Urdu Novels

Back | Home |  

تتلى کى اڑان……عالىہ بخارى

رات کے نہ معلوم کس پہر میں بارش کھل کر برسی تھی۔
صبح ہر شے دُھلی دُھلائی، نکھری نکھری سی اور آسمان۔۔۔۔
بیلا نے نگاہ اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا، ابھی بھی گہرے، ہلکے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔
’اور کیا پتہ، کہیں دُور، کسی اَن دیکھے جنگل، کسی دُور دراز وادی کے اُوپر چھائے ہوئے بادلوں پر اُونچے بُرجوں والا، گلابی کاسنی رنگوں سے سجا محل موجود ہی ہو۔‘ اُسے سوچ کر ہی مزہ آنے لگتا تھا۔
دماغ میں ایسے بہت سے خیالات ہمہ وقت موجود رہتے۔ بچپن میں پڑھی ہوئی پریوں کی ڈھیروں ڈھیر کہانیوں نے تخیل کے پرواز کی کوئی حد نہیں چھوڑی تھی۔
’’آخر کو جیک اینڈ دی بین اسٹاک‘‘ کا جن بھی تو بادلوں پر محل بنا کر رہ ہی رہا تھا۔ اتنا بھاری بھر کم ہو کر بھی۔
’’بیلا!‘‘
نانی کی آواز اس عمر میں بھی زوردار تھی، ایک بار پکارنا ہی کافی ہوتا تھا۔ اُسے بھی زمین پر واپس آنا پڑا، مگر خاصی جھنجلاہٹ کے ساتھ۔ بادلوں کے نرم جھروکے سے نیچے، ہرے بھرے جنگل کو جھانک کر دیکھنے کا شوق بھی پورا نہ ہو سکا۔
’’دس بار منع کیا ہے کہ گیلری میں صبح ہی صبح نہ کھڑی ہوا کرو۔ اور ویسے بھی اس کی ساری ریلنگ جھکی جا رہی ہے۔ خدا نہ کرے، کچھ ہو گیا تو اخبار میں خبر لگ جائے گی۔‘‘
بیلا کو ایک دم ہنسی آ گئی۔
نانی کو اس سے زیادہ ’’اخبار کی خبر‘‘ کی فکر تھی۔ آج کل حالات ہی کچھ ایسے ہو رہے تھے۔ اُن کی بلڈنگ کے کئی گھروں کی آئے دن ’’خبر‘‘ لگ جاتی تھی۔

’’اللہ اپنی امان میں رکھے۔ لوگ تو چین سے جینے بھی نہیں دیتے۔ تھوڑی سی بات ہاتھ آ جائے تو کرید کرید کر ناک میں دم کئے دیتے ہیں۔ اب دوسرے فلور والی سرمدی کا ہی حال دیکھو، بے چاری۔۔۔۔‘‘
تازہ ترین حالاتِ حاضرہ پر یہاں بیٹھ کر ہر وقت تبصرہ کیا جا سکتا تھا۔ روزانہ کچھ نہ کچھ نیا مل ہی جاتا تھا۔
نانی، لائونج میں بیٹھی چھوٹی گول میز پر چائے میں بسکٹ ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں۔ ہلکے سے بادامی رنگ کا چِکن کا سوٹ، دونوں ہاتھوں میں سونے کی باریک، بے حد خوب صورت چوڑیاں، کانوں میں ہیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس اور بالوں کے جُوڑے میں لپٹی، بیلے کے پھولوں کی لڑی سے اُٹھتی مہک۔
بیلا کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ اُس نے اُنہیں کبھی عام سے حلیے میں دیکھا ہو۔ میک اَپ بالکل نہیں کرتی تھیں، اس لئے عمر کے لحاظ سے اُن کی شخصیت میں وقار جھلکتا محسوس ہوتا تھا۔
بیلا کو کالج کے لئے دیر ہو رہی تھی، اس لئے حسبِ معمول اُن کے ناشتہ کی آفر پر معذرت کرنا پڑی اور حسبِ معمول اُن کی خفگی کو بھی سہنا پڑا۔
’’نہ کھائو، ہمارا کیا جاتا ہے، ابھی سے شکل پر بارہ بجنے لگے ہیں۔ نہ کوئی گُن، نہ ہُنر۔ معلوم نہیں کیسے زندگی گزرے گی۔‘‘
بیلا کو اُن کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی۔ اُن کے طرزِ زندگی میں ’’گُن‘‘ اور ’’ہُنر‘‘ کے بغیر کام چلنا بالکل ہی ناممکن سی بات تھی، اس لئے ان کی پریشانی بھی بجا تھی اور جب چند ہی منٹوں میں وہ لپ جھپ، کالج یونیفارم میں بالکل تیار ہو کر باہر آئی تو نانی سچ مچ ہی حیران ہو گئیں۔
’’کالج جائو گی، اس موسم میں؟ جگہ جگہ تو پانی کھڑا ہو گا۔ اور کون سی اُستانیاں آ جائیں گی، اس موسم میں پڑھانے؟‘‘
’’سب آ جاتی ہیں، ہمارے کالج کی ساری لیکچررز بہت پنکچوئل ہیں، یعنی وقت کی پابند۔‘‘ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اس نے ان کی تسلی کرانا چاہی، پر وہ تھوڑی سی جھنجلا گئیں۔
’’آتی ہے انگریزی ہمیں بھی۔ بہت اچھا وقت دیکھے ہوئے ہیں۔ اور بہت پڑھے لکھے لوگوں میں اُٹھنا بیٹھنا رہا ہے۔ تم کیا ہمیں مطلب سمجھانے چلی ہو۔‘‘
ماضی اُنہیں بات بات پر یاد آتا تھا۔ بلکہ ذہنی طور پر تو وہ جی ہی ماضی میں رہی تھیں۔ حال تو بس دکھاوا ہی تھا۔

سیڑھیوں کا رُخ کرنے سے پہلے اس نے ایک نظر، اماں اور دُری کے مشترکہ کمرے کی طرف دیکھا۔ دبیز قالین اور بھاری پردوں والا بیڈ روم، جہاں گرمی میں مستقل ہی اسپلٹ کھلا رہتا تھا، ان دونوں ہی کی صبح عادتاً دیر سے ہوتی تھی۔
’’خدا حافظ، نانی!‘‘ کہتے ہوئے وہ بیرونی دروازے کی کنڈی کھول رہی تھی تو وہ اپنی چائے، میز پر ہی چھوڑ کر جھنجلائی جھنجلائی سی اُس کے پیچھے آ ہی گئیں۔
’’نہ مانو کہنا، اور جو کہیں پانی میں بند ہو کر کھڑی ہو گئی تو پھر بیٹھی رہنا، اپنی اس رولز رائس میں۔ نہ معلوم کن کن دقتوں سے تو یہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدی تھی اور وہ بھی اب کتنے سال پرانی بات ہوئی۔ مشتری! ذرا باجی کو نیچے تک تو چھوڑ کر آ۔‘‘
گھر کے کسی کونے سے نوعمر ملازمہ برآمد ہوئی اور اُن کا موڈ بھانپتے ہوئے تیر کی طرح بیلا کے پیچھے سیڑھیاں اُترتی چلی گئی۔
بیلا کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ نانی، موسم کی خوب صورتی سے خائف کیوں رہتی تھیں۔ گہرے اودے بادلوں اور ہرے بھرے، ترو تازہ پھول پتوں کی خوب صورتی کو سراہنے کے بجائے انہیں زمین کی کیچڑ اور پھسلن کا خوف کیوں ستانے لگتا تھا۔
شاید عمر کا تقاضا تھا۔
مگر اُس کا دل یہ جواز ماننے سے بھی انکاری رہتا۔ آخر نانی اس عمر میں اتنے اسٹائل میں بھی تو رہتی ہی تھیں اور صرف نانی ہی کیا، اماں اور دُری بھی۔ معمول سے ذرا ہٹ کر کچھ ہوا اور لگیں، ناک بھوں چڑھانے۔
’’اصل میں یہ تینوں خواتین بے حد نازک مزاج ہیں۔ اور اگر برا نہ مانیں تو بے حد بور۔‘‘
ارشاد نے جب تک گاڑی لا کر اُس کے سامنے کھڑی کی، تب تک بیلا کا تجزیہ بھی مکمل ہوا۔ سامنے مشتری دانت نکالے کھڑی تھی۔ روزانہ وہ اسی طرح خوشی خوشی ہاتھ ہلا کر اُسے ’’خدا حافظ‘‘ کہتی، جیسے اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی پُرمسرت کام اس کے حصے میں آج تک آیا ہی نہیں۔ سارا دن اور پھر رات گئے تک وہ نانی کی اردلی میں رہتی۔اماں کی جھڑکیاں اور دُری کی نازک مزاجی کو
of 31 
Go