Aanchal Mar 2019

سرگوشیاں

مدیرہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!

مارچ 2019ء کا آنچل آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر ہے۔
23 مارچ 1940ء کا تاریخ سازدن جب قیام پاکستان کی پہلی اینٹ رکھی گئی‘ وہ مبارک دن جب برصغیر کے مسلمانوں نے بطور قوم خود کو منوایا‘ متحد کیا اور ایک نئے وطن کے قیام کے لیے عظیم جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ اتحاد و اتفاق ہی کی برکت تھی کہ محض سات سال بعد ایک نظریاتی ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی‘ جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہوگی جہاں اسلامی اصولوں کو نافذ کیا جائے گا‘ تجربہ گاہ تو حاصل ہوگئی مگر جہاں بجائے اسلامی اصولوں کو بطور رہنما اصول نافذ کرنے کے ہم نے نت نئے تجربات کیے۔ جمہوریت‘ آمریت‘ مارشل لاء‘ پارلیمانی نظام‘ صدارتی نظام ہر طرح کے نظام کا ناکام تجربہ کرنے کے بعد اب ریاست مدینہ کا تجربہ کرنے جارہے ہیں۔
ریاست مدینہ اسلام کے درخشاں اصولوں پر قائم کی گئی تھی‘ جہاں حکمِ الٰہی کو اولیت حاصل تھی۔ قانون سب کے لیے تھا اور قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔ مسلمانوں کا تو کہنا ہی کیا اقلیتوں کے حقوق کی بھی پاسداری کی جاتی تھی اور ہمارا حال یہ ہے کہ جینا‘ جرم بنادیا گیا ہے۔ مہنگائی ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہے‘ گیس نہ گھروں کو دستیاب ہے نہ صنعتوں کو‘ پولیس گردی کا راج ہے‘ ساہیوال ہو یا کراچی بے گناہ مارے جارہے ہیں۔ کمیٹیاں بن رہی ہیں تحقیقات ہورہی ہیں۔ دہرا قانون نافذ ہے۔
وہ چوروں لٹیروں کو الٹا لٹکانے کا خواب کیا ہوا؟ مال مسروقہ جو برآمد کرنا تھا اس کا کیا؟ بنا وی آئی پی قیدیوں کے لیے علاج کا شور ہے۔ تھر میں بچے بھوکے مر رہے ہیں۔ نئے درخت لگانے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ انسانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹایا جارہا ہے۔
بھیک ملنے پر خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ بد کلامی اور دشنام طرازی کو رواج دے دیا گیا۔ ساری ریوڑیاں اپنوں میں بانٹی جارہی ہیں اور خواب ہے ریاست مدینہ کا۔
دین اسلام اخلاق و کردار کی مضبوطی پر زور دیتا ہے۔ عدل و انصاف‘ روا داری‘ تحمل و برداشت‘ ایثار و قربانی اس کے سنہرے اصول ہیں۔ حکمراں پوری قوم کا نمائندہ ہوتا ہے اور یہ تو آفاقی اصول ہے کہ لوگوں پر ویسے حکمران مسلط کیے جاتے ہیں جیسے وہ خود ہوتے ہیں۔
ہماری اسلامی پستی کا عالم یہ ہے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے ادارے کا سربراہ بھی خود کو شہنشاہ معظم کے سے کم نہیں سمجھتا۔ دلیل کی جگہ گالی نے لے لی ہے‘ اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ منافقت قومی عادت بن گئی ہے اور خواب ہے ریاست مدینہ۔ اﷲ سبحان و تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے‘ آمین۔
اس ماہ کے ستارے:
نادیہ فاطمہ رضوی‘ شبینہ گل‘ سباس گل‘ حرا قریشی‘ خولہ عرفان‘ عمارہ خان‘ ماہم نور انصاری اور صباء احمد خان۔

اگلے ماہ تک کے لیے خدا حافظ

دعا گو
قیصر آرأ

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close