Urdu Novels

Back | Home |  
وہ عشق جو ہم سے رُوٹھ گیا
اب یاد دلائیں کیا تم کو
یہ سال بھی آخر بیت گیا
اور اپنا کبھی کچھ دوش نہیں
یہ بازی بھی جگ جیت گیا؟
وہ سرد ہوائیں اب بھی ہیں
رنگین فضائیں اب بھی ہیں
وہ بھیگے بھیگے پانی کی پرشور صدائیں اب بھی ہیں
میں اب بھی وہاں جاتا ہوں اور دل اپنا سلگاتا ہوں
اب تم جو نہیں ہو ساتھ میرے
ہوتے ہیں خالی ہاتھ میرے
پرشور صدائیں پوچھتی ہیں‘ وہ سرد ہوائیں پوچھتی ہیں
کہاں وہ تیرا میت گیا
کیا پھر یہ زمانہ جیت گیا
بلیک گرم شال اچھی طرح اپنے گھٹنوں کے گرد لپیٹے وہ لائونج میں ’’یااللہ‘ یارحمن‘ یارحیم‘‘ کی تسبیح کر رہی تھی جب حویلی کے مہیب سناٹے کو چیرتی ریاض لالہ کی گرج دار آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’خبردار جو کل سے کسی نے اسے شہر جانے دیا۔ میں ٹانگیں توڑ دوں گا اس کی اور اسے گھر سے باہر نکالنے والوں کی بھی۔‘‘
غصہ ریاض لالہ کی ناک پر دھرا رہتا تھا۔
شافیہ نے آہستہ سے سر جھکا کر گھٹنوں میں چھپالیا۔ اس کے سر میں یکلخت شدید درد کی لہریں ہلکورے لینے لگی تھیں۔ تب ہی اس نے یمنیٰ کی آواز سنی تھی جو ریاض لالہ کی اکلوتی چہیتی بیٹی تھی۔
’’میں جائوں گی کالج۔ کوئی اسٹوپڈ اگر مجھے پریشان کرتا ہے تو اس کے لیے میں اپنے کیرئیر کو تباہ نہیں کر سکتی۔‘‘
’’شٹ اپ…‘‘
ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ریاض لالہ کے بڑے بیٹے سبحان کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور یمنیٰ کے گالوں پر اپنی انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا۔
’’تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ہمارے گھر کی عورتیں مردوں سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں۔ پاپا نے جو کہہ دیا، سو کہہ دیا۔ مزید بحث کی گنجائش نہیں ہے اب…‘‘
’’کیوں نہیں ہے بحث کی گنجائش۔ میں کوئی بے زبان جانور ہوں جو آپ لوگ میری قسمت کا فیصلہ سنا دیں اور میں چپ چاپ خود اپنا ہی تماشہ دیکھتی رہوں جس کا قصور ہے اسے سزا دیں۔ میں کسی طور اپنی تعلیم سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔‘‘
اس کی رگوں میں بھی شاہوں کا خون تھا۔
 

ریاض لالہ کا غصہ آسمان کو چھو گیا۔
’’فضول بک بک بند کرو یمنیٰ اور جائو اپنے کمرے میں۔‘‘
اس کے لہجے کی خودسری انہیں کسی طور نہیں بھائی تھی۔ وہ ابھی کچھ کہتی مگر بھابی جان کی آنکھوں میں التجا دیکھ کر غصے سے سر جھٹکتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی۔ اس کے کمرے میں جانے کے بعد ریاض لالہ نے بھابی جان سے کہا تھا۔
’’اس کے لیے فوراً کوئی اچھا سا لڑکا تلاش کرو شگفتہ۔ اسی مہینے فرض ادا ہو جائے تو بہتر ہے۔‘‘
’’جی…‘‘
بھابی جان سر جھکا کر محض یہی کہہ سکی تھیں۔
اندر لائونج میں بیٹھی شافیہ کی آنکھوں سے ایک گرم آنسو پھیل کر گالوں سے لڑھکتا ہوا گریبان میں جذب ہو گیا۔
اس کا دل جیسے رک رک کر چل رہا تھا۔
’’یااللہ‘ یارحمن‘ یا رحیم۔‘‘
سناٹے کو چیرتی اس کی کمزور آواز مزید بلند ہو گئی۔
اگلے ہی پل وہ لائونج سے اٹھ کر اپنے کمرے میںچلی آئی جہاں یمنیٰ اس کے بیڈ پر بیٹھی گود میں تکیہ چھپائے رو رہی تھی۔
’’یمنیٰ!‘‘
دروازہ بند کر کے وہ جیسے ہی اس کے قریب آئی یمنیٰ لپٹ کر رو پڑی۔
’’شافیہ! میں اس حویلی کو آگ لگا دوں گی۔ اس پورے گائوں کو تباہ کر ڈالوں گی میں۔ یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں۔ عورت کوئی بے جان کھلونا ہے ان کے ہاتھوں میں جس کے ساتھ یہ جب جیسا چاہیں سلوک کریں اور کوئی انہیں کچھ کہنے والا نہ ہو۔ جہنم میں جائیں ان کے گھٹیا اصول۔ لگے آگ ان کی اونچی شان کو۔ اگر عورت کی تمنائوں اور خوابوں کا خون کر کے برادری میں یہ اپنی ناک اونچی کرتے ہیں تو میں ٹھوکر مارتی ہوں ان کی جھوٹی شان وشوکت کو۔ میں خود کو ان کے جاہلانہ فیصلوں کی بھینٹ نہیں چڑھائوں گی شافیہ۔ میں اپنے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
وہ اس کے سینے سے لگی بلک رہی تھی۔
شافیہ سکون سے اسے تسلی دیتی۔ بہت ملائمت سے اس کے سلکی بال سہلاتے ہوئے چپ بیٹھی رہی۔
٭…٭…٭
بارش خاصی تیز ہو رہی تھی۔
گرین ہائوس میں اس وقت عجیب افراتفری کا سماں تھا۔ بجو‘ آپاجان‘ چھوٹی آپا سب اماں جی کے کمرے میں موجود تھیں جب کہ اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر بے قراری سے ٹہلتے اباجی کا اضطراب اپنے عروج پر تھا۔
بات ہی ایسی تھی۔
وہ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے۔ بڑا بیٹا اور بیٹی نہ صرف شادی شدہ تھے بلکہ بال بچوں والے بھی تھے۔ باقی چار بچے بھی خاصے بڑے ہو چکے تھے اور اب… پورے پندرہ سال کے بعد قدرت پھر انہیں اولاد کی نعمت سے نواز رہی تھی۔ ایک عجیب سی شرم کے حصار میں گھرے وہ اپنے کمرے سے قدم باہر نہیں نکال رہے تھے جب اچانک ہی 

دایہ نے مسرت بھرے لہجے میں خوشخبری سنائی۔
’’مبارک ہو بڑے میاں۔ اللہ نے بڑا کرم کیا ہے۔ کیا گول مٹول پیاری سی بچی سے نوازا ہے آپ کو۔ ماشاء اللہ زچہ وبچہ دونوں خیریت سے ہیں۔‘‘
انہیں خوشی ہوئی تھی مگر شرمساری کے عجیب سے احساس میں گھرے وہ اب بھی خاموش ہی رہے تھے۔ گرین ہائوس میں ان کے علاوہ چھ افراد تھے جن میں اماں جی‘ غزالہ لالہ‘ اعجاز لالہ‘ رضیہ بجو‘ ریاض لالہ‘ بھابی اور منزہ بجو شامل تھیں۔ ریاض لالہ کے دو بیٹے اس کے علاوہ تھے۔
پچھلے دو سال سے اماں جی کی طبیعت ناساز چلی آ رہی تھی۔ ان کے سر میں ہمہ وقت درد رہتا تھا۔ ایسے میں روشنی کی پیدائش ان کے لیے کسی بھاری ذمہ داری سے کسی طور کم نہیں تھی۔
یہ درست تھا کہ روشنی نے جب اس گھر میں آنکھ کھولی تھی تو سب ہی ایک دوسرے سے نگاہیں چراتے تھے مگر بہت جلد اس نے گھر کے تمام افراد کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔ اس کے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جو دیکھنے والے کو اپنی جانب کھینچتی تھی۔
چہرے کے ساتھ اس کی گول جسامت بے حد بھلی لگتی تھی۔ یوں جلدی وہ سب کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ اماں جی اور اباجی کے ساتھ ساتھ فراز لالہ کی اس سے محبت مثالی تھی۔ گھر میں آنے کے بعد وہ اس سے ایک منٹ غافل رہنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ اس کی تمام چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری کرنے کی ڈیوٹی بھی ان کی تھی۔ وہ انگیج تھے اور ان کے ساتھ ہی رضیہ بجو کی نسبت بھی خاندان میں ہی طے تھی۔
روشنی نے جب ہوش سنبھالا اسے اپنے ہر طرف خوشیوں کی بہاریں‘ خوش آمدید کہتی محسوس ہوئیں تاہم ابھی وہ صرف چار سال کی تھی کہ ایک شب اچانک اماں جی کی وفات ہو گئی۔ اسے اماں جی کے سینے سے لگ کر الٹا سونے کی عادت تھی مگر اماں جی کی اچانک جدائی نے اس کے ننھے سے اعصاب پر خاصا گہرا اثر ڈالا اور وہ گم صم ہو کر رہ گئی۔
اماں جی کی وفات کے بعد اباجی اور فراز لالہ جنہیں وہ اپنی توتلی زبان میں بڑے پیار سے ’’بڑے لالہ‘‘ کہہ کر پکارتی تھی ‘ نے سب سے زیادہ اس کے دکھ اور احساسِ محرومی کو سمجھتے ہوئے اس پر اور زیادہ توجہ اور پیار نچھاور کر دیا۔ وہ اب اباجی کے پاس ان کے سینے سے لگ کر الٹی سوتی تھی۔
ریاض لالہ ان دنوں کاروبار میں اباجی کا ہاتھ بٹاتے تھے جب کہ فراز اور اعجاز لالہ اکٹھے اسکول پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ فراز لالہ کی جتنی چہیتی تھی‘ اعجاز لالہ کے ساتھ اتنے ہی اس کے جھگڑے چلتے رہتے تھے۔ اباجی کے بچوں میں وہ چوتھے نمبر پر تھے۔
سب سے بڑی آپاجان پھر ریاض لالہ ان کے بعد فراز لالہ پھر اعجاز لالہ ان سے دو سال چھوٹی رضیہ بجو اور منزہ بجو کے بعد اس کا نمبر آتا تھا۔
جن دنوں اس نے نیا نیا اسکول جوائن کیا تھا ان دنوں گویا زندگی کی ہر شے اس کے لیے خوب صورت تھی۔ اسے اپنی کتابوں‘ قلم‘ بیگ‘ یونی فارم جیسے ہر چیز سے عشق تھا۔ ابتدا میں کئی لڑکیاں اس کے ساتھ بیٹھتی تھیں جن سے اسے دوستی کا دعویٰ بھی تھا مگر چھٹی جماعت میں آ کر نمیرہ سے اس کی دوستی پکی ہو گئی۔
سیدھے سادے مزاج کی حامل قدرے شوخ وچنچل سی نمیرہ نے بہت جلد اس کے دل میں اپنا خاص مقام پیدا کر لیا تھا۔ دونوں میں بہت لگائو تھا۔ روشنی کے چہرے کے خوب صورت نقوش اور بوائے کٹ بالوں کا اسٹائل اسے بہت پسند تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی دسویں سالگرہ پر اس نے پوری کلاس اور تمام ٹیچرز کے ساتھ ساتھ اسے خصوصی طور پر انوائٹ کیا تھا۔
اپنا برتھ ڈے کیک کاٹنے کے بعد وہ اس کا ہاتھ تھام کر خوشی خوشی اسے اپنے گھر کے تمام افراد سے ملا رہی تھی۔
’’مما! یہ روشنی ہے۔ میری بہت پیاری‘ سب سے پیاری بیسٹ فرینڈ۔‘‘ اس کے لہجے میں فخر تھا۔ نمیرہ کی مما نے اسے بہت پیار کر ڈالا۔
’’ماشاء اللہ بہت پیاری بچی ہے۔ بیٹا کہاں رہتی ہو…؟‘‘
’’جی حسین آگاہی میں۔‘‘ نمیرہ کی مما کے پہلے سوال کا جواب اس نے خاصے اعتماد کے ساتھ دیا تھا۔
of 68 
Go