Urdu Novels

Back | Home |  

 

شہر دل……شمع حفیظ
’’اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
منال نے بے اختیار ہو کر دونوں ہاتھ لبوں پر رکھے اور اس ممکنہ چیخ کو روکنے کی پوری کوشش کی، جو حلق سے نکل کر ایک زوردار گونج کے ساتھ گھر کی چہاردیواری میں پھیلنے والی تھی۔ بدحواسی کے عالم میں وہ دو دو سیڑھیاں پھلانگتی ارما کے کمرے میں جا گھسی۔ دل ہوا کی رفتار کا ساتھ دے رہا تھا اور آنکھیں حیرت کی شدت سے ابھی تک پھٹی پڑی تھیں۔ ڈرائنگ روم کے نرم گدے دار صوفے پر اس نے جس شخصیت کو براجمان دیکھا تھا، وہ اس کی تو کیا، ارما کی سانس بھی کھینچ لینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہی وہ ہوا تھا جو منال کے ہوش و حواس ایک ثانیے میں لے اُڑا تھا۔ اس نے کمرے میں آتے ہی جیسے دُہائی دی تھی۔
’’ہائے ارما! وہ آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گا، میری بہن! اب تمہاری خیر نہیں ہے۔ وہ عرفان بھائی کے ساتھ نیچے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہے۔‘‘
اس کی ایک سانس میں دی جانے والی اطلاع، ارما کا رنگ سفید کر گئی۔ وارڈروب سے نکالا جانے والا کلف شدہ ڈریس زمین پر آ گرا اور وہ گھبرا کر پلٹتے ہوئے تیزی سے بولی۔ ’’اللہ خیر! کون آ گیا ہے، منال؟۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کس کی بات کر رہی ہو؟‘‘
’’ارے وہی تمہارا عاشق نامدار۔ خدا کی قسم وہی ہے۔ اس کی جھلک دیکھتے ہی میں نے اسے پہچان لیا تھا۔ وہی سوٹڈ بوٹڈ انداز، ایک دم فریش اور گریس فل لُک کے ساتھ۔ میں جھوٹ نہیں بول رہی، ارما! عرفان بھائی اسے سامنے بٹھائے ایک ٹک گھور رہے تھے اور وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بولے جا رہا تھا۔ اُف، مسلسل بول رہا تھا۔ مجھے لگتا ہے یار! اب تمہارا پول کھل جائے گا۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو سوچ لو، تم کون سی موت مرنا چاہو گی؟ میرا مطلب ہے، آنے والے حالات کے بارے میں ابھی سے غور کر لو، ورنہ تمہیں پل بھر کا ٹائم نہیں ملے گا۔ اس بار کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔‘‘
’’منال! پلیز۔ بند کرو اپنی بکواس۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا جانے، کیا اول فول بول رہی ہو تم۔ وہ بھلا کیسے آ سکتا ہے؟ اسے انگلینڈ گئے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یقینا تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔‘‘
ارما نے سینے میں بھاگتی دوڑتی بے ربط دھڑکن کو لگام دینے کی کوشش کرتے ہوئے اسے جھٹلانے کی سعی کی تو منال لپک کر اس کے پاس آ گئی۔
’’وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ وہی ہے ارما! وہی شامیر ذکاء الدین۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا تصویر میں نظر آتا ہے، اس سے کہیں زیادہ گُڈ لکنگ۔۔۔۔۔۔۔۔ بال برابر فرق نہیں ہے۔ کمپیوٹر اسکرین پر جگمگاتی اپنی تصویر کی طرح بے حد ڈیٹنگ۔ میں بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گئی۔ ہائے، اب کیا ہو گا؟ ابو جان گھر سے نکال دیں گے ہم دونوں کو۔ دائم کی وجہ سے میں پہلے ہی امی ابو کے زیرعتاب رہ چکی ہوں۔ بہت کڑی سزا ملی ہے مجھے اس یکطرفہ محبت کی۔ اب اگر انہیں تمہارے کارناموں کی بھنک پڑ گئی تو سوچو ارما! بے عزتی کا آخری تصور کیا ہو سکتا ہے۔ بس، کچھ ایسی ہی شامت آنے والی ہے ہم دونوں کی۔ امی تو کچا چبا جائیں گی۔ ایک نہ آدھ، دونوں بیٹیاں گُل کھلائے بیٹھی ہیں۔ اور گُل بھی وہ، جو ست رنگا ہے۔ کسی پھلجھڑی کے جیسا، جس پر نگاہ نہ جم سکے۔ جلے تو انگارے دُور تک گریں۔‘‘
’’اوفوہ، منال! تم چپ کرتی ہو یا نہیں؟ دماغ خراب ہو گیا ہے، جو ایسی بے سروپا باتیں کئے چلے جا رہی ہو۔ بس ایک لفظ اور مت کہنا۔‘‘
ارما نے اتھل پتھل ہوتے دل کے ساتھ اسے ڈانٹا۔ مگر وہ بے حال تھی۔ آنے والے لمحوں کا ہولناک تصور منال کے رونگٹے کھڑے کر گیا تھا۔
’’یہ بے سروپا باتیں نہیں ہیں، میری بہن! بلکہ وہ پیشین گوئیاں ہیں، جو کسی لمحے سچ کا رُوپ دھار سکتی ہیں۔ خدا کی قسم، عرفان بھائی! کان لگا کر اُس کی بکواس سن رہے تھے۔ مجھے لگتا ہے، آج اپنا دل ہلکا کر کے ہی جائے گا وہ یہاں سے۔‘‘
’’نہیں منال! تم مجھے ڈرانے کی کوشش مت کرو۔ وہ یہ نہیں کر سکتا۔ محبت کرتا ہے وہ مجھ سے۔‘‘ ارما نے جیسے خود کلامی کی۔ مگر منال کے وجود میں زلزلے جاگ اُٹھے۔
’’تو کیا یہ کم ہے ارما! کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ محبت کرتا ہے تم سے۔ اگر یہ بات ابو یا امی کے کانوں تک جا پہنچی تو تمہاری عزت کا کیا ہو گا؟ سوچو، تم ان سے کیسے نظر ملا پائو گی؟ کچھ کہہ سکو گی اپنی صفائی میں؟‘‘
’’مجھے کسی صفائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، منال! ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ شامیر اتنی اوچھی حرکت نہیں کر سکتا۔ محبت میں عزت ہی اہم ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے نظرانداز کر گیا تو پھر اسے کسی دعویداری کا حق حاصل نہیں۔‘‘
’’ارے بھاڑ میں گئی اُس کی دعوے داری۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الحال اتنا سوچو، اس کا سامنا کیسے کرنا ہے؟ دیکھ لیا، ابھی کسی بھی دم عرفان بھائی کی اسرافیلی صدا تمہیں نیچے جانے پر مجبور کر دے گی۔‘‘
اور وہی ہوا۔ ادھر منال کا جملہ پورا ہوا اور اُدھر عرفان بھائی کی تیز آواز سچ مچ کسی گونج کی صورت اُبھری تھی۔
’’ارما! پلیز نیچے آئو۔‘‘
’’اوہ میرے اللہ!۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گا؟‘‘ منال کا رونا اسٹارٹ ہو چکا تھا۔ اور یہ کڑی صورتِ حال، ارما جیسی سمجھ دار لڑکی کے لئے بھی قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں تھی۔ وہ اپنی جگہ سانس روکے کسی سنگی مجسّمے کی صورت بے حس و حرکت کھڑی تھی۔ اس نازک وقت میں شامیر سے زیادہ اپنے بھائی کا سامنا کرنا اس کے لئے انتہائی دُشوار تھا۔ وہ کس منہ سے ان کے پاس جاتی۔
’’ارے منال! کہاں ہو تم؟ کبھی تو پہلی آواز پر بھائی کی بات سننے آ جایا کرو۔‘‘ امی کی جھنجلائی آواز نے خوف کو مزید ہوا دی تھی۔ وہ دونوں دہل کر ایک دوسرے کی صورت تکنے لگیں۔ اب قیامت تو آ 

 

ہی گئی تھی۔
’’کیا کریں منال؟‘‘ ارما نے سہم کر چھوٹی بہن کو دیکھا۔
’’مجھے کیا پتہ۔ جو کرنا ہے، سو کرو۔ شامیر سے میل ملاقات کرتے وقت تم نے آج کے دن کے بارے میں سوچا تھا؟ نہیں نا۔ تو پھر میں کیا کروں، یہ تو ہونا ہی تھا۔ لڑکیوں کی عزت بہت معنی رکھتی ہے، ارما! اور یہ بات مجھ سے بہتر بھلا کون جان سکتا ہے؟ دائم کے معاملے میں ہزار بار اسی عزت کی حفاظت کا لیکچر سن چکی ہوں بلکہ ناک بھی کٹوا چکی ہوں۔ بقول عرفان بھائی، سو بے غیرت مریں تو ایک منال پیدا ہو۔ اب اس قسم کے تبصرے کو سن کر کون اپنی عزت کا ترانہ گائے گا؟ مگر تم۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بہت اچھی ہو، ارما! گھر میں سب تمہیں سمجھ دار اور حساس لڑکی سمجھتے ہیں، اس لئے آج تمہیں اپنی نام نہاد عزت کو نیلام ہونے سے بچانا ہے۔ جائو اور عرفان بھائی کے پے درپے سوالات کا جواب دو۔ اور وہ جو تم سے پاک محبت کا دعویٰ کرتا ہے، یقینا اس نے اب تک تمہاری پُراثر چاہت کی داستان خوب نمک مرچ لگا کر بھائی کے گوش گزار کر دی ہو گی۔ سو جواب دہی کا کاغذ بھی تم ہی کو بھگتنا ہو گا۔‘‘
منال نے جیسے خود کو اس کے معاملے سے بالکل الگ کر لیا۔ اب وہ دوپٹے سے اپنی بھیگی آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ اس کے بدلتے تیور دیکھ کر ارما کی سٹی گم ہو گئی، ہڑبڑا کر بولی۔
’’مطلب کیا ہے تمہارا؟ کیا سارا قصور میرا ہے؟ ارے تم بھی برابر کی شریک ہو اس پریم کہانی میں۔ یہاں تمہارا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شامیر سے ملنے کے لئے فیصلہ میرا ضرور تھا۔ مگر ہر بار تم نے مجھے فورس کیا ہے منال! تمہارے اصرار پر ہی میں نے اسے خود سے قریب کیا تھا، ورنہ دائم سے تمہاری محبت کی دیوانگی دیکھ کر میرا دماغ خراب نہیں تھا کہ میں محبت کے اس راستے پر قدم رکھتی۔ میں اتنی بہادر نہیں ہوں کہ اتنی دیدہ دلیری سے شامیر کی محبت کا یہ معاملہ ڈیل کر سکتی۔ تم نے ہر بار جسٹ فار انجوائے منٹ کہہ کر مجھے پش کیا ہے۔ اب اس طرح ہاتھ جھاڑکر میں تمہیں پرے نہیں ہونے دوں گی۔ شامیر کے معاملے میں تم بھی برابر کی مجرم ہو۔‘‘
’’ڈونٹ بی اسمارٹ، ارما!۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے الزام دینے سے تمہارا بھلا ہرگز نہیں ہو گا۔ پانی سر سے گزر چکا ہے، اب تمہیں ڈوبنا پڑے گا۔ ابو جان کی عزت تمہاری محبت سے بہتر فوقیت رکھتی ہے۔ تم نے اپنے طور پر راستہ بدلنے کی کوشش ضرور کی، مگر شامیر تمہاری بے وفائی سہہ نہیں پایا ہے۔ اب وہی بے وفائی تمہیں گھر کے ہر فرد کے سامنے لا کر کھڑا کر دے گی۔ تمہیں سب کے ذومعنی اور چبھتے سوالوں کے جواب بھی دینے پڑیں گے، ارما! میں نے کبھی تمہارا ساتھ دینے کی کوشش نہیں کی، یہ تم اچھی طرح جانتی ہو، میری بہن! میں نے تمہیں وارن کیا تھا کہ یہ وقت کبھی بھی آ سکتا ہے، مگر تم۔۔۔۔۔۔‘‘
منال نے بہ غور اس کی طرف دیکھا۔
’’تم شامیر کی جذباتی باتوں اور سحر انگیز شخصیت پر دل ہارے بیٹھی تھیں، اس کی پُرگداز محبت سے دامنِ دل بھر چکی تھیں۔ شامیر کی محبت کے سامنے ہم سب کی چاہت تمہارے لئے پھیکی پڑ گئی تھی نا، سو اب بھگتو۔ میں تمہارا ساتھ بھلا کہاں تک دے سکتی ہوں؟ ویسے بھی شامیر صرف تم سے واقفیت رکھتا ہے۔ وہ یہ تک نہیں جانتا کہ میں تمہای چھوٹی بہن ہوں۔ وہ مجھے تمہاری دوست مانتا ہے، ایک بے تکلف اور پرانی دوست۔ سو مجھے اس کا سامنا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں منال! وہ اچھی طرح جانتا ہے، تم میری بہن ہو۔ میں نے اسے یہ حقیقت بتا دی تھی۔‘‘ ارما کا لہجہ شکست خوردہ تھا۔
منال کا دل دھک سے رہ گیا۔ چونک کر بولی۔ ’’یہ کیا کہہ رہی ہو، ارما؟ تم نے اس لڑکے کو یہ بھی بتا دیا کہ میں تمہاری۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ارما نے بات کاٹ ڈالی۔ ’’وہ میری غلطی تھی۔ لیکن اب وہ ہو چکی ہے، سو تمہیں میرا ساتھ دینا ہو گا۔‘‘
’’کک۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب؟‘‘ منال کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ ’’میں تمہارا کیا ساتھ دوں؟‘‘
’’تم میرے ساتھ نیچے چلو گی۔ میں وہاں اکیلی نہیں جائوں گی۔ شامیر کو فیس کرنے کے لئے مجھے تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔ چھ ماہ کا ٹوٹا تعلق اتنی آسانی سے نہیں جڑ سکتا۔ اب جانے وہ کیسا ری ایکٹ کرے۔ میں سب کے سامنے بے ہوش ہونا نہیں چاہتی، سو چلی آئو۔‘‘
ارما نے ہٹ دھرمی دکھائی تو منال گم صم سی ہو کر اس کی صورت تکنے لگی۔ وہ جواب دینا چاہتی تھی، مگر عرفان بھائی کی بلند آواز نے ایک بار پھر انہیں ڈرائنگ روم میں آنے کا سندیسہ دیا تھا۔ اب اس صدا پر لبیک کہنا دونوں کی مجبوری تھی، ورنہ امی کو ان کے کمرے میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔
٭…٭…٭
کس نے کھیل کھیلا ہے، کس نے ہجر جھیلا ہے
اب گزر گیا جاناں، اس سوال کا موسم
جھکی نظروں کے باوجود اس کی مضطرب اور پُراشتیاق نگاہ، ارما کو اپنے چہرے پر منڈلاتی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سر نیہوڑائے چپ چاپ بیٹھی تھی، لیکن دل کی دھڑکن منہ زوری کے ریکارڈ توڑ رہی تھی۔ جب کہ منال کا وجود سکون کے احساس میں ڈھل چکا تھا۔ یہ بات کیا کم تسکین آمیز تھی کہ عرفان بھائی اور امی کے سامنے شامیر ان دونوں سے کسی اجنبی کے طور پر ملا تھا اور بڑے رکھ رکھائو کا مظاہرہ بھی کر رہا تھا۔
 

 

امی، شامیر کی والدہ سے مسلسل محو گفتگو تھیں، جو خاصی ماڈرن اور آزاد خیال خاتون تھیں، جن کی گفتگو بے حد سادہ اور برجستہ تھی۔ اپنے لب و لہجے سے وہ بے حد نرم دل اور شگفتہ مزاج معلوم ہو رہی تھیں۔ کمرے کے دائیں جانب پڑے کائوچ پر براجمان تھیں اور منال کو اپنی بدحواسی میں نظر نہیں آئی تھیں۔ اگر وہ انہیں پہلے دیکھ لیتی تو ارماکے پاس آ کر اتنی آپادھاپی کا مظاہرہ نہ کرتی اور نہ ہی شامیر کے آنے کی اس بری طرح سے اطلاع دیتی۔
’’بھئی یہ بہت خاموش ہیں۔ کیا یونہی گم صم سی رہتی ہیں؟‘‘
شامیر کی والدہ نے بات کرتے اچانک ارما کی طرف اشارہ کیا تو سب کی توجہ فوری طور پر اس کی جانب پلٹ گئی۔ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئی۔ سینے میں دھڑکتا دل مزید دھک دھک کرنے لگا تھا۔
’’ارے کہاں۔‘‘ امی نے ہنس کر جیسے ان کی بات رد کی تھی۔ ’’ارما بہت شریر ہے، باتیں کرنے پر آئے تو سب کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پر ذرا دیر سے کھلتی ہے۔ اتنی جلدی بے تکلف نہیں ہوتی کسی سے۔‘‘
’’یہ اچھی بات ہے۔ دیر سے کھلنے والے دراصل محتاط ہوتے ہیں۔ وہ بندے کو پرکھتے ہیں، تب ہی اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ کیوں ارما! کیا میرا اندازہ درست ہے؟‘‘ آنٹی نے شوخی سے اسے چھیڑا تو وہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔ لیکن جواب شامیر نے دے ڈالا۔ اس کی آنکھوں کی ذومعنی چمک منال نے بھی محسوس کی تھی، وہ ارما کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’ماما! آپ کا اندازہ درست ہے۔ مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے، خاموش اور گم صم رہنے والے لوگ اپنے آپ سے جنگ کر رہے ہوں۔‘‘
’’جنگ؟‘‘ ماما نے تعجب سے شامیر کو دیکھا۔ ’’کیسی جنگ بیٹا؟‘‘
عرفان بھائی اور امی بھی اس کی صورت تکنے لگے، جو اب ہنس رہا تھا۔ ادھر ارما کا دل اُچھل کر حلق میں آ گیا، اس کا رنگ واضح طور پر فق ہوا تھا۔ شامیر کے لفظوں میں چھپا طنز، روح کے اندر تک پیوست ہوا تھا۔ وہ جو کہہ رہا تھا، ارما کو بخوبی سمجھ میں آ رہا تھا۔ ماما کی حیرت دیکھ کر اس نے جواباً ایک اور شوشا چھوڑنے کی کوشش کی۔
’’یہ تو ارما ہی بتا سکتی ہیں کہ وہ کس جنگ سے نبرد آزما ہیں۔ ماما! کہیں ایسا تو نہیں، ان کی خاموشی ناگواری کے سبب ہو۔ بہت ممکن ہے، انہیں ہمارا آنا پسند نہ آیا ہو۔‘‘
’’ارے نہیں۔۔۔۔ نہیں تو۔ بھلا مجھے پسند کیوں نہیں آئے گا؟ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ ان کی آمد سے مجھے ناگواری کیوں ہونے لگی؟‘‘ اس نے بوکھلا کر وضاحت کی تو شامیر کی مسکراہٹ میں رنگ بھرنے لگے۔
’’رئیلی؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم آپ کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں؟‘‘
’’جی۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ اس کے کاٹ دار جملے دل کا خون کئے جا رہے تھے۔ منال کی بے چینی بھی بڑھ گئی تھی۔ اسے شامیر زہر لگ رہا تھا۔
’’منال!‘‘ امی نے فوراً اسے آواز دے ڈالی۔ ’’جائو، مہمانوں کے لئے چائے لے کر آئو۔ اتنی دیر سے باتوں میں لگی بیٹھی ہوں اور خاطر تواضع یاد تک نہیں آئی۔‘‘ انہوں نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنے کے لئے کہا تھا۔ منال فوراً ہی اُٹھ گئی اور اُس کا اُٹھنا، شامیر کو چونکا گیا تھا۔
’’آپ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ منال ہیں نا؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ سر ہلا کر اقرار کر گئی کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔
’’اوہ!۔۔۔۔۔۔۔۔ ارما بہت تعریف کرتی ہیں آپ کی۔ میں آپ سے ملنے کا خواہش مند تھا۔‘‘ اس کی بات کمرے میں جیسے دھماکا کر گئی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
عرفان بھائی کی حیرت ان کے سوال پر بھی نمایاں تھی۔ امی بھی چونک کر شامیر کو گھورنے لگیں۔ جب کہ ارما کا دل اپنی رفتار کھونے لگا۔ شا میر کا انکشاف بے حد ڈرامائی رنگ لئے ہوئے تھا۔
’’آپ ارما کو جانتے ہیں، شا میر؟‘‘ عرفان نے دوبارہ سوال کیا تھا۔ ان کی بے قراری، ارما کو اندر تک سہما گئی۔
’’جی۔۔۔۔۔۔۔ ان سے اکثر ملاقات رہتی ہے۔ شی اِز رئیلی اے نائس فیلو۔ خاصے کھرے جواب دیتی ہیں، مخاطب کو۔‘‘
’’کھرے جواب۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ عرفان نے سٹ پٹا کر ارما کو دیکھا۔ شامیر سے کہاں ملی تھیں، ارما؟
’’مم۔۔۔۔۔۔۔۔ میں، بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ارما کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ بوکھلاہٹ کے مارے کچھ کہنے کی کوشش میں کچھ بھی نہ کہہ پائی۔
شامیر نے اس کی مشکل آسان کر دی۔ 
’’ہم اکثر کمپیوٹر پر بات کرتے ہیں، عرفان! ان سے میرا چیٹنگ کا تعلق ہے۔‘‘
’’اوہ، آئی سی۔‘‘ عرفان بھائی کی رسمی مسکراہٹ میں بھی ناگواری چھپی تھی۔
منال کا دل ڈگمگانے لگا۔ یہ صورتِ حال خاصی گمبھیر تھی۔ اس نے ارما کو دیکھا اور اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی کمرے سے نکل گئی۔ لیکن ارما کے قدم من من کے ہو گئے۔ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ
of 120 
Go