Urdu Novels

Back | Home |  

 

طلوع سحر ہے شام محبت……نایاب جیلانی
 
عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
میری وحشت، تیری شہرت ہی سہی
قطع کیجئے نہ ، تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے ، تو عداوت ہی سہی
پارک سے گھر کی طرف جاتے ہی دائیں طرف مڑتے یہ منحوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔ وہ اپنی سیاہ ہنڈا سوک کے پاس کھڑا بڑے جاندار انداز میں مسکرا رہا تھا۔ اس نے پل دو پل کے لئے نگاہ اٹھائی اور پھر جھکا لی۔ اب وہ اس کے بالکل برابر قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا تھا۔
’’آج اس چمکیلے، روشن اور نورانی چہرے پر افسردگی کے بادل کیوں چھائے ہیں؟‘‘ وہ بڑے ہمدردانہ انداز میں دریافت کر رہا تھا۔
عنوہ نے اپنے قدموں کی رفتار مزید تیز کر لی مگر اس سے آگے چلنا بے حد دشوار تھا۔ اس کا ایک ایک قدم بھاری تھا۔
’’طبیعت تو ٹھیک ہے جناب کی؟ کہیں تو گاڑی میں ڈراپ کر آئوں؟‘‘ عنوہ اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی مگر اس کے لہجے سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مسلسل مسکرا رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں بے حد ناگواری در آئی تھی مگر لبوں کا قفل نہیں ٹوٹا تھا۔
’’خیر سے اس وقت کہاں سے آ رہی ہیں؟‘‘ وہ برابر چلتے ہوئے ترچھی نگاہ سے اسے دیکھ بھی رہا تھا۔
’’چلیں نہ بتائیں، ہم خود ہی اپنے ذرائع سے معلوم کر لیں گے۔ ویسے بھی نیک اور متقی لوگ، ہم جیسوں سے بولنا کہاں گوارا کرتے ہیں؟‘‘ اس نے خود کو ایک نفیس گالی سے نوازا تھا۔ اس کے ہونٹ اب بھی مسکرا رہے تھے۔
’’ہم تو بہت خلوص کے ساتھ دوست اور آئندہ زندگی کے ساتھی کی حفاظت و نگہبانی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو یقین مانئے، دل ہزار خدشوں کا شکار رہتا ہے۔ آپ کی تمام تر زیبائش، آراستگی، زینت اسی سادگی میں ہے جو ہم بے چاروں کو گھائل کر کے دیوانگی کی سرحدوں پر لا چکی ہے۔ یہ جو حسین سونے جیسا سنہرا جھیل سی گہری آنکھوں کا رنگ ہے اور ان جگر جگر کرتی نگاہوں سے پھوٹتی ڈائمنڈ کی چنگاریاں۔۔۔۔۔۔ ہم ان چمک دار، پُر نور، روشن روشن آنکھوں کے سمندر میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہیں۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔‘‘ عنوہ کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ ان آنکھوں کے حزن میں غصے کی شدت سے مزید اضافہ ہو گیا۔
’’تھینکس گاڈ! ان شنگرفی لبوں کا قفل تو ٹوٹا ہے۔‘‘ اس نے بے ساختہ آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب تو ہو چکا تھا۔
’’تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟‘‘ وہ بھینچی آواز میں چلّائی۔
’’بہت ہی عقل مند، دانا، سمجھ دار، دانش مند، مصمم ارادہ رکھنے والا۔‘‘ اس نے مسکرا کر عنوہ کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی رنگت متغیر ہو رہی تھی۔
’’انتہائی کمینے، ذلیل، لفنگے اور بدمعاش ہو۔ تمہیں کیا پتہ، انسانیت کے معیار کیا ہیں، اخلاق کس کہانی کا نام ہے، کردار کسے کہتے ہیں۔ سرکش اور باغی انسان! تم جیسے نفس کے مطیع لوگوں سے بات کرنا بھی میں اپنی توہین سمجھتی ہوں۔‘‘ 
وہ پختہ اور مضبوط لہجے میں بولی تھی مگر مقابل بھی تو ڈھیٹ ابنِ ڈھیٹ تھا۔ قدرے مسکرایا اور پھر بولنے لگا۔
’’آپ بہت دل پسند ہیں۔ دل کو بھانے والی انمول ہستی ہیں۔ آپ کے لبوں سے نکلنے والے تیزاب میں ڈوبے الفاظ بھی جامِ شیریں کی طرح لگتے ہیں، فرحت بخش، طبیعت کو سرشار کرنے والے، ٹھنڈے میٹھے الفاظ۔ ہم تو آپ کی جھیل سی آنکھوں کی توصیف بیان کر رہے تھے مگر آپ تو غصہ کر گئی ہیں۔ چلیں اپنے الفاظ واپس لے لیتے ہیں، اب تو غصہ تھوک دیں۔ حالانکہ غصے میں آپ اور بھی حسین لگتی ہیں، بالکل آب در کی طرح۔ کیا ہیرے کی چمک ہے۔ کیا آب و تاب ہے یا پھر آبگینے جیسی گویا نازک شیشہ، کانچ، آئینہ، الماس یا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوں ہوں، یاد آیا، بالکل انگوری شراب جیسی۔ کیا ذائقہ ہے، مدہوش کر دینے والا۔‘‘ اس کی سیاہ آنکھوں سے پھوٹتی روشنیاں عنوہ کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں 

 

لے چکی تھیں۔
’’انسان کے روپ میں پورے شیطان ہو، فرعون کا انجام تو کہیں پڑھا ہو گا؟‘‘ عنوہ نے زہرخند لہجے میں کہا۔
’’جی۔ نہ صرف فرعون بلکہ شداد اور قارون کے انجام سے بھی باخبر ہیں۔‘‘ وہ سعادت مندی سے بولا تھا۔
’’مگر اپنے انجام سے بے خبر ہو۔ گھٹیا، بدکردار اور جواری انسان۔‘‘ عنوہ نے حد درجہ نفرت سے کہا۔
’’میرا دل بہت وسیع ہے۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں، ہم برا ہرگز نہیں منائیں گے بلکہ کسی ایوارڈ کی طرح آپ کی گالیاں اور کوسنے وصول کریں گے۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا۔
’’تمہارا نام زیان عبیث کی جگہ خبیث ہونا چاہئے تھا۔‘‘ عنوہ نے تنفر سے کہا۔ وہ اپنے گھر کے گیٹ تک پہنچ چکی تھی۔
’’میری نرمی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائو، بہت کر لی من مانی۔ اب فیصلہ ہو جانا چاہئے آج تمہاری ممی سے یہی ڈسکس کرنے آیا تھا۔ اپنا مائنڈ میک اپ کر لو زوجہ محترمہ!‘‘ اس کا انداز حد درجہ دل جلانے والا تھا۔ عنوہ کے تن بدن میں چنگاریاں پھوٹ پڑی تھیں۔
’’اتنی خوش فہمی بھی اچھی نہیں۔ منہ کے بل گرو گے کسی دن۔‘‘
’’تمیز سے بات کیا کرو۔ مجھے اس طرح کے لہجوں کی عادت نہیں۔ نہ جانے کیوں برداشت کرتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنے گھنے، سیاہ، سلجھے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر کہا اور مزید بولا۔
’’تمہیں لاکھوں کی بھیڑ میں چُنا ہے، پسند کیا ہے۔ محبت و پیار، چاہت سے سرفراز کیا ہے۔ رفاقتوں کا یقین دلایا ہے۔ توجہ کی حد کر دی ہے۔ تمام ضروری کام بھاڑ میں جھونک کر بڑی فرصت سے عشق فرمایا ہے۔ تم پر دل و جان سے فریفتہ ہوں۔ عاشق اور شیدائی ہوں۔ تمہارے تفاخر کے لئے تو اتنا ہی کافی ہونا چاہئے۔‘‘
’’لعنت بھیجتی ہوں میں ایسے عشق پر اور تمہارے جیسے عاشق پر۔‘‘ وہ غصے سے پھنکارتی زوردار آواز میں گیٹ بند کر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی جبکہ زیان مسکراتا، گنگناتا پلٹ گیا تھا۔
٭…٭…٭
جوں ہی اس نے آراستہ پیراستہ، سجے سجائے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا، نگاہیں سامنے مخملیں صوفے میں دھنسی ممی پر اُٹھ گئیں۔ وہ خود سے بے گانہ، سیاہ ساڑھی میں ملبوس آنکھیں موندے نہ جانے کیا کیا بول رہی تھیں۔ عنوہ کو اک پل کے لئے یوں محسوس ہوا تھا، گویا صدیوں کی مسافتوں کی تھکن آنکھوں میں اُتر آئی ہے۔ وہ نم پلکوں کو پونچھتی ممی کے پائوں سینڈلوں سے آزاد کرنے لگی تھی۔ پھر نگاہ کرسٹل کی چمکیلی سطح والے ٹیبل پر رکھے مشروب کے خالی گلاسوں پر پڑی۔
ممی کے قریب رکھا گلاس خالی تھا جبکہ دوسرے گلاس میں تھوڑا سا مینگو جوس یقینا وہ اس کی تسلی کے لئے بچا کر گیا تھا۔
ممی کو دیکھتے ہوئے اسے خود سے بھی شرم آنے لگی تھی۔ کیا تھا اگر ممی اس کے سامنے حواس برقرار رکھتیں۔ کیا ضرورت تھی، زیان کے سامنے اُم الخبائث کو منہ لگانے کی۔ مگر ممی کا بریک فاسٹ، لنچ یا ڈنر ’’ڈرنک‘‘ کے بغیر تو ادھورا ہوتا تھا۔ انہوں نے آج تک مہمانوں کا بھی لحاظ نہیں کیا تھا۔
کارپٹ پر بکھرے ساڑھی کے پلّو کو سمیٹتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے تھے۔
’’کیا سوچتا ہو گا وہ ممی کے بارے میں۔‘‘ عنوہ نے ناک دبا کر گلاس اٹھائے اور ٹیبل کو کپڑے سے صاف کرتے ہوئے سوچا۔
’’اونہہ۔۔۔۔۔۔ جو مرضی سوچتا پھرے۔ خود بھی تو یہی کچھ کرتا ہے۔‘‘ وہ رنجیدگی سے زیر لب بڑبڑائی پھر الماری سے نفیس کمبل نکال کر ممی کے اوپر ڈالا اور تھکے تھکے قدم اٹھاتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔
صبح ڈائننگ روم میں ممی بڑے فریش موڈ میں بیٹھی اورنج جوس پی رہی تھیں۔ انہیں اپنی ڈائٹ کا بہت خیال رہتا تھا۔ اپنے حُسن اور صحت پر بھرپور توجہ دیتی تھیں، اسی لئے تو ان کا حسین سراپا سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا۔ دلکش خدوخال، گورا رنگ، لانبے بال۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ وہ بہت حسین خاتون تھیں۔ انہیں حُسن کو سنوارنے کے طریقے بھی آتے تھے۔ عنوہ نے ایک حُسن کی دولت ہی ممی سے چرائی تھی۔

 

’’گڈ مارننگ ممی!‘‘ دل تو نہیں چاہ رہا تھا انہیں مخاطب کرنے کو، مگر وہ اپنی عادت سے مجبور تھی۔ کیا کرتی۔ ساری رات جاگنے اور مسلسل سوچنے کی وجہ سے آنکھیں الگ دُکھ رہی تھیں۔
’’آں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔‘‘ وہ چونکیں اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگیں۔ ان کی آنکھیں بہت سرخ تھیں اور سرد بھی۔ اس نے آج تک ممی کو مطمئن نہیں دیکھا تھا۔
’’لیٹ اٹھی ہو؟‘‘
’’ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کو نیند نہیں آئی۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی تھی۔
’’تو نیند کا ٹانک لے لینا تھا۔ سارے غم، فکریں بھول جاتی ہیں۔‘‘ وہ کس چیز کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ عنوہ نے اِک دکھ کی لہر من میں اُترتی محسوس کی۔
’’ممی! میں آپ کی فرینڈ یا کولیگ تو نہیں، بیٹی ہوں۔‘‘ اس نے آزردگی سے کہا تھا۔ کیسی قابل نفرت چیز کی آفر کر رہی تھیں وہ اسے۔
’’ہاں تو پھر۔‘‘ امبرین نے بھنویں اچکائیں۔
’’میری زندگی کی سب سے بڑی بھول، ایسی غلطی جس کی تلافی ممکن نہیں۔‘‘ انہوں نے تنفر سے کہا۔ پنک اسٹائلش ساڑھی میں بغیر میک اپ اور کھلے بالوں کے ساتھ وہ بے حد شاندار لگ رہی تھیں۔ اگر اس حسین چہرے پر محبت کا کوئی رنگ ہوتا تو یقینا یہ دنیا کا حسین ترین چہرہ ہوتا۔
’’کل زیان آیا تھا۔‘‘ عنوہ جس موضوع سے بچنا چاہتی تھی، ممی اس پر ہی بحث و مباحثے کے لئے تیار تھیں۔ اس نے وجہ نہیں پوچھی تھی، نہ ہی پوچھنا چاہتی تھی۔ مگر اب تک کوئی بھی کام اس کی مرضی کے مطابق کہاں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ نکاح بھی۔
’شادی کی ڈیٹ طے کرنے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔‘‘
’’پھر آپ نے کیا کہا ہے؟‘‘ اس نے ڈوبتے دل اور کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
’’جنوری کے اینڈ تک ارادہ ہے میرا۔ ویسے بھی نکاح کو ایک سال ہو گیا ہے۔ تم ایجوکیشن کمپلیٹ کر چکی ہو۔ فارن سے شارٹ کورسز کی ڈگریز بھی ہیں۔ اتنی تعلیم ہی کافی ہے۔ تمہیں ویسے بھی میں نے بزنس سے الگ رکھا ہے۔ دراز میں چیک بُک رکھی ہے، جتنے مرضی پیسے لو اور دل کھول کر شاپنگ کرو۔ یہ میری طرف سے تمہارے لئے آخری گفٹ ہے۔ ویسے بھی تم ایک نہایت امیر، خوشحال اور دولت مند شخص کی مسز بنو گی۔ اس کے بینک ڈالر، پونڈز سے بھرے پڑے ہیں۔ یورپ اور ایشین ممالک میں موجودہ بینکوں میں اس کے اتنے اکائونٹس ہیں کہ تم انگلیوں پر نہیں گن سکتیں۔ میں نے تمہارے لئے بہت اچھا انتخاب کیا ہے۔‘‘ وہ بڑے تفاخر کے عالم میں اسے نہ جانے کیا کیا جتا رہی تھیں۔
’’ایک شرابی، جواری شخص کو میرا عمر بھر کا ساتھی بنا کر آپ نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا ہے ممی!‘‘
’’پارسائی، اچھائی اور نیکی کی باتیں ہماری سوسائٹی کی لڑکیوں کو سوٹ نہیں کرتیں۔‘‘ انہوں نے استہزائیہ کہا اور بالوں میں اُنگلیاں چلانے لگیں۔
’’میرا باپ دنیا کا بدقسمت انسان تھا، جس کی آپ بیوی بنیں۔‘‘ اس نے آج تک کبھی ممی کے سامنے اپنے باپ کا ذکر نہیں کیا تھا، نہ جانے کیسے زبان سے یہ چند الفاظ پھسل گئے تھے۔ امبرین نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا اور غصے سے پھنکاریں۔
’’اپنے باپ کی حقیقت سے واقف نہیں ہو، بہت عیاش اور فلرٹی انسان تھا۔ میری شادی کے بعد اس نے تین شادیاں کی تھیں۔ اگر زندہ رہتا تو اور نہ جانے کتنوں کے نصیب پھوٹتے۔ بہرحال، یہ بحث طویل ہے۔ تم اپنی تیاری پکڑو۔ میں انہی دنوں میں تم سے چھٹکارا پانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ نہایت سرد انداز میں بولی تھیں۔ عنوہ کی آنکھیں یک دم ہی نمکین پانیوں سے لبریز ہو گئیں۔
’کیا ساری دنیا کی مائیں ایسی ہوتی ہیں؟‘ اس نے تلخی سے سوچا۔
’’ممی۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ امبرین کو اٹھتا دیکھ کر وہ سرعت سے بولی تھی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر جما دیں۔
’’میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
of 62 
Go