Aanchal Mar 2019
Trending

تیری زلف کے سر ہونے تک ( قسط ۳۰)

اقراؑؑ صغیر احمد

پہلے شکوہ تھا یہاں رونق بازار نہیں
اب جو بازار کھلے ہیں تو خریدار نہیں
سب کے ہاتھوں میں یہاں زہر کا پیالہ ہے مگر
کوئی سچ بولنے کے واسطے تیار نہیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

لاریب کے منہ سے جہاں آراء کی گمشدگی اور ان کی ذہنی حالت کے ابتر ہونے کا سن کر انشراح بغیر سوچے سمجھے لاریب کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ رات کے گہرے ہوتے سائے اسے خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں لیکن وہ لاریب پر ظاہر نہیں کرتی اور جلد جہاں آراء تک پہنچنا چاہتی ہے۔ لاریب کا مشکوک انداز دیکھ کر انشراح اس کی غیر موجودگی میں نوفل کو میسج بھیجتی ہے اور اپنے بچائو کی کوشش کرتی ہے۔ زرقا بیگم ، عمرانہ کے رویے پر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن وہ شدید غصے کا اظہار کرتی ہیں۔ انہیں زید کا نکاح کسی طور برداشت نہیں ہوتا اور یہی لگتا ہے کہ اس سب میں صوفیہ کا ہاتھ ہے۔ رضوانہ اپنی بہن سے ناراض ہوتی ہیں کہ ان کی بیٹی کو زید سے شادی کے خواب دکھا کر انہوں نے بیٹے کی شادی سودہ سے کردی۔ ایسے میں عمرانہ، سودہ کو جلد طلاق دلوانے اور عروہ سے شادی کا کہہ کر اپنی بہن کو منا لیتی ہیں۔ سودہ یہ باتیں سن کر عجیب کیفیات سے دوچار ہوتی ہے۔ زید‘ شاہ زیب اور جنید سے تمام حقیقت جان لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ دونوں نہ صرف پیارے میاں کی پہلی شادی بلکہ اولاد سے محرومی بھی جان لیتے ہیں۔ ایسے میں وہ پیارے میاں کو دھوکا دینے کے الزام میں پولیس کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، لیکن پیارے میاں خوف زدہ ہوکر تمام باتیں قبول کرلیتا ہے اور اپنی محبت کا اعتراف کرتے ہوئے سودہ کو چھوڑنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ زید کے دل سے انجانا بوجھ ہٹ جاتا ہے لیکن دوسری طرف سودہ کا اجنبی سلوک اور رویہ اسے بے چین کردیتا ہے۔ سامعہ اور اذہان میں لاریب کی لاپروائی پر خو ب جھگڑا ہوتا ہے اوردونوں ایک دوسرے قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ نوفل پر یوسف صاحب کی تمام حقیقت کھل جاتی ہے لیکن وہ اپنے دل میں ان کا وہی مقام محسوس کرتا ہے جو وہ انہیں شروع سے دیتا آیا تھا۔ انشراح پر لاریب کی تمام اصلیت کھل جاتی ہے کہ وہ اسے اغواء کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے یہاں لایا ہے اور نانی کے ذریعے اسے بلیک میل کرنا چاہتا ہے۔یہ صورت حال انشراح کو بوکھلا کر رکھ دیتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

گرتے گرتے بھی اس نے خود کو کسی حد تک سنبھالنے کی کوشش کی تھی مگر احساسات پر پڑنے والی ضربیں تابڑ توڑ تھیں نانی کے بے حس و حرکت وجود نے اس کے حوصلے بالکل ہی پست کردیے تھے۔ اسے لگا اب کچھ نہیں بچا سب ختم ہوگیا وقت‘ دنیا اور وہ خود… ایک لامتناہی سمندر تھا… اندھیرے کا سمندر… جہاں ہر سو سیاہ لہریں تھیں۔ سانپوں کی طرح لہراتی، اژدھوں کی طرح پھنکارتی ہوئی اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ وہ بے دم ہوکر گر ی تھی۔ لاریب نے متحیرانہ انداز میں انشراح کو گرتے ہوئے دیکھا۔ اس کا یوں گرنا اس کے لیے غیر متوقع و ناقابل یقین بات تھی‘ اس نے ہمیشہ انشراح کو بہت مضبوط و نڈر دیکھا تھا، کسی چٹان کی مانند۔
’’سر یہ کیا ہوا، یہ… یہ ایسے کیوں پڑی ہے؟‘‘ مراد ابھی کمرے میں آیا تھا۔ انشراح کو کارپٹ پر گرتے ہوئے دیکھ کر بولا۔
’’کیا کہا تم نے… پڑی ہے؟‘‘ وہ ایک غضب کے عالم میں مڑا اور دوسرے لمحے مراد کا گال اس کے زور دار تھپڑ سے سرخ ہوگیا تھا۔
’’تمہاری جرأت کیسے ہوئی اس طرح بولنے کی ڈیم اٹ؟‘‘ اس کے لہجے سے گویا چنگاریاں اڑ رہی تھیں۔ مراد کانپتا ہوا اس کے قدموں میں گر گیا تھا اور گڑگڑاتا ہوا بولا۔
’’معاف کردیں صاحب… بہت بڑی گستاخی ہوگئی، بہت بڑی غلطی ہوگئی سر۔‘‘
’’غلطی تو مجھ سے ہوئی ہے، میں نے تمہیں تمہاری اوقات سے بڑھ کر سر چڑھایا‘ وگرنہ تمہاری اوقات نہیں ہے کہ مجھ سے سر اٹھا کر بات کرو لیکن… یاد رکھنا میں منہ لگاتا ہوں تو منہ توڑنا بھی جانتا ہوں۔‘‘
’’معاف کردیں صاحب‘ میں کم ذات اپنی اوقات بھول گیا تھا۔‘‘
’’بس… آج سبق مل گیا ہے تجھے، آج کے بعد کبھی نہیں بھولے گا۔‘‘ وہ گردن اکڑا کر تکبرانہ لہجے میں بولا۔
’’بے شک صاحب۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر گھگھیایا۔
’’چل معاف کیا تجھے، یہ لڑکی بازاری ہوتے ہوئے بھی بازاری نہیں‘ اس بڑھیا نے اس کو بہت سینت سینت کر رکھا تھا کسی مرد کی پرچھائیں بھی نہیں پڑنے دی‘ دل تو کرتا ہے اپنی ملکہ بناکر رکھوں اسے…‘‘ وہ کروٹ کے بل زمین پر گری ہوئی تھی۔ مدہوش چہرے پر سنہرے بال بکھرے ہوئے تھے۔ لاریب کی بے باک نگاہیں بڑی بے خوفی سے اس کے مبہوت کردینے والے حسن کو گھور رہی تھیں۔ اس کی وحشی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ دلنشیں دلربا‘ جان من‘ جان بہار‘ جس کے حصول کے لیے کس قدر تڑپا تھا‘ اب وہ اس کی دسترس میں تھی بالکل قریب۔
’’کبھی اس کو خود سے جدا نہ کروں مگر پرابلم یہاں نوفل ہے… وہ زندہ نہیں چھوڑے گا مجھے‘ ہرگز نہیں چھوڑے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نوفل کا سراپا لہرایا اور وہ دانت بھینچ کر بولا۔
’’میرے لیے کیا حکم ہے صاحب؟‘‘ مراد نے گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اس بڑھیا کو یہاں سے اٹھا کر لے جا، کچھ دیر بعد یہ ہوش میں آجائے گی۔‘‘ مراد نے جہاں آرأ کو بیڈ سے اٹھا جو ہنوز اسی حالت میں تھیں۔
’’اور سن جب تک میں نہ بلائوں کسی کو بھی اس طرف آنے کی ضرورت نہیں … خاص خیال رکھنا۔‘‘ اس نے مراد کو تاکید کی۔

سودہ کی جان گویا نکل گئی تھی۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسی بے باک جسارت کرے گا۔ اس کی مضبوط گرفت میں غضب کا اعتماد و اطمینان تھا۔
’’زید بھا…‘‘ جملہ ادھورا رہ اور وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہنے لگا۔
’’شٹ اپ…‘‘ اس بار لہجے میں نرمی کا تاثر تھا۔ وہ ابھی تک اس کے بازوئوں کے حصار میں تھی، کسی نرم و ملائم تر و تازہ پھولوں بھری مہکتی شاخ کی مانند جس کی خوشبو بڑی دلفریب تھی وہ گویا اس کے خمار میں ڈوبتا جارہا تھا۔ بہت عجیب سے احساسات تھے۔
’’پلیز لیو می… بوا آرہی ہوں گی۔‘‘ اس کی مہکتی قربت و مضبوط ہاتھوں کا لمس سودہ کی جان نکالے دے رہا تھا۔ وہ اس کی آہٹ سے بھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی تھی اور اب اس کی اس جسارت نے، استحقاق بھرے نئے انداز نے اس سرد موسم میں بھی پسینے پسینے کردیا تھا۔ دل کی دھڑکن کی صدائیں زید بہ خوبی سن رہا تھا۔
’’بوا آرہی ہیں تو کیا ہوا، میں یہاں اپنی بیوی کے ساتھ ہوں… کسی غیر کے ساتھ نہیں ہوں اٹس اوکے۔‘‘ اس پر عجب سرشاری چھائی ہوئی تھی۔ سو سرگوشی میں گویا ہوا۔
’’کیا ہوگیا ہے آپ کو… مجھے یہ سب پسند نہیں۔‘‘ چند گھنٹے قبل کا عمرانہ اور عروہ کا ہتک آمیز رویہ یاد آیا تو از خود لہجے میں ناگواری در آئی‘ کچھ دیر قبل جو شرم و حیا اور جھجک سے وہ چھوئی موئی بنی اس کے جذبوں کو گرما رہی تھی یک دم ہی اس کا سرد و سپاٹ ناپسندیدگی کا اظہار کرتا لہجہ اس کو چونکا گیا۔
’’پسند نہیں ہے کیا مطلب؟ میں… پسند نہیں ہوں؟‘‘
’’جی…‘‘ بنا سوچے سمجھے وہ کہہ اٹھی۔
زید کو شدید دھچکا لگا‘ چند لمحے وہ یوں ہی کھڑا رہا‘ یہ کیا کہہ دیا تھا اس نے؟ لمحے بھر میں ریزہ ریزہ ہونے لگا۔
’’تمہیں معلوم ہے کیا کہہ رہی ہو تم… تم… تم اس نکاح پر خوش نہیں ہو؟ تم یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تھیں… ملطب مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں… تم خوش نہیں ہو؟‘‘ وہ آہستہ سے اس سے دور ہوا، اس کا چہرہ جو ابھی چودھویں کے چاند کی مانند روشن تھا آن واحد میں گہن زدہ دکھائی دینے لگا۔
’’جی…‘‘ اس کے لب و لہجے میں کوئی بدلائو نہیں آیا، البتہ اس کے بازوئوں سے نکل کر وہ سرعت سے دور ہوئی تھی اور سر سے ڈھلک جانے والی شال کو اس انداز سے سر پر لیا کہ ایک اوٹ سی بن گئی تھی اور یہ اوٹ اسے اپنے اور سودہ کے درمیان پیدا ہونے والی کھائی محسوس ہوئی۔
’’جی… تمہارے اس مختصر ترین لفظ نے میری دنیا تباہ و برباد کردی ہے اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلا کہ تمہاری اس ’جی‘ نے میرے جینے کی راہیں مسدود کرکے رکھ دی ہیں، مجھ سے میری ہر خوشی، ہر سکھ، ہر آسودگی چھین لی ہے۔‘‘ یہ تمام شکوے اور کراہیں اس کے دل میں کہرام برپا کیے ہوئے تھیں اس سے کہنا اہانت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سو دل میں دکھ و اذیت کا طوفان لیے وہ تیز تیز قدموں سے وہاں سے نکل گیا۔ اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا جبکہ اس کے جاتے ہی اندر آنے والے وجود کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھی۔

یوسف اور زرقا دونوں متفکر ہوگئے تھے۔ پھر یکبارگی ان کی نگاہیں نوفل کے چہرے پر ٹھہر گئیں جہاں آگ کا الائو سا بھڑک اٹھا تھا۔ سارا خون سمٹ کر گویا چہرے پر در آیا تھا۔ وہ بڑے غور سے موبائل اسکرین پر موجود میسج کو پڑھ رہا تھا۔ جہاں جلدی جلدی میں یہ االفاط ٹائپ کیے گئے تھے ’’میں انشراح لاریب کے ساتھ نانی سے ملنے جارہی ہوں‘‘ بے حد عجلت میں میسج ٹائپ کیا گیا تھا اور پھر بالی کی کال نے ساری صورت حال واضح کرکے اس کے اندر غم کی جوالا مکھی بھڑکا دی تھی اس کے اندر شرارے بھر دیے تھے۔
’’کس کی کال تھی، کیا ہوا ہے بیٹا؟‘‘ یوسف اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے متفکرانہ انداز میں گویا ہوئے۔
’’کوئی گمبھیر مسئلہ لگتا ہے… کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ بھی قریب چلی آئیں۔ اس کے ہر احساس و جذبات سے واقفیت رکھنے والی زرقا نے اس کے چہرے کے ہر ہر نقش سے کسی انہونی کو محسوس کیا‘ کوئی خوف ناک امر لاحق ہونے کا خدشہ ابھر رہا تھا۔
نوفل کی ذات خود دھماکوں کی زد میں تھی‘ پہلے جہاں آرأ کی گمشدگی پھر انشراح کا بالخصوص اس کے لیے لاریب کے موبائل سے بھیجا گیا یہ میسج ادھورا اور الجھا ہوا تھا۔ بہت عجلت اور شاید لاریب کی غیر موجودگی میں ٹائپ کیا گیا تھا اور پھر بالی کی کال نے تصدیق کی مہر ثبت کردی تھی۔ ان سب باتوں سے قطع نظر اس کو انشراح کی فکر تھی اور اس فکر نے اس کے اندر حشر برپا کر دیا تھا کہ لاریب کی ٹیچر سے جتنا وہ واقف تھا اتنا گھر میں کوئی بھی فرد آگاہ نہ تھا۔
’’مجھے جانا ہوگا… میرا ایک دوست مشکل میں ہے۔‘‘ وہ اضطرابی حالت میں باہر کی جانب لپکا۔
’’جانا کہاں ہے؟ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ یوسف کو صورت حال خاصی سنگین ہونے کا احساس ہوچکا تھا وہ بھی اس کے ساتھ آگے بڑھے۔
’’نہیں… آپ کا جانا مناسب نہ ہوگا۔ آپ ماما کے ساتھ رہیں۔‘‘ وہ بنا رکے گویا ہوا۔
’’معاملہ ہے کیا… کہاں جا رہے ہیںکچھ معلوم بھی تو ہو بیٹا؟‘‘ انہوں نے رک کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکر مندی سے کہا۔
’’میں آپ کو واپسی پہ سب بتادوں گا… آئی پرامس یو۔‘‘ اس نے یوسف صاحب سے مؤدبانہ لہجے میں کہا‘ معاً پیچھے آتی زرقا بولیں۔
’’بیٹا… میرا دل گھبرا رہا ہے نا نجانے کیوں ایسا لگ رہا ہے۔ خدا نخواستہ کچھ انہونی ہونے کو ہے… کوئی دکھ، کوئی صدمہ در آنے کو ہے۔‘‘ زرقا مارے وحشت کے آبدیدہ ہوئیں۔
’’آپ دعا کریں ماما، ایسا کچھ نہ ہو، میرے دوست کو اللہ اپنی خاص امان میں رکھے، اسے کوئی زک نہ پہنچی تو کسی کو کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے ماما کا ہاتھ چومتے ہوئے عجیب لہجے میں کہا۔ یہ ایسا لہجہ تھا جس نے ان کو ہی نہیں… یوسف صاحب کو بھی متحیر کرکے رکھ دیا تھا جبکہ وہ کار میں بیٹھ کر جاچکا تھا وہ لوگ وسوسوں میں گھرے وہیں کھڑے رہے۔ جب سامعہ اور اذہان نے وہاں آکر ان کے پریشان چہروں کا سبب پوچھا اور وجہ جان کر وہ بھی متفکر ہوگئے تھے۔
وہ آندھی طوفان کی مانند گھر سے نکلا تھا‘ اس کی ذات طوفانی بگولوں کی زد میں تھی۔ اس کی نگاہوں میں انشراح کی صورت ٹھہر گئی تھی، وہ سمجھ گیا تھا نانی کا سن کر وہ بنا سوچے سمجھے لاریب کے ساتھ چلی گئی ہے اور پھر یقینا وہاں کوئی خطرہ بھانپ کر اسے مدد کے لیے میسج کیا تھا۔ لاریب کو اس نے کئی مواقع پر خبردار کیا تھا کہ وہ انشراح سے دور رہے، وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں ہے جو اس کا شکار ہوجاتی ہیں اور بظاہر وہ مان بھی گیا تھا لیکن چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں سو موقع ملتے ہی اس نے ہیرا پھیری دکھا دی تھی، پکا کمینہ ثابت ہوا تھا۔
وہ لاریب کے سارے ٹھکانوں سے واقف تھا لیکن اتنا وقت نہیں تھا کہ ایک ایک جگہ کی تلاشی لی جاتی، فون کرنا بھی بے وقوفی تھی کہ وہ پہلے تو کال پک نہ کرتا اور ہوشیار ہوکر کہیں روپوش ہوجاتا… اس نے بہت سوچنے کے بعد مراد کو کال کرنے کا فیصلہ کیا کہ وہ اس کا دست راس تھا مگر… کئی کالز کے بعد بھی مراد نے کال پک نہ کی تھی۔

بوا کو اندر آتے دیکھ کر اس کی پھیکی پڑی رنگت بہتر ہوئی تھی۔
’’ڈر کیوں گئی ہیں سودہ بیٹی؟‘‘ بوا بے حد سنجیدہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’میں سمجھی ممی آگئی ہیں اور…‘‘
’’انہوں نے آپ کی اور زید میاں کی تمام باتیں سن لی ہیں… یہی سمجھ رہی تھیں نہ بیٹی؟‘‘ نحیف و نزار گندمی رنگت اور سفید بالوں والی بوا اس وقت کچھ زیادہ ہی سنجیدہ و رنجیدہ دکھائی دے رہی تھیں۔
’’اب ڈرنے سے کیا ہوگا، آج نہیں تو کل صوفیہ بیٹی کے علاوہ سب کو یہ خبر ہوجائے گی کہ آپ نے کس بے دردی سے زید میاں کے ایثار و محبت کا مذاق اڑایا ہے بغیر کسی لگی لپٹی کے صاف انکار ان کے منہ پر جوتے کی طرح کھینچ مارا ہے نکاح کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی تو ہوئے ہیں۔‘‘
’’بوا پلیز… آپ یہ ٹرالی لے جائیں، میں اپنے روم میں جا رہی ہوں۔‘‘ جذبات میں وہ زید سے بہت کچھ کہہ گئی تھی۔ اس کے ردعمل نے اس کو بھی ذہنی طور پر منتشر کردیا تھا۔ سودہ آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’مدثر میاں آپ کا پوجھیں گے تو کیا کہوں؟‘‘
’’میں ان سے مل کر آگئی ہوں، اگر پوچھیں تو بتادیجیے گا نماز پڑھ رہی ہوں ویسے بھی وہ جلدی جائیں گے بتا رہے تھے۔‘‘
’’خاک مل کر آگئی ہیں، پوچھیں گے ضرور پہلے ہی وہ آپ سے کیا کم محبت کرتے تھے… بہو بنانے کے بعد تو ان کی محبت اور شفقت کی کوئی حد ہی نہ رہی… اب ان کو کیا خبر کہ کس طرح آپ اپنے پائوں پر کلہاڑی مار بیٹھی ہیں۔‘‘ بوا کا صدمہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ وہ ان کو بڑبڑاتے ہوئے چھوڑ کر اپنے کمرے میں آگئی‘ بیڈ پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
اس کی زندگی میں پریشانیاں پیدا کرنے میں عمرانہ ہمیشہ سے پیش پیش رہی تھیں‘ وہ ازل سے اس کی دشمن تھیں اور نصیب کی بے رخی نے بڑی سنگ دلی سے اس کے وجود کو ان کے سامنے کسی سنگ ریزے کی مانند ڈال دیا تھا۔ جس کو وہ مرضی کے مطابق قدموں تلے روند سکتی تھیں یا ٹھوکروں میں رول سکتی تھیں۔ نامعلوم قسمت اس پر اس قدر ستم در ستم کیوں کررہی تھی کہ ہاتھ آیا سونا بھی مٹی بن جایا کرتا تھا۔ جس طرح زید سے نکاح مٹی ثابت ہوا تھا۔
’’اس طرح سر پکڑنے سے کچھ نہیں ہوگا بیٹی، تب ہی تو سیانے کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو، منہ سے نکلی بات، کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔‘‘ بوا کو اس کی کچھ زیادہ ہی فکر تھی جو چند لمحوں بعد کمرے میں چلی آئی تھی۔
’’ارے آپ وہاں کافی سرو کرکے نہیں آئیں؟‘‘
’’صوفیہ بیٹی کو ٹرالی تھما آئی ہوں، مدثر میاں پوچھ رہے تھے تمہارے متعلق۔‘‘ بوا کی عادت تھی خفگی کے اظہار کے لیے آپ جناب سے گفتگو کیا کرتی تھیں اور غصہ کافور ہوتے ہی اپنی پرانی روش پر چلی آتی تھیں اور یہ رویہ ان کا صرف سودہ کے ساتھ تھا کہ سودہ سے بیک وقت وہ بیٹی اور سہیلی کے پیار بھرے رشتے میں جکڑی ہوئی خود کو محسوس کرتی تھیں۔
’’پھر آپ نے کیا کہا ماموں جان سے؟‘‘ وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔
’’کیا کہتی… وہ ہی جھوٹ بولا جو تم نے کہا تھا معلوم ہے مجھے، نماز تم اذان ہوتے ہی پڑھ لیتی ہو… سمجھ گئی تھی مدثر میاں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا تم میں اور ہوتا بھی کیسے، اتنی محبت وپیار کرنے والے سسر کسی کسی لڑکی کو ملتے ہیں۔ اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہو بچی۔‘‘
’’خوش قسمت ہونہہ… یہ خوش قسمتی ہے تو بدقسمتی کیا ہوگی؟‘‘
’’اول فول مت بولو، میں اس لیے یہاں آئی ہوں کہ ابھی معاملہ تازہ ہے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہے اور مجھے یقین ہے زید میاں بھی خود سے کسی کو ایک لفظ نہیں بتانے والے۔ اس معاملے کو ابھی اور فوری سلجھانا بہتر ہے۔‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھ کر گویا ہوئیں۔
’’نہیں بوا… اس قصہ کو ابھی ختم ہوجانا چاہیے۔‘‘ وہ حتمی لہجے میں بولی۔
’’پگلی… ہوش کے ناخن لو کیوں خود کی رسوائی چاہتی ہو۔ لوگ طعنے دے دے کر ادھ موا کردیں گے کہ ایک بارات پہلے دہلیز تک نہ آئی اور خاکم بدہن، نکاح بھی سلامت نہ رہ سکا…‘‘
’’بوا آپ کے اور میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے، عمرانہ آنٹی اور عروہ یہ رشتہ سلامت نہیں رہنے دیں گی۔‘‘ وہ ساری بات ان کو بتاتے ہوئے بولی۔
’’اوہ اچھا… اصل معاملہ یہ ہے، یہ ساری آگ عمرانہ بہو اور اس کٹنی عروہ نے بھڑکائی ہوئی ہے اور تم بھڑک اٹھیں؟ حد کرتی ہو سب نے سمجھایا تھا ان خالہ بھانجی کی باتوں میں بالکل نہ آنا پھر بھی تم آگئیں۔‘‘
’’یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سب نے سوچ لیا ہے‘ عمرانہ ممانی کوئی غیر نہیں ہیں سگی ماں ہیں اور ان کی عادت ہے اپنی ضد منوانے کی۔‘‘
’’بس… وہ نام کی ماں ہے ماں جیسا دل کہاں ہے اس کے پاس، اس کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں تمہیں‘ جس عورت نے اپنے گھر کو آگ لگادی ہو وہ بیٹے کے گھر کو پھوکنے میں کیا قباحت دکھائے گی، اب جو ہوا سو ہوا تم منہ بند رکھنا میں ابھی جاکر زید میاں کو ان کی اماں کی باتیں بتاتی ہوں، وہ تمہاری طرف سے بدگمان ہوکر گئے ہیں۔‘‘
’’نہیں بوا… آپ کہیں نہیں جائیں گی اس نکاح کو ختم ہونا ہی ہے۔‘‘ اس نے بوا کے ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’دیکھو میں سالوں سے اس گھر کا نمک کھا رہی ہوں مجھ سے تم کسی بھی قسم کی نمک حرامی کی توقع مت رکھنا، مجھے اگر اس رشتے کی سلامتی کی خاطر کبھی جان بھی دینی پڑی تو ہنستے ہنستے دے دوں گی۔‘‘

’’چچ چچ چچ… یہ عزت ہے تیری صاحب کی نظروں میں؟ میں تو سمجھ رہا تھا تو صاحب کی جند جان ہے‘ وہ تجھ پر واری واری جاتے ہیں مگر انہوں نے ایک لڑکی کی خاطر تجھے تھپڑ مار دیا۔‘‘ گیسٹ ہائوس کے چوکیدار نے گلاس وال سے وہ سارا منظر دیکھ لیا تھا اور چپکے سے وہاں سے پلٹ آیا تھا۔ اب مراد کو سامنے دیکھ کر ہمدردی سے گویا ہوا۔
’’جند جان ہونہہ تھو ہے یار… تھپڑ کھانے سے پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ صاحب مجھے جگری یار سمجھتے ہیں‘ بہت جگہ ہے ان کے دل میں میرے لیے مگر… یہ خیال صرف خیال ہی نکلا۔‘‘ مراد نے بھی دل کی بھڑاس نکال کر کہا۔
’’سمجھ آگئی ہے مجھے، یہ سارے بڑے لوگ دل کے بہت چھوٹے ہوتے ہیں‘ مطلب کے یار ہوتے ہیں اور مطلب نکلتے ہی گدھے کی طرح لات مار دیتے ہیں۔‘‘ اسی دم اس کے موبائل کی ٹیون بج اٹھی تھی اس نے غصے میں نہیں دیکھا۔
’’فون بج رہا ہے تیرا۔‘‘ کئی بار بیل بجنے پر چوکیدار نے اس کی جیب کی طرف اشارہ کیا جہاں سے آواز آرہی تھی۔
’’ابے بجنے دے اس وقت دماغ گھوم رہا ہے میرا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے کوئی ضروری فون کررہا ہو، جو بار بار فون آرہا ہے۔‘‘
’’ابے کون ہے جو ضروری فون کرے گا ضروری فون کرنے والا اندر ہے۔‘‘ اس کا موڈ بری طرح سے خراب تھا۔ آج سے قبل لاریب نے اس سے ملازم جیسا سلوک کبھی نہ کیا تھا، مہنگے مہنگے ہوٹلوں میں وہ اس کے روبرو بیٹھتا تھا‘ ساتھ کھاتا پیتا تھا۔
’’صاحب کا غصہ فون پر کیوں نکال رہا ہے پہلے دیکھ تو لے کس کا فون ہے؟‘‘ متواتر بجتے فون نے چوکیدار کو کہنے پر مجبور کردیا۔
’’ارے فون کی ایسی کی تیسی، تجھے فون کا خیال ہے میرا خیال نہیں‘ کیسی ذلالت ہوئی ہے میرے ساتھ، ایک منٹ میں، میں آسمان سے زمین پر آگیا ہوں۔‘‘ مردا وہاں رکھے پلنگ پر بد دل ہوکر لیٹ گیا۔
’’میرے بھائی… وقت اور آنکھوں کا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ان کو بدلنے میں لمحہ نہیں لگتا‘ طوطے کو آنکھیں بدلتے دیکھا ہے کبھی…‘‘
’’آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘ وہ کروٹ کے بل لیٹا ہوا اس لہجے میں بولا کہ چوکیدار بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔
’’بھائی میرے ان بڑے لوگوں کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی، ان کے کھانوں کے ساتھ مار بھی کھانی پڑتی ہے اور گالیاں بھی، پھر سب کچھ کرکے بھی یہ لوگ بھول کر ایسے بن جاتے ہیں جیسے کچھ کیا ہی نہ ہو۔‘‘
’’ہاں… ٹھیک کہہ رہا ہے تو جب کمرے سے باہر آئے گا تو اسے لگے گا ہی نہیں کہ اس نے کس طرح میرے دل پر چھریاں چلائی ہیں۔‘‘
’’بھول جا جو ہوا، تیرے غم کرنے سے میرے افسوس کرنی سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے تو بتا کھانا کھائے گا یا تیری بھابی سے چائے بنوا کر لائوں؟‘‘ اس دوران موبائل پر مسلسل بیل ہوتی رہی‘ دوسری جانب کوئی ضرورت مند تھا یا مستقل مزاج جس نے ہمت نہ ہاری تھی۔
’’چائے بنوالے یار، سر درد سے پھٹا جا رہا ہے تو چائے لے کر آ میں اتنے میں اس بڑھیا کو دیکھ کر آتا ہوں، شاید وہ ہوش میں آگئی ہو۔‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے جیب سے موبائل نکالا اور دوسرے لمحے اچھل پڑا۔
’’مر گیا لگتا ہے آج میرے ستارے گردش میں ہیں۔‘‘

شام کے سرمئی اندھیروں سے ڈرتا ہوں
مان لو تم سے بہت پیار کرتا ہوں
آجاتا ہے جب تیری یادوں کا طوفان
روز سنورتا ہوں اور روز بکھرتا ہوں
چوکھٹ شام پر اس کی یادوں کے دیپ جلا کر
پیاسی نظروں سے تیرا انتظار کرتا ہوں
یوں دو مجھ کو جدائی کے صدمے
سہنے کی ہمت نہیں اب بکھرتا ہوں

بے دلی سے وہ جوتے موزے اتار کر بیڈ پر دراز ہوگیا تھا، کمرے میں ہلکی روشنی وہاں پھیلے اندھیرے کو اوجھل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ دبیز میرون کلر کے ریشمی پردوں اور میرون کلر کے خوب صورت وال ٹو وال قالین و میچنگ فرنیچر کے باعث وہاں اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ دل میں پھیلے اندھیرے و ویرانی کی طرح وہ تکیوں میں منہ دے کر لیٹ گیا تھا۔ اس کی خزاں رسیدہ حیات میں وہ کسی بہار کی مانند آئی تھی اور اس کے آتے ہی صحرا کا منظر پیش کرتی زندگی گلزار بن گئی تھی۔ دل کا آنگن پھولوں سے مہک اٹھا تھا، کہکشائوں کی مانند چمکنے لگا تھا لیکن اس کو محبت راس نہ آئی تھی‘ ظالم نے اس ادا سے دل توڑا کہ آوازا تک نہ ہوئی تھی۔ معاً اس کو اپنے قریب کسی موجودگی کا احساس ہوا۔ ابھی وہ مڑ کر دیکھنے ہی والا تھا کہ وہ نرم و گرم ہاتھ اس کی پشت پر ٹھہر گئے تھے، بڑی حدت و استحقاق تھا ان ہاتھوں میں کروٹ بدلتے بدلتے وہ رک گیا۔ اول تو یقین نہیں آیا زندگی جاتے جاتے پلٹ کر آسکتی ہے؟ کیا اس کے جذبے اتنی جلدی رنگ لے آئے تھے؟
’’محبت ہوس و جبر سے پاک ہو تو اپنا آپ یونہی منوا لیتی ہے۔‘‘ اس کے اندر سے صدا بلند ہوئی اور وہ مسکراتا ہوا اٹھتے ہوئے کہنے لگا۔
’’صد شکر تمہیں اپنی غلطی کا احساس تو ہوا کہ…‘‘ اس سے آگے زبان گنگ ہوگئی، اندھیرے میں بھی وہ اس کے چہرے کو پہچان گیا تھا۔ سرخ لپ اسٹک لگے ہونٹوں پر بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’تم…! بغیر دستک کے کیوں آئی ہو میرے روم میں؟‘‘
’’میری دستک کا آپ پر کہاں اثر ہوتا ہے‘ کب سے دروازہ ناک کررہی ہوں۔ آپ نے کوئی جواب ہی نہ دیا‘ میں نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ شاید آپ کو سودہ کا انتظار تھا۔‘‘ اس کی نگاہیں زید کے وجیہہ چہرے پر تھیں، جہاں سرد مہری تھی۔
’’مجھے سودہ سمجھتے ہوئے آپ کہہ رہے تھے تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ایسی کیا غلطی کردی ہے اس نے؟‘‘ وہ الفاظ کو جما جما کر کہہ رہی تھی۔
’’یہ سوال کرنے والی تم کون ہوتی ہو‘ لمٹ میں رہو اپنی۔‘‘
’’میں لمٹ میں ہوں… لمٹ سے باہر آپ اور وہ ہوگئی ہے آپ کی ان حرکتوں کا آنٹی کو معلوم ہے؟ وہ ابھی تک سودہ چڑیل کو اپنی بہو نہیں مانتی ہیں اور نہ کبھی مانیں گی، وہ بہو بنانے کے صرف میرے خواب دیکھتی آئی ہیں اور میں ہی ان کی بہو بنوں گی۔‘‘ وہ اس کے سامنے تن کر کھڑی پٹر پٹر بول رہی تھی۔
’’خواب میں ہی بہو بننے کے قابل ہو تم۔‘‘ وہ کہتا ہوا آگے بڑھا، معاً اس نے جھپٹ کر زید کا بازو پکڑتے ہذیانی لہجے میں چیخ کر کہا۔
’’کیا کمی ہے مجھ میں؟ کیا خوب صورت حسین، جوان نہیں ہوں میں…‘‘
’’جوانی گدھی پر بھی آتی ہے تو وہ خوب صورت و حسین لگنے لگتی ہے‘ بات ان بے مول چیزوں کی نہیں‘ اصل خوب صورتی و حسن سیرت میں ہوتا ہے۔ عورت وہ ہی مکمل ہوتی ہے جس کو دیکھ کر آنکھیں بے باکی سے اٹھنے کے بجائے احترام سے جھک جائیں‘ تقدس سے دل مہک اٹھے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر نرمی سے گویا ہوا۔
’’آپ کیا جتانا چاہ رہے ہیں مجھے کہ آپ کی وہ بڑی نیک‘ پاک باز ہے؟ اگر اس کو دیکھ کر آنکھیں جھک جاتی ہیں تو اس نے آپ سے آنکھیں کس طرح چار کی ہیں بنا نین لڑائے تو یہاں تک نوبت نہیں پہنچ سکتی تھی۔‘‘
’’اوہ شٹ اپ… جو سمجھنا نہیں چاہتے ان کو دنیا کی کوئی طاقت سمجھا نہیں سکتی۔ تم بھی مما کے خوابوں کو سچ سمجھ بیٹھی ہو یہ بھول کر کہ خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے۔‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔
’’یہ تمیں وقت بتائے گا مسٹر… کس کے خواب الٹے ہوتے ہیں اور کس کے سچے ثابت ہوتے ہیں۔‘‘ وہ وہیں کھڑے کھڑے بڑبڑائی تھی۔

’’یہ ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے بھابی‘ ایک کے بعد ایک پریشانی نے گھیرا ہوا ہے پہلے تنویر بھائی کی فیملی اور نوفل میں تلخ کلامی ہوئی پھر یوسف بھائی کی بیٹی کی موجودگی کا علم ہونا، حمرہ بھابی کا ناراض ہوکر گھر سے جانا، لاریب کی بے راہ روی اور اب یہ نوفل کا اس طرح کسی دوست کی مدد کو جانا مجھے وحشت ہورہی ہے۔‘‘ سامعہ سینے پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوئیں۔
’’درست کہہ رہی ہو سامعہ‘ ہمارے گھر کو سچ مچ کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ مسئلے ہیں کہ سلجھنے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔‘‘
’’لاریب کی کس بے راہ روی کی بات کررہی ہیں آپ‘ کوئی شکایت ملی ہے کسی طرف سے آپ کو؟‘‘ یوسف صاحب نے دریافت کیا۔
’’شکایت تو نہیں ملی بھائی صاحب‘ لیکن دیکھیں وہ سمجھ رہا تھا ہم مری سے چند دنوں میں واپس آئیں گے سو وہ بھابی جان سے جھوٹ کہہ کر چلا گیا، میں نے کال کی تو بہت دیر بعد ریسیو کی اور مجھ سے کہتا ہے کسی دوست کی عیادت کو گیا ہے، کبھی کہتا ہے شکار پر گیا ہے کبھی کچھ کہتا ہے کبھی کچھ‘ صحیح معنوں میں، میں اس کی حرکتوں سے عاجز آگئی ہوں۔ ڈر لگتا ہے وہ ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ کھڑا نہ کردے۔‘‘
’’یہی حال اور انجام ہوتا ہے تم جیسی مائوں کا جو بیٹوں کی بدچلنی و بے راہ روی پر پہلے پردے ڈالتی ہیں پھر روتی ہیں۔‘‘ اذہان بھرے بادلوں کی مانند گرجے۔
’’آپ نے کون سا ٹائم دیا تھا لاریب کو آپ کو بزنس سے ہی فرصت نہیں تھی جو اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھتے…‘‘
’’باپ کا کام ہوتا ہے کما کر لانا، بچے پالنا اور پرورش کرنا ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے جو تم سے نہ اٹھائی گئی اور اٹھائی بھی کیسے جاتی تمہیں اپنی ایکٹیوٹیز سے فرصت کہاں تھی…‘‘
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ یوسف صاحب کو مداخلت کرنی پڑی۔
’’دیکھ لیں بھائی صاحب‘ یہ عورت اسی طرح زبان درازی کرتی ہے‘ اپنی غلطی کو غلطی مانتی ہی نہیں۔‘‘ ان کا لہجہ سخت برہم ہوا۔
’’آپ خود بتائیں بھابی‘ یہ میری غلطی ہے؟‘‘
’’یہ آپس میں الجھنے کا ٹائم نہیں ہے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے کبھی بھی غلطیاں سدھرتی نہیں‘ بہتر یہی ہے کہ سب بھول جائو۔‘‘
’’زرقا کی بات درست ہے ان فضولیات میں مت پڑیں، گزرے ہوئے کل کا ماتم کرنے کی بجائے حال اور مستقبل کا سوچیں۔‘‘ یوسف صاحب اور زرقا بیگم کا دل و دماغ نوفل میں الجھا ہوا تھا۔ ایسے میں ان کی یہ چپقلش گراں گزر رہی تھی۔ جس کا اندازہ ان کو بھی ہوگیا تھا۔
’’سوری بھائی صاحب‘ ہم بھول ہی گئے تھے کہ آپ نوفل کی طرف سے پریشان ہیں اور ہم اپنے جھگڑے لے کر بیٹھ گئے۔‘‘
’’نوفل کی طرف سے میں بہت زیادہ فکر مند ہوگیا ہوں، وہ کوئی بات مجھ سے چھپاتا نہیں ہے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ کچھ چھپا گیا ہے اور اس پوشیدگی نے میرے اندر کچھ ایسی سراسیمگی پیدا کردی ہے کہ مجھے کسی پل چین نہیںمل رہا۔‘‘ یوسف صاحب متفکر تھے۔
’’آپ بابا جان سے رابطہ کرکے دعا کے لیے کہیں بزرگوں کی دعا ہر بلا مشکل کو ٹال دیتی ہے۔‘‘ زرقا بیگم نے امید کی کرن دکھائی تھی۔

مراد جہاں آرأ کو لے جاچکا تھا کمرے میں ان دونوں کے علاوہ اب کوئی نہ تھا لاریب خاصی دیر تک اس کے چہرے کو تکتا رہا۔ اس کا حسین چہرہ، دلکش نقوش اور مدہوشی اس کے جذبات کو خوب بھڑکا رہے تھے۔ نظروں کو اس کے دیدار سے خوب سیر کرنے کے بعد وہ اس خیال سے آگے بڑھا کہ انشراح کو اٹھا کر بیڈ پر لیٹا دے پھر یہ سوچ کر رک گیا کہیں وہ ہوش میں آنے کے بعد ہنگامہ نہ برپا کردے۔ وہ بے حد تیز و طرار لڑکی تھی جس کو قابو کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لاریب اس سے خائف بھی تھا اور سوچ و بچار کے بعد اس نے یہ حل نکالا کہ اس کے ہاتھ باندھنے کے بعد اس کے لبوں کو ٹیپ لگادے‘ اسی دوران میں وہ پلٹا اور بے دھیانی میں میز سے ٹکرا گیا‘ میز پر رکھا کانچ کا بائول گر کر ٹوٹا اور کانچ کے ٹکڑوں سے بچ کر چلنے کے باوجود ایک ٹکرا اس کی ایڑی میں گہرائی تک چبھ گیا تھا۔
’’اف…‘‘ درد کی لہر جسم و جان میں اٹھی‘ خون تیزی سے بہنے لگا تھا کوئی اور موقع ہوتا تو وہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتا، ملازموں کی جان پر بن آتی پر اس وقت ایسا کچھ نہیں کیا‘ جانتا تھا اس نے خود ملازموں کو یہاں سے دور جانے کو کہہ رکھا ہے اور اس کے حکم ملنے سے قبل یہاں کوئی آنے والا نہ تھا سو اپنی مدد آپ کے تحت وہ لنگڑاتا ہوا بہ مشکل اٹیچڈ باتھ کی طرف بڑھا جہاں فرسٹ ایڈ کا سامان الماری میں رکھا تھا، بڑی دقت کے ساتھ کراہتے ہوئے کانچ نکال کر خود اس نے ڈریسنگ کی‘ اس معمولی سی تکلیف نے اس نازک مزاج شخص کو دن میں تارے دکھا دیے تھے۔
باتھ روم سے نکلنے کے بعد پین کلر کھا کر آہستگی سے صوفے پر دراز ہوکر درد کے رفع ہوجانے کا انتظار کرنے لگا۔ خود پر شدید غصہ آرہا تھا کہ جتنی جلدی انشراح کا قرب حاصل کرنے کی تھی اپنے احمقانہ پن سے وہ اپنے راستے میں خود ہی روڑے اٹکا رہا تھا۔ دوسری طرف مراد نے ڈرتے ہوئے نوفل کی کال ریسیو کی اسے ڈر تھا کہ اتنی دیر بعد کال سننے پر وہ آگ بگولہ ہوگا جبکہ اس نے صرف ان کی موجودگی اور ٹھکانے کا پوچھا۔
’’وہ ہی ہوا جس کا خدشہ تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ مراد کا چہرہ خوف و دہشت سے ذرد ہوا‘ موبائل اس کے بے دم ہوتے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ اگر چوکیدار لپک کر پکڑ نہ لیتا تو وہ گر کر زمین پر بکھر جاتا۔
’’کیوں ڈر رہا ہے تو اتنا… یہ ان کا معاملہ ہے تیرا کیا لینا دینا؟‘‘
’’میں نے پہلے ہی کہا تھا صاحب سے اس لڑکی کا نوفل صاحب سے کوئی نہ کوئی چکر ضرور ہے‘ وہ ادھر ہی آرہے ہیں‘ مجھے فون کرنے کا مطلب ہے کہ وہ معلوم کرچکے ہیں کہ اس لڑکی کے اغوأ میں لاریب صاحب کے ساتھ میں بھی شامل ہوں، اب میں خود کو کس طرح ان کے عتاب سے بچا پائوں گا؟‘‘ اس کی حالت خارش زدہ کتے کی مانند ہوگئی تھی۔
’’نوفل صاحب کو یہ سب کس طرح معلوم ہوا کیا تم نے کوئی سراغ چھوڑا تھا؟‘‘ چوکیدار بھی حالات کی سنگینی جان کر خاصا خوف زدہ ہوگیا تھا کہ نوفل کے مزاج سے وہ بھی بخوبی واقف تھا۔ کئی مرتبہ وہ یہاں لاریب کی عیاشیوں پر سخت برہم ہوکر گیا تھا اور ان کو بھی سخت سست کہہ کر گیا تھا کہ اس بیہودگی میں اس کا ساتھ ہرگز نہ دیا کریں اور رنگے ہاتھوں ان کی گرفتاری ہونے والی تھی۔ یہ خیال اسے بھی وحشت زدہ کررہا تھا۔
’’میں تو یار بھول ہی گیا تھا نوفل صاحب الگ ہی ٹائپ کے بندے ہیں‘ وہ ایسی گھنائونی حرکتوں کو پسند نہیں کرتے۔‘‘
’’اب آئی نہ تجھے عقل‘ معلوم ہوا کتنا بڑا خطرہ ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘
’’یہ بتائو کرنا کیا ہے نہ بھاگ سکتے ہیں نہ جان بچا سکتے ہیں عجیب جنجال میں پھنس گئے ہیں۔‘‘
’’میری بھی عقل خبت ہوگئی تھی‘ مجھ پر مالک کی وفاداری کا ایسا بھوت سوار ہوا کہ میں نے اغوأ میں اس کا ساتھ دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ چپکے سے نوفل صاحب کو بتادوں لاریب صاحب کے ارادے کا…‘‘
’’اس وقت سوچنا تھا ناں تجھے، پھر سب ٹھیک ٹھاک ہونا تھا۔‘‘
’’ہوں… ہوں ایک ترکیب ہے جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی۔‘‘ مراد نے کہتے ہوئے موبائل پر کسی کو کال ملائی تھی۔

ادھر انشراح کو ہوش آیا تو وہ چکراتے سر کے ساتھ کھڑی ہوئی‘ اس کی پہلی نگاہ بیڈ پر گئی جہاں اس نے جہاں آرأ کو لیٹے دیکھا تھا اور یہ دیکھ کر وہ صدمے سے ساکت رہ گئی کہ بیڈ خالی تھا اور نیچے کارپٹ پر ٹوٹا ہوا بائول اور بائول سے سجاوٹ کی کئی چیزیں بکھری ہوئی تھیں، پھر اس کی نگاہ صوفے پر گئی جہاں آہٹ پاکر لاریب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور یک ٹک اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
’’نانی کہاں ہیں… کہاں بھیجا ہے تم نے انہیں؟‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’جہاں بھی ہیں ابھی تک خیریت سے ہیں اور ان کی خیریت میری خواہش سے مشروط ہے… تم مجھے خوش کردو، میں ان کو چھوڑ دوں گا۔‘‘ وہ اس کے قریب آکر ذومعنی لہجے میں گویا ہوا۔ انشراح نے غضب ناک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا جواباً اس نے آگے بڑھ کر اس کا بازو دبوچا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا غرایا۔
’’گیم اوور… چوہے بلی والا کھیل اب ختم ہوا چاہتا ہے تم مجھ سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتیں اب وہ ہی ہوگا جو میں چاہوں گا… انڈر اسٹینڈ؟‘‘

سودہ نے اس کو اس حد تک اپ سیٹ کردیا تھا کہ وہ سیدھا اپنے کمرے میں آکر بے سدھ ہوگیا تھا۔ ممی کے کمرے میں جانے کی ہمت ہوئی نہ مائدہ سے ملاقات ہوئی۔ عروہ کی آمد کو سودہ کی آہٹ سمجھا تھا کہ یقینا اس کی محبت کی تڑپ اس کو کھینچ لائی ہے مگر وہاں عروہ کو دیکھ کر حسب عادت اس کا موڈ آف ہوگیا تھا وہ مما کے پاس چلا آیا جہاں وہ اور رضوانہ خالہ مما سے کھسر پھسر میں مصروف تھیں۔ اس کو دیکھ کر ان کا رویہ یکسر بدل گیا‘ کہاں آج سے قبل اس سے بات کرتے ہوئے ان کے منہ میں شہد گھلتا تھا اور آج یہ عالم تھا کہ اس کے سلام کا جواب دینا بھی گوارانہ تھا، الٹا منہ بناکر وہ اسے خاموشی سے نکاح کرنے کا طعنہ دے رہی تھیں۔
’’مما نے بتایا تو ہوگا آپ کو یہ سب آئوٹ آف پلان تھا اور آپ کو انوائٹ کیا ہوا تھا۔‘‘
’’ہاں ہاں میں نے بجیا کو ساری کہانی بتائی ہے بس بجیا کو یہ صدمہ ہورہا ہے کہ اکلوتے بھانجے کے نکاح سے محروم رہ گئیں۔‘‘ عمرانہ کچھ مسکرا کر کچھ بوکھلا کر تیزی سے گردن ہلاتی ہوئی گویا ہوئیں۔ مبادا رضوانہ ان کے درمیان ہونے والی لڑائی کا پول نہ کھول دیں کیونکہ وہ نکاح ہونے پر بھری بیٹھی تھیں اور ان کو اس وقت ان کی ضرورت تھی سو بدگمانی معمولی سی بھی اچھی نہ تھی۔
’’ارے جب نکاح اس لڑکی سے ہی کرنا تھا تو مہمانوں کے سامنے اعلان کرکے بعد میں دھوم دھام سے کرتے اس طرح نکاح ہوتے ہیں کیا؟ پھر کسی کو بھی تمہارے سسرال میں خیال نہ آیا کہ زید کی اکلوتی خالہ موجود نہیں ہے۔ کسی ایک کو بھی خیال نہ رہا۔‘‘ رضوانہ بیگم نے رونا شروع کردیا اور زید ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ وہ ان ماں بیٹی کی مکاری سے آگاہ تھا۔ خوب جانتا تھا یہ آنسو محض مگرمچھ کے آنسو ہیں، جب کہ عمرانہ نے بہن کو گلے سے لگا لیا۔
’’معاف کردیں بجیا‘ زید کا نکاح کیا تھا ایک طوفان تھا۔‘‘
’’شکوہ مجھے تم سے نہیں ہے اس گھر کے مکینوں سے ہے جو سامنے کچھ ہیں اور پیچھے کچھ ہیں‘ منافق و دوغلے لوگ تم سے میں کوئی شکایت کروں گی بھی کیوں کہ میں جانتی ہوں، سودہ کو تم نے کبھی بھی اس نظر سے نہیں دیکھا اور دیکھتی بھی کیوں… صوفیہ نے اس گھر پر قبضہ کیا اور سودہ نے ان بچوں کے باپ پھر مدثر نے ان بچوں کا پیار اس لڑکی کو دیا۔‘‘
’’قصور وار ہم خود ہیں ڈیڈی نے بہت کوشش کی تھی ہم سے مراسم بنانے کی اس وقت ہم میں شعور نہ تھا فیصلہ کرنے کا۔‘‘ زید بھی ان کی جلی کٹی سننے کے موڈ میں قطعی نہ تھا۔
’’اب باشعور ہوگئے ہیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے آپ نے مراسم بنائے رکھنے کا۔‘‘ وہ طنز سے باز نہ آئیں۔
’’ڈیڈی سے مراسم بہت پہلے سے بن چکے تھے البتہ نکاح مما کی مرضی سے ہوا ہے یہاں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا معاً وہاں آتی عروہ نے جل کر کہا۔
’’جی ہاں۔ آپ اللہ میاں کی گائے جو ہیں۔‘‘
’’جی نہیں۔ اللہ کا بندہ ہوں، جملہ درست کرو اپنا۔‘‘
’’جملہ… ہونہہ، دماغ درست کروں گی تمہارا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ہوئی بڑبڑائی۔
’’بہو بیگم… کھانا اوپر لگائوں یا نیچے کھائیں گی؟‘‘ بوا کے آنے سے ان کی باتوں کا موضوع بدل گیا تھا۔
’’اوپر ہی ڈائیننگ روم میں لگائو نیچے کوئی نہیں آرہا اور سودہ کہاں ہے اسے معلوم نہیں ہے بجیا کے آنے کا جاکر بھیجو اس کو سلام کرے وہ یہاں آکر، حد ہوتی ہے بدتمیزی کی۔‘‘
’’سودہ بیٹی کے سر میں شدید درد ہورہا ہے‘ وہ درد کی گولی کھا کر سوئی ہیں… ان کو کیسے جگائوں درد زیادہ ہوجائے گا۔‘‘
’’واہ بھئی… کیا ٹھاٹ ہیں نواب زادی تو پہلے ہی تھیں اب تو خود کو ملکہ عالیہ سمجھنے لگی ہوگی اور تم تو ویسے بھی اس کی سائیڈ لینے کی عادی ہو اگر وہ جاگ بھی رہی ہوگی تو یہی جھوٹ بولو گی کہ وہ سو رہی ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں بہو بیگم‘ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں، آپ جاکر دیکھ لیں۔‘‘
’’بس بس میں سب سمجھتی ہوں، تمہاری ساری چلتر بازیاں ہر وقت اس لڑکی کی جی حضوری میں لگی رہتی ہو۔‘‘ عمرانہ بوا کو بخشنے والی نہ تھیں۔
’’بوا آپ کھانا اوپر ہی لگادیں ٹائم ہوگیا ہے کھانے کا۔‘‘ زید نے بوا کے چہرے پر چھائی بے چارگی و بے بسی محسوس کرکے ان کی گلو خلاصی کروائی اور وہ تیزی سے وہاں سے گردن بلاتی ہوئی چلی گئیں۔
’’مما پلیز… بوا کی عمر کا لحاظ کیا کریں، وہ بزرگ ہوکر بھی کام کرتی ہیں۔‘‘
’’بزرگ سمجھ کر ہی لحاظ کرتی ہوں جو وہ اس گھر میں دکھائی دے رہی ہیں وگرنہ چند ایک کاموں کے علاوہ آرام ہی کرتی ہیں۔‘‘
’’میرے خیال میں ان کو کسی کام کو ہاتھ لگانا ہی نہیں چاہیے کہ یہ عمر آرام کرنے کی ہے میں کچھ اور بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
’’کس قدر رحم دل ہو تم سب پر ترس کھاتے ہو سوائے مجھ بدنصیب کے۔‘‘
’’عروہ… مائدہ اور عفرا کو بھی بلائیں تاکہ کھانا سب ساتھ کھائیں۔‘‘ عمرانہ نے اٹھتے ہوئے عروہ سے کہا۔
’’مما میں کھانا نہیں کھائوں گا، میرا انتظار مت کیجیے گا۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا۔

بالی کو کسی پل قرار نہ آرہا تھا نوفل کو کال کرکے ساری صورت حال بتانے کے بعد وہ کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند اِدھر سے اُدھر چکراتی پھر رہی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ اس کی بدحواسی و پریشانی میں اضافہ کررہا تھا۔ لاریب کی غلیظ نیت‘ خراب فطرت سے وہ بہ خوبی آگاہ تھی‘ وہ ایک عرصے سے انشراح کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگا ہوا تھا اور اس کی آرزو پوری ہوئی بھی تو کتنی آسانی کے ساتھ کہ وہ خود رضا مندی سے اس کے ساتھ روانہ ہوئی تھی نامعلوم اس نے ایسا کیا کہا تھا جو وہ کسی بھی بات کی پروا کیے بنا چلی گئی تھی۔ فون بھی اس کا آف تھا۔
ابھی وہ ان ہی سوچوں میں گم ٹہل رہی تھی کہ امریکہ سے روشن کی کال آگئی اور یہ کال اس کے لیے بہت بڑا سہارا بنی تھی۔ وہ اس کو سب بتاتی گئی۔
’’کیا کہہ رہی ہو دماغ درست ہے تمہارا؟‘‘ کچھ توقف کے بعد وہ گھبرا کر بولی۔
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے وہاں ہو کیا رہا ہے؟ پہلے اماں گم ہوگئیں پھر انشی کسی غلط لڑکے کی باتوں میں آکر چلی گئی اور اب اس کا فون بھی بند جارہا ہے… اف میرے اللہ۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔
’’مجھے خود سمجھ نہیں آرہی وہ کس طرح اس کے ساتھ چلی گئی، سخت نفرت کرتی تھی وہ لاریب سے اس کی موجودگی میں وہ روم سے بھی نہیں نکلتی تھی۔‘‘
’’نفرت کرتی تھی… وہ کیا گھر میں آتا تھا؟‘‘
’’جی ہاں… وہ گھر آتا تھا ماسی نے انشراح کا جھانسہ دے کر اس سے بہت مال بٹورا ہے اور کئی بار انشی کو اس کے ساتھ جانے کی ترغیب بھی دیتی رہتی تھیں مگر انشی کا مزاج تو آپ کو معلوم ہی ہے وہ ایسی کسی سرگرمی کا کبھی حصہ نہ رہی تھی، سو اس کے اور ماسی کے درمیان اس معاملہ پر عموماً گرما گرمی چلتی رہتی تھی۔‘‘
’’چپ کیوں ہوگئی، آگے بولو۔‘‘ اس کی خاموشی پہ وہ مضطربانہ انداز میں بولیں۔
’’مال و دولت لٹاکر اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بالکل ہی کنگال ہوگیا تو حسب عادت ماسی نے اس کو لات مار کر گھر سے نکال دیا تھا اور ایک پارٹی میں سب لوگوں کے درمیان اس کی انسلٹ بھی کی تھی۔‘‘
’’یا اللہ… اتنا کچھ ہوتا رہا اور تم نے مجھے بھنک بھی نہ پڑنے دی؟‘‘
’’آپ کو بتا کر مجھے ماسی سے شامت تھوڑی بلوانی تھی لیکن میں نے ہر ممکن کوشش کرکے انشی کو اس بھیڑیے سے محفوظ ہی رکھا تھا جو آج اپنی چال چل گیا ہے۔ اللہ انشی کو اس کی حیوانیت سے اپنی امان میں رکھے۔‘‘
’’جو کچھ بھی ہوا ہے میرے یقین کو متزلزل کرچکا ہے اماں پر مجھے خود سے بڑھ کر اعتماد تھا… میں سمجھتی تھی میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ سب اماں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کافی تھا مگر…‘‘ وہ بری طرح ہچکیوں سے رو پڑی اور بالی بھی رونے لگی تھی۔
’’مگر اماں مکمل ایک بازاری عورت ثابت ہوئیں‘ مجھے علم نہ تھا وہ میری بیٹی کا سودا کرنے سے باز نہ آئیں گی، وہ اس کی بھی بولی لگا دیں گی؟ سنو بالی‘ اماں کہیں گم نہیں ہوئی ہیں ان کو یقینا اس بدبخت لڑکے نے ہی اغوأ کیا ہے… یہ اس کی ہی کارستانی ہے۔‘‘
’’لاریب نے ہی ماسی کو اغوأ کیا ہے پر کیسے؟‘‘ وہ متحیر ہوکر بولی۔
’’یہ میں نہیں جانتی اس نے کیا چال چلی ہے لیکن کڈنیپر وہ ہی ہے۔‘‘
’’آپ یہ اتنے یقین سے کیونکر کہہ سکتی ہیں روشن؟‘‘ اس کے یقین بھرے لہجے پر بالی ششدر ہوکر گویا ہوئی۔
’’یہ سیدھی سی بات تمہارے دماغ میں کیوں نہیں آرہی‘ خود سوچو اس لڑکے کو کس نے بتایا کہ اماں اغوأ ہوچکی ہیں؟‘‘
’’ہاں آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں… رئیلی یہ بات میرے ذہن میں بالکل بھی نہیں آئی کہ اس کو خبر کس نے دی ماسی کے اغوأ کی جب کہ ہم بھی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے اور… اور ایک اہم بات بتائوں آپ کو؟‘‘ وہ جھجک کر بولتے بولتے رکی۔
’’ہوں… یہ کوئی اجازت لینے کا ٹائم نہیں ہے۔‘‘
’’کل رات جب ہم ماسی کو ڈھونڈتے ہوئے روڈ تک گئے تو… ہمیں یوسف صاحب ملے تھے۔‘‘ بالی نے گویا دھماکہ کیا۔
’’یو…سف؟‘‘ دوسری طرف آواز لرز کر رہ گئی۔
’’جی یوسف صاحب وہ بہت خوش اخلاقی سے ہم سے پیش آئے تھے۔‘‘
’’اس کو کیا معلوم انشی اسی کی بیٹی ہے وہ تو اپنی دانست میں معاملہ ہی تمام کرچکا تھا۔ اس کو کیا معلوم میری کوکھ میں اس کا کیا گناہ پل رہا تھا، وہ بہت خبیث و بے حمیت مرد ہے تمہیں اور انشی کو اس کے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا کہیں اس نے… کہیں اس نے ہی انشی کو کڈنیپ نہ کروایا ہو وہ رشتوں کے احترام سے عاری عیاش مرد ہے۔‘‘ ماضی کسی فلم کی طرح اس کی نگاہوں میں چلنے لگا تو وہ چیخ اٹھی۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے روشن، وہ سارے قصے ماضی کا حصہ بن گئے ہیں اور کل جو شخص ہمیں ملا تھا وہ بہت اعلیٰ اخلاق، مشفق و نفیس مزاج تھا۔‘‘
’’وہ ایسا ہی ہے شرافت کے لبادے میں پوشیدہ شیطان۔‘‘ روشن کے دل کو ایک نئی آگ نے گھیر لیا تھا۔
’’وقت کے ساگر میں سورج کو گم ہوتے دیکھا ہے‘ بڑے بڑے برج الٹتے دیکھے ہیں‘ پھر کس طرح ممکن ہے کہ وقت نے اس شخص کو نہ بدلا ہو‘ ہدایت کی کوئی کرن ان کے اندر بھی اجالا کر گئی ہوگی۔‘‘
’’تم بہت زیادہ انسپائر لگ رہی ہو‘ وہ اسی طرح لوگوں کو اپنا دیوانہ بنانے کا ہنر جانتا ہے، لوگ اسی طرح اس کے ہپناٹزم کا شکار ہوتے ہیں، پھر اس کی اصلیت تو بعد میں کھلتی ہے‘ خیر یہ بعد کی بحث ہے ابھی تم فوراً جاکر تھانے میں رپورٹ درج کروائو کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

عروہ سے جان چھڑانے کے لیے وہ دانستہ گھر سے نکل آیا تھا۔ ازحد حساس ہونا بھی انسان کو کسی پل خوش نہیں رہنے دیتا لوگ بڑی بڑی باتیں کرکے یہ بھی نہیں سوچتے کہ کسی کے دل کا کیا حال ہوا ہے اور حساسیت سے لبریز دل کے لیے بے حس و سنگدل لوگوں کی باتیں تیز دھار آلے کا کام کرتی ہیں جہاں ایک پل جینا اور ایک پل مرنے کی اذیت جاری رہتی ہے۔
پہلے ہی اس کے دل کو سودہ کی بیگانگی و بے رخی نے گھائل کیا ہوا تھا‘ پھر ماں اور خالہ کا سرد رویہ اور بوڑھی عمر رسیدہ ملازمہ کی کھلی بے عزتی اس کے دل کو گھائل کر گئی تھی، بوا کو بچپن سے اس نے اپنے گھر میں دیکھا تھا اور ماسوائے عمرانہ کے سب ہی ان کو گھر کا فرد سمجھتے تھے۔ سودہ عموماً ان کے ساتھ ہوتی تھی کئی کام جھٹ پٹ کرنے کے بعد وہ ان کے کام بھی نبٹا دیا کرتی تھی۔ اس کو ان کی بزرگی کا بہت لحاظ تھا اور بوا بھی سودہ کے سنگ کسی ہم جولی کی مانند رہا کرتی تھیں، دل و جان سے اس کو چاہتی تھیں۔ ان کی سودہ سے یہ چاہت عمرانہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور وہ ان کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی تھیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ابھی کچھ دیر قبل بوا کو سودہ کے حوالے سے ذلیل کر رہی تھیں اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے بدظن ہوچکا تھا، لیکن دل کی اس کیفیت کو صرف دل تک ہی محدود رکھ سکتا تھا۔ ان کے سامنے اظہار کی ضرورت نہ تھی۔
وہ کار سنسان راستوں پر دوڑاتا رہا جنید اور شاہ زیب کاروباری دوروں پر ملک سے باہر تھے۔ ورنہ ان کے پاس جاکر گپ شپ کے ذریعے موڈ بہتر کرلیتا۔ وہ بارہ بجے کے بعد گھر میں داخل ہوا اور سیدھا کچن کی طرف آیا تھا۔ جہاں بوا چمچماتے کچن کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھیں کہ وہ ابھی وہاں کی صفائی سے فارغ ہوئی تھیں۔
’’ارے زید میاں…‘‘ وہ ان کو دیکھ کر چونک کر گویا ہوئیں۔
’’کھانا لگا دو آپ نے آج کھانا نہیں کھایا۔‘‘
’’بھوک نہیں ہے بوا۔‘‘
’’ کافی بنادو موسم خاصا سرد ہو رہا ہے؟‘‘
’’شکریہ… میں آپ سے معذرت کرنے آیا ہوں بوا…‘‘ اس کے بھاری گمبھیر لہجے میں کسی دکھ کی آنچ تھی۔
’’معذرت…! یہ کیسی باتیں کررہے ہیں بیٹا آپ کس بات کی معذرت؟‘‘ بوا جو اس کے لیے دیے سنجیدہ مزاج کی باعث خوف زدہ رہتی تھیں اس وقت اس کو پشیمان اور ٹوٹا بکھرا دیکھ کر شفقت سے بولیں۔
’’ممی نے جو آپ سے بدتمیزی کی ہے میں اس کی معافی مانگ رہا ہوں۔‘‘
’’ارے… معافی کی کیا بات ہے بیٹا بہو بیگم کے مزاج سے میں اچھی طرح واقف ہوں، ان کی باتوں کا میں برا نہیں مانتی وہ مالکن ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں انکساری و عاجزی رچی بسی تھی۔
’’ممی کو آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی، آپ ہماری بزرگ ہیں ڈیڈی، تایا جان، تائی اور پھوپو سب کو آپ کی عزت کرتے دیکھا ہے۔‘‘
’’عزت تو بہو بیگم بھی کرتی ہیں بس بیٹا ان کا مزاج ہی ایسا ہے اور ان کا قصور بھی نہیں ہے دوائوں کے استعمال نے ان کے دماغ میں گرمی پیدا کردی ہے۔‘‘ بوا کی عظمت کا وہ دل سے قائل ہوگیا تھا کس خلوص سے وہ اس عورت کی حمایت کررہی تھیں، جس نے چند گھنٹوں قبل ہی ان کی عزت دو کوڑی کی کردی تھی۔
’’یہ آپ کا بڑا پن ہے بوا جو آپ اس طرح سوچتی ہیں۔‘‘
’’میں اپنے مالکوں کی نمک خوار ہوں، اس گھر میں مجھے پناہ ملی ہے‘ اپنوں کا اپنا پن ملا ہے وگرنہ مجھ لاوارث و بے سہارا کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا… کھانا لگادوں، آفس سے آنے کے بعد کچھ نہیں کھایا ہے آپ نے۔‘‘ وہ بات بدلتی ہوئی پھر اصرار کرنے لگیں۔
’’کھانا نہیں کافی بنا دیں، کچھ کھانے کو قطعی دل نہیں کررہا ہے۔‘‘
’’عجیب بات ہے نہ آپ کچھ کھا رہے ہیں نہ ادھر سودہ بیٹی کچھ کھانے کو راضی ہیں وہ بھی یہی کہتی ہیں کہ کھانے کو قطعی دل نہیں چاہ رہا۔‘‘
’’کیا سودہ کے سر میں درد زیادہ ہے؟‘‘ وہ دل کے ہاتھوں بے بس تھا۔
’’آپ کو معلوم ہے جب ان کے سر میں درد ہوتا ہے پھر جلدی آرام کہاں آتا ہے۔ خواہ کتنی دوا کھالیں۔‘‘
’’اس نے ڈاکٹر سے دوا لی ہے یا خود ہی کوئی میڈیسن کھائی ہے؟‘‘ سودہ کے سر کا درد اس کو اپنے دل میں محسوس ہونے لگا تھا۔
’’ڈاکٹر کے پاس جانے کی سدا کی چور ہیں، اپنے پاس سے کوئی سر درد کی گولی کھائی ہے، میں نے منع بھی کیا تھا مگر وہ کبھی کبھی من مانی کرجاتی ہیں۔‘‘
’’کافی رہنے دیں بوا آپ میرے ساتھ اس کے روم میں چلیں، میں اسے ابھی ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں، اس درد کی نوعیت نہ جانے کیا ہے۔‘‘ وہ سخت مضطرب و متفکر ہوا اور بوا کے اندیشوں میں گھرے دل کو یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ سودہ کی فضول گوئی و بے وقوفی کے باوجود زید میاں کا دل خراب نہ ہوا تھا۔ وہ وقتی غصے میں خفگی کا اظہار سودہ سے کر گیا تھا مگر یہ تڑپ بتا رہی تھی سودہ اس کے لیے بے حد اہم و ضروری ہے اور اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بوانے بھی اسے عمرانہ اور عروہ کی سودہ کو سنائی جانے والی باتیں بتانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
’’بوا… کیا سوچ رہی ہیں آپ۔‘‘ وہ انہیں سوچوں میں گم دیکھ کر بولا۔
’’مجھے آپ سے چند ضروری باتیں کرنی ہیں زید میاں‘ شاید کوئی اور موقع ہوتا تو میں کبھی بھی ایسی باتیں منہ پر نہ لاتی مگر یہاں معاملہ آپ کی اور سودہ بیٹی کی زندگی سے درحقیقت آپ کے نکاح سے جڑا ہے۔‘‘ بوا ایک ایک کرکے ساری بات اس کے گوش گزار کرتی گئیں۔

ایک ایک کرکے یوسف صاحب نے بابا صاحب کے تمام کانٹیکٹ نمبرز ڈائل کیے مگر حیرت کی بات تھی کہ ہر نمبر پر بیل جا رہی تھی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا تھا یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کئی بار فون کرنے کے باوجود کسی نے ان کے فون کو اہمیت نہیں دی تھی۔ وہ حیران رہ گئے تھے۔
’’کیا ہوا آپ بہت ڈسٹرب لگ رہے ہیں؟‘‘ زرقا بیگم نے پوچھا۔
’’بابا جان کال ریسیو نہیں کررہے۔‘‘
’’آپ دوسرے نمبرز پر ٹرائی کریں۔‘‘
’’تمام نمبرز ٹرائی کرچکا ہوں اور سب جگہ سے ایک ہی رسپونس ہے۔ یعنی کوئی کال ہی پک نہیں کررہا۔‘‘ وہ پریشانی سے پیشانی دبانے لگے۔
’’الٰہی خیر‘ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘‘ وہ بھی فکر مند ہونے لگیں۔
’’ہوں… ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا یہی بات ڈسٹرب کر رہی ہے… بابا جی کے خادمین کی کثیر تعداد ان کے ارد گرد جمع رہتی ہے۔‘‘
’’کسی اور سے رابطہ نہیں ہوسکتا جو بابا صاحب کے قریب ہوں؟‘‘
’’ان کے اہل و عیال اس دنیا میں موجود نہیں ہیں‘ انہوں نے وائف کی ڈیتھ کے بعد دنیا ہی تیاگ دی تھی‘ اب ان کے خادمین یا حلقۂ احباب وہ سب ہی ان کے اہل و عیال ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی میں اس حد تک نہیں جانتا کہ رابطہ کرسکوں۔‘‘ وہ از حد مضطرب ہوئے۔
’’میں نے نوفل کو کال کی تھی مگر اس کا موبائل بند جا رہا ہے۔‘‘ وہ شکستہ سے صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’وہاٹ…! نوفل کا فون بھی آف جا رہا ہے…؟ ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔ کوئی ایسی بات ہے جو ہم سے چھپائی جا رہی ہے…‘‘ وجدان نے دستک دی۔
’’نوفل بے حد ذمہ دار و حساس طبیعت کا مالک ہے اس سے ایسی غیر ذمہ داری کی توقع عبث ہے‘ پھر اس طرح اچانک اس کا جانا اور سیل آف کردینا صاف ظاہر کرتا ہے جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ہم سے چھپا رہا ہے۔‘‘
’’ایسا کیا معاملہ ہے جس کو سیکرٹ رکھنا اس قدر اہم ہے؟‘‘
’’کچھ نہ کچھ اسپیشل ہے۔‘‘ وہ دونوں ہی ریشم کی گھتیوں میں الجھ گئے تھے۔
’’سب خیریت تو ہے بھابی‘ آپ لوگ خاصے پریشان لگ رہے ہیں‘ بابا صاحب نے کوئی خاص بات بتائی ہے کیا؟‘‘ اذہان اور سامعہ چلے آئے۔
’’بابا صاحب سے بات کہاں ہوئی ہے وہ فون ہی نہیں اٹھا رہے۔‘‘ زرقا بیگم نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’ارے وہ ایسے تو نہیں ہیں خدانخواستہ کوئی ناراضگی تو نہیں ہوگئی؟‘‘
’’نہیں… وہ خفا ہونے والی بات پر بھی خفا نہیں ہوتے‘ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کہاں بزی ہیں آج سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘
’’نوفل سے بات ہوئی آپ کی بتایا نہیں اس نے کہاں گیا ہے؟‘‘ وہ دونوں بھی قریبی صوفوں پر براجمان ہوکر فکر انگیز لہجے میں بولے۔
’’نوفل کا سیل بھی آف جارہا ہے اور یہی بات پریشان کر رہی ہے۔‘‘
’’صحیح کہہ رہی ہیں بھابی آپ، نوفل نے کبھی ایسی غیر ذمہ داری و لاپروائی کا مظاہرہ نہیں کیا‘ وہ خود ایسی باتوں کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘
’’یہ بھی ہوسکتا ہے یہ محض اتفاق ہو نوفل نے کسی وجہ سے سیل آف کیا ہو اور آن کرنا بھول گیا ہو۔ عموماً وہ مسجد جانے سے قبل ایسا کرتا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہو آپ کیوں ہر بات کو منفی لیتے ہیں۔‘‘
اذہان کی تسلی بھی ان کے وسوسوں کی نفی کرنے میں ناکام رہی تھی۔

مراد اور چوکیدار کی جان پر بنی ہوئی تھی یہ جان کر کہ نوفل ادھر ہی آرہا ہے۔ ان کو معلوم تھا ان کا وہ ہی حال ہونے والا ہے جو ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے۔ چوکیدار کی بیوی نے چائے بناکر بھیج دی تھی۔ جو یونہی پڑے پڑے ٹھنڈی ہوگئی تھی۔ رات خاصی گہری ہوگئی تھی۔ مراد کو لگ رہا تھا آج سے زیادہ سیاہ و طویل رات اس کی زندگی میں نہیں آئی تھی، موسم سرد ترین تھا، آسمان بھی سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
ماحول میں بڑھتی دھند اور سرسر چلتی یخ بستہ ہوائیں رگوں میں خون منجمد کیے دے رہی تھیں۔ رات کی طوالت تھی کہ ختم ہوکر نہیں دے رہی تھی۔ لمحہ لمحہ ٹھہر ٹھہر کر گزر رہا تھا۔ ماحول میں پراسرار خاموشی کسی انہونی کے ہونے کا اشارہ دے رہی تھی۔
’’میرا تو بہت دل گھبرا رہا ہے یار، جانے کیا ہونے والا ہے؟‘‘ چوکیدار آسمان کی طرف دیکھتا ہوا گھبرائے لہجے میں بولا۔ مراد کا بھی مارے خوف کے چہرہ پھیکا پڑگیا تھا۔
’’کاش… تم نوفل صاحب کو اسی وقت بتا دیتے جب لاریب صاحب نے اس بڑھیا کو اغوأ کیا تھا۔ معاملہ پھر یہاں تک نہ پہنچتا بلکہ تمہیں نوفل صاحب کی طرف سے عزت و انعام علیحدہ سے ملتا، اس لڑکے کا ساتھ دے کر تمہیں کیا ملا ذلت، خواری اور پریشانی پھر اس نے تم پر ہاتھ بھی اٹھایا۔‘‘
’’اب مجھے طعنے مت دو میں پہلے ہی بہت بدحواس ہورہا ہوں۔‘‘
’’یہ سب ایسا کام کرنے سے پہلے ہی سوچنا چاہیے تھا وقت نکلنے پر ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ چوکیدار چڑچڑے لہجے میں بولا۔
’’دیکھ میں کہہ رہا ہوں، اس وقت میں بہت مشکل میں ہوں، میرا دماغ نہ خراب کر، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ مراد غصے میں اس پر جھپٹا۔
’’اے… اے بھائی‘ ہاتھوں کو قابو میں رکھ اپنا دماغ چلا یہ ٹائم دماغ چلانے کا ہے ہاتھ چلانے مجھے بھی آتے ہیں۔‘‘ چوکیدار نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھوں سے اپنا گریبان چھڑایا۔
’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے… تم نے یہی میرے ساتھ کیا ہے اور غصہ بھی مجھے ہی کو دکھا رہے ہو۔‘‘
’’میں کیا کروں کس طرح اپنی جان اور نوکری بچائوں نہ جان سے ہاتھ دھونا چاہتا ہوں نہ نوکری سے دونوں ہی میرے لیے ضروری ہیں اور اس وقت دونوں ہی ہاتھوں سے جاتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں۔‘‘
’’بڑے صاحب کو فون کرکے بتائو وہی اس مسئلہ کا حل نکال سکتے ہیں۔‘‘
’’ان کا فون بزی جارہا ہے مسلسل۔‘‘
’’اس وقت تک کرتا رہے جب تک وہ فون نہ اٹھائیں یہاں صرف ہماری جانوں کا مسئلہ نہیں ہے ان کے بھی دونوں بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔ ایک وہ ہی ہیں جو اس مشکل کو آسان کرسکتے ہیں۔‘‘
’’کہہ تو تو ٹھیک رہا ہے مگر…‘‘
’’مگر… کیا… یہ اگر مگر کا ٹائم نہیں ہے۔‘‘
’’نوفل صاحب کے آنے کے بعد وہ آئے تو پھر…؟‘‘
’’پھر قسمت ہے ہماری تو اللہ کا نام لے کر فون تو کر، ہوگا وہی جو ہماری قسمت میں لکھا ہے‘ میں تو توبہ کرتا ہوں جو آئندہ ایسے چکروں میں پڑوں۔‘‘ وہ کان پکڑتا ہوا گویا ہوا۔

وہ فل اسپیڈ سے کار دوڑا رہا تھا اس کے وجیہہ چہرے پر سرخی پھیلی ہوئی تھی، برائون آنکھوں میں خون کی لالی نمایاں تھی‘ اعصاب کشیدہ تھے وہ ہونٹ بھینجے تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر چھائے عزائم بہت خطرناک تھے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی جو روڈ پر اکا دکا ہی گاڑیاں تھیں۔ ہائی وے پر اس کی کار تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھی اور اس کا ذہن بھی اسی رفتار سے کام کررہا تھا۔
’’تمہیں خوامخواہ اس لڑکی سے چڑ ہے۔‘‘ یونیورسٹی کا منظر ذہن میں ابھرا۔
’’تمہیں محسوس نہیں ہوتا ہے وہ پوز کرتی ہے؟‘‘
’’نہیں بالکل نہیں۔‘‘ بابر کے لہجے میں سچائی تھی۔
’’اوہ… تمہیں محسوس ہوگا بھی کیسے کیونکہ وہ تمہاری ڈارلنگ کی چہیتی جو ہے عاکفہ کی گہری دوست ہے۔‘‘ وہ مخصوص طنز بھرے لہجے میں بولا۔
’’یہ فضول بات ہے انشی سے میرا کیا لینا دینا یار؟‘‘
’’بالکل اسی طرح جس طرح دوست کا دوست ہمارا دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن ہمارا دشمن ہوتا ہے۔ اسی طرح تمہیں وہ نائس لگتی ہے حالانکہ وہ ایک بے کار لڑکی ہے۔‘‘
’’ہوں… وہ اس لیے بے کار لڑکی ہے کہ تمہیں دوسری لڑکیوں کی طرح لائن نہیں مارتی‘ پروانوں کی طرح تمہارے ارد گرد نہیں گھومتی۔‘‘
’’او شٹ اپ… وہ ان لڑکیوں سے زیادہ بولڈ اور ایڈوانس ہے۔‘‘ اس نے بے زار انداز میں منہ بنا کر کہا تھا۔
’’اگر ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھ لوں تو وہ ان لڑکیوں میں سب سے زیادہ دیوانی ہوگی… لیکن مجھے اس لڑکی سے عجیب چڑ ہوگئی ہے‘ میں اس کی بے باکی دیکھتا ہوں تو مجھے ایک چہرہ یاد آجاتا ہے۔ حسین، طرح دار، مغرور کسی کو خاطر میں نہ لانے والا خود پرست و خود پسند وجود جو اپنے بے پناہ حسن کے زعم میں گناہوں میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔ اس کے لہجے کی نفرت زہر جیسی کڑواہٹ میں گھلی ہوئی تھی۔
’’معاف کردو یار‘ انہوں نے جو کچھ بھی کیا… آفٹر آل تمہاری ماں تھیں وہ اور ماں صرف ماں ہوتی ہے۔‘‘ وہ آہ بھر کر بولا۔
’’ہاں ماں صرف ماں ہوتی ہے لیکن وہ عورت سب کچھ بن گئی مگر ماں ہی نہ بن سکی۔‘‘ بہ یک وقت کئی یادوں نے حملہ کیا لیکن اس نے سر جھٹک کر ان یادوں سے دامن چھڑانا چاہا مگر ان سے چھٹکارا کہاں ممکن تھا۔ یادیں مالا سے ٹوٹے موتی کی طرح بکھرتی چلی گئیں‘ زندگی نے کس کس طرح موڑ بدلے تھے۔ ماں کے ہرجائی پن نے عورتوں سے شدید نفرت پیدا کردی تھی۔
اسکول، کالج اور یونیورسٹی وہ ہر جگہ اس عورت نامی مخلوق سے نفرت کرتا رہا تھا اور ان رویوں کے برخلاف لڑکیاں اس پر فدا ہوتی رہی تھیں۔ اس کی بدتمیزی، اکھڑ پن، توہین و تحقیرانہ انداز کے باوجود لڑکیوں کی دیوانگی میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ پھر یونیورسٹی میں انشراح ٹکرائی تھی۔ وہ اس کو عام لڑکی سمجھ کر اس پر بھڑکا اور… پہلی بار اسے منہ کی کھانی پڑی تھی، پہلی بار معلوم ہوا تھا لڑکی عزت و وقار اور پاکیزگی کا نام ہے۔ وہ جو جو اپنے ارد گرد عاشقانہ مزاج اور گمراہ کن لڑکیوں کا ہجوم دیکھنے اور ان کو نظر انداز کرنے کا عادی ہوگیا تھا۔ پہلی بار کسی لڑکی کی بے نیازی ولاتعلقی شدت سے اس کو چونکا گئی تھی۔ اس کو یقین نہ آرہا تھا کوئی لڑکی اسے نظر انداز بھی کرسکتی ہے؟
انشراح جیسی با اعتماد و بے لچک رویے والی لڑکی کب اس کے دل میں براجمان ہوئی… اتنی شدت و قوت سے اس کی طلب بن گئی کہ وہ ہکابکا سوچتا رہ گیا کہ اس کا حاصل ہی حیات کا حاصل ہے اور یہی محبت آج اسے ان راہوں پر لے آئی تھی۔
ہائی وے پر کار تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ سخت سرد موسم کے باوجود اس نے کھڑکیاں کھول رکھی تھیں۔ غصے اور اشتعال کی چنگاریاں تن من کو جھلسائے دے رہی تھیں‘ انشراح کا چہرہ اس کے حواسوں پر چھایا ہوا تھا۔ کل تک وہ اس امر سے ناواقف تھا کہ وہ اس کی چاہت میں گرفتار ہے اس کو پانے کی آرزو بے شک دل نے کی تھی… اب محسوس ہورہا تھا وہ اس کی رگ وجاں سے بھی قریب ہے اس کے بنا زندگی کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ وہ اس سے محبت سے بھی زیادہ محبت کرنے لگا تھا۔

انشراح نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا اور ساتھ ہی زور دار تھپڑ اس کے مارنا چاہا مگر وہ جھک گیا اور اس کا لہراتا ہوا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا۔ وہ اس کے قریب آگئی تھی۔ قریب آکر اس نے زور دار مکا اس کی ناک پر رسید کیا، دوسرے لمحے نہ صرف اس کی گرفت سے اس کا ہاتھ آزاد ہوا تھا بلکہ وہ خود بھی چیختا ہوا دور ہوا تھا۔
’’تم نے کیا سمجھا ہے میں موم کی بنی ہوئی ہوں؟‘‘ انشراح خون خوار لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی جو ناک پکڑے اس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ ناک سے خون قطروں کی صورت رسنے لگا تھا۔
’’میں نے تم سے کہا تھا ناں تم میری خواہش پوری کیے بنا یہاں سے نہیں جاسکتی‘ تم نے میری بات کو مذاق سمجھا ہے؟‘‘ وہ ٹشو سے خون صاف کرتا طنزیہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’تم مجھے اور نانی کو جانے دو… کہاں ہیں نانی؟‘‘ وہ ایک حد تک خود کو بے خوف ثابت کرنا چاہ رہی تھی۔ ورگرنہ وہ یہ بہ خوبی جاتی تھی کہ لاریب کا پلڑا ہر صورت بھاری ہے۔ نوفل کی طرف سے بندھی ایک معمولی سی آس بھی اب ٹوٹتی جا رہی تھی۔ یقینا وہ میسج اس تک نہیں پہنچا تھا۔ اگر پہنچتا تو اس کو اب تک یہاں پہنچ جانا چاہیے تھا۔
’’تمہیں اور نانی کو یہاں سے جانے دوں… کیا بچہ سمجھا ہے مجھے… جانتی ہو اس سالی بڑھیا نے میرا سارا بینک بیلنس ہڑپ لیا ہے… سب کے سامنے میری انسلٹ کی تھی، تمہارے خواب دکھا کر ایک عرصہ بے وقوف بنایا ہے… اب تم چاہتی ہو ہاتھ آئی سونے کی چڑیا اڑا دوں؟‘‘ وہ کسی قیمت پر اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔
’’پھر یاد رکھو میں تمہارے ہاتھ آنے والی نہیں ہوں۔‘‘ اس نے جنون کی حالت میں کارپٹ پر پڑے کانچ کے ٹکڑوں میں سے ایک نوک دار بڑا کانچ کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے اپنی گردن پر چلانے کی کوشش کی تھی معاً وہ چیخ کر قریب آتے ہوئے بولا۔
’’دیکھو… دیکھو تمہارے اس طرح مرنے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تم مر جائو گی مگر اس بڑھیا کا سوچو جسے میں بھوکے کتوں کے آگے ڈال دوں گا… سنو سنو باہر سے آوازیں آرہی ہیں، ان کتوں کی وہ گلیوں میں پھرنے والے کوئی عام کتے نہیں ہیں۔‘‘ ان نے بھاگ کر ایک کھڑکی کھولی اور کھڑکی کھلتے ہی کتوں کے بھونکنے کی آوازیں واضح ہونے لگی تھیں آواز سے ہی وہ خونخوار کتے لگ رہے تھے۔
’’رحم کھائو بڑھیا پر تم تو مر جائو گی مگر تمہاری موت کا بدلہ، اپنی خواہشوں کے پورے نہ ہونے کا بدلہ میں اس بڑھیا سے لوں گا، خود سوچ لو… اس عمر میں جب شکاری کتے اس کی بوٹی بوٹی اپنے لمبے لمبے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھائیں گے…‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی، تم ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘ اس کا ہاتھ ڈھیلا ہوا۔
’’کرسکتا ہوں، اللہ کی قسم کرسکتا ہوں بلکہ کروں گا۔‘‘ وہ چلتا ہوا اس کے قریب آ رکا۔
’’تمہیں جتنی دولت چاہیے میں دوں گی پر تم مجھے اور نانی کو معاف کردو، چھوڑ دو ہمیں، میں وعدہ کرتی ہوں منہ مانگی دولت دوں گی تمہیں۔‘‘ اسے اپنی بے بسی کا احساس ہوگیا تھا۔
’’دولت تو مجھے ایک ہی چاہیے۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ سے کانچ کا ٹکڑا لے کر بولا۔
’’یہ تمہارے روپ کی دولت‘ یہ تمہارے حسن کی دولت۔‘‘ انشراح کا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا اس کے لیے مرنا بھی مشکل تھا اور عزت پامال ہونے کے بعد زندگی بھی کوئی زندگی تھی۔
’’زیادہ سوچنا فیصلوں کو کمزور کردیتا ہے مائی ڈیئر۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتا ہوا آہستگی سے گویا ہوا۔
’’آجائو کیوں ٹائم ویسٹ کرتی ہو ایسے حسین موقع بار بار نہیں آتے۔‘‘ وہ اس کی پتھرائی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
’’جانے دو مجھے… میں تمہارے ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹاتی ہوئی سنجیدگی سے بولی۔
’’میرے پاس آکر ہر لڑکی میرے ٹائپ کی بن جاتی ہے تم بھی بن جائوگی، اب نخرے مت کرو… ورنہ میرا دماغ گھوم جائے گا۔‘‘ وہ پیر پٹخ کر غصہ سے گویا ہوا اور آگے بڑھ کر اس پر گرفت کرنا چاہی تھی کہ انشراح نے برق رفتاری سے جھک کر وہ ہی نوکیلا کانچ اٹھالیا۔
’’پھر وہی پاگل پن، میں نے تم سے کہا ہے کہ…‘‘
’’میں اتنی کمزور نہیں ہوں کہ تم سا شیطان مجھے اپنا شکار بنائے اب جو تمہیں کرنا ہے وہ کرو، میں تمہاری خواہش پوری کرنے والی نہیں ہوں۔‘‘ شدید جنونی انداز میں کہتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑا کانچ اپنی کلائی پر کسی چھری کی مانند چلا دیا‘ اسی دم باہر سے کوئی دوڑتا ہوا اس طرف آیا اور دوسرے لمحے تیزی سے کی ہول میں چابی گھمائی گئی۔
خون تیزی سے اس کی کلائی سے بہنے لگا تھا، آنکھوں میں اچانک در آنے والے اندھیرے نے اس کو دنیا و مافیہا سے بے خبر کردیا تھا وہ بے سدھ ہوکر گری تھی۔ لاریب اسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر جھکا کا جھکا رہ گیا۔
’’نو… نو… نو… فل…!‘‘ اس کی صورت خوف سے بگڑ کر رہ گئی۔ یہ سب لمحوں میں ہوا تھا۔ نوفل موت کی شکل میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔
’’میں نے تمہیں کہا تھا ناں اس کی پرچھائیں سے بھی دور رہنا مگر…‘‘ وہ وحشت و جنون میں اس کے سامنے پستول تانے کھڑا تھا۔ اس کی نظریں بے سدھ پڑی انشراح پر تھیں اور دوسرے لمحے کمرہ فائرنگ اور لاریب کی چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔

(باقی ان شاء اللہ آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close