Urdu Novels

Back | Home |  

دل دریا سمندرروں ڈونگھے۔۔۔۔۔۔۔آسیہ مرزا


افق کے دریچے سے کرنیں جھانک کر اُس کی محرابی کھڑکی پر دستک دینے لگیں تو وہ چونک پڑی۔ وال کلاک پر نگاہ ڈالی تو چھ بج رہے تھے، گویا اسے فجر کی نماز سے فارغ ہوئے کوئی ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اس نے بیڈ سے اتر کر پیروں میں سلیپر ڈالے اور شفاف بلوری کھڑکی کے پٹ کھول دیئے۔
پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ٹھنڈی کرنیں اور نرم شوخ ہوا کے نمناک جھونکوں نے بڑھ کر اس کے صبیح چہرہ چوم لیا۔ اسے فرحت کا احساس ہوا۔ بھینی بھینی خوشبو برسائے رنگ برنگے پھول اور شگفتہ ہریالی حویلی کے اس پائیں باغ کو بے انتہا دلکش اور روح پرور بنا رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی تتلیاں اپنے رنگین پروں کو پھڑپھڑاتی ایک پھول سے دوسرے پھول پر آ جا رہی تھیں۔ اپنے خیالوں میں گم شاخ در شاخ کبوتر اپنے خوشنما پر سمیٹتے پھیلاتے ہوئے اُڑ رہے تھے۔ گویا سردیوں کی سہانی صبح نے اپنے پر پھیلا دیئے تھے اور سب کو خود فراموشی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔
اس نے ماحول کی ساری طراوٹ کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے ایک گہری سانس لی۔ معاً اس کی نگاہ باغیچے کے پرلے سرے پر بنی خوشنما انیکسی پر پڑی تو چونکی۔ انیکسی کا سفید دروازہ نیم وا تھا۔ اس کا مطلب تھا وہ آچکا تھا۔
’’اتنی خامشی… اتنی کج ادائی۔‘‘ اسے شکوہ سا ہوا۔ مگر دوسرے ہی لمحے اس نے اپنا شکوہ خود ہی اسی لمحہ ختم کر دیا یہ سوچ کر کہ اس نے کب اسے اتنا اہم جانا ہے کہ اپنے شب و روز کی مصروفیت کی فہرست اسے سنائی ہے۔ کب اپنی زندگی میں اسے داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔ وہی پاگل ہے جو اسے اپنی زندگی کا محور سمجھ کر اس کے گرد گھوم رہی ہے۔
اس نے کھڑکی کے پٹ بند کر دیئے۔ ڈھلکتی سیاہ کشمیری چادر کو اپنے گرد لپیٹ کر کمرے سے باہر آگئی۔ لمبی سنگ مر مر کی راہداری میں کوئی بھی ذی روح اسے نظر نہ آیا۔ ملازمائیں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکی تھیں۔
’’نہ جانے زیبل کہاں ہے؟‘‘ اس نے گول کمرے میں جھانکا ،وہ خالی تھا۔ اس کے برابر کے چھوٹے کمرے میں جھانکا تو وہاں نوراں صفائی میں جتی ہوئی تھی۔
’’سلام بی بی۔‘‘ اس نے اشتارا کو دیکھ کر جلدی سے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ اس نے سر کی جنبش سے اسے جواب دیا اور وہاں سے ہٹ کر آہستہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی شاہ خانم کے کمرے کی سمت بڑھی۔ اس اک لمحے میں اس کے دل نے یکلخت دعا کی کہ ’’خدا کرے شاہ خانم اس وقت نیند میں ہوں۔‘‘ اوریہی لمحہ قبولیت کی خوشگوار گھڑی بن گیا۔ اس نے بے حد نرمی سے بلند قامت آنبوسی دروازے کو ہولے سے کھول کر اندر جھانکا، پھر مطمئن ہو کر مسکرا دی۔ دعا کی قبولیت نے اسے سرشار کر دیا۔
شاہ خانم اپنے وسیع و عریض بستر پر دراز گہری نیند میں غرق تھیں۔ ان کا سرخ و سپید چہرہ نیند میں بھی ایسا ہی رعب دار تھا۔ کھڑی ستواں ناک یونہی تنی ہوئی تھی، ہاں ان بھوری بھوری جلالی آنکھوں پر بھاری پپوٹوں کا پہرہ تھا۔ اس نے سرسری نگاہ ڈال کر دروازہ پھر اس آہستگی کے ساتھ بند کر دیا اور پلٹ کر دوبارہ اپنے کمرے میں آگئی۔
شاہ خانم ہمیشہ ہی چڑیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ اٹھ جایا کرتی تھیں اور ان کے اٹھنے کے ساتھ ہی پوری حویلی میں زندگی کی لہر دوڑ جایا کرتی۔ ناشتے کی لمبی سی میز انواع و اقسام کی چیزوں سے سجنے لگتی۔ حویلی کے چپے چپے کی صفائی شروع ہوجاتی۔ ان کے اٹھنے کے بعد کسی کی مجال نہ ہوتی کہ وہ بستر پر پڑا رہے۔ یا کسی کونے میں بیٹھا اونگھتا رہے یا کام کرتے وقت بھی لمبی لمبی جمائیاں لیتا نظر آئے۔
باباخان تو فجر کی نماز کے فوراً بعد ناشتہ کرکے قابل نواز اور محمد رو خان کے ساتھ زمینوں کی طرف نکل جاتے۔ اشتارا کو زیبل فجر کی نماز کے لئے اٹھا جاتی تو پھر وہ سوتی نہیں تھی۔ نماز کے بعد کمرے کے دریچے کو کھول کر پائیں باغ کی رعنائیوں کو اپنے اندر جذب کرتی رہتی یا پھر انیکسی کو تکا کرتی۔
جہاں اس کے سارے خواب بند تھے۔
تمنائوں کے ساگر تھے۔
آرزوئوں کی ساری نوخیز ندیاں اس جانب رواں تھیں۔
ناشتے کے لئے زیبل ہی اسے بلانے آتی تب وہ چونکتی۔ اس مدھ بھرے، جھلملاتے احساس سے باہر نکل آتی اور زیبل ہنس پڑتی۔
’’بہت غلط وقت پر آتی ہوں خان زادی۔‘‘ وہ اسے چھیڑتی ضرور اور وہ ہنس پڑتی۔
مگر آج شاہ خانم خلاف معمول چڑیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ نہیں اٹھی تھیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ کل رات اشمل خان کے فون کے انتظار میں جاگتی رہی تھیں اور پھر اس کے طویل فون کے آجانے کے بعد بھی اس کی باتیں کرتی رہی تھیں۔ نجانے کیوں انہیں رات اشمل خان بہت یاد آیا تھا اور اس کی باتیں کرکے وہ شاید سکون محسوس کر رہی تھیں۔ یہ تو بابا جان نے انہیں وقت کا احساس دلایا تھا۔ جگ مگ کرتی ہیروں کی طرح چمکتی وال کلاک پر جب خود ان کی نگاہیں پڑی تھیں تو پھر نیند خودبخود ان کی آنکھوں میں بھی اتر آئی تھی۔
صبح بابا خان جاتے جاتے ان کی ملازمہ خاص خیزراں بی بی سے کہہ گئے تھے کہ انہیں جلدی بیدار نہ کیا جائے۔ خیزراں نے ان کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے انہیں ابھی تک بیدار نہیں کیا۔


اشتارا کے لئے یہی موقع غنیمت تھا کہ وہ اس سرکش انسان کا دیدار کرلے، جس سے وہ انجانے میں ہی محبت کر بیٹھی تھی۔ نہ جانے کب اور کیسے وہ دل کے پرپیچ خمدار رستوں سے گزرتا اس میں آبیٹھا تھا، جہاں آبگینوں سے زیادہ نازک جذبے پلتے ہیں اور آنے والے مہان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں اور تب رنگ، خوشبو، گیت، ستارے ہم رکاب ہو جاتے ہیں۔
جذبے تو مثل مہتاب ہوتے ہیں، بھلا ابھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ کون روک سکتا ہے اور ذولین خان خل زئی کے وجود نے اس کے دل کے گھنے جنگل کی تاریکی کو روشنیوں سے منور کر دیا تھا جبکہ وہ خود انجان تھا یا بے خبر رہنا چاہتا تھا۔
اب وہ تنہا نہیں تھی۔ بہت سے خوش رنگ خواب اس کے ہمراہ تھے۔ اس کی تنہائی کے صحیفوں پر اَب گلاب آساساعتوں کی رنگ برنگی تتلیاں محو رقص تھیں۔
اس سفر میں اسے کیا ملے گا۔ گلاب، رنگ، مسرتیں یا مہیب دکھ؟ اس نے نہیں سوچا تھا اور نہ سوچنا چاہتی تھی۔
وہ پورے چار دن سے اس کی راحت دید سے محروم رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ کی طرح خفگی کا اظہار کرے گا۔ برہمی کی ساری شکنیں کشادہ پیشانی پر سجا کر اس کا استقبال کرے گا۔ مگر اس سمندر آنکھوں کی وہ چمک جو اسے دیکھ کر ان آبگینوں میں ایک لمحے کو ہی سہی، عود کر آئے گی۔ اسے ہلکا پھلکا کردے گی۔ وہ ساری زبانی خفگی سہہ لے گی۔
’’خان زادی کہیں جا رہی ہو؟‘‘ زیبل کی آواز نے اسے بری طرح بوکھلا دیا۔ وہ بڑی سی سرخ چادر اوڑھے سنہری بالوں کو زرد رومال سے باندھے انیکسی کی سمت جانے کو تیار تھی۔ اب یوں زیبل کے آجانے پر وہ لمحہ بھر کے لئے بوکھلا گئی تھی۔
’’آہ، ہاں، نہیں۔‘‘ اس نے اپنی لانبی لانبی پلکوں کی جھالریں جھکا دیں، مگر دوسرے لمحے اسے اپنی بوکھلاہٹ سراسر حماقت لگی۔ بھلا زیبل سے کیا ڈرنا، چھپانا۔ وہ تو اس کی جنم جنم کی ساتھی تھی۔ اس کی ہمراز۔ اس کے کھلے چھپے جذبوں کی رازداں۔
ایک پرخلوص اور ہمدرد رفیق پالینے سے کتنی تکلیفیں کم ہو جاتی ہیں، اسے زیبل کو پاکر احساس ہوا تھا۔
پرکشش سیاہ چمکتی آنکھوں والی زیبل کو اس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر جھینپی جھینپی ہنسی ہنس دی۔
’’ہوں۔ مگر شاہ خانم نہ اٹھ جائیں کہیں۔‘‘ وہ بڑی شاطر تھی۔ اس کے نرم ہونٹوں سے پھوٹتی جھینپتی مسکراہٹ سے ہی سب کچھ جان گئی۔ مگر انتہائی خلوص کے ساتھ اس خدشے کا احساس دلایا جس سے اشتارا بھی خوفزدہ تھی۔
’’زیبے! تم جانتی ہو وہ پورے چار دن بعد شکار سے آیا ہے۔‘‘ وہ اس کے بے حد قریب آتے ہوئے مضطربانہ انداز میں بولی۔
’’ہاں اور تمہاری نگاہیں اس کے دیدار کے لئے تڑپ رہی ہیں۔ ہے ناں؟‘‘ زیبل یہ کہہ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’بدتمیز۔‘‘ وہ شرما گئی۔ گلابی چہرے پر لہو رنگ چھلک آیا۔
’’ضرور جائو اس پتھر انسان کے پاس۔ ہاں، مگر جلدی آجانا۔‘‘
’’نہیں۔ نہیں زیبل… وہ پتھر نہیں ہے۔‘‘ اس نے زیبل کی طرف سے دیئے گئے اس خطاب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا۔ ’’اسے پتھر بنا دیا گیا ہے اور کبھی کبھی تو مجھے بھی محسوس ہوتا ہے جیسے ان اونچی اونچی دیواروں کے اندر رہ کر کسی دن میرا وجود، میرا وجدان بھی پتھرا جائے گا۔ جہاں آزادیٔ رائے کی ممانعت ہو۔ جہاں انسان کے حق پر پابندی ہو۔ جہاں جائز بات کہنا بھی بغاوت ہو۔ وہاں لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جذبے مر جاتے ہیں اور زیبل جب جذبے مر جائیں تو انسان پتھرا جاتا ہے اور روح مرجھا جاتی ہے۔‘‘ اس کی سنہری آنکھوں میں گہری اداسی سمٹ آئی۔ وہ اندر سے اتنی ہی دکھی تھی۔ یہ تو ذولین خان اس کے لئے روشنی کا نقطہ تھا اور اس نقطے پر وہ نگاہیں مرکوز کئے اب تک جی رہی تھی۔ کبھی کبھی تو یہ نقطہ بھی گم ہونے لگتا  اور بے خواب آنکھیں ڈول سی جاتی تھیں۔
مگر شاید یہ دل کے ساحلوں پر سر پٹختی محبت، یہ پُرزور اور جذبوں کی شوریدہ سر لہریں ہی تھیں جو اسے ناامیدی کے صحرائوں میں بھٹکنے سے بچائے ہوئے تھیں۔
یا شاید!
اپنی محبت کا اتنا اعتبار تھا۔
اعتماد کا مضبوط سہارا تھا کہ وہ ابھی تک اس کی خفگی اور لاتعلقی کی منہ زور لہروں کے آگے ڈٹی ہوئی تھی۔
’’نہ نہ اشتارا بی بی، یہ ستم نہ کرنا۔ اگر تم پتھر بن جائو گی تو اس ’پتھر‘ کو موم کون کرے گا؟‘‘ اسے اداس دیکھ کر زیبل نے جلدی سے موضوع کو خوشگوار رنگ دے دیا۔ اسے چھیڑا تو وہ شرما کر اسے گھور کر رہ گئی۔
’’اب جلدی جائو کہیں شاہ خانم نہ اٹھ جائیں۔‘‘ اس نے جلدی سے وقت کا احساس دلایا تو اسے بھی وقت کے بے حد قیمتی ہونے کا احساس ہوا۔ جلدی جلدی اس نے ڈھکی چادر سے اپنا آپ ڈھانپا اور کمرے سے باہر نکلنے لگی، مگر جاتے جاتے بھی زیبل کو شرارت سوجھی۔
’’ارے سنو خان زادی۔‘‘ اس نے پکارا۔


’’ہوں۔‘‘ وہ پلٹی۔
’’کاجل نہیں لگائو گی کیا؟‘‘ زیبل نے اس کی سنہری خمار آلود آنکھوں میں جھانکا اور وہ جھینپ گئی۔
’’بہت بدتمیز ہوگئی ہو تم۔‘‘ اس نے مصنوعی خفگی سے اسے ڈانٹا اور پلٹ کر تیزی سے کمرے سے باہر بھاگی۔
ٹھنڈی ٹھنڈی شبنم آلود ہوائیں ہرے بھرے لان میں اسی طرح نغمہ ریز تھیں۔ پھولوں پر ابھی تک شبنم کے قطرے سجے پتوں کے ساتھ ہلکورے لے رہے تھے، مگر اس نے نہ آج ان مہکتے رنگ لُٹاتے پھولوں کی سمت دھیان دیا جو ہمیشہ اس کے گلابی لبوں کی جنبش کے منتظر رہتے تھے، نہ نغمہ ریز ہوا کے سرور کو محسوس کیا بلکہ اپنے آپ کو ان شریر پھولوں سے بھی چھپاتی، تیزی سے لان عبور کرکے انیکسی کی جانب بھاگی۔
سفید دلکش نقش و نگار سے مزین نیم وا دروازے کے سیاہ پالش شدہ ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہوگئی۔ سفید مومی انگلیاں کانپ کانپ سی گئیں۔ وہ اپنے اندر اٹھتے ہوئے ایک ہیجان خیز احساس کے حصار میں ڈوبتی چلی گئی۔
مگر بدقت تمام اس نے اپنی حالت کو قابو کیا ورنہ دل کی تیز دھڑکن اسے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھنے دیتی۔
اس نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر ہی آہستگی سے کسی بہار کے نم جھونکے کی طرح اندر آگئی۔
سرمئی کرتے شلوار اور سفید براق واسکٹ میں ملبوس وہ فرش پر بیٹھا اپنی رائفل صاف کر رہا تھا۔ دستک پر سر اٹھا چکا تھا۔ اسے دیکھ کر حیران ہوا۔ سرخ رنگ کے پرنٹڈ پشواز اور سرخ بڑی سی چادر میں خود کو ڈھانپے ہمیشہ کی طرح سنہری بالوں کو زرد رومال میں جکڑے، وہ لائی نم کے خوشنما پھول کی طرح اپنی مہک کے ساتھ اس کے سامنے تھی۔ پورے چار دن کے بعد شعوری نہ سہی لاشعوری طور پر وہ اس کا منتظر تھا۔ اس کی سبز کانچ سی آنکھوں کی چمک ایک لحظہ بڑھی۔
وہ اسے دیکھتا رہا، مگر محویت کا عالم صرف چند لمحے رہا۔ پھر نہ جانے کس احساس تلے، کس سوچ نے اس  کشادہ پیشانی پر شکنوں کے جال بن دیئے۔
عنابی لب باہم بھنچ گئے۔ ستواں ناک کے نتھنے پھیلے اور پھر سکڑ گئے۔
’’تم، کیوں آئی ہو یہاں؟‘‘ ہمیشہ کی طرح برہم لہجے میں اس نے گھسا پٹا سوال پوچھا تو وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
مترنم جھرنوں سی ہنسی نازک گلابی لبوں سے پھوٹی تو عارضوں کی ساری دلکشی نکھر آئی۔ اس نے چہرہ جلدی سے رائفل پر جھکا لیا۔
وہ ہمیشہ اسے اس طرح ڈسٹرب کرنے آجاتی تھی۔
اس کے دل کی دنیا میں ایک انتشار برپا کرجاتی تھی۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ اس نے اپنی تمام دھڑکنوں کو قابو میں رکھتے ہوئے پوچھا، پھر ایک مخملی کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’اتنی صبح صرف یہی پوچھنے آئی ہو؟‘‘ اس کا لہجہ بدستور ترش رہا۔
’’آپ کل شکار سے واپس آئے ہیں ناں، سو یہی پوچھنے آئی ہوں کہ کیسا رہا ٹور؟‘‘ اشتارا خان نے اس کی ناراضگی، بے نیازی اور کج خلقی کو نظرانداز کرتے ہوئے آہستگی سے اپنے یہاں آنے کا مقصد اس پر واضح کیا، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیوں آئی ہے۔ وہ اتنا سادہ لوح یا کم عقل نہیں تھا کہ وہ بات نہ سمجھے جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ مگر شاید ہر بار نظرانداز کرکے اس کی اذیت دیکھ کر، اپنی انا کی تسکین کا سامان کرتا رہا تھا اور خود بھی جانتی تھی کہ وہ یہاں کیوں چلی آتی ہے۔ محض اس کی صورت دیکھنے، اپنی تمنائوں کے اس حسین مرکز کو دیکھنے۔
مگر وہ سچ نہ کہہ سکتی تھی۔
اپنے اندر مچلتے جذبوں کو زبان دے کر انہیں بے وقعت نہیں کرنا چاہتی تھی، کیونکہ وہ اچھی طرح واقف تھی کہ یہ شخص پذیرائی کے آداب سے واقف نہیں ہے۔ بالفرض اگر اس کا دل اس کے نرمل، کومل جذبوں کی حدت محسوس بھی کرے گا تب بھی وہ لبوں سے کچھ کہنے سے گریز ہی کر ے گا۔
یہ گداز احمریں لب اسی طرح جامد رہیں گے۔
شاید! اس کی محبت کی آزمائش کرتے رہیں گے۔
’’بتایا نہیں آپ کا ٹور کیسا رہا۔ کیا شکار کیا؟‘‘ اس کی لاتعلقی پر وہ دکھی ہوگئی، جو مسلسل سر جھکائے اپنی رائفل کی سمت متوجہ تھا۔
’’اچھا رہا۔‘‘ چمکدار طلائی بالوں سے بھرا سر اس کے دوسری بار استفسار پر بھی یونہی جھکا رہا۔ سمندر پر پہرہ دیتی ان ساحل پلکوں کو اس نے اٹھانے کی زحمت قطعی گوارا نہ کی۔
وہ ہارنا نہیں چاہتا تھا۔
ان سنہری پانی میں بہنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ اس کی انانیت کی ہار ہوتی۔
اس کی مردانگی پر کاری ضرب ہوتی۔

of 89 
Go