Aanchal Mar 2019

تلخ و شیریں

عظمیٰ شاہد

س: کفالت کی ذمہ داری کب سنبھالی؟
ج: ویسے تو کفالت کی ذمہ داری مرد کی ہے لیکن بعض اوقات حالات اس قدر مجبور کردیتے ہیں کہ عورتوں کو بھی یہ ذمہ داری اُٹھانا پڑتی ہے اور ذمہ داری کیسی ہو، اس کو احسن طریقے سے ادا کرنا اور اپنی ذمہ داری سمجھ کرنبھانا بے حد مشکل امر ہے۔ ویسے تو شادی سے پہلے بھی تعلیمی خرچے پورے کرنے کی خاطر میں نے ٹیوشن پڑھائی لیکن گھر والوں نے کبھی زور نہ دیا۔ یہ سب میری اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق تھا کہ اپنی تعلیم کا ٔخرچا والدین پر نہ ڈالوں اور اسی سوچ کے تحت یہ ایک ادنیٰ سی کوشش تھی، جو مجھے ذمہ داری یا بوجھ نہیں لگتی تھی کیونکہ تب صرف اپنی تعلیم اور دوسروںکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہی اصل مقصد تھا۔ کفالت کی اصل ذمہ داری شادی کے بعد اُٹھائی۔ دراصل شوہر کسی اچھی اور سرکاری جاب کے منتظر رہے اور کسی بھی چھوٹی موٹی نوکری کو اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اس سوچ کے پیچھے سسرال والوں کا رویہ بھی کافی اہمیت کا حامل رہا۔ سسر چونکہ سرکاری ملازم اور اچھے عہدے پر تعینات تھے، لہٰذا یقین کامل تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بیٹے کو ضرور نوکری مل جائے گی لیکن یہ باتیںصرف باتیں ہی ثابت ہوئیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہوا۔ آج جب شادی کو بھی چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی سوچ وہی ہے۔ گھر کے بہت سے خرچوں کی ذمہ داری سسر نے اُٹھا رکھی تھی اور ہماری بھی اُٹھالی لیکن دو چھوٹے بچوںکے ساتھ کہاں تک ان کے دست نگر رہتے،لہٰذا اپنے بچوں کی خاطر مجھے ہی کفالت کی ذمہ داری اُٹھانا پڑی اور اب اصل فرق بھی پتا چلا کہ پہلے یہ کام کتنا آسان لگتا تھا لیکن اب بچوں کے ساتھ گھر اور گھرداری کے دوران یہ سب کرنا کس قدر مشکل اور کٹھن ہے۔ اگرچہ میرا تعلیمی ریکارڈ شاندار تھا لیکن گھر سے باہر نکلنے اور ٹیوشنز پڑھانے کا ارادہ اس لیے ترک کرنا پڑا کہ سسرال والوں کی عزت پر حرف آتا اور یہ ان ہی کی سوچ ہے۔ ویسے بھی میں چھوٹے بچوں کی وجہ سے شاید باہر نکل کر نوکری کر بھی نہ پاتی، چاہے وہ کسی اسکول کی ہوتی۔ لہٰذا میں نے اپنے ہنر کو اپنا روزگار بنالیا اور کپڑے سینا شروع کردیے۔ چونکہ میں دورِجدید کے تقاضوں سے بخوبی واقف تھی لہٰذا سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اپنے اس کام کو خوب فروغ دیا۔ آج اگرچہ اس فیلڈ میں مجھے زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن الحمدللہ میں اپنے بچوںکی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرسکتی ہوں اور کسی کے سامنے سوال کرنے کی زحمت سے بھی خدا نے بچالیا۔
س: گھر والوںکی ضروریات جائز طریقے سے پوری کرنے کے لیے آپ نے کیا قربانی دی؟ خود میں کیا تبدیلی لائیں؟
ج: تبدیلیاں تو شادی کے بعد سے ہی آگئی تھیں۔ اب یہ اپنا گھر تو تھا نہیں جہاں اماں، ابا کو نخرے دکھاتے۔ رہی سہی کسر ماں کے درجے پر فائز ہوتے ہی پوری ہوگئی اور زیادہ تبدیلیاں بھی یہیں سے شروع ہوئیں،جب اپنے بچوںکی خاطر میںایک ہاؤس وائف کے ساتھ ایک ورکنگ وومن بھی بنی۔ جب کام بڑھتے ہیں، ذمہ داریاںبڑھتی ہیں تو عورت کو سب سے پہلے اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے۔ اپنے آپ کو اگنور کرنا پڑتا ہے۔ خودکو بھلا کر ہی دوسروں کے لیے کچھ کیا جاتا ہے اور یہاں تو دوسروں میں میرے بچے اور میرا ہی گھر تھا۔ لہٰذا اپنے آرام، سکون کی پروا کیے بغیر دن بھر گھر کے کام اور بچوںکی ضروریات نمٹاتی اور رات کو اپنے آرام کے وقت میں سلائی کا کام کرتی۔
س: اس سارے عرصے میں گھر والوںکا رویہ کیسا رہا؟
ج: میرے سسرال والوںکا رویہ تو ٹھیک ہی رہا کیونکہ ان کے حق میں تو اچھا ہی تھا کہ بہو خود ہی بچوں کی ذمہ داری اور خرچے اُٹھارہی ہے۔ بس اتنا تھا کہ وہ جو کچھ ہمیں دیتے تھے، اس میں کمی نہ کی۔ ایک لگی بندھی رقم دیتے،اب اس میں گزارہ ہو نہ ہو، آگے آپ کا کام۔ میرے کام کے حوالے سے تو کبھی اعتراض نہ کیا، ہاں اگر کام ان کے گھریلو کاموں میںخلل ڈالتا تو ضرور کچھ باتیں بھی سننے کو ملتیں۔ ویسے میں نے یہی کوشش کی کہ گھر والے اور بچے اس کام سے نظرانداز نہ ہوں اور اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی رہی۔ تھوڑی بہت شکایتیں تو خواہ مخواہ بھی لوگوں کو ہو ہی جاتی ہیں۔ اب کیا کرسکتے ہیں۔
س: کبھی ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اور اس موقع پر آپ نے کیا طرزِعمل اختیار کیا؟
ج: چونکہ میں گھر سے باہر کام کے لیے نہیں نکلتی، گھر میں رہ کر ہی کام کیا تو ناگوار صورت حال کا سامنا بعض رشتہ داروںکی طرف سے ہوا۔ لیکن چونکہ میں اس کام کا ارادہ کرچکی تھی اور اللہ نے رزق کا وسیلہ بھی بنادیا تھا تو لوگوں کی جلی کٹی باتوں میں آکر اپنا یہ کام بند نہ کیا اور کچھ عرصہ بعد وہ خواتین بھی میری مہارت اور کام کے آگے خاموش ہوگئیں۔
شوہر نے بھی زیادہ اعتراض نہ کیا کیونکہ انہیں بھی تو بیٹھے بٹھائے نہ صرف ایک پڑھی لکھی بیوی ملی بلکہ یہ ذہنی سکون بھی رہا کہ اب یہ پیسوں کے معاملے میں کبھی تنگ نہ کرے گی اور واقعی ایسا تھا بھی۔ میں نے اپنے بچوںکی خواہشات پوری کرنے کی خاطر کبھی شوہر پر دباؤ نہ ڈالا کیونکہ جان چکی تھی کہ ان کی تربیت جس نہج پر ہوئی ہے، اس میںآرام طلبی اور عیش پسندی کا عنصر نمایاںہے۔ اس سمجھ داری سے گھر کے جھگڑے بھی ختم ہوگئے۔ ہاں میں کئی محاذوں پر لڑنے کے لیے تنہا ضرور ہوگئی۔ بچوںکی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری،اسکولوںمیں داخلے کی ذمہ داری، ایک اچھی ماں کی ذمہ داری، اپنے بچوںکے لیے اچھے استاد کی ذمہ داری، ایک اچھی بہو کے فرائض، ایک اچھی بیوی کا رول ادا کرتے،غرض ہر رشتہ نبھاتے، تنہائی کا احساس بڑھتا گیا لیکن کوشش یہی کی اپنا طرزِعمل مثبت رکھوں، کبھی دوسروں کے لیے غلط نہ کروں۔ اسی طرزِعمل پر زندگی کی بنیاد رکھی اور اللہ سے اچھے کی اُمید رکھی۔
س: کہتے ہیںکہ آپ اچھے تو جگ اچھا، کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ محض آپ کا اچھا ہونا کافی ہے؟
ج: ہوتا ہوگا ایسا خوش قسمت لوگوں کے ساتھ، لیکن آج کل تو اچھوں کے ساتھ لوگ برا ہی کرتے ہیں اور اس کی اچھائی اور بھلائی کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں، بدلے میں دلجوئی اور حوصلہ افزائی کا ایک جملہ کہنا بھی توہین سمجھتے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں سے اپنی اچھائی مت چھوڑیں۔ اگر سامنے والا غلط ہے اور وہ اپنی غلطی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تو ہمیں بھی اپنی اچھائی اور بھلائی پر ڈٹے رہنا چاہیے کیونکہ اس کا بدلہ اللہ تو ضرور دے گا۔ یہی یقین ہے جس کے سہارے زندگی کی ہر مصیبت‘ ہر پریشانی جھیلی جاسکتی ہے۔
س: کبھی پیشہ ورانہ رقابت کا شکار ہوئیں؟
ج: پیشہ ورانہ تو نہیں، ویسے آج کل رقابت ہر جگہ موجود ہے۔ گھروں میں بھی خواتین ایک دوسرے سے حسد اور بغض کا شکار نظر آتی ہیں۔ کسی کی زندگی میں سکون نہیں، کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے ‘کوئی اپنی زندگی سے پریشان ہے، گھریلو حالات، تنازعات کا شکار ہیں تو بھی سکون نہیں۔ بس یہ عجیب دُنیا اور عجیب اس کے رنگ ہیں۔ اللہ ہر حاسد سے اور ہمیں بھی حسد کرنے سے بچائے رکھے۔
س: اپنے جونیئرز اور سینئرز کے ساتھ آپ کا رویہ کیسا رہا؟
ج: رویہ تو ہمیشہ اچھا رکھنے کی کوشش ہوتی ہے، البتہ بعض اوقات تھکن اور کاموں کی زیادتی کے سبب عجیب چڑچڑاہٹ ہونے لگتی ہے، شاید ایسے میں دوسروں کی حق تلفی بھی ہوگئی ہو لیکن کیا کریں مجبوری ہے۔ ویسے عام حالات میں رویہ نارمل رکھنے کی کوشش ہی ہوتی ہے۔
س: کبھی عزتِ نفس کا سودا کیا؟
ج: اللہ سب کو محفوظ رکھے۔ کسی پر ایسی مجبوری کبھی نہ آئے۔ نجانے کیسا وقت ہوتا ہوگا، بہرحال دعا ہے کہ سب کی عزت و آبرو اور مان قائم رہے،آمین۔
س: ملازمت کے لیے محض ایمان داری کافی نہیں، خوشامد اور چاپلوسی بھی ضروری ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
ج: ہاں شاید، جو لوگ باہرنکل کر کام کرتے ہیں، یہ سب بھی ضروری ہے کیونکہ ہم جیسی گھریلو خواتین بھی اگر تھوڑی سی خوشامد اور چاپلوسی سے اپنا کام نکال سکتی ہیں تو ضرور ملازمت میں بھی یہ اصول کارگر ثابت ہوتا ہوگا اور ویسے بھی اپنی تعریف کسے پسند نہیں آتی۔ یہ اور بات ہے کہ چاہے وہ جھوٹی اور مفاد میں لپٹی ہوں ہوئی ہی کیوںنہ ہو۔
س: اگر آپ نے اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں تو اب گھر والوں کا رویہ کیسا ہے؟ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو طمانیت کا احساس ہوتا ہے یا رائیگانی کا؟
ج: ابھی تو سفر کا آغاز کیا ہے اورنجانے منزل کہاںہو اور ہم پہنچ بھی پائیں گے کہ نہیں۔ فی الحال کچھ نہیں پتا، گھر والوں کا رویہ ٹھیک ہی رہتا ہے۔ بس ان کے کام وقت پر پورے ہوجائیں، کام میں تاخیر ہوگی تو رویے بھی بگڑیں گے اور موڈ بھی خراب ہوں گے۔ سسرال میں سب کے ساتھ مل جل کر ہی کام چلتا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھوں تو ایسا لگتا ہے کہ میرے اندر جو خوابوں،خیالوں میں رہنے والی لڑکی تھی، شاید وہ کہیں کھوگئی ہے۔ حالات کی تلخیوں نے حقیقت سے ایسے سامنا کروایا ہے کہ نظریں چرانے کو دل چاہتا ہے لیکن بے بسی ہے کہ نظریں پھیر بھی نہیں سکتے۔ دعا ہے خدا سے کہ اس کٹھن جدوجہد اور کوشش کے بعد رائیگانی کا احساس دلانے والا کوئی نہ ہو بلکہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر کچھ ایسا نظر آجائے جس سے روح و دل میں طمانیت اُتر جائے۔
اپنی تقدیر کے لکھے سے کسی کو کوئی گلہ نہیں ہوتا، سب حالات گزر ہی جاتے ہیں۔ ہاں والدین کو اتنا ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریںکہ کل جب وہ کسی کی بیٹی کو اپنی ذمہ داری پر بیاہ کر لائیں تو اس کی تمام ذمہ داریاں بھی بخوبی ادا کریں اور ہر بیٹی کے ماں باپ کو بھی صرف گھر، جائیداد دیکھنے کے بجائے اس لڑکے کے روزگار اور کام کاج کو ضرور دیکھنا چاہیے کیونکہ مرد کام کرتے ہی اچھے لگتے ہیں اور عورتوں کا اصل کام گھریلو اُمور اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھانا اور بچوں کی بہترین تربیت کرنا ہے۔ اللہ نے اگر مجھے یہ ذمہ داری دی ہے تو ضرور وہ ہمت اور حوصلہ بھی عطا کرے گا۔ کاش اپنے حقوق یاد رکھنے والے اپنے فرائض بھی یاد رکھیں۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close