ کو پکڑنے اور اپنے آپ کو سنبھالنے میں بھی اس کے بازو پر دباؤ پڑا تھا۔ جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ بند ہونے لگا تو اس کا پاؤں بھی بیچ میں آگیا۔
’’پہلے دیکھ لیا کرو کہ سب بیٹھ چکے ہیں یا نہیں۔‘‘ کلیم اللہ نے غصیلے لہجے میں کہا۔ خلاف معمول جمشید نے کچھ نہ کہا۔
’’اب گاڑی چلاؤ بھی‘ کیا سانپ سونگھ گیا ہے؟‘‘ کتنی ہی دیر تک جب جمشید نے گاڑی کو کوئی حرکت نہ دی تو مجبوراً کلیم اللہ کو پھر بولنا پڑا۔ اس کی سابقہ حرکت کی وجہ سے ان کا موڈ ابھی تک بحال نہ ہوا تھا۔ جمشید نے ایک لفظ کہے بنا انتہائی جارحانہ انداز میں گاڑی کو حرکت دی‘ پیچھے بیٹھی شمع اور خدیجہ دہل کر رہ گئیں لیکن اسے پروا نہ تھی۔ کلیم اللہ نے پلٹ کر دیکھا تو خدیجہ نے انہیں اب خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
شمع کی سمجھ میں جمشید کا رویہ بالکل نہیں آرہا تھا۔ ایک طرف تو خدیجہ کہہ رہی تھیں کہ وہ اس کی پسند ہے جبکہ اس کا رویہ اس کی شدید نفرت کو ظاہر کررہا تھا۔ محبت یا پسند تو اس کے رویے سے ایک فیصد بھی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ شمع کو یہی معلوم تھا کہ حکیم اللہ اور جمشید کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں۔ بے شک ان کے درمیان کے تعلق کی نوعیت الگ ہے‘ دونوں ہم مزاج ہیں اور ایک دوسرے کے خیر خواہ بھی لیکن شمع آہستہ آہستہ جاننے لگی تھی کہ جمشید کے لہجے میں چاچا کے لیے بہت کڑواہٹ ہے۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘ جمشید اس کہاوت کا عملی ثبوت پیش کررہا تھا۔ اب شمع ایک بہت عجیب صورت حال میں پھنس چکی تھی۔
’’کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ جب کوئی تمہارے شوہر کے خلاف بول رہا ہو تو تمہیں منہ میں گھنگنیاں ڈالنے کے بجائے شوہر کا ساتھ دینا چاہیے۔‘‘ وہ کب آغا حویلی پہنچے‘ اسے معلوم نہ ہوسکا۔ خدیجہ اور کلیم اللہ کب گاڑی سے اُتر کر اندر چلے گئے‘ وہ جان نہ سکی۔ ہوش آیا تو تب‘ جب جمشید کی کڑوی کسیلی طنز میں ڈوبی بات سماعت سے ٹکرائی۔
’’آپ کو تائی اماں سے آرام سے بات کرنا چاہیے تھی‘ ماں جیسی بھی ہو‘ اس کا احترام اولاد پر لازم ہے اور پھر تائی اماں تو اتنی اچھی ہیں۔‘‘ شمع مدھم آواز میں بولی۔
’’میں نے تمہیں پہلے دن ہی بتادیا تھا کہ مجھے سبق پڑھانے کی کوشش نہ کرنا‘ میں اُن مَردوں میں سے نہیں ہوں جو عورت کے اشاروں پر ناچ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔‘‘ جمشید جو پہلے بیک ویو مرر سے اسے دیکھ رہا تھا‘ اب مڑ کر اسے دیکھ کر آگ بگولا ہوا تو وہ سہم گئی۔
’’میں تو صرف…‘‘
’’آئندہ میں تمہیں اتنا بن سنور کر گھر سے باہر نکلتے نہ دیکھوں۔‘‘ اس کی چادر سر سے ڈھلک گئی تو جمشید کے لفظوں کے تیروں کا رُخ بھی بدل گیا۔
’’ارے تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟‘‘ حکیم اللہ باہر آکر بولے۔
’’چاچا السلام علیکم۔‘‘ جمشید یک دم دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ حکیم اللہ کے لیے اس کی گرم جوشی کو شمع نے متعجب نظروں سے دیکھا۔
’’آؤ شمع… تم بھی آجاؤ۔‘‘ جمشید کے لہجے کی بشاشت اس کے دوغلے پن کو صاف ظاہر کررہی تھی۔ شمع خاموش رہی اور چادر کو اچھی طرح لپیٹ کر گاڑی سے باہر آئی۔
’’شمع باجی… کیسی ہیں؟‘‘ ابھی وہ راہداری سے گزر ہی رہی تھی کہ رضا کی آواز پر اس نے سر اُٹھایا۔ اس نے جواب دینے سے پہلے پلٹ کر دیکھا۔ جمشید‘ حکیم اللہ کے ساتھ کھڑا کسی اہم معاملے سے انہیں آگاہ کررہا تھا۔ شمع کے رکتے ہی اس کی نظر اس پر پڑی اور رضا کو اس کے پاس کھڑے دیکھ کر اس نے جن نظروں سے شمع کو دیکھا‘ شمع کو زمین میں گاڑنے کے لیے کافی تھیں۔ رضا کو جواب دیے بنا وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی‘ باپ کے لیے باتیں سن سکتی تھی‘ ذلت بھی سہہ سکتی تھی‘ ناقدری بھی برداشت کررہی تھی لیکن کردار پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی برداشت نہ کرپاتی۔ جمشید کے ساتھ جو دن گزار رہی تھی‘ پھر وہ گزارنا ناممکن ہوجاتے۔ رضا حیران ہوا اور جمشید اندر ہی اندر تلملا کر رہ گیا تھا۔

پچھلے چند دنوں سے وہ بہت مضمحل تھیں۔ راتیں اضطراب میں گزار رہی تھیں تو دن بے چینی میں‘ دل و دماغ کی عجیب سی کشمکش ان کی بے کلی میں اضافہ کررہی تھی۔ وہ اپنی بے چینی کا سبب جاننے کے باوجود اس سے نظریں چرا رہی تھیں۔
’’امی‘ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ ردا دو دن سے ان کا جائزہ لے رہی تھی۔ نہ تو وہ اس سے کوئی بات کررہی تھیں‘ نہ کچھ پوچھ رہی تھیں۔
’’ہاں میں ٹھیک ہوں‘ وجاہت کی یاد آرہی ہے۔‘‘ مسز سکندر کے ہاتھ اب ایک معقول بہانہ آگیا تھا اپنے اضطراب کو چھپانے کا‘ ردا نے انہیں بے یقین نظروں سے دیکھا۔
’’بھائی کی کال آئی تھی‘ وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہے تھے‘ میں نے آواز بھی دی تھی لیکن آپ سو رہی تھیں۔‘‘
’’تو مجھے اٹھا دیتیں۔‘‘ مسز سکندر نے تیوریاں چڑھا کر کہا۔
’’بھائی ابھی کچھ دیر تک پھر کال کریں گے۔‘‘ ردا نے انہیں آگاہ کیا اور گھر کے اس حصے کی جانب بڑھی‘ جہاں ہمہ وقت ایک خاموشی اور ویرانی رہتی تھی۔ مسز سکندر وہاں جانا پسند نہیں کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ ردا اور وجاہت بھی اس حصے سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھیں۔ لیکن ان دونوں کو روکے رکھنا مسز سکندر کے بس میں نہ تھا۔
اس طرف کا داخلی دروازہ سکندر ہاؤس کے عقبی حصے میں تھا اور ایک دروازہ سکندر ہاؤس کے صحن میں کھلتا تھا لیکن صرف اس وقت جب انتہائی مجبوری کا سامنا ہو‘ دوسری صورت میں اگر کسی کو اس طرف جانا ہے تو دوسری جانب کا راستہ اختیار کرتا تھا اور اس کے لیے سکندر ہاؤس سے باہر نکل کر بائیں جانب مڑنا پڑتا تھا۔
ردا اس دروازے کے پاس رُکی اور ایک بار پھر پلٹ کر دیکھا مسز سکندر ابھی تک اپنے کمرے میں ہی موجود تھیں تو اس نے دروازے پر لگی گھنٹی بجائی۔ کتنی ہی دیر گزر گئی لیکن دروازہ نہ کھولا تو ایک خیال نے اس کے اندر انگڑا لی۔ وہ بھاگتی ہوئی سکندر ہاؤس کے مین گیٹ کو عبور کرتی مسز سکندر کی نگاہوں سے چھپ نہ سکی۔ انہوں نے پُرسوچ انداز میں اسے جاتے دیکھا جو کام کرنے کے لیے اُٹھی تھیں‘ اسے بھول بھال کر کمرے میں چلی گئیں اور ایک بار پھر ٹہلنے لگیں۔ کسی کل چین نصیب نہیں ہورہا تھا۔
’’ہیلو امی؟‘‘ بجتا موبائل انہوں نے فوراً ریسیو کیا تو وجاہت کی آواز نے ان کو چونکا دیا۔
’’ہاں بیٹا کیسے ہو؟‘‘ ایک لمحے میں انہوں نے اپنے آپ کو سنبھال کر کہا۔
’’میں ٹھیک ہوں‘ آپ بتائیں خیریت تو ہے ناں؟‘‘ وجاہت کو ان کی آواز نارمل نہیں لگی۔
’’ہاں… ہاں بیٹا خیریت ہے‘ خیریت کیوں نہ ہوگی بھلا۔‘‘ مسز سکندر نجانے کیوں بوکھلائیں‘ وجاہت نے گہری سانس لی۔
’’میں نے پہلے بھی کال کی تھی‘ ردا بتا رہی تھی کہ آپ سو رہی ہیں۔‘‘
’’نہیں سو تو نہیں رہی تھی۔ بس ایسے ہی آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔‘‘ انہوں نے جھانک کر باہر دیکھا‘ صحن میں دوسری طرف والا دروازہ ابھی تک بند ہی تھا اور ردا بھی ابھی تک واپس نہیں آئی تھی۔
’’امی‘ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ ان کے لہجے میں کوئی ایسا تاثر موجود تھا‘ جو وجاہت کو پریشان کرنے لگا تھا۔
’’اف… ایک تو تم بہن بھائی بھی ناں پیچھے ہی پڑ جاتے ہو۔‘‘ یک دم ہی انہیں احساس ہوا کہ پردیس میں بیٹے کو پریشان کرنے لگی ہیں‘ اس لیے اپنی انجان الجھن کو چھپا کر بشاش لہجے کو اپنایا۔
’’مجھے کیا ہوگا؟ ہٹی کٹی ہوں…‘‘ مسز سکندر نے ہنس کر کہا تو وجاہت بھی مسکرادیا۔
’’مجھے میری امی ہٹی کٹی ہی چاہیں۔‘‘ وجاہت بھی مسکرا کر ان کو چھیڑنے لگا۔
’’تم بھی اپنا خیال رکھا کرو۔‘‘ ممتا بھرے لہجے میں مسز سکندر نے اس سے کہا۔
’’امی‘ آپ میری فکر نہ کیا کریں‘ میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں‘ یہاں کا ماحول بہت الگ ہے امی‘ اپنے سارے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں‘ پڑھائی بھی اب زیادہ ہورہی ہے تو کبھی مصروفیات کی وجہ سے کال لیٹ ہوجائے تو پریشان نہ ہوجایا کریں۔‘‘ اسے ردا نے مسز سکندر کی پچھلے چند دنوں کی حالت سے آگاہ کردیا تھا۔
’’اسی لیے میں کہہ رہی تھی کہ نہ جاؤ‘ تمہیں عادت بھی نہیں ہے کام کرنے کی اور پھر اتنے دور…‘‘
’’کوئی بات نہیں امی‘ زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب زیادہ محنت کرنا پڑ جاتی ہے‘ آپ بس ٹھیک رہیں‘ پریشان نہ ہوا کریں میں سب سنبھال لوں گا اور پھر تھوڑا سا تو وقت ہے گزر ہی جائے گا۔‘‘
’’بیٹا‘ تم وہاں رنگا رنگ لوگوں سے ملتے ہو‘ مصروف رہتے ہو‘ نئے ماحول کو سمجھنے کی کوشش میں ہو‘ اس لیے تمہیں احساس نہیں وقت کا‘ میں تو یہاں ہر وقت ہر پل کا ہی حساب لگا لگا کر سوچتی رہتی ہوں کہ تم اب کھانا کھا رہے ہوگے‘ یونیورسٹی ہوگے یا سو رہے ہوگے۔‘‘ مسز سکندر بولیں تو وجاہت پل بھر خاموش ہوا۔
’’امی ایسے بھی تو وقت نہیں گزرے گا ناں‘ آپ کوئی مصروفیت کیوں نہیں ڈھونڈ لیتیں۔‘‘
’’اب اس عمر میں کیا مصروفیت ڈھونڈوں۔‘‘
’’امی کمال کرتی ہیں‘ ابھی تو کہہ رہی تھیں کہ آپ ہٹی کٹی ہیں۔‘‘ وجاہت کے لہجے سے عیاں تھا کہ وہ منہ بسور کر بولا ہے تو وہ مسکرانے لگیں۔
’’تم اپنا خیال رکھو‘ میں یہاں ٹھیک ہوں‘ کوئی ضرورت نہیں ہے خوامخواہ کہیں جانے کی یا…‘‘
’’کسی گوری میم کی زلفوں کا اسیر ہونے کی…‘‘ وجاہت نے ان کی بات اُچک لی تو وہ حیران ہوئیں۔ ان کی نصیحتوں کو وہ ایسے ہی ہوا میں اُڑا دیا کرتا تھا۔
’’وجاہت‘ باز آجاؤ مجھے تم پر پورا اعتبار ہے‘ میں جانتی ہوں تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے جس سے میرا مان ٹوٹے‘ مجھے تکلیف پہنچے۔‘‘ مسز سکندر کے لہجے میں ایک انجانا سا خوف نمایاں تھا۔ انہوں نے ایک اور طریقہ اپنایا بیٹے کو تابعدار رکھنے کا۔
’’ہیلو…‘‘
’’جی امی‘ میں سن رہا ہوں۔‘‘ ان کی بات سن کر وجاہت کچھ نہ بولا تو وہ سمجھیں کہ کال ڈراپ ہوگئی۔
’’امی… آپ فکر نہ کریں‘ میں کبھی بھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔‘‘ وجاہت نے پوری ایمان داری سے کہا تو مسز سکندر مسکرا دیں۔ جانتی تھی کہ بیٹا ان کا فرماں بردار ہے‘ ان سے پوچھے بنا دوسرا قدم نہیں اُٹھاتا لیکن پھر بھی ان کے دل میں ایک خوف تھا۔
’’ردا کہاں ہے امی؟‘‘
’’پتا نہیں‘ یہیں کہیں ہوگی۔‘‘ مسز سکندر تیزی سے بولیں۔ ’’تم اسے بعد میں کال کرلینا۔‘‘ اور پھر دونوں ماں‘ بیٹا میں کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ بہت سی دعاؤں کے بعد انہوں نے فون بند کیا اور ایک بار پھر ان کی نظریں سامنے کی دیوار پر جم کر رہ گئیں لیکن کوئی ہلچل نہ ہوئی۔ ردا بھی واپس نہ آئی اور ان کی بے چینی بھی بڑھتی رہی تھی۔

’’دل سے دل کی لگن کی یہ بات ہے۔‘‘
’’کون سی بات؟‘‘ سوال پوچھا گیا۔
’’یہی بات۔‘‘ کھلکھلاتا‘ شریر لہجہ سماعت سے ٹکرایا تو متنبہ نگاہوں سے اس کے شوخ چنچل روپ کو دیکھا گیا۔
’’محبت کی بات۔‘‘ سوالیہ نگاہوں کو بھویں اچکا کر دیکھا اور کہا گیا۔
’’اس خوشگواری کی وجہ؟‘‘ اس کی بلاوجہ کی ہنسی اور دلربا انداز کو نگاہوں کے حصار میں لیا گیا۔
’’تمہارا ساتھ۔‘‘ محض دو لفظوں نے چہرے پر کئی رنگ انڈیلے۔
’’اور محبت؟‘‘ مزید ایک لفظ نے دھڑکنوں کو ایک انوکھی لے پر چھیڑا۔
’’خیریت…؟ آج پھر بڑی محبت‘ محبت ہورہی ہے۔‘‘ انداز میں ایک غرور در آیا اور لہجہ مسرور ہوا۔
’’حسن‘ محبت بڑی یا چھوٹی نہیں‘ صرف گہری اور سچی ہونی چاہیے۔‘‘ وہ مخمور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’اچھا‘ کتنی گہری اور کتنی سچی؟‘‘ حسن نے دلچسپی سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’اتنی گہری کہ اس کی سطح پر جتنے مرضی طوفان آجائیں‘ لیکن اس محبت کی گہرائی تک کوئی نہ پہنچ سکے۔‘‘ اس نے محبت کی شدتوں کے زیر اثر کہا۔
’’اور اتنی سچی کہ دُنیا کی کوئی طاقت اس میں رتی بھر بھی جھوٹ نہ ملا سکے۔‘‘ وہ مزید گویا ہوئی۔
’’شجو…‘‘ حسن نے فرطِ جذبات میں اس کے ہاتھ پکڑے تو شجیعہ نے حیرت سے دیکھا۔
’’تمہاری محبت کبھی کبھی مجھے ڈرا دیتی ہے۔‘‘ حسن ایک خوف میں مبتلا سا بولا۔
’’محبت بھی کسی کو ڈراتی ہے بھلا؟‘‘ شجیعہ دلکشی سے مسکرائی۔
’’اور مجھے ایسے کیوں لگتا ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے‘ صرف شادی کی ہے۔‘‘ اس نے ابرو اُچکا کر اس کے سنجیدہ چہرے کو متعجب نظروں سے دیکھا۔
’’کسی سے محبت نہ ہو تو اس سے شادی کرلینا اپنے آپ کو عذاب دینے کے مترادف ہے۔‘‘ حسن نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھ کر اپنے انداز میں اقرارِ محبت کیا۔
’’اور تم اتنے گناہ گار نہیں ہو کہ قیامت کے دن کا انتظار کیے بغیر اپنے آپ کو سزا دے دو۔‘‘ شجیعہ قہقہہ لگاتے ہوئے اس کے بالوں کو بکھیر کر بولی۔
’’شجو تم… کبھی کبھی بہت عجیب ہوجاتی ہو۔‘‘ حسن سنجیدگی سے بولا۔
’’عجیب کیسے؟‘‘ اس نے مسکرا کر پُراشتیاق انداز میں پوچھا۔
’’اپنے آپ کو کسی کا اتنا عادی نہیں بنانا چاہیے۔‘‘
’’اتنا کتنا؟‘‘ وہ ابھی تک مسکرا رہی تھی۔
’’کہ اس کے بنا پھر ایک پل بھی گزارنا مشکل لگے۔‘‘ حسن نے آہستگی سے کہا۔
’’اور تم تو جانتی ہو شجو کہ عادت‘ محبت سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔‘‘ حسن کی سنجیدگی پر شجیعہ نے اس کی نقل اتاری اور کھلکھلا کر ہنسی۔ وہ اس لمحے اس کی سنجیدگی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی تھی۔
’’دیکھو شجو‘ تمہاری محبت میری زندگی ہے لیکن تمہاری شدید محبت مجھے لرزا دیتی ہے۔‘‘ حسن نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر کہا۔
’’حسن…‘‘ شجیعہ نے اس کی آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف دیکھ کر فقط اس کا نام لیا۔
’’میں زندگی کی آخری سانس تک تمہاری ہوں اور مجھے ہماری محبت کی سچائی اور گہرائی پر پورا بھروسہ بھی ہے۔‘‘ شجیعہ نے ایک ہاتھ چھڑا کر اس کے گال کو چھوا تو حسن مسکرانے لگا۔
’’محبت کی شدت اپنے اختیار میں نہیں ہوتی حسن۔‘‘ شجیعہ کی بات پر حسن چونکا۔
’’اچھا تم جیسی محبت کرتی ہو‘ ویسی ہی کرو‘ اتنی ہی شدت سے لیکن صرف مجھ سے۔‘‘ حسن نے ہتھیار ڈال کر کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
’’بانو آپا کے لیے تمہاری ایسی شدت میں اب برداشت نہیں کروں گا۔‘‘
’’پھر بانو آپا…‘‘ اس نے دانت پیسے۔
’’تمہاری محبت میں‘ میں شراکت برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ مصنوعی لہجے میں بولا۔
’’ہر رشتے کی اپنی محبت ہوتی ہے‘ اپنا مقام ہوتا ہے‘ اپنی اہمیت ہوتی ہے‘ بانو آپا تمہاری جگہ کبھی نہیں لے سکتیں‘ نہ ہی محبت کی اس شدت تک ان کی رسائی ممکن ہے۔‘‘ شجیعہ ہر دفعہ کی کہی بات ایک بار پھر پوری سچائی سے بیان کررہی تھی۔
’’بانو آپا کے لیے تمہاری محبت میں بھی شدت میں دیکھ چکا ہوں‘ محبت کی قسمیں نہیں ہوتیں‘ ایک ہی جذبہ ہے اور محبت…‘‘
’’محبت ایک ہی جذبہ ہے لیکن اس کے رنگ ہزار ہیں۔‘‘ وہ شجیعہ کی باتوں سے قائل نہ ہوا کچھ کہنے لگا تو شجیعہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’ہر رشتے کی اپنی محبت ہوتی ہے اور ہر محبت کی اپنی شدت۔‘‘ اس نے بات مکمل کی‘ حسن نے حیرانی سے دیکھا۔ وہ ایسی ہی تھی بے انتہا جنونی‘ یہ محبت اس کا فخر‘ مان اور زندگی بھی تھی۔ شجیعہ کا اپنی زندگی میں آنے سے پہلے حسن اپنے آپ کو بہت عام سا سمجھتا تھا لیکن شجیعہ نے اسے خاص بنادیا تھا‘ بہت خاص۔ شجیعہ کی محبت نے حسن کو ایک غرور‘ ایک سرور میں مبتلا کر رکھا تھا۔
’’بانو آپا کی محبت میں شدت کا رنگ الگ ہے اور تمہاری محبت کی شدت کا رنگ مختلف… تم بانو آپا کے لیے میری محبت کا موازنہ اس محبت سے نہیں کرسکتے جو مجھے تم سے ہے‘ ہر رشتہ اپنی نیک نیتی کی بنا پر اس محبت کو مضبوط کرتا ہے جو اس رشتے کو باندھ کر رکھتی ہے۔‘‘
’’تم نے محبت میں ڈگری لی ہوئی ہے کیا؟‘‘ حسن نے گہری نگاہوں کے حصار میں قوسِ قزح کے رنگوں کو بکھیر کر اسے دیکھا۔
’’محبت کی سچائی ہی محبت کی ڈگری ہوتی ہے اور ہاں‘ میں نے محبت میں ڈگری لی ہوئی ہے۔‘‘ شجیعہ نے تیکھی نگاہوں سے اسے گھورا اور پھر اترا کر بولی۔
’’اچھا محبت کی دیوی… اب گھر چلیں؟‘‘ حسن مزید اس بحث سے اجتناب برتتے ہوئے بولا۔ شجیعہ نے نفی میں سر ہلایا تو حسن ہنسنے لگا۔
’’اچھا چلو نہیں جاتے… ویسے بھی نوکر ی کی تے نخرہ کی…‘‘
’’توبہ توبہ… کیا میں تمہیں اتنی بے وقوف لگتی ہوں۔‘‘ دوسرے لمحے شجیعہ اس سے فاصلے پر ہوکر احتجاجاً بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ہاں تو وہ عورتیں بے وقوف ہی ہوتی ہیں ناں جو شوہروں کو غلام بناکر ان کی باندیاں بن جاتی ہیں‘ عقل مند عورتیں شوہروں کو بادشاہ بناکر ان کی ملکہ بنتی ہیں اور شجیعہ حسن باندی نہیں ایک ملکہ ہے۔‘‘ کہتے ہوئے شجیعہ اترائی اور اس کے فرضی کالر جھاڑنے پر حسن نے قہقہہ لگایا۔
’’تم باتوں میں جیتنے نہیں دیتیں۔‘‘ حسن نے شوخی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’تم محبت میں جیت کر دکھاؤ‘ تمہیں اجازت ہے بادشاہ سلامت۔‘‘ شجیعہ کا لہجہ شرارت سے بھرپور تھا۔
’’محبت میں جیت لوں گا لیکن پھر تمہیں شاید اعتراض ہو۔‘‘ حسن اس کی آنکھوں میں جھانک کر معنی خیزی سے بولا تو اس کی آنکھوں میں محبت کے ’’دوسرے‘‘ رنگوں پر وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ وہ لب دباکر ہنسا۔
’’کہیں تمہیں یہ ڈر تو نہیں کہ میں واقعی محبت میں جیت جاؤں گا۔‘‘ وہ اس کی طرف جھکا۔
’’جی نہیں۔‘‘ اس کو منہ چڑا کر وہ کھلکھلائی۔
شام کا وقت ہونے والا تھا بے شمار پرندے بھی اب گھروں کو لوٹنے کے لیے پرواز کرنے لگے تھے۔ بہت سا وقت ساتھ گزارنے کے بعد وہ دونوں بھی اب گھر جانے لگے۔ کار تھوڑے فاصلے پر پارک تھی‘ دونوں چلتے جارہے تھے۔
’’تمہیں کہیں جانا ہے کیا؟‘‘ چلتے ہوئے شجیعہ کے اندر ایک وہم نے انگڑائی لی۔
’’نہیں تو‘ کیوں؟‘‘ حسن نے سر گھما کر اسے دیکھا۔
’’تو یہ کیوں کہا کہ تمہارے بغیر رہنا سیکھوں؟‘‘ حسن کی یہ بات گو کہ اب ختم ہوچکی تھی پھر بھی شجیعہ کے دل میں ایک بے چینی سی تھی۔
’’زندگی موت کا پتا نہیں ہوتا‘ چلتی سانسیں کب رک جائیں‘ کون جانتا ہے۔‘‘ حسن نے بات کا رخ پوری طرح پھیر دیا۔ شجیعہ نے انتہائی غصیلی نظروں سے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے چھوڑ کر آگے چلنے لگی۔
’’نہیں‘ میرا مطلب تھا کہ…‘‘ حسن اس کی جانب لپکا لیکن شجیعہ نے اس کی طرف دیکھا نہیں۔
’’آئی ایم سوری…‘‘ وہ معافی مانگنے لگا لیکن وہ خفا ہوچکی تھی۔ باقی کا رستہ خاموشی سے کاٹا جبکہ حسن خوش گوار موڈ میں اس کے ہمراہ چلتے اب گاڑی میں آبیٹھا تھا۔
شجیعہ نے سیٹ پر بیٹھ کر سیٹ کی پشت پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ گویا مکمل بائیکاٹ ہوچکا تھا۔ حسن شوخی سے گنگناتے ہوئے ڈرائیونگ کرنے لگا تھا۔

ایک کمی بہرحال تھی‘ ایک تشنگی کا احساس ہمہ وقت رہتا تھا‘ لاکھ چاہنے کے باوجود وہ دل سے خوش نہیں تھے۔
’’عبدالمعید بھائی‘ آپ کو نہیں لگتا ان دنوں آپ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ رہنے لگے ہیں؟‘‘ صوفے پر ٹیک لگائے تقریباً نیم دراز عبدالمعید کو چائے دیتے ہوئے آسیہ نے پوچھا۔
’’ہاں بھابی‘ آج کل طبیعت عجیب بوجھل سی ہے‘ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ایسا کیوں ہے۔‘‘ عبدالمعید نے چائے کا مگ ہاتھ میں پکڑا اور سیدھے ہوکر بیٹھے۔
’’عبدالمعید بھائی‘ اب تو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے ناں‘ آپ کو اس فیز سے باہر نکل آنا چاہیے‘ اب تو سکیزہ بھی آپ کی اَن کہی الجھن کو محسوس کرنے لگی ہے۔‘‘ آسیہ نے اطلاع دی تو وہ چونکے۔
’’کیوں…! سکیزہ نے کچھ کہا کیا؟‘‘ عبدالمعید نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ آسیہ‘ شفیق کو چائے دے رہی تھی۔ مونگ پھلی کی پلیٹ عبدالمعید کی طرف بھی بڑھائی۔
’’بھابی‘ کیا سکیزہ نے کچھ کہا ہے؟‘‘ وہ خاموشی سے اپنا کام کررہی تھیں کہ عبدالمعید نے پھر پوچھا۔
’’سکیزہ نے کہا تو کچھ نہیں لیکن وہ تمہارے اکیلے پن پر اکثر سوال پوچھتی ہے۔ بلاوجہ کی خاموشی پر پریشان بھی ہوجاتی ہے۔‘‘ آسیہ کے بجائے شفیق نے جواب دیا۔
’’لیکن میں نے تو سکیزہ سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ عبدالمعید فکرمندی سے گویا ہوئے۔
’’تم نے بات نہیں کی لیکن تم شاید بھول رہے ہو کہ سکیزہ اب بڑی ہوگئی ہے اور بہت زیادہ حساس بھی ہے‘ تمہاری خاموشی کو بھانپ لیتی ہے۔‘‘ شفیق نے بتایا۔
’’مجھے اب سکیزہ کی فکر ہے بھابی‘ وہ اپنے آپ کو بہت ریزرو کیے ہوئے ہے‘ نہ تو کوئی سوشل لائف ہے‘ نہ کوئی اور شوق… بس مجھ تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔‘‘ عبدالمعید نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کہا۔
’’کیوں عبدالمعید بھائی‘ آپ لوگوں کی ایکٹیوٹیز کہاں گئیں؟‘‘ آسیہ نے پوچھا۔
’’بھابی‘ وہ تو گھر میں ہی جاری ہیں لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ سکیزہ میں اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ چار لوگوں کے درمیان بات کرسکے؟‘‘ عبدالمعید کی فکر اپنی جگہ درست تھی۔
’’عبدالمعید بھائی‘ آپ کی فکر غلط نہیں‘ اسے وقت دیں‘ ابھی ابھی تو اس نے یونیورسٹی جوائن کی ہے‘ اس میں اعتماد بھی آجائے گا لیکن آپ کو اپنے آپ کو سنبھالنا پڑے گا۔‘‘ آسیہ نے ہمیشہ کی طرح عبدالمعید کو دلاسا دیا تو عبدالمعید نے خاموشی سے ایک نظر انہیں دیکھا‘ اثبات میں سر ہلایا اور ایک بار پھر چائے کا کپ اُٹھا لیا۔
’’یار تم ایسے ہی ٹینشن لیتے رہتے ہو‘ ذرا موسم بدلنے دو‘ پھر کوئی پارٹی کا پروگرام بناتے ہیں‘ ہلہ گلہ ہوگا تو طبیعت بھی فریش ہوجائے گی اور سکیزہ کی تم فکر نہ کرو‘ وہ صرف تمہاری بیٹی نہیں‘ ہماری بھی زندگی ہے‘ سب ٹھیک ہوگا۔‘‘ شفیق نے بھی انہیں تسلی دی لیکن… جو ڈر اور وہم عبدالمعید کے دل میں تھے‘ وہ کم نہ ہوسکے۔ سکیزہ کی ذات کا خلا جو صرف عبدالمعید کی آنکھیں دیکھ پارہی تھیں‘ وہ بیان کرسکتے تھے‘ نہ سمجھا سکتے تھے۔

منوں بھاری قدموں اور دُکھی دل کے ساتھ اس نے آغا حویلی کے ہال کا دروازہ کھولا‘ سب کچھ ویسے ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ سامنے والے صوفے پر خدیجہ براجمان تھیں‘ ایک طرف سنگل صوفہ پر کلیم اللہ بیٹھے تھے اور رافیہ خود خدیجہ کے برابر اسی صوفہ پر انتہائی بے زار چہرہ لیے تشریف فرما تھیں۔ شمع دھیرے دھیرے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی۔
’’تم بھی ادھر ہی آجاؤ یا اگر ہاجرہ کے پاس جانا ہے تو وہ کچن میں کام کررہی ہوگی۔‘‘ شمع جو اتنے دن کی غیر حاضری کے بعد ماں کی طرف سے گرم جوش استقبال کی منتظر تھی‘ ان کے لہجے کی سرد مہری پر کٹ کر رہ گئی۔
’’تم ادھر آؤ بیٹھو یہاں۔‘‘ خدیجہ کی آواز پر شمع نے رافیہ کو دیکھا جن کے چہرے پر ناگواری واضح تھی لیکن وہ باہر جانے کے بجائے وہیں بیٹھ گئی خدیجہ کے پاس۔
’’راضی… ہماری بہو تو بہت ہی پیاری ہے‘ اس کے آجانے سے تو ہمارے گھر کی رونقوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ خدیجہ نے بشاش لہجے میں رافیہ کو مخاطب کرکے کہا اور وہ اتنی کٹھور تھیں کہ مروتاً بھی نہ مسکرائیں۔ خدیجہ نے نوٹ نہیں کیا لیکن شمع کے دل میں تو ان کا رویہ کسی نیزے کی مانند چبھ رہا تھا۔
’’تمہاری آغا حویلی میں تو اب سناٹے ہوں گے۔‘‘ خدیجہ عام سے لہجے میں محض گفتگو کررہی تھی لیکن رافیہ جو ہمیشہ ان کی پُرسکون شب و روز سے خائف رہتی تھیں‘ پہلو بدل کر رہ گئیں۔
’’خدیجہ بھابی‘ اب ایسی بھی بات نہیں‘ ماشاء اللہ آغا حویلی میں بھی بہت رونق ہے۔‘‘ رافیہ تنک مزاجی سے بولیں تو شمع نے انہیں دیکھا۔
’’یہ اپنی ہاجرہ ہے ناں‘ ہر وقت اودھم مچائے رکھتی ہے اور پھر رضا… وہ بھی تو ہے۔‘‘ وہ رضا‘ جس کو کبھی آغا حویلی کے مکینوں نے انسان سمجھا نہ اس حویلی کا فرد‘ آج اس کی موجودگی کا حوالہ دیا جارہا تھا۔
’’رافیہ… خدانخواستہ میرا کوئی ایسا مطلب نہیں تھا‘ میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ بیٹی کی رخصتی کے بعد گھر میں سناٹا ضرور ہوجاتا ہے۔‘‘ خدیجہ مصلحت پسند عورت تھیں‘ یوں بھی وہ ایک دم سے بات کو سنبھال لینے کے ہنر سے بھی واقف تھیں لیکن رافیہ میں تو ناشکری اور کٹھور پن کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ بات کو سمجھے بغیر اسے دوسرا رنگ دے کر فساد برپا کردینا رافیہ کی پرانی عادت تھی اور پھر خدیجہ کو دیکھ کر وہ ویسے ہی آپے سے باہر ہوجایا کرتی تھیں۔ پہلے کی بات اور تھی‘ اب شمع عجیب کشمکش کا شکار تھی نہ ماں کو کچھ کہہ سکتی تھی‘ نہ ساس کا ساتھ چھوڑ سکتیں تھیں اور حکیم اللہ ہمیشہ کی طرح مصلحت کا چولا پہنے بیٹھے تھے۔
’’تائی اماں… آپ کے لیے چائے یا ڈرنک؟‘‘ شمع نے رافیہ کے تلخ رویے پر پہلو بدل کر خدیجہ سے پوچھا۔
’’بیٹا پانی پلادو۔‘‘ خدیجہ سمجھ رہی تھیں کہ رافیہ کا رویہ اسے کوفت سے دوچار کررہا ہے اور وہ وہاں سے اُٹھنا چاہ رہی ہے۔
’’اور تایا جی‘ آپ کے لیے تو چائے؟‘‘ شمع نے مسکرا کر کلیم اللہ کو دیکھا۔
’’ہاں بیٹا‘ مزیدار سی۔‘‘ کلیم اللہ کو اس وقت واقعی چائے کی طلب ہورہی تھی۔
’’کلیم اللہ… آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ابھی تک ہماری بہو نے کچن سنبھالا نہیں ہے۔‘‘ خدیجہ نے انہیں یاد دلایا۔
’’لیکن بیگم صاحبہ‘ یہ تو بہو کا میکہ ہے‘ یہاں تو وہ کچن میں جاسکتی ہے ناں؟‘‘ رافیہ کی موجودگی میں ان دونوں کی بے تکلفی پر شمع نے کن انکھیوں سے ماں کو دیکھا‘ جن کے چہرے پر شدید ناگواری تھی۔
’’کوئی بات نہیں تائی اماں‘ میں کسی سے کہہ کر بنوالوں گی۔‘‘ شمع نے کہا اور باہر نکل گئی۔
’’رافیہ بھابی‘ آپ کی جٹھانی نے تو اپنی بہو کو سر آنکھوں پر بٹھا رکھا ہے۔‘‘ کلیم اللہ نے فخریہ انداز میں کہا تو رافیہ کچھ بھی نہ بولیں تو خدیجہ نے کلیم اللہ کو دیکھا لیکن وہ تو اب متوجہ نہ تھے۔
’’رافیہ… تم سناؤ کیسے دن گزر رہے ہیں‘ ہاجرہ کیسی ہے؟‘‘ خدیجہ نے ان سے پوچھا۔
’’دن تو اچھے گزر رہے ہیں اور ہاجرہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ لگے بندھے انداز میں رافیہ نے جواب دیا۔
’’اچھا آپ بیٹھیں‘ میں ذرا دیکھ آؤں کچن میں لڑکیاں کیا کررہی ہیں۔‘‘ مزید کوئی بات کرنے کے بجائے رافیہ وہاں سے اُٹھ کر باہر نکل گئیں اور خدیجہ ہکابکا رہ گئیں۔
’’میری سمجھ سے تو بالاتر ہے…‘‘ ان کے جاتے ہی کلیم اللہ کی طرف دیکھ کر خدیجہ نے کہا۔
’’اگر ایسی دعوت کرنا تھی تو کیا ضرورت تھی بلانے کی؟‘‘ خدیجہ کو ان کے رویے سے سبکی محسوس ہورہی تھی اور پھر حکیم اللہ اور جمشید بھی خائف تھے‘ جس پر موقع ملتے ہی خدیجہ نے کلیم اللہ کو احساس دلایا۔
’’اب میں کیا کہہ سکتا ہوں‘ آپ تو جانتی ہی ہیں رافیہ کے مزاج کو۔‘‘
’’جانتی ہوں‘ خوب جانتی ہوں بلکہ بہت اچھی طرح سمجھتی بھی ہوں لیکن موقع محل بھی تو دیکھنا چاہیے ناں‘ ایک عمر گزار چکی ہیں ایسی بھی کیا ناسمجھی کہ مہمانوں کو گھر بلا کر ذلیل کیا جائے۔‘‘ خدیجہ بے شک صابر عورت تھیں لیکن پھر بھی ناقدری اور یوں نظر انداز ہونا برداشت نہیں کرپا رہی تھیں۔
’’آپ کو ہی درگزر سے کام لینا ہوگا۔‘‘ کلیم اللہ محض اتنا ہی کہہ سکے۔
’’اور پھر آپ تو جانتی ہی ہیں کہ اچھا اخلاق ہی عزت کا امین ہوتا ہے‘ رافیہ کو آپ سے یہی تو بیر ہے۔‘‘ کلیم اللہ نے مسکرا کر کہا۔
’’جانتی ہوں‘ شروع سے رافیہ کو دیکھتی آئی ہوں دوسروں کی اچھائی اسے تیر کی طرح چبھتی ہے اور پھر باقی کسر حکیم اللہ بھائی نے پوری کردی۔‘‘
’’آپ اپنی اور رافیہ کی زندگی کا موازنہ کریں تو اس کا آپ کو نیچا دکھانے کا رویہ حق پر ہوگا۔‘‘
’’کمال بات کرتے ہیں آپ بھی کلیم اللہ‘ نہ میں نے اس کا رشتہ کروایا نہ حکیم اللہ بھائی کو ورغلایا پھر میرے ساتھ اس کا ایسا رویہ کیسے حق پر ہوسکتا ہے۔‘‘ خدیجہ برا مانتے ہوئے بولیں۔
’’آپ لوگوں کو اگر ایک دوسرے سے ہی باتیں کرنا تھیں تو گھر ہی بیٹھے رہتے‘ یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ اس سے پہلے کہ کلیم اللہ کوئی بات کرتے‘ رافیہ کمرے میں داخل ہوئیں اور اپنی ازلی تنک مزاجی سے بولیں۔
’’جب میزبان غائب ہوجائے تو مہمانوں کو ایک دوسرے کو ہی وقت دینا پڑتا ہے۔‘‘ خدیجہ کہنا چاہتی تھیں لیکن فقط مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔
’’حکیم اللہ اور جمشید کہیں گئے ہیں کیا؟‘‘ کلیم اللہ نے رافیہ سے استفسار کیا۔
’’ایک آپ کا بھائی‘ ایک آپ کا بیٹا اور جب ان دونوں کی آپ کو ہی خبر نہیں تو میں کیسے جان سکتی ہوں کہ وہ کہاں گئے ہیں۔‘‘ رافیہ ایک بار پھر تلخی سے بولیں۔
’’اچھا میں ہی دیکھتا ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر کلیم اللہ وہاں سے اُٹھ گئے اور وہ دونوں دیورانی‘ جٹھانی وہیں بیٹھی رہیں۔ خدیجہ جو بات رافیہ سے پوچھتیں‘ نپے تلے الفاظ میں بتا دیتیں اور پھر مسلسل خاموشی۔ ایسے میں خدیجہ بے انتہا بے چینی کے ساتھ وہاں براجمان تھیں۔ نہ اُٹھ سکتی تھی نہ رافیہ سے اس کے ایسے رویے کی وجہ دریافت کرسکتی تھیں۔ بس دعائیں مانگ رہی تھیں کہ شمع یا ہاجرہ میں سے کوئی آجائے تاکہ کمرے کے اس کشیدہ ماحول میں کوئی ہلچل ہو تاحال وہ مایوس تھیں۔ دعائیں ابھی قبولیت کے مرحلے میں داخل نہ ہوئی تھیں۔

پھر ایک ہی کیمپس میں جانے کے باوجود کئی دن تک وہ اسے نظر نہ آئی‘ اس نے میسج کیا نہ کہیں دکھائی دی‘ وہ منتظر ہی رہا۔ یونیورسٹی میں جیسے ہی فری ہوتا‘ وہ کیفے کا چکر بھی لگاتا‘ وقت بے وقت لائبریری کی جانب بھی اُٹھتے اس کے قدم احمر کو حیرانی سے دوچار کررہے تھے‘ جہاں رش ہوتا‘ وہاں ٹھہر بھی جاتا‘ وہ اپنی اس کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھا‘ وہ اپنی شخصیت کے سحر کے زائل ہونے پر حیران بھی تھا‘ وجاہت سکندر کو ایک لڑکی مسلسل نظر انداز کررہی تھی‘ یہ بات اس سے ہضم نہیں ہورہی تھی۔
وہ جو کالج‘ یونیورسٹی میں سب سے زیادہ ہینڈسم لڑکا مشہور تھا‘ لڑکیاں اس کے حلقۂ احباب میں شامل ہونے پر فخر محسوس کرتی تھی‘ یوکے میں ایک لڑکی اسے دیکھ کر‘ اس کی موجودگی سے خوف میں مبتلا ہوکر کلمہ پڑھنے لگی اور اب اگر یہ بات وجاہت سکندر کو کچوکے لگا رہی تھی تو اس کی غلطی نہیں تھی‘ وہ لڑکی ہی ایک واہمہ بنی ہوئی تھی۔
پورا ایک ماہ گزر گیا‘ اب وہ اس بات پر بھی پچھتا رہا تھا کہ صرف اپنا نمبر نہیں دینا چاہیے تھا کسی بھی طرح اس کا نمبر بھی لے لیتا تو اب تک اپنی بے چینی دُور کرکے دلجمعی سے پڑھائی کررہا ہوتا۔ احمر ہمہ وقت اسے سرزنش کرتا‘ اس کی متلاشی نگاہوں کو بخوبی جانچنے پر اسے طعنوں کے تیر بھی مارا کرتا لیکن اس پر سکیزہ کو کھوجنے کا جیسے جنون سوار ہوگیا تھا۔ وہ اس کی عجیب و غریب اور پراسرار خاموشی کو جاننا چاہتا تھا‘ وہ کون سے حسین غیر مرئی حصار میں مقید ہے‘ یہ جاننا چاہتا تھا‘ وہ ایسا کیوں چاہ رہا تھا‘ یہ وہ نہیں جانتا تھا۔ ایک بات جو وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کی یہ بے کلی سکیزہ کی ذات کے لیے نہیں‘ اس کی الجھن کی وجہ سکیزہ کا رویہ تھا‘ اس کے آس پاس کا ماحول اور گہری گمبھیر خاموشی تھی اور پھر وہ اسے نظر آگئی پورے پانچ ہفتے کے بعد کیفے کے اسی میز پر اسی طرح بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے۔ کاؤنٹر سے اس کی میز تک کا فاصلہ اس نے جس بے قراری اور برق رفتاری سے طے کیا وہ خود بھی حیران رہ گیا تھا۔
’’سکیزہ… السلام علیکم! کہاں تھیں آپ‘ اتنے دن بعد آئی ہیں‘ آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟‘‘ اس لمحے وہ اپنے آپ پر سے قابو کھوچکا تھا۔ اس کے انداز سے جھلکتی بے چینی اتنی واضح تھی کہ سکیزہ بدک کر رہ گئی۔ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔ اس کے تاثرات‘ اس سے یکسر مختلف تھے۔ وہاں کوئی خوشی نہ تھی‘ فقط حیرانی اور الجھن تھی۔ وہ سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔
’’اتنے دنوں سے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں‘ آپ نے میسج بھی نہیں کیا‘ سب خیریت تو تھی؟‘‘ وہ اب کرسی کھینچ کر بنا اجازت لیے‘ نہایت استحقاق سے اس کے سامنے بیٹھا اور وہ ابھی تک اس کی اس قدر بے تکلف انداز پر الجھی ہوئی تھی اور ہمیشہ کی طرح بولنے کی ہمت ناپید تھی۔
’’آئی ایم سوری‘ اتنے دنوں سے آپ دکھائی نہیں دیں تو میں پریشان ہورہا تھا کہ کہیں کوئی پرابلم تو نہیں ہوگئی۔‘‘ وجاہت نے اس کے ہلتے لبوں کو دیکھا۔ وہ ایک بار پھر اس کی موجودگی میں خوف میں مبتلا ہورہی تھی۔ کلمہ کا ورد کرنے لگی تھی تو وجاہت کو بے اختیار اپنے رویے کو بدلنا پڑا۔
’’آ… آپ کیوں پریشان تھے…؟‘‘ اس کے لب ہلے اور اسے لاجواب کر گئے۔
’’آپ نے میسج کیوں نہیں کیا؟‘‘ اپنی پریشانی کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا‘ تب ہی تو سوال کے جواب میں سوال کردیا۔
’’پتا نہیں۔ ایکچولی مجھے تو یاد ہی نہیں تھا۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘ وجاہت کی پُرکشش شخصیت محض اس کی اپنی نظر کا دھوکا ثابت ہورہی تھی۔ وہ برا مناتے ہوئے بولا تو سکیزہ عجیب شش و پنج میں مبتلا ہوگئی۔
’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ وہ خوامخواہ ہی شرمندہ ہونے لگی۔
’’کوئی بات نہیں‘ ویسے آپ کہاں غائب تھیں؟‘‘ وجاہت کو اب اپنی بے وقت اور بلا ضرورت کی بے قراری کا احساس ہونے لگا تو بظاہر عام اور نارمل سے انداز میں اس کی اتنے دن کی غیر حاضری کی بابت پوچھنے لگا۔
’’گھر میں بھی اور یونیورسٹی میں‘ اسائنمنٹ سب میٹ کرانا تھی‘ اس پر ہی کام کرتی رہی۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنی مصروفیت کا بتانا پڑا۔
’’آپ کے ڈیڈ کیسے ہیں؟‘‘ وجاہت اپنے اور اس کے درمیان کی خاموشی سے خائف ہونے لگا تھا۔
’’الحمدللہ ٹھیک ہیں۔‘‘ مختصراً جواب کے بعد پھر وہی خاموشی۔
’’سکیزہ۔‘‘ وجاہت نے اسے یوں پکارا‘ جیسے دونوں کے درمیان کوئی گہرا تعلق استوار ہوچکا ہو‘ سکیزہ نے اسے دیکھا اور اس کے دل میں ایک خوف پھیلنے لگا۔
’’آپ بھی کچھ پوچھیں گی تو ہی بات ہوسکے گی اور… دوستی بڑھے گی‘ ایسے تو ہم ہمیشہ اجنبی ہی رہیں گے۔‘‘ وجاہت اس کے چہرے کے تغیر و تبدل کو بغور دیکھنے کے ساتھ محسوس کرچکا تھا لیکن پھر بھی بضد رہا۔
’’مسٹر وجاہت… میں آپ سے دوستی نہیں کرسکتی۔‘‘ وہ بہ مشکل ہمت مجتمع کرکے بولی۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیوں کہ مجھے کسی دوست کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ وہ کہتا کہ دوست تو ضروری ہوتے ہیں‘ وہ اٹھ کر چلی گئی۔ وجاہت نے پھر اسے پکارا نہیں۔ بے انتہا حیرانی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا‘ تب تک جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔

تیز تیز قدم اُٹھاتی‘ ہزاروں وسوسوں کے ہمراہ اس نے سکندر ہاؤس کا گیٹ عبور کیا اور دوسری طرف بنے وائٹ گیٹ کے پاس آکر رکی اور اپنی اتھل پتھل سانسوں کو بحال کیا اور آہستگی سے دروازہ کھولنا چاہا لیکن اس پر لگے قفل نے اسے چونکا دیا۔
’’اللہ خیر کرنا…‘‘ وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑائی۔ اس نے دستک دی۔ ایک بار… دو بار… تین بار… لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
’’کیا کروں اب… کیسے کچھ پتا چلے گا؟‘‘ وہ فکر مندی سے خود کلامی کرنے لگی۔ ابھی وہ واپس پلٹنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ قدموں کی آہٹ پر ٹھہر گئی۔ گیٹ کھلا اور وہ اندر داخل ہوگئی۔
’’شازی کیا ہوا‘ اتنی دیر سے دروازہ بجا رہی ہوں کیوں نہیں کھول رہے تھے۔‘‘ ردا تیکھی نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے متفکرانہ لہجے میں پوچھنے لگی۔
’’وہ باجی‘ صاحب کے مہمان آئے ہوئے ہیں ناں‘ تو میں کھانا دے رہا تھا۔‘‘ وہ عرصہ دراز سے وہاں کام کررہا تھا‘ باہر کے سارے کام شازی کے سپرد تھے اور سکندر ہاؤس کے اس حصے کی ذمہ داری بھی اسی کے حصے میں آئی تھی۔
’’مہمان… اس وقت… کون مہمان؟‘‘ ردا رُک کر الجھی نظروں سے اس سے دریافت کرنے لگی۔
’’پتا نہیں باجی‘ کوئی بڑے لوگ ہیں‘ سوٹ بوٹ بھی پہن کر آئے ہیں اور انگریزی بھی بول رہے ہیں۔‘‘ شازی رازدارانہ انداز میں اسے آگاہ کررہا تھا اور اس کی حیرت میں اضافہ ہورہا تھا۔
’’باجی اندر نہ جانا‘ صاحب نے سختی سے منع کر رکھا ہے۔‘‘ ردا مہمان خانے کے قریب آکر رکی۔ دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو شازی نے منع کیا تو اس نے یک لخت ہاتھ کھینچ لیا اور پلٹ کر اسے دیکھا۔
’’کھانے پینے کا سارا انتظام ٹھیک کرلیا تھا؟‘‘ ردا وہاں سے پلٹ کر اس کے قریب آکھڑی ہوئی۔
’’ہاں باجی‘ وہ تو صاحب نے خاص طور پر خود سارا کھانا آرڈر کیا تھا۔‘‘ شازی کے لہجے میں بھی حیرت تھی۔
’’تو مجھے بلالیتے‘ میں کھانا پکا دیتی۔‘‘ ردا نے سرسری انداز میں کہا لیکن اسے بھی بے حد حیرت ہورہی تھی۔
’’باجی‘ میں نے تو کہا تھا لیکن صاحب نے سختی سے منع کیا تھا کہ کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔‘‘ شازی تو آج دل کھول کر سچ بولنے پر تُلا ہوا تھا۔
’’اچھا…‘‘ اس نے پُرسوچ انداز میں فقط اچھا کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
’’باجی آپ…‘‘
’’میں بعد میں آؤں گی‘ بابا کو بتانا نہیں کہ میں آئی تھی۔‘‘ شازی کی آواز پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور کہہ کر پھر رُکی نہیں۔ شازی ہکابکا کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔

زندگی میں بہت سے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں‘ رشتوں کو نبھانے کے لیے بہت سی قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں‘ مشکلات کا سامنا تب ہوتا ہے جب سب جانتے ہوئے بھی حقیقت کو تسلیم کرنا جان سے جانے کے مترادف لگ رہا ہو۔ جب سمجھوتے یک طرف ہوں اور محبت کہیں نہ ہو‘ جب قربانیوں کی قیمت فقط دھتکار ہو‘ پتا نہیں اس کے حصے میں یہ ساری خواری کیوں آئی تھی۔ سبک رفتاری سے چلتی ہوئی وہ کچن کی جانب بڑھ رہی تھی‘ ماں اور تائی اماں کی زندگیوں کا موازنہ کرتی اپنی سوچوں میں گم تھی۔
’’ہاؤ…‘‘ یک دم ہی ہاجرہ نے اسے ڈرایا تو وہ پوری جان سے کانپ کر رہ گئی۔ دل پر ہاتھ رکھ کر خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا تو اس کا بلند شوخ و چنچل قہقہہ آغا حویلی میں گونجنے لگا۔ شمع نے ڈری سہمی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔
’’تم کیوں اتنی نڈر ہوکر یوں قہقہے لگا رہی ہو؟‘‘ شمع نے حکیم اللہ کو کہیں نہ دیکھ کر اسے بازو سے پکڑ کر تنبیہہ کی۔
’’اور تم کیوں اتنی بزدل بن کر ڈر رہی ہو؟‘‘ دوبدو جواب پر شمع نے نظریں چرالیں۔
’’نڈر ہوکر قہقہے لگانا‘ بزدل بن کر ڈرنے سے لاکھ درجہ بہتر ہے پیاری باجی جان۔‘‘ ہاجرہ الہڑ پن سے بولتی‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر کچن کی طرف بڑھی تو بے جان وجود کے ساتھ شمع اس کے ہمراہ کھسٹی چلی گئی۔
’’ہاجرہ… اماں کا رویہ…‘‘
’’ہمیشہ سے ایسے ہی تھا اور ایسے ہی رہے گا‘ تم بے فکر رہو۔‘‘ ہاجرہ نے فریج میں رکھا آئس کریم کا باکس نکال کر کہا۔
’’ہاجرہ…‘‘ شمع متعجب نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’یہ لو باجی‘ آئس کریم کھاؤ اور ٹھنڈی ہوجاؤ تاکہ اماں کا گرم مزاج برداشت کرسکو۔‘‘ ہاجرہ شریر انداز میں مسکرائی تو شمع صحیح معنوں میں پریشان ہوگئی۔
’’ہاجرہ میں نے کہا تھا ناں تم سے کہ اماں کا خیال رکھنا‘ اپنی ڈھٹائی سے ان کو مزید طیش نہ دلانا‘ اگر وہ کوئی بھی بات کہتی ہیں تو خاموشی سے برداشت کرلینا۔‘‘ شمع نے اسے گھرکا۔
’’باجی… ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے‘ میں بولتی نہیں تو مسئلہ‘ بولتی ہوں تو مسئلہ‘ اس لیے میں ذرا سائیڈ پر ہی رہتی ہوں اور میرے خیال میں‘ اس میں بھی مسئلہ ہے۔‘‘ شمع کی تیکھی نگاہوں پر ہاجرہ لاپروائی سے بولی۔
’’ہاجرہ۔‘‘ شمع نے بے اختیار پیشانی پر ہاتھ مارا۔
’’اماں کو نظرانداز کرو گی تو انہیں غصہ تو آئے گا ناں یار… کبھی تو کوئی بات سمجھا کرو۔‘‘ ہاجرہ کی بے پروائی پر شمع نے انتہائی بے زاری سے کہا۔
’’یہ ساری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔‘‘ ہاجرہ اب تنک کر بولی۔
’’یار‘ اماں نے اگر دو باتیں کہہ بھی دیں تو کیا ہوا‘ کون سا وہ تمہارے ساتھ چمٹ جائیں گی۔‘‘ شمع ایک بار پھر اسے سمجھا رہی تھی۔ ’’درگزر کرکے ان کو وقت دیا کرو تاکہ ان کی نارسائی کا کرب بھی کم ہوجائے۔‘‘
’’باجی‘ میں نے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے خوامخواہ مظلومیت کا چولا پہن کر رونے والی عورتیں اچھی نہیں لگتیں‘ درگزر ہی کررہی ہوں۔‘‘ ہاجرہ اب چڑ کر بولی۔
’’ہاجرہ… جس کو چوٹ لگتی ہے ناں‘ وہی سمجھ سکتا ہے کہ درد کتنا شدید ہے۔‘‘ شمع نے سنجیدگی سے کہا۔
’’افوہ باجی‘ تم نے کیا آتے ہی پھر لیکچر شروع کردیا کچھ دن تو اتنے اچھے گزرے نہ کوئی لیکچر‘ نہ کوئی تیکھی نگاہ…‘‘ ہاجرہ اُکتاہٹ سے بولی تو شمع نے ایک نظر اسے دیکھ کر خاموشی اختیار کرلی۔
’’باجی تُو خوش ہے ناں؟‘‘ ہاجرہ نے آئس کریم کا باکس واپس فریزر میں رکھ کر گہری نگاہ اس پر ڈال کر پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ شمع نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
’’جمشید بھائی کا رویہ ٹھیک ہے ناں؟‘‘ ہاجرہ اس کی ’’ہاں‘‘ سے مطمئن نہ ہوئی تو مزید کریدا۔
’’ہاں ٹھیک ہے‘ تم بتاؤ کھانے میں کیا پکا ہے؟‘‘ یک لخت ہی اس نے موضوع بدلا۔
’’جمشید بھائی کی پسند کے کوفتے‘ بریانی‘ شامی کباب اور…‘‘ ہاجرہ مسکرا کر اسے بتانے لگی۔
’’سب کچھ ان ہی کی پسند کا؟‘‘ اسے حیرت ہونے لگی۔
’’آغا حویلی کے پہلے داماد کی خاص دعوت ہے‘ اہتمام تو ہونا ہی تھا۔‘‘ ہاجرہ شریر مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’اور ہم سب؟‘‘ شمع کا اشارہ تایا‘ تائی اور اپنی طرف تھا۔
’’تم لوگ اتنے خاص نہیں ہو ناں بقول آغا حکیم اللہ…‘‘ ہاجرہ کے لہجے میں ایک طنز تھا۔
’’تم بھی ناں ہاجرہ‘ بات کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہو۔‘‘ حکیم اللہ کے اس فرمان پر اسے دُکھ تو ہوا تھا لیکن اس نے درگزر کردیا۔ ہاجرہ کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پر اس نے رُخ موڑ لیا۔
’’پتا ہے باجی میں کیا سوچ رہی ہوں؟‘‘ ہاجرہ نے شمع سے کہا تو اس نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
’’تمہاری شادی اگر جمشید بھائی سے نہ ہوتی تو کس سے ہوتی؟‘‘ ہاجرہ کے پُرسوچ سوال پر شمع سٹپٹا کر رہ گئی۔
’’میری شادی جمشید سے ہی ہونا تھی‘ یہ بہت پہلے طے ہوچکا تھا۔‘‘ شمع نے سپاٹ انداز میں کہا۔
’’اچھا…!‘‘ ہاجرہ کا ’’اچھا‘‘ ذومعنی تھا لیکن شمع نے کوئی توجہ نہ دی اور وہاں سے چلی گئی۔
’’شمع باجی۔‘‘ وہ واپس ڈرائنگ روم کی طرف جارہی تھی کہ رضا کی آواز پر رک گئی۔ پلٹ کر اسے دیکھا اور دوسرے پل نظریں جھکا دیں۔
’’شمع باجی‘ آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا؟‘‘ رضا اس کے پاس آکر رنجیدہ لہجے میں اس سے دریافت کرنے لگا۔ اس کا اشارہ شمع کے رویے کی طرف تھا۔
’’نہیں رضا‘ میں تم سے کیوں ناراض ہوں گی؟‘‘ وہ ملائمت سے بولی۔
’’پتا نہیں شمع باجی لیکن…‘‘ رضا نے بات پوری نہ کی۔ شمع نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ وہ سیدھا سادا اور آغا حویلی کا فرماں بردار تھا۔ خدمت کرنا اور انسان کو انسان سمجھنا جانتا تھا۔
’’نہیں رضا‘ میں تم سے ناراض نہیں ہوں‘ کسی سے بھی ناراض نہیں ہوں‘ تم بہت اچھے ہو رضا‘ سب سنبھال لینا‘ کچھ بکھرنے نہ دینا رضا۔‘‘ شمع نے مدھم زخمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ رضا نے اسے دیکھا‘ اس سے پہلے کہ وہ اس کی بات کو سمجھتا‘ وہ وہاں سے چلی گئی اور رضا بھی پلٹ گیا۔

مزید کچھ دن گزرے‘ بے حد مصروف‘ نئے ماحول‘ نئے معمولات میں ڈھلنے کی کوشش میں۔ اب وجاہت اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ تھا۔ یوکے کی تیز رفتار زندگی میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتے ہوئے وہ ہمہ وقت اس ماحول سے مانوس ہونے کی کوشش میں سرگرداں رہتا تھا اور لمحہ بہ لمحہ اس عجیب سی لڑکی کے خیال کو جھٹک رہا تھا۔ دانستہ اب وہ کیفے بھی کم جاتا تھا۔ وہ اس کا منتظر رہنے کے باوجود اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن لاشعوری طور پر وہ ابھی تک اس کے میسج کا انتظار بھی کررہا تھا۔ طویل انتظار… تین ماہ گزر گئے۔ اس کا پہلا سمسٹر ختم ہوگیا اور دو ہفتوں کی چھٹیاں ہوگئیں لیکن سکیزہ کی طرف سے مکمل خاموشی رہی تھی۔ وہی خاموشی جو وجاہت کو الجھا دیتی تھی‘ بہ مشکل تین ملاقاتیں… اور اتنی بے چینی‘ اتنی فکر؟ احمر اکثر اسے لتاڑتا‘ اس کی متلاشی نظروں کا مذاق بھی اُڑاتا لیکن وجاہت دلی اُلجھن کو پس پشت ڈال کر چڑنے یا اسے برا بھلا کہنے کے بجائے مسکرانے لگتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ ’’پیار‘‘ نہیں ہے۔ یہ ایک تجسس ہے‘ جو صرف اور صرف اس کے اکیلے پن اور عجیب سے رویے کی وجہ سے ہے۔ وہ کوئی بہت خوب صورت لڑکی نہ تھی‘ نہ ہی فطرتاً ایسی تھی کہ وجاہت چند ملاقاتوں میں دل ہار بیٹھتا لیکن وہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ مسلسل وجاہت کے ذہن میں اٹکی ہوئی تھی۔ وہ بے خبر تھا یا شاید اس کیفیت کا کوئی نام ہی نہ تھا۔
بہرحال جو بھی تھا لیکن یہ طے تھا کہ وجاہت کو اس کی طرف سے ردعمل کا انتظار تھا۔ اسے اپنے آپ پر بہت اعتماد تھا‘ اپنی شخصیت کی کشش سے بہ خوبی واقف بھی تھا‘ پُر یقین تھا کہ اس کا دل جیت لے گا۔ اس کے گرد بُنا ہوا جال کاٹ دے گا لیکن وہ حیران تھا کہ سکیزہ نے اس کی طرف کوئی پیش قد می کیوں نہ کی… کیا وہ اس کی شخصیت سے متاثر نہیں ہوئی؟
وہ دو ہفتے بھی گزر گئے۔ وہ دوبارہ یونیورسٹی جانے لگا۔ اب ہر ہفتے کے اختتام پر کسی نوکری کی تلاش میں بھی مارا مارا پھرتا‘ اب اس کی نظریں اس کی تلاش میں کم کم بھٹکتی تھیں۔ ہاں لیکن وہ اپنا موبائل دن میں کئی بار چیک ضرور کرتا تھا۔ بہت دن سے اس نے اسے کسی بھیڑ میں بھی نہیں دیکھا‘ نہ کیفے میں اپنے مخصوص وقت پر وہ وہاں ہوتی تھی‘ نہ ہی لائبریری کی سیڑھیوں پر اس کا دیدار ہوا‘ وہ حیران تھا کہ وہ کہاں گئی اور پھر تقریباً پندرہ دن بعد وہ اسے دکھائی دی۔ وہ احمر کے ساتھ کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا‘ احمر اپنی اسائنمنٹ کی ریسرچ میں لائبریری سے لائی ہوئی کتابوں کی ورق گردانی کررہا تھا اور نوٹس بنارہا تھا جبکہ وجاہت‘ آکسفورڈ ٹائمز میں نوکری کے اشتہارات پڑھ رہا تھا کہ وہ کیفے میں داخل ہوئی۔
جب سے وہ وہاں بیٹھا تھا‘ گاہے بگاہے نظریں وہاں آتے جاتے لوگوں پر بھی ڈال رہا تھا۔ وہ اسی کے انتظار میں تھا۔ وہ ہاتھ میں کولڈ ڈرنک اور چسپس کا پیکٹ پکڑے بیگ کو کندھے پر لٹکائے کیفے میں داخل ہوئی۔ اسے دیکھ کر وجاہت نے ایک خوش گوار سانس خارج کی اور لب بھینچ کر اخبار کی طرف متوجہ ہوا۔ سکیزہ کے قدم بھی لمحہ بھر کو رُکے‘ احمر کی نظر بھی اس پر پڑچکی تھی‘ اس نے وجاہت کو دیکھا جو مکمل طور پر اخبار میں غرق تھا۔
’’ہیلو مس سکیزہ… کیسی ہیں آپ؟‘‘ اپنی دانست میں احمر نے وجاہت کو چونکایا تھا لیکن وہ متوجہ نہ ہوا تو احمر نے متعجب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اللہ کا شکر ہے۔‘‘ کولڈ ڈرنک میز پر رکھتے ہوئے وہ بولی۔
’’کہاں غائب ہوگئی تھیں؟‘‘ پھر نوڈلز بھی نہیں لائیں‘ ہم انتظار ہی کرتے رہے۔‘‘ ’’ہم‘‘ پر زور دے کر کن اکھیوں سے وجاہت کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
’’کچھ مصروف ہوگئی تھی‘ پچھلے دنوں طبیعت بھی سیٹ نہیں تھی تو یونیورسٹی صرف مارننگ میں ہی آرہی تھی۔‘‘ وہ اسی اپنے مخصوص مدھم لہجے میں جملوں کو ادا کررہی تھی۔ وجاہت نے سر اُٹھا کر دیکھا وہ اپنے مخصوص انداز میں بیٹھی تھی۔
’’کیا ہوا طبیعت کو؟‘‘ احمر نے مروت نبھائی ورنہ اس کا انداز قطعاً ایسا نہ تھا کہ وہ عیادت کرتا۔
’’موسم کی وجہ سے فلو تھا۔‘‘ وہ بولی تو احمر نے لب بھینچ کر اپنی مسکراہٹ روکی لیکن وہ متوجہ نہ تھی‘ خاموشی سے بیٹھی کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھرتی رہی اور پھر کتاب نکال کر اس کی ورق گردانی کے ساتھ ساتھ چسپس کھاتی رہی۔
کتنے ہی پل بیت گئے‘ سکیزہ کو کرسیوں کے گھسٹنے کی آواز آئی تو اس نے سر اُٹھا کر دیکھا۔ وہ دونوں اب اپنا کام ختم کرکے وہاں سے جارہے تھے۔ وجاہت نے سکیزہ کو دیکھا جو ان کے اُٹھنے کی وجہ سے ان کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں شکایت تھی۔ انداز میں ایک بے رخی بھی تھی لیکن وہ اس کی اس بے رخی اور شکایت کا مفہوم سمجھ نہیں پائی تھی۔ وہ بنا کوئی بات کہے وہاں سے نکل گیا‘ احمر نے بھی اس کی پیش قدمی کو گہری نظر سے دیکھا اور سکیزہ کو ایک نظر دیکھ کر وہاں سے نکل گیا تھا۔
اور… وہ ایک بار پھر وہاں اکیلی بیٹھی رہ گئی لیکن اب ایک الجھن بھی اس کے ہمراہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس لمحے وجاہت کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
’’کیا معاملہ ہے؟‘‘ وہ وینڈنگ مشین (Vending Machine) سے سیون اَپ نکال رہا تھا کہ احمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
’’کون سا معاملہ؟‘‘ وجاہت نے انجان بننے کی بھرپور اداکاری کی۔
’’یہ روٹھا روٹھا انداز‘ یہ بے رخی… آخر معاملہ کیا ہے؟‘‘ اسے دیکھا تھا۔
’’کچھ بھی نہیں۔ تُو خود ہی تو منع کرتا تھا کہ اس سے بات نہ کروں۔‘‘ وجاہت نے اس کو یہ نہیں بتایا تھا کہ سکیزہ نے اس کی دوستی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔
’’میں نے کہا اور تُو مان گیا… دل ہے کہ مانتا نہیں۔‘‘ احمر نے اسے دیکھا جو ڈرنک اُٹھا کر قدم آگے بڑھا چکا تھا۔
’’دل کو چھوڑ‘ میں نے ایک ویکینسی دیکھی ہے‘ وہاں کال کرنی ہے تُو کردے صرف ان سے فارم لینا ہے‘ مجھے گھر کال کرنی ہے۔‘‘ وجاہت اس سے کہتا ہوا آگے بڑھ گیا اور احمر حیرانی کے ساتھ اس کے پیچھے چل دیا تھا۔

شجیعہ اور حسن کی زندگی محبتوں کے سنگ اسی طرح رواں دواں تھی‘ بانو آپا بھی اپنی جاب اور دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ مصروف ترین شب و روز گزار رہی تھیں لیکن گاہے بگاہے ان کی نظریں شجیعہ اور حسن کی محبت کی بلائیں بھی لیتی رہتیں۔ ان کی ایک انجان سی تلخی کو وہ دل میں دبائے ان کی ہنسی میں بھی شریک رہتی تھیں۔
شجیعہ کی ہنسی میں وہی کھنک ابھی تک برقرار تھی۔ حسن کی محبت کی شدت بھی عروج پر تھی۔ چار کمروں کے اس گھر میں رہنے والے تنیوں نفوس اپنے اپنے احساسات کے ہمراہ ایک ہی چھت تلے زندگی گزار رہے تھے۔ وہ دونوں محبت کی سرسبز و شاداب وادیوں میں گم‘ تتلیوں کے پیچھے بھاگتے‘ جگہوں کو پکڑتے‘ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے آگے بہت آگے بڑھتے جارہے تھے اور ایک بانو آپا تھیں‘ جن کی زندگی میں تتلیاں بھی تھیں‘ جگنوؤں کی چمک بھی تھی‘ ہاتھوں میں ہاتھ بھی تھے… لیکن تتلیوں کے سارے رنگ اُترچکے تھے‘ جگنو کی چمک سورج کی کرنیں نگل گئی تھیں۔ وہ ایک ایسی سمت میں سفر کررہی تھیں جو کہیں سے بھی ان کی منزل کی نشاندہی نہیں کررہی تھی۔
’’بانو آپا۔‘‘ وہ ابھی جاب سے لوٹی تھیں کہ شجیعہ کافی کا مگ لیے ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔
’’ہاں جناب… کیسی ہو؟‘‘ اس کی پکار پر بانو آپا نے مسکرا کر پوچھا۔
’’آپ سے بہت سخت ناراض‘ بے حد خفا…‘‘ وہ کافی کا مگ ان کی طرف بڑھا کر نروٹھے لہجے میں بولی۔
’’ارے… ارے… وہ کیوں؟‘‘ بانو آپا نے مگ پکڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ایک گھر میں رہنے کا کیا فائدہ کہ بندہ اتنا مصروف ہوجائے کہ کوئی بات کرنے کو بھی ترس جائے۔‘‘ شجیعہ نے قدرے سنجیدگی سے شکایت کی۔
’’یہ کون سا بندہ ہے جو اتنا مصروف ہے؟‘‘ بانو آپا نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’بندہ نہیں‘ بندی ہے… جو نجانے خود کو کیا سمجھتی ہے‘ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی اس کے بغیر‘ اس سے بات کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن پھر بھی… پروا کب ہے کسی کی‘ محبت کی… محبت کرنے والے جائیں بھاڑ میں ان کو تو اپنے کام ہی عزیز ہیں۔‘‘
’’ویسے محبت کرنے والے بھاڑ میں ہی بھیجے جاتے ہیں۔‘‘ بانو آپا کھلکھلا کر ہنسیں لیکن ان کے الفاظ میں جو تلخی اور چبھن تھی‘ شجیعہ نے بہ خوبی نوٹ کی تھی‘ تب ہی تو منہ مزید پھلا کر رُخ موڑ لیا۔
’’اچھا معاف کرو… میری محبت کی دیوانی۔‘‘ بانو آپا نے مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس کے پاس آئیں اور شریر لہجے میں اس سے مخاطب ہوئیں۔ اس کا نروٹھا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا۔
’’آپ جانتی ہیں مجھے آپ سے کتنی محبت ہے؟‘‘ اس نے براہ راست ان کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
’’ہاں جانتی ہوں۔‘‘ بانو آپا نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’لیکن یقین نہیں ہے۔‘‘ شجیعہ نے ان کا ہاتھ جھٹک کر مکمل ناراضی کا اظہار کیا۔
’’یقین بھی بہت ہے لیکن ہڈی بننا گوارہ نہیں۔‘‘ وہ شرارت بھری مسکان کو چہرے پر سجا کر بولیں۔
’’آپ جانتی ہیں ایسا نہیں ہے۔‘‘ وہ ابھی تک اسی لہجے میں بولی۔
’’چلو مان لیتی ہوں۔‘‘
’’مجھے کبھی کبھی آپ بالکل بھی سمجھ میں نہیں آتیں۔ آپ بلاوجہ خود کو اکیلا کیوں کرلیتی ہیں؟‘‘ شجیعہ کا انداز جھنجھلایا ہوا تھا۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ نظریں چرا کر بولیں۔ ’’میں تو تمہیں اور حسن کو وقت دے رہی تھی‘ انجوائے کرنے کا‘ یہی تو دن ہیں‘ فیملی کی ذمہ داری پڑ جائے تو اپنے لیے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ہاہا… آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے دس بارہ بچے پال چکی ہوں۔‘‘ شجیعہ تیزی سے بولی لیکن دوسرے لمحے زبان دانتوں تلے دبالی۔
’’آپا… ہم سب ساتھ ہیں۔‘‘ بانو آپا کچھ نہ بولیں تو شجیعہ نے پھر کہا۔
’’ہاں تو… میں نے کب کہا کہ الگ الگ ہیں۔‘‘ بانو آپا نے کافی کا مگ اُٹھاتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر خود کو الگ تھلگ کرلینے کا کیا مطلب ہوا؟ جانتی ہیں آج کتنے دن کے بعد آپ اس وقت گھر میں موجود ہیں؟‘‘ شجیعہ اب جرح کررہی تھی۔
’’چندہ… ایسی کوئی بات نہیں‘ تم جانتی ہو ناں کہ سوشل ورک کی جاب کیسی ہوتی ہے اور پھر تم اور حسن کو ساتھ ساتھ دیکھنا اچھا لگتا ہے مجھے۔‘‘ بانو آپا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ساتھ ساتھ کب دیکھا آپ نے؟‘‘
’’تصور میں۔‘‘ بانو آپا کھلکھلائیں تو شجیعہ نے تیکھی نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’اچھا چھوڑو یہ گلے شکوے… یہ بتاؤ کہ تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘ بانو آپا نے اس کے چہرے پر نگاہیں جما کر پوچھا۔
’’میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے ان کو اپنی خیریت سے آگاہ کرنے لگی۔ بانو آپا نے دیکھا اس کے چہرے‘ اس کی آنکھوں سے خوشی چھلک رہی تھی۔
’’حسن ٹھیک ہے؟‘‘ بانو آپا نے اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹا کر گہرا سانس لیا اور حسن کے بارے میں پوچھا۔
’’وہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ شجیعہ نے جیسے مصری کا ٹکڑا منہ میں رکھا ہو‘ حسن کے ذکر نے اس کے لہجے میں چاشنی بھردی تھی۔
’’اچھا تو ہوگئی بات اس کی فیملی سے؟‘‘ بانو آپا نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ ذکر چھیڑا۔
’’نہیں آپا… ابھی تک تو نہیں۔‘‘
’’کیا…! ابھی تک حسن نے اپنی فیملی کو نہیں بتایا؟‘‘ بانو آپا لہجے میں در آئی تلخی پر کسی طرح بھی قابو نہ پاسکیں۔
’’نہیں آپا… حسن کی پھر بات ہی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ شجیعہ مدھم آواز میں بولی۔
’’شجو… یہ کوئی اتنی معمولی بات ہے کیا جس کے لیے حسن ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے؟‘‘
’’نہیں آپا‘ حسن صرف مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔‘‘ شجیعہ ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔
’’مناسب وقت… مناسب وقت کون سا ہوتا ہے؟‘‘
’’آپا… اب یہ تو حسن ہی جانتا ہے ناں‘ مجھے کیا پتا۔‘‘ شجیعہ منہ بسور کر بولی۔
’’تم سے مجھے ایسی بے وقوفی کی امید نہیں تھی۔‘‘ بانو آپا نے رخ موڑ کر تلخی سے کہا۔
’’آپا میں نے کیا کیا ہے؟‘‘ وہ روہانسی ہوکر چلائی۔
’’تم نے کچھ نہیں کیا‘ یہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں۔‘‘
’’آپا‘ حسن نے پھر اس ٹاپک پر بات نہیں کی تو میں نے بھی مناسب نہیں سمجھا کہ اس ذکر کو چھیڑ کر خوامخواہ اسے پریشان کروں۔‘‘ شجیعہ سنجیدگی سے بولی۔
’’شجیعہ کچھ مسئلے ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے مناسب وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ مناسب وقت کی طرف قدم بڑھائے جاتے ہیں۔‘‘ بانو آپا ایک بار پھر قدرے تلخ انداز میں بولیں۔
’’بانو آپا‘ ہمارے ساتھ کوئی ایسا گمبھیر مسئلہ تو نہیں ہے جس کو حل کرنا بے حد ضروری ہو۔‘‘ اب کے شجیعہ بھی تیز لب و لہجے میں گویا ہوئی۔
’’تم اس مسئلے کی گمبھیرتا کو سمجھ نہیں پارہی ہو… اور تمہاری شادی ایک گمبھیر مسئلہ ہی ہے‘ محبت میں ہاتھ تھام لینا آسان ہوتا ہے لیکن اسی ہاتھ کو تھامے رکھنا انتہائی مشکل بھی ہوتا ہے اور جب محبت کی ہر راہ پُرخار ہو تب کب کانٹا چبھ جائے پتا ہی نہیں چلتا۔‘‘ بانو آپا کا بے حد سنجیدہ انداز شجیعہ کو حیران کر گیا۔
’’بانو آپا‘ اب آپ ایسی باتیں تو نہ کریں‘ کیا آپ کو حسن پر اعتبار نہیں؟‘‘ شجیعہ نے نروٹھے انداز میں ان کو باز رکھا اور حسن کے بارے میں رائے لینا چاہی۔
’’نہیں…‘‘ بانو آپا نے ٹھنڈی کافی کا کڑوا گھونٹ نگلتے ہوئے سفاکی سے کہا۔
’’بانو آپا…!‘‘ شجیعہ کا دل ایک دَم تیزی سے دھڑکا۔
’’اس سے کہو کہ اپنی فیملی میں اس شادی کا اعلان کرے‘ تمہیں وہ مقام دلائے جس کے خواب تمہاری آنکھوں میں ہیں‘ اسی مقام کے بعد ہی تمہاری محبت کی تکمیل ہوگی اور حسن کے لیے میرے دل میں اعتبار…‘‘ بانو آپا نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
’’بانو آپا… حسن کہے گا‘ سب کرے گا‘ میرے کچھ بھی کہے بغیر…‘‘ شجیعہ نے ہاتھ مروڑتے ہوئے رک رک کہا۔
’’اگر محبت و مروت میں تم اس سے نہیں کہہ سکتیں تو میں بات کروں کیا؟‘‘ بانو آپا نے اس کی طرف دیکھا۔
’’نہیں آپا… مجھے حسن پر اور ہمارے درمیان اس اٹوٹ بندھن پر‘ اپنی محبت پر بہت اعتبار ہے… میں حسن کو وقت دینا چاہتی ہوں‘ اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتی‘ ہر طرح کے حالات میں اس کا ساتھ دینا چاہتی ہوں۔‘‘ شجیعہ نے فرطِ جذبات سے بانو آپا سے کہا تو وہ گہرا سانس لے کر رہ گئیں۔
’’اور بانو آپا‘ حسن اتنا بھی بے اعتبار نہیں ہے… اگر اس کے دل میں کھوٹ ہوتا تو وہ مجھے صرف محبت میں ہی اُلجھائے رکھتا‘ کبھی کوئی بندھن نہ باندھتا۔ مجھے اس کے لیے آپ کا بے اعتبار لہجہ اچھا نہیں لگا۔‘‘ شجیعہ کو حقیقتاً بانو آپا کے لب و لہجے نے دُکھ ہوا تھا جس کا اس نے اظہار بھی کردیا تھا۔
’’اللہ کرے کہ تمہارا یہ اعتبار قائم رہے۔‘‘ بانو آپا نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’تمہاری خوشی میرے لیے بھی اہم ہے۔ شاید تم مناسب وقت کا انتظار کرکے صحیح کررہی ہو لیکن میں… مناسب وقت کے انتظار کے خلاف ہوں‘ میرے دل کی گہرائیوں سے تمہاری محبت اور اعتبار کی سلامتی کی دعائیں نکلتی ہیں۔‘‘ بانو آپا اب اس کے پاس کھڑیں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میں کہہ رہی تھیں۔ شجیعہ نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا۔
’’آمین… اور ان شاء اللہ آپ کی دعائیں ضرور قبول ہوں گی۔‘‘ ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر شجیعہ مسکرائی تو بانو آپا بھی مسکرادیں۔
’’اچھا آپا… اب جاتی ہوں‘ کھانا تو ساتھ کھائیں گی ناں؟‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ بانو آپا نے اثبات میں سر ہلایا تو شجیعہ نے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے۔ نجانے کیوں شجیعہ کو وہاں سے باہر نکلتے ہوئے اپنا دل بوجھل لگ رہا تھا۔ قدموں میں بھی روانی نہ تھی۔ بانو آپا نے اسے بڑی گہری نظر سے دیکھا اور پھر ٹھنڈا سانس لے کر اپنے کام کی طرف مشغول ہونے کی کوشش میں لگ گئی۔

’’کیا بات ہے… ہماری پرنسس ایسے گم صم کیوں بیٹھی ہے؟‘‘ عبدالمعید کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ سکیزہ یونیورسٹی سے واپس آئی تو کپڑے تبدیل کیے بنا ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئی اور پھر کتنی ہی دیر گزر گئی‘ ایک غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے بے معنی اور لایعنی سوچوں کے ساتھ بیٹھی رہی کہ عبدالمعید نے آکر اس کی طرف حیرت سے دیکھ کر استفسار کیا۔
’’السلام علیکم… اتنی دیر لگادی آپ نے ڈیڈ… میں بور ہورہی تھی۔‘‘ سکیزہ نے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاہاہا… یہ کیسے مان لوں؟‘‘ عبدالمعید نے ہنس کر کہا۔
’’کیوں نہیں مانیں گے…‘‘ وہ ابرو اُچکا کر انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’کیوں کہ ابھی چند لمحے پہلے میں نے اپنی جھلی دھی کو گہری سوچوں میں گم دیکھا تھا۔‘‘ عبدالمعید نے صوفہ پر بیٹھ کر ہلکے پھلکے انداز میں اس سے کہا۔
’’واؤ ڈیڈ… آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں گہری سوچ میں گم تھی؟‘‘ سکیزہ یک دم حیرت سے چلائی۔
’’دیکھ لو تمہارے ڈیڈ کوئی معمولی انسان نہیں‘ ایک میجک مین ہیں۔‘‘ عبدالمعید شرارتی انداز میں کالر جھاڑ کر مسکرائے۔ سکیزہ نے آنکھیں پٹپٹا کر انہیں دیکھا۔
’’میجک مین نہیں۔‘‘
’’تو…؟‘‘ عبدالمعید نے پلکیں جھپکا کر پوچھا۔
’’سپرمین… بٹ اے لٹل بٹ چیٹر مین…‘‘ سکیزہ نے منہ بسور کر کہا۔
’’میں نے کب چیٹنگ کی؟‘‘ عبدالمعید نے اسے دیکھ کر مسکرا کر پوچھا۔
’’چیٹنگ ہی ہوئی ناں ڈیڈ‘ آپ ایک دم کیسے جان لیتے کہ سکیزہ کچھ سوچ رہی ہے‘ اداس ہے یا کسی بات پر اَپ سیٹ۔‘‘ سکیزہ کو ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ عبدالمعید کیسے جان لیتے ہیں کہ وہ اس وقت کون سے موڈ میں ہے۔
’’ہاہاہا… بیٹا جان‘ جن سے محبت ہو ناں‘ ان کے دل تک رسائی مشکل نہیں ہوتی ہے۔‘‘ عبدالمعید مسکرائے۔
’’واٹ… واٹ… واٹ ڈڈ یو سے ڈیڈ… اف مائی گاڈ‘ کتنی بار کہا ہے ڈیڈ میرے ساتھ اتنی ڈیپ اردو نہ بولا کریں۔‘‘ سکیزہ نروٹھے لہجے میں شکایت بھرے انداز میں بولی۔
’’میں نے کب مشکل اردو بولی؟‘‘ عبدالمعید مسکراہٹ دبا کر مسکرائے۔
’’دل تک رسائی مشکل نہیں ہوتی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟‘‘ سکیزہ نے ان کے الفاظ دہرائے تو عبدالمعید قہقہہ لگا کر ہنس دئیے۔
’’چیلنج فار مائی جھلی دھی…‘‘ یک دم ہی عبدالمعید بولے۔
’’واٹ چیلنج…؟‘‘ سکیزہ نے ابرو اُچکا کر دیکھا۔
’’تم اس کا مطلب ڈھونڈ کر بتاؤ… پھر تمہیں ٹریٹ ملے گی۔‘‘ عبدالمعید نے کہا تو سکیزہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’آپ جانتے ہیں میرے پاس کوئی اردو بولنے والی دوست نہیں ہے‘ ہمیشہ ایسے چیلنج دے کر مجھے ہرا دیتے ہیں۔‘‘ سکیزہ نے منہ بنایا۔
عبدالمعید نے اسے ایسے ہی اردو سکھائی تھی۔ خود بول کر اسے چیلنج دیتے تھے اور پھر جب اسے اس لفظ کا مطلب نہ ملتا تو خود ہی بتا بھی دیا کرتے تھے اور آج پھر ایک مشکل لفظ پر دونوں باپ بیٹی میں بحث جاری تھی۔
’’کوشش تو کی جاسکتی ہے ناں؟‘‘ عبدالمعید نے کہا۔
’’اور میں اپنی سکیزہ کو ہرانا نہیں بلکہ فاتح بنا چاہتا ہوں‘ مضبوط کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ عبدالمعید نے اس کے معصوم پُرسوچ چہرے کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’اتنی مشکل اردو سننے کے بعد میں مضبوط نہیں کنفیوز ہی ہوتی ہوں۔‘‘ سکیزہ چڑ کر بولی۔
’’ہاہاہا… کوشش کرنے سے ہی کنفیوژن دُور ہوتی ہے ناں۔‘‘ عبدالمعید نے ہنستے ہوئے کہا تو سکیزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اب بتاؤ کیا سوچا جارہا تھا؟‘‘ عبدالمعید نے ایک بار پھر اس کی گہری سوچوں کی بابت پوچھا۔
’’ڈیڈ… کچھ لوگ بہت اسڑینج ہوتے ہیں۔‘‘ سکیزہ نے پُرسوچ انداز میں کہا۔
’’اسڑینج کیسے؟‘‘ عبدالمعید نے متعجب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ڈیڈ‘ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میری یونیورسٹی میں ایشین لڑکے بھی ہیں‘ ڈیڈ جن کو میں نے اپنا لنچ دیا تھا۔‘‘ سکیزہ نے عبدالمعید کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاں یاد ہے‘ غالباً وہ پاکستان سے ہیں۔‘‘ عبدالمعید کو یک دم یاد آگیا کہ کچھ مہینے پہلے سکیزہ نے انہیں بتایا تھا۔
’’ہاں‘ آئی تھنک پاکستان سے ہیں‘ وجاہت سکندر اور احمر… احمر کا مجھے سر نیم نہیں معلوم۔‘‘ سکیزہ نے جھنجھلا کر کہا۔
’’کوئی بات نہیں لیکن ہوا کیا؟ کیا پھر سے انہیں اپنا لنچ دے دیا؟‘‘ عبدالمعید نے ہنس کر پوچھا۔
’’نہیں ڈیڈ… یو نو وجاہت سکندر‘ ڈیڈ ہی کیپس فالوانگ می۔‘‘ (وہ میرا پیچھا کرتا رہتا ہے)
’’واٹ…! کیوں؟‘‘ سکیزہ کی بات پر عبدالمعید یک دم چونک کر سیدھے ہوکر بیٹھے۔
’’نو… ڈونٹ وری ڈیڈ‘ نائٹ لائک ڈیٹ‘ ہی آفر می فار اے فرینڈ شپ‘ اٹس لائک لونگ ٹائم اگو اور میں نے رفیوز کردی۔‘‘ سکیزہ‘ عبدالمعید کے چہرے پر اُبھرتی لکیروں کو دیکھتے ہوئے دوسرے ہی پل ان کو تفصیل بتانے لگی۔ عبدالمعید یک ٹک سکیزہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ ایسے ہی بات کرتی تھی‘ آدھی انگلش آدھی اردو میں۔
’’میں نے اسے بتایا دیا کہ میرے بیسٹ فرینڈ صرف اور صرف میرے ہینڈسم ڈیڈ ہیں۔‘‘ سکیزہ نے انہیں بتایا۔
’’اس میں اسڑینج کی کون سی بات ہے؟‘‘ عبدالمعید کی ہمیشہ سے عادت تھی‘ سکیزہ کی باتوں کے دوران اس سے سوال پوچھتے تھے۔
’’ڈیڈا سڑینج بات تو ابھی آئی ہی نہیں ناں۔‘‘ سکیزہ نے انہیں دیکھ کر کہا تو عبدالمعید نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ڈیڈ… اس نے مجھ سے کہا کہ میں اسے اپنا نمبر دوں‘ ڈیڈ ہی واز آسکنگ فار مائی موبائل نمبر۔‘‘ سکیزہ نے آنکھیں پھیلا کر حیرت سے کہا تو عبدالمعید بھی حیران رہ گئے۔
’’اچھا پھر؟‘‘ عبدالمعید مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھے۔
’’آئی ڈڈ ناٹ گیو ہم مائی نمبر‘ ایک منٹ کے لیے تو میں بہت ڈر گئی تھی۔ بٹ دین… میں نے کہا کہ آپ اپنا نمبر دے دو۔‘‘ عبدالمعید اس لمحے واقعی فکرمند ہوگئے تھے۔
’’اچھا پھر…؟‘‘ وہ مزید جاننا چاہ رہے تھے۔
’’پھر ڈیڈ ہی گیو می ہز نمبر اینڈ سیڈ… میں آپ کے میسج کا انتظار کروں گا۔‘‘ سکیزہ نے ہنستے ہوئے اس کی نقل اُتاری اور حرف بہ حرف اپنی اور وجاہت کی باتیں عبدالمعید کو بتادیں۔
’’ڈیڈ میں بھول ہی گئی‘ ان فیکٹ بزی ہوگئی تو بالکل ہی یاد نہیں رہا۔ آج بہت سارے دن کے بعد میں نے وجاہت اور احمر کو کیفے میں دیکھا‘ احمر نے بات کی بٹ ڈیڈ وجاہت سکندر لکس سو اَپ سیٹ۔ مجھ سے بات نہیں کی کہ واک آؤٹ کردیا۔‘‘ سکیزہ نے ایمان داری سے ساری بات عبدالمعید کو بتائی تو عبدالمعید نے گہرا سانس لیا۔
’’تم نے یونیورسٹی میں کسی کو بھی دوست کیوں نہیں بنایا؟‘‘ عبدالمعید نے ایک بار پھر اس سے پوچھا۔
’’ٹو بی ہونسٹ ڈیڈ… آئی ڈونٹ نیڈ اینی فرینڈ۔ آئی ایم کم فار ٹیبل وِد یو۔ سو کسی اور دوست کو کیا کرنا؟‘‘ سکیزہ نے لاپروائی سے کہا۔
’’تو پھر تم سوچ کیا رہی تھیں‘ تم نے بھی تو اگنور کیا ناں؟ اب وجاہت کی طرف سے ایسا ری ایکشن آنا چاہیے۔‘‘ عبدالمعید بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہے تھے لیکن دل ہی دل میں ان کو ایک انجان سی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ سکیزہ پر انہوں نے کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی تھی‘ دونوں باپ بیٹی میں دوستی کا رشتہ زیادہ تھا‘ ایک بے تکلفی بھی تھی تب ہی تو سکیزہ ہر چھوٹی بڑی بات عبدالمعید سے آسانی سے کہہ لیتی تھی۔
’’نو ڈیڈ… آئی ایم ناٹ تھنکنگ اباؤٹ ہز بی ہیویئر‘ مجھے تو خود پر حیرانی ہوئی ناں کہ میں تو بھول ہی گئی لیکن وہ مجھے یاد رکھے ہوئے تھا۔‘‘ سکیزہ کے لہجے سے اس کی سچائی جھلک رہی تھی۔
’’اور نہ ہی مجھے آپ کو یہ سب بتانا یاد رہا۔‘‘ اب کے سکیزہ نے مسکرا کر کہا۔
’’بیٹا‘ آپ کو دوست بنانے چاہیں‘ دوست تو ضروری ہوتے ہیں۔ جو باتیں آپ اپنی ہم عمر دوستوں سے شیئر کرسکتی ہو‘ وہ مجھے تو نہیں بتاسکتی ناں۔‘‘ عبدالمعید نے آج پہلی بار نہیں کہا تھا کہ اسے دوست بنانے چاہیں لیکن آج وہ فکر مند ہوئے تھے۔ سکیزہ کی دُنیا صرف ان کی ذات تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ اسے اپنی ذات تک محدود کرکے وہ اس سے اعتماد چھین رہے تھے۔ دُنیا سے رابطے کا سلسلہ منقطع کررہے تھے۔
’’ڈیڈ‘ میں دوست نہیں بناسکتی‘ مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘ اس کے الفاظ نے آج ان کو صحیح معنوں میں پریشان کردیا تھا۔ اس لمحے ان کو اپنی سکیزہ ایک شہزادی اور اپنا آپ ایک ظالم صیاد کی مانند لگ رہا تھا۔
’’ڈیڈ میں تو آپ کے بغیر کہیں بھی نہیں جاسکتی‘ پتا ہے ڈیڈ‘ مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہیں بھی اکیلے جانے میں‘ ایسے لگتا ہے جیسے ساری دُنیا میرے پیچھے پیچھے آرہی ہے اور جیسے ہی میں رکوں گی تو سارے لوگ مجھے پکڑلیں گے۔‘‘ سکیزہ کی باتوں نے آج پھر انہیں پریشان کردیا تھا۔
’’نہیں بیٹا‘ کسی کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ اپنے سارے کام چھوڑ کر آپ کے پیچھے چل پڑے گا۔‘‘ عبدالمعید نے بظاہر ہنستے ہوئے کہا۔
’’پتا نہیں ڈیڈ لیکن مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ سکیزہ نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہارے ساتھ ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں جہاں بے انتہا آزادی ہے اور بیٹا تمہارے ڈیڈ کے لیے یہ بہت بڑا ٹاسک تھا کہ وہ اپنی سکیزہ کو اکیلے‘ اس ملک میں رہ کر اس کی پرورش کرے۔‘‘ عبدالمعید نے سکیزہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’میں جانتی ہوں ڈیڈ… میں نے تو کبھی بھی آپ کو لیٹ ڈاؤن نہیں کیا۔‘‘ سکیزہ ان کے پاس آکے ان کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
’’مجھے تم پر فخر ہے بیٹا لیکن… تمہارا اکیلا پن… مجھے جرم کا احساس دلا رہا ہے۔‘‘ عبدالمعید نے اس کی طرف دیکھا۔
’’میرے سویٹ اینڈ جھلے ڈیڈ… میں بالکل اکیلی نہیں ہوں‘ مجھے دوستوں کی ضرورت نہیں‘ میرے لیے میرے ڈیڈ ہی وہ بیسٹ فرینڈ ہیں‘ جن سے میں ہر بات شیئر کرسکتی ہوں‘ ہاں یہ الگ ٹاپک ہے کہ میرے ڈیڈ مجھے اپنا بیسٹ فرینڈ نہیں سمجھتے۔‘‘ سکیزہ نے شکایتی انداز میں ان کی طرف دیکھا۔
’’ایسا تو نہیں ہے۔‘‘ عبدالمعید نے اپنا دفاع کیا۔
’’مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ وہ ضدی لہجے میں منہ بسور کر بولی۔
’’ہاہاہا… میری جھلی دھی…‘‘ عبدالمعید ہنس کر بولے۔
’’دیٹس واٹ آئی وانٹ…‘‘ سکیزہ نے چٹکی بجا کر پُرجوش انداز میں کہا۔ عبدالمعید نے شفقت بھری نظروں سے اسے دیکھا جانتے تھے کہ وہ کیا سننا چاہ رہی ہے۔
’’آپ میرے دل کی بات کیسے جان جاتے ہیں ڈیڈ…‘‘ ہزار بار پوچھا گیا سوال ایک بار پھر ان کی سماعت سے ٹکرایا۔
’’تم میرے لیے دُنیا کی سب سے پریشیئس (Precious) ڈول ہو‘ اس لیے مجھے تم سے بہت محبت بھی ہے اور جب بہت زیادہ محبت ہوجائے تو دل کی بات جان لینا مشکل نہیں ہوتا۔‘‘ عبدالمعید نے سکیزہ کو دیکھ کر کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
’’لیکن میں پہلے تو آپ کے لیے اتنی زیادہ پریشیئس نہیں تھی۔‘‘ سکیزہ نے سرسری لب و لہجے میں کہا۔
’’پہلے میں ایک غلط موڑ مڑگیا تھا۔‘‘ عبدالمعید نے مدھم آواز میں کہا۔
’’واٹ ڈز دیٹ مین ڈیڈ؟ (اس کا کیا مطلب ہوتا ہے)‘‘ سکیزہ نے الجھ کر انہیں دیکھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ گہرا سانس لے کر ٹال گئے۔
’’کل ایک اسپیشل ڈے ہے… آپ کو یاد تو ہے ناں؟‘‘ سکیزہ نے ابرو اچکا کر خالصتاً باس کے سے انداز میں عبدالمعید سے پوچھا۔
’’اب کل کون سا ڈے ہے؟‘‘ عبدالمعید نے اسے دیکھا۔
’’آپ بھول گئے ڈیڈ…‘‘ وہ تیزی سے بولی۔
’’ڈونٹ ٹیل می‘ کل فادر ڈے ہے…؟‘‘ عبدالمعید نے اس کی ناراضی سے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’اٹس اوور… فرینڈ شپ ڈے…‘‘ سکیزہ نے منہ پھلا کر عبدالمعید کو دیکھ کر ان کو بتایا۔
’’اوہو… یس یس… ہیپی فرینڈ شپ ڈے ٹو مائی سویٹ پرنسس۔‘‘ عبدالمعید نے خوشامدانہ انداز اپنایا۔
’’یو کانٹ میک می فول‘ مائی سویٹ ڈیڈ…‘‘ سکیزہ نے دانت پیس کر اور انتہائی چڑ کر کہا تو عبدالمعید اپنا بے ساختہ قہقہہ روک نہ سکے۔
’’نو… نیور… آئی کانٹ ڈو دیٹ۔‘‘ اب کے وہ شریر انداز میں بولے۔
’’اچھا بتائیں ہماری دوستی کو کتنے سال ہوگئے ہیں؟‘‘ آج سکیزہ ان کو آزمانے کے موڈ میں تھی۔
’’اب یہ کیسا سوال ہے؟‘‘ عبدالمعید قدرے بگڑے۔
’’اچھا… بہت اچھا سوال ہے…‘‘ سکیزہ نے قہرآلود نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’و…ویل ڈن…‘‘ عبدالمعید بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے۔ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے سامنے کرکے اسے داد دی۔
’’ڈیڈ…!‘‘ سکیزہ دانت پیس کر فقط اتنا ہی کہہ سکی۔
ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا۔ عبدالمعید کی دوستی سکیزہ سے یوں ہی نہیں ہوئی تھی۔ اگر آج سکیزہ کو کسی اور دوست کی ضرورت نہیں تھی تو اس کی وجہ عبدالمعید کا انداز ہی تھا‘ جو ہمیشہ جان بوجھ کر اس کے سامنے ہار جاتے تھے۔ آگہی کے باوجود باتوں سے لاعلمی کا اظہار‘ پُرسوچ انداز‘ سکیزہ کو چڑانا… یہی وہ وجوہات تھیں‘ جس وجہ سے دونوں میں باپ بیٹی کا کم اور ہم عمر دوستوں والا رشتہ زیادہ تھا۔
عبدالمعید کیسے بھول سکتے تھے… کیسے فراموش کردیتے… اپنی نفرت‘ اپنی کوتاہیاں اپنی بھول ایک حساس انسان کے لیے ناممکن سا ہوتا ہے… وہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ سکیزہ نے جب ان کی زندگی میں قدم رکھا تھا تو کن کٹھنایوں سے گزرنے کے بعد آج وہ اس مقام پر کھڑے تھے۔
’’ڈیڈ…‘‘ وہ سوچوں میں گم تھے کہ سکیزہ پھر چلائی۔
’’فائیو ایئرز… میرا گفٹ تیار رکھنا کل…‘‘ وہ نروٹھے لہجے میں بولتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ عبدالمعید نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا۔
’’پانچ سال۔‘‘ وہ زیرلب بڑبڑائے۔
’’میری بچی‘ میری جھلی دھی… اپنے جھلے ڈیڈ سے پانچ سال سے پہلے کا حساب کبھی نہ لینا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں اپنے آنسو جذب کرتے ہوئے ایک بار پھر بولے۔
’’واٹ ڈیڈ…؟‘‘ اس کے کانوں تک ان کی سرگوشی پہنچی تھی۔
’’گفٹ تیار ہے‘ بس کل تو آنے دو…‘‘ وہ مسکرائے اور سکیزہ بے تحاشا خوش ہوتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی تھی۔

پچھلے تین دن سے موسم مسلسل ابر آلود تھا‘ کالی گہری گھٹاؤں نے ہر طرف ایک بیزاری پھیلا رکھی تھی‘ تیز ہوا سے اُڑتے بادلوں کو نجانے کون سی بے چینی‘ الجھن ستا رہی تھی‘ جو ایک جگہ رکنے‘ ٹھہر جانے کی کوشش میں ناکام تھے‘ نجانے اُن گھنیری گھٹاؤں اور سرسراتی ہواؤں کے کیا ارادے تھے‘ کون سی تشنگی‘ کون سی کمی ابھی باقی تھی جو پوری ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی‘ کیوں ان بادلوں کو برسنے میں دِقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا‘ کیوں دیر ہورہی تھی‘ کیوں… کیوں…؟ آج تیسرا دن تھا ان بادلوں کی طرح وہ بھی بے چین تھی۔
یوں تو یہ سلسلہ برسوں سے تھا۔ دل آج بھی ان سسکیوں‘ چیخوں اور بددعاؤں سے لرز رہا تھا۔ پل پل گہرے ہوتے بادلوں کی بدولت چہار سو پھیلے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے گھبرا کر وہ اس کاٹیج کے عقبی سائیڈ پر بنے شیشے کے سلائیڈ ڈور کے پاس آکھڑی ہوئی۔ کافی دیر تک بھی جب اندر پھیلی گھٹن اور اضطراب میں کسی صورت کوئی کمی نہ آئی تو اس نے بلائنڈز کی ڈوری کو کھینچ کر ایک سائیڈ پر کردیا‘ اب وہ اس شیشے کی دیوار کے سامنے تن تنہا کھڑی تھی‘ باہر کا منظر بنا کسی رکاوٹ اس کی بے رنگ‘ پھیکی اور خواب سے عاری آنکھوں کے سامنے تھا‘ بادلوں کی اٹکھیلیاں اور ہوا کے زور سے جھولتی‘ سرمست شاخوں کو وہ صاف دیکھ سکتی تھی۔
’’شاید ان گھٹاؤں کا برسنے کا کوئی ارادہ نہیں‘ ان کا مقصد صرف حبس میں اضافہ کرنا ہے۔‘‘ ایک سوچ نے اس کے ذہن پر دستک دی‘ ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا‘ بغیر سوچے وہ سلائیڈ ڈور کھول کر باہر نکل گئی اور باہر نکلتے ہی یخ بستہ ہواؤں نے اسے ٹھٹھرا دیا تھا۔

(ان شاء باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close