Urdu Novels

Back | Home |  

دل اک شہر جنوں۔۔۔۔۔۔۔آسیہ مرزا

اس کی گاڑی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے ہو کر اب طویل اور قدرے پختہ سڑک پر چل رہی تھی‘ دور ہی سے ’’سرخ حویلی‘‘ کو دیکھا جا سکتا تھا‘ جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے انسانوں کے ہجوم میں ایک دیو آکھڑا ہوا ہو۔ اس کے لبوں کی تراش میں مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے سوچا۔
’پتہ نہیں اس کے ذہن میں یہی تشبیہ کیوں آئی جبکہ وہ اس خوبصورت حویلی کی مناسبت سے کوئی بہترین تشبیہ بھی سوچ سکتا تھا۔ مثلاً سبک اور خراماں لہروں کے درمیان کھڑی مضبوط اور سبز چٹان۔
یا پھر…
جگمگ جگمگ کرتے ستاروں کے درمیان کھڑا مغرور چاند۔
مگر آس پاس کی آبادیاں‘ بے رونق اور اجڑے اجڑے مکان اپنی غربت اور افلاس کی از خود کہانی سناتے کم از کم کسی طرح جگمگاتے ستاروں کی تشبیہ کے قابل نہیں تھے نہ خراماں لہروں کی مثال ان کے لیے مناسب معلوم ہو سکتی تھی۔‘
چند منٹ بعد ہی اس کی گاڑی قدیم طرز کی اس حویلی کے سامنے رک گئی‘ جسے شاید نئے سرے سے نیا رنگ و روپ دے کر جدید طرز میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی گئی تھی اور یقینا اس کی خوبصورتی برقرار رکھنے پر بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔
اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر ہی بیٹھے بیٹھے ناقدانہ سی نظروں سے جائزہ لیا۔ صرف خوبصورت اور جدید بنانے پر ہی زور نہیں دیا گیا تھا بلکہ حفاظتی انتظامات بھی زبردست دکھائی دے رہے تھے۔
اونچی دیواریں‘ خار دار چمکتی تاریں جن میں شاید کرنٹ دوڑانے کا بھی انتظام تھا‘ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سرچ لائٹس وغیرہ‘ گیٹ بھی دیوہیکل مگر دیکھنے میں خوبصورت لگ رہا تھا‘ مجموعی طور پر یہ حویلی ایک خوبصورت قلعہ معلوم ہو رہی تھی۔
اس نے ہارن دیتے ہوئے رسٹ واچ پر ایک نگاہ ڈالی اور مطمئن ہو گیا۔
ہمیشہ ہی وہ وقت کا پابند رہا تھا‘ وہ پورے گروپ میں بہت پنکچوئل مشہور تھا۔ وہ پورا گروپ اس کا کالج فیلو تھا اور آج وہ اس گروپ کی ایک لڑکی آمنہ مردان علی شاہ کی دعوت پر اس حویلی میں آیا تھا جو وڈیرہ مردان علی شاہ کی تیسری اور چہیتی بیٹی تھی۔
اس کی گاڑی کو غالباً دیکھ لیا گیا تھا اور پہچان بھی لیا گیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے گیٹ خودکار انداز میں کھلتا چلا گیا۔ اندر دونوں طرف دو مسلح گارڈ کھڑے تھے۔ گارڈ کے ہی اشارے پر اس نے گاڑی چکنے فرش کے پورچ میں لا کر روک دی۔ ایک ملازم استقبالیے سے اس طرف دوڑ کر آیا۔ اس نے دیکھا سامنے سرخ بجری کی روش کے آخری سرے پر گلاس ڈور کے پاس آمنہ علی نے ہاتھ ہلا کر وش کیا تھا‘ اس نے بھی گلاسز پیشانی پر ٹکاتے ہوئے جوابی مسکراہٹ سے نوازا اور گاڑی سے باہر نکل آیا۔
’’مجھے یقین تھا تم ضرور آئو گے‘ تم وقت کے ہی نہیں وعدے کے بھی پابند ہو۔‘‘
وہ سہج سہج چلتی اس تک آ پہنچی۔
سیاہ رنگ کے ایمبرائیڈری والے شلوار سوٹ میں کھلے بالوں اور ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ یوں تو وہ ہمیشہ ہی خود پر خاصی توجہ دیتی تھی مگر اس وقت خاص اہتمام دکھائی دے رہا تھا‘ یوں لگ رہا تھا کہ اس نے خاص محنت صرف کی ہے خود پر۔ وہ عام دنوں سے خاصی مختلف اور اچھی لگ رہی تھی۔
شانوں پر ریشم کے ڈھیر کی طرح پڑے بالوں کو وہ پیچھے جھٹکتے ہوئے اس کے شاندار‘ دراز سراپے کو ستائشی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
’’بابا سائیں کا خیال ہے بزنس مین وقت کے ضرور پابند ہوتے ہوں گے مگر وعدے کے نہیں۔‘‘ وہ ہلکی شرارت سے گویا ہوئی۔
’’ہو سکتا ہے انہیں اس معاملے میں کوئی تجربہ ہو چکا ہو‘ ظاہر ہے اتنی پر یقین بات تو کوئی اپنے تجربے کی بنیاد پر ہی کر سکتا ہے۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ میں ذاتی طور پر ’’بزنس مین‘‘ نہیں ہوں اس لیے نہ صرف وقت کا بلکہ وعدے کا بھی پابند ہوں‘ سو یہاں نظر آ رہا ہوں۔‘‘ اس کے لہجے میں خوشگواریت تھی۔ اس کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’ہو تو بزنس مین کے بیٹے‘ ساری ادائیں بزنس مینوں جیسی ہیں۔‘‘ اس نے اس کے سراپے پر نگاہیں دوڑائیں۔
’’اوہ ہو یعنی خوب واقف ہیں آپ بزنس مینوں کی ادائوں سے۔‘‘ وہ برملا اور برجستہ بولا تو وہ خفیف سی ہو گئی۔
’’کیسی ہوتی ہیں ان کی ادائیں۔ ذرا وضاحت فرمائیں گی۔‘‘ اس نے مزید کہا تو اس نے مصنوعی خفگی سے گھورنے پر اکتفا کیا پھر مسکرائی۔
’’اب اندر تشریف لے آئیے جناب ولید حسن صاحب‘ کیا ساری باتیں یہیں کھڑے کھڑے ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے اندر کی طرف اشارہ کیا پھر پلٹ کر فاصلے پر مؤدب کھڑے ملازم کی طرف دیکھ


کر ولید حسن سے کہا۔
’’یہ گاڑی کی چابی الٰہی بخش کو دے دو‘ وہ لاک کر دے گا۔‘‘ وہ پھر الٰہی بخش کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔
’’الٰہی بخش ! صاحب سے چابی لے لو اور دیکھو پٹرول کی ٹنکی فل کر دینا اور اس پر اچھی طرح سے کپڑا وغیرہ پھیر دینا۔‘‘
بھاری بھرکم ڈیل ڈول‘ بڑی بڑی مونچھوں اور سندھی ٹوپی والا الٰہی بخش کسی روبوٹ کی طرح حکم کی تعمیل میں آگے آیا اور ولید حسن سے چابی لے لی۔
’’آیئے جناب آپ کے انتظار میں تو دن گنے ہیں۔ میں نے نہیں بابا سائیں نے۔‘‘ اس نے گویا شرارتی انداز میں وضاحت بھی کی۔
’’یہ لڑکیوں کی پرانی عادت ہے‘ ایسے موقعوں پر وہ دوسروں کے کندھوں کا سہارا لیتی ہیں۔‘‘ اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے‘ وہ اسے گھورنے لگی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ یہ بھی ایک مشرقی ادا ہے جسے ظاہر ہے ہم مشرقی مرد جانتے ہیں‘ ویسے ایسا کرتی ہوئی وہ منافق نہیں بلکہ…‘‘ اس نے دانستہ جملے میں وقفہ دے کر اس پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالی۔
’’بلکہ…‘‘ اس نے چلتے چلتے ذرا سا ٹھٹک کر ترچھی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ایسا کرتے ہوئے وہ اچھی لگتی ہیں بلکہ بہت اچھی۔‘‘ اس کے لہجے میں جانے ایسا کیا تھا آمنہ مردان علی کی پلکیں اس کے صبیح رخساروں پر جھک گئیں‘ اسے اپنے رخسار ایک انوکھی حدت سے تمتماتے محسوس ہونے لگے۔
ایک خوبصورت احساس دل کی دیواروں پر بکھر کر رہ گیا۔
ولید پالش شدہ فریم کے درمیان چمکتے گلاس ڈور کو پش کر کے اس کی ہمراہی میں لابی میں قدم رکھ چکا تھا۔

X…X…X

’’چچا غالب کی جانشین ادھر آئو ذرا۔‘‘ وہ غسل خانے کے فرش پر وائپر کرتی صغریٰ کو کان پکڑ کر باہر نکال لائی۔
’’اب بتائو تمہیں کچا چبا جائوں یا پھر اپنا ہی سر پیٹ لوں کہ ہضم تو تم مجھے ہو گی نہیں۔‘‘
’’کک… کیا ہوا بی بی۔‘‘ اس نے اپنی حد سے زیادہ بڑی اور کاجل سے اماوس کی رات کا منظر دن میں پیش کرتی آنکھوں کو پھیلا کر اسے دیکھا۔
وہ اس کی معصومیت پر فدا ہو گئی۔
’’اپنا شاعرانہ‘ عاشقانہ شوق پورا کرنے کے لیے یہی جگہ ملی تھی۔‘‘
’’اس نے اپنے سوشیالوجی کے نوٹس کی حالت زار کو ترحم بھری نظروں سے دیکھا پھر صغریٰ کو عالم طیش میں گھورا۔
’’اب ایسا کیا کر ڈالا ہے جی!‘‘ وہ کم سن بچوں کی طرح منہ پھلانے لگی۔

مرے محبوب نے وعدہ کیا ہے پانچویں دن کا
کسی سے سن لیا ہو گا کہ دنیا چار دن کی ہے

اس نے‘ اس کے اس کارنامے کو باآواز بلند سنایا ساتھ ہی پیپرز رول کر کے اس کے سر پر دے مارے۔
’’اچھا ہے نا شہری بی بی‘ ایک بس میں لکھا ہوا تھا‘ اچھا لگا میں نے جھٹ پٹ یاد کر لیا اور بھول نہ جائوں جی ! اس لیے یہاں پر لکھ لیا پر آپ نے تو تعریف بھی نہیں کی کہ کتنی اچھی رائٹنگ ہو گئی ہے میری۔‘‘
’’وہ اپنے کارنامے پر داد کی خواہاں تھی۔
’’میاں چنوں جانے والی بس پر لکھا ہو گا۔‘‘ اس نے گھورا۔


’’نہ جی‘ گھوٹکی جانے والی۔‘‘
’’صغریٰ کی بچی ! ناس مار دیا میرے نوٹس کا۔‘‘ اس نے نوٹس رائٹنگ ٹیبل پر پٹخے۔
آج صبح سے ہی اس پر غصہ سوار تھا جو شدید قسم کی بوریت سے وجود میں آیا تھا مگر وہ صغریٰ ہی کیا جو اپنی اس خوبصورت نشیلی آنکھوں والی شہرینہ بی بی کے غصے سے ڈر جاتی۔
’’اور یہ کون ہے تمہارا جس نے پانچویں دن کا وعدہ کر رکھا ہے تم سے۔‘‘ اچانک اس خیال پر اسے کڑی نظروں سے دیکھنے لگی‘ پھر ہنس دی۔
’’سن ہی لیا ہو گا دنیا چار دن کی ہے اور اگر آج پانچواں دن ہوا تو سمجھ لو مر کھپ گیا ہو گا‘ ویسے اچھا ہی ہوا جو کم اذیت سے مرا ہو گا۔ ورنہ تمہاری ان کالی گھور آنکھوں کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار کر اندھوں کی طرح پٹخنیاں کھا کر مر جاتا‘ اف تصور کرو کس قدر خوفناک قسم کی موت ہوتی بے چارے کی۔‘‘
’’ہائیں شہرینہ بی بی! اب ایسے تو نہ کہو نا جی!‘‘ وہ فرش پر منہ پھلا کر بیٹھ گئی اور ادھر اس نے اپنا سر پیٹ لینے میں ذرا بھی تامل نہ کیا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں تحیر کے ساتھ غصہ بھی لہرانے لگا تھا۔
’’اوئے ہوش میں تو ہے تو‘ اب اس وبا کی لپیٹ میں تم بھی آ گئیں‘ یا اللہ۔‘‘ اس نے چھت کی طرف نگاہ اٹھائی اور ٹھنڈی سانس کھینچ کر پھر اسے گھورتے ہوئے بولی۔
’’جانتی ہو یہ عشق کیسے کیسے ہوش مندوں کے ہوش چوپٹ کر دیتا ہے؟ انہیں نکما اور ناکارہ بنا ڈالتا ہے اور تم تو پہلے سے ہوش مند نہیں ہو‘ بلکہ قبل از وقت وہ ساری خوبیاں بھی موجود ہیں جو بعد میں بتدریج آنی تھیں۔‘‘
’’صغریٰ بیچاری ٹکر ٹکر دیکھنے لگی پھر یکدم لفظ ’’عشق‘‘ کے سہارے جیسے کسی حد تک بات کی تہ تک پہنچ گئی تو زور زور سے اپنے بھرے بھرے گال پیٹنے لگی۔
’’توبہ توبہ بی بی‘ یہ کیا بات کر دی آپ نے‘ میں اور ای۔ شق‘ ہائے میرے ابا کی توبہ… میں آپ کو ایسی بیوقوف نظر آتی ہوں۔‘‘ وہ شکایتی انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
تو اس نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ چلو اتنی عقل تو ہے اس میں۔
’’میرے ابا تو جی مجھے نچوڑ نچاڑ کر رسی پر سوکھا دیں گے۔‘‘ اس نے اپنے دھوبی باپ کی طرف سے خود ہی خوفناک قسم کی سزا کا تصور کر لیا‘ وہ ہنسنے لگی۔
’’تو مرزا غالب کی چچی‘ یہ شاعری کا شوق تجھے کیسے ہو گیا‘ لگتا ہے سکندر بھائی کا اثر ہو گیا ہے۔‘‘
’’کیوں جی‘ میرے دل میں بھی ججبے (جذبے) ہیں‘ کیا غریبوں کے پاس دل نہیں ہوتا۔‘‘
’’یا اللہ… جج بے… آہ۔‘‘ اس نے ایک سرد قسم کی آہ بھری۔
’’اچھا بس بس اب زیادہ جذباتی ہیروئن بننے کی ضرورت نہیں ہے‘ پنجابی فلموں میں ابھی کوئی ویکینسی نہیں ہے تمہارے لیے‘ وہاں پہلے ہی کافی بھینسیں… میرا مطلب ہے ہیروئنیں موجود ہیں۔‘‘ اس نے ساری بکھری کتابیں ایک طرف رکھیں۔
’’میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے پتا ہے؟‘‘ وہ رائٹنگ ٹیبل سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگی۔
’’اور تم آتے ہی شپڑ شپڑ باتھ روم دھونے لگیں۔‘‘ اس پر شدید قسم کی بوریت کا غلبہ پھر چھانے لگا۔
’’نہ جی… مجھے کوئی غیب کا علم ہوتا ہے۔‘‘
’’صبح سے ٹہل ٹہل کر آدھی رہ گئی ہوں‘ ایک بار بھی نہیں پوچھا تم نے کہ بی بی آخر مسئلہ کیا ہے؟ کیوں اتنی اداس ہیں؟‘‘ اس نے گویا جھاڑ پلانے والے انداز میں کہا تو وہ کھی کھی کر کے ہنسنے لگی۔
’’مجھے پتہ ہے آپ آج بور ہو رہی ہیں‘ صبح سے باغیچے سے اندر اور اندر سے باغیچے میں آ جا رہی ہیں‘ بڑی بیگم اور بھابی بھی چلی گئی ہیں نا جی‘ طوبیٰ اور طلحہ بھی نہیں ہیں۔‘‘
’’تمہیں کیا پتہ پانچ فٹ تین انچ سے قد پانچ فٹ دو انچ رہ گیا ہے میری ٹانگیں گھس گئی ہیں۔‘‘ اس نے سخت قسم کی بے چارگی سے کہا۔
’’ہائے اماں اگر یونہی ٹہلتی رہیں تو پھر شہرینہ بی بی آپ تو پانچ فٹ کی رہ جائیں گی۔‘‘
’’ہشت خدا نہ کرے۔‘‘ وہ دہل کر جیسے پٹ سے دوبارہ کرسی پر گر گئی پھر صغریٰ کی ہنسی کے ساتھ خود بھی ہنسنے لگی۔
’’بدتمیز‘ اچھا دیکھو آغا جی جاگ گئے ہیں یا ابھی تک نیند ہی لے رہے ہیں۔ اف ایک یہ آغا جی جانے ایسی کون سی نیندیں پوری کر رہے ہیں۔ ادھر میں بور ہو ہو کر مر رہی ہوں اور ان کی نیند پوری نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
’’میں دیکھتی ہوں۔‘‘ صغریٰ فرش سے اٹھ کر کمرے سے جانے لگی کہ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔
’’رہنے دو تم‘ میں خود ہی دیکھتی ہوں اور اب دیکھوں گی نہیں بلکہ انہیں جھنجھوڑ کر اٹھا کر رہوں گی۔ حد ہو گئی‘ ذرا بھی اکلوتی پوتی کا خیال نہیں ہے۔ تم ایسا کرو زبردست قسم کی چائے اور کچھ اسنیکس تیار کرو۔‘‘ اس نے اسے کچن میں چلتا کیا اور خود جارحانہ اور فیصلہ کن انداز میں بڑے بڑے قدم اٹھاتی آغا جی کے بیڈ روم کی طرف بڑھی کہ آغا جی خود ہی کمرے سے باہر نکلتے نظر آئے۔

of 168 
Go