Urdu Novels

Back | Home |  

محبت فاتح اعظم۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم

فضا میں بے نام سی اداسی تیر رہی تھی۔ یوں جیسے احساس کی شبنم سارے منظر کو دھندلا دے… ایک نہ محسوس ہونے والا دکھ دل کے تاروں کو چھیڑ کر روح تک میں ایک حشر سا برپا کر ڈالے… زندگی کی بے سرو سامانیاں بَین کرتی ہی چلی جائیں اور تقدیر کی کتاب لکھ کر بند کردینے والا بس مسکراتا ہی رہے۔
ربیعہ کی یہاں سے وہاں تک ویران اور بنجر زندگی بھی ایسی ہی کسی بے حسی کا شاخسانہ تھی۔ منظر بدلتے رہتے…کردار بدلتے رہتے مگر ایک دکھ، جو اب صدیوں پر محیط لگتا…اپنی جگہ ساکت تھا…یوں جیسے مسمرائز کردیا گیا ہو…غیر معینہ مدت کے لیے کسی طلسم کی تاثیر سے جامد کردیا گیا ہو…اسی دکھ کا احساس جب روزن مانگتا، وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی…روح سسکنے لگتی…تمنائیں بَین کرنے لگتیں مگر ظاہر داری کا بھرم زبان بندی کے احکامات صادر کرتا۔ اس کے اندر کی گھٹن بڑھ جاتی،سناٹے دور دور تک پھیل جاتے مگر لب، لب ساکت رہتے… اسی حکمِ زباں بندی کے سبب…ظاہر داری اور مجبوریوں کے غلاف کی تہیں اور دبیز ہوتی چلی جاتیںتو یہ اداسی ربیعہ کو قنوطیت عطا کرتی…ایسی قنوطیت جو اسے سارے عالم سے بیزار کرجاتی…ارد گرد بکھرے انسانوں کے ہجوم سے منہ پھیر لینے پر اکساتی …اور کبھی رب کو پکارنے، اس سے بہت شدت سے سکونِ دل طلب کرنے پر مجبور کر جاتی تو وہ یونہی چھت کی کھلی ٹھنڈی فضا میں آکر تادیر بے مقصد بیٹھی رہتی… تا حدِ نگاہ پھیلے آسمان کو تکتی یا پھر اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے ہی اُلجھ جاتی… اور کبھی کبھی رب سے شکوہ کرنے بیٹھ جاتی۔
’’یامالک! زیست کی تمام تر اُلجھنیں، سارے مصائب صرف میرے ہی لیے کیوں؟،،
یارب العالمین! تُو، تو کُل پر قادر ہے…کرشمے دکھاتا ہے، معجزے رُونما کرسکتا ہے تو اے پروردگار! صرف ایک کسی قبولیت کی مناجات کے طفیل، میری روح پر دھری ان مصائب کی سِلوں کو پگھلا دے، یااللہ میرے اندر بکھرتے ان دکھوں کی چادر کو مزید پھیلنے سے پہلے سمیٹ دے۔ الہ العالمین! تُو، تو دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے، واقف ہے میری اذیتوں سے…جو دل پر زخم ڈال چکی ہیں، روح تک کو چھید چکی ہیں، کسی ایک گھڑی کو پکڑ میں آجانے والی دعا کے طفیل ان زخموں کو بھر دے…زیست کی ان کٹھنائیوں سے درج میرا مقدر بدل دے۔ صبر کی قوت شکر کی طاقت کو اس کٹھن مسافرت کے لیے زادِ راہ بنا دے۔
محبت…محبت…محبت…
میری روح توجہ کے چند سکوں کی طلب گار ہے۔ محبت کی ایک گھڑی کی پیاسی ہے۔ میرا وجود چاہت کا تمنائی ہے… سو دل کے اس تپتے صحرا پر محبت کی چند بوندیں…
پروردگار! تجھ سے کچھ زیادہ تو طلب نہیں کیا میں نے… میری کل حیات فقط تیری ایک نگاہ کی محتاج ہے اور صرف اگر اس نگاہ کا حصول ہو جائے تو…میری بے تابیوں کو سکون میسر آ جائے…
زیست میں درج یہاں سے وہاں تک پھیلتی تنہائیوں کا تدارک ہوجائے، ہاں، اگر تُو چاہے تو…
تیری فقط ایک نظرِ کرم میری زندگی کو یہاں سے وہاں تک جھلملا سکتی ہے…بے رنگ لمحوں میں رنگ بھر سکتی ہے…
محبت کے سچے، پکے اور انمٹ رنگ…
کٹھن ہے زندگی کتنی
سفر دشوار کتنا ہے
کبھی پائوں نہیں چلتے
کبھی رستہ نہیں ملتا
ہمارا ساتھ دے پائے
کوئی ایسا نہیں ملتا
فقط ایسے گزاروں تو
یہ روز و شب نہیں کٹتے
یہ کٹتے تھے کبھی پہلے
مگر ہاں، اب نہیں کٹتے
مجھے پھر بھی میرے مالک
کوئی شکوہ نہیں تجھ سے
میں جاں پر کھیل سکتا ہوں
میں ہر دکھ جھیل سکتا ہوں


اگر تُو آج ہی کردے
محبت ہم سفر میری

…٭٭٭…

عمیر نے اپنے دائیں کاندھے پر ایک مضبوط ہاتھ کا لمس محسوس کیا تھا اور بے ساختہ ہی دور بین آنکھوں سے ہٹا لی۔
’’ارے جہاںزیب! تم کب آئے؟،، اس کی مسکراہٹ میں واضح کھسیاہٹ تھی اور جہاںزیب اندر تک اُتر کر دل کا چور پکڑ ڈالنے کا ماہر۔
’’عرصہ ہوا، تم ہر سال کیک کھاتے تو ہو۔،، جواباً اس کی گہری مسکراہٹ میں عمیر کے اندر تک کا احوال درج تھا۔’’اب تم کہو گے کہ موسم بہت اچھا ہے اور کراچی شہر کی رونقیں اس بالکونی سے بہتر تو کہیں اور نظر آ ہی نہیں سکتیں۔،،
جواب میں عمیر نے واضح قہقہہ لگایا تھا اور کسی حد تک اپنی شرمساری کو Release ہوتے محسوس کیا… جہاںزیب پلٹ کر بید کی کرسی پر بیٹھ گیا تو بے اختیار رہی اس نے تقلید کی تھی۔ یہ اور بات کہ تمنائیں دید کی تشنگی پر اندر ہی اندر شور مچاتی رہیں۔

جب سے تیرے خیال کا موسم ہوا ہے دوست
دنیا کی دھوپ چھائوں سے آگے نکل گئے!
مڑ مڑ کے اب بھی پیڑ صدائیں دیا کیے
اب کے بھی تیرے گائوں سے آگے نکل گئے

جہاںزیب سینٹر ٹیبل سے کتاب اُٹھا کر ورق گردانی کرتا ہوا شرارت سے پڑھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اور جواباً اس کے لبوں پر بھی گہری اور جاندار مسکراہٹ ابھر آئی۔
یہ محبت ہی کا تو اعجاز ہوا کرتا ہے کہ لب بات بے بات مسکراتے ہیں۔ سماعتیں ہر بات میں بس ایک ہی نام سننے کی خواہاں رہا کرتی ہیں۔ دھڑکنیں محبت کی تال پر رقص کرتی ہیں۔ آنکھیں دید کی آس لے کر کھلتی ہیں اور سیرابی کی صورت میں طمانیت سے بند ہوتی ہیں۔ بصورت دیگر ہجر رُت کا عذاب رَت جگے عطا کرتا ہے۔ تمنائیں گویا سولی پر لٹک جاتی ہیں۔
اس نے کبھی جہاںزیب کو محرم راز نہ بنایا تھا مگر اس کی ایکسٹرا آرڈنری صلاحیتوں کا تہہ دل سے معترف بھی تھا اور ایسے ہی لمحات میں مات کھا جاتا۔ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ جاتا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ عیاں ہو جاتا… یونہی… خود بخود… کسی آٹو میٹک سسٹم کے تحت گویا…مگر پھر بھی وہ کھل نہ پاتا، بات ذو معنی جملوں تک ہی محدود رہتی۔ وہ جواباً صرف مسکراتا ہی رہتا…اور جہاںزیب نے بھی کبھی اصرار نہ کیا۔ اب بھی اسے اس شرمساری کے حصار سے نکالنے کے لیے اندر کی جانب منہ کر کے ہانک لگائی۔
’’چمپانزی، چائے لے آئو۔،، وہ اصغر کو ہمیشہ یونہی پکارتا اور اصغر…جانے کہاں کہاں اور کس کس بات پر برا مناتا تھا۔ اس نے کبھی اظہار ہی نہیں کیا۔
’’جانے دو یار، اس کے امتحانات سر پر ہیں۔،، عمیر نے اس کا ٹریک چینج ہونے پر شکر بھرا سانس لے کر کہا۔
’’اوہو، تو کتابی کیڑا، آج کل کتابوں کی خاک چاٹ رہا ہے۔،، عمیر کے جواب پر اس نے سینٹر ٹیبل سے وصی شاہ کی ’’آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،، اُٹھا کر سپاٹ چہرے کے ساتھ یونہی اس کی ورق گردانی شروع کردی اور تشنہ سا ایک احساس اس کے اندر کلبلاتا رہ گیا۔

…٭٭٭…

فنا کا عمل کتنا جان لیوا ہوا کرتا ہے مگر کتنا سہل…ڈائنامائیٹ کا صرف ایک دھماکہ…شان سے ایستادہ سر بلند چوٹیوں کو زمین بوس کردیتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، شہر کے شہر اُجاڑ دیتا ہے، آندھی کا ایک ہی ریلہ کسی معصوم پرندے کے تنکا تنکا کر کے بنائے گئے ٹھکانے کو اُجاڑ دیتا ہے…مگر بقائ… آہ! بقاء کے لیے زندگی گزر جاتی ہے۔
ایک نسل کی پرورش ابنِ آدم کی کمر کو جھکا جاتی ہے۔ بالوں میں سفیدی بھر جاتی ہے۔
گھر کو بنانے اور آباد رکھنے میں کتنی کٹھنائیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔ تلخ و ترش رویے لہو کے گھونٹ کی مانند پینے پڑتے ہیں۔ محنت اور کڑی مشقت گویا تقدیر بن جاتی ہے اور صرف ایک لمحہ اگر کشتیء حیات کے ناخدا کے


ماتھے پر بل ڈال دے تو طوفانوں کی آمد کاسائرن بجنے لگتا ہے۔ ساری محنت، خدمت گزاریاں، درگزر کے اوصاف، صبرکی قوت ان طوفانوں کی نذر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ کشتی میں سوراخ ہی سوراخ محسوس ہونے لگتے ہیں… اور ربیعہ اسی لمحے سے ڈرتی تھی۔ کشتیء حیات کے ناخدا کے ماتھے پر اس کی تقدیر درج تھی جس کا موڈ پل پل بگڑتا۔ معمولی سے معمولی بات پر بھی…غصہ نہ ہونے والی بات پر بھی وہ غصہ کرتا…ادنیٰ سی کوتاہی پر بھی بھڑک اُٹھتا۔ تہذیب سے ناآشنا، شائستگی سے بے بہرہ جہاں محبت اور توصیف کا تقاضہ ہو، وہاں رویے کا کڑا پن مزاحم ہوتا…جہاں سراہنے کا مقام ہو وہاں خاموشی…اور بات جب محبت کی ادائیگی پر آکر ٹھہر جائے تو گہری جامد چپ…ایسی چپ جس میں کئی اسرار ہوتے… ایک واضح دھمکی…جو اسے پھر حکم زباں بندی پرمجبور کرجاتی۔ ایسی سرد مہری کہ اس کا وجود ٹھٹھرنے لگتا…اور وہی ملائم گرم سمجھوتے کی چادر اسے حرارت بخشتی وجود کو مسمرائز کر جاتی۔ وہ پلکیں تک جھپکانا بھول جاتی۔
مگر روحِ…روحِ کا ملال بڑھ جاتا، نظریں شکوہ کناں ہو اُٹھتیں…محبت کی عدم دستیابی پر تمنائیں کُرلاتی بَین کرتی پھرتیں … دل تڑپ اُٹھتا مگر وہ… تقدیر سارے جملہ حقوق جس کے نام کرچکی تھی، کروٹ بدل کر پڑ جاتا۔ زیادہ دیر نہ گزرتی کہ اس کے خراٹوں سے کمرہ گونجنے لگتا۔
ربیعہ کے سینے پر دھری صبر کی سِل اسے برف کر جاتی…اور رات سیاہ ناگن کی مانند اے ڈسنے لگتی…
ایسی کئی راتیں اس کی بارہ سالہ ازدواجی زندگی کی امین تھیں جن میں اس کے اندر کا دکھ قطرہ قطرہ پگھل کر آنکھوں سے آنسوئوں کی صورت رواں رہا۔ تمنائوں کی پامالی پر روح سسکتی رہی، آروزئیں بَین کرتی رہیں اور صائم گہری نیند سوتا رہا۔

…٭٭٭…

’’بڑے ابا آگئے۔،،
ایک سرسراتی ہوئی سی آواز اُبھری تھی جیسے کوئی تنبیہہ یا خطرے کا الارم یا جیسے کسی پُر خطر راستے پر رکھا ہوا کوئی بورڈ جس پر درج ہو ’’آگے خطرہ ہے،،
اکثر دروازے کے شدت کے ساتھ بجائے جانے پر سسر صاحب کی آمد کا اعلان ہوتا… مغرب کے بعد کا وقت تھا بچے کچھ ہی دیر پہلے کوچنگ سے لوٹے ہوں گے اور جانے کس نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہو گا۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اُترتی چلی گئی۔ لائونج میں پہنچتے ہی پہلی نگاہ سامنے دیوار پر اُٹھی جس پر آویزاں گھڑی رات کے آٹھ بجا رہی تھی۔ دائیں جانب زرینہ لمبی سی تسبیح تھامے مصلے پر مغرب کے بعد کا وظیفہ مکمل کررہی تھی۔ دائیں جانب اس کا اپنا کمرہ تھا جس میں ٹی وی کی آواز پست تر کردی گئی تھی۔ گھر کے سارے بچے اس وقت اسٹار پلس لگائے جانے کون سا ڈرامہ دیکھتے تھے۔ ان میں شازیہ بھی شامل ہوتی۔ اس کی محویت میں اگر اس کی اپنی بچی بھی خلل ڈالتی تو اسے ایک کرارا سا دو ہتھڑ نصیب ہوتا۔ اس کے سُر اونچے ہوتے تو پہلے سے تیار شدہ فیڈر اس کے منہ میں ٹھونس دیا جاتا۔ بڑے ابا کی نظروںسے بچنے کو وہی ایک گوشہ تھا جس میں بڑی پلاننگ کے بعد ٹی وی رکھ کر کیبل کی سہولت حاصل کی گئی تھی۔ سامنے کی جانب رستہ تھا۔ رستہ ختم ہوتا تو دائیں جانب کچن اور صحن کا رستہ عبور کر کے دو کمرے…بڑے ابا یقیناً اپنے کمرے میں عشاء سے قبل وضو کر کے مصلیٰ سنبھال چکے ہوں گے۔ دوسرے کمرے میں کلثوم سر پر پٹی باندھے ہائے وائے میں مصروف ہو گی۔ شوہر کی آمد کے دنوں میں اور اس کی واپسی کے بعد اس کی تمام تر نام نہاد بیماریاں شدت اختیار کر جاتیں۔ عجیب ناشکری عورت تھی۔ محبتوں کو برتنے کے ہنر سے واقف بھی ہوتی تو اس کا کمپلیکس اس کی راہ میں مزاحم رہتا…یہ اس کا اپنا اندازہ تھا مگر بے جوڑ رشتے جیسے اس گھر کی روایت تھے اور کم عمری کی شادی تمام نفوس کا گویا نصیب…کلثوم سرمد سے دس سال بڑی تھی۔ شادی کے وقت سرمد کی عمر صرف سترہ سال تھی جب اس کو شادی اور اس سے منسلک تقاضے اور ذمے داریاں نبھانے کی سمجھ آئی تو کلثوم کی تمنائیں سسک سسک کر دم توڑ چکی تھیں۔
 ہوتا ہے ناں ایک مقام جہاں آرزوئیں بے حسی کی چادر اوڑھ کر پڑ جاتی ہیں۔ کلثوم اسی مقام پر تھی اور وہ خود اس مقام تک پہنچنے سے ڈرتی تھی۔
بڑے ابا کو عشاء کی ادائیگی کے بعد فی الفور کھانا درکار ہوتا … دیگر بھی تقریباً فارغ ہی ہوتے اسی لیے وہ اس وقت سالن پکا کر مغرب کی ادائیگی کے لیے چھت پر گئی تھی۔
 وہ سرعت سے کچن میں گھس گئی۔ کتنا مکمل اور جامع منظر تھا … اپنی فطری چابکدستی سے جھٹاجھٹ روٹیاں اُتارتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی…وہ منظر جو اس کے بغیر بھی کبھی مکمل اور بھرپور رہا کرتا ہو گا اور خود اس کو یا اس کے وجود کو اس منظر کے کس خانے میں فٹ کیا جاسکتا ہے۔
 آزردگی سوا تر ہو گئی۔
اور اب بھی اس کے نہ ہونے سے کون سا فرق پڑ جانا تھا۔ سارے منظر یونہی رہنے تھے۔ سارے کام کاج بھی چلتے ہی رہتے…یا اگر کوئی کام اٹکتا تو کسی نہ کسی کو تو کھڑے ہو ہی جانا تھا۔ شاید کلثوم اپنی نام نہاد ناٹھی نگوڑی بیماریوں کو الوداع کہہ کر کم از کم اپنے بچوں کی پکار پر تو اُٹھے گی ہی جن کے ڈھیروں کام ربیعہ نے ازخود ہی اپنے ذمے لے رکھے تھے…شاید سسرال کی اس سلطنت پر اپنے قدم مضبوطی سے جمائے رکھنے کی خاطر … زرینہ کے وظائف مختصر ہو جاتے، امی بھی گھر جلد لوٹنے لگتیں…سب کچھ کتنا سہل سہل سا ہو جاتا نا…کتنا ہلکا پھلکا سا ہوکر رہ جاتا۔ وہ ماحول جو کبھی کبھی اس کی موجودگی کے سبب گمبھیرتا کا شکارہو جایا کرتا تھا…کبھی کبھی زاہدہ یا امی اس کے اچانک آجانے پر کیسی خاموشی سی ہو کر رہ جاتی تھیں اور وہ کچھ نہ سنتے ہوئے بھی جان جاتی کہ موضوع گفتگو کیا رہا ہو گا۔ یقیناً صائم کی دوسری شادی…امی کی روتی سسکتی خواہش جس کے لبوں پر آنے پر ہی صائم دہاڑنے لگتا…جلال میں آجاتا اور اپنی فطری بدزبانی پر قابو نہ رکھ پاتا۔ امی خاموش ہو کر رہ جاتیں۔ بعد ازاں وہ اس سے کہتا۔
’’میں یہ بھی کر گزروں مگر…ابھی میری منزل دور ہے۔،،

of 35 
Go