Urdu Novels

Back | Home |  

اک قصہ گل ِ گلاب……سیدہ گل بانو


’’تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے تو ان لڑکیوں کے لئے بھی مردوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی‘ جن کے پاس تم چہرے پہ شرافت سجا کر جاتے ہو‘ کتنی عجیب بات ہے تم نماز پنجگانہ ادا کرنے کے لئے اپنے رب کے سامنے سجدے کے لئے سرجھکاتے ہو اور پھر وہی سر ان نامحرم عورتوں کے سامنے بھی جھکاتے ہو جو اپنی ادائوں سے تمہارا دل لبھانے‘ تمہاری روح کو للچانے کے لئے تمہارے قریب آتی ہیں ‘باحیا‘ باکردار باوقار بیوی کی خواہش ہر شریف مرد کو ہوتی ہے مگر یار تمہارا طریقہ غلط ہے‘ سنو ہر لڑکی تمہارے ساتھ آزادانہ طور پر آنے والی تمہاری گرل فرینڈز کی طرح نہیں ہوتی‘ تم ہر لڑکی کو اپنی باتوں یا اپنی آنکھوں کے جادو سے بے بس کرکے نہیں خرید سکتے اور وہ شاذیلا … وہ بہت مختلف لڑکی ہے۔ تمہاری زندگی میں آنے والی ان تمام لڑکیوں سے جن کے ساتھ تمہاری دوستی رہی ہے‘ جن سے آج تک تمہارا واسطہ پڑتا رہا ہے‘ جن کے ساتھ کمپیوٹر پر چیٹنگ‘ وائس چیٹنگ کے دوران تم شب وروز گھنٹوں مصروف رہتے ہو‘ یا جن کے ساتھ اکثر رات رات بھر پرلطف گپ شپ میں تمہارا موبائل بیلنس ختم ہوجاتا ہے۔ اورہوٹلنگ‘ آئوٹنگ کے دوران آزادانہ ملتے جلتے وقت جن کی قربت سے تم سرشار رہتے ہو‘ مگر شاذیلا ان تمام لڑکیوں سے مختلف ہے‘ ساری لڑکیاں ایک جیسی نہیں  ہوتیں‘ یہ وقت تم پر ثابت کرے گا۔‘‘
’’ساری لڑکیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں‘ یہ میں تم پر ثابت کرسکتا ہوں۔‘‘
’’مگر شاذیلا کے لئے تو اب تک تم یہ ثابت نہیں کرسکے ہو اور آئندہ کی کیا خبر کہ آنے والے وقت میں تو کسی پل کا پتہ نہ کل کاپتہ۔‘‘
’’پر میں یہ آنے والے وقت میں بھی ثابت کرسکتا ہوں اورتم دیکھوگے میں یہ ثابت کردکھائوں گا۔‘‘
’’شاید تم یہ ثابت کردکھائو مگر شاذیلا کی ذات کو اپنے تجربے کی بھٹی میں ڈال کر تو کبھی نہیں ۔‘‘
’’اور اگر میں یہ کہوں کہ شاذیلا کی ذات کو بھی اپنے تجربے کی بھٹی میں ڈال کریہ ثابت کرسکتا ہوں توپھر؟‘‘
’’تو پھر یہ کہ تم کو اس میں ناکامی ہوگی تم مجھے اس کے بارے میں اب تک اتنا کچھ بتاچکے ہو کہ میں بنا دیکھے اس کی فطرت سے متعلق رائے دے سکتا ہوں کہ وہ ایک بہت مضبوط لڑکی ہے۔‘‘
’’مجھے اس میں ناکامی نہیں ہوگی۔ میں نے ناکام ہونا نہیں سیکھا‘ میں نے شکست کھانا نہیں سیکھا۔ مجھے میری حیات میں نہ پہلے کبھی اس معاملے میں مات ہوئی ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوسکتی ہے‘ میں نے بہت سی ایسی لڑکیاں‘ بہت سی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنی ذات پر معصومیت‘ پاکیزگی‘ شرافت کا دلکش ٹھپہ لگا کر اپنی شخصیت کو پارسائی کے مضبوط خول میں بند کئے ہوئے ہوتی ہیں‘ پر اس چھاپ کے نیچے اس خودساختہ خول کے اندر کیا ہے میں نے اپنی زندگی میں قدم قدم پر بغور اس کا مشاہدہ کیا ہے‘ وہ شادی شدہ عورتیں جو اپنے شوہر کے سامنے وفا‘ حیا‘ پارسائی کا سمبل بنی پھرتی ہیں ان کے اس ناٹک‘ اس ڈھونگ کے پیچھے کیسے کیسے گل کھل رہے ہوتے ہیں‘ میں اچھی طرح باخبر ہوں اور آج کا دور تو ایسا نہیں ہے کہ کوئی شرافت اور پارسائی ثابت توکیا اس کا دعویٰ بھی کرے تو ایسے دعوے پرہنسی آتی ہے۔ ایسے کسی دعو ے کو دل نہیں  مانتا۔ ایسے کسی دعوے پریقین نہیں آتا تو پھر ایسے کسی دعوے کو سچ بھلا کیسے اور کیونکر سمجھا جاسکتا ہے‘ عشق‘ محبت‘ پیار ‘چاہت‘ اسکینڈلز‘ آئیڈیلز‘ رومانس‘ افیئر جیسی وباء سے آج کے زمانے میں جب کوئی مرد نہیں بچا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی دلدار کی نظروں کی تپش سے کسی نامحرم کی چاہت کی آنچ میں کسی عورت کا دل نہ پگھل رہا ہو‘ میں نے تو یہاں اس دنیا میں یہ بھی دیکھا ہے کہ زندگی کسی اور کے نام پر گزاری جاتی ہے‘ اور وقت کسی اور کی قربت میں کسی اور کے ساتھ گزارا جاتا ہے‘ اگر ایک آزاد وبے باک عورت کھلم کھلا ایسی ہائی فائی قسم کی عیاشی کو اپنا حق سمجھ کر اپنی زندگی میں دور دور تک پھیلادیتی ہے تو چار دیواری کے اندر زندگی گزارنے والی عورت بھی اپنے لئے کہیں نہ کہیں سے اس قسم کے شوق پالنے کی کچھ نہ کچھ گنجائش نکال ہی لیتی ہے‘ بھول ہے یہ تمہاری کہ آج کے زمانے میں کوئی دل‘ کوئی نگاہ‘ کسی نامحرم کے احساس‘ یاچاہت کے اثر سے خالی ہے‘ زمانہ اب بڑی مختلف ڈگر پہ گامزن ہے‘ صبر‘ برداشت‘ استقلال‘ استقامت‘ مصلحت ‘ قناعت اور سمجھوتے کادور گزرگیا‘ اب ان سب جذبوں کا ذکر بھی افسانوی سالگتا ہے‘ اب ان سب جذبوںکی کسی کو ضرورت نہیں ہے اور محبت تو آج کل فیشن کا حصہ بن چکی ہے‘ ایک ضرورت ‘ایک عادت ‘وقت گزاری کا ایک پرلطف بہانہ بن چکی ہے اور مرد ہو یا عورت اپنی زندگی میں زیادہ نہ سہی دوچار بار تو محبت کرنا خود کو دنیا میں اپ ٹوڈیٹ رکھنے کے لئے بڑا ضروری ہوچکا ہے‘ بالکل ویسے ہی جیسے آج کل فیشن ضرورت بن چکا ہے ایک ایسا ٹرینڈ جس کے بغیر خود کو کمتر اور بے وقعت محسوس کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میں پھر کہوں گا کہ ہر انسان کی اپنی سوچ‘ اپنے تخیلات ہوتے ہیں‘ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔‘‘
’’اور میں پھر کہوں گا کہ عورت شرم وحیا‘ غیرت و ایمان کی پٹری سے ایک پل میں اتر کر بہک جانے  کی بھول میں بصد شوق مبتلا ہوجانے والی ناقابل اعتبار اور ناقص العقل مخلوق ہے۔‘‘
’’تمہارے نقطہ نظر سے حقائق کا جو بھی رخ اصل سہی پر میں تم کو یہی کہوں گا تیمور کہ تم ایک انتہائی تنگ ذہن‘ تنگ نظر اور شقی القلب انسان ہو‘ تم عورت ذات کے لئے بلکہ ہر انسان کے لئے اعتبار سے


خالی دل رکھنے والے آدمی ہو‘ بہرحال اس کی منگنی ہوچکی ہے۔ اور ٹھیک ایک ہفتے بعد اسے مایوں بیٹھنا ہے‘ جلد ہی اس کی شادی ہونے والی ہے۔ کھیل کھیل کی حد تک تو تمہارا انجوائے منٹ کے لئے لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کرنا ایک طرف مگر میں پریشان ہوں کہ تم تو ہاتھ دھوکے اس بے چاری کے پیچھے پڑگئے ہو یار‘ محبت جیسی چیز پر تو تمہارا ایمان ہی نہیں ہے اس لئے میں یہ تو نہیں سوچ سکتا کہ تم اس کی محبت میں مجبور ہو کر اس کو نہ پاسکنے پر کسی شدید قسم کے صدمے یا اشتعال کاشکار ہو‘ مگر پھر بھی اگر وہ تمہیں اچھی لگتی ہے تو تم خود اس سے بات…‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ تیمور کی تیوریوں پرناگواری شدت سے پھیلی۔
’’ٹھیک ہے میں مان لیتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہے… لیکن اگر کچھ ہے تو پھر تمہارے پاس دوہی راستے ہیں ایک تویہ کہ اس کے ساتھ تم خود بات کرو‘ دوسرا یہ کہ تمہیں اس کا خیال اپنے دل سے نکال دینا چاہئے‘ تمہیں اسے بھلا دینا چاہئے اور تمہیں اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کس قسم کی لڑکی ہے۔‘‘
’’میں اس کی محبت کے بخار میں مبتلا نہیں ہوں‘ اس لئے وہ میری چاہت بھی نہیں ہے‘ وہ میری خواہش بھی نہیں ہے‘ میں اسے یاد نہیں کرتاہوں‘ میں اس کے خواب بھی نہیں دیکھتا ہوں‘اس لئے مجھے اس سے کوئی اعتراف محبت کرنے کی تڑپ نہیں ہے‘ مجھے اس کی کچھ پروا نہیں ہے کہ اس کی منگنی ہوئی ہے یانہیں‘ اور مجھے اس بات کی بھی پریشانی نہیں ہے کہ اس کی ٹھیک دو ہفتے بعد شادی ہونے والی ہے‘ رہ گئی اس کے بارے میں‘ میرے پروا کرنے کی بات تو مجھے بھلا اس کی پروا کیوں ہوگی‘ وہ کتنی صالحہ اور نیک پروین ہے یہ تو اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ جس لڑکے کا پروپوزل اس نے میرے پروپوزل کو رد کرکے منظور کیا وہ اس کا یونیورسٹی فیلو رہ چکا ہے۔‘‘
’’یہاں میں تم سے اتفاق نہیں کروں گا کہ اس نے تمہارے پروپوزل کو ریجیکٹ کرکے اپنے یونیورسٹی فیلو اظفر کے پروپوزل کے لئے رضامندی ظاہر کی‘ تم جانتے ہو کہ اظفر سے اس کی بات تمہارا پروپوزل جانے سے قبل ہی طے ہوچکی تھی‘منگنی کی تاریخ مقرر ہوگئی تھی‘ تمہارا پروپوزل جانے میں کچھ دیر ہوگئی‘ مگر پھر بھی تم ان کے اپنے خاندان سے ہو‘شاذیلا تمہاری چچازاد ہے اس کے والدین نے پھر بھی تمہارے پروپوزل کو اہمیت دی اور فیصلہ شاذیلا پر چھوڑ دیا۔‘‘
’’اور اس نے میرے پروپوزل پر اپنے اس یونیورسٹی فیلو کے پروپوزل کو ترجیح دی اسی لئے ناں کہ اس کی اس کے ساتھ یقینا بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ رہی ہوگی۔‘‘
’’یہ محض تمہاری خام خیالی ہے‘ ایک ہی درس گاہ میں اکھٹے تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک دوسرے کو فیس کرنے کا کیا ایک یہی مطلب نکلتا ہے۔‘‘
’’توپھر دوسرا کوئی مطلب تم نکال دو‘ شاید تم کچھ بہتر رائے پیش کرسکو۔‘‘
’’میں دوسرا کوئی مطلب یہی پیش کروں گا کہ ضروری نہیں کہ شاذیلا نے کسی پسندیدگی یاچاہت کے جذبے کی ان دونوں کے بیچ موجودگی کے سبب ہی اس کے پروپوزل کو قبول کیاہو‘ ہوسکتا ہے اسے اس میں کچھ ایسی خوبیاں یا اچھائیاں نظر آئی ہوں جو اسے تمہاری ذات میں نہ نظر آئی ہوں جووہ اپنے لائف پارٹنر میں چاہتی ہو‘ ویسے بھی تمہارے انداز میں عورت ذات کے لئے کچھ ایسی گرم جوشی‘ تپاک اور ستائش کے تاثرات نہیں ہوتے‘ تمہارے تیور ہمیشہ تحکمانہ ہوتے ہیں‘ جبکہ عورت اپنے لئے ستائش گرم جوشی اور نرمی وگداز کے جذبات محسوس کرنے کے بعد ہی کسی کی طرف مائل ہوتی ہے۔تسخیر کرنا صرف مرد کی ہی خواہش نہیں ہوتی بلکہ عورت بھی مدمقابل کوتسخیر کرنے کی آرزومند اور خواہاں ہوتی ہے‘ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ عورت کے وجود کو تخلیق ہی مرد کو تسخیر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔‘‘
’’بکواس… میں ایسی کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘
’’تمہارے ایمان لانے یانہ لانے سے اس حقیقت کی سچائی بدل سکتی ہے نہ ختم ہوسکتی ہے‘ قانون فطرت کو نہ کوئی آج تک جھٹلا سکا ہے نہ تبدیل کرسکا ہے‘ وقت گواہ رہا ہے کہ جب بھی کسی نے قانونِ فطرت کے کسی بھی اصول کو جھٹلاتے یا توڑتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی‘ وہ فنا ہوا یوں کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہ بچا‘ اس حقیقت کی شدتوں کے آگے بڑے بڑے طرم خان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے‘ کیسی کیسی ہستیاں تاراج ہوئیں تاریخ میں جھانک کر دیکھوگے تو تمہیں اپنے اٹل ارادوں‘ سنگلاخ اقوال اور اپنے ان مفروضوں اور بلند وبانگ دعوئوں کا شیش محل پلک جھپکتے میں زمین بوس ہوتا‘ مسمار ہوتا دکھائی دے گا۔ عورت کہنے کو‘ سمجھنے سوچنے کو ایک بڑی نازک اور معمولی مخلوق لگتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سورمائوں نے اس کی خاطر جوگ لیا ہے۔‘‘
’’لیکن ان بڑے بڑے سورمائوں‘ ان بڑے بڑے طرم خانوں میں کبھی بھی کسی کا نام تیمور خان ہرگز نہیں ہوگا اگر ہواتووہ میں ہرگز نہیں ہوں گا۔‘‘
’’تم سے تو کوئی جیت نہیں سکتا۔‘‘ پچھلے گھنٹے بھرسے ہونے والی اس نان  اسٹاپ بحث کااختتام عدیم کے اس بے حد کمزور سے فقرے پہ ہواتھا۔ تیمور نے دیکھا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی خاصا چڑ گیا تھا۔ اس کی باتوں سے‘تیمور کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ اس کی سچی کھری باتوں سے اس قدر چڑ کیوں جاتاتھا؟ حالانکہ وہ تو جوبھی سمجھاتا یا کہتاتھا اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر ہی ایسا سمجھتا یاکہتا تھا۔

’’جب آپ کسی سے ہارنانہ چاہیں تو کوئی آپ کو کیسے شکست دے سکتا ہے۔‘‘ تیمور نے اس کے چڑکر کہنے پر جواباً شانے اچکاتے ہوئے اطمینان سے کہا تھا۔ اسی دم باہردروازے پر کسی نے بیل دی تھی۔
’’کیا شکست انسان اپنی مرضی سے کھاتا ہے۔‘‘ عدیم کا دل اس کی عقل پر ماتم کرنے کو چاہا اس نے اسی چڑے چڑے سے انداز میں کہا مگر کال بیل کی صدا پر اٹھنے والا تیمور سنی ان سنی کرتا بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا تھا اورعدیم سوچ رہاتھا وہ کیسا انسان تھا تیمور خان‘ ایک ایسا انسان جسے عرف عام میں خودغرض انسان کہنا درست ہوگا‘ جو دنیا میں‘ یا جو اپنی زندگی میں کسی شے سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہے توعموماً وہ دوسرا اور کوئی نہیں بلکہ زیادہ تر ان کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ ان کی اپنی خوشی‘ اپناسکون‘ اپنا دل‘ اپنی روح‘ اپنا جسم ہوتا ہے جس کے لئے وہ ہر راحت ‘ہرآسانی‘ ہرکوشش کی چاہت رکھتے ہیں۔ جو اپنے آپ سے بہت پیار کرتے ہیں‘ اپنے آپ سے محبت تو ایک فطری جذبہ ہے جو قدرت نے تمام ہی انسانوں کو بخشا اور یقینا برابر بخشا اب اس میں کمی بیشی کا معاملہ خود انسان کے اپنے ذمے اس کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کی خوشی دوسروں کی خوشی میں پوشیدہ ہوتی ہے کچھ لوگوں کی خوشی صرف اپنی خوشی اپنے سکون‘ اپنی خواہشات کی تکمیل میں ہوتی ہے۔ تیمور خان کاشمار دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا تھا۔ وہ ہر دم اپنی ذات میں مست ومگن رہنے والا انسان تھا اور ایساانسان چاہے وہ عورت ہو یا مرد خطرناک ہوتا ہے اور یہ خطرناکی کسی اور کے لئے تو اتنی باعث ضرر نہیں ہوتی جتنی کہ خود اس کے لئے۔ کیونکہ جو فقط اپنے لئے خوش رہنا چاہتے ہیں وہ دوسروں کی خوشی کو بھی اس وقت تک برداشت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ خود سرشار اور خوش رہتے ہیں اور جب وہ آپ خوش نہیں ہوتے تودوسروں کی خوشی ان کے نزدیک کوئی اہمیت‘ کوئی قدروقیمت یا کوئی مثبت جذبہ نہیں رکھتی‘ ان کو ساری دنیا بری اور غیر اہم محسوس ہوتی ہے‘  بس اسے ہرحال میں کسی بھی صورت اپنی کامیابی‘ اپنی خوشی اپنا سکون‘ مقصود تھا‘ اسے خوش ہونے کے لئے بہت زیادہ بڑی بڑی کامیابیوں کی بہت بڑی بڑی خوشیوں کی ضرورت بھی نہیں تھی‘ بس وہ اپنی زندگی میں کسی بھی موڑ پر‘ کسی بھی مرحلے کسی بھی قدم پر کوئی ٹھوکر‘ کوئی دشواری یا کوئی ناکامی برداشت ہی نہیں کرسکتا تھا بلکہ برداشت کرنا ہی نہیں چاہتا تھا اور اپنی ذات کی ناکامی اور اپنی ذات کے لئے کسی کی نظر اندازی اس کے لئے اپنی شہ رگ کے پاس کسی تیز دھار بلکہ دودھاری خنجر کی موجودگی کی طرح ہوتی‘ اور نظر اندازی اگر صنف مخالف کی طرف سے ہو تووہ جیسے جلے پائوں کی بلی کی طرح چکراتا پھرتا ہے‘ اس کا چین بھسم ہوجاتا ہے ‘ وہ پل پل انگاروں پر لوٹتا‘ اس کی نیندیں اڑجاتیں ہیں اور وہ اس رات سکون کی میٹھی نیند سوتا ہے جب اس نظراندازی کو وہ بے تابی و بے قراری میں بدل ڈالتا‘ وہ بے تابی جو صرف اس کے لئے ہوتی ‘وہ بے قراری جو اس کی ذات کے لئے ہوتی‘ وہ بہت زیادہ حسن کی دولت سے مالامال نہ تھا‘ مگر قدوقامت ‘آواز‘ نقوش پرکشش تھے۔ تعلیم یافتہ تھا‘ اچھے خاندان سے تعلق تھا‘ کروڑپتی تو نہ تھا مگر ایک امیر گھرانے کاسپوت تھا‘ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزنس میں چچا اور باپ کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں وہ بہت کچھ سیکھ چکاتھا‘ اس کی وجہ سے بزنس کو کافی کامیابی ملی تھی۔ وہ ایک اچھا بزنس مین بن سکتا تھا۔ اس میںایک کامیاب بزنس مین بننے کی صلاحیت موجود تھی۔ اس کے بابا کی خواہش تھی کہ وہ جاب کرے مگر وہ جاب نہیں کرسکتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ وہ کسی کے ماتحت رہ کرکام نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے پاس بہت پرکشش جابز کی آفرز موجود تھیں مگر اس نے جاب کے لئے کبھی سوچا ہی نہیں تھا تواس طرف دھیان کیسے دیتا۔ وہ اپنے اندرحکمرانی کا جذبہ رکھتا تھا‘ خود کو کسی کی حکمرانی میں کیسے اور کیونکر دے دیتا‘ یہ اس کے لئے ناممکن ومشکل ہی نہیں تکلیف دہ بھی تھا اور تکلیف برداشت کرنا بھلا اس نے کب سیکھاتھا‘ اس کابچپن دو بڑے بھائیوں اور ناز اٹھانے والے والدین کے بیچ‘ کسی بھی محرومی‘ کسی بھی پریشانی سے بے نیاز و قابل رشک گزراتھا۔ اچھا بچپن اچھی تعلیم اچھا ماحول کسی بھی انسان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں اور اس کامستقبل روشن تھا‘ قسمت نے قدم قدم پر اس کے لئے سکون اور آسانیوں والے راستے ہموار کئے تھے پھر بھلا وہ خود کو قسمت کا دھنی کیوں نہ سمجھتا‘ نوعمری کے زمانے کو پیچھے چھوڑ کر جوانی سے ہاتھ ملاتے ہی اسے صنف مخالف کی طرف سے بھرپور توجہ اور ستائشی نظروں کا جوشیلااحساس ملا‘ اس نے کسی نگاہ کو اپنی سمت اٹھتے پاکر کسی ناگواری کا تاثر نہ لوٹایا اور اس نگاہ سے آگے نگاہوں کی خواہش اس کے اندر جاگتی چلی گئی۔ جسے اس نے تھپک تھپک کر سلانے کی کوئی کوشش کبھی نہ کی تھی۔
’’لڑکیاں تو معصوم ہوتی ہیں‘ وہ تو زندہ ہی محبت کے لئے ہوتی ہیں‘ تم ہی ذرا خود پر قابو پاکر اپنے جذبوں پربندباندھنے کی کوشش کیا کرو۔‘‘ عدیم اسے سرزنش کرتا رہتا۔ جواباً وہ بے نیازی سے شانے اچکادیتا۔
’’ا ن معصوموں کو خود چھری تلے اپنی گردن رکھنے کا شوق ہے تو میں کیا کروں‘ وہ اپنی مرضی سے میری طرف آتی ہیں‘میں جبر سے تو ان کو پاس نہیں بلاتا‘ نہ ہی میں ان کے پاس جاتا ہوں‘ وہ خود میرے پاس آتی ہیں ‘وہ خود مجھے پاس بلاتی ہیں‘ ان کو خود اپنی عزت‘ اپنے وقار کا خیال نہیں میرا اس میں بھلا کیا دوش؟‘‘
’’شادی کرلو۔‘‘ کسی لڑکی کے لئے اس کی ضرورت سے زیادہ بڑھنے والی توجہ دیکھ کر عدیم مخلصانہ مشورہ دیتا تووہ بدک جاتا۔
’’کیا…شادی… کیا دنیا میں میرے لئے نیک ‘ صالحہ‘باحیا‘باوقار اور شریف عورتوں کا کال پڑگیا ہے جو میں ایسی کسی گمراہ عورت کو عمر بھر کا عذاب بنالوں‘ ایسی لڑکیاں ‘ ایسی عورتیں صرف چند گھنٹوں
of 9 
Go