Aanchal Mar 2019

ربؔنا آتنا (دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

عرض مُؤلِف

قرآن حکیم کی سورۃ البقرہ کی آیت ۲۰۱ ہے اس آیت مبارکہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور دعا بار بار پڑھنے کی تعلیم فرمائی ہے۔ یہ ایک ایسی مکمل دعا ہے جس میں اہلِ ایمان کو دنیااور آخرت کی بھلائی و بہتری طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قرآن کریم اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے تمام انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام معاشرت کی تشکیل اور عمل کاہدایت نامہ ہے۔
قرآن کریم کا مقصدِ نزول ہی یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کو ہدایت فرمائے کہ اسے اس دنیا میں کس طرح اور کیسے زندگی بسر کرنی ہے‘ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ قرآن کریم انسانیت کو ایک خاص نظریۂ حیات اور ایک خاص مقامِ زندگی عطا کرتا ہے جس کے نتیجے میں ایک مخصوص(اسلامی) معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ قرآن حکیم کے پیش نظر اس کرہ ارض پر ایک ایسی امت کی تشکیل ہے جو زمین پر پوری انسانیت کی قیادت کااہم ترین فریضہ ادا کرسکے۔ قرآن کی تشکیل دی ہوئی اُمّت کوتاریخ انسانی میں ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرنی ہے جوتمام معاشروں میں سب سے زیادہ بلند ہو اور ایک ایسی زندگی کا عملی نمونہ پیش کرناہے جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہ ملے۔
قرآن حکیم کا بنیادی موضوع ’’انسان‘‘ ہے۔ انسان کا تصّور و نظریہ اس کا فہم وادراک‘ شعور‘ اس کا طرز عمل اور کردار‘ اس کے تعلقات باہمی۔قرآنِ کریم کے موضوع خاص ہیں۔قرآن کریم نہ توطبعی علوم کو زیربحث لاتا ہے نہ ہی انواع اقسام کی مادی ایجادات قرآن کاموضوع ہیں۔ہرقسم کے مادی علوم تو عقل انسانی کا محورومرکزِ عمل ہیں۔ یہ عقل انسانی کا کام ہے کہ وہ اختراع وایجادات کے میدان میں نئے نئے نظریات قائم اور نئے نئے انکشافات کرے اور قدرت کی گتھیوں کو سلجھائے اور انہیں اپنے تابع کرکے اپنی بہتری کے لیے استعمال کرے کیونکہ عقل انسانی کا فہم وادراک ہی وہ امتیاز ہے جس کی وجہ سے انسان کوخلیفتہ اللہ فی الارض کامقام حاصل ہوا ہے اور یہ خصوصیت انسان کو اس کی تخلیق کے وقت ہی دے دی گئی تھی جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو فرشتوں پر ترجیح عطا فرما کر فطرت انسانی میں فہم وادراک‘مشاہدے اور حصولِ علم کی قوت ودیعت کردی تھی۔ جیساکہ خود قرآن حکیم میں رب کائنات نے فرمایا۔
ترجمہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے۔(البقرہ۳۱)
نام کے علم سے مراد اشیائے کائنات کا علم ہے‘ کیونکہ ’’اسم‘‘ علم کی عمومیت کا احاطہ کرتا ہے۔
قرآنِ کریم فطرتِ انسانی کا رہنما ونگہبان ہے۔ جو یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی فطرت میں کسی طرح کا کوئی فساد پیدا نہ ہو اس کے نظامِ حیات میں خلل پیدا نہ ہو وہ فطرت کے مطابق اپنی قوتوں کو بروئے کار لاکر احکامِ الٰہی اور منشائے الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ قرآنِ حکیم انسان کو کائنات کے بارے میں جامع علم عطا کرتا ہے۔ قرآن حکیم بتاتا ہے کہ کائنات‘ اس کے مختلف اجزا جن میں خود انسان بھی شامل ہے کا تعلق خالقِ حقیقی سے کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو محدود ارادے کا اختیار دے کر آزاد نہیں چھوڑ دیا اُسے صرف یہ آزادی دی کہ اپنے برے بھلے کی جزئیات کا ادراک خود کرے اور اپنے منصب ِ خلافت کی کارکردگی میں اپنی ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے جو اللہ تعالیٰ نے اسے تفویض کی ہیں۔
قرآن مجید کا موضوع انسان کی تشکیل وتکوین ہے اس کی شخصیت کی تعمیر‘ اس کے ضمیروعقل اور فکر کی تعمیر اور ایک صالح انسانی معاشرے کا قیام ہے تاکہ حضرت انسان اپنی فطری قوتوں کو کام میں لاکر اپنے اختیار وارادے سے پوری آزادی کے ساتھ صحیح تصوّرِ حیات اور پختہ شعور کے ساتھ ایک مکمل اسلامی معاشرے کی تشکیل کرے اور اپنی فہم وادراک کو بروئے کار لاتے ہوئے دیگر علوم کے میدان میں تحقیق وتجربات کرتا چلا جائے۔ قرآن تو صحیح فکروشعور اور تصوّرِ حیات کے معیارات مقرر کرتا ہے۔
قرآنِ حکیم چونکہ آخری اور مطلق حقائق کاایسا مکمل مجموعہ ہے جو انسانی حیات کو عین فطرتِ الٰہی کے مطابق کرنا چاہتا ہے تاکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے تابع رہے اور چاروں اطراف پھیلی کائنات اور انسان کے درمیان کوئی تصادم نہ ہوبلکہ انسان اس کائنات کے راز معلوم کرے‘ قوانین فطرت دریافت کرے اور انہیں اپنے منصب خلافت فی الارض کے فرائض انجام دینے میں استعمال کرے۔ا س لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں انسان کی عین فطرت کے مطابق اس کی فلاح وبہبود اور بھلائی کے لیے جگہ جگہ ہدایات دی ہیں۔ تاکہ انسان درست سمت میں اپنی زندگی کا سفر درست طریقے سے جاری رکھے‘ انسان چونکہ اللہ تعالیٰ کا نائب اوراس زمین پر اس کانمائندہ خاص یعنی خلیفہ ہے اور اسے اس زندگی سے متعلق تمام علوم سے آراستہ کرکے یہاں بھیجا گیا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے ایک صالح معاشرے کی تشکیل اور اپنے لیے ایک ایسا نظام حیات قائم کرنا جو عین قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق ہو اس کے فرائض میں شامل ہے کیونکہ وہی زندگی کا اصل محاصل ہے۔اگر انسان دنیا وی زندگی میں اتنا غافل ہوجائے کہ اپنے خالق ومالک کو بھول جائے یا وہ تمام ہدایات جو اللہ نے اسے زندگی بسر کرنے کے سلسلے میں دی ہیں یکسر نظرانداز کرکے شیطان کے چنگل میں پھنس کر صرف دنیا کا ہی ہوکر رہ جائے تووہ اس طرح نہ صرف اپنے آقا‘ مالک‘ اپنے خالق کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ خود اپنی آخرت خراب کرنے کابندوبست بھی کرتا ہے اور دنیا سمیٹنے میں لگا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے سب کچھ اسی دنیا میں دے دے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو احکام الٰہی کو سمجھتے‘ ان پرچلتے اور اللہ سے دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی کے طلبگار اور آگ کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔
دنیا میں انسانیت دوگروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حزب اﷲ ہے یعنی اہل ایمان کی جماعت۔ دوسرا شیطانی گروہ ہے جو کفروالحاد اور شرک کے ذریعے شیطان کے پھندے میں پھنسا ہوا ہے۔ہر نسل‘ہرعلاقے میں ایسے لوگ عام پائے جاتے ہیں جن کے پیش نظر صرف دنیا ہوتی ہے‘ دنیا ان کی ذات کی گہرائیوں میں اتری ہوتی ہے۔ انہیں تمام تر شوق حصول دنیا کا ہوتا ہے وہ ہر وقت دنیاوی امور میں مصروف رہتے ہیں اس نقطہ نظر کے حامل افراد اگر حج کرنے بھی جاتے ہیں تو وہاں بھی ضروریات دنیا کی ہی دعائیں کرتے ہیں۔ کاروبار میں ترقی‘اولاد‘ قرضہ وصول ہونے یا دنیاوی مشکلات کے حل ہونے اگر زراعت پیشہ ہیں تو بارش‘ تروتازگی اور پیداوار میں اضافے کی دعا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی دعائوں میں آخرت کا ذکر تک نہیں کرتے نہ اپنی بخشش ومغفرت کی دعائیں کرتے ہیں بس دنیا اور اسبابِ دنیا ہی طلب کرتے رہتے ہیں۔
دوسرے گروہ کا نقطہ نظر وسیع ہوتا ہے۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عین منشائے الٰہی کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ دنیا کی ضروریات بھی طلب کرتے ہیں لیکن عالمِ آخرت میں بھی اپنا بھرپور حصہ چاہتے ہیں۔ یہی گروہ ہے جو اللہ سے کہتا ہے
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔
قرآن کریم کی یہ زیر نظر آیت اپنی معنویت اور اہمیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے‘ اس مختصر آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یوں سمجھیں کہ کوزے میں سمندر رکھ دیا ہے۔ اس دعا کے ذریعے انسان دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کا ہی بندوبست نہیں کرتابلکہ آگ کے عذاب سے بچنے کی خواہش بھی کررہا ہے۔ اللہ کی بے پناہ رحمت وکرم اور پناہ کو طلب کررہا ہے یہ دعا ان ہی لوگوں کے لیے مفید اور فائدہ مند ہے جو قرآنِ حکیم کے احکام پرعمل پیرا رہتے ہیں۔ اللہ کی مرضی واحکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ یہی طریقہ آیت مبارکہ میں تعلیم فرمایا گیا ہے۔

مشتاق احمد قریشی

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

ترجمہ۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔
آیت مبارک کی ابتدا ربَّنا سے ہو رہی ہے۔رب کے لغوی معنی مالک‘ پروردگار‘ حاکم‘ حاجت رواکے ہیں رب اصل میں مصدر ہے بمعنی تربیت اور تربیت کہتے ہیں کسی چیز کو بتدریج درجہ کمال تک پہنچانا۔ لفظ رب‘ ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لفظ ’’نا‘‘ جمع متکلم ہے جس کے معنی ہیں۔ ہم کو‘ ہمارے‘ یہ ضمیر منصوب ومجرد ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طوافِ کعبہ کے وقت یہی دعا فرمایا کرتے تھے اور خصوصاً رکنِ یمانی اور حجر اسود کے درمیان اس دعا کا پڑھنا مسنون ہے۔(مسلم۔ابودائود) طوافِ کعبہ کے دوران عام طور پر لوگ مختلف دعائیں پڑھتے ہیں اور ہر چکر کی الگ الگ دعا پڑھتے ہیں۔ان دعاؤں میں انسانی زندگی کی ضرورتوں کا احاطہ کیا گیا ہے جبکہ یہ قرآنی دعا ہے ان کے بجائے اگر یہ قرآنی دعا پڑھی جائے تو سب سے افضل ہے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بھی ہوگی۔
اسلام تو حقیقت میں نام ہی اتباعِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے ہرہر حکمِ الٰہی پرمکمل عمل کرکے اہلِ ایمان کے لیے عملی نمونہ پیش کیا۔ سورۃ الفتح کی آیت نمبر ۱۰ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کواپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کو اپنی بیعت کہا ہے اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ نے اپنا ہاتھ بتایاہے اور سورۃ النساء کی آیت نمبر۸۰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت کہا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کامطلب قرآنی تعلیمات کی پیروی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے عملی طور پر ہمیں بتایا ہے کہ ان تعلیمات پر عمل کیسے کیا جاسکتا ہے۔ انسان اگر اپنے تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرے اور اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کردے۔ اور پھر جوکچھ اللہ کی طرف سے عطا ہو‘ اس پر راضی رہے۔ ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی اس کوخیرہی خیر ملے گا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی عیادت کی جو بہت کمزور اورنحیف ہوگئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ ’’تم اللہ سے کوئی دعا کرتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں یہ دعا کرتا تھا کہ اللہ مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا میں ہی دے دیجئے‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے تم یوں دعا کرو‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ان صحابی نے یہ دعا کی تواللہ کے حکم سے وہ شفایاب ہوگئے۔(صحیح مسلم‘ سنن ابودائود)
ربِ کائنات کی جانب سے انسان خلیفہ فی الارض کے لیے یہ ایک مکمل اور جامع وہمہ گیردعا ئے بے نظیر ہے جس کی مثال تمام سابقہ ادیان میں نہیں ملتی‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دعا کا کثرت سے ورد فرمایا کرتے تھے۔(بخاری۔مسلم)آیت مبارکہ میں اہلِ ایمان اپنے رب سے دونوںجہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں۔ وہ بھلائی کانام نہیں لیتے‘ اس کی تخصیص نہیں کرتے کہ کس قسم کی بھلائی اورخیر طلب کی جائے۔ کسی خاص قسم کی خیر کی طلب نہیں کرتے۔ وہ تو سب کچھ اپنے رب اپنے مالک وآقا کی مرضی پرچھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جوبھلائی‘ جوبہتری ان کے حق میں بہتر سمجھے وہ خودعطا فرمادے۔ وہی مختار کل ہے۔ اہل ایمان تو بس اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ ضمانت دیتا ہے کہ خیر میں انہیں ان کا حصہ ضرور ملے گا اوراس میں دیر نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تو بڑی جلدی حساب چُکاتا ہے وہ اپنے بندوں کا قرض اپنے پر نہیں رکھتا۔
قرآنی تعلیمات کی رو سے دیکھا یہ جاتا ہے کہ کسی شخص کا اندازِ فکر کیا ہے‘ اس کی نیت کیا ہے؟ جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب اپنے پورے اخلاص سے متوجہ ہوجاتا ہے اور اپنے تمام امورِ زندگی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اور اپنا اختیار اپنے رب کو دے دیتا ہے تو ایسے شخص کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائیاں ہی بھلائیاں ملیں گی اور جو شخص صرف دنیا کوہی اپنے پیش نظر رکھے تو دنیا میں تو اسے شاید بہت کچھ مل جائے لیکن وہ اپنی آخرت کھوبیٹھتا ہے۔ اسلام ایسا نظامِ حیات عطا کرتا ہے جس میں دنیا اور دین دونوں شامل ہوں۔انسان کی پوری زندگی کو ایک نظم ایک تہذیب وشائستگی سے ہم کنار کرتا ہے۔ اسلام کے احکام کو منشاء الٰہی کے مطابق اپنانے والا اور احکامِ الٰہی پر بالکل ایسے ہی عمل کرنے والا جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی ہے اطاعت اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جم جانے والا ہی ہر طرح کے دنیوی اور اُخروی فائدے میں رہتا ہے۔
اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ قطعی نہیں کرتا کہ وہ ترکِ دنیا اختیار کرلیں۔ اسلام تو راہبانیت اور ترک دنیا کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنی خلافت کے لیے بھیجا ہے۔ اسلام تو اہلِ ایمان سے صرف اتنا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام دنیاوی اوردینی امور میں پوری توجہ اور نیک نیتی کے ساتھ صرف اللہ کی طرف متوجہ رہیں۔ انسان اپنی فکر کو اس قدر محدود نہ کرے کہ وہ صرف دنیا (جو ساری مخلوقات کا عارضی ٹھکانا ہے) کاہی ہوکررہ جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے احسانات وعنایات کو یکسر فراموش کردے۔
اسلام تو انسان کو اس محدود دنیا میں کسی بھی طرح مُقیّدیامحدود نہیں کرتا۔ اسلام تو انسان کو دنیا کی چاردیواری سے آزاد کرکے کائنات کے ذرے ذرے کو اس کاتابع فرمان ہونے کی خوش خبری دیتا ہے وہ انسان کو بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کس طرح رہنا ہے کس طرح کام کرنا ہے اور اس دنیا سے کس طرح کام لینا ہے۔ قرآن کریم انسان کو اس کے تمام فرائض سے نہ صرف آگاہ کرتا ہے بلکہ ان تمام فرائض کو سرانجام دینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے تاکہ وہ اس دنیا میں جس منصب پر مامور کیا گیا ہے اسے درست طریقے پربجالائے۔ ایک سچے اہلِ ایمان کے لیے دنیا کی تمام جاہ وحشمت کسی حقیر ذرے کی مانند ہوتی ہے۔ اسے یہ دنیا آخرت ودائمی زندگی کے سامنے بڑی معمولی اور کم تر نظر آتی ہے۔ اسے تو صرف اور صرف اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کی فکر رہتی ہے۔ اسلام انسان میںبلند ترین تصوّرِ حیات پیدا کرتا ہے اور انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے بہترین پاکیزہ معاشرہ عطا کرتا ہے۔ آیتِ مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ انسان کی زندگی کی قدروں کامیزان ومعیار تقویٰ ہے۔
آیتِ مبارکہ اپنے معنی ومطالب کے اعتبار سے ایک مکمل دعا ہے جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ یہ دعا اہل ایمان کی زندگی میں بلکہ ہر ذی شعور انسان کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کی تشریح وتفسیر کی طرف بڑھیں بہتر یہ ہوگا کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ دعا بذات خود کیا ہے؟

دعا

انسان کااپنی طلب اور خواہش کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا‘ اسی سے مدد مانگنا دعا ہے۔(مدد تووہی ہستی کرسکتی ہے جو مدد کرنے پر قدرت رکھتی ہوانسان کی ہر مشکل اور مسئلے کو اپنی قوت وارادے سے حل کرسکتی ہو اور وہ ذاتِ خاص صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کی ہے جو ہمارا مالک وخالق ہے۔ وہی ہماری تمام ضروریات وخواہشات کو پورا کرنے والا اور کرسکنے والا صاحب اختیار واقتدار ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں جو اس کی مرضی ومنشاء کے خلاف کسی کی کسی بھی طرح سے کوئی مدد کرسکے)
قرآن حکیم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے ’’اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذاانہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔(البقرہ ۱۸۶)
انسان فطرتاً دعا اسی چیز کی کرتا ہے جس کی طلب اور خواہش اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور دعا وہ اسی صورت میں کرتا ہے جب اسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جس ہستی سے وہ مانگ رہا ہے وہ مطلوبہ چیز اس کے اختیار میں ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔ وہی ہے جو ہمارے ارادے ہماری نیت تک سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے‘ وہی ہمارا خالق ومالک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ترحاجت روائی‘مشکل کشائی کا سامان‘سارااختیار اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے۔ صرف وہی ہستی ہے جو اپنے تمام بندوں کی پکار کو سنتی ہے اور ایسے سنتی ہے جیسے کوئی اور نہیں سن سکتا۔ اللہ کے سوااور کون ہے جو ہماری پکار‘ہماری طلب کو سن سکے اور پورا کرسکے اور نہ ہی ہماری طلب پوری کرنے کا اختیار کسی کو ہو۔ کیونکہ دنیا کے نظام کوچلانے اس کی تدبیروانتظام میں کسی دوسرے کو کسی بھی طرح کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ کسی کو ایسی سفارش کرنے کا حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی فیصلے کو بدل سکے یا بدلواسکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے جو اپنے بندوں کی پکار‘ ان کی طلب‘ ان کی دعائیں سنتا بھی ہے اور اگر وہ طلب گار کے حق میں بہتر سمجھتا ہے تو اسے پورا بھی کرتا ہے کیونکہ وہ ناصرف ہمارا خالق ہے بلکہ ہمارا پالنے والا پروردگار بھی ہے اور وہی ہماری حقیقی ضرورتوں سے بخوبی آگاہی بھی رکھنے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم جو کچھ بھی مانگیں صرف اسی سے مانگیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح کسی اور سے مدد طلب کرنایا مانگنا اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان کے خلاف ہے جو اس کی ناراضی کاباعث بھی بن سکتا ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی تہذیب کرتا ہے‘ انہیں معاشرے میں زندگی گزارنے کے قاعدے سکھاتا ہے۔ اسلام نے اسلامی معاشرے کو ایک تہذیب‘ ایک نظامِ حیات عطا کیا ہے۔اس اسلامی نظامِ حیات نے اہلِ ایمان کو وہ تہذیب وسلیقہ بھی تعلیم کیا ہے کہ جب تمہیں اپنے رب سے کچھ مانگنا ہو تو کیسے مانگو‘ قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ فاتحہ ہے جو خود ایک مکمل دعا ہے اور سورۃ فاتحہ ہی میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے رب سے کیسے دعا مانگنی چاہئے(اس کے لیے ہماری کتاب تفسیر سورۃ الفاتحہ دیکھی جاسکتی ہے)
اپنے رب سے دعا مانگنا خو د اپنی جگہ عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی‘ فرمانبرداری‘ عاجزی وانکساری محتاجی اورکم مائیگی‘ اپنی بے بسی کااظہار کررہا ہوتا ہے اور اپنے رب کی بڑائی اور اس کی حاکمیت کااقرار کررہا ہوتا ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا ہر عمل شریعت کے مطابق ہو اور خالص رضائے الٰہی کے لیے ہو تب ہی ہم اپنے عمل کی بارگاہ الٰہی میں مقبولیت کی توقع کرسکتے ہیں۔ دعا بجائے خود عبادت ہے اور عبادت کا اہم جزواخلاص ہے اور اپنے رب سے جب بندہ مخلص ہوتا ہے تو پھر وہ صرف اپنے رب کی رضا اور اس کی خوشنودی کاطلب گار ہوتا ہے لیکن انسان کابشری پہلو اپنے مالک اپنے رب کے سامنے اپنی ضرورتوں اور اپنی تکلیفوں کااظہار کرکے اس کاازالہ بھی چاہتا ہے کیونکہ انسان فطری اور خلقی طور پرکمزور وناقص ہے۔ جب کبھی وہ اپنے آپ کو بے بس وکمزور اور محروم سمجھتا ہے تو اپنی اس بے بسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنے رب کوپکارتا ہے یہی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے ہوش وحواس میں رہتے ہوئے اضطراری کیفیات پر اپنے ارادے سے قابو پاتے ہوئے اپنی درخواست اپنے رب اپنے مالک وخالق کے سامنے تمام آداب واحترام کوملحوظ رکھ کر پیش کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی نازک لمحات میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعائیں مانگیںجو قبول ہوئیں۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جس سے قلب صاف رہتا ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ اپنے دل کا بوجھ کسی سے کہہ لیتا ہے تو خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے اور جب اپنی قلبی کیفیت کااظہار ایک ایسی ہستی سے کیا جائے جو صاحب اختیار واقتدار بھی ہواورجس سے یہ امید ہی نہیں یقین بھی ہو کہ وہ اس کے من کی مراد پوری کردے گا تو اس کے ارادوں میں خلوص واستقامت پیدا ہوتا ہے اور دعا تو ایک پکار ہے۔ دعا کے ذریعے بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے اور آیتِ مبارکہ جس کی یہاں تشریح کرنا مقصود ہے اس میں بھی رب کائنات یہی تعلیم فرمارہا ہے کہ ہمارا رب کون ہے‘کیسا ہے اور ہمیں اس کی عبادت کیوں اور کیسے کرنی ہے چونکہ آیت کی تشریح وتفسیر لفظ بہ لفظ کرنا مقصود ہے اس لیے اب ہم آیت مبارکہ کے پہلے لفظ ربنا کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔

(جاری ہے)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close