Urdu Novels

Back | Home |  

 

جان جاں تو جو کہے۔۔۔۔۔۔راحت وفا
 
حسب معمول صبح کے ساڑھے سات بجے تو میاں جی نے اخبار تہہ کرتے ہوئے شاہدہ بیگم کو معنی خیز نگاہوںسے دیکھا… وہ کچھ پریشان سی  نظر آئیں تو میاں جی نے نگاہوں ‘نگاہوں میں استفسار کیا…
’’ یہ ناجی جہاں جاتی ہے وہیں کی ہوجاتی ہے‘ کمبخت کو ذرا وقت کا احساس نہیں۔‘‘ شاہدہ بیگم نے ڈائننگ روم کے دروازے سے باہر دیکھتے ہوئے سارا غصہ ناجی پر نکال ڈالا۔ میاں جی مسکرادیئے۔
’’چہ‘ چہ ‘ بیچاری ناجی… بھئی بیگم صاحبہ یہ ناجی پر آپ کس لیے بندوق تان کر بیٹھ گئیں۔ آپ کو تو اپنے لاڈلے فرحان اور چہیتی تانیہ کی ٹینشن ہے اس وقت… امی جان ابھی کچھ سے بر آمد ہوکر اعلان جنگ فرمائیںگی اور…‘‘
’’افتخار! آپ موقع کی تلاش میںرہا کریں۔ آپ خود بھی ٹینشن میں ہیں۔‘‘ شاہدہ نے دھیمے سے کہا جس کا مطلب یہی تھا کہ ڈائننگ روم سے ملحق کچن میں موجود امی جان اس کی بات نہ سن لیں۔
’’میں تو حسب معمول امی جان کو سنبھال ہی لوں گا لیکن آپ اور بچے تو عتاب کا نشانہ بنیں گے۔‘‘  وہ زیر لب مسکرا کر سرگوشی کے انداز میںبولے۔
’’یہ بچے ابھی تک ناشتے کے لیے نہیں آئے۔‘‘ اسی اثنا میں امی جان چائے کا فلاسک لیے آگئیں۔ میاں افتخار نے فوراً خود کو ناشتے کے لیے مصروف ظاہر کیا البتہ شاہدہ جزبز سی نظریں چرا گئیں۔
تمہارے لاڈ پیار نے بالکل ناکارہ کردیا ہے‘ لوبتائو پونے آٹھ ہورہے ہیں اور  وہ دونوں اب تک نہیں آئے‘ بس تم دونوں ناشتہ کرکے اپنی اپنی راہ لو‘ دوبارہ کسی کے لیے ناشتہ نہیں بنے گا۔‘‘ امی جان نے تحکمانہ انداز میں کہا اور اپنے لیے چائے کپ میں انڈیلنے لگیں۔
’’ جی بالکل بجا فرمایا آپ نے۔‘‘ میاں افتخار نے ساس کی تائید میں بھر پور حصہ لیا۔ شاہدہ بیگم نے گھور کر انہیں دیکھا مگر کچھ کہہ نہ سکیں۔ خود بھی ناشتہ کرنے لگیں جبکہ امی جان کو تو موقع مل گیا۔
’’ بے جا لاڈ پیار نے بچوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا‘ ہم نے بھی بچے پالے ہیں پر تمہاری طرح نہیں‘ ذرا آنکھ میں لحاظ ہے نہ شرم… زندگی کا کوئی قاعدہ قانون ہے ہی نہیں ان کی زندگی میں‘ فرحان ذرا سا بہتر ہے مگر تانیہ نے تو نہ سدھرنے کی قسم کھارکھی ہے۔‘‘
’’امی جان! ابھی بچے ہیں‘ ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ شاہدہ بیگم نے ماں کو دھیرے سے کہا۔
’’ارے واہ! فرحان میاں نے خیرسے یونیورسٹی کا منہ دیکھ لیا اور تانیہ بھی یونیورسٹی جانے والی ہیں۔ بچے بچے کرکے تم نے ان کا دماغ خراب کردیا ہے۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائو ورنہ بیٹھ کے رئوں گی۔‘‘ امی جان نے تڑخ کے شاہدہ بیگم کو خاموش کرادیا۔
’’ناجی! ناجی!‘‘ شاہدہ بیگم نے غصہ نکالنے کے لیے ناجی کو آواز دی۔ وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوگئی۔
’’جی! جی بیگم صاحب۔‘‘ ناجی بھاگتی ہوئی آئی تھی اس لیے پھولی ہوئی سانس کے درمیان بولی۔
’’تمہیں‘ چھوٹے صاحب اور تانیہ بی بی کو بلانے کے لیے بھیجا تھا۔ کہاں مرگئی تھیں؟‘‘ شاہدہ بیگم نے اسے لتاڑا۔
’’جی‘ تانیہ بی بی نے ابھی اٹھنے سے انکار کردیا ہے اور چھوٹے صاحب کمرے میں نہیں ہیں۔‘‘
’’ہیں! چھوٹے صاحب کمرے سے کہاں چلے گئے؟‘‘
’’ ان کا کچھ پتہ چلتا ہے‘ دونوں مرضی کے مالک ہیں‘رات گئے آتے ہیں اور کوئی پوچھتا تک نہیں۔‘‘ امی جان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’امی جان! فرحان کسی کام سے گیا ہوگا۔‘‘
’’ چلو یونہی سہی‘ لیکن گھر میں بڑوں کو کسی گنتی میں تو شمار کرلیا کریں۔‘‘
’’شاہدہ! آفس سے دیر ہورہی ہے…اٹھو…‘‘  میاں افتخار نے مزید بحث میں الجھنے سے بیوی کو بچایا۔
’’افتخار میاں! املی اور میری دوائیں ضرور لے کر آنا۔‘‘
’’ جی بہتر…‘‘
’’آج پھر املی۔‘‘ ناجی نے  ہونٹ چبا کر کہا تو وہ چڑ گئیں۔
’’ہاں! اور آج سارے برتن اسٹور سے نکال کر باہر رکھو۔‘‘ وہ بولیں۔ ناجی برا سامنہ بنا کر سیدھی میاں جی کے پاس آگئی۔
’’میاں جی! خدا کے لیے املی نہ لانا‘ یہ دیکھیں وہ پرانے بھاری بھاری برتن املی سے رگڑ کر دھونے سے میرے ہاتھ گھس گئے ہیں۔‘‘
‘‘بک بک بند کر‘ تجھے بھی ان دونوں سے سرچڑھارکھا ہے‘ قیمتی برتن تیرے ہاتھوں سے اچھے ہیں‘ چل جا کے سب کمروں کی کھڑکیاں کھول‘ بستر سمیٹ۔‘‘ انہوں نے ناجی کو کھری کھری سنائیں کہ وہ چپ چاپ کمروں کی طرف بڑھ گئی… اور وہ دونوں خاموشی سے آفس جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے… دراصل میاں افتخار اپنے آفس جانے سے پہلے شاہد ہ بیگم کو ان کے بینک چھوڑتے تھے… وہ قومی بینک میں سینئر بینک آفیسر تھیں۔ اپنی اعلیٰ قابلیت کے باعث ہر دلعزیز تھیں… میٹھے شائستہ لب و لہجے کی وجہ سے محکمے اور اسٹاف میں مشہور تھیں… یہ الگ بات تھی کہ گھر میں وہ ایک 

 

ناکام ماں اور ناکام بیٹی کی حیثیت سے زندگی بسر کررہی تھیں ان کی امی زہر ا بیگم کو ان سے حددرجہ  شکایات تھیں اور دونوں بچے الگ نالاں رہتے تھے۔ ایسے  میں  میاں افتخار واحد سہارا تھے جو کہتے تو کسی کو کچھ نہیں تھے‘ بس ان کی دلجوئی کی ہر ممکن کوشش ضرور کرتے تھے… زندہ دل اور خوش مزاج انسان تھے۔ ہر لمحے زیر لب مسکراتے رہتے ‘ ان پر تو یہ الزام بھی عائد تھا کہ وہ گھر کی ملازمہ ناجی کے بھی چائو چونچلے اولاد کی طرح اٹھاتے ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ ہزار نخرے کرتی ہے۔ زیادہ بولتی ہے‘ وہ سرخم کرکے الزامات اپنے سر لے لیتے… بس کسی قسم کی مداخلت خانگی معاملات میں کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ زہرا بیگم کو کلی اختیارات حاصل تھے وہ اپنی مرضی اور پسندسے ان کا گھر چلا رہی تھیں… انہیں ان سے کبھی کوئی شکایت پیدا ہی نہیں ہوئی ۔ شادی کے اکتیس سال ان کی فرمانبرداری کی مثال تھے وہ داماد نہیں بیٹا‘ بن کرانہیں اپنی والدہ کا مقام دیتے تھے… زہرا بیگم دل کی بری نہیں تھیں وضع دار پرانے خیالات کی مالک تھیں‘ علی گڑھ اسکول کی میٹرک پاس تھیں… سلجھی ہوئی معاملہ فہم خاتون تھیں بس نئے بے ہنگم لائف اسٹائل سے سخت متنفر تھیں… اپنے ورثے سے‘ اپنی روایات اور ثقافت سے بے پناہ لگائو رکھتی تھیں‘ یہی وجہ تھی کہ شاہدہ بیگم کے بچے ان سے چڑتے تھے۔ انہیں نانو کا قدیم شہر کے درمیان بنا ہوا یہ گھر بھی قطعا پسند نہیں تھا… فرحان کو بھی دبی دبی گھر سے‘ گھر کے گردونواح سے شکایت تھی لیکن زیادہ واویلا تانیہ مچاتی تھی… وہ اس گھر کو کھنڈر اور آسیبی محل کہتی تھی۔ لے دے کے اس کی تان گھر بیچنے پر ٹوٹتی تھی‘ جس کے بعد گھر میں اچھا خاصا ہنگامہ ہوتا اور بڑی مشکل سے شاہدہ بیگم ماں اور بیٹی کو سمجھانے میں کامیاب ہوتیں… وہ جانتی تھیں کہ امی جان اپنا آبائی گھر کسی قیمت پر نہیں بیچیں گی… انہیں تانیہ کی پسند کا احترام تھا تو امی جان کی ضدی طبیعت سے بھی وہ پوری طرح واقف تھیں۔ وہ یہ ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ امی جان کو کسی قسم کا صدمہ پہنچائیں ۔ اس لیے ان کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ جب تک امی جان زندہ ہیں‘ اپنی پسند اور مرضی سے رہیں۔
شاہدہ بیگم نے ایک دن بھی سسرال میں رہ کر نہیں دیکھا تھا۔ میاں افتخار کو انہیں پسند کرنے کی سزا میں اپنا گھر‘ اپنے رشتے دارچھوڑنے پڑے تھے۔ موہنی سی صورت والی شاہدہ انہیں دیوانہ کرگئی تھیں اور انہوں نے زہرا بیگم کی یہ گھر داماد ی والی کڑی شرط قبول کرلی…زہرا بیگم کو ان کی شکل میں اطاعت گزار بیٹا مل گیا۔ جبکہ ان کا اپنا بیٹا زبیر احمد بالکل ساتھ والے گھر میں رہائش پذیر تھا… زہرا بیگم نے بیٹے کے حصے کا گھر اسے دے دیا تھا۔ بیٹی کے گھر میں وہ رہ رہی تھیں‘ گھر شاہدہ کے نام تھا مگر اسے بیچنے کا اختیارفی الحال شاہدہ بیگم کو نہیں تھا… ویسے بھی وہ ملازمت کرتی تھیں۔ سارے گھر کی دیکھ بھال امی جان کررہی تھیں‘ اس سہولت کے بدلے انہوںنے مکمل زبان بندی کررکھی تھی… اس کے باوجود گھر میں کسی بد نظمی یاخرابی کے ہونے پر انہیں ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا تھا۔
…٭٭٭…
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی… اور دروازہ کھول کر کوئی اندر آگیا۔ سامعہ نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے گردن گھما کر دیکھا۔
’’او‘ سوری‘ سوری! تم نماز پڑھو‘ ہم پھر آجائے گا۔‘‘ مسز جیری نے معذرتی انداز میں کہا تو وہ مسکراکر مصلے سے اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ارے نہیں نہیں‘ مسز جیری آجائیں‘ میں تو ویسے ہی آنکھیں بند کرکے دیر تک مصلے پربیٹھی رہتی ہوں‘ نماز کا وقت تو کب کا گزر چکا۔‘‘
’’ویسے تم سب سے زیادہ مصلے پر ہی پر سکون لگتی ہو۔‘‘مسز جیری ایزی موڈ میں کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔ وہ ان کے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔
’’سچ مچ‘ سب سے زیادہ سکو ن ملتا ہے۔‘‘
’’اس میں کوئی شک نہیں گاڈ نے اپنے ذکر میں بہت خوشی چھپا کر رکھا ہے۔‘‘
’’کیسے آنا ہوا…؟‘‘ اس نے ان سے آنے کی وجہ پوچھی… کیونکہ اس وقت تو اسپتال کا رائونڈ مکمل کر کے وہ کچھ دیر آرام کیا کرتی تھیں۔
’’یہ بند ھا ہوا سامان دیکھنے کے واسطے… تم نے ایک بار پھر جانے کا فیصلہ کرہی لیا ہے۔‘‘ مسز جیری بہت سنجیدہ دکھائی دے رہے تھیں۔
’’ہاں! تیسری اور آخری بار جانے کا فیصلہ ۔‘‘ اس نے بھی انتہائی سنجیدگی اور کچھ کچھ افسردگی سے جواب دیا۔
’’کیا اب کی دفعہ سوچ سمجھ کرفیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔ تو اس نے کچھ دیر تو لمبی سانس کھینچی اور کہا۔
’’نہیں‘  کچھ نہیں سوچا‘ شاید کچھ سوچنے کو بچا ہی نہیں ہے۔‘‘
’’پہلے دو فریب کھانے کے باوجود ‘ آنکھیں بند کرکے سامان باندھ لیا ۔‘‘
’’مسز جیری! پہلی مرتبہ احسن حیات نے محبت کا یقین دلایا‘ اور…‘‘
’’ہا! احسن حیات کی محبت‘ کھلی آنکھ کا دھوکا‘ پہلی بیوی کا اسیر تم سے پیسے کے واسطے شادی بنایا۔‘‘ مسز جیری نے اس کا جملہ چھین کر مکمل کردیا۔
’’ تبھی تو جلدی لوٹ کر تمہارے پاس آگئی تھی۔‘‘ وہ افسردگی سے بولی۔
’’اور پھر لوٹ گئی تھیں‘ ڈاکٹر شہروز کی بڑنگ میں آکر‘ کیسے کیسے دھوکے نہیں دیئے اس نے… کھلم کھلا سینہ تان کر دوسرا شادی کیا اور تمہاری دولت  لے کر ملک سے بھاگ گیا۔‘‘ مسز جیری کا غم وغصے سے چہرہ سرخ پڑگیا۔ ایک دم ہی وہ اس کے ساتھ گزرے تلخ واقعات یاد کر کے غصے میں آگئیں… ان کا یہ انداز اظہار تھا اس بات کا کہ وہ اس سے کس قدر محبت کرتی ہیں۔
’’مجھے یاد ہے میں پھر آپ کے پاس آگئی… آپ کا وجود ہمیشہ میرے لیے کشش ثقل بنارہا … آپ کی رفاقت میرے سانس کے چلنے کا سبب بن رہی ہے۔‘‘ وہ رنجیدہ ہوگئی۔
’’سامعہ ڈارلنگ! اسی لیے تو فکر ہورہا ہے۔ گاڈ کے واسطے اس تیسرے فیصلے پر غور کرو۔ فرحان بالکل نیا خون ہے۔ جلدی اپنے فیصلے سے بدل گیا تو…؟‘‘ انہوں نے پر تشویش نگاہوں سے دیکھا تو 

 

وہ ہولے سے مسکرادی۔
’’ مسز جیری! اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوگا‘ میں چھتیس سالہ مطلقہ ہوں اور وہ صرف اٹھائیس سال کا ہے…‘‘
’’تو وہ تمہارے واسطے کاہے کو سوچتا ہے‘ محبت بھری باتیں بناتا ہے۔‘‘
’’وہ ایسا اپنی عمر کی ضرورتوں کے مطابق کرتا ہے اور میں اپنی عمر کے تجربے کے مطابق اس کا ہاتھ تھام رہی ہوں… شاید میں اب بھی ایک گھر کا خواب  دیکھتی ہوں کوئی ضروری نہیں کہ فرحان کے بعد ملنے والا شخص بھی میرے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرے۔ وقت سرک رہا ہے‘ میںنے فرحان کی محبت پر یقین کرلیا ہے۔ آگے میری قسمت۔‘‘
’’قسمت سے ہی تو ڈر لگتا ہے‘ ہم ریٹائر ہوکے انگلینڈ چلا جائے گا اور تم اکیلا کیسے رہے گا؟‘‘ وہ فکر مندی سے بولیں۔
’’مسز جیری‘ آپ کی دعائیں میرے ساتھ رہیں گی‘ مجھے اللہ پر بھروسہ ہے اور فرحان کی محبت پر سو فیصد یقین … دراصل عورت مجبوری کا نام ہے‘ سہاروں کی تلاش میں ریت کی دیوار سے بھی ٹیک لگا کے آنکھیں موند لیتی ہے… بھول جاتی ہے کہ ریت تو ریت ہوتی ہے… میں بھی پھر آنکھیں موندنے لگی ہوں۔‘‘ 
’’سامعہ ڈارلنگ! کچھ بھی بولو‘ مگر فرحان کے واسطے اتنا بڑا فیصلہ اتنی جلدی نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘
’’ایک سال کم نہیں ہے مسز جیری ‘ فرحان نے میرے دل پر اثر کیا ہے‘ وہ شادی کرنے کا خواہشمند ہے‘ میں اس کے لیے اس سے شادی کررہی ہوں۔‘‘
’’اور اس کا گھر والا سب لوگ کیا کہے گا؟‘‘
’’دیکھا جائے گا۔‘‘
’’یہ تو فرحان کہتا ہے‘ مسز جیری دیکھا جائے گا۔‘‘مسز جیری نے فرحان کی نقل اتاری ۔
’’بس مجھے اس پر تیسر ی اور آخری مرتبہ اعتبار کرنے سے مت روکو مسز جیری۔‘‘ وہ ان کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’اوکے‘ مائی ڈیئر! گاڈ تمہارا حفاظت کرے۔ تمہارا خواہش پورا کرے۔ ہم تمہاراشادی میں شرکت کرنے ضرور آئے گا۔ ساتھ میں پھول لائے گا۔‘‘ مسز جیری کی آنکھیں بھیگ گئیں لہجہ رقت آمیز ہوگیا تو وہ ان سے لپٹ گئی۔
مسز جیری سامعہ نواز کے لیے شجر سایہ دار کی مانند تھیں۔ گرلز کالج کے ہوسٹل میں آج سے سات سال پہلے جب اس نے قدم رکھاتھا تب پہلی شادی کا خاتمہ ہوا تھا‘ اس نے اس صدمے سے نکلنے کے لے ملازمت اختیار کی تھی… بکھری بکھری سی جب وہ ہوسٹل میں آئی تھی تب مسز جیری نے بڑی گرمجوشی سے اسے خوش آمدید کہا تھا۔
 اس کا بھری دنیا میں کوئی نہیںتھا‘ چوہدری نواز کی وہ اکلوتی اولاد تھی‘ بیوی کے انتقال کے فوراً بعد ہی وہ گائوں چھوڑ کر شہر میں رہائش پذیر ہوگئے۔ سامعہ کو اعلی تعلیم دلوائی۔ اس نے ایم ایس سی میتھ  کے امتحان میں یونیورسٹی میں ٹاپ کیا۔یونیورسٹی نے اسے جاب کی آفر کی مگر چوہدری نواز کو یہ منظور نہیں تھا۔ ان کو سامعہ نے بہت قائل کرنا چاہا مگر وہ راضی نہ ہوئے بلکہ انہوںنے سامعہ کی شادی کے بعد گائوں واپس جانے کا فیصلہ کرلیا۔ سامعہ کے لیے چوہدری نواز کے پاس احسن حیات کا رشتہ آیا‘ چوہدری صاحب نے سامعہ کو احسن حیات کے سامنے کردیا۔ چند رسمی ملاقاتوں کے بعد سامعہ نے احسن حیات کے لیے ہاںکردی۔ بڑی دھوم دھام سے شادی کر کے چوہدری نواز فارغ ہوئے مگر پیغام اجل آگیا۔ ہارٹ اٹیک کے باعث اسے تنہاچھوڑ گئے۔ تب احسن حیات جیسے لالچی کا بھید کھلا کہ اس کی پہلی بیوی موجود ہے دولت کے لالچ میں اس سے شادی کی گئی تھی۔ وہ اس صد مے پر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ احسن حیات نے دونوں ہاتھوں سے اس کی دولت سمیٹی۔ شہر کی کوٹھی بیچ ڈالی۔ زرعی رقبہ بھی کافی زیادہ فروخت کردیا اور پھر بات طلاق پر ختم ہوئی۔ اس نے گائوں سے پھر قدم شہر کی طرف اٹھائے۔ یہاں ہاتھ پائوں مارکے‘ پہلے کالج میں عارضی سامی پر کام شروع کیا۔ پھر اعلی کارکردگی  اور مستقل ضرورت کے پیش نظر پرنسپل کے پکے آڈر کرالئے۔ مسز جیری کی محبت میں اور کالج کی مصروفیت میں احسن حیات کے دیئے زخم کافی حد تک مندمل ہوگئے۔ تب ایک روز بخار کی دوا لینے ڈاکٹر شہروز کے پاس گئی تو وہ لٹو ہوگئے۔ خوبصورت سامعہ کے سامنے دل پھینک کر کھڑے ہوگئے۔  وہ بہت عرصہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔ مگر اندر سے تو نسوانیت سے بھر پور جواں لڑکی شرمگیں انداز میں چٹکیاں لیتی رہی۔ پھر ملاقاتیں بڑھیں اور نتیجہ شادی نکلا۔ اس شادی کے موقع پر بھی گائوں کی کچھ اور زمین فروخت کرنی پڑی کیونکہ ڈاکٹر شہروز متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تے۔ ایک مرتبہ اچھے گھر کا خواب لے کر پھر نئی زندگی شروع کی۔ تب ملازمت تو جاری رکھی لیکن ہوسٹل خیر باد کہہ دیا۔ مگر چھ مہینے بعد ہی ڈاکٹر شہروز نے اپنی اصلیت دکھادی‘ اپنی چچا زاد سے دوسری شادی رچالی اور سامعہ پر اچھا خاصا تشدد کیا۔ اس کا بہت سا روپیہ لے کر نئی بیوی کے ہمراہ ملک سے باہر چلے گئے اور وہ روتی سسکتی پھر ہوسٹل میں مسزجیری کے پاس آگئی۔
اور اب ایک بار پھر وہ ان سے رخصت ہورہی تھی۔ ایک نئی دنیا‘ نئے گھر کے خواب کے ساتھ جارہی تھی‘ فرحان کی محبت پر اعتبار کرکے… فرحان جس نے ایک سال بھر پور محبت اور توجہ دے کر اس کا دل جیتا تھا‘ ا سے سنٹرل لائبریری کے پرسکون ماحول میںملا اور اپنی تمام تر اپنائیت کے ساتھ اس کا ہم خیال بن گیا‘ اس لمحے سامعہ نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایکسکیوز می کہہ کر اس کے سامنے بیٹھنے کی اجازت لینے والا وجیہہ نوجوان اس کا ہم مزاج ہوگا۔ وہ فیض کی نسخۂ ہائے وفا سامنے رکھے محو تھی‘ اس کے ہاتھ میں بھی احمد فراز کا شعری مجموعہ تھا اورنظریں کتاب کے صفحات پر مرکوز تھیں… اس نے کئی بار کتاب پڑھتے  ہوئے سامعہ کی طرف بھی دیکھا‘ یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ اس سمے سامعہ بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی… وہ خفت سے مسکرایا اور بولا۔
’’آپ میری وجہ سے ڈسٹرب تو نہیں ہورہیں؟‘‘
of 91 
Go