Urdu Novels

Back | Home |  

 

میرے چارہ گر…رخسانہ نگار عدنان
چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔ حالانکہ صبح سے تو اچھی خاصی تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی بلکہ دس بجے کے بعد تو یہ تیز چمکتی دھوپ بے حد نوکیلی ہو گئی تھی، بدن کو چھیدتی ہوئی، جس نے گھنٹہ بھر میں ہی سب کے چھکے چھڑا دیئے تھے۔ ایک تو ویسے ہی اتنے دنوں سے شدید گرمی اور حبس نے بے حال کر رکھا تھا اور آج تو سورج کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کہ موسم کا گرم ترین دن ہو گا، جس سے دم گھٹا جا رہا تھا۔ پریکٹیکل لیب میں اس قدر گرمی تھی کہ پنکھے چلنے کے باوجود ہوا بدن کو ذرا نہیں لگ رہی تھی۔ سب ہی پسینے میں شرابور تھے۔
میڈم نور الٰہی کا تو سارا فائونڈیشن بہہ کر ان کے چہرے پر عجیب و غریب نقشے بنا گیا تھا۔ آنکھوں کا کاجل پھیل کر چہرے پر سیاہ لکیریں کھینچ چکا تھا۔
ایک تو گرمی کی شدت اس پر پریکٹیکل کا عذاب، اوپر سے میڈم نورالٰہی کا مضحکہ خیز حلیہ۔ ان کے خوب گوشت و چربی سے بھرے سانولے جسم سے چپکی پیلی شیفون کی ساڑھی اور گہرا نیلا بلائوز، کسی بھی قسم کی رومانیت پیدا کرنے میں ناکام ہو چکا تھا اور کوشش کے باوجود کوئی بھی لڑکی اس صورتِ حال کو انجوائے نہیں کر سکی تھی۔ سب ہی کو گرمی نے نڈھال سا کر رکھا تھا۔
’’ارے دیکھو، بادل آئے۔‘‘ صائمہ کے نعرے پر سب نے بے ساختہ گردنیں پیچھے کھڑکیوں کی طرف گھمائی تھیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دھوپ کی تلوار لئے آنکھیں دکھاتا سورج سیاہ بدلیوں کی یلغار کے سامنے دبک کر رہ گیا اور سارے میں گہری شام کا سا اندھیارا پھیل گیا۔ کچھ دیر کو تو ہر طرف ایک بولتی سی خاموشی چھا گئی۔ طوفان سے پہلے کی گمبھیر خاموشی۔ اور پھر اس خاموشی کو بادلوں کی گونج دار کڑک نے توڑا اور ساتھ ہی موٹے موٹے قطرے برسنے لگے۔ تیز ہوا سے لیب کی کھڑکی پر جھکا شہتوت کا درخت مستی کے عالم میں جیسے سر دھننے لگا۔ کھڑکیاں ہوا کے زور سے بند ہونے لگیں۔ بارش کی تیز بوچھاڑ نے آندھی کے حملے کو پسپا کر دیا اور چند ہی منٹوں میں اس بوچھاڑ نے موسلادھار بارش کی شکل اختیار کر لی اور جب ان کا پریکٹیکل تمام ہوا تو کالج کے تمام لان اور نشیبی راستے گدلے پانیوں کے جوہڑ بن چکے تھے۔
’’او مائی گاڈ! …۔۔ اتنا پانی؟‘‘ باہر نکلتے ہی ساری لڑکیاں حیرت زدہ سی رہ گئیں جبکہ بارش ابھی بھی اسی رفتار سے برسے جا رہی تھی۔
’’شکر ہے وین والا آ جائے گا۔ ورنہ اس موسم میں مجھے کس نے لینے آنا تھا گھر سے۔‘‘ کاریڈور سے نکلتے ہوئے گیٹ تک دو لان اور تین سڑکیں عبور کرنے کا سوچتے ہوئے اسے خیال آیا۔
’’توبہ، آج کا تو دن ہی شدید ترین طلوع ہوا ہے۔ پہلے دھوپ، گرمی اور حبس اس قدر، اور اب بارش اتنی شدید۔‘‘ نورین بولتے ہوئے اس کے ساتھ ہی چلی آ رہی تھی۔ آج وہ اس کی وین میں آئی تھی۔
’’دیکھ لو، اللہ کی قدرت ہے۔ یہ ساون کا مہینہ ہوتا ہی بے اعتبار ہے۔ ویسے وین والا تو آ جائے گا نا؟‘‘ ابیہا نے سر اٹھا کر خوب برستے سیاہ بادلوں سے اٹے آسمان کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور اپنی گلابی ہتھیلی بارش میں بھگونے لگی۔
’’ظاہر ہے، آئے گا۔ صبح بھی تو آیا تھا۔ شکر ہے، آج پریکٹیکل تو تمام ہوئے۔ اب تو بس وائیوا والے دن ہی آنا ہے اگلے ہفتے۔‘‘ نورین نے اپنی بے بی پنک تنگ پائنچوں کی شلوار کو ذرا اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’اور کیا۔ یہی پریکٹیکلز میڈم نور الٰہی نے ہمیں پہلے کروا دیئے ہوتے تو یوں پورا ہفتہ اس قیامت خیز گرمی میں تو نہ آنا پڑتا۔‘‘ ابیہا کوفت سے بولی۔
’’ہاں۔ میڈم ہر سال اسی طرح کرتی ہیں۔ پورا سال چھٹیاں اور پریکٹیکل سے ناغے اور آخر میں سب کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑ جانا۔ ارے آج ان کا حلیہ دیکھا تھا۔ چہ چہ…۔۔ سارا میک اپ پسینے کے سیلاب میں بہہ رہا تھا۔‘‘ نورین کو میڈم کا حلیہ یاد آتے ہی ہنسی آ گئی۔
’’ہاں تو اور کیا۔ اور مجبوری دیکھو یار! ہنس بھی نہیں سکتے تھے۔ چلیں اب۔‘‘
بارش رکنے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے اور نہ ہی کم ہونے کے۔ اس لئے یہاں کھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اردگرد کی ساری لڑکیاں جا چکی تھیں۔ ویسے بھی کالج میں تو گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، صرف ان کی کلاس ہی ہفتہ بھر سے آ رہی تھی۔
’’ہاں چلو، یہ بارش تو آج رکتی نظر نہیں آ رہی۔‘‘ انہوں نے جی کڑا کر کے برآمدے سے باہر قدم رکھا۔ گیٹ تک پہنچتے پہنچتے دونوں مکمل طور پر بھیگ چکی تھیں۔
گیٹ کے پاس آٹھ نو لڑکیاں کھڑی تھیں شیڈ کے نیچے۔ ان دونوں کی بمشکل ہی جگہ بن سکی۔
’’اُف اللہ، کوئی رکشہ ہی مل جائے۔‘‘ صبیحہ نے گیٹ سے باہر گردن نکالتے ہوئے کہا۔ ’’گلزار انکل کو بھیجا تو ہے۔ نہ جانے کدھر بیٹھ گئے ہیں جا کر۔‘‘ اس نے چوکیدار کا نام لیتے ہوئے بڑبڑا کر کہا۔
 

 

’’کیوں، رکشہ کس لئے؟‘‘ نورین نے اپنا دوپٹہ ایک کونے سے پکڑ کر نچوڑا۔
’’گھر جانے کے لئے۔ اور کس لئے؟ گھر بھی تو ہمارے اللہ میاں کے پچھواڑے ہیں۔‘‘ آج سے پہلے شاید اسے گھر کبھی اتنا دور نہیں لگا تھا۔
’’کیوں، رفیع انکل نہیں آئیں گے کیا؟‘‘ نورین نے چونک کر وین والے کا پوچھا۔
’’جی نہیں۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کر بولی۔ ’’صبح تم لوگ تو جلدی سے اندر بھاگ گئی تھیں۔ وہ ہمیں کہہ گئے تھے کہ واپسی پر خود آ جانا، انہیں کسی فوتگی پر شہر سے باہر جانا ہے۔‘‘
’’او مائی گاڈ!‘‘ ابیہا اور نورین کا رنگ اُڑ گیا۔
’’اگر رکشہ ملتا ہے تو تم ہمارے ساتھ ہی چلنا۔ تمہارا گھر تو بالکل روڈ پر ہے۔ ابیہا کا البتہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس کا گھر تو تمہارے گھر سے بھی اچھا خاصا دور ہے۔‘‘ صبیحہ بولی۔ ’’ہم چار لڑکیاں رکشہ کر رہی ہیں، تم بھی ٹھس جانا۔‘‘
’’میں کیسے جائوں گی؟‘‘ اسے بارش وارش سب بھول گئی۔
’’تم…۔!‘‘ نورین کچھ کوفت بھرے انداز میں مجبوراً مڑی تھی۔ ’’ارے یہ فائزہ اور حنا ہیں نا۔ تم ان کے ساتھ چلی جانا۔‘‘ وہ جیسے چٹکی بجا کر پیچھے کھڑی دونوں لڑکیوں کو دیکھ کر بولی۔ وہ دونوں کزنز تھیں اور اس وقت باتوں میں مگن تھیں۔ نورین کی بات پر ایک لمحے کو چپ سی ہو گئیں۔
’’مگر ان کا گھر تو خاصا پہلے آ جاتا ہے۔ میں اس موسم میں اکیلی رکشے میں کیسے جائوں گی؟‘‘ اسے تو پہلی بار رکشے میں وہ بھی اکیلے اور اس موسم میں جانے کا سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے تھے۔
’’رکشہ آ گیا۔‘‘ صبیحہ جو اُن کی گفتگو سے بے نیاز آدھی گیٹ سے باہر لٹکی باری سے بے نیاز کھڑی تھی، جوش سے مڑ کر بولی تو نورین نے ابیہا کی اگلی بات بھی نہیں سنی اور ہاتھ ہلاتی باقی لڑکیوں کے پیچھے دوڑ گئی۔ ابیہا نے قدرے بے بسی سے بے نیاز سی باتوں میں مگن فائزہ اور حنا کو دیکھا۔
’’ارے بیا! تم ابھی تک گئی نہیں؟‘‘ ایک دم پیچھے سے اسے روشی کی آواز سنائی دی۔
’’نہیں۔ ڈرائیور دونوں ہی چھٹی پر اچانک چلے گئے۔ تایا جی کی گاڑی ورکشاپ میں تھی۔ صبح میں نورین کی وین میں آئی تھی۔ اب اس نے بھی نہیں آنا تھا اور نورین رکشے میں…۔‘‘
’’اوکے بیا! ہم بھی جا رہے ہیں۔ صد شکر کہ بھائی کو خیال تو آ گیا ہمیں لینے کا۔ اب اس کی بائیک پر خوب نہاتے ہوئے جائیں گے۔ اور تمہاری تو کزن آ گئی ہے، تم اس کے ساتھ چلی جانا۔ اب تو کوئی مسئلہ نہیں؟ ان کا تو گھر بھی کالج کے بالکل ہی پاس ہے، اوکے بائے!‘‘
حنا نے اچانک ابیہا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پُرسکون انداز میں کہتے ہوئے اس کا سکون برباد کر دیا۔ اس کا بھائی بھیگا مرغا بنا گیٹ کے آگے بائیک لئے کھڑا دونوں کو جلدی نکلنے کو کہہ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئیں۔
’’ہاں ہاں بیا! تم چلو میرے ساتھ۔ تمہیں تھوڑی دیر میں ابو چھوڑ آئیں گے یا بھائی۔‘‘ روشی خوشی سے چہکی تو بیلا کا دل گویا پاتال میں اُترتا چلا گیا۔
شیڈ کے نیچے وہ دونوں ہی اب کھڑی تھیں۔
چوکیدار برگد کے گھنے سال خوردہ درخت کے نیچے کھڑا گویا ان دونوں کے نکلنے کا منتظر تھا۔ گرائونڈ میں پانی ہی پانی بھر گیا تھا۔ دور آفس کی بلڈنگ بھی بند پڑی تھی کہ وہ گھر پہ فون کر کے کسی کو بلا لیتی۔
’’چلیں پھر؟‘‘ روشنی نے اس کا بازو ہلاتے ہوئے اپنا دوپٹہ درست کر کے پوچھا۔
’’تمہارے گھر تو فون بھی نہیں ہے، ورنہ میں گھر اطلاع کر کے کسی کو بلوا لیتی۔‘‘ اس نے مری مری آواز میں کہا۔
’’تم چلو تو سہی، میں تمہیں بھجوا دوں گی۔ امی کس قدر خوش ہوں گی تمہیں دیکھ کر۔ بس پانچ منٹ کا تو رستہ ہے ادھر سے۔‘‘ روشی نے اس کا ہاتھ ہولے سے کھینچا۔
’’روشی! تمہیں نہیں معلوم، اگر تایا جی کو یا چاچو کو معلوم ہو گیا تو…۔‘‘ وہ بے حد خوفزدہ تھی۔ ان دونوں کے بگڑے چہرے اسے بارش کی بوچھاڑ میں بھی صاف دکھائی دیئے تھے۔
’’بیا! ہم کوئی غیر تو نہیں۔‘‘ روشی کی آواز فوراً ہی رندھ گئی تھی۔
’’مم…۔ میرا یہ مطلب نہیں۔‘‘ وہ گھبرا گئی۔ کسی کا دل دکھانا بھی تو اس کے لئے بے حد تکلیف دہ تھا۔
’’تمہیں معلوم تو ہے سب۔‘‘ ابیہا نے روشی کی لبالب بھری آنکھوں کو دیکھ کر قدرے ملائمت سے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔ ایک دم سے بادل زور سے گرجے، ساتھ ہی بجلی تیز 

 

روشنی کے ساتھ کوندی تھی۔ ان دونوں نے ڈر کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ آسمان پر ایک بار پھر اندھیرا چھا گیا تھا۔ بادلوں کی نئی کھیپ براجمان ہو چکی تھی اور برسنے کو تیار۔
’’چلیں پھر۔ اب اس موسم میں تمہیں ادھر چھوڑ کر بھی تو نہیں جا سکتی۔‘‘ اس نے مضبوطی سے ابیہا کا ہاتھ تھام لیا۔
’’چلو۔‘‘ اس نے بے بسی سے اپنا شولڈر بیگ کندھے پر جما کر بھیگے ہوئے دوپٹے کو درست کیا اور دونوں گیٹ سے نکل آئیں۔
٭…٭…٭
’’میڈم! ڈاکٹر رضا ہیں لائن پر۔‘‘
شائستہ پال نے سیکرٹری کی اطلاع سن کر انٹرکام رکھتے ہوئے میز پر دائیں رکھے سبز رنگ کے ٹیلی فون کا ریسیور اٹھا لیا۔
’’گڈ مارننگ میڈم! اینڈ ہائو آر یو؟‘‘ ڈاکٹر رضا چہکتے ہوئے بولے تھے۔
’’ڈاکٹر صاحب! میرے خیال میں تو اب گڈ ایوننگ بھی ہو چکی ہے۔ اور میڈم تو میں اپنے اسٹاف کے لئے ہوں اور آپ کی تو میں غالباً بھابی رہ چکی ہوں۔‘‘ 
آخری فقرہ بولتے ہوئے عجیب سی تھکن ان کے لہجے میں اُتر آئی تھی۔
’’اللہ آپ کی ایوننگ، مارننگ سب گڈ کرے۔ اپنی تو یہی دعا ہے اور یہی مدعا بھی۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ ریسیور کا تار انگلی پر لپیٹتے ہوئے شائستہ نے چیئر گھمائی۔
’’آپ کو ابھی بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے۔ میں نے کل شام بھی آپ کو تاکید کی تھی، آپ کی رپورٹس…‘‘
’’کم آن رضا! اب کیا میں بستر سے لگی، دیواروں کے نقش و نگار تکتی موت کا انتظار کرتی رہوں؟‘‘ وہ خاصا جھلا کر بولی تھیں۔
’’اللہ نہ کرے۔ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ مگر اتنی جلدی نائن ٹو فائیو والی سیٹ بھی تو بہت نقصان دہ ہے۔ آپ کو معلوم ہے نا!‘‘
’’آئی نو۔‘‘ وہ اب کے قدرے دھیمے مگر بے زار لہجے میں بولیں۔ ’’میں بس اُٹھنے ہی والی تھی۔‘‘
’’گھر جا کر اچھے بچوں کی طرح ریسٹ کریں۔ اچھی سی چائے یا کافی بنا کر پئیں۔ ذرا اپنے آفس سے باہر نکل کر دیکھیں، باہر موسم کیا قیامت ڈھا رہا ہے۔ ایسے موسم میں تو یوں بھی آفس جیسی فضول جگہ پر بیٹھنا کفرانِ نعمت سے کم نہیں۔‘‘
’’تو تم آ جائو، مجھے اس موسم کے قیامت ہونے کا احساس دلانے کے لئے۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولیں۔
’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ آہ! کیا کہہ ڈالا آپ نے۔‘‘ ڈاکٹر رضا ایک سرد آہ بھر کر بولا۔ ’’بارش نے نہ رکنے کی قسم کھائی ہوئی ہے، اس کے باوجود میرے کلینک کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطار جمع ہو چکی ہے، اس لئے میری طرف سے یہ کافی ادھار رہی۔ لیکن آپ پلیز اُٹھ جایئے۔ آج اگر میرا دوست جان زندہ ہوتا تو میں دیکھتا، وہ کیسے آپ کو اس کنڈیشن میں بیٹھنے دیتا۔ یوں آپ کو کام کرتے دیکھ کر اس کی روح کو کتنی تکلیف ہو رہی ہو گی۔ یہی خیال کر کے آپ اپنی کیئر کر لیں پلیز۔‘‘ ڈاکٹر رضا کے ملتجی لہجے پر شائستہ کے چہرے پر عجیب سی سختی آ گئی۔
’’اوکے، میں اُٹھ رہی ہوں۔ اور فون کرنے کا شکریہ۔ بائے!‘‘ شائستہ نے ڈاکٹر کی اگلی بات سنے بغیر ریسیور رکھ دیا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہہ کر وہ اپنا ضروری سامان سمیٹنے لگیں۔
باہر واقعی بارش نے جل تھل مچا رکھی تھی۔ ان کا آفس شہر کے پوش ترین علاقے میں تھا اور اس علاقے کی سڑکیں جیسے نہر بن چکی تھیں تو باقی شہر کا کیا حال ہوا تھا۔
ڈرائیور اُن کے کہنے پر یونہی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا۔ ونڈ اسکرین پر تیزی سے گردش کرتے وائپرز انہیں بارش کی جولانی کی خبر دے رہے تھے مگر گھر جانے کو قطعاً دل نہیں چاہ رہا تھا۔ خالی گھر انہیں کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔
انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا، جان پال کے چلے جانے کے بعد وہ اس قدر تنہا ہو جائیں گی کہ ایسی بھری برسات میں نہ صرف ان کا دل اس قدر اکیلا ہو جائے گا بلکہ ان کا امنگوں بھرا جوانی کی تڑپ لئے یہ حسین بدن بھی۔
ایسا موسم تو ان کی تنہائی کو اور بھی دیوانہ کر دیتا تھا۔ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ اس لگژری گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر سڑک پر نکل جائیں اور چھاجوں برستے مینہ کے نیچے خود کو اتنا بھگوئیں کہ ان کے جسم کا ریشہ ریشہ تر ہو جائے، ہر رگ کی پیاس بجھ جائے۔ انہوں نے کھڑکی کے شیشے سے اپنا سلگتا ہوا چہرہ ٹکا دیا۔
 
of 82 
Go