Urdu Novels

Back | Home |  
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پہ  ۔۔۔۔۔نگہت سیما
بھاگتے بھاگتے اس کی سانس پھول گئی تھی لیکن وہ بھاگ رہی تھی۔ بھاگتے ہوئے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اُبھرے ہوئے پتھر سے ٹھوکر کھا کر گر پڑی۔ پائوں میں پہنا ہوا بیڈ روم سلیپر دور جا گرا تھا۔ اس نے بے اختیار پائوں کو دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا، دُور تک کوئی نہیں تھا۔ لمبی لمبی سانس لیتے ہوئے اس نے ہاتھ ہٹا کر پائوں کا انگوٹھا دیکھا۔ ایک طرف سے ناخن اُتر گیا تھا اور خون رِس رہا تھا۔ لیکن درد بے تحاشا تھا۔ دائیں ہاتھ سے پائوں کو دباتے ہوئے وہ چاروں طرف سر گھما گھما کر دیکھ رہی تھی۔ جب کوئی نظر نہ آیا تو اطمینان بھری سانس لیتے ہوئے اس نے کچھ فاصلے پر پڑے اپنے جوتے کو دیکھا۔ یہ بیڈ روم سلیپر اُس نے ناران سے خریدے تھے۔ میرون مخمل کے اپر والے یہ سلیپر بہت گرم تھے اور اسے بہت پسند تھے۔ یک دم کسی یاد نے اُس کے دل میں چٹکی لی۔ ساتھ ہی پائوں میں درد کی شدید لہر اُٹھی تھی۔ وہ کھڑے ہوتے ہوئے پھر بیٹھ گئی اور ایک لمحے کے لئے اردگرد سے بے خبر ہو گئی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے وہ ناران پہنچ گئی تھی۔
افروز کے بازو کا سہارا لئے چڑھائی سے اترتے ہوئے اس کی نظر اس چھوٹی سی دکان پر پڑی تھی، جس پر بیٹھا ہوا بوڑھا ہمیشہ ہی اُنہیں پُر اُمید نظروں سے دیکھتا تھا۔ تب بے اختیار ہی وہ اس کی دکان کی طرف بڑھ گئی تھی اور بلاضرورت ہی یہ بیڈ روم سلیپر لے لئے تھے۔
اٰس نے پھر اٹھ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن اسے لگا، جیسے وہ چل نہیں سکے گی۔ پائوں میں شدید درد تھا۔ نچلا ہونٹ دانتوں تلے مضبوطی سے دبائے اس نے بائیں پائوں پر زور دیتے ہوئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ دائیں طرف ایک چھوٹے سے ٹیلے کے پیچھے سے وہ اچانک نمودار ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ تکلیف کی پروا کئے بغیر بھاگ کھڑی ہوتی، وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔ وہ یک دم بیٹھ گئی تھی۔ پائوں میں درد کی لہریں اُٹھ رہی تھیں اور وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ دیئے تفکر سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے سر پر گرم اُونی سفید ٹوپی تھی اور وہ نہایت قیمتی لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔
’’میں اُدھر ریسٹ ہائوس کے ٹیرس پر کھڑا تھا۔ میں نے دور سے آپ کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔ کیا ہوا تھا؟ آپ اس بری طرح کیوں بھاگ رہی تھیں؟ میں فوراً نیچے اُترا لیکن پیچ در پیچ راستوں کی وجہ سے آپ یک دم نظروں سے اوجھل ہو گئیں اور اب اس ٹیلے پر سے میں نے آپ کو یہاں بیٹھے دیکھا۔‘‘
اُس نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ دل سینے کے اندر اب بھی معمول سے زیادہ زور سے دھڑک رہا تھا۔ دسمبر کی اس یخ صبح میں بھی اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے تھے اور تکلیف کی شدت سے چہرے کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔

’’اوہ میرے خدا۔۔۔۔ آپ کا پائوں، کیا ٹھوکر لگی ہے؟‘‘ اُس کی نظر اچانک ہی اس کے پائوں پر پڑی تو وہ یک دم بیٹھ گیا اور اس کے پائوں کو بغور دیکھا۔
’’غالباً موچ آ گئی ہے۔‘‘ اتنی دیر میں پائوں کچھ سوج چکا تھا۔
’’تھوڑا سا ناخن بھی اُتر گیا ہے۔ یہ اب پورا اُتر جائے گا۔ لیکن آپ پلیز اسے چھیڑیئے گا مت۔ خود ہی اُترے گا، جب نیچے نیا ناخن نکلے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں نرمی اور آنکھوں میں تشویش تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کے پائوں کو ذرا سا دبا کر چھوڑ دیا اور پھر کھڑا ہو گیا۔
’’میرے خیال میں آپ کے لئے ان پتھریلے راستوں پر چلنا مشکل ہو گا۔ آپ یہیں بیٹھیں، میں روڈ کی طرف سے جیپ لے کر آتا ہوں۔ میں تو آپ کو بھاگتا ہوا دیکھ کر اپنے ریسٹ ہائوس کی بیک سے آیا ہوں۔‘‘
اُس نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا اور پھر چاروں طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر لکھا خوف صاف پڑھا جا رہا تھا۔
’’اوہ۔۔۔۔ کیا آپ کسی سے ڈر کر بھاگی تھیں؟ کوئی آپ کا پیچھا کر رہا تھا؟‘‘
’’ہاں۔ مجھے ایسا ہی لگا تھا۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔
’’آپ یہاں اکیلے بیٹھتے ہوئے ڈریں گی تو پلیز، آپ میرا سہارا لے لیں، کسی طرح ڈاک بنگلے تک چلتے ہیں۔ پھر وہاں سے جیپ لے کر پہلے میں آپ کو ڈسپنسری لے چلتا ہوں۔ ویسے تو موچ ہی ہے، پھر بھی احتیاطاً دکھا لیتے ہیں اور گل لالہ کو دکھانے کے بعد آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
اس وقت اُس کا دل شدید خوف کی زد میں تھا اور وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہی تھی۔ اُس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو جھجکتے ہوئے اس کے بازو کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
تبھی اُس کی نظر سامنے پتھروں پر پڑی چپل پر پڑی اور پھر اُس کے ننگے پائوں پر۔
’’آپ یہ ۔۔۔۔ یہ بیڈ روم سلیپر پہن کر ان پتھروں پر دوڑ رہی تھیں؟ باہر آنے سے پہلے جوگرز یا کوئی بند جوتے پہنا کریں۔‘‘ اسے نصیحت کرتے ہوئے وہ اس کے سلیپر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ پائوں میں بہ مشکل اسے پہنتے ہوئے تمکین نے وضاحت کی۔
’’میں یونہی ٹیرس پر کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔ سامنے کا سارا منظر دُھند میں لپٹا ہوا اور اس قدر خوب صورت لگ رہا تھا۔ اور پھر پہاڑوں کے پیچھے سے نمودار ہوتا سورج۔ میں بے خود سی ہو کر باہر نکل آئی۔ جوگر پہننے کا مجھے خیال ہی نہیں آیا۔‘‘

’’ہاں، یہ منظر اور ان کا حُسن ایسے ہی پاگل کر دیتا ہے۔‘‘ وہ اسے سہارا دیتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’’میں جب یہ اور اس کے آس پاس کے مناظر دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے مجھے کہ میں پہلے کیوں ادھر نہیں آیا۔‘‘
’’آپ اتنے ٹھنڈے موسم میں یہاں صرف اس علاقے کا حُسن دیکھنے آئے ہیں؟‘‘
وہ مدھم سا مسکرایا۔
’’میں جب یہاں آیا تھا تو مجھے علم نہیں تھا کہ یہاں اتنا حُسن ہو گا۔‘‘
یہ شخص پہلے چار دن سے ڈاک بنگلے میں نظر آ رہا تھا۔ تمکین نے کئی بار اپنے ٹیرس پر سے اُسے ڈاک بنگلے کے ٹیرس پر دُور بین لگائے کھڑے دیکھا تھا اور کئی بار اُسے لگا تھا، جیسے وہ اُس کی طرف دیکھ رہا ہو۔ دلبر نے اُسے بتایا تھا کہ وہ کوئی ٹورسٹ ہے۔
’’لیکن اتنے ٹھنڈے اور خراب موسم میں بھلا کون آتا ہے ادھر؟‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی۔
’’ہوتے ہیں کچھ سرپھرے۔۔۔۔ ادھر تین سال پہلے ایک شخص آیا تھا بڑے صاحب کا دوست تھا۔ سردیوں کے تین چار مہینے یہاں رہا۔ اسی ڈاک بنگلے میں۔ کہانیاں لکھتا تھا وہ۔ میرا ماما ڈاک بنگلے میں چوکیدار ہے۔ اس نے بتایا تھا مجھے۔‘‘
’تو کیا یہ بھی کوئی لکھاری ہے؟‘ اُس نے سوچا تھا۔ لیکن دلبر سے کچھ نہیں کہا تھا۔
وہ اس شخص کو نہیں جانتی تھی، پھر بھی اس پر اعتماد کر کے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ کیونکہ وہ یک دم بے حد خوفزدہ ہو گئی تھی۔ وہ ان پہاڑوں کو قریب سے دیکھنے کی دھن میں آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھی اور پہاڑ تھے کہ دُور ہوتے جا رہے تھے۔ سورج بہت آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے سے جھانکتا تھا۔ یکایک وہ رُک گئی تھی۔ اُسے لگا تھا، جیسے کوئی دبے قدموں اس کے پیچھے چل رہا ہو۔ لیکن جب مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ کچھ دُور جا کر پھر اسے یہی احساس ہوا تھا۔ اب کے وہ تیزی سے مڑی تھی اور اُس نے لوئی (اُونی کمبل) میں لپٹے ہوئے کسی شخص کو دیکھا تھا، جو اسے مڑتے دیکھ کر تیزی کے ساتھ دائیں طرف چھوٹے سے ٹیلے کی اوٹ میں ہو گیا تھا۔
’کیا یہ شخص مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔۔۔۔؟‘ تمکین نے بے اختیار سوچا۔ ’اور اگر نہیں تو پھر اسے چھپنے کی کیا ضرورت ہے؟‘ یک دم ہی دل انجانے خوف سے لرزنے لگا تو وہ تیز تیز قدموں سے واپس مڑی۔ وہ شخص ٹیلے کے پیچھے سے نکل آیا تھا اور اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ اس کا آدھا چہرہ لوئی میں چھپا ہوا تھا۔ صرف پیشانی اور آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ وہ یک دم ہی بھاگنے لگی تھی۔ کئی بار اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔ وہ اس کے پیچھے ہی آ رہا تھا۔ پھر یکایک وہ موڑ پر غائب ہو گیا۔ لیکن وہ بھاگتی ہی رہی۔ وہ بے حد خوف زدہ ہو گئی تھی۔
of 49 
Go