Urdu Novels

Back | Home |  

 

گہر ہوۘنے تک ۔ ۔۔۔۔۔۔عائشہ خان
 
ثمین نے رشک بھری نظروں سے سارہ شاہ کو دیکھا تھا۔ کٹ دانے کے کام سے آراستہ ملٹی شیڈڈ پَلوئوں والی گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی میں اس کا مرمریں سراپا اور شہابی رنگت والا دلکش چہرہ نظر لگ جانے کی حد تک خوب صورت لگ رہا تھا گو کہ ان کی عمروں میں صرف دس دن کا فرق تھا اور یہ دس دن بھی سارہ شاہ ،ثمین سے بڑی تھی لیکن اپنے بے حد نازک سراپا اور بچوں کی سی نرم و ملائم جلد کی وجہ سے لگتی اس سے دس سال چھوٹی تھی۔
’’یہ کیا بات ہوئی سارہ…! تیار ہونے کے بعد تم نے جانے کا پروگرام بدل دیا۔ کیوں…؟‘‘ ثمین حیران ہوئی حالانکہ غلط حیران تھی۔ اب تک اسے اپنے بچپن کی دوست اور اکلوتی نند کے شاہانہ مزاج کو سمجھ جانا چاہیے تھا۔
’’بس موڈ نہیں رہا…‘‘ اس نے ائیر رنگز اتارتے ہوئے کہا۔ 
’’افوہ!ایک تو یہ تمہارے موڈ کا بھی کچھ پتا نہیں چلتااور گھر پر بھلا کیا کرو گی؟‘‘
’’گھر پر…!‘‘ وہ کچھ سوچنے لگی تھی۔ 
’’بور ہو گی خوب…چلی چلو…‘‘ ثمین نے گویا اسے ڈرایا۔ اپنی تمام تر خود سری اور خود پسندی کے باوجود وہ اسے بے حد عزیز تھی اور بقول بہروز ہاشمی کے، یہ ایک تاریخی واقعہ تھا کہ کوئی بھابھی نند سے اس قدر محبت کرتی ہے۔ 
’’نہیں ثمین! میں نہیں جا رہی۔ تم شاہا سے میری طرف سے معذرت کر لینا۔‘‘ اس نے کہاتھا اور ثمین اسے خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئی، لیکن ابھی چند لمحے بھی نہیں گزرے تھے کہ آگے آگے وہ اور پیچھے بہروز ہاشمی اس کے کمرے میں داخل ہوئے۔ 
’’سارہ! ثمین بتا رہی ہے تم شاہا کی برتھ ڈے پارٹی میں نہیں جا رہی، تم ٹھیک تو ہو…؟‘‘ بہروز ہاشمی نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’ہاں بھائی! ایک دم ٹھیک۔‘‘ بھائی کی محبت پر وہ خوش دلی سے مسکرائی۔
’’پھر…؟‘‘ بہروز ہاشمی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’بس یوں ہی بھائی! دل نہیں چاہ رہا جانے کو…‘‘
’’میں انہیں کہہ رہی تھی آپ کی موڈی بہن کا موڈ نہیں ہے جانے کا اور کوئی بات نہیں ہے مگر ان کی تسلی نہیںہوئی اب خود بات کر لی ہے تو مطمئن ہو گئے ہیں۔‘‘ ثمین ہنسی تھی۔ ’’سارہ! تم خوش قسمت ہو یار! بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن پر قسمت مہربان ہوتی ہے۔‘‘ ثمین نے کہا تھا اور وہ تفاخر سے مسکرا دی تھی۔
یہ جملہ اس کے لیے نیا نہیں تھا، وہ اکثر مختلف لوگوں سے یہ جملہ سنتی تھی اور اپنا اعزاز اور حق سمجھ کر وصول کرتی تھی۔ اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہیں قدرت عطا کرنے میں انتہائی فراخ دلی کا ثبوت دیتی ہے۔ عزت، دولت، شہرت اور محبت، ہر چیز انہیں بے حساب ملتی ہے لیکن خود یہ دوسروں کو کچھ بھی دینے میں انتہائی تنگ دل ہوتے ہیں۔ فخرو غرور کو یہ اپنا حق سمجھتے ہیں اور احسان مندی…! اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
’’چلو ثمین! سارہ کا پروگرام نہیں ہے، ہم کیوں لیٹ ہو رہے ہیں؟‘‘ سارہ شاہ کوپرسکون ہو کر بیٹھے دیکھ کر بہروز ہاشمی نے کہا اور پھر دونوں اسے خدا حافظ کہتے کمرے سے نکل گئے اور ان کے کمرے سے نکلتے ہی اس نے ایک مرتبہ پھر مراد شاہ کا نمبر ڈائل کیا مگر نمبر ہنوز بند تھا۔ اس نے سیل بیڈ پر پھینک دیا اور بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگی۔
ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔ کبھی بھی نہیں…۔
ایک وہ دن تھا جب وہ امریکا آتی تھی تو مراد شاہ دن میں بیسیوں فون کیا کرتے تھے اور اس کی بھابیاں ان کی دیوانگی پر ہنسا کرتی تھیں۔ لیکن یہ بات تو اب پرانی ہو گئی تھی… ہر روز ایک بار تو وہ اب بھی فون کیا کرتے تھے… مگر نہ انہوں نے کل فون کیا تھا نہ آج… سارا دن انتظار کرنے کے بعد شام کو اس نے خود فون کیا تھا۔ جب جلدی جلدی ایک آدھ بات کرنے کے بعد انہوں نے یہ کہتے ہوئے فون بند کردیا تھا کہ ابھی کچھ دیر میں کال بیک کرتے ہیں اور پھر شام سے رات ہو گئی تھی ان کا فون نہیں آیا تھا۔ آخر اس نے خود فون کیا مگر مراد شاہ کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ اور تب سے اب تک وہ کتنی بار کوشش کر چکی تھی۔ آخر وہ کہاں ہیں؟… کیسے ہیں؟… کیا کر رہے ہیں؟… اور سیل کیوں بند کر رکھا ہے جبکہ وہ جانتی تھی کہ وہ فون بند نہیں کرتے۔ ہاں شادی کے اوّلین دنوں میں چند روز کیا تھا جب وہ سارہ کے ساتھ ہوتے تھے۔ تو اب …؟ یک دم اسے پرانی بات یاد آئی تو دل میں ایک تلاطم پیدا ہو گیا۔ پھر اس نے بہت کوشش کی تھی اور اپنا دھیان اس بات کی طرف سے ہٹانا چاہا تھا مگر کام یاب نہ ہو پائی تھی۔ کمرے میں تیز تیز اِدھر سے اُدھر چکر لگاتے ہوئے اس نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی اور پھر سیل اٹھاتے ہوئی ری ڈائل کا بٹن پش کیا تھا اور آپریٹر کے ایک مرتبہ پھر نمبر بند ہونے کی اطلاع پر سارہ شاہ کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ موبائل اس نے دیوار پر دے مارا اور پھر باقی چیزوں کی شامت آ گئی تھی۔ ڈیکوریشن پیسز، ڈریسنگ ٹیبل سے کاسمیٹکس کی چیزیں۔ جو ہاتھ میں آ رہا تھا وہ اٹھا اٹھا کر پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پھینک رہی تھی۔
’’مم… مما…!‘‘ حیران و پریشان سا امان دروازے میں کھڑا خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ جو اس وقت قطعاً یہ بھول چکی تھی کہ وہ اپنے گھر میں نہیں تھی جہاں آیا اسے اس موڈ میں دیکھ 

 

کر امان کو اِدھر اُدھر لے جایا کرتی تھی۔ امان کے ڈرے ڈرے چہرے کو دیکھتے ہی اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور لبوں پر زبردستی مسکراہٹ پھیلاتے ہوئے اس کی جانب بڑھی تھی۔
’’مما کی جان…!‘‘ پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس نے اسے سینے سے لگا لیا۔بے چین دل کو جیسے چین آ گیا تھا۔ اس کے ریشمی بالوں والے سر پر چہرہ ٹکائے وہ جیسے سب کچھ بھول گئی تھی۔
ہاں کچھ ایسی ہی محبت تھی اسے امان سے۔ حالاں کہ امان نے اس کی کوکھ سے جنم نہیں لیا تھا۔ لیکن اس سے محبت وہ اتنی ہی شدید کرتی تھی جتنی کوئی بھی ماں اپنی اولاد سے کر سکتی تھی۔ وہ سارہ شاہ جو بے حد مغرور تھی۔ بے حد خود پرست تھی۔ جس نے ہر رشتے سے بے حد محبت پائی تھی اور محبت کی کیسے جاتی ہے، وہ اس ہنر سے نا آشنا تھی… لیکن امان کو پانے سے پہلے تک… اسے گود میں لینے اور دل میں جگہ دینے سے پہلے تک… ’’تم نے کھانا کھا لیا مائی سن!‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ 
’’مگر کیوں…؟‘‘ اس نے حیرانی سے پوچھا تھا کیوں کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ ملازمہ کو کہہ کر آئی تھی کہ وہ اسے کھانا کھلا دے۔ 
’’میں نے سوچا ہم اکٹھے کھائیں گے۔‘‘ امان نے ا س کے گلے میں بازو حائل کرتے ہوئے کچھ ایسی معصومیت سے کہا کہ سارہ شاہ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔ اس نے بے اختیار اسے ساتھ بھینچتے ہوئے اس کے ماتھے کو چوما پھر اس کی بھوک کے خیال سے جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ 
’’میں چینج کرلوں پھر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ 
’’میں کھانا لگوائوں مما؟‘‘ وہ مستعدی سے اٹھتے ہوئے بولا تو نثار ہوتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے سارہ شاہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ پھر دونوں نے مل کر کھانا کھایا تھا اور امان کی پیاری پیاری باتوں میں وہ اپنی ساری پریشانی تقریباً بھول سی گئی تھی لیکن جب امان سو گیا اور کمرے میں بالکل خاموشی چھا گئی تو اس کی سوچ کی پرواز پھر مراد شاہ تک جا پہنچی۔ کسی انہونی کا احساس تھا یا کیا… دل عجیب سی بے کلی کا شکار تھا اور اپنی یہ کیفیت اسے خود بھی حیران و پریشان کر رہی تھی۔ اچانک اسے خیال آیا تھا کہ چوکی دار کے پاس بھی تو فون ہے پھر وہ اسے کیوں فون نہیں کر رہی۔
’’آخر یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا۔ کل سے خوامخواہ اپنا خون جلا رہی ہوں؟‘‘ اس نے تیزی سے چوکی دار کا نمبر ملاتے ہوئے اپنی عقل کو کوسا تھا۔
پہلی بیل پر ہی فون ریسیو کر لیا گیا تھا اور اس کی آواز سنتے ہی بشیر فوراً مستعد ہوگیا تھا۔
’’السّلام علیکم بیگم صاب جی!‘‘
’’وعلیکم السّلام۔ یہ کل سے تمہارے صاحب کہاں غائب ہیں؟‘‘ سلام کا جواب دیتے ہی اس نے فوراً مراد شاہ کے بارے میں پوچھا۔
’’کل سے…!‘‘ بشیر نے زیر لب دہرایا اور پھر فوراً ہی اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے بے حد رازداری سے کل کی پوری روداد سنانا شروع کردی تھی اور سارہ شاہ کا دماغ جیسے بھک سے اُڑ گیا تھا۔
٭…٭…٭
’’روز بروز بگڑتے ہوئے ملک کے حالات، وفاقی حکومت کے خلاف صوبائی حکومتوں کی بڑھتی ہوئی شکایات، ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوام کا احتجاج، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتالیں، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور اپنے گھر بار چھوڑ کر بے سروسان روتے بلکتے لوگوں کی دُہائیاں…‘‘ بوجھل ہوتے دل کے ساتھ مراد شاہ نے اخبار میز پر رکھ دیا تھا۔ چند لمحے کسلمندی سے بیٹھے رہے اور پھر اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئے۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کے بعد صبح سے طبیعت پر چھائی پژمردگی خاصی حد تک کم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ حسب معمول تیارہونے سے قبل ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا اور پھر واپس پلٹتے پلٹتے یک دم ٹھٹک کر رک گئے تھے۔
سنو جاناں
جولائی آ گیا ہے
’’جولائی…!‘‘ انہوں نے زیرلب دہرایا تھا۔ دل کے ٹھہرے ہوئے سمندر میں کسی یاد نے یوں کنکر پھینکا تھا کہ ہر سو اک ہلچل سی مچ گئی تھی۔ یہی مہینہ تو تھا جب وہ بے حد عام سی، گمنام سی لڑکی ان کی زندگی میں آئی تھی اور زندگی کا عنوان بدل کر چلی گئی تھی۔ انہوں نے خالی خالی نگاہوں سے ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھا تھا کوئی شاعر اپنا کلام سنا رہا تھا۔
گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں
ہَوا کے لمس سے نا آشنا شامیں!
 ستاروں سے بھری راتیں
کہ جن میں نیند کی دیوی بھی اکتائی سی لگتی ہے
اسی بے کیف منظر میں
اچانک آسمان بادل کی چادر اوڑھ لیتا ہے
وہ چھاجوں مینہہ برستا ہے

 

کہ منظر جھوم اٹھتاہے
سنو جاناں…!
وہی موسم، وہی رُت ہے
کہ جب ایسے گھٹن اوڑھے دن کی
برستی شام میں ہم تم
فضا کی گنگناہٹ روح میں محسوس کرتے تھے
کبھی بوندیں پکڑتے تھے
کبھی یوں مسکراتے تھے
کہ جیسے کان میں بارش نے کوئی بات کہہ دی
 ہو سنو جاناں
وہی موسم، وہی رُت ہے
گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں
فضا بھی گنگناتی ہے
نہ جانے تم کہاں پر ہو
چلے بھی آئو کہ اب جاناں!
تمہیں بارش بلاتی ہے
’’تمہیں بارش بلاتی ہے!‘‘ بے حد دھیمے کھوئے سے کھوئے لہجے میں انہوں نے دہرایا اور تبھی لائٹ چلی گئی تھی، باہر سے آتی تیز آوازوں نے انہیں اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔’’یہ آوازیں کیسی آ رہی ہیں؟‘‘ تیز تیز قدموں سے مراد شاہ بیڈروم سے نکلے اور بھاگنے کے سے انداز میں اندر آتے خانساماں سے پوچھا تھا۔
’’صاحب جی! بشیر نے ایک عورت کو پکڑ رکھا ہے جو کل سے کوٹھی کے اردگرد منڈلا رہی تھی اور آج… ارے ، ہائے!… میرا گوشت…‘‘ ایک دم وہ بات ادھوری چھوڑ کر دہائی دیتا کچن کی طرف بھاگا تھا اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے باہر کی جانب بڑھے۔
بشیر کسی عورت کو تقریباً کھینچتے ہوئے اندر لا رہا تھا۔ ’’کیا بات ہے بشیر؟ کون ہے یہ؟‘‘
’’صاحب جی! کل یہ عورت پتا پوچھنے کے بہانے اندر گھسی آرہی تھی۔ بعد میں دو تین بار اِدھر چکر لگاتی نظر آئی…میں چونکا تو سہی مگر پھر اپنا وہم سمجھ کر بیٹھا رہا۔ پر آج کیا ہوا صاحب جی! میں اندر تھا، باہر آیا تو یہ اچک اچک کر گیٹ سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی… مجھے دیکھتے ہی رفوچکر ہونے لگی۔ خیر میں بھی پوری طرح چوکنّا تھا…‘‘
’’مختصراً بتائو بشیر…!‘‘ اس کے مزے لے لے کر بتانے پر انہوں نے زچ ہو تے ہوئے کہا۔
’’صاحب جی! ابھی یہ ارحم صاحب کے بیٹے سے امان بابا کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ اب باقی اس سے آپ ہی اگلوائیں۔‘‘ اس نے جھٹکے سے عورت کو چھوڑا تھا، وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی تھی اور ان کے قدموں میں آ گری تو ان کے پائوں کو یک دم جیسے گرم انگاروں نے چھو لیا تھا۔
’’اف… اس قدر تیز بخار…‘‘ ان کا نرم اور ہمدرد دل پل میں گداز ہو گیا تھا۔ ’’ماسی! اٹھائو اس کو۔ یہ تو تیز بخار میں پُھنک رہی ہے… اٹھنے تک کی تو سکت نہیں اس میں… کچھ مدد کے لیے آئی ہو گی بے چاری اور یہ بشیر، اس کا تو دماغ خراب ہے۔ ہر بات کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر کہانی بنانے میں ماہر ہے یہ…‘‘ وہ بشیر کو گھورتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ’’اور ہاں… اس کو کچھ کھانے کے لیے بھی لا کر دو۔‘‘ کہتے ہوئے انہوں نے جیب سے والٹ نکالا تھا اور پانچ پانچ سو کے دو نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے تھے۔ ماسی کے سہارے کھڑی اس عورت نے جس کا پورا چہرہ چادر میں چھپا ہوا تھا، نگاہیں اٹھا کر ان کی جانب دیکھا بخار کی حدّت سے جلتی آنسوئوں سے لبالب بھری ہوئی آنکھیں… مراد شاہ کے دل میں ایک شدید تلاطم برپا کرگیا۔
یہ آنکھیں…! یہ آنکھیں تو وہ صدیوں اور قرنوں کے بعد بھی پہچان سکتے تھے… کہاں کہاں نہیں کھوجا تھا انہوں نے ان آنکھوں کو۔ کیسے مارے مارے نہیں پھرے تھے۔ ہر چادر میں چھپے چہرے کو یا ہر برقع میں لپٹے وجود کو پاگلوں کی مانند سامنے سے جا کر دیکھا کرتے تھے اور ہر بار ناکامی پر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود سے سوال کرتے تھے کہ آخر وہ کیوں اسے کھوج رہے تھے۔ کیوں اس کی جستجو میں ہلکان اور پریشان تھے کیا وہ اس عام سی، گمنام سی لڑکی کو سارہ شاہ کے مقابل لاکھڑا کرنے کی ہمت اور حوصلہ رکھتے تھے…؟‘‘ سارہ شاہ…! جو اُن کی من چاہی بیوی تھی۔ ایک صنعت کار کی بے حد لاڈلی بیٹی اور تین بھائیوں کی اکلوتی بہن۔ مغرور، خودسر اور خود پرست سارہ شاہ ایک دوسری عورت کو جو مرتبے میں، شکل و صورت میں، تعلیم میں اس کے سامنے کچھ بھی 
of 17 
Go