Urdu Novels

Back | Home |  

 

بے نشان منزلیں اور راہی 
 
آفس سے واپسی پر وہ گھر آنے کے بجائے احمر کی طرف چلا گیا تھا مگر فلیٹ کے لاکڈ دروازے کی طرف دیکھ کر اس کا کوفت اور جھنجلاہٹ سے براحال ہو گیا۔احمر کو کوستے ہوئے واپس جـانے کا قصد کیاـ ابھی اس نے فرسٹ ٹرن ہی لیا تھا کہ گاڑی ایک جھٹکے سے کھانستے ہوئے رک گئی ـ۔
’’آج کا دن ہی برا ہے‘‘وہ بڑبڑاتے ہوئے ڈور کھول کر باہر نکل آیا آج صبح احمر نے اسے وقت پر جگایا نہیں تھا ورنہ وہ پانچ بجے ہی مس کالز اور میسج بھیج بھیج کر اس کی ناک میں دم کردیتا تھا ـ’’پوستیو اٹھ جائو‘‘آٹھ بجنے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے تھے جب احمر کا ایس ایم ایس آیا وہ جو شرٹ پریس کررہا تھا غصے سے موبائل کی طرف بڑھا اور احمر کا نمبر دیکھ کر صوفے پر پٹخ دیا تھا۔ زیر لب دو چار گالیوں سے احمر کو نوازتے ہوئے اس نے الٹی سیدھی شرٹ پریس کی، ـٹائی میچ کرتے ہوئے پانچ منٹ ضائع ہو گئے گھڑی کی طرف نگاہ اٹھی تو احمر کی گردن کو مروڑ دینے کو دل چاہا خبیث، ذلیل خود تو آفس پہنچ چکا ہو گا اور مجھے جگایا بھی ہے تو کب علی نے دانت کچکچاتے ہوئے واش روم کا رخ کیا ـ پیچھے سے احمر کی کھنکتی آواز سنائی دے رہی تھی علی نے مڑ کر دیکھاتو وہ خوب بن ٹھن کر عین دروازے کے بیچ میں کھڑا مسکرا رہا تھا مجھے اپنی بیوی سمجھ رکھا ہے تم نے رعب تو ایسے جما تے ہو جیسے ِ میں تمہاری نصف بہتر ہوں ـ کبھی کبھی تو مجھے سچ مچ تمہاری زوجہ محترمہ کا گمان ہوتا ہے ـصبح صبح ہیں جگاؤں بھی اور تمہاری ازلی سست طبیعت کی وجہ سے ناشتہ بھی جیسا تیسا بنائوں لنچ آورز میں بمعہ لنچ باکس کے تمہارے کیبن میں آکر اپنی نگرانی میں تمہیں لنچ کروائوں ـ اگرچہ آنٹی کی خاص ہدایت ہے اور پھر اپنے گھر جاکر سار ا’’سیاپا‘‘بھی مجھے ہی کرنا پڑتا ہے فارینہ مہارانی کی تو مجھے دیکھ کر ہی طبیعت خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے ـ کبھی سر میں درد ہے کبھی کمر میں یعنی کے حد ہی ہو گئی ہے ـ۔
وہ نان سٹاپ شرع ہو چکا تھا ـ علی مسکراتے ہوئے واش روم میں گھس گیا جب تیار ہو کر آیا تو ناصرف ناشتہ ٹیبل پر لگا چکا تھا بلکہ کمرے میں جو کچھ بکھیرا تھا وہ بھی سمیٹ چکا تھا ـ۔
احمر کا خیال آنے پر اچانک اسے یاد آیا تھا کہ آج اس نے فارینہ کو ڈاکٹر کے پاس ِ لے کر جانا تھا ـ اس نے کچھ فکر مندی کے عالم میں سر پر ہاتھ مارا اور پھر بونٹ گرا کر موبائل نکالا اور احمر کا نمبر پریس کیا ـ مگر اس کا سیل ہی آف تھا ـ رات کے سائے ہر سو پھیل چکے تھے پورے علاقے پر مہیب خاموشی طاری تھی ـ گاڑی کے دروازے لاک کرکے اس نے پیدل مارچ کرنے کا سوچا ـ اس کے اور احمر کے گھر کا فاصلہ صرف بیس پچیس منٹ پر مشتمل تھا ـ پہلے پہل وہ اور احمر اکٹھے رہتے تھے اور پھر احمر نے شادی کے بعد فارینہ کو بھی امریکہ بلوا لیا تھا ـ احمر کے بے انتہا اصرار کے باوجود بھی وہ اسکے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہوا تھا وہ شروع سے ہی تنہائی پسند تھا اور احمر اپنے خاص دوست کے مزاج اس کی طبیعت کے ہر رنگ سے واقف تھا ـ۔
سیاہ بل کھاتی سڑک کے درمیان پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بڑے لاپروا انداز میں چل رہا تھا ـ ہلکی ہلکی سرد ہوا اس کے بالوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کررہی تھی ـاس کالونی میں بنے خوب صورت فلیٹس اور چھوٹے چھوٹے ولاز میں رہنے واے لوگوں کیلئے چھوٹی سی خوب صورت تفریح گاہ یعنی پارک تھا ـ جس میں بچوں کیلئے چھوٹے اور درمیانے سائز کے بینچ رکھے گئے تھے ـ۔
پارک کے چاروں طرف سرخ ’گلابی ’سفید پھولوں نے ہالہ سے بنا رکھا تھا ـ وہ پارک کے قریب سے گزرا تو پھولوں کی دلفریب مہک اسکے ناک سے ٹکرائی ـ اس نے گہر ا سانس کھینچ کر پھولوں کی دلفریب مہک کو اپنے اندر اتارا ـ اسی پل پھولوں کی باڑ کے قریب اسے ہلکی سے سسکیوں کی آواز سنائی دی ـ پہلے پہل علی نے اسے اپنا وہم جان کر نظر انداز کرنا چاہا مگر آواز ہنوز آرہی تھی ـ وہ کچھ لمحے سوچتا رہا اور پھر ایک فیصلہ کرکے پارک کے اندرونی حصے کی طرف چلا گیاـ پارک میں اس وقت مکمل اندھیرا تھا ـ موبائل کی ہلکی سی روشنی میں اسے اپنے سے کچھ فاصلے سے وہ ہلتا ہوا وجود نظر آگیا تھا ـ۔
وہ گھٹنوں میں سر دبائے سسکیاں روکنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی اس کے لمبے گھنگریالے اخروٹی رنگ کے بال پوری پشت پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ جسم کپکپا رہا تھا ـ علی کی نظروں کی حدت تھی یا پھر ننھی منی موبائل کی روشنی کی کرن محسوس کرکے اس نے سر اٹھایا تو اپنے بالکل قریب کھڑے نوجوان کو دیکھ کر گھبرا اٹھی اور بھیگے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے لاشعوری طور پر وہ چند قدم پیچھے ہٹی تھی ـ۔
علی حیران تھا کہ رات کے اس پہر ٹھٹھرا دینے والی سردی میں بغیر سویٹر کے سنسان پار ک میں وہ انگریز لڑکی کیا کررہی تھی ـ اس ایریے میں زیادہ تر پاکستانی ’ انڈین اور عریبین خاندان آباد تھے ـ تمام سرکاری ملازم یہاں سرکاری فلیٹوں اور ولاز میں رہتے تھے ـ رات کے اس پہر اس لڑکی کی موجودگی اسے مشکوک کر گئی تھی اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات شبہات سر اٹھا رہے تھے ـ مگر دوسرے ہی پل اسے اپنے خیالات بدلنے پڑے تھے ـ وہ لڑکی بہت ہی سہمی ہوئی تھی ـ اس کے سرخ ہونٹ ٹھنڈ سے یا پھر خوف کی شدت سے نیلے ہورہے تھے جبکہ رنگت پل بھر میں ہی سفید سے زردی مائل ہو گئی تھی ـ وہ کسی سہمی نڈھال چڑیا کی مانند کپکپا رہی تھی ـ۔
’’کو ن ہو تم …؟‘‘ علی نے قدرے سخت لہجے میں اس سے دریافت کیا تھا جبکہ وہ اس کی کھردری سخت آواز سن کر بے اختیار رودی۔ ـ علی اس صورت حال سے قدرے پریشان ہو اٹھا تھا ـاس نے ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہرایا ـ اب کے وہ لڑکی ہاتھ جوڑتے ہوئے اسکے قدموں میں گر گئی تھی ـ۔
’’میں غیر محفوظ ہوں…مجھے بچا لو ـ‘‘ اس نے لرزیدہ آواز میں ہکلاتے ہوئے کہا دوسرے ہی پل وہ ہوش و خورد سے بے گانہ ہو گئی تھی ـ علی کے اوسان خطا ہو گئے ـ۔
٭٭٭
’’کہیں نیکی گلے ہی نہ پڑ جائے‘‘پچھلے تین گھنٹوں میں کوئی ایک سو چالیس مرتبہ اپنے بیڈ روم کے بند دروازے کی طرف دیکھ کر علی نے سوچا تھاـ ’’مجھے اٹھا کر نہیں لانا چاہئے تھاـ‘‘ اس نے ایک مرتبہ پھر خود کو کوسا ـلائونج میں ادھر سے ادھر چکراتے ہوئے اس کا ذہن مختلف سوچوں میں الجھ کر رہ گیا تھا ـتھک ہار کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے ایک دفعہ پھر اپنے کمرے کی طرف دیکھا ـ۔
اس کے بے ہوش وجود کو اپنے پیارے بیڈ پر ڈال کر علی نے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارے تھے ـتھوڑی سے کوشش کے بعد اس نے آنکھیں کھول لی تھیںـمگر اس کے ذہن کی حالت کافی ابتر 

 

تھی جس طر ح وہ بے انتہا رو اور چلّا رہی تھی۔ علی بے حد گھبرا گیا تھا ـ پھر کچن میں جاکر دودھ کا گلاس مائیکروویو میں گرم کر کے لے آیا اور دراز میں سے ٹیبلٹ نکال کر بمشکل اسے کھلائی تھی ـ بال نوچتے اور سر پٹختے ہوئے دودھ تھوڑا پیا اور زیادہ گرایا ـکچھ ہی دیر بعد اسکی پلکیں نیند سے بوجھل ہونے لگی تھیںـ علی نے گہرا سانس لیا اور اس پر کمبل ڈال کر باہر نکل آیا۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ـ پہلے ہمدردی اور اب فکر اور پریشانی کااحساس غالب تھا ـ وہ سست قدموں سے اٹھا اور گرما گرم کافی بنا لایا اسی پل فون کی بیل گنگنا اٹھی ـ علی نے سی ایل آئی پر نمبر دیکھا اور مسکراتے ہوئے فون کان سے لگا لیا ـ’’ فجر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے وضو کریں اور نماز پڑھیںـ‘‘ دوسری طرف چھوٹتے ہی زین نے کہا ـ۔
’’السلام و علیکم ـــ‘‘‘علی نے اسے شرم دلانے کی کوشش کی مگر زین پر کہاں اثر ہونا تھا ـ’’جیتے رہیںـ خوش رہیں ـ مسکراتے رہیں ، میموں کو تڑپاتے رہیں اگر اپنا دل بڑھاپے کی طرف محو سفر ہے تو کم از کم اپنے بھائی کا نمبر ہی لگوادیںـ کبھی تو آئے گی اپنی باری جب ہم بھی امریکہ کی حسین صبحوں ‘گلاب شاموں کو انجوائے کرینگے اور اپنی جیبیں نوٹوں سے بھریں گے ـــــ۔‘‘
’’اور سر پر جوتے لگیں گے‘‘علی نے تیکھے ‘ترش لہجے میں کہا تھا ـ زین کھلکھلا کر ہنس پڑا ـ۔
’’چھوٹے تو بہت تیز ہو گیا ہے‘‘ زین کے طنزیہ انداز نے اسے بے انتہا تکلیف سے دوچار کر دیا تھا ـ ’’ اب میں بڑا ہو گیا ہوں بھائی پورے گیارہ سال ہو گئے ہیں ـ نہ آپ نے مجھے دیکھا ہے نہ میں نے آپ کو۔ کیا امریکہ کی خوبصورتیاں اسی طرح زنجیر ڈال دیتی ہیںکہ اپنے بھول جائیں ـ یا پھر ڈالرز کی کشش ؟‘‘ زین نے بھرائے لہجے میں اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی ـ یقینا وہ رو رہا تھا ـ علی نے دل میں درد کی ایک لہر اٹھتی ہوئی محسوس کی ـ۔
’’زین ـــ میرے بھائی میری جان۔‘‘ 
’’نہیں ہوں میں آپ کا بھائی‘‘وہ غصے سے چلایا ـ جب مرجائوں گا تو لاش کو کندھا دینے آجائیے گا‘‘وہ اسی طرح جذباتی تھا ـچھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والا ’’ تم کیوں ضد کرتے ہو ـ کیوں مجھے اور خود کو تکلیف دیتے ہوـ میر ے پاس آجائو ـ یہاں بے حد قابل ڈاکٹرز اور بہترین علاج معالجے کی سہولیات موجود ہیں اور پھر تم نے امریکہ کی حسین صبحوں اور گلاب شاموں کو بھی تو انجوائے کرنا ہے‘‘ علی نے آخر میں کچھ شرارت بھرے انداز میں کہا ـ زین بے اختیار مسکرا اٹھا ـ اور پھر وہ اپنے دوستوں کی شرارتوں کے قصے سنانے لگا تھا ـعلی بے حد دلچسپی سے سنتا رہا ـفون بند کرنے کے بعد بھی وہ زین کے متعلق سوچتا رہا تھاـ۔
زین‘اس کا چھوٹا بھائی‘ جس سے علی کو بے انتہا محبت تھی ـ زین پیدائشی بیمار تھا ـ اس کے دل میں سوراخ تھا اور جب علی کو اس کی بیماری کی خبر ملی تو وہ پہروں رویا کرتا تھاـاسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب وہ کالج سے آیا تو ڈیڈی اور زرمینہ ممی لائونج میں بیٹھے تھے ـڈیڈی کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے جبکہ زرمینہ ممی مسلسل رو رہی تھیںـ۔
اس سے کچھ فاصلے پر واکر میں بیٹھا زین ہر شے سے بے نیاز اپنی معصوم دنیا میں مگن کھیلنے میں مصروف تھا۔ـ ڈیڈی دھیمی آواز میں ممی کو زین کی بیماری کے متعلق بتا رہے تھے ـعلی کبھی ڈیڈی کی طرف دیکھتا اور کبھی زین کی طرف اسے بے اختیار ممی کے وہ الفاظ یاد آئے تھے جب وہ ہسپتال سے آئیں تو انکی گود میں گلابی کمبل میں لپٹا وجود تھا ـعلی کی طرف دیکھ کر انہوں نے بچے کو چوما اور پھر انتہائی کروفر سے کہا تھا ـ
’’حارث کی جائیداد کا اصل وارث تو اب آیا ہے ـ‘‘ علی کو جتنی محبت زین سے تھی اتنی ہی نفرت ممی اور سوہا ’سوما سے تھی ـ اگر اس کا بس چلتا تو وہ دن رات زین کو اپنے پاس سلائے رکھتا ـ زین کی گورنس کو تو علی نے کبھی قربب پھٹکنے بھی نہیں دیا تھا ـ وہ خود ہی زین کو فیڈر پلاتا اسکے کپڑے بدلتا ـ پھر پرام میں بیٹھا کر باہر لیجاتا تھا ـ ممی اور اسکی کتنی ہی مرتبہ لڑائی ہوئی تھی ـ کالج سے آنے کے بعد بھی اسکا سارا وقت زین کے ساتھ ہی گزرتا تھا ـ اور پھر جب زین چار سال کا ہوا تو وہ ہمیشہ کیلئے امریکہ چلا گیا تھا ـ اسے آج بھی وہ کربناک رات یاد ہے جب ماما نے اس پر الزام لگا کر ناصرف اسے پٹوایا تھا بلکہ گھر سے بھی نکال دیا تھا۔
 ــ’’ میں یہاں بیٹھ جائوںـ‘‘ ماضی کی یاد میں گم ‘ ان تکلیف دہ لمحوں کو سوچتے ہوئے علی نے کچھ چونک کر آنکھیںمسلتے ہوئے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھا تھا جو کہ کارپٹ کی طرف اشارہ کرکے بیٹھنے کی اجازت مانگ رہی تھی ـعلی ایک دم گربڑا کر سیدھا ہوا ـ۔
’’ تم بہت اچھے ہو تم نے مجھ پر احسان کیا ورنہ میں رات کو ٹھنڈ اور خوف کی شدت سے شاید مر جاتی۔‘‘
اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے وہ خالصتاً امریکن لہجے میں بول رہی تھی ـ۔
میں نے کل رات کو تم پر احسان کیا تھا آئندہ کی امید مت رکھنا ـ اگر تم بہتر فیل کررہی ہو تو ناشتہ کرلو اور پھر مجھے اپنے گھر کا ایڈریس سمجھائو میں تمہیں چھوڑ آتاہوں‘‘ علی نے بغور اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا تھاـ۔
’’ میرا کوئی گھر نہیں ہے ـ۔‘‘
علی اسے مزید اب یہاں رکھ کر اپنے گلے میں کوئی مصیبت نہیں ڈالنا چاہتا تھا ـاس لئے رکھائی کے ساتھ اسے چلنے کہ کر اپنے بیڈ روم کی طرف چلا گیا ـ جب وہ کپڑے چینج کرکے آیا تو وہ نجانے کہاں تھی البتہ احمر بولتا ہوا بلکہ چیختا چلاتا ہوا اس سے آکر لپٹ گیا تھا ـ۔
’’تو چچا بن گیا علی اور میں پاپاـــ۔‘‘
مبارک ہو یار اور یہ بتائو فارینہ کیسی ہے ؟ بیٹا ہوا یا بیٹی ؟؟ـ
’’بیٹی ہے اور پتہ ہے علی اتنی پیاری ہے اتنی خوبصورت ہے اتنی ــــــ کہ‘‘
کچن گلاس ونڈو سے نظر آتے وجود کو دیکھ کر احمر ایک دم ٹھٹک کر خاموش ہو گیا تھاـ پھر اس نے جن نگاہوں سے علی کو دیکھا وہ کچھ گڑبڑا سا گیا تھا ـ جبکہ احمر جو بولنا شروع ہوا تو بولتا ہی چلا گیا۔
’’ نہیں علی تو ایسا نہیں ہوسکتا ـ میرا یار ایسا نہیں ہو سکتا ـ یہ میری معصوم نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیںـ یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہیں گیا ـــ۔‘‘

 

’’ بکو نہیں یار ‘میں تمہیں بتاتا ہوں‘‘ـ علی نے اسے اموشنل ہوتے دیکھ کر ٹوک دیا اور رات والا قصہ من و عن سنا دیا ـاحمر دلچسپی سے سنتا رہا ـ پھر شریر لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا ـ!
’’اس میں کتنی سچائی ہے؟ ـ‘‘
’’ تم میرے ہاتھوں قتل ہو جائو گے احمر! جبکہ میں تمہارے ناپاک خون سے اپنے ہاتھ رنگنا نہیں چاہتا ـ‘‘علی نے دانت پیس کر کہا تھا ـاحمر نے شاندار قسم کا قہقہہ لگایا پھر لہجے میں بے شمار اداسی سمیٹتے ہوئے آہستگی سے بولا ـ!
’’یار! مجھے بھی نیکیاں کرنے کا بہت شوق ہے مگر بدقسمتی سے میرے ساتھ اتنے حسین اتفاقات نہیں ہوتے۔‘‘
’’ناشتا کروگے؟‘‘ علی نے اس کی بک بک سے بے زار ہو کر ترشی سے پوچھا تھا ـ۔
’’ اگر یہ محترمہ ناشتا بنا رہی ہیں تو پھر ضرور کروں گاـ تمہارے ہاتھ کا کھا کر میں نے مرنا نہیں ہے۔‘‘
’’ احمر پلیز یار۱اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے ایک کپ چائے بنا دو ـسر درد سے پھٹا جارہا ہے رات بھر ایک پل بھی آنکھ نہیں لگی ـ‘‘وہ کنپٹیاں دباتے ہوئے بڑے خوشامدی لہجے میں بولا تھا ـ۔
’’ کیوں رات بھر تیمار داری کرتے رہے ہو؟ ـ‘‘ احمر کی زبان میں ایک مرتبہ پھر کھجلی ہوئی تھی ـاسی پل اس کے سیل فون کی بیپ بجی ـ وہ دوسرے ہی لمحے اسپرنگ کی طرح اچھل کر باہر بھاگا ـ۔
’’رات کو ملیں گے ابھی میں جارہا ہوں ـفارینہ کا فون ہے بہت غصے میں ہے وہ ـ‘‘احمر کے جانے کے بعد علی تیز تیز قدموں کیساتھ چلتے ہوئے کچن کی طرف آیا ـ وہ گھٹنے پر ٹھوڑی ٹکائے گہری سوچوں میں گم بیٹھی تھی ـعلی کو دیکھ کر سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی ـ۔
’’چلو ـ‘‘
’’کہاں؟‘‘اس نے حیرت سے علی کی طرف دیکھا تھا ـ۔
’’تم کیا بہری ہو؟؟؟ـ‘‘علی نے تیوری چڑھا کر پوچھا تھا ـ اس نے دھیرے سے نفی میں سرہلایا ـ
’’تمہارا یہ دوست جس کی بیٹی پیدا ہوئی ہے کیا یہ بچی کیلئے گورنس رکھے گا؟؟ ـ‘‘علی اس کے عجیب و غریب سوال پر حیران رہ گیا تھا تاہم اس نے اسی کھردرے لہجے میں جواب دیا ـ۔
’’نہیںـــ‘‘
’’اچھا‘‘وہ قدرے مایوس ہوئی تھی ـ پھر کچھ سوچ کر آہستگی سے بولی ’’ میرا یہ سیل نمبر ہے اگر اسے گورنس کی ضرورت ہوئی تو پلیز اسے یہ نمبر دے دینا‘‘علی ناگواری سے اس کی طرف دیکھتا رہاتھا ـ۔
’’ تم اچھے ہو بہت ہی اچھے‘‘ اگر تم اس وقت مجھے چند سو ڈالر ادھار دے دو تو میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی ـ‘‘وہ سرجھکائے آنسو پیتی بمشکل بولی ـ علی کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ دوڑ گئی اس نے بغیر کچھ کہے والٹ سے پانچ سو ڈالر نکال کر اس کی طرف بڑھائے اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے ان کاغذ کے چند ٹکڑوں کو پکڑ لیا اور پھر ٹوٹی ہوئی آواز میں آہستگی سے بولی ـ۔
’’تم خود کو تکلیف مت دو میں چلی جائوں گی‘‘
ایک مرتبہ پھر وہ اسکا شکریہ ادا کرکے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے قریب سے گزرتی چلی گئی تھی ـ۔
جبکہ علی عجیب سی کیفیات سے خالی خالی نظروں سے اس کی کمر دیکھتا رہ گیا تھاـ۔
٭٭٭
’’وہ حسینہ چلی گئی ؟؟ ـ‘‘احمر نے سوپ کا بائول اس کی طرف بڑھاتے ہوئے شرارت سے استفسار کیا تھا ـعلی کی پیشانی پر سلوٹیں نمایاں ہو گئیں ـ۔
’’ ویسے تم جدائی میں کہیں بیمار تو نہیں پڑ گئے؟ـ‘‘
’’فضول بکواس مت کروـــ‘‘ علی نے ترشی سے کہا ـ‘‘
’’تم مانو یا نہ مانو مجھے تو یہ دل کا معاملہ لگ رہا ہے‘‘
احمر مسکراتے ہوئے صوفے پر اسکے قریب بیٹھ گیا تھا ـ۔
’’ اگر اس وقت فارینہ کا فون نہ آجاتا تو میں اس کا تفصیلی انٹرویو لے لیتا ـ‘‘احمر نے افسوس سے سرہلایا ـ۔
’’ تم کوئی اور بات نہیں کرسکتے ؟ ـ‘‘علی نے جھلا کر کہا تھا ـ احمر کچھ دیر اسکے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا اور پھر گہری سانس کھینچ کر آہستگی سے بولا!
’’ زرمینہ آنٹی کا فون آیا تھا ـــ‘‘
’’کیوں؟؟ـ‘‘علی کی بھنویں تن سی گئیںـ۔
’’ پیسے تو میں ہر مہینے باقائدگی سے بھجوا رہا ہوں۔ ـ‘‘
’’سوما کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی ہے انہوں نے اور وہ چاہتی ہیں کہ اسکا بڑا بھائی شادی میں شریک ہو جبکہ انکل بھی اب نہیں ہیں ـ‘‘احمر نے دھیرے سے کہا!
’’اونہہ بڑا بھائی اب کیا ضرورت پیش آگئی ہے انکو میری ـ‘‘علی تنفر سے بولا تھا اس کی آنکھیں یک دم بہت ہی سرخ ہو گئی تھیں ـ۔
of 75 
Go