Aanchal Mar 2019

میرا شریک سفر

نادیہ فاطمہ رضوی

اک ذرا ہاتھ بڑھا میری طرف
خود کو میرا تو ہم سفر کردے
تم میری زیست کا حاصل ہو
اتنا کہہ اور معتبر کردے

’’یہ…! یہ… کیا کہہ رہی ہیں نانی آپ؟‘‘ حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں‘ زبان جیسے گنگ ہوگئی اتنا بڑا انکشاف کہ وہ اندر سے پوری طرح ہل گئی۔ ’’اللہ کے واسطے نانی یہ… یہ اگر مذاق ہے تو پلیز اسے یہی ختم کردیجیے۔‘‘ کافی دقتوں کے بعد خود کو سنبھال کر قندیل نے کہا۔
’’ارے بیٹی میں بھلا اس عمر میں ایسا مذاق کیوں کروں گی‘ مذاق تو تقدیر نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔‘‘ جہاں آرأ بیگم آزردگی سے گویا ہوئیں۔ ’’تو مجھے معاف کردے میری بچی تاکہ میں اس کی عدالت میں سرخرو ہوجائوں۔‘‘ نانی تڑپ کر بولیں۔ ’’میں تیری قصور وار ہوں…‘‘
’’پلیز نانی آپ ایسی باتیں مت کریں۔‘‘ قندیل نے تڑپ کر بات قطع کی۔ ’’آپ میرے لیے سب کچھ ہیں میری زیست آپ کی دین ہے‘ آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر لیکن نانی…‘‘ قندیل یک دم چپ ہوگئی جہاں آرأ بیگم سمجھ گئیں کہ کون سے وسوسے اور اندیشے اس کے ذہن میں پل رہے ہیں جو قندیل کے رگ وپے میں اتر کر اس کے اندر بے چینی و اضطرابی کیفیت پیدا کررہے ہیں کیونکہ یہی اندیشے اور وسوسے بیس سال سے انہیں اندر ہی اندر کھوکھلا کررہے تھے۔ قندیل کے مستقبل کی فکر نے انہیں بوڑھا کردیا تھا‘ بیٹی کی جواں مرگی اور نواسی کے نصیب کی فکر نے انہیں بہت سی بیماریوں کا شکار بنا دیا تھا اور آج جب ڈاکٹر نے ان کی زندگی کی طرف سے بالکل ناامیدی ظاہر کردی کہ زندگی کا مدھم ہوتا چراغ کسی وقت بھی گل ہوسکتا ہے تو انہوں نے قندیل کو وہ راز جس کا بوجھ اٹھاتے ہوئے وہ بے دم ہوگئی تھیں قندیل پر یہ راز آشکار کردیا۔ وہ ان کے سرہانے گم صم بیٹھی نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر جہاں آرأ بیگم کو بہت صدمہ ہورہا تھا انہوں نے قندیل کو دنیا بھر کی خوشیاں دینا چاہی تھیں لیکن وہ اس کی تقدیر بدلنے پر قادر نہیں تھیں۔ نجانے کیا لکھا تھا اس کی قسمت میں۔
’’قندیل…!‘‘ نانی نے آہستہ سے پکارا۔
’’جی جی… نانی۔‘‘ قندیل نے چونک کر انہیں دیکھا۔
’’تو گھبرا مت اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا‘ تو دل چھوٹا نہ کر‘ ان شاء اللہ وہ تجھے بہت خوش رکھے گا۔‘‘ قندیل نانی کی کھوکھلی تسلی دینے پر دل ہی دل میں ہنس دی۔
’’وہ امیرو کبیر گھرانے کا چشم وچراغ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھلا مجھ جیسی قبول صورت مڈل پاس لڑکی کو پسند کرسکتا ہے۔‘‘

روشنی جہاں آرأ بیگم اور وقار الحسن کی اکلوتی اولاد اور آنکھوں کا تارا تھی‘ شادی کے دس سال بعد جب روشنی نے اپنے وجود سے گھر میں اجالا بکھیر دیا۔ جب دونوں میاں بیوی اولاد کی طرف سے مایوس ہونے لگے تھے تو روشنی کی آمد نے ان دونوں کو جیسے نئی زندگی دے دی اور وقار الحسن نے بڑی چاہت سے اس کا نام روشنی رکھا تھا۔
’’جہاں آرأ بیگم‘ یہ میرے دل اور آنکھوں کی روشنی ہے میں اس کے بغیر ادھورا ہوں۔‘‘ باپ کا بیٹی سے والہانہ پیار دیکھ کر جہاں آرأ بیگم طمانیت سے مسکرا دیں۔

لڑکپن کا دامن چھوڑتے ہوئے روشنی نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس کاروپ اور بھی دلکش ہوگیا‘ گھنے لمبے بال‘ بوٹا سا قد چھوٹا سا دہانہ ستواں ناک جس میں ہمہ وقت ذرقون کی لونگ لشکارے مارتی رہتی۔ روشنی کافی ذہین وفطین اور پُراعتماد لڑکی تھی۔ کالج میں آغا ہارون نے دیکھا تو اس کے حسن سے کافی متاثر ہوا۔ خود روشنی بھی آغا ہارون سے خاصی متاثر تھی کیونکہ اس کے اندر وہ خصوصیات بالکل ناپید تھیں جو امیر گھرانے کے لڑکوں میں بدرجہ اتم موجود ہوتی۔ خصوصاً لڑکیوں کی بہت عزت کرتا تھا‘ روشنی کو آغا ہارون کی یہی خوبی بہت بھائی تھی یوں وہ دونوں ایک دوسرے کی پسند بن گئے اور پسند محبت کے سانچے میں ڈھل گئی۔ آغا ہارون نے اپنی والدہ سے روشنی کی بابت بات کی تو وہ بپھر گئیں۔ بھلا چھوٹے گھرانے کی بہو لانا وہ کیسے گوارہ کرلیتیں البتہ آغا ہارون جمال کے والد آغا ناصر جمال اس معاملے میں خاموش تھے۔ ہارون کے دو بڑے بھائی آغا سکندر جمال اور آغا سلیم جمال بھی اس شادی کے سخت مخالف تھے اور رہی سہی کسر ان دونوں کی بیویوں نے پوری کردی تھی۔ وہ ہارون سے سخت نالاں تھے‘ ہارون سے چھوٹی بہن شبانہ بھی اس شادی کے حق میں نہیں تھی۔ شبانہ شادی شدہ تھی اور ایک بیٹے کی ماں بھی تھی۔
آغا ہارون جمال بھی اپنی بات پر اٹل رہے اور روشنی سے کیے گئے وعدے کو وفا کر دکھایا۔ اس تمام معاملے میں آغا ناصر جمال نے اپنے بیٹے کا پورا ساتھ دیا کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو بے تحاشا چاہتے تھے۔ روشنی کے والدین روشنی کی خوشی اور یہ دیکھ کر کہ آغا ناصر جمال اس شادی سے راضی ہیں ہارون کو اپنا داماد بنانے پر راضی ہوگئے تھے۔
یوں روشنی اور ہارون ایک ہوگئے دونوں کو جیسے دنیا بھر کی خوشیاں مل گئیں لیکن یہ خوشیاں بہت ناپائیدار ثابت ہوئیں‘ آغا ہارون روشنی اور اپنے آنے والے بچے کے لیے شاپنگ کررہا تھا کہ اچانک مارکیٹ میں نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کردی اور آغا ہارون اس فائرنگ کی زد میں آگیا اور یوں قندیل دنیا میں آنے سے پہلے ہی یتیم ہوگئی۔ روشنی کی تو دنیا ہی اندھیر ہوگئی‘ وہ پہروں ساکت بیٹھی کمرے کی چھت کو گھورتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔ وقار الحسن بیٹی کی اس حالت کو برداشت نہ کر پائے اور ہارٹ فیل کے باعث دنیا سے چل بسے۔
جب قندیل کی پیدائش کا وقت قریب آیا تو روشنی کی حالت جو پہلے ابتر تھی مزید خراب ہوگئی اور وہ اپنی بیٹی کو دیکھے بنا ہی دنیا سے ناطہ توڑ گئی۔ جہاں آرأ بیگم دل تھام کے رہ گئیں۔ ننھی سی پری کو سینے سے لگا کر وہ بری طرح رو دیں ان حالات میں آغا ناصر جمال نے دونوں کو سہارا دیا وہ قندیل کو ہارون کی آخری نشانی سمجھ کر لے جانا چاہتے تھے لیکن جہاں آرأ کی تڑپ اور ممتا کے آگے مجبور ہوگئے‘ بھلا وہاں اس بدنصیب کو کون محبت دیتا‘ آغا ناصر جمال باقاعدگی سے قندیل سے ملنے آتے اور قندیل کی پرورش کے لیے ایک معقول رقم جہاں آرأ بیگم کے ہاتھ پر رکھ جاتے‘ شروع میں انہوں نے منع بھی کیا لیکن یہ کہہ کر انہوں نے خاموش کرادیا کہ بہن میں اس کا دادا ہوں‘ یہ میرے وجود کا حصہ ہے میرا خون ہے۔ ایک دن آغا ناصر جمال جب قندیل سے ملنے آئے تو کہنے لگے۔
’’بہن میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں آغا ہائوس نے اب تک ہارون اور روشنی کو معاف نہیں کیا میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں اپنی بچی کا مستقبل محفوظ کر جائوں۔‘‘
’’میں… میں سمجھی نہیں بھائی صاحب۔‘‘
’’میں چاہتا ہوں کہ قندیل کا نکاح اپنے بڑے پوتے شہروز کے ساتھ کردوں۔‘‘
’’کیا… یہ کیا کہہ رہے ہیں بھائی صاحب۔‘‘ یہ بات سن کر جہاں آرأ بیگم حیران رہ گئیں۔
’’یہ کیسے ممکن ہے وہ لوگ اتنی نفرت کرتے ہیں اور پھر…‘‘
’’دیکھئے بہن انکار مت کیجیے۔‘‘ ان کا لہجہ ملتجیانہ تھا۔ ’’وہ میں نے اپنے بڑے بیٹے سے بات کی ہے‘ ہارون کی موت کا اسے بھی صدمہ ہے اور میں نے اسے راضی کرلیا ہے آخر یہ میرا خون ہے اس کا بھی آغا ہائوس میں اتنا ہی حق ہے جتنا سب بچوں کا ہے‘ ذرا سوچیے بہن اگر کل ہم نہ رہے تو اس بچی کا کیا ہوگا؟ کہیں یہ بے مول نہ ہوجائے۔‘‘
’’نہیں… نہیں بھائی صاحب۔‘‘ یہ سن کر جہاں آرأ دہل گئیں۔
’’بہن آپ فکر نہیں کریں یہ بچی خود سب کے دل میں گھر کرلے گی اور شہروز کو بھی جیت لے گی آخر آپ جیسی سمجھدار عورت اس کی پرورش کررہی ہے اور پھر‘ یہ روشنی اور ہارون کی بیٹی بھی ہے۔‘‘ آغا ناصر کے لہجے میں فخر تھا۔
’’ٹھیک ہے بھائی صاحب جیسے آپ کی مرضی۔‘‘ جہاں آرأ بیگم نیم رضا مندی سے گویا ہوئیں۔ آغا ناصر بے تحاشا خوش تھے اور یوں بچپن میں ہی اس کا نکاح شہروز کے ساتھ ہوگیا۔ شہروز آگہی کی منزل پر قدم رکھنے والا تھا‘ وہ سمجھ گیا تھا کہ قندیل کے ساتھ اس کا کون سا رشتہ جڑا گیا ہے۔ نکاح کے وقت آغاز ہائوس سے صرف شہروز کے باپ آغا سکندر جمال آئے تھے اور آغا ناصر کے چند دوست جبکہ گھر کی کوئی بھی عورت نکاح میں موجود نہیں تھی اور ان کا نہ آنا ان کی ناراضی کا کھلا ثبوت تھا۔ جہاں آرأ بیگم کے دل پر ایک بوجھ سا آگیا لیکن جہاں آرأ بیگم کی زندگی کے امتحان اس نقطے پر آکر ختم نہیں ہوئے۔ آغا ناصر جمال کا خدشہ درست نکلا اور چند ماہ بعد ہی وہ خالق حقیقی سے جاملے اس دھچکے سے وہ بالکل ڈھے گئیں‘ ان کے انتقال کے بعد کوئی بھی آغا ہائوس سے نہ آیا اور انہوں نے قندیل کی پرورش تن تنہا کی اور آج جب وہ زندگی سے ناامید ہورہی تھیں تو انہوں نے یہ راز قندیل پر عیاں کردیا اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند کر اپنی روشنی کے پاس چلی گئیں۔

جہاں آرأ بیگم کو دنیا سے گئے مہینہ ہو گیا تھا۔ قندیل بالکل گم صم بیٹھی تھی۔ پڑوس کی خالہ زبیدہ نے اسے سنبھالا ہوا تھا۔
’’بیٹی کچھ کھا لے دیکھ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا اگر تو یوں ہی بھوکی پیاسی بیٹھی رہے گی تو تیری نانی کی روح تڑپے گی۔‘‘ قندیل نے خالی خالی نگاہوں سے زبیدہ خالہ کو دیکھا۔
’’خالہ اب میرا کیا ہوگا؟‘‘ قندیل خوف زدہ لہجے میں بولی‘ آنے والے حالات سے وہ بہت خوف زدہ ہورہی تھی۔
’’نہ میری بچی تو فکر نہ کر۔‘‘ خالہ زبیدہ نے قندیل کو گلے لگا لیا۔ ’’میں تجھے تیرے سسرال چھوڑ کر آئوں گی‘ تیری نانی نے مجھے سب کچھ بتا رکھا تھا۔‘‘ یہ سن کر قندیل مزید خوف زدہ ہوگئی۔
’’خالہ وہ لوگ مجھے دھتکار دیں گے‘ وہ سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘‘ قندیل خالہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’دیکھ میری بچی ہمت سے کام لے تجھے معلوم ہے ناں کہ تیری نانی نے زندگی میں کتنی مصیبتیں برداشت کیں کی تو بھی ہمت سے کام لے تیری نانی کو تجھ پر مکمل بھروسہ تھا اب تو ان کی خاطر خود کو سنبھال اور اپنی نانی کے بھرم کو قائم رکھ۔ تیرے دادا اور نانی کو تجھ سے بہت امیدیں تھیں اور مجھے یقین ہے کہ تو اپنی نانی کی تربیت اور اپنی محبت وخلوص سے ایک نہ ایک دن سب کے دل ضرور جیت لے گی‘ میں یہ نہیں کہتی کہ یہ سب آسان ہے پر میری بچی ان خار دار راہوں سے گزر کر ہی تیری منزل تجھے ملے گی۔‘‘ خالہ کی باتوں سے قندیل کو کافی ڈھارس ملی اور وہ آغاز ہائوس جانے پر بادل نخواستہ راضی ہوگئی کیونکہ اسے ہر حال میں اپنی نانی اور دادا کے سامنے سرخرو ہونا تھا۔

آغاز ہائوس کو باہر سے ہی دیکھ کر قندیل ہکابکا رہ گئی۔ یہ عالیشان عمارت دو ہزار گز پر انتہائی شاندار طریقے سے بنی ہوئی تھی۔ زبیدہ خالہ بھی بہت مرعوب دکھائی دے رہی تھیں۔ گیٹ پر موجود گارڈ نے کافی حجت کے بعد انہیں اندر جانے دیا‘ اندر کی شان وشوکت دیکھ کر زبیدہ خالہ اور ان کے شوہر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ بڑے سے لان اس میں طرح طرح کے پھول ایک سائیڈ پر بڑا سا سوئمنگ پول ملازم انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اہل خانہ کو اطلاع دینے چل دیا‘ یک دم قندیل پر گھبراہٹ سی طاری ہونے لگی‘ نجانے یہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے اور شہروز۔
’’جی فرمائیے… آپ کو کس سے ملنا ہے؟‘‘ ایک انتہائی ماڈرن خاتون گردن غرور سے اکڑائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں۔
’’دیکھیے بہن ہم آپ کی امانت لوٹانے آئے ہیں۔‘‘ خالہ زبیدہ رسانیت سے گویا ہوئیں۔
’’امانت…! کون سی امانت‘ کیسی امانت؟‘‘ وہ خاتون ناک بھنویں اچکا کر رعونت سے بولیں تو زبیدہ خالہ نے من وعن تمام حالات بتادیے۔
’’اوہو… تو یہ ہے قندیل صاحبہ۔‘‘ اب کہ خاتون نے قندیل کا بغور جائزہ لیا۔ وہ ان کی آنکھوں میں حقارت ونفرت بہ خوبی دیکھ چکی تھی۔ قندیل اندر ہی اندر بے پناہ خوف زدہ ہوگئی اور خالہ کا بازو تھام لیا۔
’’دیکھیے آپ اس کی دادی…‘‘
’’دیکھیے محترمہ اماں جی اب اس دنیا میں نہیں ہیں‘ پانچ سال پہلے ان کا انتقال ہوچکا ہے۔‘‘ وہ انتہائی ناگواری سے بات کاٹ کر بولی۔
’’اوہ بڑا افسوس ہوا… اچھا بہن اب آپ اپنی امانت سنبھالیے‘ ہمیں اجازت دیجیے۔‘‘ زبیدہ خالہ کے شوہر خاتون کی بد اخلاقی دیکھ کر خالہ کو اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’خالہ پلیز آپ مجھے چھوڑ کر کہاں جارہی ہیں؟‘‘ ان دونوں کو اٹھتے دیکھ کر قندیل بری طرح گھبرائی۔
’’ارے قندیل بیٹا… ہم تمہیں چھوڑنے ہی تو آئے تھے‘ اب یہی تمہارا گھر ہے بیٹا۔‘‘ یہ کہہ کر خالہ اس سے لپٹ گئیں۔ قندیل بھی بہتے آنسوئوں پر بے بس تھی جبکہ وہ خاتون ماتھے پر ہزاروں شکنیں لیے اس منظر کو ملاحظہ کررہی تھیں۔
خالہ نے بہ مشکل قندیل کو اپنے آپ سے علیحدہ کیا اور شوہر کا اشارہ بھانپ کر چل دیں۔ قندیل کا جی چاہا کہ بھاگ کر خالہ کے پیچھے جائے اور انہیں روک لے تاکہ اسے بھی ساتھ لے جائیں لیکن نانی کے سامنے سرخرو ہونے کے خیال سے یک دم زمین نے پیروں کو جکڑ لیا۔ وہ بے آواز رونے لگی۔
’’تانیہ… تانیہ۔‘‘ وہ خاتون دہاڑی‘ قندیل جو بے آواز آنسو بہا رہی تھی ان کی آواز پر خائف ہوئی۔
’’جی مما۔‘‘ ایک پُرکشش سی لڑکی جو اس کی ہم عمر تھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ سامنے قندیل کو دیکھ کر وہ چونک گئی‘ رویا رویا چہرہ‘ متورم آنکھیں‘ سیاہ گھنیری پلکیں جو جھکی ہوئی تھیں ایک آدھ موتی پلکوں کی نوک پر اٹکا ہوا تھا۔
’’مما یہ کون ہے؟‘‘ تانیہ استعجاب سے بولی۔
’’یہ قندیل ہے۔‘‘ سطوت بیگم نے انتہائی ناگواری سے کہا۔
’’واٹ… یہ… یہ قندیل ہے یو مین ہارون چچا کی بیٹی اور…‘‘ باقی جملہ وہ قصداً ادھورا چھوڑ گئی۔
’’ہاں یہی ہے وہ منحوس جو اب ایک آفت کی طرح ہمارے گھر…‘‘
’’مما پلیز… آپ اس طرح اس سے بات مت کریں آپ دیکھ نہیں رہیں وہ کتنی سہمی ہوئی ہے۔‘‘ تانیہ ماں کو ٹوکتی ہوئی قندیل کی طرف بڑھی۔
’’ہیلو قندیل… میں تانیہ ہوں۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر بہ مشکل مسکرائی۔ ’’آئو میں تمہیں اندر کمرے میں لے چلوں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں یہ کہہ کر چھوڑ گئی کہ تم تھوڑا فریش ہوجائو‘ شام کو میں تمہیں سب سے ملوائوں گی‘ اوکے۔‘‘ ہاتھ سے اس کے گال کو چھو کر وہ چلی گئی۔ بعد میں جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اس نے کمرے کا جائزہ لیا جو انتہائی نفاست سے سجا ہوا تھا۔ آف وائٹ اور پنک کلر کے امتزاج سے سجا ایسا کمرہ وہ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ بستر پر لیٹی تو تمام رو داد جو تھوڑی دیر پہلے اس پر گزری تھی وہ یاد آنے لگی۔ سوچتے ہوئے یک دم اسے شہروز کا خیال آیا۔ گزرتے دنوں میں وہ اتنی حواس باختہ رہی تھی کہ اسے شہروز سے متعلق سوچنے کا بالکل موقع نہ ملا تھا۔ اب جو خیال آیا تو اس کے ہاتھ پائوں میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی‘ دل زور زور سے دھڑکنے لگا‘ کیسا ہوگا میرا شریک سفر اور اس کا رویہ کیسا ہوگا؟ یہی سوچتے ہوئے نجانے کب نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی۔

قندیل کے آنے سے آغا ہائوس میں جیسے بھونچال آگیا تھا‘ لان میں موجود تمام ینگ جنریشن بھانت بھانت کی بولیاں بول رہی تھی۔
’’اب دیکھنا سب شہروز بھیا کیسے آگ بگولہ ہوں گے۔‘‘ سلیم تایا کا چھوٹا بیٹا سلمان بولا۔
’’بھئی مجھے تو لگتا ہے کہ وہ اس پینڈو کا مارے غصے اور اشتعال میں گلا ہی نہ دبا دیں۔‘‘ شبانہ پھوپو کی بڑی بیٹی سبیلہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔
’’تمہیں کیسے پتہ وہ پینڈو ہے؟‘‘ سبیلہ سے چھوٹی زنیرہ کیوں چپ رہتی۔
’’چھوٹی مامی بتا رہی تھیں اس اسٹوپڈ کی ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی‘ مامی نے اسے دھکے دے کر نکال کیوں نہ دیا۔‘‘ سبیلہ اس خبر سے بہت تلملا رہی تھی۔ قندیل کے لیے اس کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی۔
’’پلیز تم لوگ اس بے چاری کی برائیاں کرنا بند کرو وہ بہت اچھی اور سیدھی سادھی لڑکی ہے۔‘‘
’’شٹ اپ تانیہ‘ تمہیں تو ہر لڑکی معصوم ہی لگتی ہے‘ کوئی ضرورت نہیں ہے اس پینڈو سے ہمدردی جتانے کی۔‘‘ سبیلہ نے تانیہ کو سرزنش کی۔
’’اب اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ شہروز بھائی اس خبر پر کیسا ری ایکٹ کریں گے۔‘‘ زنیرہ بولی۔
’’دیکھاجائے گا‘ ابھی شہروز اور جبران بھائی سنگا پور سے تو لوٹ آئیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر تانیہ نے بات ختم کردی تھی۔

آغا سکندر جمال اور ان کی بیوی نگہت بیگم کا صرف ایک ہی بیٹا شہروز تھا‘ آغا سلیم جمال کے دو بچے تانیہ اور سلمان تھے اور شبانہ بیگم کے چار بچے جبران‘ مہران‘ سبیلہ اور زنیرہ تھے۔ دس سال پہلے وہ بیوہ ہوکر ہمیشہ کے لیے آغا ہائوس آگئی تھیں۔ سسرال سے ان کی کبھی نہیں بنی تھی دونوں بھائیوں نے ایک پورشن بہن کے حوالے کردیا تھا۔

گہری نیند سے وہ یک دم ہڑبڑا کر اٹھی‘ چند ثانیے اسے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہاں ہے‘ حواس آہستہ آہستہ بحال ہوئے تو سب کچھ یاد آنے پر وہ بے چین ہو اٹھی‘ اب کیا ہوگا؟ کا سوالیہ نشان اس کا منہ چڑھا رہا تھا اچانک تانیہ مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔
’’گڈ ایوننگ چارمنگ گرل۔‘‘ تانیہ کی اس برملا تعریف پر وہ شرما گئی۔
’’تم جلدی سے فریش ہوجائو نیچے لان میں سب تمہارا انتظار کررہے ہیں۔‘‘ وہ عجلت میں بولی۔ یہ سن کر قندیل پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ تانیہ نے اس کی گھبراہٹ بھانپ لی۔
’’دیکھو قندیل… میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ وہ سب تمہارا والہانہ استقبال کریں گے اور پھر جو کچھ بھی ہوا تم اس سے بہ خوبی واقف ہو‘ ان سب کو تمہیں قبول کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن تمہیں صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ تم سمجھ رہی ہو ناں۔‘‘ تانیہ نے اسے یوں گم صم دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ قندیل نے سر اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

’’تو یہ ہے قندیل؟‘‘ بڑی تائی جو اس کی ساس بھی تھیں‘ بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ کر بولی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ قندیل نے گھبرا کر سلام کیا لیکن کسی نے بھی جواب دینا ضروری نہ سمجھا‘ ساتھ ہی شبانہ پھوپو اور وہی صبح والی خاتون جو یقینا چھوٹی تائی تھیں خاصی چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
’’پہلے تمہاری ماں نے اپنے حسن سے ہمارے پیارے دیور کو ورغلایا اور اب تم میرے شہروز کو مجھ سے چھیننے آگئی بے شرم لڑکی۔‘‘ الفاظ تھے یا جلتے ہوئے انگارے جو اس کے وجود کو خاکستر کر گئے۔ وہ انہیں حیرت سے دیکھتی رہی‘ اتنا رکیک الزام لگایا تھا بڑی تائی نے اس کی ذات پر اور مری ہوئی ماں پر‘ مارے صدمے کے وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔
’’پلیز تائی امی آپ ایسے مت کہیے۔‘‘ تانیہ لجاجت سے بولی۔
’’تم کیوں اس کی چمچی بن گئی ہو۔‘‘ چھوٹی تائی پاٹ دار آواز میں بولیں۔ البتہ شبانہ بیگم بالکل خاموش تھیں۔
’’آئو قندیل باہر چلتے ہیں۔‘‘ وہ قندیل کی غیر ہوتی حالت کو بہ خوبی دیکھ رہی تھی اسی لیے باہر لے گئی۔
’’دیکھو قندیل میں نے تم سے کہا تھا کہ یہاں تمہارا کوئی اچھا استقبال نہیں کرے گا… پلیز خود کو سنبھالو۔‘‘ تانیہ مسلسل اسے تسلیاں دے رہی تھی۔ قندیل کو یک دم نانی کی بات یاد آئی۔
’’میری بچی ان کے دلوں میں تمہارے لیے جو نفرت ہوگی اسے چند دن میں صاف نہیں کیا جاسکتا تُو صبر وہمت سے کام لینا۔‘‘ قندیل نے اپنے آپ کو بہ مشکل سنبھالا۔
’’باقی لوگ کہاں ہیں؟ مجھے ان لوگوں سے بھی ملوا دیجیے‘ میں جانتی ہوں کہ وہ میرے ساتھ کیسا سلوک روا رکھیں گے۔‘‘ وہ ایک نئے عزم کے ساتھ تانیہ کے ہمراہ لان میں آئی۔ یہاں بیٹھے اپنے کزنز کو دیکھ کر ایک بار پھر اس کا اعتماد دھواں بن کر اڑنے لگا۔
’’اوہو تو یہ ہے قندیل؟‘‘ کسی کی شوخ مردانی آواز ابھری۔
’’ایسا لگ رہا ہے جیسے عجائب خانے سے دریافت ہوئی ہے۔‘‘ ایک نسوانی آواز ابھری جس پر زور دار قہقہہ بلند ہوا۔ وہ مارے خجالت کے نظریں جھکا گئی۔
’’قندیل یہ سب تمہارے کزنز ہیں‘ آئو میں تمہارا تعارف کروائوں۔‘‘ تانیہ کی نرم آواز نے اسے سہارا دیا۔
’’ارے شہروز تو اسے دیکھتے ہی طلاق دے دے گا‘ ان فیکٹ وہ تو پہلے سے ہی یہ چاہتا ہے۔‘‘ یہ الفاظ تیر کی مانند اس کے سینے میں پیوست ہوئے‘ ایک بھالہ روح میں اترا‘ وہی نسوانی آواز پھر ابھری۔
’’شہروز کو ان دقیانوسی اور پینڈو ٹائپ لڑکیوں سے سخت نفرت ہے۔‘‘ وہ اس کی چادر اور ڈھیلے ڈھالے کپڑوں پر چوٹ کررہی تھی۔
’’شٹ اپ سبیلہ…‘‘ تانیہ انتہائی ضبط سے بولی۔
وہ اسے وہاں سے لے آئی کمرے میں آکر یوں لگا جیسے وہ طویل مسافت طے کرکے آرہی ہو لیکن ابھی ایک اور پل صراط سے گزرنا تھا وہ تھا شہروز سے سامنا… شاید وہ گھر پر نہیں تھا۔
’’قندیل تم بیٹھو میں تمہارے لیے چائے لاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر تانیہ کمرے سے نکل گئی۔ تو وہ شہروز کے بارے میں سوچنے لگی۔
’’کیسا ہوگا وہ جسے میرا محافظ بنایا گیا ہے‘ کیا وہ مجھے اس گھر میں تحفظ دے گا؟ نجانے اس کا رویہ میرے ساتھ کیسا ہوگا‘ دیگر گھر والوں کی طرح حقارت آمیز یا پھر تانیہ کی طرح مہربان۔‘‘ وہ کئی بار کی سوچی ہوئی بات پھر سے سوچنے لگی تھی۔

صبح ناشتے کی میز پر دونوں تایا ان کا رویہ اپنی بیویوں کے مقابلے میں اتنا حقارت آمیز تو نہیں تھا لیکن کوئی گرم جوشی اور والہانہ پن بھی نہ تھا۔ بڑے تایا نے اسے دیکھ کر صرف یہ کہا تم آگئی اور بالکل سرسری سا ہاتھ اس کے سر پر رکھا‘ چھوٹے تایا نے اس کی بھی ضرورت نہ سمجھی اور اس کے سلام کے جواب میں محض سر ہلایا۔
’’سلیم سنگاپور کی ڈیل کہاں تک پہنچی؟‘‘ بڑے تایا نے چھوٹے تایا کو مخاطب کیا۔
’’وہ بھائی جان شہروز اور جبران گئے ہیں سنگاپور اسی سلسلے میں…‘‘ اوہو تو شہروز سنگاپور گئے ہوئے ہیں۔ قندیل جو کل سے سوچ رہی تھی کہ شہروز کہاں ہے لیکن تانیہ سے پوچھنے کی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی‘ انجانے میں یہ مشکل چھوٹے تایا نے آسان کردی۔ نجانے وہ کس قسم کی عادات کا مالک ہے‘ وہ پھر گہری سوچ میں ڈوب گئی۔

’’قندیل… شہروز اور جبران بھائی آگئے۔‘‘ تانیہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی قندیل کو اطلاع دی اور اس کی زرد پڑتی رنگت دیکھ کر تانیہ چونک گئی۔
’’دیکھو قندیل… شہروز بھیا دل کے برے نہیں ہیں بس تھوڑے جذباتی اور غصیلے طبیعت کے مالک ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ تم اپنی معصومیت اور سادگی سے انہیں ضرور جیت لوگی۔‘‘ قندیل سر جھکائے تانیہ کی ایک ایک بات بغور سن رہی تھی۔ اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ انجانے میں شہروز کو بنا دیکھے‘ بنا پرکھے اس کی سنگت کے خواب آنکھوں میں آسمائے ہیں اور وہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی ان سے پیچھا نہیں چھوڑا پا رہی تھی۔

دروازہ زور دار آواز سے کھلا‘ شرٹ بدلتے شہروز کے ہاتھ یک دم رکے۔ سبیلہ آندھی طوفان کی طرح کمرے میں وارد ہوئی جس کا چہرہ مارے غصے کے تنا ہوا تھا اور چہرے کے خوب صورت نقوش بگڑے ہوئے تھے۔
’’اینی پرابلم ہنی۔‘‘ شہروز نے غصے کا سبب جاننے کے لیے اسے مخاطب کیا۔
’’وہ مہارانی صاحبہ آچکی ہے۔‘‘ سبیلہ یوں بولی جیسے قندیل کو کچا چبا رہی ہو۔
’’کون مہارانی…؟‘‘ شہروز نے الجھ کر پوچھا۔
’’وہی قندیل صاحبہ۔‘‘ سبیلہ نے طیش کے عالم میں جواب دیا۔
’’کون قندیل…؟‘‘ شہروز نے ذہن پر زور دیا اور یاد آنے پر یوں اچھلا جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔
’’یو مین قندیل… ہارون چچا کی بیٹی… اوہ مائی گاڈ۔‘‘ اس نے انتہائی ناگواری سے کہا۔ ’’مام اور چچی نے اسے یہاں رہنے کیسے دیا‘ دھکے مار کر نکال کیوں نہ دیا۔‘‘ وہ سخت طیش کے عالم میں مٹھیاں بھینچے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ سبیلہ شہروز کو اتنے غصہ میں دیکھ کر سکون محسوس ہوا۔ دل میں جو تھوڑا بہت خوف پنپ رہا تھا وہ زائل ہوگیا۔
’’یو ڈونٹ وری شہروز‘ وہ انتہائی کنزرویٹو اور دبو سی لڑکی ہے اسے کوئی قبول نہیں کرے گا اور وہ اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ آئی ہوپ وہ یہاں سے چلی جائے گی۔‘‘ سبیلہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
’’اسے یہاں سے جانا ہی ہوگا۔‘‘ شہروز تحقیر آمیز لہجے میں اس کی تائید کی۔

’’اوہ ہیلو بیوٹی فل گرل…‘‘ مردانہ آواز اور بے باک لہجہ اس کی سماعت سے ٹکرایا تو وہ بے ساختہ پلٹی سامنے ایک اسمارٹ سا لڑکا بڑی دلکش مسکراہٹ اور نشیلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یک دم قندیل کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
’’کہیں یہ شہروز…!‘‘
’’ارے جبران بھائی آپ… آج گھر پر کیسے نظر آرہے ہیں؟‘‘ یک دم تانیہ نے آکر اس کی غلط فہمی دور کردی۔ تانیہ لان میں پڑی کین کی کرسی میں آکر بیٹھ گئی۔
’’تانیہ ڈیئر… اگر آج میں گھر پر نہیں ہوتا تو ان کے دیدار سے محروم رہ جاتا۔‘‘ وہ انتہائی شوخ آواز میں بولا۔
’’یہ ہارون چچا…‘‘
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ جبران تانیہ کی بات کاٹ کر انتہائی دلبرانہ انداز میں بولا۔
’’ارے آپ کو کیسے پتہ چلا؟‘‘
’’تانیہ ڈیئر… میں پل پل کی خبر رکھتا ہوں۔‘‘ قندیل کو جبران کا طرز تخاطب بالکل پسند نہ آیا۔ پہلی نگاہ میں وہ شخص چھچھورا لگا۔
’’شی از ویری پریٹی۔‘‘ یہ الفاظ سن کر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
’’اونہہ… سارے گھر والوں کو میرے اندر نجانے کون کون سی خامیاں نظر آرہی ہیں اور یہ تعریف پر تعریف کررہا ہے۔‘‘ قندیل نے دل ہی دل میں اسے ڈھیروں گالیاں دے ڈالیں۔
’’قندیل یہ جبران بھائی ہیں شبانہ پھوپو کے بیٹے۔‘‘ اس نے آہستہ سے سلام کیا اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔

اسے یہاں آئے کافی دن ہوگئے تھے اور ابھی تک اس کا سامنا شہروز سے نہیں ہوا تھا۔
’’تانیہ پلیز ایک گلاس پانی دے دو۔‘‘ وہ کچن میں شام کے لیے چیز اینڈ چکن سینڈوچ بنا رہی تھی یک دم نامانوس سی آواز پر چونکی۔
’’کہیں یہ شہروز…‘‘ یہ خیال آتے ہی اس کے ہاتھ پائوں بے جان سے ہونے لگے۔ دل ایسا لگ رہا تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔
’’تانیہ…‘‘ وہ جونہی پلٹی شہروز تانیہ کی جگہ کسی اجنبی لڑکی کو دیکھ کر بری طرح چونکا اور دوسرے ہی لمحے اسے قندیل کا خیال غصہ میں مبتلا کر گیا۔ قندیل پلکیں جھکائے کھڑی تھی۔ اپنی ساری ہمتیں مجتمع کرکے اس نے ذرا سی پلکوں کی چلمن اٹھائی تو وہ سرخ چہرہ لیے واپس پلٹ رہا تھا۔
’’سنیے…‘‘ نجانے کس قوت کے زیر اثر وہ اسے پکار گئی۔
’’جی فرمائیے۔‘‘ انتہائی کاٹ دار آواز ابھری۔
’’یہ پانی لے لیجیے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
’’ایکسکیوز می… میڈم اپنی اوقات میں رہنا۔‘‘ انتہائی درشت لہجے میں اپنی بات مکمل کرکے وہ چلتا بنا اور قندیل بھربھری ریت کی طرح ڈھے گئی‘ امید کی آخری کرن یک دم بجھ گئی‘ آنسو بے اختیار اس کے گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔ تایا کے کمرے کی طرف سے گزرتے ہوئے شہروز کے منہ سے اپنا نام سن کر ناچاہتے ہوئے بھی رک گئی کمرے کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔
’’آپ نے اسے گھر میں رہنے کیسے دیا‘ میں نے آپ کو پہلے ہی بتادیا تھا ڈیڈی کہ میں اس اسٹوپڈ لڑکی سے ہرگز کوئی رشتہ قائم رکھنا نہیں چاہتا جو کہ گرینڈ فادر نے زبردستی مجھ پر مسلط کردیا تھا۔‘‘ وہ نفرت آمیز لہجے میں بول رہا تھا۔
’’کول ڈائون مائی سن۔‘‘ تایا کی آواز ابھری۔ قندیل شہروز کے لہجے میں اپنے لیے پنہاں نفرت محسوس کرکے تھرتھر کانپنے لگی۔ اسے اب تایا کی بات کا انتظار تھا دل میں ہلکی سی امید تھی کہ وہ ضرور شہروز کو سمجھائیں گے۔
’’جیسا تم چاہتے ہو ویسا ہی ہوگا لیکن بیٹا یہ بندھن تمہارے دادا نے قائم کیا تھا اسے توڑنے کی مجھ میں ہمت نہیں‘ تم جس لڑکی کے ساتھ چاہو شادی کرو بیٹا‘ میں تمہاری زندگی میں مداخلت نہیں کروں گا لیکن اسے میں گھر سے نہیں نکال سکتا‘ جو بھی ہے یہ میرے باپ کا فیصلہ تھا۔‘‘ تایا میں اتنی مروت نجانے کیسے آگئی تھی کہ وہ مرے ہوئے باپ کے باندھے ہوئے بندھن کو توڑنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے۔ یہ سن کر باہر کھڑی قندیل کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا دشوار ہوگیا۔
’’اوکے ڈیڈی میں آپ کی بات مان لیتا ہوں۔‘‘ شہروز کی احسان بھری آواز نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ ’’میں اسے کبھی بھی بیوی کا درجہ نہیں دوں گا‘ اس کا اور میرا رشتہ صرف کاغذی ہوگا۔‘‘
’’اوکے بیٹا‘ مجھے تمہاری بات منظور ہے۔‘‘ قندیل میں اب مزید کچھ سننے کی سکت نہ تھی اپنے بوجھل وجود کو گھسیٹتے ہوئے کمرے تک لائی اور پھر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا‘ شدت غم سے وہ نڈھال ہوگئی تھی۔
’’نانی… نانی… دیکھو آپ کی قندیل کو اس کے اپنوں نے کتنا بے مول کردیا‘ پاپا میں آپ کی بیٹی ہوں اور آپ کے بھائی نے میری اوقات نوکروں سے بدتر کردی‘ آپ دونوں نے محبت کی اور اس کی سزا کاٹنے کے لیے میرے وجود کو کانٹوں پر گھسیٹا جارہا ہے اور شہروز تم نے میری ذات میری انا میری نسوانیت کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا‘ مجھے تم سے شدید نفرت ہے۔‘‘ شہروز وہ سب سے شکوہ کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

’’قندیل یہ کمرے میں اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے؟‘‘ تانیہ مغرب کے وقت اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور اندھیرے سے گھبرا کر لائٹ آن کی تو اس پر نظر پڑتے ہی وہ ششدر رہ گئی‘ تیر کی تیزی سے وہ اس کی جانب لپکی۔ ’’قندیل آر یو اوکے۔‘‘ قندیل زمین پر سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی۔
تانیہ نے اسے تھاما تو قندیل نے سر اٹھا کر دیکھا اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید تھا آنکھیں شدت گریہ سے سوجی ہوئی تھیں اور ہاتھ یخ برف کی مانند تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر زندگی کی حرارت ہی ختم ہوچکی ہے۔
’’قندیل پلیز میری جان بتائو کیا ہوا ہی؟ میں تمہاری بہن ہوں دوست ہوں‘ پلیز مجھے بتائو۔‘‘ تانیہ اس کی حالت دیکھ کر روہانسی ہوئی۔
’’سب کچھ ختم ہوگیا تانیہ سب کچھ…‘‘ وہ سرگوشیانہ انداز میں بولی۔
’’کیا… کیا ختم ہوگیا قندیل؟‘‘ وہ خوف زدہ لہجے میں بولی‘ قندیل کو اس وقت کسی ہمدرد کی شدید ضرورت تھی وہ کٹے ہوئے شہتیر کی مانند اس کی گود میں گر گئی اور بری طرح رو دی۔
’’تانیہ شہروز…‘‘ قندیل صرف اتنا ہی بول پائی اور وہ سمجھ گئی کہ یقینا شہروز بھائی سے اس حساس لڑکی کا سامنا ہوگیا ہے۔ اس نے اسے کھل کر رونے دیا‘ قندیل نے آہستہ آہستہ تمام بات بتا ڈالی۔ تانیہ بھی تایا اور شہروز کے سفاک رویے پر حیران رہ گئی۔
’’تانیہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ قندیل کی پُرعزم آواز نے اسے چونکایا۔
’’میں ہرگز اپنی ہستی کو بے مول ہونے نہیں دوں گی۔ اپنے مان و غرور کو شہروز کے لیے کبھی نہیں مٹائوں گی‘ میں اس سے کبھی بھی بھیک نہیں مانگوں گی کہ وہ مجھے اپنائے’ یہ میرا شریک سفر نہیں ہوسکتا تانیہ‘ میں خود اسے اپنا شوہر تسلیم نہیں کرتی کہہ دینا مسٹر آغا شہروز سے۔‘‘ تانیہ اس کی ہمت کو داد دیتی اٹھ گئی۔
’’اچھا تم فریش ہوجائو میں تمہارے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ اسے باتھ روم میں دھکیل کر وہ کچھ سوچ کر باہر روم کی جانب چل دی۔

’’ارے تانیہ وہ آج تمہاری دم چھلی نظر نہیں آرہی؟‘‘ زنیرہ نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا۔ بڑے سے ہال میں نوجوانوں کی محفل جمی تھی۔
’’بی ہیو یور سلف‘ زنیرہ تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔‘‘ تانیہ کو بھی اس کی بات پر غصہ آگیا۔
’’اوکے یہ بتائو آپ کی نور نظر جان جگر مس قندیل کہاں ہیں؟‘‘ تمام ینگ جنریشن ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے سوائے شہروز اور سبیلہ کہ جو نجانے کن باتوں میں مصروف تھے۔
’’شہروز بھیا مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے‘ قندیل نے آپ کے لیے ایک میسج دیا ہے۔‘‘
’’وائو… اوہو…‘‘ جیسی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اس کا نام سن کر شہروز کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے۔
’’شٹ اپ۔‘‘ سبیلہ کافی ناگواری سے بولی۔
’’کیا میسج دیا ہے؟‘‘ اس نے انتہائی بیزاری سے پوچھا۔ تانیہ کو اس وقت شہروز سے سخت نفرت محسوس ہوئی‘ جو ہیرے کو پتھر سمجھ کر ٹھکرا رہا تھا۔
’’قندیل نے کہا ہے کہ… میں آغا شہروز کو شوہر تسلیم نہیں کرتی‘ اس جیسا شخص میرا شریک سفر کبھی نہیں بن سکتا۔‘‘ قندیل کے الفاظ پر وہ سر تا پا سلگ اٹھا لونگ روم میں گمبھیر خاموشی تھی‘ سب حیران تھے کہ اتنی دبو سی لڑکی نے شہروز جیسے ہینڈسم‘ اسمارٹ اور دولت مند لڑکے کو ٹھکرانے کی جرأت کیسے کی‘ البتہ سبیلہ دل ہی دل میں بے تحاشہ خوش تھی۔ شہروز بنا کچھ کہے اٹھا جبکہ جبران بھی اس بات سے خاصا لطف اندوز ہوا تھا۔

وہ لان میں آنکھیں موندے کرسی پر بیٹھی تھی یک دم کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا‘ گھبرا کر آنکھیں کھولی تو سامنے جبران اپنی مخصوص دلکش مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک لیے کھڑا تھا۔
’’ہیلو ینگ لیڈی۔‘‘ وہ سر ذرا خم کرکے بولا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ وہ بادل نخواستہ بولی۔
’’اوہو سوری‘ وعلیکم السلام‘ وعلیکم السلام۔‘‘ اب باقاعدہ جھک کر سلام وصول کررہا تھا۔ اس شخص کو دیکھ کر اس کی تھکن دو چند ہوجاتی تھی۔ وہ قریب ہی کرسی پر دراز ہوا۔
’’ویسے قندیل ڈیئر…‘‘
’’دیکھیے جبران صاحب‘ میرا نام قندیل ہے… قندیل ہارون پلیز آئندہ خیال رکھیے گا۔‘‘
’’اوکے… اوکے‘ آئی ایم سوری محترمہ خاصی ٹیڑھی کھیر ہے‘ لگتا ہے یہاں گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلنے والا۔ خیر صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔‘‘ وہ قندیل کو دیکھ کر دل ہی دل میں بولا اچانک گیٹ کھلنے کی آواز سے دونوں بیک وقت چونکے۔ شہروز کی گاڑی اندر داخل ہوئی اور بڑی شان بے نیازی سے شہروز باہر نکلا‘ قندیل کی اس پر نظر پڑی وہ عجیب سے احساسات میں گھر گئی۔
’’اس ایک شخص سے میرا دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط رشتہ ہے لیکن وہ میرا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس نے آزردگی سے سوچا‘ اندر داخل ہوتے شہروز کو لان کے ماحول نے یک دم اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔

قندیل نے تقریباً کچن کا سارا کام سنبھال لیا تھا‘ آخر کار یہاں رہنے کا اسے تاوان بھی تو ادا کرنا تھا۔ نانی سوچتی تھیں کہ پرانے زمانے کی لڑکیوں کی طرح میں بھی خدمت اور محبت سے سب کا دل جیت لوں گی لیکن اب زمانہ بہت بدل گیا ہے یہاں کسی کو خلوص اور محبت کی ضرورت نہیں رہی اپنی خدمت کے لیے لوگ ہزاروں ملازمین رکھ سکتے ہیں وہ کچن میں کھڑی انہی سوچوں میں گم تھی۔
’’اوہو… تو قندیل صاحبہ کچن میں ہیں؟‘‘ سبیلہ کسی کام سے آئی تو قندیل کو موجود پاکر طنزیہ انداز میں بولی۔ قندیل اسے نظر انداز کیے اپنے کام میں محو رہی۔ ’’اوہ اب سمجھی۔ شہروز کے دل میں معدے کے راستے اترنے کا پروگرام ہے موصوفہ کا۔‘‘ قندیل سبیلہ کی بات پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی لیکن کوئی جواب نہ دیا۔ سبیلہ اس کی خاموشی پر وہاں سے چلی گئی اس کے جاتے ہی اس نے چھری پٹخی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
’’کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ جبران کچن کے دروازے پر کھڑا نجانے کب سے قندیل پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
’’اوہ میرے خدایا آج شاید میرے صبر کا امتحان ہے۔‘‘
’’نہیں دراصل گرمی کی وجہ سے…‘‘
’’تو ڈارلنگ باہر آجائو پھر…‘‘
’’مسٹر جبران احمد…‘‘ جبران کے اس طرز تخاطب پر وہ بپھر اٹھی اور اس کی بات کاٹ کر بولی۔
’’میں آپ سے متعدد بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے یوں مخاطب مت کیا کریں۔‘‘ جبران کو اس کے انداز پر بہت غصہ آیا لیکن دبا گیا۔
’’اوہو سوری لیکن ہم سب کزنز اسی طرح…‘‘
’’لیکن مجھے یہ سب بالکل اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔
’’ٹھیک ہے آئندہ میں خیال رکھوں گا۔‘‘ اس نے انتہائی مودبانہ انداز میں کہا لیکن اس کا لہجہ اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اسے جبران کی نظروں سے سخت خوف آتا تھا۔ اس میں اس نے وہ چمک اور ہوس دیکھی تھی جو شکار کو دیکھ کر شکاری کی آنکھوں میں امڈ آتی ہے‘ قندیل سخت ذہنی دبائو کا شکار تھی۔ وہ یہ بات تانیہ کو بھی نہیں بتاسکتی تھی‘ اسے ڈر تھا کہ تانیہ اس سے ناراض نہ ہوجائے اور اتنی مخلص اور ہمدرد بہن جیسی سہیلی کو ناراض کرنا اسے ہرگز قبول نہ تھا۔
’’اف میں کس سے کہوں‘ یہاں تو میرا کوئی بھی اپنا نہیں اور شہروز…‘‘ شہروز کا خیال آتے ہی اس کے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ ’’جسے نانی اور دادا نے میرا محافظ بنایا تھا وہ تو میرے وجود سے یکسر بے نیاز اور بیزار ہے‘ جب شوہر ہی بیوی کے وجود سے انکاری ہو تو دوسروں کی بری نیت تو عورت پر ضرور پڑے گی خدایا میری مدد کرنا۔‘‘ وہ بے بسی کے عالم میں سر تھام کے رہ گئی۔

’’ہیلو عمیر… کہاں ہو یار آج کل تم بالکل ہی اسکرین سے آئوٹ ہوگئے ہو‘ آج کلب بھی بہت دنوں بعد آئے ہو۔‘‘ شہروز ٹینس کھیل کر آیا تو عمیر کو اپنا منتظر پایا۔
’’بس یار آج کل ممی پاپا کو کنوینس کرنے میں لگا ہوں۔‘‘
’’او مائی گاڈ… عمیر تمہاری سوئی اب تک وہی اٹکی ہوئی ہے میں تو سمجھا تھا کہ یہ محض تمہارا جذباتی پن ہے جو کچھ وقت کے بعد جھاگ کی مانند بیٹھ جائے گا لیکن یار تم تو بہت ثابت قدم نکلے۔‘‘ شہروز کو عمیر کے اس اقدام پر خاصی حیرت ہوئی۔
’’پلیز شہروز… تم میری سچی محبت کو جذباتیت یا اٹریکشن کا نام دے کر اس کی توہین مت کرو۔‘‘ عمیر برا مان گیا۔
’’اوہو آئی ایم سوری… لیکن یار پلیز ڈونٹ مائینڈ ماہین کے مقابلے میں زویا تو کافی چارمنگ اور کانفیڈنٹ گرل ہے اور تمہیں لائک بھی بہت کرتی ہے تو تم زویا سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ عمیر دراصل شہروز کا سب سے اچھا دوست تھا جو ماہین نامی لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا‘ ماہین عمیر کی چھوٹی بہن مونا کی سہیلی تھی لیکن اس کا تعلق متوسط طبقے سے تھا اور عمیر مل اونر کا اکلوتا بیٹا تھا‘ وہی طبقاتی تضاد یہاں پر بھی موجود تھا‘ اس کے والدین ماہین کو بہو بنانے کے لیے قطعی آمادہ نہ تھے اور عمیر صاحب ماہین کے عشق میں بری طرح گرفتار تھے۔
’’شہروز‘ میں یہ مانتا ہوں کہ ماہین زویا سے زیادہ خوب صورت نہیں‘ زیادہ دولت مند نہیں اور نہ ہی اس کی طرح بے باک ہے لیکن پھر بھی زویا ماہین کا قطعاً مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘ شہروز عمیر کی باتیں غور سے سن رہا تھا۔ ’’ماہین کے اندر شرم وحیا ہے اس کی آنکھوں میں حیا اور پاکیزگی ہے اس کا چہرہ بناوٹ سے عاری اور معصوم ہے اس کے انداز میں محتاط پن ہے ایک جھجک ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ عورت کا سب سے قیمتی اور انمول گہنا اس کی نسوانیت کا بھرم ہے۔‘‘ شہروز خاموش بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اچانک اس کا ذہن قندیل کی طرف چلا گیا وہ بھی تو بالکل ویسی ہی تھی جیسا کہ عمیر کی ماہین۔
’’عمیر یار… ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ محض تمہارے سامنے ایسی ہو میرا مطلب ہے کہ ڈھونگ رچا رہی ہو۔ آفٹر آل تم اتنے بڑے باپ کے بیٹے ہو ہینڈسم ہو۔‘‘ شہروز نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے نقطہ اٹھایا۔
’’آف کورس یار ایسا بھی ہوسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ میں اس کو ہر طرح سے آزما چکا ہوں۔‘‘ وہ کھلکھلا کر بولا شہروز اسے حیرت سے دیکھنے لگا اتنا خوش اس نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شہروز کا ذہن اس کی باتوں میں الجھ کر رہ گیا تھا۔

گھر میں زنیرہ کی منگنی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھیں‘ قندیل بھی کامو ں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی دونوں تایا تو سارا دن گھر سے باہر رہتے تھے ان کا رویہ اول روز کی طرح ہی تھا‘ زنیرہ بھی اب شاید اس کی ذات پر طنز کرتے تھک گئی تھی‘ البتہ سبیلہ اسے ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی کیونکہ اسے قندیل سے خاص قسم کا بغض تھا اور یہ بات وہ بہ خوبی جانتی تھی۔
شبانہ پھوپو ویسے ہی کم گو اور اپنے کام سے کام رکھتی تھیں لیکن اس کے لیے یہی کافی تھا کہ یہ لوگ اس کے وجود کو برداشت تو کررہے ہیں‘ سلمان سدا کا لاپروا نو عمر لڑکا تھا‘ میر جان ابھی چھوٹا تھا‘ وہ یا تو پڑھائی میں لگا رہتا یا پھر کرکٹ میں اور جبران کا وہی انداز تھا بات بے بات اس سے فری ہونے کی کوشش کرتا اور شہروز سبیلہ کی سنگت میں نظر آتا تھا اور کبھی غیر ارادی طور پر وہ اس کے سامنے آجاتی تو انتہائی کاٹ دار نظروں سے گھورتا تھا۔
’’سنو قندیل… پلیز ذرا یہ ڈریس شہروز بھیا کے کمرے میں رکھ آئو۔‘‘ تانیہ نے ملتجیانہ انداز میں کہا۔
’’شہروز کے کمرے میں… نہ بابا مجھے تو معاف رکھو۔‘‘ قندیل ایک بار پھر میگزین پڑھنے میں منہمک ہوگئی۔
’’پلیز قندیل میں اس وقت بہت بزی ہوں اور شہروز بھیا بھی گھر پر نہیں ہیں دوپہر کے وقت وہ بہت کم ہی گھر آتے ہیں۔ میں ذرا پھوپو کے پاس جارہی ہوں‘ منگنی کے دن قریب آرہے ہیں اور بہت سارا کام نمٹانا ہے پلیز…‘‘
’’اوکے لائو لیکن شیور وہ کمرے میں نہیں ہیں۔‘‘ قندیل نے دوبارہ استفسار کیا۔
’’نہیں ہیں تم جائو اب…‘‘ وہ عجلت میں کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔ شہروز کے کپڑے رکھنے اس کے کمرے میں چلی آئی۔
وہ پہلی بار اس کے کمرے میں آئی تھی۔ کمرہ اپنے مکین کی اعلیٰ ذوقی کا ثبوت پیش کررہا تھا۔ ایش گرے اور وائٹ کلر کے امتزاج کا کارپٹ‘ پردے اور آئرن راڈ کا خوب صورت ڈبل بیڈ اور سامنے دیوار پر اس کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی جس میں وہ مسکرا رہا تھا۔
’’ہونہہ… موصوف مسکرا بھی ایسے رہے ہیں۔ جیسے دنیا پر احسان کررہے ہیں۔‘‘ وہ زیرلب کہتی ہوئی جونہی مڑی تو ساکت رہ گئی۔ واش روم سے شہروز باتھ گائون پہنے ہاتھ میں ٹاول لیے اچانک ہی آگیا۔
’’مائی گاڈ… اب کیا ہوگا…؟‘‘ شہروز کی اس پر نظر پڑی تو وہ بھی بری طرح چونکا۔
’’یہ میرے کمرے میں کیا کررہی ہو؟‘‘ قندیل نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے خود ہی وضاحت دی۔
’’میں یہ کپڑے رکھنے آئی تھی۔‘‘ کہتے ہی وہ بجلی کی سی سرعت سے دروازے کی جانب لپکی لیکن اس کا بازو شہروز کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں آگیا۔ اس نے گھبرا کر شہروز کو دیکھا۔
’’یہ… یہ کیا… حرکت ہے؟ پلیز چھوڑیے میرا بازو۔‘‘ قندیل بہ مشکل منمنائی۔
’’تم نے تانیہ کو کیا پیغام دیا تھا؟‘‘ شہروز کے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ ششدر رہ گئی۔ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس طرح استفسار کرے گا۔ ’’جواب دو تم نے کیا کہا تھا؟‘‘ اس کے دھاڑنے پر وہ کانپ کر رہ گئی۔
’’اسٹوپڈ گرل یوں بت کی طرح چپ کیوں کھڑی ہو۔‘‘ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن آواز ساتھ نہ دے رہی تھی۔ ’’تم اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہو‘ تم مجھے شوہر تسلیم نہیں کرتی تمہیں اپنی اوقات معلوم ہے۔‘‘ وہ مستقل اس کی ذات پر سنگریزے برسا رہا تھا۔ جب تانیہ نے قندیل کی بات اس تک پہنچائی تھی شہروز کو سخت توہین محسوس ہوئی تھی کہ ایک بے سہارا اور مجبور لڑکی نے اسے ٹھکرانے کی ہمت کیسے کی اشتعال میں آکر شہروز نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ قندیل مزید اہانت برداشت نہ کرسکی اور چٹخ کر بولی۔
’’مسٹر آغا شہروز جمال میں تو یہاں صرف اپنی نانی اور دادا کے اس بندھن کی لاج رکھنے چلی آئی تھی جو میری مرضی کے بغیر جڑا‘ میں صرف اپنے پیاروں کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی تھی لیکن تم کیا جانو رشتے کیا ہوتے ہیں اور انہیں نبھانے کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں‘ تم اپنی دولت کے نشے میں چور ایک انتہائی معمولی انسان ہو جس کو رشتوں کے تقدس کا ذرا خیال نہیں ہے۔‘‘ قندیل کے ضبط کی طنابیں ٹوٹ گئیں‘ شہروز نے اسے بہت رسوا کیا تھا۔ ’’ایک بات اور شہروز…‘‘ وہ جاتے ہوئے پلٹی۔ ’’تم میری محبت‘ میرے خلوص‘ میرے شریک سفر بننے کے لائق نہیں ہو تم سبیلہ جیسی لڑکی کے ساتھ ہی جچو گے۔‘‘ وہ انتہائی گہری بات کرکے شہروز کو ہکابکا چھوڑ کر چلی گئی‘ جبکہ شہروز اس کی بات پر سن رہ گیا۔ قندیل کی اس بات کا کیا مقصد تھا کہ سبیلہ جیسی لڑکی میرے ساتھ جچے گی‘ آخر کیا کمی کیا ہے سبیلہ میں‘ اس کا ذہن مسلسل یہی بات سوچ رہا تھا۔
’’سبیلہ پُر اعتماد ہے‘ خوب صورت ہے لیکن اس کے اندر شرم وحیا نہیں ہے اور وہ‘ ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھتی ہے اس نے اپنے جذبوں کو سینت سینت کر رکھا ہے۔‘‘ یک دم عمیر کی آواز اس کی سماعت میں گونجی تھی۔ سبیلہ مجھے لائک کرتی ہے اور اکثر محبت کا اظہار بھی کرتی ہے۔ لیکن یہ دلنشین جملے سن کر میرے اندر کوئی ہلچل نہیں ہوتی اور آج قندیل کے قریب ہونے پر میں کیوں بے چین ہو اٹھا‘ وہ اپنے آپ سے لڑ رہا تھا‘ انجانے میں سبیلہ اور قندیل کا مقابلہ کررہا تھا۔

قندیل شہروز کے سامنے اپنے دل کی بھڑاس نکال کر تھوڑی ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔ اس دن وہ حسب معمول کچن میں مصروف تھی۔ شبانہ پھوپو کی طبیعت تھکن کی وجہ سے ناساز ہوگئی تھی۔ چھوٹی تائی اور باقی سب لڑکیاں شاپنگ کرنے گئی ہوئی تھیں‘ بڑی تائی نے اسٹیم بروسٹ اور فرائیڈ رائس کی ٹرے اسے تھمائی کہ جاکر شبانہ پھوپو کو دے آئے‘ وہ شش وپنج میں مبتلا ہوئی‘ جبران کے ارادے اسے نیک نہیں لگتے تھے لیکن سب شاپنگ پر گئے ہوں گے یہ سوچ کر وہ پھوپو کے پورشن میں آگئی‘ لائونج میں کافی سناٹا تھا اس نے پھوپو کو وہیں سے آوازیں دیں شاید وہ سو رہی تھیں وہ کچن میں چلی آئی۔ ٹرے رکھ کر جونہی پلٹی اس کا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا‘ سامنے جبران کھڑا اسے بہکی بہکی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ قندیل بے تحاشہ ڈر گئی۔
’’وہ… وہ جبران بھائی یہ تائی نے بھجوائی ہے میں چلتی ہوں…‘‘ وہ دروازے کی جانب لپکی لیکن جبران نے برق رفتاری سے اس کا ہاتھ دبوچ لیا۔ وہ حیرت واستعجاب کے سمندر میں غوطہ زن ہوگئی۔
’’یہ… یہ کیا حرکت ہے۔‘‘ اس نے اپنے لہجے میں سختی لانا چاہی لیکن ناکام رہی۔
’’جان من صرف جبران کہو۔‘‘
’’جبران بھا… شش…‘‘ مارے صدمے کے اس کی آواز پھٹ سی گئی۔ جبران کی اتنی جرأت پر وہ دنگ رہ گئی۔
’’قندیل میری جان تم انتہائی خوب صورت لڑکی ہو ارے شہروز تو پاگل ہے جو تمہاری قدر نہ کرسکا تم صرف ایک بار مجھے آزما کر دیکھو پھر دیکھنا میں تمہیں…‘‘
’’پلیز خاموش ہوجائیں۔‘‘ وہ نفرت سے چلا اٹھی۔
’’پھو… پو… پھوپو جان۔‘‘ وہ اپنی تمام طاقت صرف کرکے چلائی‘ جبران نے اسے یوں چلاتا ہوا دیکھا تو ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
’’ڈیئر وہ تو ڈاکٹر کے پاس گئی ہیں اب صرف میں ہوں اور تم۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اس پر جھکا۔ قندیل نے اپنے حواس مجتمع کرتے ہوئے اپنی پوری طاقت سے جبران کو دھکا دیا۔ اس غیر متوقع دھکے سے جبران سنبھل نہیں سکا اور پیچھے گر پڑا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر وہ دیوانہ وار باہر کی جانب لپکی اور بھاگتی چلی گئی۔ آنکھوں میں نمکین پانی کی چادر سی تن گئی اور اسی دھندلاہٹ میں اسے سامنے سے آتا شہروز بھی دکھائی نہ دیا‘ لان میں آکر وہ شہروز سے بری طرح ٹکرائی۔ شہروز اس افتاد پر گھبرا گیا‘ نہ قندیل کے پیروں میں چپل تھی اور نہ سر پر دوپٹہ‘ اسے کسی انہونی کا احساس ہوا‘ قندیل شہروز کو دیکھ کر سٹپٹائی‘ شہروز نے بغور اس کا چہرہ دیکھا‘ گالوں پہ آنسو تھے اور آنکھیں مزید برسنے کو بے تاب تھیں۔
’’آر یو اوکے قندیل؟‘‘ وہ بے اختیار پوچھ بیٹھا۔ جواب میں قندیل نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو ان آنکھوں میں کیا نہیں تھا‘ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں، شکوہ‘ بے اعتنائی‘ کاٹ وہ نظریں چرا گیا۔ وہ چپ چاپ اندر چلی گئی۔ شہروز کچھ سوچ کر باہر گیا جہاں کچھ فاصلے پر اس کی چپل موجود تھی لیکن چادر کہیں پر بھی نہیں تھی۔ وہ بری طرح الجھا۔

وہ اللہ کا شکر ادا کرتے نہ تھک رہی تھی جس نے اس کی آبرو کو سلامت رکھا اور اس گدھ سے بچا لیا تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ جبران چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح پھنکار رہا ہوگا اور ضرور موقع ملتے ہی اسے نقصان پہنچائے گا جب ہی اس نے یہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئی قندیل۔‘‘ تانیہ کو قندیل کی بات سن کر سخت غصہ آیا۔
’’پلیز تانیہ صرف تم ہی میری مدد کرسکتی ہو۔‘‘ قندیل لجاجت سے بولی۔
’’میں تمہاری ہرگز ہرگز مدد نہیں کروں گی‘ قندیل تم بچی تو نہیں ہو جو یہ بات نہیں جانتی کہ گھر سے باہر عورت ذات کے لیے کیسے کیسے درندے اور بھیڑیے قدم قدم پر موجود ہیں پھر بھی تم یہاں سے جانے کی سوچ رہی ہو…‘‘ تانیہ تاسف سے بولی۔
’’اور اگر کوئی درندہ تاک لگائے گھر میں ہی موجود ہو تو تم اس بارے میں کیا کہو گی تانیہ؟‘‘ قندیل نے دل میں سوچا لیکن کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مبادا تانیہ اسے ہی قصور وار سمجھ بیٹھے اور وہ اس کی دوستی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب ہی وہ خاموشی سے اس کی بات پر آمادہ ہوگئی۔

آج زنیرہ کی منگنی تھی وہ حتی الامکان کوشش کررہی تھی کہ جبران سے تنہائی میں مڈبھیڑ نہ ہو‘ سبیلہ آج مکمل کیل کانٹوں سے لیس تھی۔ سرخ رنگ کی ساڑھی اس پر سیلولیس بلائوز اس کے گورے بازو چاندی کی مانند چمک رہے تھے‘ ڈائمنڈ کا نازک سا نیکلس پہنے اور خوب صورت سا بالوں کا ہیئر اسٹائل بنائے وہ کافی خوب صورت لگ رہی تھی۔ منگنی کا اہتمام لان میں کیا گیا تھا۔
قندیل بھی خاصے اہتمام سے تیار ہوئی تھی اور اس کے پیچھے تانیہ کا ہاتھ تھا وہ چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح شہروز کا دل اس کی طرف مائل ہوجائے۔ تانیہ کی لاکھ منتوں سے متاثر ہوکر اس نے تانیہ سے لائٹ میک اپ بھی کروا لیا تھا‘ آف واہٹ کلر کا پاجامہ اور اس پر حیدر آبادی کرتا جس پر گولڈن اور سلور ستاروں اور موتیوں کا حسین اور نازک سا کام بنا ہوا تھا‘ تازہ بیلے کی بالیاں پہنے وہ بہت معصوم لگ رہی تھی‘ لمبی سی بالوں کی چوٹی جسے تانیہ کے ہزار بار کہنے کے باوجود اس نے کھولا نہ تھا۔ تانیہ نے یہ ڈریس خاص طور پر قندیل کے لیے لیا تھا۔
سبیلہ اسے دیکھ کر بری طرح جل گئی‘ پوری محفل میں وہ سب سے منفرد لگ رہی تھی‘ عجلت میں آتا شہروز چند ثانیے قندیل کو دیکھتا ہی رہ گیا‘ تانیہ نے یہ منظر بغور دیکھا قندیل ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی پھولوں کی الجھی لڑیوں کو سلجھا رہی تھی‘ اسے اپنے پلان میں کامیابی محسوس ہوئی‘ تانیہ کو یک دم شرارت سوجھی۔ وہ شہروز کے اچانک سامنے آگئی۔ شہروز تانیہ کو سامنے کھڑا دیکھ کر بری طرح بوکھلایا۔
’’کیا ہوا شہروز بھیا… آپ اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں؟‘‘ وہ انتہائی معصومیت سے بولی۔ البتہ آنکھیں شرارت سے مسکرا رہی تھیں۔ شہروز جھینپ سا گیا۔
’’مجھے کیا ہونا ہے۔‘‘ شہروز نے ڈپٹ کر کہا۔
’’ویسے شہروز بھیا آج کتنی روشنی ہورہی ہے۔‘‘ تانیہ ذومعنی لہجے میں بولی۔ بے اختیار اس کی نظریں قندیل کی جانب اٹھیں۔
’’واقعی آج بہت روشنی ہے۔‘‘ شہروز سرگوشی میں بولا تانیہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ اپنی بے خودی پر اسے سخت غصہ آیا۔ قندیل وہاں سے جاچکی تھی اس نے بھی باہر کی جانب قدم بڑھائے۔
’’یہ روشنی قندیل کے وجود سے ہے ناں؟‘‘ تانیہ کی آواز آئی وہ پکا یقین کرلینا چاہتی تھی شہروز جاتے جاتے پلٹا چند ثانیے تانیہ کو دیکھا اور یک دم دلنشین انداز میں مسکرادیا۔

’’تجھے پھول کہوں یا چاند کہوں تو ان سب سے بھی بڑھ کر حسین ہے… تجھے جام کہوں یا شراب کہوں‘ تو ان سب سے زیادہ نشیلی ہے۔‘‘ قندیل جو تائی امی کے کہنے پر کچن میں مٹھائی لینے آئی تھی جبران کی آواز پر کرنٹ کھا کر پلٹی جس بات کا اسے ڈر تھا آخر وہی ہوا۔
’’کیوں آئے ہو تم یہاں…؟ چلے جائو یہاں سے۔‘‘ قندیل سخت لہجے میں بولی۔ اگر وہ اب بھی کمزوری دکھاتی تو جبران اس پر ضرور حاوی ہونے کی کوشش کرتا لیکن اس کی سختی کا اس پر مطلق اثر نہ ہوا۔
’’دیکھو مجھے جانے دو۔‘‘ اس بار لہجے میں خوف نمایاں ہوا۔ ’’یااللہ کسی کو میری مدد کے لیے بھیج دے مجھے ان غلیظ نظروں کے حصار سے آزاد کروا دیے۔‘‘ اس نے تڑپ کر دل سے دعا کی۔
’’جبران… تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ یہ آواز اس کے کانوں میں امرت گھول گئی۔ جبران شہروز کی غیر متوقع آمد پر سٹپٹا کر اس کی جانب مڑا۔
’’دراصل امی قندیل کو بلا رہی تھیں۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ کھسک گیا۔ کچن میں کھڑی قندیل پر اچٹتی نظر ڈالی قندیل بہت نروس نظر آرہی تھی۔ شہروز بنا کچھ کہے واپس پلٹ گیا۔ قندیل نے کب کا رکا ہوا سانس خارج کی۔
’’تھینک یو سو مچ شہروز… آپ نے انجانے میں میری بہت بڑی مدد کی ہے۔‘‘ وہ دل میں بولی۔

منگنی کا فنکشن بہ خیرو خوبی انجام پاگیا تھا۔
’’اوکے شہروز… اب ہمیں اجازت دو۔‘‘ شہروز کے دوست اس سے اجازت طلب کررہے تھے۔ شہروز حق میزبانی ادا کررہا تھا۔ تب ہی عمیر اس کے قریب آیا۔
’’سنو شہروز…‘‘ عمیر جاتے ہوئے کچھ سوچ کر رکا۔
’’ہاں بولو۔‘‘ شہروز اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’شہروز کبھی کبھی جو چیز ہماری جھولی میں بآسانی آگرتی ہے ہمیں اس کی بالکل قدر نہیں ہوتی… چاہے وہ کتنی ہی انمول اور قیمتی کیوں نہ ہو لیکن جب وہ چیز کھو جاتی ہے یا ہم سے دور ہوجاتی ہے تب ہمیں اپنے تہی داماں ہونے کا احساس ہوتا ہے لیکن میرے یار اس وقت صرف پچھتائوں کے اور کچھ نہیں رہ جاتا۔‘‘ عمیر کی بات شہروز بغور سن رہا تھا۔ ’’قندیل بہت اچھی لڑکی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں چلا گیا اور اسے بہت کچھ باور کرا گیا تھا۔

آج زنیرہ کے سسرال والوں نے ان کی دعوت کی تھی۔ سر شام سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ قندیل کو صبح ہی سے بخار محسوس ہورہا تھا‘ شام کو تو اچھا خاصا بخار چڑھ گیا‘ گھر کے کسی فرد نے نہ اسے چلنے کو کہا اور نہ ہی طبیعت پوچھی تھی‘ وہ گھر والوں کی بے اعتنائی پر اداس ہوئی‘ تانیہ اس کے پاس ہی رکنا چاہتی تھی لیکن قندیل نے اسے یہ کہہ کر بھیج دیا کہ میں ٹھیک ہوں اور پھر زبیدہ (ملازمہ) گھر پر تو ہے‘ ان کے جانے کے بعد وہ دوا لے کر گہری نیند سوگئی۔ تقریباً دو گھنٹے گزرنے کے بعد شدید بھوک کے احساس سے اس کی آنکھ کھلی اب جو اس کی طبیعت بحال ہوئی تو اسے فوراً جبران کا خیال آیا‘ جبران کا خوف اس کے دل میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا‘ گھر میں سناٹے بول رہے تھے اس نے گھبرا کر زبیدہ کو آواز دی تو وہ بھاگتی ہوئی آئی۔
’’کیا ہوا بی بی جی۔‘‘ زبیدہ کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔
’’زبیدہ تم میرے ساتھ رہو مجھے تنہائی سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ قندیل وحشت زدہ لہجے میں بولی۔
’’آپ فکر نہ کریں بی بی جی میں کوارٹر میں اپنے شوہر کو روٹی دے کر آپ کے پاس آجاتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن جلدی آنا۔‘‘ قندیل کھلے بالوں کا جوڑا ہاتھوں سے بنا کر بستر سے اٹھی اور منہ دھو کر کچن کی طرف آگئی۔ اپنے لیے چائے پکائی اور بسکٹ کا پیکٹ اٹھا کر لائونج میں آگئی۔ ٹی وی آن کرکے وہ آہستہ آہستہ چائے کی چسکیاں لینے لگی۔ معاً اسے قدموں کی چاپ سنائی دی‘ وہ سمجھی شاید زبیدہ آئی ہے۔ اچانک کسی نے پیچھے سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ وہ دہشت سے پلٹی اور جبران کو دیکھ کر سناٹے میں آگئی۔
’’آ… آپ… یہاں… کیا کررہے ہیں دعوت میں نہیں گئے…؟‘‘
’’ارے میری بھولی چڑیا… وہاں تم نہیں تھیں جان من تو پھر میرا دل کیسے لگتا۔‘‘ اس نے اپنے بازو جبران کے مضبوط ہاتھوں سے آزاد کرانے کے لیے کافی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی۔
’’چھوڑ مجھے ذلیل آدمی۔‘‘ اسے اپنی جانب جھکتا پاکر وہ غصہ سے چلائی۔
’’زبیدہ… زبیدہ…‘‘ وہ ہذیانی انداز میں زبیدہ کو آوازیں دینے لگی۔
’’کیوں اپنے نازک گلے پر زور ڈال رہی ہو زبیدہ اور اس کے میاں کو میں نے باہر بھیج دیا ہے یہ کہہ کر کہ میں آگیا ہوں تمہاری بی بی کا خیال رکھنے۔‘‘ وہ مخمور لہجے میں بولا۔
’’گھٹیا آدمی اگر میری جگہ سبیلہ یا زنیرہ ہوتی اور اس کے ساتھ…‘‘
’’شٹ اپ…‘‘ وہ غصے سے پھنکارا‘ اسی پل اس نے اپنے لمبے ناخنوں سے جبران کے چہرے پر حملہ کردیا اس افتاد پر وہ مزید بپھر اٹھا اور اسے صوفے پر پٹخ دیا۔ وہ صوفے کی بیک کی طرف سے دوسری جانب کود گئی اور باہر کی طرف بھاگی‘ جبران اس کے پیچھے لپکا اور تھوڑی سی حجت کے بعد قندیل کو جالیا۔ قندیل ہذیانی انداز میں چلانے لگی۔ جبران کو شدید تائو آیا اس نے یکے بعد دیگرے زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر مارے وہ بے دم ہوکر زمین پر گر پڑی اور ہونٹ کے کنارے سے خون بہنے لگا تھا۔
’’بہت نخرے دکھا چکی ہو اگر پہلے ہی میری بات مان لیتی تو یہ سب نہ کرنا پڑتا۔‘‘ وہ اس کے قریب آکر پھنکارا‘ اس کا مسخ شدہ چہرہ انتہائی کراہیت آمیز لگ رہا تھا۔
’’اللہ کے لیے مجھے چھوڑ دو۔‘‘ قندیل منت سماجت پر اتر آئی لیکن وہاں کوئی انسان نہیں بلکہ سفاک درندہ تھا جو اسے نوچنے کو بے چین و بے قرار تھا۔
’’شہروز پلیز میری مدد کرو مجھے بچالو مجھے بچالو شہروز…‘‘ وہ شہروز کو آوازیں دیتے ہوئے بری طرح رو دی۔ جبران یہ سن کر قہقہہ لگا کر ہنسا اور پھر ہنستا چلا گیا۔
’’تم شہروز کو بلا رہی ہو۔‘‘ وہ بہ مشکل ہنسی روکتا ہوا بولا۔ ’’جو تمہیں ذلیل کرتا ہے‘ جسے تمہاری قطعی پروا نہیں۔‘‘ وہ دوبارہ اس کی جانب جھکا۔
’’جبران…!‘‘ کوئی بہت زور سے چیخا اور وہ بری طرح گھبرایا‘ کمزور وبے بس قندیل نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو شہروز نظر آیا اس نے اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے رگڑ ڈالیں۔ شہروز جبران کو انتہائی کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔ اچانک اس کے بے جان جسم میں توانائی سی بھر گئی اور وہ بجلی کی تیزی سے اٹھی اور یک دم اس کے کشادہ سینے پر سر رکھ کر بے تحاشا رو دی۔
’’شہروز آپ آگئے… آپ آگئے۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔ شہروز نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے یقین دلایا کہ اس کا محافظ اس کا سائبان اس کی آبرو کی حفاظت کے لیے آچکا ہے‘ بازی پلٹی دیکھ کر جبران گھبرایا۔
’’شہروز… یقین کرو اس نے مجھے خود فون کرکے بلایا کہ میری طبیعت اچھی نہیں ہے تم آجائو اور پھر یہ مجھے رجھانے لگی۔‘‘ روتی بلکتی قندیل جبران کے الفاظ سن کر یوں چپ ہوئی جیسے چابی کے کھلونے کو فوراً بند کردیا ہو۔ اس نے گھبرا کر سر اٹھایا۔
’’نہ… نہیں… نہیں شہروز یہ جھوٹ…‘‘
’’شہروز دراصل قندیل مجھے پھنسانے کی کوشش کررہی ہے‘ اب سے نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی…‘‘
’’نہیں… نہیں شہروز پلیز…‘‘ یک دم شہروز نے اس کے ہونٹوں پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا۔ قندیل ششدر رہ گئی۔
’’قندیل تمہیں ایک الفاظ بھی کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ جبران مطمئن ہوا کہ شہروز کو اس کی باتوں پر یقین آگیا ہے اور قندیل کی حالت ایسی ہوگئی جیسے اس کے وجود میں جان ہی نہ ہو شہروز کے اگلے جملے نے اس کے مردہ جسم پر زندگی پھونک دی۔
’’تمہیں صفائیاں دینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے قندیل… تمہاری پاک دامنی کا میں خود گواہ ہوں۔‘‘ یہ سن کر قندیل کے چہرے پر استعجاب اور جبران کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ جبران کی طرف تیر کی مانند لپکا اور اس کا گریبان پکڑ لیا۔
’’ذلیل کمینے تیری ہمت کیسے ہوئی قندیل کو اپنے ناپاک اور گندے ہاتھوں سے چھونے کی۔‘‘ شہروز آپے سے باہر ہوگیا اور اس پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کردی‘ قندیل تھرتھر کانپ رہی تھی۔
’’مجھے تو تجھ پر اسی دن شک ہوگیا تھا جب قندیل بدحواسی میں بھاگتی ہوئی آئی تھی اور جب میں بہانے سے اندر گیا تو قندیل کی چادر ہر بات واضح کر گئی تھی۔‘‘ یہ انکشاف سن کر قندیل ہک دک رہ گئی اور جبران بھی دم سادھ گیا۔
’’شہروز… یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ بڑے تایا کی زور دار آواز گونجی۔ قندیل اور شہروز دونوں چونکے۔ گھر کے افراد کو اچانک دیکھ کر قندیل کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ تمام لوگ حیرت واستعجاب سے گنگ کھڑے تھے۔ شہروز جبران کو چھوڑ کر بپھر کر مڑا۔
’’ڈیڈی… اس ذلیل نے قندیل کو…‘‘
’’ماموں جان یہ دونوں جھوٹ بول رہے ہیں… آئی سوئر قندیل نے مجھے خود…‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ شہروز شیر کی مانند دھاڑا۔
’’شہروز ایک منٹ۔‘‘ آغا سکندر جمال نے شہروز کو ٹوکا۔
’’ڈیڈی… آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے۔‘‘ شہروز کو شدید شاکٹ لگا۔
’’بیٹا میرا مطلب…‘‘
’’آپ کا مطلب کچھ بھی ہو لیکن آپ سب یہ بات کان کھول کر سن لیں کہ اس غلیظ انسان نے میری بیوی پر بری نگاہ ڈالی ہے اور اس کی سزا اسے ضرور ملے گی۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ ایک بار پھر اسے مارنے لپکا دونوں تایا نے آگے بڑھ کر شہروز کو بہ مشکل پکڑا۔ جہاں شہروز کے منہ سے یہ الفاظ سن کر قندیل ششدر رہ گئی وہیں یہ الفاظ سبیلہ پر بجلی بن کر گرے باقی اہل خانہ کو بھی سانپ سونگھ گیا تھا۔
’’ڈیڈی اگر میں اس بندھن سے ناراض تھا‘ قندیل سے نالاں تھا تو آپ لوگوں کو قندیل کو اپنانا چاہیے تھا اور ڈیڈی یہ تو آپ کی سگی بھتیجی ہے کتنا تڑپایا آپ نے ہارون چچا کی روح کو اور میں بھی قصور وار ہوں ہارون چچا کا کہ ان کی بیٹی کی قدرنہیں کرسکا اور یہ شوہر کے ہوتے ہوئے اپنوں کے ہوتے ہوئے اس درندے کی بدتمیزیوں کو برداشت کرتی رہی۔‘‘ شہروز نے جبران کو خون آشام نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ جو سر جھکائے کھڑا تھا۔
’’اور آپ پھوپو‘ آپ بھی اتنی کٹھور بن گئیں کہ مرے ہوئے بھائی کی بیٹی کے لیے محبت تو درکنار کبھی ہمدردی تک نہ جاگی۔‘‘ آج شہروز ماں باپ سمیت سب کو کٹہرے میں گھسیٹ لایا۔ تینوں بہن بھائی شہروز کے اس طرح جھنجوڑنے پر نادم ہوئے۔ قندیل سے اتنی بڑی خوشی سنبھل نہیں پارہی تھی کہ شہروز اس کے لیے اپنے گھر والوں کا احتساب کررہا ہے۔
’’مگر اللہ کا شکر ہے اس نے میری آنکھوں سے غفلت کی پٹی ہٹا دی ورنہ میرے پاس آپ لوگوں کی طرح پچھتائوں کے سوا کچھ باقی نہ رہتا۔ اب میں اور قندیل اس گھر میں ہرگز نہیں رہیں گے۔ کل رات کی فلائٹ سے میں اسے سنگاپور لے جارہا ہوں۔‘‘ یہ خبر سن کر تائی امی اور سبیلہ شاکڈ رہ گئیں وہ تو پہلے ہی شہروز کی باتوں سے زلزلے کی زد میں آگئی تھی یہ سن کر بالکل حواس باختہ ہوگئی۔
’’تانیہ… تم قندیل کو کمرے میں لے جائو۔‘‘ قندیل اس قدر پُرمسرت انکشافات سے ڈھے سی گئی اور تھکے ہوئے قدموں سے تانیہ کے ہمراہ چل دی۔

’’تانیہ یہ… یہ سب کیسے اور کب ہوا؟ شہروز کیسے اتنا بدل گئے‘ وہ میرے لیے اپنے گھر والوں سے جھگڑے‘ میرا حق مانگا اور…اور انہوں نے مجھے اپنی بیوی بھی مانا‘ انہوں نے سب کے سامنے مجھے عزت اور مان دے دیا۔‘‘ وہ عجیب سے احساسات میں گھر کر رونے لگی۔ تانیہ نے اسے رونے دیا۔ قندیل کی حالت بہت عجیب ہورہی تھی کبھی ہنس رہی تھی کبھی رو رہی تھی۔
’’اللہ کا شکر کرو کہ اس نے شہروز بھیا کی بروقت آنکھیں کھول دی اور انہیں کھرے وکھوٹے کی پہچان ہوگئی۔‘‘
’’تانیہ لیکن انہوں نے میرا پاسپورٹ وغیرہ کیسے بنایا۔‘‘ وہ الجھ کر بولی۔
’’مابدولت کی وجہ سے۔‘‘ تانیہ اکڑ کر بولی۔
’’کیا مطلب۔‘‘ وہ ناسمجھی کی کیفیت میں دیکھنے لگی۔
’’ٹھہرو… میں تمہیں شروع سے بتاتی ہوں‘ پچھلے چند ہفتوں سے میں بھیا کو کچھ بدلا بدلا سا محسوس کررہی تھی خاص طور پر تمہارے حوالے… ایک بات میں نے نوٹ کی کہ جہاں تم جاتی ہو وہیں ان کی نگاہیں تمہارا تعاقب کرتی ہیں۔‘‘ وہ شوخی سے بولی تو قندیل جھینپ سی گئی۔ ’’اور منگنی کے دن تو وہ چاروں شانے چت ہوگئے تھے‘ وہ پورے فنکشن کے دوران تمہیں ہی دیکھ رہے تھے۔‘‘ قندیل کو یاد آیا کہ منگنی کے دن شہروز کچن میں اتفاقاً نہیں بلکہ جان بوجھ کر آیا تھا۔
’’اور جانتی ہو دوسرے دن میں نے ان کی آنکھوں میں تمہارا مکمل عکس دیکھ لیا تھا۔‘‘ تانیہ کے لفظوں کی پھوار اس کے جلتے من میں ٹھنڈک پیدا کررہی تھی۔ ’’اور ایک دن میں نے ان سے سب اگلوا لیا‘ وہ واقعی تمہیں بہت پسند کرنے لگے تھے۔ دوسری طرف وہ نادم بھی تھے اور پھر ہم دونوں نے مل کر یہ حل نکالا کہ وہ تمہیں یہاں سے دور لے جائیں اور اس کا م کے لیے میں نے تمہارے ڈاکومینٹس فراہم کردیے۔‘‘ تانیہ خوب چہک رہی تھی۔ تمام بات سن کر قندیل خوشی کے مارے رونے لگی۔
’’ارے… ارے اب کیا ہوا؟‘‘ تانیہ متعجب ہوئی۔ وہ روتے ہوئے تانیہ سے لپٹ گئی اور رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
’’تانیہ… آج میں اپنے پیاروں کے سامنے سرخرو ہوگئی‘ آج ان کا کہنا سچ ثابت ہوا اور تانیہ مجھے میری منزل تک پہنچانے میں تم نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا‘ جب میں ٹوٹ کر بکھری‘ تم نے مجھے سمیٹا ورنہ میں کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتی۔ تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان…‘‘
’’پلیز قندیل خاموش ہوجائو شکریہ ادا کرکے مجھے پرایا مت کرو۔‘‘ وہ عاجزی سے بولی۔ قندیل روتے ہوئے مسکرادی۔
’’قندیل تم نے مجھے جبران بھائی کی حرکتوں کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟‘‘ تانیہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی۔
’’تانیہ میں بہت ڈر گئی تھی… کیا تمہیں یہ سب پہلے پتہ تھا؟‘‘ قندیل نے کچھ یاد آنے پر چونک کر پوچھا۔
’’ہاں…‘‘ قندیل زور سے اچھل پڑی۔
’’لیکن کیسے؟‘‘ اس نے استعجاب آمیز لہجے میں پوچھا۔
’’اس دن جب تم بدحواس ہوکر لان میں بھاگتی ہوئی آئی تھیں‘ شہروز بھیا تمہاری حالت دیکھ کر بری طرح چونک گئے تھے۔ اس بات کا ذکر انہوں نے مجھ سے کیا‘ میں ایک لمحے میں سمجھ گئی کہ ضرور جبران بھائی نے تمہارے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی بات کا یقین کرنے کے لیے میں پھوپو کے گھر گئی اور وہاں تھوڑی تلاش کے بعد تمہاری چادر میرے ہاتھ لگ گئی اور وہ میں نے شہروز بھیا کو دکھائی اور یہ بھی بتادیا کہ یہ کہاں سے ملی‘ اس وقت وہ شدید غصے میں تھے میں نے بہت مشکل سے انہیں ٹھنڈا کیا۔ انہیں سمجھایا کہ جبران بھائی صاف مکر جائیں گے اور تمام الزام قندیل کے سر پر تھوپ دیا جائے گا لہٰذا انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا جائے اور اسی پلان کے تحت شہروز بھیا جبران کا مسلسل تعاقب کررہے تھے۔‘‘ تانیہ آگے بھی کچھ کہہ رہی تھی لیکن وہ اپنی ہی سوچوں میں مگن تھی۔
’’یہ دونوں کس طرح میری حفاظت کررہے تھے اور شہروز جو قدم قدم پہ میرا محافظ بنا ہوا تھا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘ قندیل دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی بولی۔

کھٹکے کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی کوئی آہستہ آہستہ دستک دے رہا تھا۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ صبح کے دس بج رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ اٹھتی تانیہ عجلت میں اٹھی اور دروازہ کھولا نو وارد کو دیکھ کر قندیل کو بے تحاشا شرم آئی اور وہ سوتی بن گئی۔
’’تانیہ… قندیل سو رہی ہے۔‘‘ شہروز مدھم آواز میں بولا۔
’’ہاں بھیا رات کو دیر سے سوئی تھی‘ آپ اندر آئیے۔‘‘ وہ اندر آنے میں جھجک رہا تھا۔
’’ارے بھیا فکر مت کریں وہ آپ کی بیگم ہے۔‘‘ تانیہ کے الفاظ سے شہروز جھینپ گیا۔
’’تانیہ وہ تیار ہے؟‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہوئے شہروز جھجک کر بولا کیونکہ شہروز کے اندر ایک خوف کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا کہ کہیں قندیل اس کے سابقہ سلوک کی بدولت چلنے سے انکار نہ کردے۔
’’شہروز بھیا… وہ بہت حساس اور پیاری لڑکی ہے وہ آپ کے ساتھ جانے پر آمادہ ہے لیکن آپ ہاتھ پائوں جوڑ کر اسے منا لیجیے گا۔‘‘ تانیہ شرارت سے بولی۔ شہروز کے دل سے یک دم بھاری بوجھ سرکا تو وہ مسکرادیا اور قندیل اس نے طمانیت کا سانس لیا۔

’’شہروز…‘‘ وہ سامان گاڑی میں رکھتا سبیلہ کی آواز پر پلٹا۔ سامنے سبیلہ ملگجے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں بکھری بکھری لگ رہی تھی۔
’’تم جارہے ہو…؟‘‘ وہ یاسیت سے بولی۔ ’’شہروز تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیوں کیا؟‘‘ سبیلہ چیخ پڑی۔
’’سبیلہ مجھے وہ دن‘ وہ وقت یا کوئی لمحہ یاد دلائو جب میں نے تم سے یہ کہا ہو کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں یا محبت کرتا ہوں یا میں نے تم سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ تم بار بار اپنی پسند کا اظہار کرتی تھیں سبیلہ لیکن اگر تمہیں یاد ہو تو ایک بار بھی میں نے ہاں میں جواب نہیں دیا تھا۔‘‘ سبیلہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ وہ جاتے ہوئے اس کے قریب رکا۔
’’ہم صرف دوست اور کزن تھے اور اس سے آگے کچھ بھی نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ رکا نہیں اور سبیلہ وہیں کھڑی اسے حسرت سے جاتا دیکھتی رہی تھی۔

جاتے وقت قندیل تانیہ کے گلے لگ کر بہت روئی۔ تانیہ اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آئی جہاں سوائے جبران اور سبیلہ کے تمام افراد موجود تھے۔ شہروز سامنے صوفے پر خاموش بیٹھا تھا۔ قندیل کو آتے دیکھ کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اچھا اب ہم چلتے ہیں۔‘‘ وہ کسی کی جانب نگاہ ڈالے بغیر بولا۔ یک دم تائی امی تڑپ کر اس کی طرف بڑھیں۔
’’شہروز… میرے بچے ایسے مت جائو‘ ہمیں اتنی بڑی سزا مت دو بیٹا‘ ہم قندیل کو بہو بنانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ یہ سن کر قندیل نے بے ساختہ تائی امی کو دیکھا۔
’’ہاں بیٹا تم تو میرے بازو ہو۔‘‘ پھر یک دم قندیل کی طرف بڑھے۔
’’بیٹی میں تمہارا سب سے بڑا گناہ گار ہوں‘ ہوسکے تو مجھے معاف کردینا۔‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولے۔ آج تایا جان ٹوٹ گئے تھے‘ بیٹے نے آج ان کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ قندیل کے آنسو چھلک پڑے۔ چھوٹے تایا نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی تھی۔ بڑے تایا نے اپنے بازو وا کیے۔
قندیل سے اب مزید برداشت نہ ہوسکا‘ وہ تڑپ کر ان کے سینے سے جالگی۔ کتنی خواہش تھی اسے تایا کے گلے لگنے کی آج چھوٹے تایا نے بھی اسے گلے لگالیا تھا۔
’’جب وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جاتا ہے تب ہمیں اپنی تہی داماں ہونے کا احساس ہوتا ہے اور جب وقت کا پنچھی ہماری مٹھی میں ہوتا ہے تو ہم رعونت سے فرعون بنے رہتے ہیں۔‘‘ شہروز نے سوچا۔
’’چلیں قندیل فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘ شہروز کی آواز سے ڈرائنگ روم میں یک دم سناٹا چھا گیا۔
’’شہروز بیٹا… مجھے موقع دو کہ میں قندیل کا دل اپنی طرف سے صاف کرسکوں۔‘‘ شبانہ پھوپو بھی شرمندہ شرمندہ سی آگے بڑھیں۔
’’ہاں شہروز شبانہ نے جبران کو گھر سے نکال دیا ہے۔‘‘ چھوٹے تایا بولے۔ قندیل حیران رہ گئی۔
’’نہیں پھوپو پلیز یہ مت کریں‘ میری وجہ سے آپ نے…‘‘
’’نہیں میری بچی وہ بہت گناہ گار ہے تو مجھے معاف کردے۔‘‘ وہ قندیل کو لپٹا کر رونے لگی۔
’’چلو قندیل بیٹا…‘‘
’’مما مجھے مت روکیے یہ ٹھیک ہے کہ پھوپو چچا اور ڈیڈی نے قندیل کو قبول کرلیا ہے لیکن آپ صرف مجبوری میں قندیل کو بہو بنانے پر تیار ہیں۔‘‘ شہروز سچائی سے بولا۔ ’’ہمیں تھوڑا وقت دیجیے تاکہ قندیل یہ سب بھول سکے جو سلوک آپ لوگوں نے اس کے ساتھ کیا اور آپ جب قندیل کو پورے خلوص دل سے اپنی بہو مان لیں گے اس دن ہم لوٹ آئیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ قندیل کو لے کر فوراً چلا گیا کہ مبادا اماں کے آنسو پیروں کی زنجیر نہ بن جائے۔

جہاز اپنی منزل کی جانب محو پرواز تھا۔ شہروز اس کے پہلو میں بیٹھا تھا‘ وہ یقین و بے یقینی کی سی کیفیت میں تھی اسے یہ سب خواب و خیال لگ رہا تھا۔
’’قندیل۔‘‘ شہروز نے جھجک کر اسے مخاطب کیا۔ وہ جیسے گہری نیند سے جاگی۔
’’تم… تم نے مجھے معاف کردیا کیا؟‘‘ اس نے آہستگی سے پوچھا۔ قندیل نے کوئی جواب نہ دیا اس کا دل چاہا کہ وہ اسے خوب ستائے گن گن کر بدلے لے لیکن وہ جانتی تھی کہ صرف اس کی عزت اور اس کی انا کی سرخروئی کی خاطر وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ آیا ہے اور وہ پریشان اور پژمردہ ہوگا میں مزید پریشان کروں گی تو اچھا نہیں ہوگا یہ سوچ کر اس نے بدلہ لینے کا ارادہ پھر کبھی کے لیے اٹھا رکھا۔
’’ظاہر ہے… ورنہ میں آپ کے ساتھ کیوں آتی۔‘‘ یہ سن کر شہروز یک دم ہلکا پھلکا ہوگیا۔
’’تو بتائیے مسز قندیل شہروز کہ میں آپ کو کیسا لگتا ہوں۔‘‘ یک دم اس کے لہجے میں شرارت اور آواز میں شوخی امڈ آئی وہ اسے یوں بدلتے دیکھ کر حیران رہ گئی‘ ابھی کچھ دیر پہلے وہ کتنا سنجیدہ اور اداس لگ رہا تھا۔
’’یہ… یہ کیسا سوال ہے؟‘‘ وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اور قندیل سٹپٹائی۔
’’اچھا اب بتائو اب تو میں تمہیں شریک سفر کے طور پر قبول ہوں۔‘‘ وہ جھکتے ہوئے بولا۔ وہ یک دم پیچھے ہوئی۔
’’شہروز… آپ مجھ سے فری ہونے کی کوشش مت کریں ابھی میں نے آپ کو پورا معاف تھوڑی کیا ہے۔‘‘ اس نے اٹک اٹک کر شہروز کی خوش فہمی دور کرنا چاہی۔
’’اوہ تو محترمہ پورا کھاتہ کھولے بیٹھی ہیں‘ میں یہ مانتا ہوں کہ میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کیں‘ تمہیں دکھ دیے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جو تم اپنے شریک سفر میں خوبیاں دیکھنا چاہتی تھی وہ بھی میرے اندر نہیں ہیں لیکن میں کوشش…‘‘
’’نہیں شہروز… آپ کو کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ وہ پہلے والے شہروز نہیں ہیں جن کو میں نے پہلی مرتبہ دیکھا اور سنا تھا۔‘‘ شہروز وہ وقت یاد کرکے نادم سا ہوا۔ ’’جو کچھ بھی ہوا اور جو کچھ آپ نے میرے لیے کیا اس سے تو آپ نے ثابت کردیا کہ جو خوبیاں میں اپنے محافظ اپنے شریک سفر میں دیکھنا چاہتی تھی اس سے کہیں زیادہ خوبیاں آپ کے اندر موجود ہیں‘ بس ان خوبیوں کا ادراک مجھے اور آپ کو ذرا دیر سے ہوا۔‘‘ وہ ہولے سے ہنس دی۔ شہروز اس کے حسین چہرے کو دیکھنے لگا جو شرم و حیا اور معصومیت کے رنگوں سے مزین تھا۔
’’اچھا ویسے ہو تم بڑی چالاک۔‘‘ وہ اپنی جون میں واپس آگیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ قندیل نے آنکھیں پٹپٹائیں۔
’’تم نے مجھے پھنسا جو لیا۔‘‘
’’کیا… کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ میں‘ میں نے پھنسا لیا وہ بھی آپ کو۔‘‘ وہ انگلی اپنی طرف کرکے مارے صدمے کے بہ مشکل بول پائی۔
’’جی ہاں جان شہروز… تمہاری بے نیازی‘ تمہاری شرم و حیا‘ تمہاری نسوانیت کے بھرم نے مجھے اپنا اسیر کرلیا۔‘‘ وہ مخمور لہجے میں بولا۔ یک دم قندیل کے رگ وپے میں طمانیت کی لہر دوڑ گئی۔
’’نانی‘ دادا آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے شہروز کو میرا محافظ‘ میرا شریک سفر بنایا۔‘‘ وہ دل میں بولی اور مطمئن ہوکر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جہاں نئی زندگی بانہیں پھیلائے ان دونوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے منتظر تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close