Aanchal Mar 2019

حمد و نعت

یاسمین کنول/عبدالستار نیازی

حمد باری تعالیٰ

سارے جہاں کا داتا کون و مکاں کا ملک
ہے اس کی ذات افضل دونوں جہاں کا مالک
دنیا کی ساری رونق محتاج ہے اس کی
جتنی بھی رونقیں ہیں روح رواں کا مالک
درد جنوں ہو کوئی یا دردِ آدمیت!
سب کا بنے وہ درماں ہے انس و جاں کا ملک
آدم کی مشکلوں کو ہے جانتا ازل سے
ہے وہ نہاں کا ملک ہے وہ عیاں کا ملک
دلکش رسل جتنی آوازیں ہیں جہاں میں
بہتر سمجھتا ہے وہ سب کی زبان کا مالک
دنیا کی نعمتیں ہوں یا دین کے خزانے
مانگو اسی سے سب کچھ وہ ہے جہاں کا مالک
دیکھے ہیں جتنے موسم سب اس کی دسترس میں
سرما بہار گرما وہ ہے خزاں کا مالک
دنیا کے کام سارے کیسے چلیں کنولؔ سے
وہی چلا رہا ہے جو ہے جہاں کا مالک

(یاسمین کنول… پسرو)

نعت رسول مقبولﷺ

بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
سجی ہے محفل کونین مصطفیٰؐ کے لیے
حضورؐ نور ہیں محمودؐ ہیں محمدؐ ہیں
جگہ جگہ نئے عنوان ہیں ثنا کے لیے
مرے کریم مرے چارہ ساز و بندہ نواز
ترس رہا ہوں ترے شہر کی ہَوا کے لیے
گدائے کوئے مدینہ ہوں کس کا منہ دیکھوں
ان ہی کی بخششیں کافی ہیں مجھ گدا کے لیے
ان ہی کا ذکر ان ہی کا بیاں ان ہی کا نام
ہر ابتدا کے لیے ہے ہر انتہا کے لیے

(عبدالستار نیازی)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close