Urdu Novels

Back | Home |  

 

اگر ملنا نہیں ہمدم۔۔۔۔۔ذکیہ بلگرامیۘ
 
ارسلہ آج یونیورسٹی جلدی پہنچ گئی تھی۔ وہ آنرز سال اول کی طالبہ تھی۔ اگرچہ اس نے ایف ایس سی میں بائیولوجی گروپ لے رکھا تھا‘ مگر اب اس نے اپنا مضمون تبدیل کر کے اکنامکس میں داخلہ لیا تھا۔ وہ ایک خوش شکل، خوش مزاج اور ذہین لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے شاعرانہ ذہن عطا کیا تھا۔ وہ بہت کم عمری ہی سے شعر کہنے لگی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کی شاعری میں پختگی آتی جا رہی تھی اور اب وہ اکثر رسالوں اور اخباروں میں بھی چھپنے لگی تھی۔ سکول اور کالج کے زمانے میں وہ تمام ادبی پروگراموں میں شامل ہوتی ہی تھی اور کسی نہ کسی عہدے پر بھی فائز رہی تھی۔ اس نے ایک گرلز کالج سے ایف ایس سی کیا تھا اور اپنی ٹیچرز کی پسندیدہ شاگرد رہی تھی۔
یونیورسٹی جوائن کیے اسے ایک ماہ ہی ہوا تھا۔ آج جب وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ پہنچی تو اس وقت تک اس کی کلاس فیلوز میں سے کوئی نہیں آیا تھا۔ وہ یونہی کاریڈور میں کھڑی ہو گئی۔ تبھی فائنل ایئر کا طالب علم عبدالرافع آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب آکر رک گیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ رافع نے اس کے قریب رک کر کہا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ وہ اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’میرا نام رافع ہے۔ میں فائنل میں پڑھتا ہوں۔ اس سال وائس پریذیڈنٹ کی پوسٹ کے لئے کھڑا ہو رہا ہوں۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ اگر آپ وقت دے سکیں… پلیز!‘‘
’’شیور…‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔ ’’آپ بات کریں‘ میں سن رہی ہوں۔‘‘
’’آئیں سیمینار میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘
’’چلیں۔‘‘ وہ اس کے پیچھے چل دی۔ سیمینار میں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
’’مس ارسلہ! میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ آپ جنرل سیکرٹری کے لئے کھڑی ہو جائیں۔ آپ نے اپنا نام اس پوسٹ کے لئے کیوں نہیں دیا؟‘‘
’’لیکن آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں۔ جب کہ آپ مجھے جانتے بھی نہیں۔‘‘
’’میں آپ کو جانتا ہوں۔ آپ کی ادبی صلاحیتوں سے واقفیت ہے مجھے۔ اس لئے آپ سے کہہ رہا ہوں۔‘‘
’’مگر آپ کس طرح…؟‘‘
’’میں نے آپ کی شاعری پڑھی ہے۔ میری ایک کزن شمائلہ آپ کی کلاس فیلو رہ چکی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے ضرور ملوں اور اس سلسلے میں بات کروں۔‘‘
’’اچھا… آپ شمائلہ کے کزن ہیں۔ کہاں ہوتی ہے وہ؟‘‘
’’فی الحال تو گھر پر ہی ہے۔ میڈیکل میں ایڈمیشن کا انتظار کر رہی ہے۔‘‘ رافع نے کہا۔ ’’آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔‘‘
’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ میں نے اس بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں اور میں یہاں بالکل نئی آئی ہوں۔ نہ میں کسی کو جانتی ہوں اور نہ کوئی مجھے جانتا ہے‘ پھر سینئرز بھی ہیں۔ میں ان کے مقابلہ میں شاید سلیکٹ بھی نہ ہو پائوں۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ پلیز اپنا نام دے دیں۔ ابھی تو وقت ہے۔ دراصل میں وائس پریذیڈنٹ کے لئے بلامقابلہ سلیکٹ ہونے جا رہا ہوں۔ شاید یہ بات آپ کے علم میں نہیں ہو گی اور میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ جنرل سیکرٹری آپ جیسی ٹیلینٹڈ لڑکی ہو۔ آپ کی کامیابی کی ضمانت میں دیتا ہوں۔ میرے ذہن میں بہت سے آئیڈیاز ہیں۔ ہم بہت سے ادبی تقریری مقابلے‘ بیت بازی کے پروگرام وغیرہ کریں گے۔ آپ کا تعاون مجھے چاہئے۔ پلیز انکار نہ کیجئے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اگر آپ کہہ رہے ہیں تو…‘‘
’’آپ آج ہی ڈاکٹر منیر کے پاس انٹری کروا دیں۔‘‘
’’اوکے‘ اب میں چلوں؟‘‘
’’او‘ یس… میں بھی چل رہا ہوں۔ کلاس کا وقت ہونے والا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔‘ ‘ بس پھر وہ رکا نہیں اچانک اٹھ کر چلا گیا۔ ارسلہ نے دیکھا وہ دراز قد کا ہینڈسم لڑکا تھا۔ پرُکشش اور تہذیب یافتہ۔
’’مہذب ہونا کتنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ ارسلہ نے دل ہی دل میں سوچا۔ ’’ورنہ انسان کی تمام تر پرسینلٹی بیکار ہو جاتی ہے۔‘‘ اس نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور کلاس روم کی طرف چل دی۔
…٭٭٭…

 


 

ارسلہ ڈیفنس سوسائٹی کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی تھی۔ گھر میں دو بیڈ روم تھے اور ایک ڈرائنگ روم‘ درمیان میں چھوٹا سا لائونج تھا۔ جس میں ایک صوفہ سیٹ اور ٹیلی ویژن سیٹ رکھا تھا۔ ایک طرف کھانے کی میز اور چھ کرسیاں تھیں۔ گھر میں صرف چار ہی افراد تھے۔ ارسلہ کے والد عبدالباقی‘ والدہ خالدہ بیگم اور ایک بڑی بہن سلمیٰ رہتے تھے۔ باقی صاحب ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ یہ ایک دوا ساز کمپنی تھی۔ اگرچہ ان کی تنخواہ معقول تھی‘ مگر کمرتوڑ مہنگائی نے سب کی کمر توڑ رکھی تھی۔ خالدہ بیگم سلیقہ مند خاتون تھیں۔ سفید پوشی کا بھرم قائم تھا۔ سلمیٰ نے بی اے اور بی ایڈ کیا تھا‘ اسے ایک سکول میں ملازمت مل گئی تھی۔ اس طرح سلمیٰ‘ ارسلہ اور باقی صاحب چلے جاتے اور خالدہ بیگم گھر کے کام کاج میں مصروف رہتیں۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا۔ لڑکیاں بھی مذہبی اقدار کی پابند تھیں‘ مگر ساتھ ہی وہ روشن خیال ماں باپ کی بیٹیاں تھیں۔ ان کے لکھنے پڑھنے یا ارسلہ کی شعر و شاعری نیز ادبی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں تھی بلکہ والدین کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔
رات کے کھانے پر جب چاروں اکٹھے ہوتے تو پورے دن کی روداد ایک دوسرے کو سنائی جاتی۔ ماں باپ کی طرف سے ملے ہوئے اعتماد نے ارسلہ کو اندر سے بہت مضبوط بنا دیا تھا۔ وہ اپنی ادبی اور علمی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہی تھی۔ آج یونیورسٹی سے آنے کے بعد موقع ملتے ہی اس نے رافع کی کہی ہوئی بات سب کو بتا ڈالی۔
’’ابو بتائیں… کیا میں اس الیکشن میں کھڑی ہو جائوں جنرل سیکرٹری کی پوسٹ کے لئے۔ حالانکہ میں جانتی ہوں میں سب سے جونیئر ہوں اور یہاں ڈیپارٹمنٹ میں تو خدا جانے کتنے ٹیلنٹڈ لوگ ہوں گے۔ میں تو کسی سے واقف بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’بیٹی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ پھر تمہیں سپورٹ بھی مل رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں تم اپنی زندگی میں بہت کامیاب ہو۔ تمہارا شوق پروان چڑھے اور تمہارے نام سے میں پہچانا جائوں۔‘‘
’’ابو آپ کتنے اچھے ہیں۔‘‘ وہ بچوں کی طرح خوش ہو گئی۔
’’امی آپ بھی تو کچھ بولیں۔‘‘
’’تمہارے ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ویسے بھی اس گھر میں سب کی رائے ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے۔ تم جانتی ہو یہ بات خصوصاً تمہارے ابو کی کسی بات سے میں نے کبھی اختلاف نہیں کیا۔‘‘
’’تمہاری امی ٹھیک کہتی ہیں۔‘‘ ابو نے مسکرا کر کہا۔ ’’انہوں نے ہمیشہ میری خواہشات‘ میرے جذبات کا خیال رکھا ہے‘ اسی لئے تو مجھے بھی زندگی میں کوئی دشواری ہوئی نہ ٹینشن۔‘‘
’’تمہارے ابو نے بھی ہمیشہ ہماری بھلائی ہی چاہی ہے۔ یہ بھی تم لوگ جانتی ہو۔‘‘ امی نے کہا۔ پھر سلمیٰ سے مخاطب ہوئیں۔
’’سلمیٰ تم کیوں خاموش بیٹھی ہو۔ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری…؟‘‘
’’امی میرے سر میں ہلکا درد ہے۔ سکول میں پڑھانا ایک دردسر ہی ہے۔ کاپیاں چیک کرتے کرتے برُا حال ہو گیا ہے۔‘‘
’’تو کوئی دوا لے لی ہوتی۔‘‘
’’چھوڑیں امی ذرا ذرا سی بات پہ کیا دوا کھانا۔ ابھی چائے پیوں گی تو درد ٹھیک ہو جائے گا۔ ویسے بھی آپ کچھ پڑھ کر پھونک دیجئے گا۔ بس اِدھر اللہ چھو کیا‘ اُدھر درد غائب۔‘‘ امی کو ہنسی آ گئی۔
’’اب ایسی بات بھی نہیں‘ لیکن دعائوں میں بہرحال بہت اثر ہوتا ہے اور یہ بات مانی ہوئی ہے۔‘‘
’’یہی تو میں کہہ رہی ہوں۔‘‘ سلمیٰ نے کہا۔ پھر ارسلہ سے بولی۔
’’ارسلہ تم بہت باتیں بنا چکی ہو۔ اب ایک کپ چائے بھی بنا ڈالو۔‘‘
’’ضرور ابھی بناتی ہوں۔‘‘ وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھ کر آ گئی۔ چھوٹے گھروں کی ایک یہی تو خوبی ہے کہ اگر انسان چاہے بھی تو ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتا۔ دو قدم بڑھائو کمرے کے اندر دو چار قدم چلے تو باورچی خانہ۔ اگر کسی نے گھنٹی بجائی تو اکثر کرسی پر بیٹھے ہی بیٹھے دروازہ کھول دیا۔ جگہ سے اٹھنے کی بھی ضرورت نہیں۔
امی بے چاری کو یہی شکایت تھی کہ بالشت بھر کا گھر ہے۔ بیٹھے بیٹھے ٹانگیں شل ہو جاتی ہیں۔ وزن الگ بڑھ رہا ہے‘ مگر پھر بھی دو رکعت نماز شکرانہ پڑھنا نہ بھولتیں کہ اللہ نے سر چھپانے کو ٹھکانا دیا ہے۔ سستے زمانے میں باقی صاحب نے یہ فلیٹ چھ لاکھ میں خریدا تھا جس کی قیمت اب تیس لاکھ ہو چکی تھی اور وہ چھ لاکھ بھی بہت ہی ترکیبوں‘ سلیقہ مندی کی بدولت اور نہ جانے کس طرح جمع کیے گئے تھے۔ کچھ فنڈ سے رقم نکالی گئی‘ کچھ امی کا زیور رکھا بہرحال فلیٹ خرید لیا گیا اور اب سب اطمینان اور سکون سے زندگی گزار رہے تھے۔
ارسلہ کی صرف ایک ہی خالہ تھیں جو کہ حیدر آباد سندھ میں رہتی تھیں۔ ان کے شوہر ایڈووکیٹ اختر علی بہ حیثیت انسان تھے۔ ان کے دو بچے تھے عابد علی اور عرشیہ‘ عابد علی نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا اور پھر انگلینڈ سے ایم بی اے کر کے سندھ یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے جبکہ عرشیہ میڈیکل کر رہی تھی۔ بچپن میں کبھی عابد علی اور سلمیٰ کی بات چلائی گئی تھی گو کہ باقاعدہ طے نہیں تھی‘ مگر بات کانوں میں پڑے تو دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔ سلمیٰ کو بی ایڈ کر کے جاب کرتے سال گزر گیا تھا مگر خالہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں تھی۔ امی دل ہی دل میں پریشان رہتی تھیں مگر 

 

منہ سے کہنے کی عادت نہیں تھی۔ اتفاق ایسا تھا کہ سلمیٰ کے لئے کوئی اور رشتے آیا بھی نہیں تھا۔ خط لکھنے کا تو اب زمانہ ہی نہیں رہا تھا‘ البتہ ٹیلی فون پر رابطہ ہو جاتا تھا‘ مگر وہ بھی زیادہ نہیں کئی کئی ماہ ہو جاتے‘ دونوں گھرانوں میں بات نہ ہو پاتی۔
خالہ کراچی بھی نہیں آتی تھیں نہ ہی امی حیدر آباد جاتی تھیں۔ حالانکہ کون سا لمبا فاصلہ ہے‘ مگر اسی طرح گزر رہا تھا۔ سلمیٰ نہیں جانتی تھی کہ عابد علی کے دل میں کیا ہے‘ مگر وہ خود عابد کے لئے اپنے دل میں ایک گداز جذبہ رکھتی تھی۔ سلمیٰ کے مزاج میں سنجیدگی تھی۔ وہ ارسلہ کی طرح خوش و خرم اور شعر و شاعری میں مگن رہنے والی لڑکی نہیں تھی۔ اسے زمانے کے بدلتے مزاج کا بھی اندازہ تھا۔ ملک کے حالات بھی اسے پریشان کرتے تھے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سفید پوشی قائم رکھنا مشکل کر دیا تھا اور جس طرح شادی بیاہ میں بے دریغ خرچ کیا جا رہا تھا اور نمود و نمائش پر لوگ فخر کر رہے تھے ‘ وہ بھی نظروں کے سامنے تھے۔ سلمیٰ جانتی تھی اس میں لاکھ خوبیاں ہوں‘ سلیقہ مند ہو مگر ان باتوں کو کون دیکھتا ہے۔ لوگ مالی حیثیت دیکھتے ہیں اور خالو جان بھی اس دور کے انسان ہیں‘ جہاں صرف لینا… فائدہ دیکھا جاتا ہے۔ جذبوں کی قدر و قیمت بے معنی ہوتی ہے۔ اسے کوئی خوش فہمی نہیں تھی کہ خالو جان اسے اپنی بہو بنائیں گے‘ نہ ہی عابد بھائی نے کبھی کوئی بات کہی تھی۔ ہاں امی اور خالہ جان میں محبت تھی‘ مگر خالی خولی محبت سے کیا ہوتا ہے؟ امی کا ہاتھ خالی تھا۔
’’کاش میرا کوئی بھائی ہوتا۔‘‘ سلمیٰ اکثر سوچتی۔ ابو کا سہارا بنتا‘ پڑھ لکھ کر اونچے عہدے پر لگا ہوتا تو حالات دوسرے ہوتے… مگر یہاں تو ابو کے سوا کون ہے۔‘‘ اکثر کتاب کھولے وہ ان ہی خیالات میں گم ہو جاتی۔ ارسلہ اور سلمیٰ ایک ہی کمرے میں سوتی تھیں۔ دونوں میں محبت تھی‘ دوستی بھی تھی‘ مگر سلمیٰ اپنے دل کی بات بہن سے کہنے کی عادی نہ تھی۔ رات کو دونوں بہنیں سونے لیٹیں سو ارسلہ نے کہا۔
’’باجی آپ سے ایک بات کہوں؟‘‘
’’ہاں ضرور۔‘‘
’’آپ پرائیویٹ ایم اے کر لیجئے۔‘‘
’’میں بھی ایسا ہی سوچتی ہوں۔‘‘
’’واقعی… تو پھر دیر کیوں‘ آپ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔‘‘
’’لے لوں گی‘ مگر تم نے میرے لئے یہ بات کیوں سوچی؟‘‘
’’بس ایسے ہی… ایک خیال آ گیا تھا۔‘‘
’’وہ کیا…؟‘‘
’’کہ عابد بھائی بہت پڑھے لکھے انسان ہیں۔ آپ کو بھی کم از کم ماسٹرز تو کر ہی لینا چاہئے۔‘‘
’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ارسلہ۔‘‘ میں ایسا بالکل نہیں سوچتی۔ میں تو خود ہی اپنے شوق کی خاطر تعلیم کو جاری رکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے باجی‘ مگر آپ کے مزید پڑھنے سے عابد بھائی خوش تو ہوں گے۔ پتا نہیں امی اور خالہ جان میں کوئی بات ہوئی یا نہیں؟‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہو گی نہ ہونے کا امکان ہے۔ تم میری فکر کرنا چھوڑ دو اور اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔‘‘
’’ہر وقت کی پڑھائی… میں تو بور ہو جاتی ہوں۔ اسی لئے پھر شاعری شروع کر دیتی ہوں۔‘‘
’’شاعری تو تم کرتی ہی ہو‘ مگر خیالی دنیا میں نہیں رہنا بہن… زندگی کی شاہراہ پر کانٹے زیادہ ہوتے ہیں پھول کم‘ یہ بات یاد رکھنا۔‘‘
’’واہ باجی اس وقت تو آپ شاعری کرنے لگیں۔ پھول اور کانٹے زندگی کی شاہراہ اور نہ جانے کیا کیا۔‘‘
’’یہ شاعری نہیں حقیقت ہے۔ اچھا اب چپ چاپ سو جائو۔ مجھے بھی نیند آرہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر سلمیٰ نے کروٹ بدل لی۔ ارسلہ نے بھی آنکھیں موند لیں۔
…٭٭٭…
اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں خوب گہما گہمی تھی۔ الیکشن کی کمپین زوروں پر ہو رہی تھی۔ رافع وائس پریذیڈنٹ کے لئے بلامقابلہ الیکٹ ہو چکا تھا۔ وہ گزشتہ برس بھی وی پی رہ چکا تھا اور اس کی کارکردگی شاندار تھی۔ اس لئے اس بار بھی اس کا چنائو ہو گیا تھا۔ ارسلہ کے مدمقابل نگہت تھی۔ یہ آنرز فائنل کی لڑکی تھی۔ نگہت بہت بولڈ اور سٹرانگ تھی۔ وہ ایک خوب صورت لڑکی تھی اور اسی بنیاد پر وہ بہت سے ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ اس نے خود جا کر فرداً فرداً سب سے ریکوسٹ کی تھی۔ بے جھجک اور بے تکلف قسم کی لڑکی تھی۔ لڑکے اسے پسند کرتے تھے‘ بلکہ بہت سے تو آگے پیچھے بھی پھرتے تھے۔ ارسلہ کے بیک گرائونڈ میں اس کی ذہانت‘ ماضی کے عہدے‘ انعامات اور کامیابیاں تھیں۔ اس کے علاوہ رافع کی بیکنگ تھی۔ اس نے انتہائی منظم طریقے سے ارسلہ کے لئے ووٹ ہموار کیے تھے۔ جس دن ووٹنگ تھی ارسلہ خاصی نروّس تھی‘ جبکہ نگہت مطمئن… ارسلہ کی واحد دوست سعدیہ اس کے ساتھ ساتھ ہی تھی۔ سعدیہ سے اس کی دوستی یہاں ہی ہوئی تھی۔ اس کی اپنی کوئی کلاس فیلو اس کے ساتھ داخل نہیں ہوئی تھی‘ کیونکہ اس نے اپنا مضمون تبدیل کیا تھا۔ اس کے ساتھ کی بہت سی لڑکیاں میڈیکل کالج میں ہی جانا چاہ رہی تھیں جبکہ 
of 62 
Go