Urdu Novels

Back | Home |  

شیشہ گر……اقبال بانو

شام پوری طرح درختوں پر جھک آئی تھی۔ نیلے آکاش پر ڈوبتے سورج کی سرخی نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ آسمان نے کسی کے ارمانوں کا سارا لہو اپنے اوپر پھیلا لیا ہو۔ تمام پنکھ پکھیرو ٹولیوں کی صورت میں قطار در قطار اپنے آشیانوں کی طرف جا رہے تھے۔ فضا میں پرندوں کی آوازوں کا شور بپا تھا۔ دُور آٹا پیسنے کی چکی کی ٹک۔۔۔۔ ٹک۔۔۔۔ ٹک۔۔۔۔ اس سمے نہایت بھلی لگ رہی تھی۔ پھر ایک آواز نے اس سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ چکی کی ٹک۔۔۔۔ ٹک۔۔۔۔ ٹک بھی اسی شور میں دب کر رہ گئی۔

یہ آواز ایک جیپ کی تھی، جو کچی سڑک پر اونچے نیچے راستوں پر تیزی سے دوڑی چلی جا رہی تھی اور اپنے پیچھے مسلسل گرد کا ایک ایسا طوفان چھوڑ رہی تھی کہ ہر شے گرد میں اٹ کر رہ گئی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیپ میں بیٹھے ہوئے افراد جلد از جلد احمد پور پہنچنا چاہتے تھے۔ یہ کچی سڑک احمد پور کے چھوٹے سے اسکول پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔

ہارن کی مسلسل آواز سے کچی سڑک پر احمد پور کی طرف جانے والی بھینسیں بِدک کر کھیتوں میں گھس گئی تھیں اور ان کا نگران کیکر کے تنے سے ٹِکا ہکّا بکّا کھڑا تھا۔ وہ ایک دس سالہ بچہ ہی تو تھا۔ جیپ اُس کے بالکل قریب سے زوں کرتی نکلتی چلی گئی تھی۔ اگر وہ تیزی سے ہٹ نہ جاتا تو یقینا جیپ کے نیچے آ جاتا۔ وہ دُور تک اُڑتی دھول کو ایک ٹک دیکھتا رہا اور پھر بھینسوں کی تلاش میں آگے بڑھ گیا۔

سڑک کے ایک جانب چھوٹی سی ندی بہہ رہی تھی اور اس کے پار لہلہاتے سرسبز و شاداب کھیت دُور تک پھیلے ہوئے تھے۔

وہ ڈیڑھ گھنٹے سے مسلسل سفر میں تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُڑ کر احمد پور پہنچ جائیں۔ جیپ تو وہ اتنی تیز چلا رہے تھے کہ اگر وہ ایسی تیزی کا مظاہرہ بڑے شہر کی سڑکوں پر کرتے تو اب تک اگلے جہان پہنچ گئے ہوتے۔ حالانکہ ابھی صرف ساڑھے پانچ بجے تھے، پھر بھی دن مکمل چھپنے والا تھا کیونکہ سردیوں کے دن تھے۔ انہوں نے اوور کوٹ، جرسی پہنی ہوئی تھی، کانوں کے گرد اچھی طرح مفلر لپیٹا ہوا تھا، اس کے باوجود بھی ہوا تیز نشتر کی طرح جسم کے پار ہوئی جا رہی تھی۔ اُن کی نظریں مسلسل سامنے جمی ہوئی تھیں۔ اور پھر جب ان کی نظریں احمد پور کے چھوٹے چھوٹے مکانوں پر پڑیں تو وہ بے اختیار مسکرا دیئے۔ دل محبت سے لبریز جذبوں سے شدت سے دھڑکنے لگا اور انہیں ایک گونا اطمینان کا احساس ہوا۔

’’شکر ہے، دیر نہیں ہوئی۔‘‘ وہ دھیرے سے بڑبڑائے۔

وہ چار بجے گھر سے چلے تھے اور اب ایک سو سات میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچے تھے اور ڈیڑھ گھنٹے میں اتنا طویل سفر کوئی معمولی بات نہ تھی۔ صرف ملتان شہر سے گزرتے ہوئے انہیں جیپ آہستہ چلانی پڑتی تھی۔


جیپ ایک جھٹکے سے اپنی مخصوص جگہ احمد پور کے چھوٹے سے پرائمری اسکول کے نزدیک برگد کے درخت کے نیچے رک گئی۔ انہوں نے انجن بند کیا اور فرنٹ سیٹ پر رکھا ہوا تھیلا اُٹھا کر جیپ سے اُتر آئے۔ اندھیرا پھیلنے ہی والا تھا۔ وہ تیزی سے گائوں میں داخل ہو گئے۔ تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتے، گندی نالیوں کو پھلانگتے ہوئے وہ آگے بڑھے جا رہے تھے۔ وہ یہاں پہلی مرتبہ نہیں آئے تھے، بلکہ آتے ہی رہتے تھے۔ ہر منگل کو وہ ان راستوں پر محوِ سفر ہوتے کیونکہ وہ ان کے انتظار کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کئے، گائوں کے پچھواڑے باغ میں بیٹھی ہوئی ہوتی تھی۔ ان کی نظریں باغ کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ تب ہی ایک موڑ پر وہ بری طرح کسی سے ٹکرا گئے۔ یہ ایک بڑی بی تھی، جس کی لاٹھی گر گئی تھی اور وہ دیوار کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئی تھی۔

’’وے انّا ایں؟ (اندھے ہو)‘‘ وہ ہونٹ چباتے ہوئے بولی۔

’’معاف کرنا، اماں!‘‘ انہوں نے اس کی لاٹھی اٹھا کر دی۔

’’وے شرم نئیں آندی۔۔۔۔۔ اُونٹ کی طرح منہ اٹھائے ٹُر پڑتے ہو۔ پٹ پیریں۔‘‘ وہ اپنے پوپلے منہ سے گالیاں بکنے لگی۔

’’اماں! معافی تو مانگ لی ہے۔ کیا کروں، اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا اور پھر جلدی سے بغل میں دبائے ہوئے تھیلے میں سے دو سیب اور کیلے نکال کر بڑی بی کے جھریوں بھرے ہاتھوں میں تھما کر تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ بڑی بی گم صم سی رہ گئی اور اس نے اِدھر اُدھر چور نظروں سے دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، پھر سیب اور کیلے کو دوپٹے کے پلّو میں باندھ کر بغل میں دبا لیا اور لاٹھی ٹیکتی ہوئی آگے چل دی۔ وہ سوچ رہی تھی، ایک ٹکر میں یہ سودا بُرا نہیں ہے۔ کتنے سالوں بعد وہ یہ پھل کھائے گی۔ اُسے یاد تھا کہ جب اُس کی شادی ہوئی تھی تو رمضو، شادی کے تیسرے روز سیب لایا تھا اور پھر اس کے بعد آج تک اس نے سیب نہیں کھائے تھے۔ بھلا زمینداروں کی غلامی اور غربت میں، جہاں دو وقت کی روٹی اور تن کا کپڑا بھی مشکل سے نصیب ہوتا ہو، وہاں بھلا پھلوں کا کیا کام؟ زمین سے سونا اُگانے والے، پیٹ بھر کر کھا بھی نہیں سکتے۔ ہزاروں ٹن کپاس پیدا کرنے والوں کو ڈھنگ کے کپڑے نصیب نہیں ہوتے۔ کئی کئی پیوند لگے ہوئے ہوتے ہیں، مگر جی بھر کر محنت کرتے ہیں، اس اُمید پر کہ کبھی ہماری قسمت بھی تو بدلے گی۔ خدا تو سب دیکھ رہا ہے۔ وہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ ہم اگر سُکھی نہیں تو کیا ہے، شاید ہماری آئندہ نسلیں سُکھی ہوں۔ تب ہم اپنے تمام غم، تمام دُکھ بھول جائیں گے۔ وہ اسی آس پر مزید محنت کئے جا رہے ہیں اور نہ جانے کب تک کرتے رہیں گے؟

vvv

گائوں کے پچھواڑے آ کر انہوں نے ایک طویل سانس لی۔ سامنے ہی وہ باغ تھا، جہاں انہیں جانا تھا۔ باغ کے چاروں طرف مٹی اور گارے کی چھوٹی چھوٹی دیوار تھی۔ شاید یہ حد بندی کی نشانی تھی، یا پھر یہ کہ کوئی اندر نہ جا سکے۔


گیٹ عبور کر کے وہ اندر چلے گئے اور ایک طرف سے ہوتے ہوئے اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں میں ایک مخصوص چمک عود کر آئی، جیسے کسی نے ڈھیر سارے جگنو آنکھوں میں بھر دیئے ہوں۔ وہ سامنے جامن کے درخت سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے بیٹھی تھی، یوں لگتا تھا، جیسے انتظار سے تھک کر اس نے آنکھیں موند لی ہیں۔

وہ دبے قدموں آگے بڑھے، لیکن اس کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ یونہی بیٹھی رہی۔ پھر وہ ایک دم چونک سے گئے۔ دل میں درد کی ایسی لہر اُٹھی، جو کہ پورے وجود پر مسلط ہو گئی۔ انہوں نے دل میں اُٹھتی درد کی لہروں کو دباتے ہوئے خود کو سنبھالا۔ اب وہ ایک ٹک اُسے تکے جا رہے تھے۔ کتنی کمزور ہو گئی تھی وہ۔ گالوں کے گلاب مرجھا گئے تھے اور ان مرجھائے ہوئے گالوں پر آنسوئوں کی لکیریں نمایاں تھیں۔ وہ سوچ رہے تھے کہ صرف ایک ماہ، ہاں صرف ایک ماہ میں نہیں آیا تو اس کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ یہ اِدھر بے چین اور مضطرب و بے قرار تھی، تبھی مجھے وہاں چین نہ آتا تھا۔ یوں لگتا تھا، جیسے کوئی میرا دل مٹھی میں لے کر مسل رہا ہو۔

اُن کا دل درد سے بھر گیا اور آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔ وہ جب بھی اس سے ملنے آتے، یونہی ہوتا تھا۔ شاید اس نے اپنے چہرے پر ان کی نگاہوں کی تپش محسوس کر لی تھی یا پھر دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ اُس نے ایک دم پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ انہیں سامنے کھڑا دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے چمک لہرائی، پھر معدوم ہو گئی۔ اُس کے چہرے پر خفگی کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تو اُس کے پائوں کی پازیب جھنجنا اُٹھی۔ ننھے ننھے، بے شمار گھنگھرو بول پڑے۔ اس نے ان کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ یہ بھی ناراضگی کا اظہار تھا۔ وہ دھیرے سے مسکرا دیئے اور آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ مگر اس نے ان کے ہاتھ جھٹک دیئے۔

’’اب کیوں آئے؟ بس چلے جائیں آپ۔‘‘

’’بری بات۔۔۔۔ میں نے سمجھایا تھا نا، کہ کسی سے ملتے ہیں تو پہلے سلام کرتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے سامنے آ گئے۔

’’السلام علیکم!‘‘ وہ بولی۔ اُس کا منہ اب بھی پھولا ہوا تھا۔

’’وعلیکم السلام!‘‘ وہ ہنس دیئے۔ تب اس نے آنکھیں پٹ پٹا کر انہیں دیکھا، مگر بولی کچھ نہیں۔ لیکن یہ چغل خور آنکھیں تو ہر راز اُگل دیتی ہیں، دل کی ہر بات بتا دیتی ہیں۔ اور انہوں نے بھی اس کے دل کی تحریر اس کی آنکھوں میں پڑھ لی، جو وہ زبان سے نہ کہہ سکتی تھی، مگر اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں۔ کتنے ہی سوال اس کی سیاہ چمک دار، جھیل جیسی آنکھوں میں تیر رہے تھے۔

’’آپ اتنے دن کہاں رہے؟۔۔۔۔ میرا خیال بھی نہ آیا؟ اب کیوں آئے ہیں؟ اب بھی نہ آتے اور میں ہر منگل کی طرح آج بھی انتظار کر کے چلی جاتی۔ آخر پچھلے تین منگل بھی تو میں نے انتظار کی صلیب پر لٹک کر گزار دیئے ہیں؟‘‘

of 202 
Go