Urdu Novels

Back | Home |  

 

تیری چشم نم کی چاہ میں..............زمر نعیم
 
’’غضب خدا کا۔ اس نے وہاں دو سال پہلے شادی کی تھی اور ہمیں اب بتا رہا ہے۔ سات سال بعد اسے ہماری یاد بھی آئی تو اپنی مصیبت میں۔۔۔۔۔۔۔۔ منصور! اس سے کہہ دیجئے کہ میں اس کی یہ غلطی کبھی معاف نہیں کروں گی۔ مت آئے وہ مجھے جلانے، تڑپانے۔ صبر کر لوں گی میں اس پر۔‘‘
صوفیہ منصور، غم و غصے کی مجسم تصویر بنی، ڈائننگ روم میں اپنی مخصوص کرسی پر براجمان رندھے گلے سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھیں۔
ان کی دونوں بیٹیاں تانیہ، سنعیہ لب بھینچے سر جھکائے بیٹھی تھیں جبکہ بیٹا اسفند معمول کے مطابق کھانے میں مصروف نظر آ رہا تھا۔ منصور احمد بھی سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بیوی کی طرف متوجہ تھے۔
’’وہ اپنی غلطی کی معافی مانگ تو رہا ہے۔ اسے ٹھوکر لگی ہے۔ گر کر سنبھلنے کے لئے اسے اپنوں کا سہارا چاہئے۔ وہ یہاں نہیں آئے گا تو پھر کہاں جائے گا؟‘‘ منصور احمد کے رویّے میں خاصا ٹھہرائو تھا۔
’’غلطی، یا خود غرضی؟۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے میرے۔ کتنی بار کہا تھا، واپس آئو، میں اپنی پسند سے تمہاری شادی کر دوں۔ مگر اسے تو وہاں کی شہریت چاہئے تھی، اب بھگتے بھی۔‘‘
صوفیہ منصور کے احساسات و جذبات جھلس کر رہ گئے تھے۔ جس بیٹے پر انہیں حد سے بڑھ کر مان تھا، وہ اُن کا مان، اُن کے ارمان، سبھی کچھ خاک میں ملا چکا تھا۔ شافند منصور انہی کی شدید خواہش کو پوا کرنے ہائر اسٹڈیز کے لئے باہر گیا تھا۔ انہیں بڑا ارمان تھا کہ ان کا بیٹا انگلینڈ پلٹ کہلائے۔ شافند اپنی تعلیم تو پہلے ہی پوری کر چکا تھا۔ واپس آنے کے مطالبے پر ہمیشہ بہانے بناتا رہتا تھا۔ یہ تو صوفیہ منصور کو اب احساس ہو رہا تھا کہ وہ کسی میم کی نیلی آنکھوں اور سنہری زلفوں کا اسیر ہو کر ان سے ساری امیدیں اور آرزوئیں بھی چھین چکا تھا جو کہ وہ اس سے وابستہ کئے ہوئے تھیں۔ انہیں شافند سے ایسی توقع کبھی نہیں رہی تھی۔ اسفند ایسا کرتا تو شاید انہیں اس قدر صدمہ نہ پہنچتا کیونکہ اسفند کا مزاج ہی باغیانہ اور خود سری والا تھا۔ شافند سے پانچ سال چھوٹا ہونے کے باوجود اسے اپنا آپ منوانے میں کمال حاصل تھا۔ خاندان بھر کا لاڈلا ہونے کے باوجود کچھ اکھڑ اور لئے دیئے رہنے والا تھا۔ اپنی من مانی کرتا، اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بھی بات برداشت نہیں کرتا تھا اس لئے صوفیہ منصور فطرتاً پُر جلال ہونے کے باوجود اسفند کے سامنے یا اس سے کوئی ایسی بات نہیں کرتی تھیں جو اسے ناگوار گزرے یا جس پر وہ بلا لحاظ اظہارِ خیال کرتا۔ ایسا کرنے میں بھی صوفیہ منصور مجبور تھیں۔ اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کا اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی حل بھی تو نہیں تھا۔ جبکہ شافند کو انہوں نے ہمیشہ دبا کر رکھا تھا۔ اس کی زندگی کے ہر معاملے میں اپنی مرضی کو اس پر لاگو کیا تھا۔ مگر زندگی کے اہم ترین معاملے میں وہ ہار گئی تھیں۔ شافند نے ان کے سارے خواب چکنا چُور کر دیئے تھے۔ جب سے اس نے فون پر بتایا تھا کہ وہ چند ایک دنوں میں اپنے تین ماہ کے بیٹے کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے واپس آ رہا ہے اور اپنی انگریز بیوی کو چھوڑ کر آ رہا ہے، تب سے صوفیہ منصور کا یہی حال تھا۔
’’صوفیہ! نوجوانی میں انسان بھٹک ہی جاتا ہے۔ غلط راہ پر قدم پڑ ہی جاتے ہیں۔ شکر کرو کہ اسے اپنی غلطی کا احساس جلد ہی ہو گیا ہے۔ ورنہ تم ترستی رہتیں اپنے بیٹے کو۔‘‘
’’یہ آپ کہہ رہے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے میرے کہ میں اپنے ہاتھوں سے اس کی دلہن لائوں گی۔ اس گھر میں بھی خوشیاں رقصاں ہوں گی۔ اور وہ میرے ہر ارمان کو آگ لگا کر شادی کر کے اپنی من مانیوں کا خمیازہ لے کر آ رہا ہے۔ بہت خوشی و فخر کی بات ہے ناں میرے لئے کہ میرا بیٹا باہر سے ڈگریاں ہی نہیں، باپ بننے کا جیتا جاگتا سرٹیفکیٹ بھی لے کر آ رہا ہے۔‘‘
صوفیہ منصور نے اپنے سامنے سے پلیٹ پیچھے کھسکاتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا اور کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
اسفند نے اس بار قدرے چونک کر سر اٹھایا۔ 
’’ماما! جو ہو گیا ہے، اس پر شور کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ آپ کیا چاہتی ہیں، بھائی یہاں نہ آئیں، پھر وہ  کہاں جائیں؟ کیا یہ ان کا، ان کی اولاد کا گھر نہیں ہے؟ کیا آپ انہیں ان کی غلطی پر خود سے، اس گھر سے، ہر رشتے سے بے دخل کرنا چاہتی ہیں؟ کیا آپ ایسا کر سکتی ہیں؟‘‘ اسفند کا لہجہ سوالیہ مگر بہت دھیما تھا۔
صوفیہ ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں۔ اس کے آخری سوال میں ان کے لئے بھی بازپرس تھی۔ وہ ایک دم ٹھنڈی ہو گئیں۔
’’سنی ٹھیک کہہ رہا ہے۔ تمہارا رویّہ ہی دوسروں کو کچھ کہنے کا موقع دے گا، ورنہ یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے، جسے انا کا مسئلہ بنا لیا جائے۔ وہ نادم ہے تو ہمیں بھی فراخ دلی سے اس کی کوتاہی کو بھلا دینا چاہئے۔ وہ پردیس کی بے اعتماد فضا سے نہ جانے کیسی گہری چوٹ کھا کر آ رہا ہے۔ اسے ہماری ضرورت ہے۔ اس کا استقبال اچھے انداز میں ہونا چاہئے۔ میں اس معاملے میں اس کے ساتھ کسی کو الجھا ہوا نہ دیکھوں۔‘‘
منصور احمد کا ٹھہرا ہوا سنجیدہ مگر اٹل انداز، صوفیہ منصور کو بھی چپ کرا گیا۔ کچھ بھی تھا، شوہر کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی تھی۔ دل میں بیٹے کے خلاف ہزاروںشکوے دبائے وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
…٭٭٭…
’’آ جائو۔۔۔۔۔۔ کون ہے؟‘‘ 

 

دستک کی آواز پر صوفیہ منصور نے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے قدرے بے زاری سے کہا۔ آج کل وہ بے حد مصروف تھیں۔ شافند کی آمد کا انتظار انہیں اب صبر آزما لگ رہا تھا۔ شافند سے ناراضگیوں کے باوجود وہ اسے دیکھنے کو بے چین و بے قرار تھیں۔ وہ اس کے آنے سے پہلے سارے گھر کو پھر سے ڈیکوریٹ کروا رہی تھیں۔ شافند کے لئے بھی انہوں نے اس کا بیڈ روم نئے سرے سے سیٹ کروایا تھا بلکہ کئی چیزیں اور سامان تین ماہ کے بچے کے حوالے اور خیال سے بھی اس کے کمرے میں رکھوایا تھا۔ شافند کے لئے ان کی ممتا بیدار ہو کر انہیں مستعد کر رہی تھی۔ اب وہ دوپہر کے بعد فارغ ہو کر آرام کی غرض سے اپنے بیڈ روم میں آئی تھیں کہ اسفند دستک دے کر اندر چلا آیا۔
’’سوری ماما! میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘ اسفند نے اندر آ کر انہیں بیڈ پر دیکھ کر معذرت کے ساتھ استفسار کیا۔
’’نہیں، نہیں جان! آئو، ادھر آئو۔‘‘ صوفیہ منصور خوشگوار حیرت میں مبتلا تھیں۔
اسفند کے چہرے پر کسی خوشی کی چمک اور مدھم سی مسکراہٹ تھی۔ وہ بیڈ سے پائوں لٹکا کر بیٹھ گئیں اور پھر اسے توجہ سے دیکھنے لگیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ ان سے کوئی اہم بات کرنے آیا ہے۔
’’مجھے آپ کا تھوڑا سا وقت چاہئے پلیز۔‘‘
’’سنی جان! میرا سارا وقت تمہارے لئے ہے۔‘‘ انہیں اسفند کے رویّے پر حیرت ہو رہی تھی۔ وہ اس طرح بات کب کرتا تھا؟ اجازت مانگ کر، مطلع کر کے کب کوئی کام کرتا تھا؟ 
وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا اور پھر اپنا سر بھی ان کے گھٹنوں پر رکھ کر کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گیا تھا۔ برسوں بعد سنی کا یہ اندازِ محبت انہیں حیران کر رہا تھا۔ سنی کے اس انداز و اظہار پر وہ پھولی نہیں سما رہی تھیں۔ بے اختیار ہی اس کا سر سہلانے لگیں۔ پھر قدرے دلار سے بولیں۔
’’سنی جان! اوپر بیٹھو نا، میرے پاس۔‘‘
’’نہیں ماما! میں یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘ سنی نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا، جیسے کہ وہ ان کے جذبے کی گہرائی جانچ رہا ہو۔ صوفیہ بھی ہنوز اسے اُلجھن سے دیکھ رہی تھیں۔ سنی ہمیشہ ہی اپنے رویوں اور مزاج کے بدلائو سے نہ صرف حیران کرتا رہتا تھا بلکہ اُلجھن میں بھی ڈال دیتا تھا۔
’’کیا بات ہے؟ آج اپنی ماما سے لاڈ جتایا جا رہا ہے۔ کوئی بات کہنی ہے کیا؟‘‘ صوفیہ منصور نے قدرے مسکراتے ہوئے پھر سے اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے سنوارا۔
’’ہوں، میں آپ کو کچھ بتانے ہی آیا ہوں۔ ایکچولی میں اسی مہینے جا رہا ہوں۔ میری ساری تیاری اور انتظام ہو گیا ہے۔ میری کلاسز بھی شروع ہونے والی ہیں۔‘‘
’’کیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔ سنی! تم۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ سختی سے بولتے بولتے رہ گئیں۔ جانتی تھیں، غصے اور ناراضگی کے اظہار پر صاحب زادے ہتھے سے اُکھڑ جاتے ہیں۔ ’’سنی! تم یہاں رہ کر بھی میڈیکل کی تعلیم حاصل کر سکتے ہو، پھر گھر سے اتنی دور کیوں جا رہے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔ شافند کا حال دیکھو، وہاں جا کر وہ کہیں کھو گیا تھا۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں نہیں کھونا چاہتی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ایک کے بعد اب میں دوسرے بیٹے کے انتظار میں اپنی عمر گنوا دوں؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی صوفیہ منصور اپنے لہجے کی سختی و برہمی چھپا نہ سکی تھیں۔
’’میں جانتا تھا ماما! آپ ایسا ضرور کہیں گی، اس لئے میں آپ کو اب بتا رہا ہوں۔ میں دس پندرہ دن میں چلا جائوں گا۔ ہارڈلی ففٹین ڈیز۔‘‘ اسفند خلافِ مزاج بہت نرمی سے انہیں سمجھا رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان سے ہمیشہ سخت لہجے یا بدتمیزی کے انداز میں مخاطب ہوتا تھا۔ بس کبھی کبھی اپنی فطرت و عادت سے مجبور ہو کر تلخ ہو جاتا تھا اور اس تلخی کا بھی وہ خود کو ہی نشانہ بناتا تھا۔
’’مجھے اب بھی بتانے کی کی ضرورت تھی؟ وہاں پہنچ جاتے تو پھر اطلاع کرتے۔‘‘ صوفیہ منصور سے اپنی خفگی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
وہ ان کے قدموں سے اٹھ کر ان کے برابر بیٹھتے ہوئے قدرے زِچ ہو کر بولا۔
’’ماما!۔۔۔۔۔ ماما! میں آپ کو بہت پہلے بتا چکا ہوں کہ مجھے اسپیشلائز کرنے جانا ہے۔‘‘
’’تو بیٹا! ابھی تمہارے ڈاکٹری کے دو سال ہی پورے ہوئے ہیں۔ پہلے اپنی ڈاکٹری کو مکمل کر لو، پھر چلے جانا اسپیشلائز کرنے۔‘‘ صوفیہ منصور نے بھی اسی کے انداز میں جیسے اس کی نادانی جتائی۔
’’ماما! میرا یہاں کوئی فیوچر نہیں ہے۔ میں نے انکل شبلی کے تھرو تمام انتظامات کروا لئے ہیں۔ میں اپنی اسٹڈیز وہاں جا کر کنٹی نیو کروں گا۔ یُو ڈونٹ وری۔ میں وہاں سے بالکل صحیح سلامت، اکیلا ہی آئوں گا۔ آپ کو میرے کھونے کا ڈر کیوں ہے؟ آپ کو اپنے اکھڑ، بدمزاج بیٹے کی فطرت کا اندازہ تو ہے۔ وہاں کی کوئی گوری میم مجھے سوٹ نہیں کرے گی۔ یاد رکھیں، اگر مجھے خود شادی کرنے والا قدم اٹھانا بھی ہوا تو میری چوائس خالص مشرقی لڑکی ہو گی۔ مصنوعی اور بدیسی چیزیں اور لوگ مجھے ویسے بھی پسند نہیں ہیں۔‘‘
اس کی بے پروائی سے کہی گئی بات میں بھی جو چبھن تھی، وہ صوفیہ منصور کو چپ کرا گئی۔ وہ اکثر غصے میں اسفند کے لئے اس قسم کے القابات صادر کرتی رہتی تھیں، جو بدقسمتی سے اسفند کے کانوں تک لازمی پہنچ جاتے تھے۔ وہ اس وقت تو صرف اپنا موڈ خراب کرتا تھا لیکن بعد میں وہی باتیں دہرا کر انہیں لمحے بھر کی شرمندگی سے بھی دوچار کر جاتا تھا۔
’’تمہارے باپ کو تمہارے ارادوں کا علم ہے؟‘‘ 

 

کچھ توقف کے بعد وہ بولنے کے قابل ہوئی تھیں۔ اسفند اکثر انہیں زِچ کر دیتا تھا۔ پھر وہ بہ مشکل ہی خود پر قابو پاتی تھیں۔
’’جی! پاپا کو بھی ابھی ان کے آفس میں بتا کر آ رہا ہوں۔‘‘
’’اور اپنی دادی سے اجازت لے لی ہے؟ وہ جو واویلا مچائیں گی۔‘‘ اپنی ساس کا ذکر کرتے ہوئے ان کا لہجہ خودبخود سرد ہو جاتا تھا۔ دراصل اسفند کے اس قسم کے رویوں کے لئے وہ انہیں موردِ الزام ٹھہرایا کرتی تھیں۔ اسفند تھا بھی ماں سے زیادہ دادی سے اٹیچ۔ دادی نے ہی اس کی پرورش اور تربیت کی تھی۔ دادی جان زیادہ تر اپنے چھوٹے بیٹے تیمور احمد کے پاس رہتی تھیں۔ آج کل شافند کی آمد کی وجہ سے اسفند کی ضد پر وہ یہاں منصور ہائوس میں مقیم تھیں، ورنہ تیمور کی اکلوتی بیٹی عنیزہ انہیں اپنے پاس سے آنے نہ دیتی تھی۔
’’بڑی ماں کو تو سب سے پہلے بتانا ضروری تھا۔ وہ پرمیشن دیتیں تو میں جانے کی تیاری کرتا۔ بڑی مشکل سے انہیں منایا ہے۔‘‘
’’اچھا، اب بڑی اماں کی اجازت مل گئی ہے تو ہم کون ہیں روکنے والے۔ روکیں بھی تو کب رکو گے۔ ٹھیک ہے، تمہاری خوشی درکار ہے مجھے تو۔ خوشی سے جائو۔‘‘
صوفیہ، دادی کو پہلے بتانے اور اجازت پانے کا سن کر اندر ہی اندر کبیدہ سی ہو گئیں مگر اسفند پر اس وقت ظاہر کر کے وہ اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ویسے بھی اسفند کی اپنے پاس اتنی دیر تک موجودگی اور ان سے باتیں کرنا ہر اختلاف کے باوجود ان کو اچھا اور حیران کن لگ رہا تھا۔
’’تھینک یو ماما! تھینک یو ویری مچ۔‘‘ وہ فرطِ خوشی میں ماں کا ہاتھ تھام کر چومنے لگا۔ ’’مجھے معلوم تھا، آپ مان جائیں گی۔‘‘
صوفیہ کبھی بیٹے کے چمکتے چہرے کو دیکھ رہی تھیں اور کبھی اپنے ہاتھ کو۔ اسفند کی طبیعت کا یہ بدلائو انہیں خوش گواریت کا احساس دلا گیا۔ کچھ بھی تھا، وہ تھا ان کا ہی بیٹا۔
…٭٭٭…
شافند کی آمد کا دن تھا۔ 
سبھی کزنز، منصور ہائوس میں جمع تھے۔ صوفیہ منصور کی بہنیں، بھابیاں تک دوپہر سے پہلے آ موجود ہوئے تھے۔ سبھی شافند کو دیکھنے اور ملنے کو بے چین و بے قرار ظاہر کر رہے تھے۔ جبکہ اسفند کو ان سبھی کی بے چینیاں ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھیں۔ خصوصاً کزنز لڑکیوں کی شوخیاں اور معنی خیزیاں اسے تپانے اور سلگانے کے لئے کافی تھیں۔ سبھی جانتے تھے کہ اسفند ایسی لڑکیوں سے الرجک تھا۔ بلکہ کئی بار تو واضح لفظوں میں اپنی ماما سے بھی کہہ چکا تھا کہ اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو سمجھا کر رکھیں۔ کوئی بھی مجھ سے فری ہونے کی کوشش نہ کیا کرے، ورنہ اپنی بے عزتی کی خود ذمے دار ہو گی۔
اب بھی وہ کھانا لگنے کے انتظار میں ٹی وی لائونج میں بیٹھا کرنٹ افیئر کا کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا کہ سبھی لڑکیاں وہاں چلی آئیں۔ اس کی چھوٹی خالہ فوزیہ کی بڑی بیٹی ماہ ناز بے تکلفی سے اس کے قریب آ بیٹھی۔
’’اسفند! سنا ہے، تم بھی باہر جا رہے ہو؟‘‘
’’پھر۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کوئی پرابلم ہے؟‘‘
’’نہیں، مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے۔ مگر مجھے وہاں کی گوریوں سے ہمدردی ہو رہی ہے۔ بے چاریاں تمہیں کیسے برداشت کریں گی۔‘‘ ماہ ناز نے اسے جان بوجھ کر چھیڑا تھا۔
’’اور مجھے آپ کے ہونے والے شوہر سے ہمدردی ابھی سے پیدا ہو گئی ہے کہ وہ آپ جیسی فضول لڑکی کو کیسے برداشت کرے گا ناز آپی!‘‘ اسفند، ماہ ناز سے ایک سال چھوٹا تھا اور اکثر ہی اسے غلط موقعوں پر آپی کہہ کر اس کی ساری شوخی اور تیزی کو نیست و نابود کر دیتا تھا۔
’’شٹ اپ، تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔‘‘
’’اپنے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ اسفند کسی کی بات سہہ جائے، ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔
’’ارے، ارے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو رہا ہے؟ سنی! کیا ہوا ہے؟‘‘ صوفیہ منصور، اسفند کی اونچی آواز پر فوراً چلی آئیں۔ وہ بیٹے کی آمد پر کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتی تھیں اور ماہ ناز کی ناراضگی تو وہ برداشت کر ہی نہیں سکتی تھیں کیونکہ اسے وہ بہو بنانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ جبکہ اسفند کو شافند کے حوالے سے بھی وہ بالکل پسند نہیں تھی۔
’’خالہ جانی! کیا اسے آپ ہر وقت مرچیں چبانے کو دیتی ہیں؟‘‘ ماہ ناز، خالہ کو دیکھ کر پھر سے شیر ہوئی تو وہ صوفیہ کی طرف پلٹا۔
’’ماما! سن رہی ہیں آپ؟‘‘
’’ماہ ناز، سنی، تم لوگ کب بڑے ہو گے؟ ہر بار بچوں کی طرح لڑنے لگتے ہو۔ سنی! تم ہی کچھ لحاظ کر لیا کرو۔ بڑی ہے ماہ ناز تم سے۔‘‘ صوفیہ منصور نے مصلحتاً ایسا رویّہ اپنایا۔
’’تو پھر بڑی آپی سے کہئے، آئندہ مجھے چھیڑنے کی کوشش مت کریں، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
of 100 
Go