Urdu Novels

Back | Home |  

 

محبت خواب سفر………رخسانہ نگار عدنان
’’حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ ۔۔۔۔۔۔۔ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ‘‘
’’آئو فلاح کی طرف، آئو کامیابی کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
صبح کے اوّلین سحر آفرین لمحات میں دعوت عام کی پُرتاثیر صدا گونج رہی تھی۔ انہوں نے گھر کا دروازہ کھولا۔
خنک ٹھنڈی ہوا کے خوشگوار جھونکے نے ان کے چہرے کو چھوا۔
باہر کی طرف اُٹھتا ان کا پہلا قدم دہلیز پر پڑی کسی چیز سے ٹکرایا۔ وہ کچھ حیران سے نیچے کو جھکے اور ملگجے اندھیرے اور ملگجی روشنی میں ان کی بصارتوں نے تولیے میں لپٹے اس ننھے سے وجود کو دیکھا، جو دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے، پوری آنکھیں کھولے اِدھر اُدھر سر مارتا، شاید بھوک کے منبع کو تلاش کرتے ہوئے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چند ثانیے کو ششدر سے بیٹھے رہ گئے۔ نہ جانے کون سا الوہی لمحہ تھا، جو ان سے یہ فیصلہ کرا گیا۔
وہ اس ننھے وجود کو بانہوں میں اٹھائے واپس کھلے دروازے سے اندر چلے گئے۔
ڈور بیل کی تیز آواز گونجی۔
ان کے دھیان کی دہلیز پر سوکھے پتے کی طرح لرزتا ہوا یہ بھُولا بسرا خیال پل بھر کو چُرمرا گیا اور شعور کی تیز ہوا میں اُڑتا کہیں گم ہو گیا۔ وہ آنکھیں کھولے، یک ٹک چھت کو دیکھتے رہ گئے۔
٭…٭…٭
’’لیں جناب! آج یہ آخری بوجھ بھی سر سے اتر گیا۔ یار! viva (وائیوا) تو میری توقع اور امید سے اس قدر زبردست ہوا کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔‘‘ سویٹی نے میز بجاتے ہوئے خاصے پُرجوش لہجے میں ان دونوں کو گویا اطلاع دی تھی۔
’’عورت ہو نا، اس لئے ہمیشہ بے یقین رہتی ہو۔‘‘ اسامہ سبحان نے اسے چھیڑا۔
’’Will you shut up مسٹر مرد؟‘‘ وہ واقعی چِڑ گئی۔ ’’اور تم مرد منزل سامنے ہوتے ہوئے بھی بھٹکتے پھرتے ہو۔ کبھی اِس دوارے، کبھی اُس دوارے۔ اس لئے سب کچھ پا کر بھی بے سکون رہتے ہو، کبھی نہ قانع ہونے والے۔‘‘
’’او مائی گاڈ، مس لائبہ! مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم اتنی گاڑھی اُردو بول رہی ہو، وہ بھی غصے کے عالم میں۔ جب کہ غصے میں تو تمہارے منہ سے یوں انگریزی کف اُڑاتی نکلتی ہے کہ بخدا سنبھالے نہ سنبھلے اور تھامے نہ تھمے۔‘‘
دائم مصطفی نے ہنستے ہوئے کہا تو لائبہ نے ایک گہری خفا سی نگاہ اس پر ڈالی، گویا کہہ رہی ہو ’’تم تھامنے والے تو بنو، نہ تھموں تو کہنا۔‘‘ اس کے نم ہونٹ پھڑپھڑا کر رہ گئے اور دائم اس کی نظروں کے پیغام سے صاف نظریں چُرا کر اسامہ کو دیکھنے لگا۔
’’MIT ہو گیا۔ نیکسٹ پلاننگ گائیز؟‘‘ اس نے جان بوجھ کر ٹاپک بدلا۔ ورنہ لائبہ کا موڈ بدل جانے کا خدشہ تھا۔
’’نیکسٹ پلاننگ آفٹر رزلٹ مائی ڈیئر!‘‘ اسامہ، ٹیبل پر پڑی ہینڈ بُک اٹھا کر دیکھنے لگا۔ ’’کیا کھائو گے تم لوگ؟‘‘ وہ فاسٹ فوڈ کے مختلف آئٹمز پر نظریں دوڑاتے ہوئے بولا۔
’’فی الحال تو لوگ اپنی جان کھا رہے ہیں۔‘‘ دائم، لائبہ کے سرخ چہرے کو دیکھ کر شرارت سے بولا۔
’’میری جان اتنی فالتو نہیں ہے۔ اور اگر مجھے یہی چیزیں کھانی ہوں گی تو تم دونوں کافی ہو اس کے لئے۔‘‘ وہ خفا سی نگاہ، گلاس ونڈو سے باہر دوڑاتے ہوئے بولی تو دائم نے ایک طائرانہ نظر اس کے پھُولے ہوئے ناراض چہرے پر ڈالی۔
’’یار! یہ تمہیں بیٹھے بیٹھے ہو کیا جاتا ہے؟‘‘ اسامہ نے مینیو بُک زور سے بند کرتے ہوئے لائبہ سے پوچھا تو وہ اسے محض دیکھ کر رہ گئی۔
’’وہی جو ہم دونوں کو نہیں ہوتا۔ یہ جن اسی پر عاشق ہے بس۔‘‘ دائم ہنسا۔
’’میں کوئی چیز اٹھا کر تمہارے سر پر دے ماروں گی، اب تم نے کوئی فضول بات کی تو۔‘‘ وہ بپھر کر بولی تو دائم نے دونوں ہاتھ، کانوں کو لگاتے ہوئے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی۔ اسامہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔
’’تین سال گزر گئے، تم دونوں کو اسی طرح لڑتے جھگڑتے مگر ابھی تک اس تنازع کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔‘‘
’’اور ہو گا بھی نہیں۔ میرے لئے پاسٹا لے آنا۔‘‘ دائم نے جلدی سے کہا۔
’’کیونکہ تم اس کو حل کرنا ہی نہیں چاہتے۔ میرے لئے چکن سکّہ ہاٹ اینڈ اسپائس۔‘‘ اس نے اسامہ کو آرڈر دیا۔
’’بائی دا وے، تم دونوں کے درمیان تنازع ہے کون سا؟ اور میں تم دونوں کا ملازم نہیں، یہاں سیلف سروس ہے۔ جس کا جو دل چاہے، خود اٹھے اور لے کر آئے۔‘‘ وہ صاف انکار کرتے ہوئے بولا۔
’’جب تمہیں تنازعے کا علم ہی نہیں تو ہر بار اس کے حل پر کیوں زور دیتے ہو؟‘‘ لائبہ چِڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔
’’کیونکہ تم دونوں کا مسئلہ حل ہو گا تو میری باری آئے گی نا۔‘‘ اب کے اس نے لائبہ کو خاص تیکھی نظروں سے دیکھا۔ وہ کندھے اچکا کر سامنے دیکھنے لگی۔
’’تم ایسے کرو، پہلے باری لے لو۔ ایجوکیشن تمہاری مکمل ہو چکی ہے۔ جاب کا مسئلہ ہے، سو چند ہفتوں میں وہ بھی حل ہو جائے گا۔ بہتر ہے، تم ہی پہل کر گزرو۔ کیوں لائبہ؟‘‘ دائم کے مشورے پر لائبہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
’’اوکے، کوئی نہ اُٹھے۔ میں تو اپنے لئے کچھ لینے جا رہی ہوں۔ بھوک سے جان نکلی جا رہی ہے۔ ادھر نہ جانے کون سے مسئلے سلجھائے جا رہے ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر اُٹھنے لگی تو اسامہ بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تم بیٹھو، میں لے آتا ہوں۔‘‘ وہ کرسی کھسکا کر مڑ گیا۔ اس وقت کیفے میں رش بھی بہت تھا۔ لنچ بریک میں ادھر چلتا ہی فاسٹ فوڈ تھا۔

 

’’اسامہ بہت اچھا ہے لائبہ! ہے نا؟‘‘ اسامہ کے جانے کے چند لمحوں بعد دائم بولا۔
’’آئی نو۔ بار بار ری مائنڈ کرانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ تم مجھے سویٹی کیوں نہیں کہتے؟ کہنا نہیں آتا کیا؟‘‘ وہ ایک بار پھر چِڑ کر بولی۔
’’ہاں، نہیں آتا۔ پھر؟‘‘ اس نے بھی چِڑایا۔
’’کب تک نہیں سیکھو گے؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔
’’ویسے یار! اگر تم یوں پٹری سے نہ اُترو تو اچھی خاصی معقول۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں، تم اتنی بھی معقول لڑکی نہیں ہو۔‘‘ دائم نے یک بیک اس کی مختصر سی شرٹ کے کھلے گریبان سے جھانکتے دودھیا سینے پر چبھتی ہوئی ترچھی نظر ڈالی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ اس پر نگاہیں جما کر بولیں۔
’’تمہاری شرٹ دن بدن سکڑتی نہیں جا رہی اور گلا پھیلتا جا رہا ہے۔ اور اتنی ٹھنڈ میں بھی تمہاری پنڈلیوں کو خوب گرمی ستانے لگی ہے۔ یہ کم از کم کسی معقول لڑکی کا حلیہ نہیں ہو سکتا میرے نزدیک۔‘‘ دائم نے ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے اس کے سانچے میں ڈھلے فگر سے نظریں چرائیں تو وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’میں نے کوئی لطیفہ تو نہیں سنایا۔‘‘ وہ ناراضی سے بولا۔
’’میرے لئے تو یہ کسی لطیفے سے کم نہیں۔ ویسے اس میں دو لطیفے ہیں۔‘‘ وہ نم ہوتی آنکھوں کو ٹشو سے صاف کرتے ہوئے ہنسی روک کر بولی۔ دائم نے استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’یار دائم! تم لندن میں پیدا ہوئے ہو، یہیں پلے پڑھے اور ابھی تک اس کی تہذیب میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے۔ ہے نا لطیفہ؟‘‘ وہ رک کر ہنسی تو دائم اسے تاسف بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’اور دوسرا لطیفہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سنائوں؟‘‘ وہ گہرے گریبان کے ساتھ ٹیبل پر آگے کی طرف جھک کر اس کی طرف وارفتہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ دائم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’جب میں تمہارے سامنے اچھے خاصے معقول حلیے میں پھرتی تھی۔ دن بھر کے ساتھ کے باوجود میں تمہیں دکھائی نہیں دیتی تھی اور جب سے میں نے خود کو اس سوسائٹی کی ڈیمانڈز کے مطابق ڈریس اپ کرنا شروع کیا ہے، اس دن سے میں تمہیں باقاعدہ دکھائی دینے لگی ہوں۔ ہے نا لطیفہ؟‘‘ وہ تیزی سے پلکیں جھپکتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔ آنکھوں میں اُترتی نمی کو پلکوں سے پرے دھکیلنے کے لئے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ یونہی کھانسنے لگی۔
’’اب کیا ہوا ہے؟‘‘ دائم اس کی جانب دیکھتے ہوئے ہولے سے بولا۔
’’ایکسکیوز می۔ میری طبیعت نہیں ٹھیک۔ کل ملیں گے۔ بائے!‘‘ اس نے عجلت بھرے انداز میں کرسی کی سائیڈ سے لٹکا اپنا شولڈر بیگ کھینچا اور تقریباً دوڑتے ہوئے کیفے کے بیرونی دروازے کی طرف بھاگ گئی۔
’’لائبہ!۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ! رُکو تو یار۔‘‘ دائم کئی قدم پکارتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا مگر وہ رکی نہ تھی۔
’’عجیب لڑکی ہے، میں ابھی تک اس کو سمجھ نہیں سکا۔‘‘ دائم سر ہلاتے اپنی کرسی پر جا بیٹھا اور اسامہ کا انتظار کرنے لگا۔
٭…٭…٭
’’گڈ مارننگ میڈم!۔۔۔۔۔۔۔۔ گڈ مارننگ۔‘‘ میڈم یاقوت، داخلی دروازے سے اندر قدم دھرتی جا رہی تھیں۔ اُس کی ہیل کی ٹِک ٹِک کے ساتھ دائیں بائیں اپنی میزوں کے گرد اپنی کرسیوں پر بیٹھے تمام ایمپلائز اٹھ اٹھ کر گڈ مارننگ میڈم کا سُریلا نغمہ ان کے کانوں میں انڈیلتے جا رہے تھے، جس کے جواب میں وہ اپنے شولڈر کٹ سنہری بالوں والے سر کو ہلکا سا خم دے کر گویا اس سلامی کو قبول کر رہی تھیں، جو انہیں قدم قدم پر پیش کی جا رہی تھی۔ ایمپلائز کی جھکی جھکی نظریں ان کی سبک رفتار چال اور مضبوط قدموں پر جمی تھیں۔ سیاہ نازک ہائی ہیل سینڈل میں مقید سڈول دودھیا پائوں جن کی انگلیوں کے تراشیدہ ناخنوں پر برائٹ پنک شیڈ کی نیل پالش لگی تھی، برائٹ پنک کلر کی شاندار سلکی ساڑھی میں ان کا جاذب نظر سراپا پورے آفس لائونج میں خوشبوئیں بکھیرتا جا رہا تھا۔ ساڑھی کی رنگت سے میچ کرتا لائٹ میک اپ اور خوب صورت نازک ڈائمنڈ کی جیولری ان کے سجے سجائے روپ کو اور بھی پُرکشش بنا رہی تھی۔
’’ہاشمی صاحب! لاسٹ منتھ پروگریس رپورٹ آج آپ نے مجھے لنچ آورز کے بعد لازمی چیک کروانی ہے اور آڈیٹرز فائنل رپورٹ کا کیا بنا؟‘‘ وہ ذرا کی ذرا اپنے آفس کے ساتھ بنے کیبن کے دروازے پر رکیں اور کمپیوٹر اسکرین پر نگاہیں جما کر بیٹھے ہاشمی صاحب سے بولیں جو اچانک انہیں اپنے سامنے دیکھ کر بوکھلاتے ہوئے ’’گڈمارننگ میڈم!‘‘ کہنے لگے۔ انہوں نے صراحی دار اُٹھی ہوئی گردن کو ہولے سے ہلایا۔
’’اوکے میڈم! آڈیٹرز رپورٹ پرسوں تک ملے گی۔‘‘
’’فائن۔‘‘ وہ کہہ کر اپنے آفس کے گلاس ڈور کی طرف مڑیں۔ ان کی پرسنل سیکرٹری عائشہ بخاری پیچھے آتے ہوئے دو قدم ہٹ کر کھڑی تھی۔ گلاس ڈور خودبخود کھلتا چلا گیا۔
وہ آگے بڑھیں۔ عائشہ بخاری ان کی تقلید میں اندر داخل ہوئی۔ دروازہ خودبخود بند ہو گیا۔
انہوں نے اپنا نازک سا پنک سلور پرس گلاس ٹاپ والی ٹیبل پر رکھا اور خود ٹیبل کے دوسری جانب پڑی ریوالونگ چیئر پر جا بیٹھیں۔
عائشہ بخاری، آفس کے سائیڈ روم میں چلی گئی اور چند لمحوں میں شیشے کے نازک گلاس میں پانی لئے واپس آئی جو اس نے میڈم یاقوت کے دائیں ہاتھ ٹیبل پر رکھ دیا۔ انہوں نے گلاس اٹھا کر دو گھونٹ پانی پیا اور گلاس رکھ دیا۔
’’آج کا شیڈول کیا ہے؟‘‘ انہوں نے بڑی نزاکت سے ٹشو سے ہونٹوں کے کناروں کو چھوا۔
’’آج گیارہ بجے راحت ماربل انڈسٹری والوں سے آپ کی فائنل میٹنگ ہے۔ پہلی میٹنگ میں ان کے ساتھ تمام معاملات پر بات چیت ہو گئی تھی۔ مگر ریٹس فائنل نہیں ہوئے تھے۔ وہ آپ کے ریٹ سے سیون پرسینٹ زیادہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں، اس لئے آج۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

 

’’میرا خیال ہے، وہ آج بھی شاید انہی ریٹس پر اڑے ہیں۔ اس لئے تم ایک بار کھوکھر برادرز سے بھی کنٹکیٹ کر کے ان کی ڈیمانڈ معلوم کرو۔ اگر ان کے ریٹس معقول ہوئے تو آج ہی ان کو میٹنگ کے لئے بلوا لو۔‘‘ وہ ریوالونگ چیئر ہولے ہولے گھماتے ہوئے بولیں۔
’’اوکے میم! میں یہ ابھی کر لوں گی۔ سیکنڈلی آج جہانگیر ہمدانی صاحب آ رہے ہیں، دبئی سے۔ آپ لنچ ان کے ساتھ کریں گی، اس سے پہلے انہیں ریسیو کرنے ایئرپورٹ گاڑی جائے گی۔ لنچ کے بعد ہاشمی صاحب آپ کو بریف کریں گے۔ تین بجے مائی چین آف بوتیکس کی مس صائمہ آپ کو بریف کریں گی، اسلام آباد میں ہماری کھلنے والی تیسری برانچ کی افتتاحی تقریب کی تفصیل بتائیں گی۔ پانچ بجے جاوید صاحب نے آپ سے اپائنٹ منٹ لے رکھی ہے۔ چھ بجے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’چھ بجے کے بعد کی تمام اپائنٹ منٹس کینسل کر دو۔‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’چھ بجے میں آفس سے اُٹھ جائوں گی۔ ڈنر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میم! آپ کا ڈنر آج سیٹھ جمیل کے نئے ولا کی خوشی میں گرینڈ فنکشن ہے، وہیں ہو گا۔‘‘ اس نے یاد دہانی کرائی۔
’’نو، نو۔ ڈنر جہانگیر صاحب کے ساتھ ہو گا۔ سیٹھ جمیل سے میں بعد میں ایکسکیوز کر لوں گی۔‘‘ وہ جلدی سے بولیں۔
’’میم! سیٹھ جمیل، مائی چین آف گروپس کے تھرٹی پرسینٹ شیئر ہولڈر ہیں۔‘‘
’’اوہ فنی، اونلی تھرٹی پرسینٹ۔‘‘ وہ سر جھٹک کر نخوت سے بولیں۔ ’’اوکے۔ آج میں اپنی اس حماقت کا بھی اینڈ کرتی ہوں۔ سیٹھ جمیل کو میں نے اس وقت بزنس پارٹنر بنایا تھا، جب میں سمجھتی تھی کہ مجھے بزنس کے اسرار و رموز سمجھنے کے لئے کسی زیادہ سمجھ دار، منجھے ہوئے بزنس مین کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس وقت بھی مجھے فنانشل پرابلم بالکل نہیں تھی۔ اور یہ میری امیچور سوچ تھی، جسے جہانگیر نے اس وقت بھی پوائنٹ آئوٹ کیا تھا۔ مگر میں نہیں مانی۔ مجھے اپنی صلاحیتوں کے پوٹینشل کا اندازہ نہیں تھا، ورنہ اس وقت میں بھی اکیلی یہ سب آسانی سے سنبھال سکتی تھی۔ اینی وے، ہر انسان پر ایک فیز ایسا ضرور آتا ہے، جب اسے خود بھی اپنی صلاحیتوں کا اندازہ نہیں ہو پاتا اور وہ کوئی نہ کوئی حماقت ضرور کر گزرتا ہے۔ تم ابھی ہمارے بزنس کنسلٹنٹ شیخ اقبال صاحب سے کنٹیکٹ کرو اور ان کے ساتھ میری پرسوں۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، بلکہ کل رات ایک ڈنر میٹنگ رکھ لو۔ میں اب اس پارٹنر شپ کا دی اینڈ کرنا چاہ رہی ہوں۔‘‘ وہ سوچ سوچ کر بول رہی تھیں۔ عائشہ نوٹ بُک میں نوٹ کرنے لگی۔
’’اور ہاں، وہ جو نئے اسسٹنٹ منیجر کی تقرری والا معاملہ ہے، وہ کب تک سیٹل ہو گا؟‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بولیں۔
’’میم! آپ کی ہدایت کے مطابق لاسٹ وِیک تمام نیوز پیپرز میں ایڈ دے دیا گیا تھا۔ پرسوں آفٹر لنچ انٹرویو ہے۔ میں پہلے آپ کو بتا چکی ہوں۔‘‘ عائشہ نوٹ بُک بند کرتے ہوئے بولی۔
’’ہاں، میں بھول گئی، یہ اسسٹنٹ منیجر والا مسئلہ بہت اُلجھ گیا ہے۔ کوئی ڈھنگ کا بندہ مل ہی نہیں رہا۔ یہ تیسری اپائنٹمنٹ ہو گی۔‘‘ وہ پیشانی پر اُنگلی پھیرتے ہوئے قدرے تشویش سے بولیں۔
’’اگر مجھے دوبئی والی مین برانچ کے لئے کوئی معقول بندہ مل جائے تو اِدھر کسی ناتجربہ کار سے بھی گزارا ہو جائے گا۔ کیونکہ اُدھر کا کام تو رضا نے بخوبی سنبھال رکھا ہے۔ صرف اس کی ہیلپ کے لئے کوئی ہونا چاہئے۔ میرا اب دونوں طرف پراپر ٹائم دینا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اوکے، دیکھتے ہیں۔ پرسوں انٹرویو میں شاید کوئی سوٹ ایبل شخص مل ہی جائے۔‘‘
عائشہ بخاری بے تاثر چہرہ لئے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’جہانگیر کو ریسیو کرنے کون جائے گا؟‘‘ چند لمحوں کے سکوت کے بعد وہ بولیں۔
’’ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بتا دیں، کس کو بھیجوں؟‘‘ وہ اپنی رائے دیتے دیتے رک کر بولی۔
’’تم نہیں جائو گی کیا؟‘‘ وہ عائشہ کو عجیب سی نظروں سے دیکھ کر بولیں۔
’’جی۔۔۔۔۔۔۔۔ جی میم! میں چلی جائوں گی۔‘‘ وہ قدرے بوکھلا کر بولی۔
’’کم آن۔ اب بنو مت۔‘‘ وہ ہوا میں ہاتھ لہرا کر استہزائیہ انداز میں مسکرائیں تو عائشہ بخاری کا سر جھک گیا۔
’’اور یہ تم نے اپنا حلیہ دیکھا ہے؟ لگتا ہے، بستر سے اٹھ کر آ گئی ہو۔ کیا میری پی اے کا ڈریس ایسا ہونا چاہئے؟ مائی چین آف گروپس کی آنر کی پی اے ہو اور یہ اول جلول ڈریس۔ عائشہ! کیا مجھے ہر بار تمہیں وارن کرنا پڑے گا؟‘‘ ان کا لہجہ اتنا ترش نہیں تھا، جتنا انداز۔ عائشہ کے چہرے کا رنگ اُڑ سا گیا۔ وہ جواب میں کچھ کہنا چاہ رہی تھی، مگر اس کے ہونٹ پھڑپھڑا کر رہ گئے۔
’’سس۔۔۔۔۔۔۔۔ سوری میم!‘‘ میڈم یاقوت کی شعلہ بار نگاہوں سے گھبرا کر وہ بمشکل کہہ پائی۔
’’سوری فار واٹ؟۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جانتی ہو کہ میری برداشت کی ایک لمٹ (حد) ہوتی ہے۔ اس کے بعد سب کچھ ختم۔ انڈر اسٹینڈ؟‘‘ وہ زور سے چلّائیں۔ عائشہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آ گیا۔ اس نے آہستگی سے کرسی کی بیک کو تھام لیا۔
’’اوکے، اب تم آفس چند منٹ بھی نہیں رکنا۔ فوراً ’’مائی بوتیک‘‘ گلبرگ برانچ میں جائو اور سب سے بہترین ڈریس لے کر ’’مائی پارلر‘‘ سے اپنی کوئی شکل نکال کر آئو۔ اتنی دیر میں جہانگیر کی فلائٹ کا ٹائم ہو جائے گا۔ لنچ کے علاوہ شام تک تم جہانگیر کو کمپنی دو گی۔ تمہیں معلوم ہے نا، وہ کتنے چُوزی ہیں۔ اور یہ تو تمہاری گڈلک ہے کہ وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔ اب مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑے، سمجھ گئیں تم؟‘‘ ان کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ عائشہ بخاری دُھواں دُھواں چہرے کے ساتھ بے حرکت کھڑی رہ گئی۔
’’یو وانٹ ٹو سے سم تھنگ؟ (تمہیں کچھ کہنا ہے) اُسے خاموش کھڑا دیکھ کر وہ تیزی سے بولیں۔
’’نو۔۔۔۔۔۔۔۔ ناٹ ایٹ آل میڈم!‘‘ وہ تیزی سے پلکیں جھپکتے ہوئے بولی۔
’’فائزہ کو اپنی سیٹ پر بٹھا جائو۔‘‘ وہ نارمل لہجے میں کہہ کر اپنے سامنے پڑی فائل کھولنے لگیں۔ عائشہ بخاری مُردہ قدموں کے ساتھ بیرونی دروازے کی طرف بڑھی۔
’’سنو!‘‘ وہ ابھی دروازے کے قریب پہنچی ہی تھی کہ انہوں نے اسی تحکم بھرے لہجے میں پکارا۔
of 200 
Go