Urdu Novels

Back | Home |  
عشق آتش۔۔۔۔۔سعدیہ راجپوت
کون کہتا ہے زندگی سمجھی اور سمجھائی نہیں جا سکتی۔ جبکہ مردہ جسموں سے بھرے قبرستان قدرت کی یونیورسٹیز ہیں اور دو گز زمین تلے دبا ہر شخص زندگی کا پروفیسر۔
تو پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں، مر جاتے ہیں پر جی نہیں پاتے کہ ہم نے تو بس وقت کو جینا سیکھا ہے۔ زندگی کو تو ہم نے کبھی جیا ہی نہیں اور جب یہی وقت ہمارے پاس ختم ہو جاتا ہے تو سوچتے ہیں کہ ہم جو عمر بھر وقت کے کتابچے میں نفع و نقصان درج کرتے رہے تو وہ کون سا پیمانہ تھا جو اس ناپ تول کے کام آیا؟ اور کیا کوئی ایسا فارمولا بھی ہے جو بتا سکے کہ نفع فائدے کے سوا کچھ بھی نہیں اور نقصان تو بس نقصان ہی دے سکتا ہے۔ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی نفع دیتی ہی کب ہے؟ یہ تو سودا ہی گھاٹے کا ہے۔ ہم تو عدم میں بہت آرام سے تھے پھر اس زندگی کے ہاتھوں وجود میں بدل کر اس متضاد دنیا میں آئے یعنی آزمائش میں ڈالے گئے اور آزمائش میں نہ تو منافع کی امید ہوتی ہے اور نہ نقصان کی۔ مگر حیرت ہے پھر بھی ہم خسارے کی فہرست مرتب کرتے رہے۔
زندگی کو تو جیسا گزرنا تھا، ویسے ہی گزر جاتی۔۔۔۔۔۔ کم از کم وقتِ رخصت یہ خلش تو نہ ہوتی کہ ہم نے جو نقصان کا کھاتہ بند کر دیا ہوتا تو شاید زندگی کچھ سہل ہو جاتی۔ مگر ہم سمجھتے ہی نہیں اور وقت ہے کہ ختم ہوتا جاتا ہے۔ کبھی دوسرے کا تو کبھی ہمارا۔۔۔۔۔۔ صدیوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہم آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستوں کو خود اپنے لئے پیچیدہ بناتے ہیں اور یہ کہتے گزر جاتے ہیں۔
اب جو دیکھیں تو کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی
یہ شب و روز، ماہ و سال کا پُرپیچ سفر
قدرے آسان بھی ہو سکتا تھا
ہم ذرا دھیان سے چلتے تو وہ گھر
جس کے در و بام پہ ویرانی ہے
جس کے ہر طاق پہ رکھی ہوئی حیرانی ہے
جس کی ہر صبح میں شاموں کی پریشانی ہے
اس میں ہم چین سے آباد بھی ہو سکتے تھے
اب جو دیکھیں تو بہت صاف نظر آتے ہیں
سارے منظر بھی، پس منظر بھی
لیکن اس دیر خیالی کا صلہ کیا ہو گا
وہ جو ہونا تھا ہوا، ہو بھی چکا
لائنیں کٹتی رہیں، لفظ بدلنے کے سبب
حاصل عمر یہی چند ادھورے خاکے
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پائی
ملیحہ فاروقی 26 مئی 1977ء
…٭٭٭…
وہ ہاتھ میں بکے پکڑے اجنبی چہروں کے درمیان کسی شناسا چہرے کو ڈھونڈ رہی تھی کہ کسی نے اس کا نام پکارا۔ ’’تانیہ!‘‘
وہ مڑی اور آواز کی ست دیکھ کر جوش سے ہاتھ ہلایا۔
’’فائزہ!‘‘ دونوں نے ایک دوسرے کی سمت قدم بڑھائے اور قریب آنے پر گلے لگ گئیں۔
’’بھائی کی انگیج منٹ مبارک ہو۔‘‘ تانیہ نے الگ ہوتے ہوئے کہا۔
’’تھینکس۔‘‘ فائزہ نے مسکرا کر مبارکباد قبول کی۔
’’چلو تمہیں اپنی ہونے والی بھابی سے ملوائوں۔‘‘ پھر تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج پر چڑھ گئی۔ تانیہ نے فائزہ کے بھائی کو وِش کر کے اس کے ساتھ بیٹھی سجی سنوری اور کچھ شرمائی سی لڑکی کو بکے پیش کیا اور پھر 

چند جملوں کے تبادلے کے بعد فائزہ کے ساتھ ہی اسٹیج سے اُتر گئی۔
’’تمہاری ممی نظر نہیں آ رہیں۔‘‘
’’ابھی تو یہیں تھیں۔‘‘ فائزہ نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا پھر تانیہ کو لئے آگے بڑھ گئی۔
’’سنو!‘‘ تانیہ نے اسے مخاطب کیا جو چلتے چلتے رک کر مہمانوں سے حال احوال بھی دریافت کرتی جا رہی تھی۔
’’ہوں۔‘‘ فائزہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’وہ نہیں آیا؟‘‘
’’کون؟۔۔۔۔۔۔ کس کی بات کر رہی ہو؟‘‘ وہ مسکراہٹ دبا کر انجان بنتے ہوئے بولی۔
’’تمہارے کزن کی۔‘‘ تانیہ نے سنجیدگی سے کہا۔ فائزہ مستقل شرارت کے موڈ میں تھی۔
’’میرے تو سبھی کزن یہاں ہیں۔‘‘ فائزہ کی لاپروائی عروج پر تھی۔
’’میں شایان کا پوچھ رہی ہوں۔‘‘ بالآخر تانیہ نے چڑ کر کہا۔ 
’’اچھا تو یوں کہو نا۔‘‘ اس کے بن کر بولنے پر تانیہ نے اسے ہاتھ جڑ دیا۔ 
’’مار کیوں رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔ بس آتا ہی ہو گا۔ ویسے بھی اس کی پولیس ٹریننگ ہی ختم ہوئی ہے، ابھی پوسٹنگ کے آرڈرز نہیں آئے۔ اور ایسے فارغ بندے کے لئے دعوت اُڑانے سے اچھی کیا مصروفیت ہو سکتی ہے؟‘‘ بات ختم کرتے ہی وہ پیچھے ہٹی کہیں تانیہ، شایان کی حمایت میں اسے ایک تھپڑ اور نہ جڑ دے۔ تانیہ نے اسے گھورا مگر پھر قصداً نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ایک بات تو بتائو۔‘‘
’’پوچھو۔‘‘ صورتِ حال قابو میں دیکھ کر فائزہ اس کے برابر آ کھڑی ہوئی۔
’’شایان کس رشتے سے تمہارا کزن ہے؟‘‘
’’اصل میں میری ممی، شایان کی مدر کی کزن ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ سر ہلاتے ہوئے تانیہ نے سامنے دیکھا تو اس کی نظر ڈنر سوٹ میں ملبوس شایان کے دراز قامت وجود پر پڑی۔ اس نے فائزہ کو پکڑ کر جھنجوڑ دیا۔
’’شایان آ گیا۔‘‘
’’شکر ہے۔ نہیں تو تم مجھے مار ڈالتیں۔‘‘
’’بکو مت۔‘‘ تانیہ نے شایان کو دیکھتے ہوئے اسے ڈانٹا جو سیدھا ان ہی کی طرف آ رہا تھا۔
’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ پاس آ کر بولا۔
’’تمہارے آنے کی خوشی میں تانیہ میرا گلا دبانے والی ہے۔‘‘ فائزہ بے چارگی سے بولی۔ شایان نے پہلے اس کی شکل دیکھی پھر تانیہ کی جس کے دونوں ہاتھ پیچھے سے فائزہ کے شانوں پر تھے۔ تانیہ نے بدک کر اپنے ہاتھ ہٹائے اور زور سے اسے دھکا دے کر بولی۔
’’دفع ہو جائو۔‘‘
’’ہاں ہو رہی ہوں۔ ویسے بھی تم جیسے کبابوں کی ہڈی بننے میں اپنا ہی نقصان ہے۔ اور ہاں۔‘‘ جاتے جاتے وہ بولی۔ ’’یہاں سے ہلنا مت۔ میں ممی کو لے کر آتی ہوں۔‘‘ 
وہ چلی گئی تو شایان نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔ ’’کیا تم واقعی اس کو مار رہی تھیں؟‘‘
’’بے کار کی باتیں مت کرو۔‘‘ تانیہ برا منا کر بولی۔ ’’تمہیں نہیں پتہ، اسے ایکٹنگ کرنے کا کتنا شوق ہے۔‘‘
’’تانیہ!‘‘ کچھ پل کی خاموشی کے بعد شایان نے اسے پکارا تو وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ ’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’کہو۔‘‘ شولڈر کٹ بالوں کو چہرے سے ہٹا کر وہ سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ ہو کر بولی تو وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا۔
’’پہلی بار تمہیں یوں سجے سنورے روپ میں دیکھ رہا ہوں۔ اچھی لگ رہی ہو۔‘‘

وہ پزل ہو گئی۔ واقعی وہ ہمیشہ بہت سادہ سے حلیے میں رہا کرتی تھی۔ اپنی طرف سے خاصی لاپروا۔ لیکن آج خلافِ معمول ہلکی ایمبرائیڈری کے شیفون کے شلوار قمیض میں دوپٹہ کندھوں پر ڈالے ہلکے میک اپ کے ساتھ میچنگ جیولری پہنے کافی مختلف لگ رہی تھی۔ اور تو اور آج بال بھی بینڈ کی قید سے آزاد شانوں پر لہرا رہے تھے۔ شایان کے اس قدرے ڈائریکٹ جملے پر حالانکہ وہ بس ایک پل کو ہی گڑبڑائی تھی، پھر بھی محظوظ سی ہنسی ہنس کر تانیہ نے خفگی سے اس کی سمت دیکھا۔
’’کیا یہی کہنا تھا؟‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’نہیں۔ کہنا تو کچھ اور ہے۔ پر سوچا تمہاری تھوڑی سی تعریف کر دوں۔ سنا ہے لڑکیوں کو اپنی تعریف بہت اچھی لگتی ہے۔ پھر ان سے جو بھی کہا جائے وہ فوراً مان جاتی ہیں۔‘‘
’’تم کیا منوانا چاہتے ہو؟‘‘ شایان کی بات سے قیاس لگا کر اس نے ابرو اچکا کر پوچھا۔ کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ کچھ پل چپ رہا جیسے الفاظ ترتیب دے رہا ہو۔ پھر دھیرے دھیرے بولنے لگا۔
’’تانیہ! میں نہیں جانتا، میں نے کب اس طرح سے سوچنا شروع کیا مگر یہ بات میرے دل میں بہت عرصے سے تھی۔ بس کبھی کہا نہیں۔ سوچا مناسب وقت آنے پر تم سے کہوں گا۔‘‘ کچھ لمحے خاموشی سے سرک گئے۔ ’’وقت پتہ نہیں مناسب ہے یا نہیں مگر میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا۔‘‘ اپنی بات کے آخر میں اس نے تانیہ کی طرف دیکھا جو ایک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ شایان کا گمبھیر لہجہ، سحر زدہ الفاظ اور آنکھوں کا والہانہ پن۔ تانیہ کو لگا، شایان آج وہ سب کہہ دے گا جسے سننے کی خواہش تین سال سے اس کے دل میں تھی۔
’’تانیہ! میں تم سے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ایکسکیوز می پلیز۔‘‘ فائزہ کی تیز آواز سے طلسم ٹوٹ گیا اور وہ دونوں چونک کر اس کی طرف مڑے جو قدرے بھاری جسامت والے مگر گریس فل مرد کا ہاتھ پکڑے ان کی طرف آتی دُور سے ہی چلّائی تھی۔
’’ممی تو بزی ہیں، مگر دیکھو میں پاپا کو لے آئی ہوں۔‘‘ وہ بولتے ہوئے ان کے پاس آ کر رکی، پھر تعارف کرانے لگی۔
’’تانیہ! ان سے ملو۔ یہ میرے پاپا ہیں۔‘‘
پھر تانیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ 
’’اور پاپا! یہ میری بیسٹ فرینڈ تانیہ فاروقی۔ موسٹ ایلجیبل بزنس مین نور الہدیٰ فاروقی کی بیٹی۔ ہم دونوں ایم بی اے کلاسز میں ساتھ ساتھ تھے۔‘‘ فائزہ کی بات پر وہ بری طرح چونکے۔
’’تم نور الہدیٰ کی بیٹی ہو؟‘‘
’’جی۔‘‘ 
نورالہدیٰ فاروقی ایک مشہور شخصیت تھے اور اکثر تانیہ کے بتانے پر ان کے حوالے پر لوگ چونک کر یہ سوال کرتے تھے، اس لئے تانیہ نے کچھ خاص نوٹس نہ لیا۔
’’کیا آپ میرے پاپا کو جانتے ہیں؟‘‘
’’انہیں کون نہیں جانتا؟‘‘ اب وہ سنبھل کر بول رہے تھے۔ ’’ہی از دا لیڈنگ انڈسٹریلسٹ آف دا کنٹری۔ اور لاسٹ وِیک بزنس میگزین میں جو اُن کا انٹرویو چھپا تھا، کمال کا تھا۔ وہ بہت سے لوگوں کے لئے انسپریشن ہیں۔ اینی وے ایم بی اے تو کمپلیٹ ہو گیا، اب کیا کر رہی ہو؟‘‘
اپنے پاپا کی تعریف پر اسے فطری طور پر خوشی ہو رہی تھی۔ ان کی بات کے جواب میں وہ مسکرا کر بولی۔
’’پاپا کا آفس جوائن کر لیا ہے۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ وہ خوش دلی سے بولے۔
’’اوکے بیٹا! مجھے کچھ اور مہمانوں کو بھی وقت دینا ہے۔ تم لوگ انجوائے کرو۔‘‘ وہ ناقابل فہم انداز میں مسکراتے ہوئے چلے گئے تو تانیہ کو یک دم سے شایان کا خیال آیا۔ وہ پلٹی، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس نے تیزی سے نظریں دوڑائیں مگر شایان کہیں نظر نہیں آیا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ فائزہ نے اسے کچھ ڈھونڈتے پا کر پوچھا۔
’’شایان ابھی تو یہیں تھا۔ کہاں چلا گیا؟‘‘
’’ارے ہاں۔ یہ اچانک کہاں غائب ہو گیا؟‘‘
تانیہ اُس کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے شایان کی تلاش میں گیٹ تک آئی تو اس نے شایان کو ہال سے باہر جاتے دیکھا۔
of 77 
Go