Urdu Novels

Back | Home |  

پتھروں کہ بلکوں پر۔۔۔۔۔۔۔نازیہ کنول نازی

اے مالک کون ومکاں
اے خالق ہردوسرا!
مستجابی کی ہزاروں ادھ کھلی کلیوں سے بھردے 
کاسہ دست دعا 
اے مالک کون ومکاں!
موسم خاصا ابرآلود ہو رہا تھا۔
طویل سفر طے کرنے کے باعث اس کی کمر درد سے اکڑ گئی تھی۔
گائوں کے کچے پکے راستوں پر چلتا تانگہ ہچکولے لیتا بڑی سست روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ جبکہ انزلہ بڑی حسرت سے اردگرد کے بدلے ہوئے مناظر پر نگاہیں جمائے ان میں پندرہ سال پہلے کا عکس تلاشنے کی کوشش کررہی تھی۔
آج سے ٹھیک پندرہ سال پہلے جب اس نے ٹھیک سے شعور کی سیڑھی پرقدم بھی نہیں رکھاتھا تب زندگی کتنی خوبصورت تھی۔
صبح صبح ناشتے سے پہلے داداجی اس کی ننھی سی انگلی تھام کراسے اپنے ساتھ سرسبز کھیتوں کی سیرکروایا کرتے تھے۔
ا س وقت صبح صبح دادا جی کے ساتھ ہرے بھرے کھیتوں کی سیر کرتے ہوئے صبح کی ٹھنڈی ہوا کو اپنے چہرے پرمحسوس کرنااور کچی سبزیاں توڑ کر بغیر دھوئے کترکتر کھانا اسے کتنامزہ دیا کرتاتھا۔
اردگرد دکھائی دیتے سرسبز کھیتوں او رشیشم کے بلند درختوں پرنگاہ ڈالتے ہوئے بے ساختہ نگاہوں میں وہ سہانی شامیں دھندلائی یاد کا لبادہ اوڑھ کردرآئی تھیں کہ جب وہ گائوں کے دوسرے بچوں کے ساتھ مونگ پھلی‘ چلغو زے اور ریوڑیاں کھاتے ہوئے بی اماں کے گھر ٹی وی دیکھنے جایا کرتی تھی۔ بی اماں کتناپیار کرتی تھیں اس سے۔
بے اولاد ہونے کے باعث گائوں کے تمام بچوں سے ان کاپیار مثالی تھا۔
اسے کبھی کبھی یاد آتا تھا… جب اماں بی دوپٹے کے پلو سے اس کے لئے کوئی اسپیشل چیز نکال کر اس کے حوالے کرتی تھیں تو اکثر ان کا بھتیجا سنی‘ اچانک کہیں سے ٹپک پڑتاتھااور پھردیکھتے ہی دیکھتے وہ انزلہ کے ہاتھ سے اماں بی کی دی ہوئی چیز چھین کرکھاجاتاتھااور وہ منہ بسور کر اسے دیکھتی رہ جاتی۔
اکثر اس کی مما اسے نہلا دھلا کر نئے صاف ستھرے کپڑے پہناتیں تو حویلی سے باہر نکلنے پر سختی سے پابندی عائد کردیتیں مگروہ کسی نہ کسی طرح انہیں چکردے کر باہر نکل جاتی اور جھٹ اماں بی کے پاس پہنچ جاتی۔
انزلہ ان سے اپنے گھر کی کوئی بات نہیں چھپاتی تھی۔
اس کے داداجی گائوں کے پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے‘ ان کی اچھی عادات اور نیک طبیعت کی وجہ سے ہی گائوں کے تمام لوگ ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔ پورے گائوں میں لوگ ان کی سادگی‘ محبت اور مساوات کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جس وقت اس نے شعور سنبھالا اس وقت حویلی بہت آباد تھی۔
اس کے بابا کا شمار گائوں کے حسین ترین مردوں میں کیا جاتاتھا۔ وہ پڑھنے لکھنے کے بے حد مشتاق تھے‘ خود اس کے داداجی بھی اپنے اکلوتے بیٹے کو اس کی خواہش کے عین مطابق اعلیٰ تعلیم دلوانے کے حق میں تھے‘ لہٰذا جب ساتھ والے گائوں سے میٹرک شاندار نمبروں کے ساتھ کلیئر کرنے کے بعد وہ شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گئے تو گائوں کے چوہدری کامنہ بن گیا۔
روائتی چوہدریوں کی مانند‘ ان کے گائوں کے حکمران بھی اپنے علاقے کے لوگوں کی جاہلیت کے قائل تھے۔ پڑھ لکھ کر کوئی ان کے سامنے سر اٹھائے یااپنے حق کے لئے آواز بلند کرے یہ انہیں کسی طور گوارہ نہیں تھا۔ لہٰذا معمولی معمولی باتوں کے بہانے چوہدری اوراس کے بیٹے اس کے داداجی کے ساتھ جھگڑا کرنے لگے۔ اس کے بابادانیال احمد کی تعلیم مکمل ہونے تک وہ صبروبرداشت کابے مثال نمونہ بنے‘ چوہدری اوراس کے بیٹوں کی زیادتی برداشت کرتے رہے‘ مگر جونہی اس کے بابا دانیال احمد اپنا ایم اے انگلش مکمل کرکے گائوں واپس لوٹے‘ وہ چوہدری اوراس کے بیٹوں کے بے جامظالم کو چپ چاپ برداشت نہ کرسکے اور کئی بار ان سے جھگڑ بیٹھے۔
بعدازاں داداجی نے ان کا ذہن بٹانے اور ان کی توجہ چوہدریوں کی طرف سے ہٹانے کے لئے ان کی شادی انہی کی پسند پرشہر میں کنیز بیگم سے کردی جو یونیورسٹی میں ان کی کلاس فیلو رہ چکی تھیں۔
کنیز بیگم ایک اچھی بہو ثابت نہیں ہوسکی تھیں کیونکہ وہ ہرصورت شہر میں ر ہنے کی خواہش مند تھیں‘ مگر دانیال صاحب نے انہیں گائوں میں بسنے پرمجبور کردیاتھا۔اپنے ساس‘سسر کے ساتھ ان کا رویہ خاصا افسوس ناک ہوتاتھا‘ تاہم دادی ماں اور داداجی دونوں ہی اپنی بردباری سے کام لے کر ان کی بدتمیزی کونظر انداز کرجایا کرتے تھے۔
انزلہ ابھی چھ سال کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کے پیارے بابا‘پانی کے معمولی سے جھگڑے پرچوہدریوں کے ہاتھوں بلآخر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ اس کی مماغم سے پچھاڑیں کھارہی تھیں‘ دادی کوہوش ہی نہیں آرہاتھا۔ جبکہ داداجی یوں گم صم ہو کررہ گئے تھے گویاان کے وجود میں جان ہی نہ رہی ہو۔

 

حویلی کا واحد چراغ بجھ چکاتھا۔
پورا گائوں داداجی کے دکھ میں ان کے ساتھ برابر کا شریک تھا۔ مگر اس کے باوجود کسی میں چوہدری کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں تھی۔
حویلی میں عجیب سی سوگواری بکھرکررہ گئی تھی۔
وہ خودسہمی سہمی سی نگاہوں سے کبھی اپنی روتی بلکتی ماں کو دیکھتی تو کبھی دادا جی اور دادی ماں پر پل کے پل میں عجیب سی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
بابا کی رحلت کے بعد داداجی نے ریٹائرمنٹ لے لی‘ جبکہ اس کی شہری ماں ان کے پہلے سے گھائل دل پر مزید زخم لگاتے ہوئے اپنی عدت پوری کرتے ہی اسے ساتھ لے کر شہر چلی آئی۔
جس روز وہ اپنی ماں کے ساتھ گائوں سے شہر آرہی تھی اس روز اس نے پھر اپنے داداجی اور دادی ماں کو روتے دیکھا تھا۔ اپنے بابا کی رحلت کے بعد وہ یوں بھی گم صام ہوگئی تھی۔ اسے اپنی ماں کے ساتھ شہر آنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا مگر وہ مجبور تھی۔
داداجی شہر میں ہفتے دو ہفتے کے بعد اس سے ملنے کو آتے تو گائوں سے اس کے لئے ڈھیروں چیزیں لاتے‘ وہ انہیں سامنے دیکھتے ہی بے طرح خوش ہوجاتی تھی۔ پہلے پہل شہر میں بالکل اس کا دل نہیں لگا تھا‘تاہم بعد میں جب وہ اسکول میں داخل ہوگئی اور اس کی کئی سہیلیاں بن گئیں تو اس نے گائوں سے دور ہونے کے غم میں ملول رہنا چھوڑ دیا۔
کچھ عرصے کے بعد اس کی مما کی دوسری شادی ہوگئی تو وہ نانا نانی کی ضرورت بن کررہ گئی‘ اکثر چھٹیوں میں وہ گائوں آکر اپنی دادی ماں اور داداجی سے بھی مل جایا کرتی تھی۔
جن دنوں اس نے یونیورسٹی جوائن کی تھی انہی دنوں اس کے داداجی اپنی بیماری سے ہارمان کر زندگی کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ یوں ایک مرتبہ پھر اس کے اندر اداسی کابسیرا ہواتھا۔
داداجی کی رحلت کے بعد وہ گائوں جاکر مستقل اپنی دادی ماں کے ساتھ رہنا چاہتی تھی مگر پھر اس کی مجبوریاں آڑے آگئیں اور وہ چاہنے کے باوجود گائوں نہ آسکی۔
انہی دنوں یونیورسٹی میں سانول شاہ نامی شخص سے اس کا ٹکرائو ہواتھا۔ بظاہر خاموش مگر ہرلمحہ کچھ نہ کچھ کہتی نگاہوں کامالک وہ شخص نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی سوچ میں در آیا تھا۔
یونیورسٹی میں ان کا گروپ صرف تین افراد پر مشتمل تھا۔ وہ‘زاویہ اور میران شاہ‘ جو اس کے داداجی کا لائق فائق اسٹوڈنٹ تھا۔ تینوں مل کر پڑھائی بھی کرتے تھے اور ہنسی مذاق بھی۔ زاویہ‘ میران شاہ پرمرتی تھی‘ مگر وہ اس میں دلچسپی لیتاتھا۔
انزلہ اکثر اسے سانول شاہ کا جڑواں بھائی کہہ کر چھیڑا کرتی تھی۔ کیونکہ دونوں کے ناموںمیں گہری مشابہت تھی۔
تاہم سانول شاہ‘میران شاہ سے دلی عناد رکھتاتھا اوراس کی وجہ انزلہ کو بخوبی معلوم تھی۔ یونیورسٹی سے ابھی وہ فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اچانک سانول شاہ منظر سے غائب ہوگیا۔
کچھ ہی عرصے کے بعد وہ اور میرا ن بھی جدا ہوگئے کیونکہ تعلیم سے فراغت پاتے ہی اسے ایمرجنسی میں اپنی مما کنیز بیگم کے پاس پیرس جاناپڑگیاتھا۔ کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد وہ اپنے نانا کی وفات پر ان کے ساتھ واپس پاکستان آئی تھی تو دوبارہ پیرس ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا کیونکہ وہاں کے اداس نظاروں میں اسے اپنے لئے کہیں سکون محسوس نہیں ہوتاتھا۔ کنیز بیگم اس کی ضد پر اسے وہیں چھوڑ کر خود اپنے بیٹے اور شوہر کے ساتھ پیرس واپس چلی گئیں‘جبکہ وہ دو تین دن بمشکل اپنے ننھیال میں سوگواری کی نذر کرنے کے بعد آج چوتھے دن گائوں کے لئے روانہ ہوگئی تھی۔
کتنا بہت ساوقت چپ چاپ بیت گیاتھا۔
٭٭٭
’’سنو… تمہیں اعتر اف ہے ناں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔‘‘
وہ جائے نماز سمیٹ کر ابھی ارسلان حیدر کے کمرے میں داخل ہی ہو ئی تھی جب اس نے پوچھا۔
جواب میں وہ دوپٹہ کھول کر اچھی طرح سر پر جماتے ہوئے بولی۔
’’ہاں… میں نے کبھی اپنے اس اعتراف سے انکار نہیں کیا۔‘‘
’’اچھا…کیا کرسکتی ہو تم میرے لئے؟‘‘
اگلے ہی لمحے وہ کھڑکی سے ہٹ کر اس کے مقابل آیا تھا۔
’’جو تم کہو‘ چاہے تو جان لے لو‘ اف بھی نہیں کروں گی۔‘‘
امامہ حسن کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی‘تاہم ارسلان حیدر نے اس کی طرف سے رخ پھیرا تھا۔
’’مجھے تمہاری جان نہیں چاہئے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تمہیں جوچاہئے وہی بتادو۔‘‘
اس کے بستر کی چادر درست کرتے ہوئے وہ پھر مسکرائی تھی۔ جب وہ اس کاہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولا۔
’’میں جانتا ہوں تم بہت اچھی ہو‘ یقینا جتنا پیار تم مجھ سے کرتی ہو‘ دنیا میں کو ئی او رلڑکی کسی اور لڑکے سے کبھی نہ کرسکتی ہو‘ مگر پھر بھی میں تمہیں بہت بڑی آزمائش میں ڈال رہا ہوں۔ بولو…اس آزمائش 

 

میں میرا ساتھ دوگی؟‘‘
امامہ کانازک ساہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں تھا اور وہ الجھی ہوئی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’آزمائش… کیسی آزمائش…؟‘‘
’’ہے ایک آزمائش… جس میں مجھے تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘
پچھلے ایک ہفتے سے وہ اسے ازحد متفکر دکھائی دے رہاتھا‘ دو ایک بار اس نے وجہ بھی پوچھی تھی‘ مگر وہ ٹال گیا تھا۔
امامہ حسن کو اس کا یہ الجھا ہوا انداز پر یشان کررہاتھا‘ تبھی وہ اس سے پوچھ بیٹھی تھی۔
’’پلیز ارسلان‘ صاف صاف بتائو ناں‘ تمہیں کیا مسئلہ درپیش ہے۔‘‘
ارسلان حیدر اس کے سوال پر‘قدرے مضطرب ہوتے ہوئے پھر سے کھڑکی میں جاکھڑا ہواتھا۔
’’ایک ایس پی ہے شجاع حسن‘ اسے اپنے بیٹے کی بہتر پرورش کے لئے ایک پڑھی لکھی گورنس کی ضرورت ہے۔‘‘
’’تو…؟‘‘
’’تویہ کہ تم وہاں اس کے گھر جاکر کچھ عرصے کے لئے یہ جاب کروگی۔‘‘
’’وہاٹ‘ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔‘‘
وہ حیرت سے اچھل ہی تو پڑی تھی‘ جب وہ پلٹ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولا۔
’‘’ہاں… ابھی تم نے مجھ سے اقرار کیا ہے کہ تم میرے لئے کچھ بھی کرسکتی ہو‘ پلیز امامہ… اگر تم چاہتی ہو کہ میری زندگی باقی رہے تو پلیز تم یہ جاب کرلو‘ پلیز۔‘‘
’’لیکن کیوں…؟ اس جاب کا تمہاری زندگی سے کیا تعلق؟‘‘
وہ اب بھی حیرانی کے حصار سے باہر نہیں نکلی تھی۔
’’تعلق ہے امامہ… اس ایس پی کے پاس ایک ایسی فائل ہے‘ جو تمہارے ارسلان کی جان پر بناسکتی ہے‘ ٹھہرو میں تمہیں سب کچھ صاف صاف بتاتا ہوں۔‘‘
ایک مرتبہ پھر اس کے مقابل آتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ابھی یونیورسٹی سے فارغ ہی ہواتھا‘ یونیورسٹی میں ہمارے ساتھ ایک لڑکی پڑھتی تھی عائزہ‘ جتنی خوبصورت تھی‘ اتنی ہی نک چڑھی‘ مغرور بھی تھی‘ میرے دوست باسم نے اسے اپنی ضدبنالیاتھا‘ مگر وہ لڑکی کسی بھی طرح سے اس کے چکر میں نہیں آئی‘ نتیجتاً باسم نے یونیورسٹی سے فری ہونے کے بعد ایک روز اسے اچانک کڈنیپ کروالیا‘ میری بدقسمتی کہ ودستی کے لحاظ میں‘ اپنے دیگر فرینڈز کے ساتھ ساتھ‘ میں نے بھی اس شرمناک اقدام میں باسم کا ساتھ دیا اور لڑکی کو اپنے ڈیرے پرقید کردیا۔ باسم نے پتہ نہیں اس بیچاری کے ساتھ کیا کیا‘ کہ اس کی ڈیتھ ہوگئی یہ غالباً دوسال پہلے کی بات ہے‘ اس وقت کوئی پرچہ وغیرہ ہوا تھا ہم لوگوں کے خلاف‘ مگر باسم کے منسٹر باپ نے کیس دبادیااور ہم لوگ آزاد ہوگئے‘ اب جبکہ اس کے ڈیڈ‘ حکومت سے الگ ہوگئے ہیں تو ایس پی شجاع حسن نے اس کیس کو دوبارہ کھول لیا ہے۔ سنا ہے اس لڑکی کا بھائی‘ شجاع کا کوئی قریبی دوست ہے‘ بہرحال ایس پی شجاع ہم چاروں دوستوں کے خلاف کیس مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تم تو جانتی ہو امامہ‘ اس وقت ریپ کی سزا سیدھی سزائے موت ہے‘ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کیس میں ایس پی شجاع نے باسم وغیرہ کے ساتھ میرا نام بھی ہٹ لسٹ پر درج کر رکھا ہے جو ثبوت اس نے ہمارے خلاف اکٹھے کئے ہیں وہ فائل ہم دو مرتبہ اس کے آفس سے اڑانے کی کوشش کرچکے ہیں‘ مگر وہ بہت ہوشیار ہے‘ دو مرتبہ ہمیں ناکامی سے ہمکنار کرنے کے بعد‘ اب وہ فائل اس نے گھر میں لے جاکررکھ دی ہے۔اس کیس پر آج کل وہ گھر میں رہ کرہی کام کررہا ہے‘ امامہ… میں جانتا ہوں تم اصول پرست لڑکی ہو تم کبھی کسی ظالم کا ساتھ نہیں دے سکتیں‘ مگر… میں تو بے قصور ہوں ناں‘ میں تو صرف تمہارا ہوں امامہ فضول میں سزا کی بھینٹ چڑھ رہاہوں‘ سو پلیز صرف میرے لئے‘ تم کسی بھی طرح سے وہ فائل اس ایس پی کے گھر سے اڑاکر لے آئو‘ پھر میں تم سے پرامس کرتا ہوں جان‘ جواصل گنہگارہیں انہیں میں خود ان کے کئے کی سزا دلوائوں گا‘پلیز امامہ…مما کو اس بات کا پتہ نہ چلے‘پلیز۔‘‘
اس کے ہاتھ تھام کر کسی بچے کی مانند منت کرتا وہ کتنا معصوم لگ رہاتھا۔
امامہ اس کی زبانی‘ عجب وعجیب داستان سن کر‘ بالکل ساکت کھڑی تھی۔
کیا عجیب شخص تھا وہ جو اسے مشکل میں ڈال کر اپنی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتاتھا۔
اچھی طرح سوچ لوڈیئر‘ مگر اتنا ضرور یاد رکھنا کہ اگر وہ ایس پی اپنی کوششوں میں کامیاب ہوگیا تو پھر ذلت کی موت قبول کرنے کی بجائے میں خود اپنے ہاتھوں سے مرجانا زیادہ پسند کروں گا۔‘‘ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ کمرے میں ٹھہرا نہیں تھا‘ جبکہ امامہ کا دل جیسے کسی خشک پتے کی مانند کانپ کررہ گیا۔
کتنی بڑی بات کہہ گیاتھا وہ شخص کہ جس کے کانٹا بھی چبھنا وہ گوارہ نہیں کرسکتی تھی۔
of 161 
Go