Urdu Novels

Back | Home |  

 

فہرست
چراغِ آخرِ شب
ٹویٹ، ٹویٹ، ٹویٹ
شکست کی آرزو
روشن جگنو اور جل پریاں
جو عمر سے ہم نے بھر پایا
اشتباہِ خرد و نظر
حسابِ زیانِ جان
چراغ آخرِ شب
’’وُڈ یُو لائیک ٹُو میٹ می مسز گردیزی؟‘‘
اس نامانوس آواز نے لالہ رخ کو اچانک چونکا دیا۔ گردن موڑ کر اس نے مخاطب کرنے والے کو دیکھا۔ وہ ایک ناشناسا چہرہ تھا۔
’’میں معظم محمود ہوں۔ نیوز ٹوڈے کا ایک رپورٹر۔ میں پولیٹیکل اسٹوریز پر رپورٹس بناتا ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’میں نے آپ کی رپورٹس پڑھی ہیں۔ گو میں خبریں اور رپورٹس پڑھتے ہوئے مخبر کا نام پڑھنے کو کچھ اتنی اہمیت نہیں دیا کرتی۔‘‘ جواب میں اس نے ایسے مواقع کے مطابق خود پر جبری مسکراہٹ طاری کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا کرتی ہیں۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔ ’’ایسے حالات میں تو میں خاصا خوش نصیب ہوں کہ آپ نے میری رپورٹس کے علاوہ میرا نام بھی دیکھ رکھا ہے۔‘‘
لالہ رخ نے محسوس کیا کہ وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ اسے اس کی نظریں اپنے چہرے پر برمے کی طرح گڑی ہوئی محسوس ہوئیں۔
’’میں مسٹر اسد گردیزی کے آنے والے الیکشنز میں حصہ لینے پر آپ کے کمنٹس سننے کا خواہش مند تھا۔ گو مخصوص حالات اور روایتی پس منظر کی موجودگی میں مسٹر گردیزی کا یہ اعلان کچھ غیر متوقع بھی نہیں۔ مگر کہئے، آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘
’’ابھی یہ صرف ایک اعلان ہے۔ وقت آئے گا، جب دیکھیں گے۔‘‘
اچانک لالہ رخ کو خود اپنی ہتھیلیوں پر پسینہ آتا محسوس ہونے لگا۔
’’آپ روایتی انداز میں ٹال رہی ہیں۔‘‘ وہ مسلسل مسکراتے ہوئے بولا۔
’’گو میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ وقت گزر جانے کے بعد کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اور آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ وقت آنے والا نہیں، آ چکا ہے۔‘‘
یہ بات معمولی نہیں تھی اور اس بات نے لالہ رخ کو بری طرح چونکا دیا۔ اس نے ذہن کو مزید حاضر کیا اور اپنے مخاطب کو دیکھنا چاہا مگر وہ اپنی بات کہہ کر محفل کے ہجوم میں کہیں گم ہو چکا تھا۔ اس نے روشنیوں، رنگوں، قہقہوں کے اس ہجوم میں اسے تلاش کرنے کے لئے نظر اِدھر اُدھر دوڑائی مگر ناکام رہی۔ پھر اُس کی نظر سامنے کھڑے اسد گردیزی پر پڑی۔
 

 


 

قیمتی گرے ڈنر سوٹ میں ملبوس، ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالے، دوسرے میں ایپری کاٹ وائن کا بلوریں جام تھامے وہ بے حد خوشگوار موڈ میں کسی خاتون کے ساتھ مصروفِ گفتگو تھا۔ اس نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے جام پر ڈالی، دوسری نظر اس کی مخاطب کے برہنہ شانوں پر۔
اور وہ اُس کا جاگیردارانہ پس منظر، وہ مخدوم زادہ سیّد اسد گیلانی کی روحانی حیثیت، علاقے کے لوگ اس کو موجودہ دنیا کی پاک ترین مخلوق سمجھتے تھے۔ قابلِ عزت، بلکہ بعض اوقات سجدئہ تکریمی کے قابل بھی۔ وہ جس کے خاندان کی عورتوں کا سایہ تک بھی کسی نے نہ دیکھا تھا۔
’اوہ میرے خدا!‘ لالہ رخ نے گھبرا کر سوچا۔ ’اتنا بڑا پیراڈوکس۔‘ یہ وہ کس دنیا میں پھنس گئی تھی۔
’’ارے مسز گردیزی! آپ۔‘‘ پھر ملک شہباز ٹوانہ نے اسے مخاطب کیا۔ ’’میں آپ کو بہت دنوں کے بعد کسی تقریب میں دیکھ رہا ہوں۔ خیریت تو ہے؟‘‘
’’بالکل خیریت ہے۔ میں ملتان گئی ہوئی تھی، اسی لئے کئی فنکشنز میں شریک نہ ہو سکی۔‘‘
’’ملتان جانے والے بہت ہیں۔ آپ تو بس یہاں رہا کیجئے۔ ہمارے دوست کو آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ شہباز ٹوانہ بے مقصد قہقہہ لگاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
یہ بات اس تقریب میں آئے بہت سے لوگوں نے اس سے پوچھی تھی۔ وہ اسد گردیزی کی اس وقت تک آخری بیوی تھی اور لوگوں کے خیال میں خاصی پریزیڈنٹ ایبل بھی تھی۔ اسد گردیزی نے اس سے شادی بھی صرف اسی لئے کی تھی کہ بدلتے حالات میں اسے ایک پڑھی لکھی، ماڈرن، خوب صورت، ویل ڈریسڈ اور ویل مینرڈ ساتھی کی ضرورت تھی۔ اب وہ اس پوزیشن میں تھا، جہاں دوستیوں اور دوستوں سے کام نہیں چلتا تھا۔ اسے ایک لیگل بیوی کی ضرورت تھی اور اسی خیال کے تحت وہ اسے لندن سے بیاہ کر لایا تھا، تاکہ اس کے لئے اس کے سوشل سرکل میں اپنے حُسن، علم اور ٹیلنٹ کی بِنا پر کامیابی سے موو کر سکے۔ بدلتے وقت کے تقاضوں کے تحت وہ اپنی نکاح شدہ بیوی کو سرکل میں لانے پر بھی مجبور ہو گیا تھا۔ ورنہ اس کے ہاں کی عورتیں تو سورج کی روشنی بھی شاذ ہی دیکھا کرتی تھیں۔
لالہ رخ کو معلوم تھا کہ لوگ اسد گردیزی اور اس کی شادی کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کرتے تھے۔ چہ میگوئیاں، اندازے، قیاس آرائیاں۔ مگر حقیقت کون جانتا تھا، صرف اس کا دل۔ مگر اسی روز تقریب سے واپسی کے بعد لالہ رخ کو محسوس ہوا کہ کوئی دوسرا شخص بھی اس کا شریکِ راز تھا۔
’کون؟‘ اس نے خود سے بارہا سوال کیا۔
یقینا وہ ہی، جو اس کو وقت کے آ جانے کی خبر دے رہا تھا۔ لالہ رخ کو اس کی چمکتی آنکھیں اور مسکراتا چہرہ یاد آیا۔ تیقّن سے بھرپور لہجہ۔
’’آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ وقت آنے والا نہیں ہے، آ چکا ہے۔‘‘
’’میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔‘‘
’وہ کون ہے اور کیوں محسوس کرتا ہے کہ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے؟‘ وہ اس رات دیر تک سوچتی رہی۔
’مگر میرے پاس کہنے کے لئے کیا ہے؟‘ پھر اُس نے تجزیہ کرنا چاہا۔
’میری ذاتی ناکامیاں، دل کو چھلنی کرتے ہوئے ذاتی دکھ، اُمیدوں اور توقعات کی غیر طبعی اموات، آسمان سے زمین پر آ گرنے کے تجربات۔‘ اُس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔
نائٹ بلب کی روشنی میں اس نے بیڈ کے عین سامنے والی دیوار پر لگا گولڈن فریم میں جڑا اسد کا پورٹریٹ دیکھا۔ اونچا، لمبا، وجیہہ، شاندار مرد۔ جسے پہلی مرتبہ دیکھتے ہی وہ

 

اپنے دل کی چور بن بیٹھی تھی۔
اُسے وہ دن بارہا یاد آتا تھا، جب پہلی مرتبہ اسد گردیزی، رضا بھائی کے ساتھ اس کے گھر آیا تھا۔ ان دنوں وہ سائوتھ ایشین اسٹڈیز سینٹر کی طالب علم تھی اور اپنے فیلڈ آف اسٹڈیز میں بے انتہا دلچسپی رکھتی تھی۔
وہ ایک کہر آلود شام تھی، جب رضا بھائی آکسفورڈ کالج کے ایک پاکستانی اسٹوڈنٹ اور اپنے اچھے دوست اسد گردیزی کو وِیک اینڈ پر گھر لائے تھے۔ اُس نے اور گل رُخ نے پُرتپاک طریقے سے اسد گردیزی کا استقبال کیا تھا۔
ممی فوراً ہی ایک شاندار ڈنر کی تیاری میں مصروف ہو گئی تھیں اور ڈیڈی، اسد گردیزی سے اپنے پاکستان کے بارے میں مصروفِ گفتگو ہو گئے تھے۔
رات تک لالہ رخ کو اپنی ذاتی دلچسپی کی بِنا پر اسد گردیزی کے متعلق بہت سی اہم باتیں ازبر ہو چکی تھیں۔
وہ مخدوم زادہ سیّد اسد گردیزی تھا۔ اس کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک اہم شہر ملتان کے انتہائی اہم جاگیردار گھرانے سے تھا۔ اس کے والد مخدوم سجاد علی گردیزی سجادہ نشین اپنے علاقے کے لوگوں میں انتہائی قابل عزت گردانے جاتے تھے اور روحانی پیشوا بھی تھے۔ وہ خود اعلیٰ تعلیم کا خاطر خواہ شوق رکھتا تھا اور آکسفورڈ کالج سے سائنس اور لٹریچر میں آرنرز کر رہا تھا۔
اور اُسی رات لالہ رخ نے سوچا کہ اس شخص کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جو دوسرے لوگوں سے مختلف تھی۔ یقینا اس کی پوری شخصیت ہی منفرد اور دوسروں سے ممتاز تھی۔ وہ خوش شکل، پُروقار اور بارعب شخصیت کا مالک تھا۔ اس کا علم وسیع تھا اور گفتگو شائستہ۔ اس پر مستزاد اس کا پُرکشش بیک گرائونڈ تھا۔ لالہ کو جنوبی پنجاب کے جاگیردارانہ اور سجادہ نشین پس منظر میں بے انتہا فسوں نظر آیا۔ ایک وہ شخص جو غالباً جہالت، توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی زنجیریں توڑنے کی خواہش کر سکتا تھا، اس کا خاندان قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک ملکی سیاست کا ایک اہم حصہ گردانا جاتا تھا۔ آنے والے کل میں بہت ممکن تھا کہ یہ شخص بھی اپنے علاقے کے لوگوں کی بہتری کے لئے کام کرتا۔
ہاں یہ ممکن تھا۔ اس نے بہت سے مفروضے خود سے گھڑ لئے۔ لندن میں مقیم پاکستانی شخص کی بیٹی ہونے کے علاوہ براہِ راست پاکستان سے اس کا دوسرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر اس نے وہاں کی کہانیاں سن رکھی تھیں، تصویریں دیکھ رکھی تھیں اور اپنی اسٹڈیز کے دوران ’’پاکستان، سائوتھ ایشیا کا ایک اہم حصہ‘‘ کے عنوان سے ایک پیپر لکھنے کا ارادہ بھی رکھتی تھی۔ اس نے اپنے فطری اشتیاق اور دلچسپی سے مغلوب ہو کر اسد گردیزی سے گفتگو کا سلسلہ بڑھایا۔
’’مجھے ’’مشرق‘‘ میں گہری دلچسپی ہے۔ ایک خاص اسرار ہے اس میں۔ بڑا فسوں ہے مشرق کی کہانیوں میں۔ مجھے بے حد افسوس ہے کہ ڈیڈی کے پاکستانی ہونے کے باوجود نہ تو میں نے ابھی تک پاکستان دیکھا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہوں۔‘‘
اس نے ایک بار پھر اسد سے کہا اور محسوس کیا کہ وہ کافی دلچسپی سے اس کی بات سن رہا تھا اور اس کے چہرے پر ایسا تاثر تھا، جیسے کسی بڑے کے چہرے پر کسی بچے کی پُرشوق باتیں سن کر ہوتا ہے۔
’’تو کیوں نہیں دیکھتیں آپ؟ کبھی پاکستان آیئے نا۔‘‘ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’مگر کیسے؟‘‘ اسے معلوم تھا کہ اس کی بات سن کر اس کی اپنی آنکھوں کی چمک غائب ہو گئی تھی۔‘‘ 
’’بہت مہنگا ہے پاکستان جانا۔ میں افورڈ نہیں کر سکتی۔‘‘
 
of 93 
Go