Urdu Novels

Back | Home |  

 

تم میرے ہوکر رہو۔۔۔۔۔۔۔۔صالحہ محمود
بارش کب کی تھم چکی تھی‘ اِکا دُکا پانی کے قطرے درختوں کے پتوں سے ٹپک رہے تھے‘ دور دور تک اندھیرے کا راج تھا‘ پورے علاقے کی بجلی غائب تھی‘ حبس اور گرمی کی شدت سے تنگ آ کر وہ لان میں تقریباً ایک گھنٹے سے ٹہل رہا تھا‘ صبح اسے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کرنی تھی‘ ہزاروں سوالات تھے جو دماغ میں سرسرا رہے تھے‘ نیندآنکھوں سے کوسوں دور تھی‘ وہ ٹہلتے ٹہلتے لان کے ایک سرے پر ٹھٹک گیا‘ اسے یوں لگاجیسے کوئی اسے تیسری منزل سے نیچے واچ کر رہا ہے‘ پہلے وہ واہمہ سمجھ کر آہستہ آہستہ ٹہلتا رہا لیکن انسانی حِس نے اسے بیدار کر دیا تھا‘ اوروہ کسی بھی خطرناک لمحے کے لئے خود کو تیار کر چکا تھا۔
لان میں اس کے قدموں کی آواز بہت آہستہ ہو گئی تھی‘ ذہن ابھی تک وہی سوچ رہا تھا کہ آخر اتنی اندھیری رات میں نور محل کی تیسری منزل سے کون اسے یوں دیکھ سکتا ہے جبکہ گیٹ پر تین پہرے دار موجود ہیں جو اپنی ڈیوٹی بدلتے وقت ذرا سی بھی غفلت نہیں کرتے… پھر اس گیٹ سے گزر کر کوئی تیسری منزل تک کیسے پہنچے گا‘ ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا۔
’’امی!‘‘ ایک دلخراش چیخ اندھیرے میں دور دور تک سنی گئی۔ گارڈ نے لگاتار کئی ہوائی فائر کئے۔ وہ جھپٹ کر لان سے کمرے میں آیا اور سرچ لائٹ اٹھا کر وہ تیزی سے زینہ طے کرتا ہوا بالکل کمانڈو ایکشن میں وہ آواز کی سمت کا تعین کرتے ہوئے نور محل کی تیسری منزل پر موجود تھا۔ اس نے روشنی اس کے چہرے پر ڈالی تو وہ نیم مردہ سی منڈیر کے کونے پر گری پڑی تھی۔
’’تم…؟‘‘ وہ حیرت سے دو قدم اور آگے بڑھا ہی تھا کہ فاطمہ گھبرا کر کمرے سے باہر آ گئی تھیں۔
’’ارے کہاں ہے وہ؟‘‘ ان کی آواز خوف سے لرز رہی تھی‘ وہ جلدی سے اس کی طرف بڑھیں اور جھک کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
’’کیا ہوا میری بچی بولتی کیوں نہیں‘ یہاں اندھیری رات میں کیا کرنے آئی تھی؟‘‘ ان کی آواز ابھی تک کپکپا رہی تھی‘ ایک خوف تھا جو ان کے چہرے پر عیاں تھا۔ وہ اس کو اپنی بانہوں کے گھیرے میںلیتے ہوئے‘ اس کے گیلے بالوں کو سمیٹ رہی تھیں اور وہ کسی منجمد برف کی طرح ابھی تک بے سدھ سی پڑی تھی۔ سرچ لائٹ کی روشنی میں اس کا بھیگا ہوا وجود اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ مسلسل کئی گھنٹوں سے وہ کھلی چھت پر تھی‘ وہ چیخی کیوں، یہ ایک راز تھا؟ کون تھا وہ یہ ایک سوال تھا؟ جس نے فہد مصطفی کو کسی گہری سوچ میں مبتلا کر رکھا تھا۔
’’میں تم سے پوچھ رہا ہوں وہ کون تھا؟ تم بولتی کیوں نہیں ہو‘ جواب دو۔‘‘ اس نے ٹارچ کی پوری روشنی اس کے چہرے پر ڈالی تو اس نے اپنا چہرہ بائیں جانب موڑ لیا‘ اندھیری رات کے سناٹے میں وہ بھیگی منڈیر کے کونے میں سہمی ہوئی کھڑی تھی۔
’’کیا ہوا؟ کون چیخا تھا اتنی زور سے۔‘‘ برابر والی بالکونی میں کوئی وہیں سے پوچھ رہا تھا‘ ساتھ والی کوٹھی کی چھت پر بھی لوگ آ گئے تھے۔
’’خیریت تو ہے سب؟‘‘ کچھ لوگ سڑک پر نکل آئے تھے۔
’’تم بولتی کیوں نہیں ہو۔‘‘ وہ اور قریب آ گیا‘ وہ تھرتھر ابھی تک کانپ رہی تھی… سماعت سے بہری اور بصیرت سے آج وہ اندھی ہو گئی تھی‘ لب کھولنا چاہتی تھی پرخوف غالب آ گیا تھا۔ فہد بضد تھا کہ وہ جواب دے لیکن وہ سر جھکائے سہمی ہوئی آشفتہ سو کھڑی تھی۔
’’کیا ہوا فاطمہ! سب خیریت تو ہے؟‘‘ دلہن چچی بھی اوپر پہنچ گئی تھیں۔
’’لگتا ہے ڈر گئی۔‘‘ ان کی نظر شیزرے پر پڑی تو وہ خود ہی بول پڑیں۔
’’نجانے کیا ہوا میں تو گہری نیند میں تھی‘ یہ چیخی تو آنکھ کھلی‘ اﷲ ہی جانے کس چیز سے ڈر گئی۔‘‘ فاطمہ خود حیران سی اس کی بھیگی لٹوں کو بار بار کان کے پیچھے کر رہی تھیں اور وہ خود ساکت سی کھڑی تھی۔
’’ٹھیک ہے بیٹا! میں اس کو سنبھال لوں گی‘ تم جائو شاید یہ کسی سے ڈر گئی۔‘‘ شاید فاطمہ بات کی تہہ تک پہنچ گئی تھیں یا پھر کسی بات کا خوف تھا جو اس کی موجودگی سے فوراً ہی پیدا ہوا تھا۔ اس نے چاروں طرف روشنی ڈالی‘ پوری کھلی چھت برسات میں بھیگی پڑی تھی‘ وہ آہستہ سے دوسرے سرے پر گیا پھر وہاں سے اس نے پورے نور محل کا جائزہ لیا‘ اس کے اردگرد ایک پرندہ بھی نہیں جاگ رہا تھا‘ ہر طرف ایک خوفناک سناٹا تھا جو گارڈ کی فائرنگ اور شیزرے کی چیخ سے پھیل گیا تھا‘ اردگرد رہنے والے اپنے گھروں میں دبک گئے تھے‘ گویا کہیں سخت مقابلہ ہوا ہے… لیکن پھر مسلسل خاموشی سے چند منٹ بعد ہی لوگ گھروں کی کھڑکیوں سے جھانک کر باہر کا جائزہ لینے لگے۔
’’کیا ہوا خیریت تو ہے فاطمہ خالہ! شیزرے کیوں چیخی تھی؟‘‘ برابر والی کوٹھی سے نکل کر کوئی بالکونی پر آ کر پوچھ رہا تھا۔
’’یہ چیخ تو اوپر والی منزل سے آئی تھی‘ پھر گارڈ نے لگاتار کئی فائر کئے‘ اﷲ جانے کیا ہوا ہے‘ میں تو جاگ ہی رہی تھی۔‘‘ کوئی پڑوسن دوسری پڑوسن کو اطلاع فراہم کر رہی تھی۔
’’سب خیریت تو ہے۔‘‘ کئی افراد گھروں سے نکل کر سڑک پر آ گئے تھے۔
’’صاحب! دور دور تک کوئی نہیں ہے۔‘‘ باڈی گارڈ جو فہد کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا چھت کے چاروں طرف چکر لگا چکا تھا بولا تھا۔
کھلی چھت پر ٹین تلے‘ جہاں اکو میاں نے کبوتروں کی کابکوں کو رکھا ہوا تھا‘ وہیں پر پڑی ہوئی بان کی چارپائی پر بے سدھ سے پڑے وہ سو رہے تھے۔ اس نے قریب آ کر ٹارچ سے روشنی ان کے 

 

چہرے پرڈالی‘ تو وہ تھوڑا سا نیند میں یوں کسمسائے گویا بہت گہری نیند چکا رہے ہوں۔ ایسی بے خبر نیند پر دوسری طرف حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔ آس پاس کے لوگ گھروں سے نکل آئے تھے‘ لیکن ایسی بھی نیند کیا کہ بیٹی کی چیخ پر ان کی آنکھ نہ کھلی‘ بس یہی ایک نکتہ تھا جہاں وہ خود سوچ میں پڑ گیا۔
’’اکو چچا!‘‘ اس نے بھاری آواز میں پکارا‘ تو وہ برسوں کی مسافت بھرے لہجے میں آنکھ کھول کر دیکھنے لگے۔
’’ارے میاں آپ!‘‘ وہ انجان سے بنے اور اٹھ کر بیٹھ گئے‘ چاروں طرف نظر دوڑائی اردگرد بھی کچھ لوگ نظر آئے۔
’’میاں! خیریت تو ہے؟‘‘ وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اس نے ایک گہری نظر ان کے بھیگے وجود پر ڈالی تو وہ کچھ شرمندہ سے ہو کر بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگے۔
’’ٹین کی چھت کہیں کہیں سے ٹوٹی ہے۔‘‘ وہ مسلسل اپنا ہاتھ گیلے کپڑوں پر پھیر رہے تھے۔
’’آپ نے یہاں کوئی چیخ کی آواز سنی؟‘‘ فہد نے براہ راست سوال کیا تھا۔
’’ارے وہ ہو گی اپنی شیزرے‘ اسے تو بلی سے بھی ڈر لگتا ہے۔‘‘ اکو میاں کو زور کی ہنسی آئی اور ٹین تلے سے نکل کر وہ باہر آ گئے۔ ایک دوسرے کو خبر ہوتی گئی‘ کئی لوگ نور محل کی چھت کے اوپر آ گئے تھے۔
’’جہاں کبوتر ہوتے ہیں میاں وہاں یہ بلیاں ضرور آتی جاتی ہیں‘اسی لئے تو میں یہاں پڑا سو رہا ہوتا ہوں۔‘‘ اکو میاں فہد کے قریب کھسک کر آئے کیوں کہ انہیں فہد سے یوں بھی خوف آتا تھا۔
’’اب ذرا دھیان رکھیئے گا‘ اب اگر بلی نے حملہ کیا تو میں شوٹ کر دوں گا۔‘‘ یہ سن کر اکو کو جھرجھری سی آ گئی۔
وہ بُرے طریقے سے پانی میں شرابور تھی‘ یوں لگتا تھا بھری برسات اس پر سے گزر گئی ہے‘ کپڑوں کے ساتھ ساتھ ابھی تک دل کے اندر نجانے کون سا موسم بھیگ رہا تھا۔
’’بولو! تم کیوں چیخی تھیں؟ کیا ہوا تھا تمہیں؟‘‘ اس نے سرچ لائٹ دوسرے ہاتھ میں تھامی اور دائیں ہاتھ سے اس کی بھیگی ہوئی کلائی تھام لی تھی‘ لیکن اسے ہوش کب تھا‘ وہ اپنی سدھ بدھ تو پہلے ہی گنوا چکی تھی وہ بھربھری ریت کی طرح بے ساختہ زمین پر گرنے والی تھی کہ اس نے اسے تھام لیا‘ فاطمہ اس کے وجود سے لپٹ گئی تھیں۔
’’شیزرے !ہوش میں آئو‘ کچھ نہیں ہوا‘ اندر چلو پوری بھیگ چکی ہو‘ کیوں جان گنوانے آئی تھیں۔‘‘ نجانے فاطمہ کی نظروں میں ایسا کیا تھا کہ فہد کو بھی کچھ محسوس ہوا‘ اس نے بہت گہری نظروں سے بے ہوش ہوتی ہوئی شیزرے پر نظر ڈالی تھی‘ پھر سب کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے خودبخود ہاتھ چھوٹ گیا اور ایک معمولی سی آہٹ پر جھپٹ کر چھت کی بائونڈری سے سرچ لائٹ ڈال کر گندی گلی میں جھانکا جہاں ابھی ایک کتا کسی کو دیکھ کر بھونکا تھا‘ تیز تیز قدموں سے جانے والے کو اس نے غور سے دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ رات کی تاریکی میں دور نکل گیا۔ اس نے بہت غور سے پلٹ کر شیزرے کو دیکھا پھر ایک نظر میں اس نے پوری بھیگی ہوئی چھت کا جائزہ لیا تھا۔
…… ٭……
رات کی بارش جو تھم چکی تھی‘ یہ ملگجی سی ایک صبح تھی‘ ابھی تک شیزرے کمبل اوڑھے ہوئے بے خبر سو رہی تھی‘ تبھی اکو میاں اس کے قریب سے کچھ اس طرح سے گزرے کہ وہ چیخ کر اٹھ بیٹھی۔
’’ابا…!‘‘ کہہ کر وہ اپنا پیر تھامے بیٹھی تھی‘ اکو میاں نے پلٹ کر دیکھا اور غصے سے منہ پھیر کر واش روم کی طرف چل دیئے‘ فاطمہ غصے سے ان کی طرف دیکھ کر بولیں۔
’’تم دیکھ کر نہیں چل سکتے۔‘‘ وہ غصے سے کام کرتے ہوئے کچن سے باہر آ گئی تھیں۔
’’بس بہت ہو گئی ہے‘ جتنی جلدی ہو سکے میں اس کو ہنکال دوں گا۔‘‘ وہ نفرت سے منہ پھیر کر بولے تو فاطمہ بولیں۔
’’گائے بکری ہے ناں جسے تم ہنکا ل دو گے۔‘‘ وہ بہت شدید غصے سے بولیں۔
’’روز بروز یہ ہمارے سر کی ٹینشن اور بلا بنتی جا رہی ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کل کس طرح وہ تفتیشی افسر بنا مجھے دیکھ رہا تھا۔‘‘ اکو پوری آنکھیں نکال کر بولے۔
’’تو تم بھی تو ایسا بنے سو رہے تھے‘ ایسی بھی کیا بے خبری کہ سارا محلہ اکٹھا ہو گیا اور تم سوئے پڑے رہے۔‘‘ وہ بے حد متفکر سی ہو کر بولیں۔
’’زبان کاٹ کر رکھ دوں گا کسی دن‘ بس اتنا کہے دے رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے قہر آلود نظر شیزرے پر ڈالی تو وہ خوف سے لرز کر دوبارہ کمبل کھینچ کر لیٹ گئی۔
’’بس تم جائو‘ دیکھو لوگ باہر تمہیں آواز دے رہے ہیں۔‘‘ فاطمہ نے یہی مناسب سمجھا تھا کہ بات ٹل جائے۔ وہ گھورتے ہوئے باہر چلے تو گئے تھے مگر شیزرے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم بھی بس… اتنی سی بات اور ساری دنیا میں شور ہو گیا‘ ہزار بار تو میں نے کہا ہے کہ تم کھلی چھت پر مت جائو اندھیری رات میں‘ ڈھائی تین کا پہر اور تم یوں اکیلی کھلی چھت پر گھومو گی تو ڈر تو لگے گا۔‘‘
’’امی…! رہنے ہی دیں آپ‘ میں آگے آپ کو کیا بتائوں۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
’’خیر مجھے سننے کی ضرورت بھی نہیں ہے اپنی حفاظت انسان خود کرتا ہے ہم دوسروں پر الزام کیوں رکھیں‘ ایک تو تمہارے ابا نے ہزاروں چرند پرند پال رکھے ہیں تو بلیاں تو آئیں گی‘ میں تو کہتی ہوں ہزاروں بلائیں اوپر اندھیرے میں گھومتی پھرتی ہیں۔‘‘
 

 

’’بس امی بس‘ رہنے دیں آپ‘ ابا سے بڑی کوئی بلا ہو سکتی ہے بھلا‘ پھر میں بتائوں امی آپ کو‘ پورے محلے میں ابا مشہور ہیں کہ چھولے اور چاٹ کی آڑ میں ابا چرس کی پڑیا بیچتے ہیں۔‘‘ وہ دل جلے انداز میں بولی۔
’’چپ رہ خوامخواہ کی بات مت نکالو۔‘‘ فاطمہ نے بیٹی کو ڈانٹ دیا تھا۔
’’نہیں‘ سارے لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں‘ سب مجھ پر شک کرتے ہیں کہ میں ان کی بیٹی ہی نہیں ہوں۔‘‘ وہ ماں سے ناراض ہوئی تھی۔
’’شیزرے!‘‘ ماں کی آواز میں تنبیہ جھلک رہی تھی۔
’’میرا دل تو کرتا ہے میں ایک دن ساری چرس کی پڑیا کھول کر ابا کے چھولوں میں ملا دوں‘ ابا کے جتنے چاہنے والے ہیں وہ سب کھا کر مر جائیں اﷲ کرے۔‘‘ وہ دُکھی دل سے بولی۔
’’میں کہتی ہوں تم چپ نہیں ہو سکتیں‘ اس کے بھی کان اِدھر ہی لگے ہوں گے پھر سنائے گا کھری کھری‘ پھر رونے مت بیٹھ جانا۔‘‘ فاطمہ نے بیٹی کو بولنے سے باز رکھا مگر وہ تھی کہ آہستہ آہستہ کچھ نہ کچھ بولے جا رہی تھی۔
’’امی! مجھے دوبارہ دوا دے دیں۔‘‘ وہ کھانستے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’میں لے کر آتی ہوں‘ گھر میں ٹیبلٹ نہیں ہیں۔‘‘
’’نہیں امی نہیں‘ مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیں مجھے ابا سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ وہ روہانسی ہو گئی۔
’’خوامخواہ کی بات کہ ابا سے ڈر لگتا ہے‘ اب تم اگر دوسرے کے سامنے ایسی بات کرو گی تو دنیا کیا سوچے گی ہمارے تمہارے بار ے میں۔‘‘ فاطمہ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں ماتھے پر رکھتے ہوئے بولیں۔
’’رہنے دیں امی! مجھے ٹھنڈ لگ جائے گی۔‘‘ اس نے ماں کا ہاتھ تھام لیا۔
’’بس دو چار پٹیوں کے بعد ٹمپریچر تمہارا کم ہو جائے گا۔‘‘ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہوئے دیکھ کر وہ بولیں۔
’’میراخود دل چاہتا ہے کہ میں تمہیں لے کر بھاگ جائوں کہیں چھپ جائوں جہاں تمہیں کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے‘ شیزرے! مجھے تمہارے دل کی خبر ہے بیٹا ایسے خواب مت دیکھو جو ہم پورے نہ کر سکیں اور ذلیل و رسوا بھی ہو جائیں۔‘‘ تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور ماں کے دونوں ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیے‘ فاطمہ کی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہنے لگے۔ 
’’امی…!‘‘ وہ دکھ سے کراہ کر اٹھ بیٹھی۔ ماں اپنا منہ پھیر گئی۔
’’امی! آپ کو پتہ ہے دو چار دن میں عباد بھائی آ رہے ہیں۔ خوب تیاریاں ہو رہی ہوں گی وہاں تو ۔‘‘ماں نے سر ہلا کر اس کا جواب دیا تھا۔
’’امی! حریم اور عباد بھائی کی جوڑی اچھی لگتی ہے ناں‘ مجھے کوئی پوچھنے تو نہیں آیا؟‘‘ اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر ماں کی جانب دیکھا۔
’’کرن آئی تھی صبح صبح کہ دادی جان شیزرے کو بلا رہی ہیں۔‘‘
’’پھر امی؟‘‘
’’میں نے بتا دیا ہے کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’امی! کل جو کچھ ہوا مجھے اس کا افسوس ہے مگر آپ ابا کو کیوں نہیں سمجھاتیں۔‘‘
’’کیا سمجھائوں میں تیرے باپ کو‘ بس جو میں کہتی ہوں وہ کرو۔‘‘
’’امی! ایک کمرے میں میرا دم گھٹتا ہے میں تھوڑی دیر کے لئے چھت پر نکلتی ہوں تو ابا کو کیا تکلیف ہے۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’تکلیف کچھ نہیں ہے بس وہ اپنی عادت سے مجبور ہے‘ بس تم میری بات مان لو اور ہاں یہ ہر وقت اوپر نیچے آنا جانا بھی مجھے اچھا نہیں لگتا۔ بیٹا! عذرا بھابی تو بے حد نیک اور اچھی عورت ہیں مگر بیٹا سعدیہ دلہن ہم لوگوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتیں۔‘‘
’’کوئی نہیں امی! ہر وقت تو وہ مجھے آواز دیتی رہتی ہیں۔ آپ کو وہم ہے‘ سبھی لوگ کتنے اچھے ہیں امی‘ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو…‘‘ اس کی نظر ماں کی جانب تھی۔
’’تو… کوئی کسی کا نہیں ہوتا‘ سب اپنی دنیا میں جیتے ہیں شیزرے! غریبوں کا کوئی نہیں ہوتا یہ بات ذہن میں رکھ لینا‘ مال و دولت کو چھوڑو یہ حسب اور نسب بھی کھنگال کر رکھ دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ اماں نے تمہیں اپنے گھر میں بچیوں کے جیسا درجہ دیا ہے بے حد نیک اور اچھی ہیں اماں مگر پھر بھی ان کے اردگرد تو کچھ لوگ بستے ہیں۔‘‘
’’او نو امی! باقی سب لوگ بھی ویری نائس ہیں۔‘‘ کہہ کر وہ ہنس پڑی‘ فاطمہ نے مسکراتی ہوئی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھا۔
 
of 146 
Go