Urdu Novels

Back | Home |  
میں ا پے پائیاں کنڈیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشنا کوثر سردار
زندگی ایک جمی ہوئی لکیر کی مانند ‘ جانے کیوں ایک ہی جگہ اور منجمد ہو گئی‘ بے حد سرد…بے حد جامد…وہی سوچ پھر یکدم عود کر آئی‘ تو وہ تمام باتوں کو بھول کر اپنی بے وقوفی پر ایک بار پھر مسکرادی۔’’آ ئی ایم رئیلی اسپویڈ مس عفاف فریدون خان یورآررئیلی دی فولش ون۔‘‘وہ خود کو ہمیشہ کی طرف ایک بار پھر باور کراتی ہوئی گیٹ کے سامنے رک کر ایک گہرا سانس خارج کرتی ہوئی‘ شکر بجالا رہی تھی کہ بس اسٹاپ سے اس گھر تک کا طویل ترین فاصلہ طے ہو گیا۔
خواہ کسی طور ہی سہی!
خود سے سے الجھتے اور خود کو عظیم ترین القابات سے نواز تے ہی سہی۔
اس نے بہت سی سوچوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے بیل پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’ایک …دو…تین… اور آخر کار بو ا اس کے سامنے تھیں۔
’’اتنی دیر کر دی آج تم نے؟میرا تو دل ہول رہا تھا۔‘‘
’’ہاں بس آج ٹریفک حسبِ معمول پھر جام تھا۔کراچی کی ٹریفک پر ابلمز تو روز کا معمول بن گئی ہے۔جانے کیوں کوئی بہتر حل تلاش نہیں کر لیا جاتا اس مسئلے کا۔جب پتہ ہے اتنا بڑا شہر ہے‘ اتنی گاڑیاں ہیں‘ اور اتنے لوگ شام کے اس لمحے دفاتر سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں‘ تو یہاں ہمیشہ مسائل ہی کی صورت سر اٹھائے پوری آب وتاب سے کھڑے منہ چڑاتے رہتے ہیں اور۔‘‘وہ تیز آواز میں بولتی ہوئی گلاس ڈور کھول کر اندر داخل ہو ئی تھی‘ اور پھر یکدم اپنے سامنے ایک یکسر اجنبی شخص کو وسیع وعریض ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھے دیکھ کر اس کے اُٹھتے قدم اور چلتی زبان دونوں ہی لمحہ بھر کو تھم گئے تھے۔
اس نے ایک نظر اس اجنبی کو دیکھا تھا۔جواب میں تقریباً یہی کارروائی ان موصوف کی جانب سے بھی ہوئی تھی‘ اور اس کی نظروں کو دیکھ کر لمحہ بھر میں وہ اپنے پیچھے آتی ہوئی بوا کو مڑ کر دیکھنے لگی تھی‘ مگر شاید بلکہ یقینا بو ا اپنی سست روی کے باعث اب تک گیٹ سے یہاں تک کا فاصلہ طے کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہی تھیں۔عفاف فریدون خان نے تب ایک نظر پھر اس خاصے معقول انسان پر ڈالی تھی‘ اور پھر
کچھ کہے یا بولے بغیر وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی۔
’’یقینا بوا کا کوئی مہمان ہو گا…‘‘اپنے کمرے تک آتے ہوئے اس نے قیاس کیا تھا‘ پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہی اس نے شولڈر بیگ ایک طرف ڈالتے ہوئے‘ اور بیڈ پر گرتے ہوئے سب سے پہلے بالوں کو اسکارف سے آزاد کیا تھا۔ چند ثانیوں تک خود کو یونہی ریلیکس کیا تھا‘ پھر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پیروں کو فلیٹ جوتوں سے آزاد کیا تھا‘ اور پھر واش روم میں گھس گئی تھی‘ اور جب وہ فریش ہو کر باہر نکلی‘ تو رحمت اس کے لئے چائے کا کپ رکھ کر جا چکا تھا۔
بھاپ اڑاتی چائے کے کپ کو اس نے تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اٹھا کر لبوں سے لگالیا تھا۔دو…چار سِپ لینے کے بعد اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے‘ بالوں کو ٹاول کی قید سے آزاد کرتے ہوئے‘ پشت پر ڈال دیا تھا‘ اور پھر دوبارہ چائے کا کپ اٹھا کر چھوٹے چھوٹے سِپ لینے لگی تھی۔
تبھی رحمت آگیا تھا۔
’’بوا پوچھ رہی ہیں کھانے میں کیا بنائوں؟‘‘اور تب وہ سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھنے لگی تھی۔
’’وہ مہمان چلا گیا؟‘‘
’’نہیں جی ابھی کہاں…شاید رہیں گے کچھ دن…بوا جی کے قریبی بھتیجے ہیں‘ انتہائی عزیز…بوا جی ا یسے ہی تھوڑا جانے دیں گی۔‘‘
’’اوہ…!‘‘اس نے ہونٹ سکوڑے …’’پھر تو کھانے میں کچھ اہتمام درکار ہو گا۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے جی…‘‘رحمت نے سر اثبات میں ہلایا۔
’’پھر کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘اس نے رات کے کھانے کے مینو کے متعلق دریافت کیا۔
’’کیا جی …کس بارے میں؟‘‘رحمت کی باچھیں چر کر کانوں سے لگیں عفاف اسے گھور کر رہ گئی۔

’’میں مینو کے متعلق دریافت کر رہی ہوں۔‘‘
’’ہاں جی وہی تو میں بھی دریافت کر رہا ہوں؟‘‘
رحمت نے فورا ہونٹ سکوڑ تے ہوئے کہا۔
’’جائو کچھ بھی بنالو۔‘‘اس کی سمجھ میں فوری طور پر کچھ نہ آیا‘ تو اکتائے ہوئے انداز میں بولی۔ ایک تو اس قدر تھکن ہو رہی تھی‘ سر میں بھی درد محسوس ہورہا تھا۔
رحمت کوئی حکم نہ پاکر واپس لوٹ گیا۔اس نے کپ خالی کر کے ایک طرف رکھتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر برش اٹھایا‘ پھر بال سلجھاتے ہوئے جانے کیا خیال آیا کہ بالوں کو پشت پر ڈالتے ہوئے‘ وہ اٹھ کھڑی ہو‘ئی لائٹ برائون دوپٹے کو شانوں پر پھیلا کر باہر نکل آئی۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اپنی جانب رخ کئے بیٹھے اس شخص سے بلا ارادہ نگاہ ٹکرائی‘ وہ بوا کے ساتھ یقینا باتیں کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔عفاف پر نگاہ جو اٹھی‘ تو لمحہ بھر کو رکی رہ گئی‘ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنی توجہ اسٹیرز پر جماتے ہوئے ایک ہاتھ سے چہرے پر آتے ہوئے سلکی بالوں کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی زینہ کراس کرتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔
’’آپ آگئی بی بی جی۔‘‘رحمت نے پیاز کاٹتے ہوئے ایک حیرت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔
’’ہاں۔‘‘اس نے ایک گہرا سانس لے کر کہا‘پھر ایپرن پہننے لگی۔
’’بنا کیا رہے ہو؟‘‘
’’جی فی الحال تو بریانی کے لئے مسالہ تیار کر رہا ہوں۔‘‘
’’او کے پیچھے ہٹو…میں د یکھتی ہوں!‘‘اسے کہہ کر وہ چولہے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ رحمت کتنا پرفیکٹ کک تھا‘ یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی‘ تبھی اپنے آرام کی قربانی د یتی ہوئی وہ یہاں آگئی تھی کہ مہمان اس کے سال بھر کے قیام میں پہلی بار آیا تھا‘ اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے کسی قسم کی کوئی شکایت ہو۔ بوا اتنی اچھی تھیں کہ ان کو یا ان سے وابستہ کسی شے کو وہ کم از کم وہ تکلیف دینا نہیں چاہتی تھی۔
پھر تمام تر کام نمٹا کر وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔خیال تھا کہ کھانا اپنے کمرے میں ہی کھائے گی‘ مگر اس وقت سخت کوفت ہوئی‘ جب رحمت بجائے کھانے کی ٹرے کے اسے خالی ہاتھ بلانے آگیا۔
’’وہ جی بوا جی آپ کو نیچے بلا رہی ہیں۔‘‘اور تب وہ کتنی ہی دیر تک رحمت کو خاموشی سے دیکھتی رہی تھی۔
’’کیا جواب دوں جی؟‘‘رحمت نے اسے خاموش دیکھ کر دوبارہ دریافت کیا تھا‘ اور تب اس نے ہولے سے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔رحمت فورا باہر نکل گیا تھا‘ اور وہ کچھ دیر تک یونہی سوچتی رہی تھی‘ پھر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
بوا اسے دیکھ کر مسکرادی تھیں۔
’’آئو‘ بیٹھو یہاں میرے پاس۔‘‘بوا نے اسے اپنے قریب بیٹھنے کے لئے کہا‘ تو بلا ارادہ ہی کرسی کھینچنے ہوئے اس کی نگاہ اپنے بالکل سامنے بیٹھے شخص پر جاٹکی۔ اس وقت وہ بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ وہ نگاہ جھکا کر ٹیبل کی سطح کو د یکھنے لگی‘ تبھی اس کے کانوں میں بوا کی آواز پڑی۔
’’بیٹا!یہ عزیر حسن آفندی ہے‘ میرا بہت عزیز بھتیجا…تعلیم کی غرض سے عرصہ دراز باہر رہا۔ اب ایک ملٹی نیشنل فرم میں بہت اچھی پوسٹ پر ہے۔میں تو شکل دیکھنے کو بھی ترس جایا کرتی تھی۔ آج بھی اچانک آمد پر حیران رہ گئی ہوں۔‘‘بوا بتاتے ہوئے مسکرائیں‘ تو وہ سر اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کی جانب دیکھنے لگی۔
’’یہ عفاف فریدون خان ہے۔‘‘بوانے اس کا تعارف پیش کیا‘ وہ دھیرے سے مسکرادیا۔ وہ بھی رسماً مسکرائی۔
’’ہیلو۔‘‘
’’بلیک سوٹ میں نک سک سے تیار شخص نے جواباً بڑے مہذب انداز میں سر ہلایا تھا‘ اور تب وہ د وبارہ سے اپنی پلیٹ کی جانب دیکھنے لگی تھی۔
’’تمام کھانا عفاف نے ہی بنایا ہے۔بڑی لذت اور ذائقہ ہے اس کے ہاتھ میں۔‘‘بوانے مطلع کیا۔وہ مسکرایا۔
’’جی اندازہ ہو رہا ہے مجھے۔‘‘اس نے کہا تو عفاف کی نظر لمحہ بھر کو پھر اس پر ٹک گئی۔

’’بوا جی ہمیشہ سچ بولتی ہیں۔‘‘اس نے براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا‘ تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔
’’وہ چھوٹا شوبی کیسا ہے؟کہہ دیا کبھی آجایا کرے وہ بھی اپنی بوا سے ملنے۔‘‘بوا نے غالباً ان موصوف سے چھوٹے کسی حضرات کا ذکر کیا تھا۔
’’جی ضرور آئے گا وہ بھی!!‘‘سعاد ت مندی سے جواب دیا گیا۔
’’کر کیا رہا ہے؟‘‘
’’اس کے شوق کچھ مختلف نوعیت کے ہیں…میوزک…کمپیوٹر…کرکٹ…پڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ ہر جانب توجہ مبذول کئے ہوئے ہے۔ ویسے انجینئرنگ کا آخری سال ہے اس کا۔‘‘
’’اور وہ مونا…واہ کینٹ سے آتی جاتی بھی ہے‘ یا فقط سسرال کی ہی ہو کر رہ گئی؟‘‘
’’بڑے خوبصورت گول مٹول سے شہزادے ہیں اس کے…آتی جاتی رہتی ہے۔‘‘
’’ہاں بس یہ کراچی ہی دور ہے…‘‘بوا نے کہا۔’’سوچتی ہوں بوریاں بستر اٹھا کر میں بھی اسلام آباد جا بسوں۔‘‘
وہ مسکرایا۔
’’زہے نصیب…میرے ساتھ ہی چلئے نا۔‘‘اس کے شرارت سے پرُ انداز پر بو ایکدم مسکرادیں۔
’’شرم تو نہیں آتی بوا کو چھیڑتے ہوئے۔وہ ننھی شرارتی گڑیا کا کیا حال ہے۔‘‘
’’وہ ثومیہ…ہاں وہ بھی میٹرک میں آگئی ہے…شیطان کی نانی ہے۔‘‘
وہ آہستہ سر جھکائے کھانا کھاتی رہی‘ خالص گھریلو قسم کی گفتگو میں یقینا وہ مس فٹ فیل کر رہی تھی خود کو۔‘‘
’’کراچی کا پروگرام طویل ہے یا مختصر…مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اب کے آیا ہے‘ تو کچھ دنوں تک جانے نہیں دوں گی۔‘‘بوانے کہا۔
’’اب تو آنا جانا لگا رہے گا۔‘‘اس نے بوا کو جواب دے کر اس کی جانب دیکھا۔
’’آپ نے کھانا واقعی بہت اچھا بنایا ہے‘میں کافی کھا گیا۔‘‘
’’شکریہ…‘‘وہ اس قدر کہہ سکی۔پھر کرسی کھینچ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’او کے بوا میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں‘ صبح پلیز جگا ضرور دیجئے گا‘ یہ نہ ہو میں سوتی رہ جائوں۔‘‘وہ بولی تو بوا سرہلانے لگیں۔
’’بیٹھو نا…رحمت کافی لا رہا ہے۔‘‘
’’اپنے کمرے میں پیوں گی…بہت تھک گئی ہوں‘ اور آپ جانتی ہیں میں شدید تھکن میں سو نہیں پاتی…ہاں کافی البتہ اچھی شے ہے رحمت سے کہہ کر میرے کمرے میں بھجوا دیجئے گا۔شب بخیر۔‘‘ جیسے وہ زینے کی طرف مڑی تبھی بوا بولی تھیں۔
’’فنانشل پر ابلمز تو خیر مجھے کبھی نہیں رہیں‘مگر اس لڑکی کو جب بطور پے انگ گیسٹ رکھنے کا مرحلہ آیا‘ تو میں انکار نہ کر سکی۔اس کے متعلق میری ایک دیرینہ دوست نے مجھ سے کہا تھا۔ اس کی بیٹی کی یہ بہت اچھی دوست ہے‘ اور ان کے ہاں بچپن سے ان کی فیملی کی ریلیشن تھے۔بہت معزز‘ بہت مہذب خاندان سے تعلق ہے۔بہت بڑی جائیداد بھی ہے‘ مگر قسمت کی بد بختی کہ ماں باپ کی موت کے بعد تنہا نہیں رہ سکتی…خود کو مصروف رکھنے کے لئے جاب کر رہی ہے۔بہت اچھی اور معصوم لڑکی ہے…میرا بھی وقت اچھا گزر جاتا ہے اس کے باعث‘ ورنہ تو گھر میں ویرانی سی ویرانی تھی۔اس کے آجانے سے کسی حد تک میری زندگی کی تنہائی کو بھی آسرا مل گیا۔تمہارے انکل کے بعد تو بس جیسے میری زندگی بھی ختم ہو گئی تھی‘ مگر اس بچی کے باعث میری زندگی میںپھر ایک رونق سی آگئی ہے۔‘‘بوا نے بتایا تو وہ سر ہلانے لگا۔
vvv
صبح شاید بوا کی آنکھ بھی دیر سے کھلی تھی‘ تبھی اسے اٹھانے کو بھی دیر سے آئی تھیں‘ اور وہ تو وقت پر اٹھتی تو تیار ہونا محال ہوتا تھا‘ کہاں پندرہ بیس منٹ میں تیار ہونا‘ مگر وہ چھٹی کرنا نہیں چاہتی تھی۔ تبھی‘ جلدی
of 10 
Go