Urdu Novels

Back | Home |  

 

ترتیب ناولز
اقبال بانو
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بار ملو ہم سے
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درد کے تنہا موسم میں
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُو پاس نہیں اور پاس بھی ہے
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روشن رہیں گھر کے چراغ
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شگوفہ اور شجر
ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلٹ کر تو نہ جائو گے
ایک بار ملو ہم سے
ٹرین اپنی پوری رفتار سے کراچی کی سمت بھاگی جا رہی تھی۔ 
ہر گزرنے والے لمحے کے ساتھ فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا۔
زمان احمد ٹرین کی کھڑکی پر بازو رکھے، مشرق سے اُبھرتے سرخ سورج کو دیکھ رہا تھا۔ صبح کاذب کا اُجالا پھیلا ہوا تھا اور پورا آسمان اس وقت لہو جیسی سرخی میں ڈوبا ہوا تھا اور اس سرخی میں سورج ایک بڑے سے، دہکتے ہوئے انگارے کی صورت اُبھر رہا تھا۔ پھر اُس کی نظریں تیزی سے دوڑتے بھاگتے درختوں اور بجلی کے کھمبوں میں اٹک جاتیں۔ وہ یہ سب اس طرح دیکھ رہا تھا، جیسے کہ کوئی ننھا بچہ ہو اور یہ سب پہلی بار دیکھا ہو۔ اُس کی نظریں کبھی سورج پر جم جاتیں اور کبھی درختوں میں اُلجھنے کی ناکام کوشش کرتیں۔ مگر ذہن کے اُفق پر ثمینہ عثمان اپنی تمام تر شرارتوں کے ساتھ اُبھر رہی تھی۔
ثمینہ عثمان کراچی یونیورسٹی میں ایم اے فائنل کی طالبہ تھی اور زمان کے سب سے بڑے بھائی عثمان احمد کی بڑی اور لاڈلی بیٹی تھی اور زمان احمد سے چار سال چھوٹی تھی۔ رشتے کے لحاظ سے زمان احمد کی وہ بھتیجی لگتی تھی، مگر اس شریر لڑکی نے اسے کبھی بھی چاچا نہ سمجھا تھا اور نہ ہی کہتی۔ اپنی طرف سے ہی اُسے زمان بھائی کہتی اور بھائی کے رشتے کے علاوہ اُس سے دوستی کا بھی اٹوٹ رشتہ جوڑ لیا تھا۔ بس کبھی موڈ ہوتا یا اپنی کوئی بات منوانی ہوتی تو ’’چاچو‘‘ کہہ دیتی۔ ورنہ ہر بات میں زمان بھائی یہ ہوا، زمان بھائی، فلاں جگہ چلیں۔ زمان بھائی یوں کریں، وہ کریں۔
اُس نے کبھی یہ نہیں سمجھا تھا کہ زمان اس سے بڑا ہے۔ پھر اُس کے پپا کا بھائی بھی۔ ایک احترام کا مقدس رشتہ دونوں کے درمیان قدرت نے پیدا کر دیا ہے۔ مگر وہ تو اُس کے ساتھ اس طرح لڑتی جھگڑتی جیسے کہ اوپر تلے کے بھائی بہنوں میں ہاتھا پائی ہوتی ہے، اور کہتی تھی۔
’’زمان بھائی! اگر میرا کوئی بڑا بھائی ہوتا تو بالکل آپ ہی جیسا ہوتا۔‘‘
اور زمان بھی تو اسے بہنوں کی طرح چاہتا، دوستوں کی طرح پیار کرتا۔ اپنا ہر راز وہ جب تک ثمینہ کو نہ بتا دیتا، اسے چین نہیں پڑتا تھا۔ حتیٰ کہ کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں زمان کے جتنے بھی افیئر چلے تھے، اُن سب کے بارے میں تفصیلاً اُس نے ثمینہ کو بتا دیا تھا۔ طویل طویل خط لکھتا تھا، فون پر دیر تک باتیں کرتا اور جب کراچی آتا یا ثمینہ علی پور چلی جاتی تو پھر رات گئے تک وہ دونوں باتیں کرتے رہتے۔ دنیا جہاں کی باتیں، جن کا کوئی سر پیر نہ ہوتا۔ اس عرصے میں وہ کئی بار لڑتے اور پھر تھوڑی دیر میں مان بھی جاتے۔
کبھی کبھی ثمینہ ترنگ میں ہوتی تو کہہ دیتی۔
’’یار چاچو! تم لڑکیوں کو بے وقوف کیسے بناتے ہو؟‘‘

 

تو زمان احمد ہنس دیتا، ٹال جاتا۔ اُس نے کئی بار کئے گئے ثمینہ کے اس سوال کا جواب نہ دیا تھا۔ اب وہ اپنی بھولی بھتیجی کو کیا بتاتا کہ ہر مرد آنکھوں میں رنگین جال چھپائے پھرتا ہے، جسے وہ اپنے احساس، خوابوں، اُمنگوں کے رنگوں کے دھاگوں سے ذہن کی کھڈی پر بُنتا ہے اور جب چاہے اس رنگین جال میں بھولی بھالی لڑکیوں کو جکڑ سکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی اندازے غلط ہو جائیں تو اس خوف سے کہ جوتے نہ پڑ جائیں، بھاگنا بھی پڑتا ہے۔
دو روز قبل ہی ثمینہ نے اُسے فون کر کے کہا تھا۔
’’زمان بھائی! آپ کراچی آ جائیں۔‘‘
’’کیوں بھئی؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں بہت اُداس ہوں اور سخت بور ہو رہی ہوں۔‘‘
’’وہاں آ کر میں بور ہوں گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’یار! صبح سے سہ پہر تک تم یونیورسٹی چلی جایا کرو گی، میں مکھیاں ماروں گا۔‘‘
’’اسی لئے تو کہہ رہی ہوں کہ آ جائیں۔‘‘ وہ جلدی سے بولی۔
’’کیا کراچی میں مکھیاں بہت ہو گئی ہیں؟‘‘ زمان نے اسے چھیڑا۔
’’ایک تو میں آپ سے بڑی تنگ ہوں۔ بات سمجھتے نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہنگاموں کی وجہ سے یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لئے بند ہے اور میں اُداس ہوں۔‘‘ اُس نے وجہ بتائی کہ کیوں بلا رہی ہے۔
’’مگر میں نہیں آ سکتا۔‘‘ زمان نے میز پر رکھی ڈھیر ساری فائلوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیوں۔۔۔۔۔۔؟‘‘ وہ چیخ پڑی۔
’’بہت کام ہے یار!‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو آنا ہو گا۔‘‘ ثمینہ نے ضدی لہجے میں کہا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔
زمان کو علم تھا کہ جو بات وہ کہہ دے، چاہتی ہے کہ فوراً اس کا کہا مانا جائے۔ اُسی وقت اُس نے دس روز کی فوری چھٹی کی درخواست دے ڈالی۔ وہ کسی صورت بھی ثمینہ کا حکم نہ ٹال سکتا تھا۔ وہ واپڈا میں اعلیٰ پوسٹ پر فائز تھا۔ یوں بھی آج کل کام بہت زیادہ تھا۔ دیہاتوں میں بجلی پہنچانے کی وجہ سے کام بڑھ گیا تھا۔ مگر وہ بھلا کب کسی کی سنتی تھی۔ زمان نے بھی اسے تنگ کرنے کے لئے اپنے آنے کی اطلاع نہ دی تھی۔ اچانک دیکھے گی تو خوش ہو جائے گی۔ اُس کی خوشی کا تصور کر کے زمان کے لب مسکرائے۔
’’سنیے صاحب! آپ چائے پئیں گے؟‘‘ زمان کے برابر بیٹھے ادھیڑ عمر کے شخص نے اسے مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ٹہوکا دیا تو اُس کے خیالوں کی ڈور ٹوٹ گئی۔
’’نو، تھینکس۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’ارے بھئی، پی لیں۔ سفر میں سب ایک ہی گھر کے فرد ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے تھرماس میں سے چائے، کپ میں اُنڈیل کر اُس کی طرف بڑھائی۔ حالانکہ اس وقت اُسے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی، مگر اُسے اچھا نہ لگا کہ رات پوری سفر میں گزر گئی اور اس نے اپنے ہم سفر سے کوئی بات بھی نہ کی تھی۔ آرام سے اوپر برتھ پر سو رہا تھا اور اُٹھنے کے بعد سیٹ پر بیٹھ کر باہر کے نظاروں میں گم ہو گیا تھا۔ اب کتنی غلط بات تھی کہ اپنی خواہش پوری کر لیتا۔
’’تکلف مت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ چائے پی لیں جی۔‘‘ اس نے اتنی محبت سے کہا کہ زمان نے کپ تھام لیا۔
’’مجھے سرور اعظم کہتے ہیں۔ میرا کراچی میں اسٹین لیس سٹیل کے برتن بنانے کا کارخانہ ہے۔‘‘ انہوں نے بمعہ اپنے پیشے کے تعارف کروایا۔
’’میں زمان احمد ہوں جی۔‘‘ زمان نے کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا۔

 

’’کرتے کیا ہو برخوردار!۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھتے وڑھتے ہو؟‘‘
’’نہیں جی، پڑھائی تو عرصہ ہوا چھوڑ دی، بلکہ مکمل کر لی۔ ان دنوں واپڈا میں ایگزیکٹو آفیسر ہوں۔‘‘
’’بہت کم عمری میں اتنی اچھی پوسٹ لے لی۔‘‘
’’خدا کی مہربانی ہے جی۔‘‘ وہ انکساری سے بولا۔
’’اب آپ سوئیں گے؟‘‘ سرور اعظم نے زمان کی خالی برتھ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں جی۔ دن کو سونے کی عادت نہیں۔‘‘
’’اگر آپ برا نہ منائیں تو میں کمر سیدھی کر لوں؟‘‘
’’وائے ناٹ!‘‘ زمان جلدی سے بولا۔
’’اصل میں ساری رات بیٹھے بیٹھے کمر تختہ ہو گئی ہے۔ لمبے سفر کے لئے برتھ بہت ضروری ہے۔‘‘
’’آپ بکنگ کروا لیتے۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’بس زمان صاحب! بکنگ کروائی تو صرف سیٹ ہی ملی اور میرا آج کراچی پہنچنا بہت ضروری ہے، ورنہ میں اس تنگی میں کبھی نہ آتا۔‘‘
’’آپ اطمینان سے سو جائیں۔ کراچی میں آپ کو جگا دوں گا۔‘‘ زمان نے کہا تو وہ ہنستے ہوئے برتھ پر چڑھ کر سو گئے۔ زمان نے ہنس کر سوچا۔
’’ہاں تو سرور اعظم صاحب! ایک کپ چائے میں یہ سودا برا نہیں۔‘‘
’’سانوں سجناں دے ملنے دی تانگ اے‘‘
شاید کمپارٹمنٹ میں کسی نے ٹیپ ریکارڈر لگا دیا تھا اور عنایت حسین بھٹی نہایت پُرسوز اور دُکھی لہجے میں گا رہا تھا۔ زمان نے سوچا۔
سبھی کو اپنے سجنوں ہی سے ملنے کی خواہش نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنے پیاروں سے ملنے کی آس پر جیتا ہے۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ کوئی اسٹیشن تھا۔
زمان احمد بھی نیچے اُتر آیا۔ بُک اسٹال سے اُس نے وقت گزاری کے لئے رسالہ خریدا۔ ورنہ وہ رسالے پڑھنے کا شوقین نہ تھا۔ اوّل تو فرصت ہی نہ ملتی تھی اور اخبار پر بھی ناشتہ کرتے ہوئے جلدی جلدی نظریں دوڑا لیتا تھا۔ وہ اپنے کمپارٹمنٹ کی طرف جا رہا تھا کہ ایک نسوانی آواز نے اُس کے قدم روک لئے۔
’’سنیے ذرا۔‘‘
’’جی!‘‘ زمان نے چونک کر کھڑکی میں جھکی لڑکی کی طرف دیکھا۔
’’پلیز، ہمارے کولر میں پانی بھر کر لا دیں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’لایئے۔‘‘ زمان نے اُس سے کولر لے لیا۔ مگر اُس کے ذہن پر لڑکی کی مسکراہٹ جم کر رہ گئی۔ اُسے لگ رہا تھا، جیسے کہ پہلے بھی اس لڑکی کو کہیں دیکھا تھا۔
یہ مسکراہٹ جانی پہچانی ہے۔
آنکھوں کی چمک بھی شناسا لگتی ہے۔
کہاں دیکھا ہے اسے؟
یا پھر سب لڑکیوں کی مسکراہٹ ایک سی ہوتی ہے۔
کیا اُن کی آنکھوں میں ایک ہی طرح کے جگنو جھلملاتے ہیں؟
زمان کا ذہن اُلجھ کر رہ گیا۔ وہ کولر لے کر آیا تو وہی لڑکی کھڑکی ہی میں موجود تھی۔
of 72 
Go