Urdu Novels

Back | Home |  

 

ایک تھی رانی۔۔۔۔۔۔زاہدہ پروین
بُوہے باریاں تے نال کنداں ٹَپ کے،
آواں گی ہوا بن کے،
بُوہے باریاں تے نال کنداں ٹَپ کے
گانے کے اتنے خوب صورت بول ہوں، آواز سے سوز و گداز شہد بن بن کے ٹپک رہا ہو اور ہر آن بڑھتی شام کے سائے ہوں تو پھر بھلا کس کافر کا جی نہ چاہے گا کہ ہمہ تن گوش ہو کر سنتا ہی رہے۔ بس یہی حال اس وقت رانی کا بھی تھا۔
مگر ساتھ ہی اُسے زبرست کوفت کا احساس بھی ہو رہا تھا کیونکہ شہر کی طرف عازمِ سفر، جس بس میں وہ اس وقت یہ گیت ہمہ تن گوش کیفیت میں سن رہی تھی، مناسب رفتار سے چلنے کے باوجود انجن کے شور اور کھٹر پٹر نے سارا مزہ کرکرا کر رکھا تھا اور وہ کئی مرتبہ پہلو بدل بدل کر اس شور کو کوس چکی تھی۔
تبھی، اَنہونی، ہونی میں تبدیل ہو گئی اور بس ایک زوردار دھماکے کے ساتھ لنگڑاتی ہوئی اچانک تھم گئی۔ رانی قدرت کی فیاضی پر عش عش کر اُٹھی۔ اگر اس وقت خدا سے کچھ اور بھی مانگتی تو شاید مل جاتا!
اب صورتِ حال یہ تھی کہ بس کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو چکا تھا اور وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر آنکھیں موندے گیت کا اگلا حصہ سن رہی تھی۔
دلاں دیاں راہاں تے پیرے نئیوں لگدے
مقدراں دے لکھے ہوئے مٹ نئیوں سکدے
مینوں ربّ نے بنایا تیرے لئی اوئے،
متھے تیرا ناں لکھ کے
بُوہے باریاں تے نال کنداں ٹَپ کے
میں آواں گی ہوا بن کے۔۔۔۔۔۔
بُوہے باریاں۔۔۔۔۔۔۔۔
آواز کے حُسن اور شاعری کے سحر نے رانی کو مست و بے خود کر دیا۔ اچھی موسیقی اُس کی یوں بھی کمزوری تھی اور ان لمحات میں وہ اس لئے بھی خالی الذہن سی ہو رہی تھی کہ تمام دن پڑھانے اور ڈیوٹی دینے کے بعد مختصر سے سفر کے یہ لمحات اسے روز ہی بہت اچھے لگا کرتے تھے۔ اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا اور پُرسکون محسوس ہوتا، اس لئے وہ بس پر پڑنے والی اُفتاد سے بے خبر بڑی توجہ اور یک سوئی سے سن رہی تھی۔ بس میں فٹ کیسٹ پلیئر برابر آن تھا۔
چن جدوں چڑھیا تے لوکی پئے تکدے
ڈونگے پانڑیاں دے وِچ دیوے پئے بلدے
کندے لگ جاواں، کچا گھڑا بن کے،
میں آواں گی ہوا بن کے
بُوہے باریاں تے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اُس کے پسندیدہ لمحات زیادہ دیرپا ثابت نہ ہو سکے اور اس سے قبل کہ وہ مزید لطف اندوز ہو سکتی، کسی نے اُسے شانے سے پکڑ کر ہلا دیا۔
 

 

اُس نے سیدھی ہو کر دیکھا۔
برابر والی عورت گھبرا کر کہہ رہی تھی۔
’’سنا تُو نے لڑکی! بس کا پہیہ پھٹ گیا ہے۔‘‘
’’تو کیا ہو گیا! دوسرا لگ جائے گا۔‘‘ رانی نے ناگواری سے جواب دیا۔
’’مصیبت تو یہی ہے کہ ان کے پاس پہیہ ہے ہی نہیں۔‘‘
اب رانی کے لئے اس مداخلتِ بے جا کو برداشت کرنا ممکن نہ رہا۔ بہت بے زاری اور بدتمیزی سے بولی۔ 
’’کسی دوسری بس سے لے سکتے ہیں۔ تم میرے کان مت کھائو۔‘‘
مگر بڑی بی بھی نہایت ڈھیٹ واقع ہوئی تھیں، کڑک کر بولیں۔
’’ایے تو تیری آنکھیں کیا پھوٹی ہوئی ہیں؟ دیکھ نہیں رہی، دو بسیں رُکے بغیر کچے پر اُتر کے جا چکی ہیں۔ کسی نے بھی پہیہ نہیں دیا۔ ڈلیور (ڈرائیور) بے چارہ چلّاتا رہ گیا۔ لو جی، بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا۔ میں تو کہہ رہی تھی، یوں ہی شام پڑ جائے گی، کہاں جائے گی اکیلی۔ پر یہ تو اپنے آگے کسی کو جانے ہی ناں، واہ جی، خوب رہی۔‘‘ 
وہ خوب بڑبڑاتی اپنی گٹھڑیاں لے کر نیچے اُتر گئی۔
اب رانی کے بھی ہوش ٹھکانے آئے۔ 
بڑی بی کی بڑبڑاہٹ ’’کیا رات پڑے اس جنگل بیابان میں بس والوں کے ساتھ رہے گی؟‘‘ اُس کا دل و جگر چیر گئی تھی۔
اِردگرد کے ماحول پر غور کیا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ چند ایک زنانہ سواریوں کے علاوہ سب بس سے اُتر کر اِدھر اُدھر بکھر گئے تھے۔ عملے کے لوگ پریشانی کے عالم میں لوگوں کو تسلیاں دیتے پھر رہے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف کھیتوں کا سلسلہ دُور تک پھیلا تھا۔ جگہ جگہ ریت کے اونچے نیچے ٹیلے تھے۔ چنے اور سرسوں کے کھیتوں میں شام کی ہوا سرسراہٹیں پیدا کر رہی تھی۔ تیار کھڑی فصلوں کے پودے بھی لہلہا رہے تھے، جن کے بیچ کچی پگڈنڈی پر دو سانڈنی سوار گرد کے بگولے اُڑاتے چلے جا رہے تھے۔ سرسوں کے چٹکے ہوئے پیلے پیلے پھولوں پر شام کا سرمئی آنچل پھیلتا چلا جا رہا تھا۔
اس کے دیکھتے ہی دیکھتے لمبی لمبی چنریوں اور گھاگھرے والی عورتوں نے روتے بسورتے بچوں کو گودوں میں بھرا اور مردوں نے میلی کچیلی گٹھڑیاں شانوں پر ڈالیں اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے پیدل ہی سڑک پر ہو لئے۔ رانی کے ساتھ جھڑپ لینے والی بڑی بی بھی ان کی ہم سفر تھیں۔ اس نے کلائی کی گھڑی پر نظر ڈالی، وقت کا اندازہ ہوتے ہی اسے شدید بھوک کا احساس ہوا۔ ساتھ ہی اماں بی کا بے قرار وجود اور شرمین کی منتظر نگاہیں بھی ہولانے لگی تھیں۔ آج ویسے ہی کالج میں تین بج گئے تھے اور اس کی ہر روز والی بس چھوٹ گئی تھی۔
جوں جوں وقت گزر رہا تھا، اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ اماں بی کی زیادہ فکر تھی کیونکہ وہ اختلاجِ قلب کی مریضہ تھیں۔ شرمین بھی اب تک اس کے انتظار میں بھوکی بیٹھی ہو گی۔ یہ خیال ہی روح فرسا تھا۔ جاتی گرمیوں اور آتی سردیوں کی یہ ہر دم ڈھلتی شام اس کے لئے عذاب ہو گئی۔ اس نے کھڑکی کا شیشہ ہٹا کر کنڈیکٹر کو بلایا اور غصہ اسی پر اتار ڈالا۔
’’کیا بات ہے؟ بس کیوں روک رکھی ہے؟‘‘ اس نے انجان بن کر پوچھا۔
’’آپ دیکھ نہیں رہیں، پچھلا ٹائر پنکچر ہو چکا ہے۔‘‘ کنڈیکٹر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’تو۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے مکینک کو ٹائر بدلنا نہیں آتا؟‘‘ اس نے اپنا انداز نہ بدلا۔
’’جی نہیں۔ بلکہ اتفاقاً دوسرا ٹائر نہیں ہے ہمارے پاس۔‘‘ کنڈیکٹر نے بھی اسی بے نیازانہ انداز میں جواب دیا۔
اب وہ بھڑک کر بولی۔
 

 

’’واہ جی! اس ’’اتفاق‘‘ کی بھی خوب رہی۔ لاکھوں کی بس تو خرید سکتے ہیں مگر فالتو ٹائر نہیں رکھ سکتے۔ آپ لوگوں کو مسافروں کی سہولت کا ذرّہ برابر خیال نہیں۔‘‘
’’جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بس اللہ کی مرضی۔‘‘ کنڈیکٹر پوری ڈھٹائی سے اپنا دفاع کئے جا رہا تھا۔
’’اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ ٹھنڈے لہجے میں بولی۔ ’’اب آپ ایسا کریں کہ مسافروں کا کرایہ واپس کر دیں، شرافت سے۔‘‘
اِدھر اُدھر ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے مسافر یہ تکرار اور بحث سن کر کنڈیکٹر کے اردگرد جمع ہونے لگے تھے۔ اس کا تو دم نکل گیا تھا، ساری اکڑفوں بھول کر ہکلاتا ہوا بولا۔ ’’یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمال کرتی ہیں آپ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف نو میل تو شہر رہ گیا ہے یہاں سے۔‘‘
’’واہ، واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ تو کسی ٹوٹے مرے فقیر کو بھی ایک روپیہ نہیں چھوڑتے۔‘‘ وہ مزید چمک کر بولی۔ ’’اور اب نو میل کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔‘‘ پھر ایک ایک لفظ پر زور دے کر بڑی دھونس سے بولی۔ ’’براہِ کرم آپ ان سب کا کرایہ واپس کریں۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ لوگوں سے متبادل سواری کا انتظام نہیں ہو سکتا۔‘‘
مسافروں کو تو فوراً سے پیشتر ہی یہ مشورہ پسند آ گیا، چاروں طرف سے ہانکیں لگنے لگیں۔ بھلا ایسی نیکی کون رد کر سکتا ہے؟ جلد ہی بس کے عملے نے اکثریت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور مسافروں سے اپنا حساب کتاب چکا کر جان چھڑائی۔
جھلّاہٹ ہی جھلّاہٹ میں یہ تمام کارروائی تو رانی نے کر ڈالی تھی مگر اصل مسئلہ جوں کا توں موجود رہا۔ چور کو چور کے گھر پہنچا دینا اس کی عادت میں شامل تھا، اس سلسلے میں بعض اوقات خود اپنا نقصان بھی کر بیٹھتی تھی۔ چنانچہ اس وقت بھی کنڈیکٹر سے جھڑپ لینے کے بعد وہ پہلے کی نسبت زیادہ غیر محفوظ ہو گئی۔ بس کا عملہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔ 
صوبے کا اندرونی علاقہ ہونے کی وجہ سے ان اطراف میں کسی رکشہ، ٹیکسی کے ملنے کا امکان ہی نہ تھا۔ بس کے مسافروں میں زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ اور دیہاتی قسم کے تھے۔ اس کے دیکھتے ہی دیکھتے شہر جانے والے ایک ٹرک کو رُکوا کر کچھ لوگ اس میں بھر کر چلے گئے اور بس کے عملے کے علاوہ چند افراد ہی باقی رہ گئے یا پھر یکہ و تنہا وہ خود تھی۔
اور اب بس کی سیٹ پر کہاں تک جمی رہتی؟ طوعاً و کرہاً نیچے اُتر آئی اور دل مضبوط کر کے حالات کا جائزہ لینے لگی۔
شام کا جھٹپٹا ہر طرف پھیل گیا تھا۔
سڑک کی دوسری طرف جنگلی جھاڑیاں اور اُونچی اُونچی گھاس تھی۔ پرندوں کے جھرمٹ بھرّا مار کے جھاڑیوں سے نکلتے اور نامعلوم سمتوں کو اُڑ جاتے۔ کوئوں کے غول کے غول کائیں کائیں کرتے، شور مچاتے اپنے بسیروں کی طرف محوِ پرواز تھے۔ رانی کے آس پاس چند کھانستے، کھنکارتے مردوں کے علاوہ کوئی ذی روح نظر نہ آتا تھا۔ شہر یہاں سے بہت دُور تھا۔ پوری قوت سے بھی بھاگتی تو بھی نہ پہنچ پاتی۔ اس نے دوپٹہ قاعدے سے شانوں پر پھیلایا، چشمہ اُتار کر پرس میں رکھا اور قدم جما جما کر رکھتی ہوئی سرس کے درختوں کے اس جھنڈ کی طرف چل دی، جس میں پیلے پیلے پھولوں کے گچھے جھول رہے تھے۔ ان کی دل نواز مہک ہوا میں رچی ہوئی تھی۔ دُور کبڑے کبڑے کیکروں کے پیچھے دھواں اُٹھ رہا تھا اور دھندلکے میں تحلیل ہوتا جا رہا تھا جو اس امر کی علامت تھا کہ ضرور ریت کے بکھرے ہوئے ٹیلوں اور ٹبوں میں کہیں نہ کہیں انسانی آبادی موجود ہے۔ مگر رانی کو ان سے کیا مدد مل سکتی تھی؟ وہ تو درختوں کے نیچے اس اُمید میں آ کھڑی ہوئی تھی کہ کسی سے لفٹ مانگ سکے۔ دوسروں کی چمچماتی گاڑیوں پر کرائے کی بسوں کو ترجیح دینے والی کے لئے یہ قطعی پہلا چانس تھا جب کہ دل ہی دل میں وہ اس صورتِ حال سے سخت ہراساں اور خوف زدہ تھی اور شاید یہ اسی بدحواسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے لفٹ کے لئے ہاتھ بھی دیا تو مخالف سمت سے آنے والی گاڑی کو۔
’’فرمایئے؟‘‘ 
لمبی سی خوب صورت گاڑی کے اسٹیئرنگ کو تھامے ایک بے حد رُعب دار اور باوقار شخصیت نے سر باہر نکال کر بڑی شائستگی سے دریافت کیا۔
وہ جھپٹ کر نزدیک پہنچی اور جلدی جلدی تیز لہجے میں اپنی بپتا سنانے لگی۔
’’دیکھئے پلیز! بالکل شام ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے، دو گھنٹے ہو گئے دوسری سواری بھی نہیں مل رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت ڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈر لگ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ رانی نے کپکپاتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
 
of 34 
Go