Urdu Novels

Back | Home |  

 

اور کچھ خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشنا کوثر سردار
 
’’محبت لکن مٹی ہے‘‘ اور میں تمہیں آس پاس دیکھتا ہوں۔ میں نے آسمان پر تاروں کو کئی بار ٹوٹتے دیکھا ہے۔ ڈوبتے ابھرتے دیکھا ہے۔ روشنیوں سے بھرے بہت سے تارے اور تمہاری آنکھیں‘ تمہاری آنکھیں تو ایسی ہی ہیں‘ آسمان کے وہ سارے تارے اپنی روشنی کو سنگ باندھے تمہاری آنکھوں میں کیسے آن بیٹھتے ہیں کیسے… کیسے کر لیتی ہو تم یہ سب؟‘‘ اس کا لہجہ جنوں خیزی لیے ہوئے تھا۔ نگاہوں میں ایک تپش تھی۔ اناہیتا کے پورے جسم کا خون جیسے ایک پل میں چہرے پر آن رکا تھا۔ وہ دم سادھے کھڑی تھی۔ پلک تک نہیں جھپک سکی تھی۔ اتنی گنگ تھی کہ سوجھا ہی نہیں تھا کہ کسی ردعمل کا اظہار کرے بھی تو کیسے…
اس نے ان لمحوں میں جیسے خواب بھر دیے تھے۔ سارا ماحول جادوئی کر دیا تھا۔ ایک طلسم سا وہ اپنے اردگرد بکھرا محسوس کر رہی تھی۔
’’تمہاری آنکھوں میں کہکشائیں بستی ہیں‘ تارے چمکتے ہیں‘ اَسرار بستے ہیں۔ خواب سانس لیتے ہیں۔ محبت دھڑکتی ہے‘ خواب بنتی ہے۔ میں نے سانس لیتے دیکھا ہے محبت کو تمہاری ان آنکھوں میں‘ سنا ہے ان دھڑکنوں میں محسوس کیا ہے ان سانسوں میں۔ میں تمہاری طرف دیکھوں یا نہیں۔ ان نظروں میں جھانکوں یا انجان رہوں مگر ان آنکھوں کے طلسم سے کبھی غافل نہیں رہ سکتا۔ تم انجان نہیں رہنے دیتیں مجھے۔ میرے گمان‘ دھیان سب سنگ باندھے رکھتی ہو۔ اتنا بے بس کیوں کر دیتی ہو…؟ میں آنکھیں بند بھی کرتا ہوں تو مجھے یہ روشنی سونے نہیں دیتی۔ دبے پائوں چلی آتی ہے۔ میری پلکوں پر دستک دینے‘ سوتے جاگتے میں تمہاری آنکھوں میں لکھی تحریروں کو پڑھتا رہتا ہوں اور محبت میرے اندر بولتی رہتی ہے۔ تمہارا احساس خاموشیوں کو زبان دیتا ہے۔ میں سنتا ہوں اور ان کہی کو بھی‘ محسوس کرتا ہوں جو کہیںر از بنا… دبے پائوں ان رگوں میں خون کے ساتھ بہتا راز سا بنا ہوا ہے۔ میں سنتا ہوں تمہاری چپ کو بھی اور اس چپ میں دبے ہزاربے مہار لفظ۔‘‘
اناہیتا کا وجود پتھر سا ہو گیا تھا۔ وہ ایک پتے کی طرح طوفان کی زد پر تھی۔ وجود ساکت وجامد سا تھا۔
دامیان شاہ سوری کی آنکھوں میں ایک مقناطیست تھی۔ وہ اسیر ہو رہی تھی۔ بے بسی کی حد تھی۔ ایک طلسم اسے اپنے سنگ باندھ گیا تھا۔ کوئی جادو سا تھا فضا میں… دامیان شاہ سوری نے اس کا ہاتھ بہت دھیرے سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیاتھا۔
’’یہ سچ ہے۔‘‘ وہ بہت دھیرے سے بولا تھا۔ ’’میں تمہاری آنکھوں میں لکھی آیتوں کو پڑھتا ہوں اور محبت میرے اندر اک ورد کرتی ہے۔ میں چاروں اطراف پھیلی آوازوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ باندھنے کے جتن کرتا ہوں اور محبت بولتی جاتی ہے۔ کتنے بے مہار لفظ تیرتے ہیں تمہاری آنکھوں میں۔ میں الجھتا جاتا ہوں۔ تم ایسا کیوں کرتی ہو‘ اتنا بے بس کیوں کر دیتی ہو…؟ میرے اندر ہرپل دھڑکتا ایک یقین… ہاں تم یقین ہو۔‘‘ دامیان شاہ سوری کی جنوں خیزی حد سے سوا تھی۔ اناہیتا کو اپنے دل کی آواز کان چیرتی محسوس ہوئی تھی۔
’’سوچتا ہوں کیا ہے یہ… محبت واقعی کوئی معجزہ ہے کیا؟‘‘ ایک مدہم سرگوشی فضا میں ابھری تھی۔
اناہیتا کو لگا تھا کہ اس کا وجود اس کے اور بھی قریب آ گیا ہو۔ وہ اس کی نظروں کی تپش کو اپنے چہرے پر صاف محسوس کر سکتی تھی۔
’’محبت معجزہ ہی ہے۔ اس ہونے اور نہ ہونے کے درمیان اس فاصلے کو‘ اس احساس کو مٹ جانے دو جو خواب سا ہے۔ اسے اب سچ ہو جانے دو۔‘‘ عجب اک جنوں خیزی تھی۔ وہ لمحہ عجب اسرار لیے ہوئے تھا۔ محبت واقعی جیسے ایک معجزہ تھی۔ کوئی کرشمہ سازی کرنے پر تلی تھی۔ اناہیتا نے محسوس کیا تھا۔ محبت جیسے اس لمحے واقعی اس خاموشی میں سانس لے رہی ہو‘ بول رہی ہو۔ وہ ان سرگوشیوں کو اپنے اندر کہیں سرایت کرتا محسوس کر رہی تھی۔ اسے لگا تھا۔ اس کے آگے کی کوئی دنیا ہے ہی نہیں۔
جو ہے سب جھوٹ ہے۔
اگر کچھ سچ ہے تو بس یہی ہے۔
کیسا یقین بول رہا تھا اس کے لہجے میں۔ وہ کیسے خوابوں کی دنیائوں میں گھر گئی تھی۔ کیسے جادو سے بندھ گئی تھی۔
’’محبت معجزہ ہی ہے۔‘‘ اس کی سرگوشی اس کے کانوں میں پڑی تھی۔ اک یقین بول رہا تھا اس کے لہجے میں۔
’’بھول جائو سب۔ مانو وہ جو دل کہتا ہے۔ سنو وہ جو محبت کہہ رہی ہے۔ ہماری محبت جاوداں ہے۔ سو بھول جائو سب‘ تمام خدشے جھوٹے ہیں‘ نظرانداز کر دو سب کچھ‘ اپنا ہاتھ تو میرے ہاتھ میں دو‘ میںضخوابوں کی اس سرزمین پر تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ چلو سب بھول کر محبت کے اس ایک نئے سفر پر چلیں انارکلی۔ یہی محبت کی تکمیل ہے اور ہماری ان مٹ سچائی انار کلی۔‘‘
دامیان شاہ سوری نے کہا تھا اور کرسٹل ہال روم تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔
اناہیتا جو اپنے گرد اس معجزاتی محبت کے حصار کو پورے طور پر محسوس کر رہی تھی جیسے اک خواب سے جاگی تھی۔ سر اٹھا کر دامیان شاہ سوری کو دیکھا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ پردہ جانے کب کا گر چکا تھا۔
وہ ایک پل میں اس کی گرفت سے باہر آئی تھی۔ جو کچھ بھی ہوا تھا سب ایک خواب کی سی کیفیت کا سا تھا مگر اب اس کا فطری اعتماد بحال ہو چکا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے چلتی ہوئی آگے بڑھنے لگی تھی تب ہی دامیان شاہ سوری بھاگتا ہوا اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا۔
’’تھینکس۔ بڑا خوب صورت ایکٹ 

 

’’ہاں تھا۔‘‘ وہ ایک رسمی سی مسکراہٹ لبوں پر لا کر بولی تھی۔
’’آپ کے ایکسپریشن کمال کے تھے۔‘‘
’’ایکسپریشن…؟ ہاہ آپ کو لگتا ہے کہ میں نے اس ڈمپ اسکرپٹ میں کوئی کمال کا کام کیا ہے؟ اس میں کرنے لائق تھا ہی کیا؟ مجھے تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس ایکٹ میں تھی بھی کیوں؟ یہ ڈھیر سارے منوں کے حساب سے بھاری بھرکم ڈائیلاگ  تو آپ ایک ڈمی یا پھر دیوار کے مقابل بھی بول سکتے تھے۔‘‘ وہ جل کر بولی۔ ’’میرا تو سرے سے موڈ ہی نہ تھا۔ اگر عمر ہاتھ جوڑ کے کہنے نہ آیا ہوتا تو میں یہ ایکٹ کبھی نہ کرتی۔‘‘ اندر کی ساری بھڑاس اس ایک پل میں نکال باہر کی تھی۔ وہ بجائے برا ماننے کے مسکرا دیا تھا۔
’’جو بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک لمحے کو آپ بھی سب کچھ بھول گئی تھیں ‘ ہوں؟‘‘ وہ بدستور شرارت پر مائل تھا۔ بجائے اپنی غلطی ماننے کے۔
وہ اسے فقط گھور کر رہ گئی تھی پھر بولی۔
’’اسے چیٹنگ کہتے ہیں غالباً۔ آپ نے حد کر دی۔ سارے کے سارے ڈئیلاگ اپنے حصے میں رکھے۔ کہنے کو میں انارکلی تھی مگر اس سے بہتر ہوتا آپ سچوئشن تبدیل کرتے اور یہ سب ایک دیوار سے مخاطب ہو کر کہتے اور جواز دیتے کہ انارکلی کے لیے وہ محبت جو دیوار کے پیچھے قید کر دیے جانے کے بعد امڈ امڈ کر باہر آئی۔‘‘
’’ہاہاہا۔‘‘ دامیان ہنستا چلا گیا تھا۔
’’تم لڑکیاں بھی نا۔ عجب ڈفر ہوتی ہو۔‘‘
’’ایکسکیوزمی۔ آپ ہم لڑکیوں کو برا نہیں کہہ سکتے۔ اپنی غلطی مانیے۔ آپ نے غلط کیا ہے۔‘‘
’’کیا غلط کیا ہے…؟ آپ کو پتہ ہے۔ میں نے آپ کا اسکرپٹ نہیں لکھا۔ میں نے عمر سے سب ڈسکس کیا تھا پھر طے ہوا کہ آپ کی لائنز عمر لکھے گا اور میری میں خود۔ اب عمر اگر آپ کے ڈئیلاگ لکھ ہی نہیں پایا تو اس میں قصور کس کا ہے؟ آپ خواہ مخواہ شک کر رہی ہیں انارکلی۔‘‘
’’ایکسکیوزمی۔ میرا نام اناہیتا بیگ ہے۔‘‘ اناہیتا نے یاد دلایا تھا۔
’’ہاں وہی اناہیتا۔ آپ بھول رہی ہیں کہ عمر کو بھول جانے کی عادت ہے اور میرا یقین کریں میں نے آپ کے اسکرپٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔‘‘ دامیان نے یقین دلانا چاہا تھا مگر وہ بنا سنے آگے بڑھ گئی تھی۔
’’اناہیتا! جو بھی ہوا سب بھول جائو۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم دونوں کا ہی نام اس ایکٹ سے جڑا ہے اور وہ لوگوں کو اچھا لگا ہے۔ اب اس میں آپ کے ڈئیلاگ تھے یا نہیں…‘‘ وہ پھر اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔
’’آپ ماننے کو تیار نہیں۔ آپ نے تاریخ کو مسخ کیا ہے جو بھی اسکرپٹ تھا میں اس سے ایگری نہیں۔ خلوتوں میں جب انارکلی اور سلیم ملتے ہوں گے تب کیا باتیں ہوتی ہوں گی… یہ نہ آپ جانتے ہیں اور نہ ہی میں… ہسٹری کی جو شکل آپ نے دکھائی جو بھی اظہار کیا میں اسے ماننے سے انکار کرتی ہوں۔‘‘ وہ قطعی پن سے بولی تھی۔ دامیان شاہ سوری مسکرا دیا تھا۔
’’یہی بات میں بھی کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ خلوتوں میں کیا باتیں ہوتی ہوںگی یہ نہ آپ جانتی ہیں نہ ہم۔‘‘ کہہ کر وہ ایک ہی لمحے میں آگے بڑھ گیا تھا۔
اناہیتا بیگ نے دیکھا تھا۔ وہ کئی لوگوں کے حصار میں تھا مگر للّی ان سے کہیں بہت قریب تھی اور وہ مسرور دکھائی دے رہا تھا۔
’’ویل ڈن اناہیتا۔‘‘ پارسا کب چلتی ہوئی اس کے قریب آن رکی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ وہ چونکی تھی اور مسکرا دی تھی۔
’’تھینکس پارسا! مجھے نہیں لگتا میں نے ایسا کوئی معرکہ مارا ہے۔‘‘
’’شاید مگر مجھے یہ ڈرامہ اچھا لگا مگر حیرت ہوئی دامیان نے تمہیں اس میں کیوں لیا… للّی کو یہ کرنا تھا۔‘‘ پارسا بولی تھی اور وہ مسکرا دی تھی۔
’’لگا تو مجھے بھی ایسا ہی تھا مگر للیّ کا لہجہ تو تم جانتی ہی ہو۔ ایک نمبر کا ڈرامہ ہے۔ اس روز رہرسل میں جو ہوا تھا اسے دیکھ کر جو قہقہے ابھرے تھے ان کی آواز لائبریری تک آئی تھی اور پھر عمر دوڑا ہوا میرے پاس آگیا تھا کہ یہ ایکٹ للّی نہیں تم کروگی۔‘‘ دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگی تھیں۔ پارسا مسکرا دی تھی۔
’’اینی ہائو سب اچھا گیا۔ مانو نہ مانو ہسٹری اپنے اندر سچ میں کوئی بھید رکھتی ہے اور جادو بھی۔ سچ پوچھو تو مجھے بے چاری انارکلی پر بہت ترس آتا ہے۔ محبت کی سزا اتنی بھیانک نہیں ہو سکتی۔‘‘
’’ہوں نہیں ہونی چاہئے تھی مگر ہم اس زمانے میں تھے نہیں‘ سو جو بھی ہوا ہم اس کے لیے خود کو الزام نہیں دے سکتے۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا۔ محبت کہیں تھی بھی کہ نہیں میں نہیں جانتی۔‘‘
’’محبت کے بارے میں تو میں بھی کچھ زیادہ نہیں جانتی اناہیتا مگر مجھے پہلی بار لگا کہ للّی اور دامیان شاہ سوری کا پیئر کتنا مِس میچ ہے۔‘‘ وہ مسکرائی تھی۔
’’مِس میچ…؟‘‘ اناہیتا بیگ چونکی تھی۔ ’’اوہ اوکے وہ خوب صورت ہے پارسا اور میں نہیں ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی تھی۔
’’جانتی ہوں وہ ہاف انگلش ہے مانتی ہوں وہ خوب صورت ہے لیکن تم بہت خاص ہو۔‘‘ پارسا مسکرائی تھی۔
’’ایکسکیوزمی۔ میرا للّی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ تم اس ریس میں مجھے کیوں شامل کر رہی ہو؟ اوہ صرف اس لیے کہ میں اس دامیان شاہ سوری کے ساتھ۔‘‘ وہ اپنے کمپیئر کیے جانے

 

چپ ہو گئی تھی۔
پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے پارسا چوہدری کی طرف دیکھا تھا۔
’’چلو تمہیں ڈراپ کر دوں۔‘‘
’’نہیں ہاسٹل قریب ہی ہے۔‘‘
’’بیٹھو۔‘‘ اناہیتا نے کہا تو وہ فرنٹ ڈور کھول کر چپ چاپ بیٹھ گئی۔
…٭٭٭…
اناہیتا ملک لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی۔ ذہن اتنا مصروف تھا کہ ممی کے اندر آنے اور دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھنے کی بھی خبر نہیں ہوئی۔
’’اور کیا کام باقی ہے۔ کچھ ہوش ہے وقت کا؟ تم نے ڈھنگ سے ڈنر تک نہیں کیا تھا۔‘‘ رافینہ نے بیٹی کو ڈپٹا تھا۔
’’بس ممی! اور تھوڑی دیر۔ نانا کے پیسوں کی انوسٹمنٹ لگی ہے۔ خود ہر کام کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اب ہر کام دوسروں پر ڈال دوں گی تو چل گیا کام۔‘‘ اناہیتا ماں کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی۔
’’چلو پہلے یہ دودھ پی لو پھر دیکھ لینا سب۔‘‘ رافینہ نے پیار سے سر پر ہاتھ دھرا تھا۔ ’’دیکھو یہ اتنا سا منہ نکل آیا ہے۔ خدا خدا کر کے پڑھائی ختم ہوئی تھی۔ پڑھ تُو رہی تھی اور جان میری سولی پر اٹکی تھی۔ رات رات بھر جاگنا۔ کتابوں سے الجھے رہنا۔ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا۔ ادھر ایگزام ختم ہوئے اور ادھر تو نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول لیا۔‘‘ ممی ڈانٹتی ہوئی بولی تھیں اور وہ مسکرا دی تھی۔
’’ممی! آپ کی بیٹی کامیابی کی سیڑھیوں پر قدم رکھ رہی ہے۔ بس کام کام اور کام۔ مسٹر جناح کے کہے گئے پر عمل کر کے مجھے بہت سے معرکے سر کرنا ہیں۔ ابھی تو یہ بس ابتدا ہے۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔ آپ کی بیٹی میں اتنی قابلیت ہے۔‘‘ اناہیتا مسکرا دی تھی۔
’’ہاں وہ تو ہے مگر اس سب کی کیا ضرورت ہے۔ نانا بھی بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ ڈھیروں کے حساب سے کیپٹل انوسٹ کر ڈالا۔ نواسی پر اتنا بھروسہ ہے مگر بیٹا زندگی اس سے بھی سوا ہے۔ کچھ اور خواب بھی ہیں۔‘‘
’’خوابوں کی کہانی نہ ختم ہونے والی ہے ممی اور میں حقیقت پر اعتبار کرتی ہوں۔ آپ کی بیٹی کوئی بے وقوف سی خوابوں میں رہنے والی لڑکی نہیں ہے۔ ابھی بہت سے کام کرنا باقی ہیں۔ ایک بڑا سا گھر لینا ہے۔ اس گھر کا نام ہوگا رافیہ پیلس۔ یہ محل سا بڑا گھر اور بہت سے نوکر چاکر۔ یہ ادھر… ادھر آپ کے ایک حکم کے غلام‘ ہاتھ باندھے کھڑے ملازم۔ کتنا مزہ آئے گا نا۔ آپ ایک اشارہ کریں گی اور یہ کام چٹکیوں میں ہو جائے گا۔‘‘ اناہیتا ملک سوچ کر ہی مسرور ہوئی تھی۔
رافیہ مسکرا دی تھیں۔
’’ہاں اچھا لگے گا مگر اس سے بھی زیادہ تب اچھا لگے گا جب تو اپنے گھر کی ہو جائے گی۔ کچھ خواب میری ان آنکھوں میں بھی ہیں۔ ان کا کیا ہوگا…‘‘
’’ممی! ہر بات کے لیے ایک وقت ہوتا ہے اور ابھی ان باتوں کا وقت نہیں آیا۔ جب آئے گا تب آپ کو مجھ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی مگر فی الحال مجھے کام کرنا ہے۔ آپ کو پتہ ہے اس ایک مہینے میں پوری دس شادیوں کے ارینج منٹس کے آرڈر ملے ہیں۔ دس آرڈرز یعنی بہت سا پیسہ۔ کتنا مزہ آئے گا نا جب ہم اپنا گھر واپس لیں گے۔‘‘ وہ روانی میں کہتی ہوئی ایک دم چپ ہوئی تھی۔ سر اٹھا کر ممی کی طرف دیکھا تھا پھر بات بدلتے ہوئے بولی تھی۔
’’آپ نے کھانا ٹھیک سے کھایا تھا؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’اور میڈیسن؟‘‘
’’ہاں وہ بھی۔‘‘
’’نانا سو گئے؟‘‘
’’ہاں۔ اب تم بھی سو جائو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’سوتی ہوں ممی! کچھ ای میلز چیک کر رہی ہوں۔ آپ سو جائیں۔ چلیں میں آپ کو کمرے تک چھوڑ آئوں۔‘‘ اناہیتا ملک اٹھی تھی۔
’’نہیں تم دودھ پیئو اور اب سو جائو۔ میں چلی جائوں گی۔‘‘ رافینہ ملک کہہ کر پلٹی تھیں اور چلتی ہوئی باہر نکل گئی تھیں۔
انائیا دوبارہ بیٹھ کر ای میلز کے جواب دینے لگی تھی۔
…٭٭٭…
دامیان شاہ سوری‘ یلماز کمال اور للی کے ساتھ کھڑا تھا۔ تینوں کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ اناہیتا بیگ نے محسوس کیا تھا کہ پارسا کی نگاہیں وہیں کہیں ٹکی تھیں۔
of 184 
Go