Hijaab Mar 2019

محافظ

یمنیٰ نور

رات بیت گئی تھی۔ صبح کے ملگجے اندھیرے میں سرخ اینٹوں سے بنے مکان کی طاق میں رکھے مٹی کے دیے کی لو پھڑپھڑانے لگی تھی۔ شاید دیے کا تیل ختم ہونے کو تھا۔ دور افق پر مشرق کی سمت صبح کا ستارہ چمک رہا تھا۔ فجر کا آغاز ہوچکا تھا۔ پرندے جاگ کر حمد و ثنا میں مشغول تھے۔
اسی سرخ اینٹوں والے مکان کے برآمدے کی کچی زمیں پہ کوئی بہت دیر سے، ستون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ اس کے اندر کے کرب کی عکاسی کررہا تھا۔ کچھ دیر پہلے موذن اذان دے کر خاموش ہوئے تھے مگر وہ پھر بھی وہیں بیٹھی تھی۔ جیسے اسے خوف ہو کہ اگر وہ وہاں سے اٹھ گئی تو کچھ کھو جائے گا۔
باد نسیم روشن صبح میں نئی امیدوں کا پیام لیے خاموشی سے سرخ اینٹوں کی دہلیز پار کرکے کچے صحن میں داخل ہوئی اور ہر سو پھیل گئی۔ صحن میں بکھرے پتے ادھر ادھر بھٹکنے لگے۔
تابندہ نے آنکھیں کھول کر صحن میں پھیلے اجالے کو دیکھا، ایک نگاہ دروازے پہ ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کی بادامی آنکھیں جو رونے کے باعث سرخ تھیں ان سے برسوں کا انتظار جھلک رہا تھا۔ وہ تھکے قدموں سے صحن میں بنے چھوٹے سے واش روم کی جانب چل دی۔ کچھ دیر بعد وضو کرکے وہ جائے نماز پہ آن کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے گرد لپٹی سفید چادر کو نماز کے طریقے سے پھر سے اوڑھا اور ایک دفعہ پھر گردن موڑ کر داخلی دروازے کو دیکھا۔
’’پتا نہیں یہ انتظار کب ختم ہوگا؟‘‘ اس کے دل نے سرگوشی کی‘ تابندہ نے سر جھٹکتے ہوئے نماز کے لیے نیت باندھی۔ نماز سے فارغ ہوکر ایک دفعہ پھر وہ برآمدے کے ستون سے لگ کر بیٹھ گئی۔ اس کی نگاہیں مسلسل داخلی دروازے کا طواف کررہی تھی۔ دل بے چینی سے دستک کا منتظر تھا۔ آج پیر تھا محافظ نے پیغام بیجھنا تھا۔ وہ پیر کو اسے خط لکھے گا۔ اسے یقین تھا۔ آج محافظ کا خط ضرور آئے گا۔ اس نے ایک دفعہ پھر آنکھیں موند لیں۔ ذہن اور آنکھیں ماضی کی جانب محو سفر تھے اور وہ سفر میں ڈور تھامے پیچھے کو دوڑنے لگی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
مارچ کا آغاز ہوچکا تھا۔ کھیت میں لگی گندم کی سنہری بالیاں سر اٹھا رہی تھیں۔ گاؤں کے کنارے سڑک سے خاصے فاصلے پر آبادی سے ذرا باہر نکلے سرخ اینٹوں والے مکان جس کے باہر شیشم کا بڑا سا درخت تھا۔ درواؔزے سے سنہری رنگت سیاہ بال اور بادامی آنکھوں والی لڑکی نے جھانکا تھا۔ کچھ دیر گاؤں کو آتی سڑک کا اچھی طرح جائزہ لینے کہ بعد اس نے دروازہ بند کردیا۔ اس کی آنکھیں مایوسی سے بجھ سی گئیں۔ پیچھے بیٹھی ہاجرہ ہنس ہنس کے پیٹ کہ بل دہری ہوگئی۔ تابندہ نے گھور کر اسے دیکھا اور واپس اس کے برابر سیڑھیوں پر آبیٹھی۔
’’حیرت ہے آنا میرے بھائی کا خط ہے اور بے چینی تمہیں لگی ہوئی ہے۔‘‘ ہاجرہ نے خود کو سنجیدہ ظاہر کرتے ہوئے کہا مگر پھر بھی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’مرو تم۔‘‘ تابندہ نے غصے سے اس کی کمر پر مکا رسید کیا۔
’’مریں میرے دشمن۔‘‘ ہاجرہ کی آنکھوں سے شرارت ظاہر تھی۔ تابندہ نے ٹھوڑی کو گھٹنوں پہ ٹکایا اور نگاہ دروازے پہ جمالی۔
’’تم نہیں سمجھو گی ہاجرہ، یہ جو خاموشی ہے ناں یہ سب کہہ دیتی ہے۔ یہ دن کے شور وغل میں چھپی خاموشی میلوں دور سرحد پہ کھڑے محافظ کے دل کی ہر بات کہہ دیتی ہے۔‘‘ دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ ہی سائیکل کی گھنٹی کی آواز سنائی دی۔ ہاجرہ نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ باہر ڈاکیا کھڑا تھا۔ ہاجرہ کو دروازہ کھولتے دیکھ کر ڈاکیے نے خاکی لفافہ بستے سے نکال کر ہاجرہ کی جانب بڑھایا۔
’’مجھے پتا تھا پتر تو ادھیر ہوگی اس لیے سیدھا یہاں ہی آیا۔‘‘
’’بہت شکریہ چاچا۔‘‘ ہاجرہ نے لفافہ لے کر دروازہ بند کردیا۔ تابندہ بھی اس کے پیچھے لپکی اور اس کے کھولنے سے پہلے لفافہ اس کے ہاتھ سے چھین لیا۔ ہاجرہ اس کی اس بے قراری پر مسکرادی۔
’’پڑھ لو۔ ہمشہ کی طرح اس بار بھی تمہارے نام صرف خاموشی ہوگی۔‘‘ ہاجرہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور خط اس کے ہاتھوں سے لے لیا۔ تابندہ کا منہ بن گیا۔
’’حد ہوتی ہے بدتمیزی کی۔ بندہ سلام کا جواب ہی دے دے۔‘‘ تابندہ کو دکھ ہوا غصہ بھی آیا۔ ایسی بھی کیا بے مروتی، پچھلے خط کے جواب میں اس نے کتنے چاؤ سے محافظ کو سلام بھیجا تھا مگر اس کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آیا تھا۔
’’اسے حرف عام میں بدتمیزی نہیں شرافت کہتے ہیں۔ بندہ سلام کا جواب دینے کی بجائے برائے راست نکاح کا پیغام بھیجے گا۔‘‘ ہاجرہ اس کے یوں ناراض ہونے پر مسکراتے ہوئے بولی۔ تابندہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
’’سچ کہہ رہی ہو ناں؟‘‘ اس کا لہجہ اندیشوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہاجرہ نے محبت سے اسے گلے لگالیا۔
’’بالکل سچ۔‘‘ اسے لگا یہ یقین دہانی ہاجرہ نہیں بلکہ سرحد پہ بیٹھے محافظ کی جانب سے ہے۔ تابندہ نے پرسکون ہوکر آنکھیں موند لی تھیں۔
٭٭٭…٭٭٭
اگست رخصت ہوا اور ستمبر آن پہنچا۔ موسم میں ہلکی سی تبدیلی آگئی۔ گرمی سے کملائے لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس دفعہ اس کا خط نہیں بلکہ وہ خود آرہا تھا اس پیام نے گویا ہر سو بہار پھیلا دی تھی۔ تابندہ کے لبوں پہ مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔ ہاجرہ بھی بہت خوش تھی۔ مہینوں بعد اس کا اکلوتا پیارا بھائی لوٹ رہا تھا۔ محافظ کہ آتے ہی ہاجرہ کی شادی تھی۔ یہ چھٹی وہ ہاجرہ کی شادی کے لیے ہی لے کر آرہا تھا۔ پھر اسے جلد واپس لوٹ جانا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں کارگل کے محاذ پر خاصی گرمی تھی۔ جنگ کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ محافظ جس کا اصلی نام تو طاہر تھا مگر محبت سے سب اسے محافظ کہتے تھے۔ وہ اپنے گاؤںکا واحد سپوت تھا جو گاؤں سے شہر تعلیم کے لیے گیا اور پھر وہیں سے فوج میں بھرتی ہوگیا تھا۔
طاہر فوج میں کپتان تھا۔ گندمی رنگت، بھوری آنکھیں اور سیاہ بالوں والا چھ فٹ کا یہ نوجوان پورے گاؤں کی آنکھ کا تارا تھا۔ جب کبھی وہ گاؤں آتا، سارا گاؤں اس سے ملنے آتا۔ جس راستے سے وہ گزرتا لوگ کھڑے ہوکر سلام کرنے لگتے۔ طاہر بھی محبت احترام اور انکساری سے ہر چھوٹے بڑے سے پیش آتا۔ یہ سب محبتیں جو اسے مل رہی تھیں وہ ان کا حق دار تھا۔
تابندہ رشیدہ خالہ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کے والدین کا آگے پیچھے انتقال ہوگیا تھا اور وہ اپنی نانی کے پاس رہتی تھی۔ ہاجرہ‘ تابندہ کی سہیلی تھی اور طاہر ہاجرہ کا بھائی۔ تابندہ کے آنے کہ بعد طاہر صرف ایک دفعہ چند دنوں کے لیے گاؤں آیا اس تمام وقت میں بھی وہ اس قدر مصروف رہا کہ نہ تابندہ اسے دیکھ پائی نہ ہی طاہر کی نگاہ اس پر پڑی۔ طاہر سے تابندہ کا غائبانہ تعارف تھا۔ ہاجرہ اکثر تابندہ سے مختلف دیسی چیزیں بنوا کر طاہر کو کھلاتی جواب میں ہر بار طاہر اسے بتاتا کہ یہ ہاجرہ کا نہیں بلکہ کسی اور کے ہاتھ کا ذائقہ ہے ساتھ ہی ہلکی پھلکی تنقید میں لپٹا شکریہ کہہ دیتا۔ تابندہ اس تنقید میں چھپی تعریف کی خوشبو پہچان کر مسکرا دیتی۔ اب تو ان تینوں کو اس کی عادت ہوگئی تھی۔ طاہر کی زبان اور دل اس کے ساحر ہوچکے تھے اور بھیجنے والی کا دل بھی سرحد پہ بیٹھے محافظ کا خط کا منتظر رہتا۔ یوں ہی دوسال گزر گئے۔ طاہر کو مغربی سرحد سے کارگل کے محاذ پر بھیج دیا گیا۔ سیاچین جانے سے پہلے وہ ہاجرہ کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا۔ اسی لیے چھٹی لے کر گاؤں پہنچ گیا تھا۔
اس کی آمد کی خبر اسے پہلے ہی مل چکی تھی۔ تابندہ اپنے گھر کی دہلیز پر دروازے کی اوٹ میں کھڑی، گاؤں کی پکی سڑک پر نگاہ جمائے اس کی آمد کی منتظر تھی۔ کچھ ہی دیر میں اس کا انتظار ختم ہوگیا۔ وہ کندھے پر سفری بیگ اٹھائے چلا آرہا تھا۔ تابندہ کا دل شدت سے دھڑکنے لگا۔ وہ پہلی بار طاہر کو یوں اپنے سامنے دیکھنے والی تھی۔ طاہر ان کے گھر سے چند گز کہ فاصلے پر تھا۔ تابندہ کا دروازے پر دھرا ہاتھ کانپنے لگا۔ سرمئی رنگ کیٍ شلوار سوٹ میں وہ بالکل اس کی نگاہ کے سامنے تھا۔ جیسے ہی وہ دروازے کے بالکل سامنے پہنچا تابندہ گھبرا کر چند قدم پیچھے ہٹی اور زور سے دروازہ بند کردیا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پلکیں وفور حیا سے جھکی ہوئی تھیں۔ وہ شخص تو اس کے گمان سے بھی زیادہ وجہیہ اور پرکشش تھا۔ کتنے ہی پل وہ اپنے قدموں پر ساکت کھڑی رہی‘ دہلیز کے دوسری جانب گزرتے شخص نے دروازہ بند ہونے کی آواز پر لمحے بھر کو رک کر دیکھا۔ ایک دلفریب مسکراہٹ اس کے لبوں پہ ابھری اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ وہ پھر سے آگے بڑھ گیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
آج ہاجرہ کی مہندی تھی۔ کچھ دن پہلے اسے مایوں بیٹھا دیا گیا تھا۔ تابندہ نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا پیلے اور روپہلے امتزاج کے ریشمی شلوار قمیص میں وہ بے حد خوب صورت لگ رہی تھی۔ کلائیوں میں سوٹ کی ہم رنگ کانچ کی چوڑیاں اور ہتھیلی پہ حنا کے پھول اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ بالوں میں اس نے کاہی پراندہ ڈال رکھا تھا جو چھوٹے چھوٹے شیشوں سے سجا ہوا تھا۔ اس نے چھوٹے سے لکڑی کے ڈبے سے چاندی کے جھمکے نکال کر کانوں میں پہن لیے۔ یہ جھمکے اس کی اماں کے تھے۔ وہ مسکرادی مسکارہ لگا کر اس نے نہایت نفاست سے آنکھوں میں کاجل لگایا اور آخر میں گلابی ہونٹوں پر ہلکے شفتالو رنگ کی لپ اسٹک لگائی۔ اس نے ایک دفعہ پھر آئینے میں اپنا بھرپور جائزہ لیا خود کو سراہا اور مسکراتی ہوئی برآمدے میں آ گئی۔ آج کا دن ہاجرہ کے لیے بہت خاص تھا اور اس کے لیے بھی۔ وہ اس شخص پر اپنا پہلا تاثر بہت اچھا ڈالنا چاہتی تھی۔ دھیمی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو کر گزری۔
تابندہ نے طاق میں میں رکھے دیے میں تیل ڈالا اور قریب رکھے ماچس سے دیے کی لو کو سلگایا۔ دیے کی روشنی برآمدے میں ہر طرف پھیل گئی۔ وہ دیے کو دیکھنے لگی۔ اگرچہ ان کے گھر میں بجلی کی سہولت موجود تھی مگر پھر بھی ہر شام مغرب کے بعد طاق میں رکھا دیا جلایا جاتا۔ نانی کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے گھر بلاؤں سے محفوظ رہتا مگر نانی شاید یہ نہیں جانتی تھیں کہ کچھ بلائیں بہت طاقت ور ہوتی ہیں، کوئی دیا انہیں آنے سے روک نہیں سکتا۔ تابندہ کو طاق کے پاس کھڑی دیکھ کر نانی نے اسے آواز دی۔
’’تابی… برتن سمیٹ لیے، دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ خاموش کھڑی رہی‘ کچھ دیر بعد وہ دونوں ہاجرہ کے گھر تھیں۔
ہاجرہ کا مکان رنگ برنگے قمقموں سے سجا ہوا تھا۔ صحن میں لکڑی کی نئی چارپائیاں بچھائی گئیں تھیں جن پر خوب صورت رنگین چادریں بچھی تھیں۔ ہاجرہ کمرے میں تھی۔ نانی گاؤںکی عورتوں میں بیٹھ گئیں جبکہ وہ ہاجرہ کے پاس آگئی۔ ہاجرہ ہاتھوں، پیروں پر ابٹن لگائے بیٹھی تھی۔ اسے دیکھتے ہی خفا سے انداز میں بولی۔
’’یہ کوئی وقت ہے آنے کا۔‘‘
’’میری بنو، کیوں ناراض ہوتی ہو تیار ہونے میں وقت لگ گیا۔‘‘ تابندہ نے ہنس کر اس کے گرد بانہیں حائل کرلیں۔ ہاجرہ نے اسے دیکھا۔ وہ پیلے جوڑے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اس نے دل میں تابندہ کی نظر اتاری۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو نظر لگاؤ گی۔‘‘ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر تابندہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’لڑکی میں تو یہ دیکھ رہی ہوں کہ مہندی میری ہے اور تیاریاں تیری‘ خیر تو ہے‘ کہیں میرے بھائی کو گمراہ کرنے کا تو ارادہ نہیں۔‘‘ ہاجرہ نے اسے چھیڑا۔
’’شرم تو نہیں آتی۔‘‘ وفور حیا سے پلکیں جھکاتے اس نے ہاجرہ کے چپت لگائی۔
’’ہاجرہ میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں ناں۔ پتا نہیں وہ مجھے دیکھتے ہی کیا سوچے گا۔‘‘ کچھ دیر بعد وہ بولی تو اس کے لہجے میں خوف اور اندیشے تھے۔ ہاجرہ نے محبت سے اسے دیکھا۔
’’میرا بھائی ظاہری حسن دیکھتا۔ وہ بہت سادہ دل ہے۔ اسے سادگی بھاتی ہے۔ وہ تمہیں نہ بھی دیکھے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ ہاجرہ نے اسے تسلی دی‘ دروازے پر دستک ہوئی، ایک لڑکی کھانا لیے اندر داخل ہوئی اور کھانا میز پر رکھ کر واپس چلی گئی۔
’’اچھا تم یہ فکر چھوڑو اور کھانا کھاؤ۔‘‘ اسے خاموش دیکھ کر ہاجرہ نے اس کی توجہ بٹائی۔
کھانے سے فارغ ہوکر لڑکیاں صحن میں ڈھولک رکھے گیت گانے لگی۔ ہاجرہ کو ان سب کے درمیان لاکر بٹھا دیا گیا۔ تابندہ کی نگاہیں طاہر کو تلاش کرتی رہیں مگر وہ اسے کہیں نظر نہ آیا۔ رات آہستہ آہستہ گزرتی رہی۔ مہندی کی رسم سے فارغ ہوکر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ وہ ہاجرہ کے پاس ہی رک گئی۔ ہاجرہ اور وہ چھت والے کمرے میں لیٹی تھیں۔ اس نے پلنگ پہ اپنے برابر سوتی ہاجرہ کو دیکھا اور کھڑکی میں آگئی۔
چاند کی آخری تاریخیں تھیں سو آسمان خالی تھا۔ دور تک ننھے ننھے ستارے چمک رہے تھے۔ وہ خالی آسمان کو تکتی رہی۔ اسی لمحے صحن میں کوئی جائے نماز پہ جھکا تھا۔ اس نے سفید رنگ کا شلوار قمیص پہن رکھا تھا۔ تابندہ کی نگاہ آسمان سے ہٹ کر سامنے کھڑے شخص پر جا ٹھہری۔ اب وہ تشہد کی حالت میں تھا۔ اس کا چہرہ بالکل سامنے تھا۔ کتنے ہی پل گزر گئے۔ تابندہ پلک جھپکے بنا اسے دیکھتی رہی۔ سلام پھیر کر اب وہ ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہا تھا۔ اس کی کشادہ پیشانی روشن تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اردگرد سے بے نیاز مانگنے میں مصروف تھا۔ تابندہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔
’’وہ کیا مانگ رہا تھا؟ کیا اس کی دعاؤں میں تابندہ کا نام بھی شامل تھا۔ اگر اس نے اپنے لیے جنت مانگی تھی تو کیا اس کا نام بھی ساتھ لیا تھا۔‘‘ اس کے اندر ایک ساتھ بہت ساری سرگوشیاں سر اٹھا رہی تھیں۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ اس نے ایک نگاہ دعا منگتے طاہر پہ ڈالی اور دبے پاؤں اپنے بستر پہ آلیٹی۔ دعا مانگ کر چہرے پہ ہاتھ پھیرتے طاہر کا دل بہت مطمئن تھا۔ قبولیت کا یقین اس کے اندر تک اترنے لگا اور وہ آسودگی سے مسکرا دیا۔
٭٭٭…٭٭٭
بارات آچکی تھی۔ کچھ ہی دیر میں نکاح خواں نکاح کے لیے آنے والا تھا۔ ہاجرہ کا رنگ فق ہوا تھا۔ تابندہ اسے اس حالت میں دیکھ کر بے اختیار ہنستی چلی گئی۔
’’جتنا ہنسنا ہے ہنس لو تمہارا وقت بھی قریب ہے۔‘‘ ہاجرہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’کتنا مزہ آرہا ہے ہاجرہ تمہیں اس حال میں دیکھ کر۔‘‘ تابندہ بھی کہاں اسے چھیڑنے سے باز آرہی تھی مگر موقع اور وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے ضبط کر گئی۔ دروازے پر دستک ہوئی ہاجرہ کی خالہ، طاہر گواہان اور نکاح خواں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ ہاجرہ نے چادر اوڑھ لی۔ تابندہ جلدی سے دروازے کی اوٹ میں ہوگئی وہ سامنے کھڑا سر جھکائے مولوی صاحب کی بات سن رہا تھا۔ تابندہ کے لبوں کو مسکراہٹ چھو کر گزری۔
’’کاش ایسا لمحہ ہماری زندگی میں بھی آئے۔’’ بے اختیار اس کے دل سے دعا نکلی۔ تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب گواہوں سمیت کمرے سے چلے گئے جبکہ ہاجرہ نے طاہر کا ہاتھ تھام لیا۔
’’بھائی… کچھ دیر میرے پاس رک جاؤ۔‘‘ ہاجرہ رو دی۔ تابندہ کی پلکیں بھی بھیگ گئیں۔ طاہر نے آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگالیا۔
’’پگلی‘ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ میری دعائیں ہمیشہ سایہ بن کر تمہارے ساتھ رہیں گی۔ محسن بہت اچھا انسان ہے۔ وہ تمہارا بہت خیال رکھے گا۔‘‘ اسے تسلی دیتے طاہر کی اپنی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
طاہر کے کمرے سے جاتے ہی تابندہ ہاجرہ کے پاس آئی اور اسے گلے سے لگا لیا۔ دونوں سہیلیاں کتنے ہی پل خاموشی سے آنسو بہاتی رہیں۔ ہاجرہ کو محلے کی لڑکیوں نے مل کر تیار کیا۔ سرخ اور سنہری عروسی لباس میں وہ دیکھنے والوں کے دل میں اتر رہی تھی۔ بارات کے لیے کھانا لگادیا گیا تھا۔ وہ دونوں بھی صبح سے بھوکی تھیں۔ تابندہ کھانا لینے آئی تو برآمدے کی جالی کے دوسری جانب اسے سفید شلوار قمیص کے ساتھ ہلکے بھورے رنگ کی واسکٹ پہنے طاہر کھڑا نظر آیا۔ تابندہ نے سر پہ لیا گلابی دوپٹہ تھوڑا چہرے کے سامنے کرلیا اور جالی کے قریب سے گزرتے ہوئے لمحے بھر کو رک کر دوپٹے کی اوٹ سے جالی کے پار کھڑے شخص کو دیکھا۔ طاہر کی نگاہ بھی عین اسی وقت اس کی جانب اٹھی۔ تابندہ کا دل شدت سے دھڑکا۔ وہ تیزی سے کچن میں گھس گئی۔ طاہر مسکراتا ہوا مہمانوں کی طرف بڑھ گیا۔ کتنا مشکل تھا یہ ایک لمحہ جو ابھی اس کی زندگی سے گزرا تھا مگر اتنا ہی حسین۔ اس نے ٹرے تھامی اور تیز قدموں سے کچن سے نکل گئی۔
٭٭٭…٭٭٭
ہاجرہ رخصت ہوکر چلی گئی۔ طاہر کی بھی اب دو چھٹیاں باقی تھیں۔ تابندہ اپنے گھر کے برآمدے میں تنہا بیٹھی خاموشی سے صحن میں اترتی شام کو دیکھتی رہی۔ ہاجرہ اس کی واحد دوست تھی۔ وہ بھی اس سے جدا ہوگئی تھی۔ اسے شدت سے رونا آیا۔ کتنا اکیلا وہ خود کو محسوس کر رہی تھی۔ اس نے گھٹنوں پہ سر رکھ لیا۔ دہلیز کا دروازہ زور سے کھلا اور محلے کا بچہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔
’’تابی باجی… ہاجرہ باجی آگئی ہیں۔‘‘ یہ خبر سن کر تابندہ تیزی سے چادر لینے اٹھی مگر اگلے پل واپس بیٹھ گئی۔ وہاں ہاجرہ کا شوہر، بھائی سب ہوںگے اسے اپنا اس وقت جانا مناسب نہیں لگا۔ اس نے اداسی سے دروازے کو دیکھا اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ رات ہوتے ہی وہ ہاجرہ کے گھر چل دی۔ دہلیز میں رک کر اس نے صحن میں جھانکا پورا صحن خالی تھا۔ برآمدے کی روشنیاں جل رہی تھیں اور صحن کے درمیان تک پھیل کر اندھیرے کو کم کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ تابندہ جس جگہ کھڑی تھی وہاں اندھیرا تھا۔ اس نے برآمدے میں چارپائی پہ بیٹھے افراد کو دیکھا۔ وہ سب خوش گپیوں میں مگن تھے۔ طاہر اس کی نگاہ کے سامنے بیٹھا کسی بات پہ مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ وہ دبے پاؤں دہلیز سے واپس لوٹ گئی۔ بہت سے آنسو اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے۔ دل ایک بے نام سی اداسی میں گھر گیا۔ گھر آتے ہی ضبط کے سب بندھن ٹوٹ گئے۔ بستر پر لیٹ کر دیر تک وہ بے آواز روتی رہی۔
اگلے دن شام میں ہاجرہ اپنی امی اور ابا کے ساتھ اسے ملنے آئی۔ ڈھیر ساری مٹھائیاں اور خوب صورت جوڑے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ تابندہ ان سب کو سلام کرکے کچن میں آگئی۔ دل عجیب وہم اور وسوسوں کا شکار تھا۔ وہ خاموشی سے مہمانوں کے لیے ٹرے میں لوازمات سجاتی رہی۔ کچھ دیر بعد ہاجرہ کچن میں اس کے پیچھے آگئی۔ اسے دیکھ کر بھی تابندہ نے ان دیکھا کردیا۔
’’خفا ہو؟‘‘ وہ اس کے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔ تابندہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔
’’خفا تو مجھے ہونا چاہیے۔ میں کل سے آئی ہوئی ہوں اور تم ایک بار بھی مجھ سے ملنے نہ آئی۔‘‘ ہاجرہ نے خفگی سے کہا۔ تابندہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کام میں لگی رہی۔
’’ٹھیک ہے پھر ایسے تو ایسے ہی سہی۔ میں ابھی اماں سے جاکر کہہ دیتی ہوں۔ طاہر بھائی کے لیے کہیں اور رشتہ دیکھ لیں۔ تابندہ راضی نہیں ہے۔‘‘ ہاجرہ کہ کر واپس پلٹنے لگی تھی جب بے اختیار تابندہ کے منہ سے نکلا۔
’’نہیں…‘‘ ہاجرہ کا قہقہہ بلند ہوا۔ اس نے شرارت سے تابندہ کو دیکھا۔ تابندہ شرمندہ ہوکر چولہے پہ پکتی چائے اتار کر کپوں میں ڈالنے لگی۔ ہاجرہ نے اسے پیچھے سے بازؤں کے ہلکے میں لیے لیا۔
’’تابی… آج میں بہت خوش ہوں۔‘‘ وہ فرط جذبات سے بولی۔ تابندہ مسکرا دی۔ کچھ دیر پہلے کے وہم وسوسے سب بھاگ گئے تھے۔
چائے اور دیگر لوازمات لیے وہ صحن میں آگئی جہاں ہاجرہ کے والدین نانی جان کے ساتھ رازو نیاز میں مصروف تھے۔ تابندہ کو دیکھتے ہی دونوں مسکرا دیے۔ تابندہ نے ٹرے سامنے میز پہ رکھی اور جھک کر سلام کیا تو ہاجرہ کی والدہ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہزار کا نوٹ اس کی مٹھی میں دبا دیا۔ تابندہ شرما کر واپس آگئی۔ برآمدے میں قدم رکھتے طاہر کے ابو کی آواز نے اسے آگے جانے سے روک دیا وہ نکاح کی تاریخ مقرر کررہے تھے۔
٭٭٭…٭٭٭
اگلے روز جمعہ کی نماز کے بعد تابندہ اور طاہر کا نکاح ہوگیا۔ رخصتی طاہر کی بارڈر سے واپسی کے بعد تھی۔ تابندہ سرخ جوڑے میں ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ سجی سنوری بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ طاہر سفید شلوار قمیص میں شہزادہ لگ رہا تھا۔ ہاجرہ اس کے قریب بیٹھی اسے تنگ کررہی تھی۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ہاجرہ نے اٹھ کر دروازہ کھولا باہر طاہر کھڑا تھا۔ ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’جی فرمائیے۔‘‘ ہاجرہ نے اسے دیکھتے ہوئے ادا سے کہا۔
’’دلہن سے کچھ پل کی ملاقات ہوسکتی ہے؟‘‘ وہ چہرے پہ مسکنیت سجائے بولا تو ہاجرہ کو ہنسی آگئی۔
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘
’’کیونکہ ہماری دلہن معمولی نہیں ہے جو اسے مفت میں دیکھ لیا جائے۔ ٹیکس دینا پڑے گا۔‘‘ وہ دروازے کے آگے جم کر کھڑی ہوگئی۔
’’شرم کرو۔ مجھ غریب کو اور کتنا لوٹوں گی۔‘‘ طاہر نے جیب سے نوٹ نکالتے ہوئے کہا۔
’’شاباش نکالیں نکالیں۔‘‘ ہاجرہ کی باچھیں کھل گئیں اور دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر وہ فوراً باہر نکل گئی۔ کچھ پل خاموشی سے گزر گئے۔ پھر دوسری طرف سے گلا کھنکھارنے کی آواز سنائی دی۔ تابندہ کا دل شدت سے دھڑکنے لگا۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ اس نے پوچھا۔ تابندہ کے لب ہلنا بھول گئے۔
’’بہت کچھ ہے جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں مگر وقت کی کمی ہے۔‘‘ وہ خود ہی کہے جارہا تھا۔ تابندہ خاموشی سے اسے سنتی رہی۔
’’ایک درخواست ہے آپ سے جانے سے پہلے فقط ایک بار آپ کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں اگر آپ کو عتراض نہ ہو تو۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔ تابندہ کا ہاتھ کپکپانے لگا۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر تابندہ نے پردہ ذرا پیچھے ہٹایا۔ طاہر کی نگاہ ٹھہر گئی۔ کچھ پل سانس روکے وہ اسے دیکھتا رہا۔ پھر تیز قدموں سے پیچھے ہٹ کر وہاں سے چلا گیا۔ تابندہ کا دل پہلو میں شور مچانے لگا۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی پھیل گئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
فجر کی نماز پڑھ کر وہ صحن میں چہل قدمی کررہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اتنی صبح کون آگیا۔ وہ سوچتی ہوئی دروازہ کھولنے چلی گئی۔ دروازے پہ اس کی جانب پشت کیے طاہر کھڑا تھا۔
’’آپ…!‘‘ تابندہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ طاہر کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔
’’کچھ دیر میں، میں واپس جارہا ہوں سوچا نانی سے ملتا جاؤں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ آنکھوں میں وہی ازلی چمک تھی۔
’’صرف نانی سے…؟‘‘ تابندہ نے منہ بناتے ہوئے سوچا اور نانی کو بلانے چل دی۔
نانی نے آگے بڑھ کر طاہرکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور ساتھ ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازہ۔ تابندہ دراوزے کی اوٹ میں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر وہ نانی سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا اور پھر اجازت لیتے ہوئے بولا۔
’’اچھا نانی اب میں چلتا ہوں۔ جاتے ہی خط لکھوں گا۔ ان شاء اللہ جلد آپ تک پہنچ جائے گا۔‘‘ جاتے ہوئے وہ انتظار اسے تھما گیا۔ تابندہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
کچھ دیر بعد وہ سیاہ سفری بیگ لیے منزل کی جانب گامزن تھا۔ تابندہ دروازے میں کھڑی اسے جاتا دیکھتی رہی۔ جاتے جاتے اس نے پلٹ کر تابندہ کو ایک لمحے کے لیے دیکھا۔ تابندہ کا دل مٹھی میں آگیا۔ وہ اس سے دور جا رہا تھا، بہت دور ایک عظیم محاذ سر کرنے۔ تابندہ کی آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی۔ اس نے دھندلائی نظروں سے طاہر کو دیکھا، اس کا وجود تابندہ کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ تھکے قدموں سے لوٹ آئی اور ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کا آغاز ہوچکا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
دروازے پہ زور دار دستک ہوئی۔ وہ جو جانے کب سے آنکھویں موندے ماضی میں گم تھی، جھٹکے سے حال میں لوٹ آئی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھا۔ صحن خالی تھا۔ ہوا رکی ہوئی اور پتے بھی خاموش تھے۔ اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔ ایک عجیب سے خوف نے دل کو گھیرا‘ کچھ کھو دینے کے خوف میں دل لزرا‘ دروازے پہ پھر سے دستک ہوئی۔
اسے یاد آیا۔ آج تو محافظ کا خط آنا تھا۔ وہ دروازے کی جانب لپکی۔ جلدی سے دروازہ کھولا۔ سامنے ڈاکیا خط لیے کھڑا تھا۔
’’پتر تیرا خط آیا ہے۔ یہاں اپنا نام لکھ دے۔‘‘ ڈاکیے نے رجسٹر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے دستخط کرکے خط ڈاکیے سے لیا اور دروازہ بند کرکے واپس برآمدے کی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔ دل شدت سے دھڑک رہا تھا اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ اس نے خاکی لفافہ پلٹ کر دیکھا۔ لفافے کی پشت پر سیاہ روشنائی سے جلی حروف میں طاہر کا نام اور پتا لکھا تھا۔ اس نے نام ہونٹوں سے لگا لیا۔ آنسو اس کے گالوں کو بھگونے لگے۔ دل ذرا سنبھلا تو اس نے لفافہ کنارے سے پھاڑا اور کاغذ باہر نکال لیا۔ خوب صورتی سے لکھے گئے الفاظ اس کے سامنے تھے۔ وہ ہر شے بھلائے، خط پڑھنے لگی۔

’’السلام علیکم! کیسی ہو؟
پہلی بار تمہیں خط لکھ رہا ہوں۔ سمجھ نہیں آرہا کیا لکھوں۔ وہ سب جو میں کہنا چاہتا ہوں الفاظ کی قید سے آزاد ہے۔ ہاجرہ کہتی ہے تم میری خاموشی سن لیتی ہوں۔ مگر نجانے کیوں آج میں کہنا چاہتا ہوں۔ شاید پھر کبھی نہ کہ پائوں۔ ایک لڑکی جسے کبھی میں نے دیکھا بھی نہیں پھر بھی میری ہر دعا میں شامل ہوگئی۔ پتا نہیں ایسا کیوں ہوا مگر مجھے لگا تمہیں صرف میرے لیے بنایا گیا ہے۔ تمہاری چاہت مجھ پر لازم کردی گئی ہے۔ پہلی بار جب ہاجرہ نے تمہارے ہاتھ کی بنی السی کی پنیاں بھیجیں تو میں پہچان گیا وہ ہاجرہ کے ہاتھ کا ذائقہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ان میں ایک خوش بو تھی۔ ایک الگ احساس تھا۔ یوں جیسے کسی نے بہت چاہت سے بنایا ہو۔ جب بھی تم کچھ بنا کر بھیجتی، میں اس میں سے آدھا چھپا لیتا، پھر اسے تھوڑا تھوڑا کرکے ختم کرتا۔ اس میں تمہارے خلوص اور محبت کا ذائقہ رچا بسا ہوتا میں نہیں جانتا یہ کون سا احساس تھا جس نے مجھے تم سے جوڑ دیا مگر میری حیا نے مجھے کبھی اجازت نہ دی کہ جس لڑکی کا نام رات کے آخری پہر میں نے اللہ کے سامنے لیا ہے اسے دن کے اجالے میں نگاہ اٹھا کر دیکھوں۔ تمہیں ہمیشہ گلہ رہتا کہ میں تمہارے سلام کا جواب نہیں بھیجتا۔ وہ اس لیے کہ مجھے کبھی گوارہ نہ تھا کہ تمہاری عزت و پاکیزگی پہ میرے نام کا کوئی حرف آئے۔ میں نے تم سے خالص محبت کی۔ ہمیشہ اپنی دعاؤں میں اپنے ساتھ تمہارا نام رکھا۔ تم تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی راستے کی خواہش کی۔ تابندہ میں نے کبھی تمہارے چہرے سے محبت نہیں کی مگر پھر بھی تمہیں دیکھنے کی چاہ تھی اسی لیے نکاح کے روز بے اختیار یہ خواہش کر بیٹھا۔ تمہیں پہلی بار یوں سامنے دیکھ کر لمحے بھر کو دل دھڑکنا بھول گیا۔ کوئی آپ کے گمان سے بھی بڑھ کر ہو تو دل اور آنکھیں یونہی بے اختیار ہوجاتی ہیں جیسے اس روز میری ہوئیں۔
تابی‘ میں اس وقت جہاں کھڑا ہوں، یہ ایک خطرناک محاذ ہے۔ میں اس محاذ کا محافظ ہوں۔ تم سے بھی پہلے میں نے اس ملک سے عہد کیا تھا، آخری سانس تک ساتھ نبھانے کا عہد۔ میں نہیں جانتا میں لوٹ کر آئوں گا بھی یا نہیں۔ میرا انتظار مت کرنا۔ وہ محبت جو ہمارے درمیان ہے اسے ایک خوب صورت احساس کی طرح دل میں زندہ رکھنا۔ دہلیز پہ مت کھڑی ہونا تابندہ طاہر… برف زاروں میں دفن ہونے والے لوٹ کر نہیں آتے۔ ان کی روحیں صدا محافظ بن کر اپنے محاذ کی حفاظت کرتی ہیں۔
اپنا بہت خیال رکھنا۔

فقط تمہارا
کپٹین طاہر حسین‘‘

تابندہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ طاہر کا خط اس کی گود میں گر گیا۔ برآمدے کے ستون سے کمر ٹکا کر آنکھیں موندے، دونوں ہاتھ گود میں رکھے وہ بے آواز روتی چلی گئی۔ آنسو اس کے گالوں پہ بہتے رہے۔ سسکیاں اس کے اندر دم توڑنے لگیں۔ دھڑکنوں کی رفتار تھمنے لگی۔ خالی صحن میں برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے وہ بے حس وحرکت بیٹھی رہی۔ گالوں پہ پھیلے آنسو خشک ہونے لگے۔ دہلیز کا دروازہ زور دار جھٹکے سے کھلا۔ ہاجرہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے قریب آن رکی۔ ہاتھ میں خاکی لفافہ اور سفید کاغذ تھامے وہ تابندہ کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
’’تابی… باہر فوج والے آئے ہیں۔ دیکھو تابی وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ طاہر بھائی شہید ہوگئے ہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے، ابھی کچھ دیر پہلے تو ان کا خط ملا ہے۔ تابی اٹھو۔‘‘ روتی ہوئی ہاجرہ نے اسے ہلایا لیکن تابندہ ایک طرف کو لڑھک گئی تھی۔
’’تابی…‘‘ ہاجرہ کی چیخ بلند ہوئی۔ ہاجرہ نے بازو سے پکڑ کر اسے ہلایا مگر اس کا جسم بے حس وحرکت رہا۔
’’اٹھو تابی… نہیں تابی ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس نے حواس باختہ ہوکر اسے جھنجوڑا مگر سب بے سود۔ دو روحیں زمان ومکاں اور وقت کی قید سے آزاد ہوکر ابد تک کے لیے جاملیں تھیں۔
محبت میں اول شرط وفاداری اور عہد کی پاسداری ہے۔ ایک عہد طاہر نے اپنی زمین سے کیا اور اسے آخری دم تک نبھایا۔ ایک عہد تابندہ نے طاہر سے کیا۔ دونوں اپنے اپنے محاذ پہ سرخرو ہوکر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ محبت کی شرائط میں سے ایک شرط پاکیزگی ہے۔ جو محبت کی اس شرط کو پورا نہیں کرتا محبت اس کا مقدر نہیں بنتی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close