Urdu Novels

Back | Home |  
آوارہ۔۔۔۔۔شاہینہ چندا مہتاب

کھڑکی کے دونوں پٹ کھولے کھڑی وہ اپنے آپ سے بھی بے خبر یوں باہر دیکھے جارہی تھی‘ جیسے موسم بہت ہی دلکش اور بے حد سہانا ہو۔ جبکہ باہر طوفان بادوباراں اپنی پوری شدتوں پر تھا۔ اگرچہ موسم صبح ہی سے ابر آلود تھا۔ مگر شام ہوتے ہوتے وہ طوفان کی شکل میں ڈھل چکا تھا۔ بارش شروع ہوئی تو پھر رکنے کا نام ہی نہ لیا۔ اندھیرا گہرا ہونے کے ساتھ ساتھ طوفانی بارش شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ رہ رہ کر بجلی کے کوندے لمحہ بھر کے لیے دھرتی کو روشن کرتے‘ پھر پہلے سے زیادہ تاریکی چھا جاتی اور اس گہری تاریکی میں بادلوں کی گھن گرج اور بھی بھیانک لگ رہی تھی۔ اس پر منہ زور ہوا کی تیزی کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے ہر چیز آج اڑا کر لے جائے گی۔ فضا میں عجیب سا خوفناک شور تھا۔
رات تو یوں بھی ایک سکوت پرور، اداس اور ڈرائونی چیز کا نام ہے۔ خاص کر تنہا انسان کے لیے۔ اور انسان بھی وہ جو اپنے روم میں ہی نہیں پورے گھر میں تنہا ہو۔ اس پر یہ خوفناک طوفان، بپھرے ہوئے بادلوں کی بھیانک آوازیں اور زوروں سے برستی شدید بارش۔ لگتا تھا صبح ہوتے ہوتے سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ ایسے خوفناک موسم میں انسان تو انسان چرند پرند بھی گھونسلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ مگر اس کو تو جیسے کسی بات کا احساس ہی نہیں تھا۔ وہ ہر خوف، ہر طوفان اور ہر چیز سے بے نیاز آنکھیں پھاڑے نجانے تاریکی میں کیا دیکھنے، کیا محسوس کرنے یا سننے کی کوشش کررہی تھی۔ دفعتاً ہوا کی شائیں شائیں کسی کی سرگوشیوں میں تبدیل ہونے لگیں۔
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تم واقعی آوارہ ہو۔ سنا تم نے ذلیل لڑکی! تم آوارہ ہو۔ لوگ تمہارے بارے میں جو بھی کہتے ہیں‘ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ اتنی سی عمر میں تم کتنے پراگندہ ذہن کی لڑکی ہو۔ کتنے دن سے میں تمہاری حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔ بالآخر آج اس موسم کا سہارا لے کر تم مجھے گمراہ کرنے بھی آگئیں۔‘‘ وہ رکا، ایک نفرت بھری نگاہ سامنے کھڑی روبی پر ڈالی، پھر زہر خند سے بولا۔
’’میں مرد ہوکر تمہارے پاس نہیں آیا، ورنہ اس موسم کے تقاضے میں بھی سمجھتا تھا۔ یہ بھیگا موسم مجھ پر بھی اثر انداز ہوسکتا تھا۔‘‘ اس آواز میں زہر بھرا ہوا تھا۔ ’’مگر تم، تم عورت ہوکر مجھ سے رفاقت کی بھیک مانگ رہی ہو۔ مگر افسوس تم اپنی خواہش پوری کرنے بہت غلط جگہ آئی ہو، کیونکہ میں ایسا مرد نہیں ہوں کہ تم جیسی عورت کی حوصلہ افزائی کروں۔ تمہیں یہاں کچھ نہ ملے گا۔ جائو اپنے کمرے میں چلی جائو۔‘‘ حقارت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے بلال نے بڑی بے رحمی سے خود سے لپٹی روبی کو نوچنے والے انداز میں الگ کرتے ہوئے پوری قوت سے دروازے کی جانب دھکیل دیا۔
وہ دروازے کی بجائے پورے زور سے سیدھی دیوار سے جاٹکرائی۔ سر میں شدید درد کا احساس ہوا، مگر بادل اور بجلی کی کڑکتی آوازوں کا خوف ہر شے پر حاوی تھا۔ وہ چوٹ بھول کر پھر بلال کی سمت ہی آئی تھی، کہ اس وقت بلال کے علاوہ کوئی ذی روح گھر میں موجود نہیں تھا۔ کڑکتی بجلی سے ڈر کر بلال سے لپٹنا ایک غیرارادی فعل تھا۔ اور وہ کیا سمجھا تھا اور کیا کچھ نہ کہہ ڈالا تھا۔ ’تم عورت ہوکر مجھ سے رفاقت کی بھیک مانگ رہی ہو‘ کیا وہ عورت تھی، وہ تو 17برس کی ایک بہت پیاری اور بے حد خوبصورت لڑکی تھی۔ بلکہ وہ تو ابھی پورے سترہ برس کی بھی نہیں تھی۔ اس نے ماتھے پر بل ڈالے سامنے کھڑے بلال کو دیکھا۔ پھر اس کے سامنے آتے ہوئے خوف زدہ لہجے میں بولی۔
’’باہر طوفان ہے‘ بادل ہے‘ بجلی ہے۔ مجھے ان سے بے حد ڈر لگتا ہے۔ بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘ مگر اس سنگ دل پر کچھ اثر نہ ہوا۔
’’بکواس بند کرو اور فوراً یہاں سے چلی جائو۔ میں کہتا ہوں دفع ہوجائو یہاں سے۔‘‘ وہ پوری قوت سے دھاڑا۔
روبی مارے خوف کے ایک بار پھر دیوار سے جا لگی۔ مگر کمرے سے باہر نہیں گئی کہ اندر وہ قہر کا دیوتا بن کر کھڑا تھا‘ تو باہر طوفان بادوباراں عروج پر تھا۔ مگر وہ اس کی مجبوری نہیں سمجھ رہا تھا۔ گو کہ روبی کو اب بلال سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ مگر باہر والے طوفان سے زیادہ نہیں۔ وہ اس کی پناہ چاہتی تھی۔ اس لیے سب کچھ سن کر بھی وہیں کھڑی تھی۔ حالانکہ اس کی باتوں کے جواب میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کرکے خود ہی کمرے سے نکل جاتی۔ مگر بات پھر وہی خوف کی تھی۔
’’بی بی جی!… بی بی جی!‘‘ اچانک وہ اپنی بوڑھی ملازمہ کی آواز سن کر چونک پڑی۔ یکدم پیشانی شکن آلود ہوگئی۔
’’کیا بات ہے اماں؟‘‘  روبی نے وہیں کھڑے کھڑے سخت لہجے میں پوچھا۔ جیسے اس کا اس وقت مخل ہونا ناگوار گزرا ہو۔
’’بی بی جی! باہر بہت زور کا طوفان ہے، کھڑکی بند کرکے اپنے بستر پر آجائیں۔‘‘ ملازمہ نے وہی ایک گھسا پٹا جملہ کہا، جو وہ کئی سالوں سے کہہ رہی تھی۔ مگر وہ اب بوڑھی ملازمہ کی آواز کب سن رہی تھی۔ اس کا ذہن، دل و دماغ، اس کی سماعتیں، پھر وہی بازگشت سن رہے تھے۔
’’تم جیسی خوبصورت عورتیں رات کا حسن تو ہوسکتی ہیں، رات کی دلکشی میں اپنی خوبصورت ادائوں سے اضافہ تو کرسکتی ہیں…
مرد کے جسم و جان کو آسودہ تو کرسکتی ہیں مگر…
دن کے اجالے میں کوئی شریف آدمی تمہیں اپنی شناخت نہیں بنا سکتا۔ تمہارے وجود کو اپنا نام نہیں دے سکتا۔ حتیٰ کے دوسروں کے سامنے تم سے بات کرنی گوارہ نہیں کرسکتا۔ تم جو سوچ کر آئی ہو، تم جو چاہتی ہوں، اگر میں یہ سب کر ڈالوں تو تمہارے پاس سوائے ذلت کے کیا رہ جائے گا۔ پلیز جائو یہاں سے، چلی جائو، کیوں اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی تباہ اور رسوا کرنے پر تل گئی ہو۔ میں کہتا ہوں جائو۔‘‘ وہ

ایک بار پھر پوری شدت سے دھاڑا۔
’’بی بی جی!‘‘ بوڑھی ملازمہ بھی اس دم پورے زور سے چیخی، تو روبی چونک پڑی۔ آنکھیں پھاڑ کر ملازمہ کو دیکھتے ہوئے روبی بولی تو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی آواز بہت دور سے آرہی ہو، بہت ہی دور سے۔
’’کیا بات ہے اماں! کیوں پریشان ہوتی ہو۔‘‘
’’بی بی جی! باہر بہت زوروں کا طوفان ہے اور آپ…‘‘ اماں کی آواز نامکمل رہی۔
’’اندھی نہیں ہوں، دکھائی دے رہا ہے مجھے بھی۔‘‘ روبی نے تیز لہجے میں اماں کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’آپ سمجھتی کیوں نہیں بی بی جی! موسم بہت خراب ہے۔‘‘ بوڑھی ملازمہ نے ہمدردی سے روبی کے احساسات سے عاری سپاٹ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پھر دہائی دی۔
روبی نے ایک لمحے کے لیے سر جھٹک کر آنکھیں پھاڑ کر اپنی بوڑھی ملازمہ کو دیکھا۔ جو بے حد پریشانی اور ہمدردی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’اماں یہی موسم تو میرے اندر ٹھہر چکا ہے۔ میں تو کئی برس سے دن رات اس موسم کی زد میں رہتی ہوں۔ تو مجھے اس موسم سے کیا ڈرائے گی۔‘ روبی نے صرف دل میں سوچا۔
بوڑھی ملازمہ کو اس کی خاموشی اور نرم رویے سے تھوڑا حوصلہ ہوا تو ہمت کرکے بولی۔
’’بی بی جی! آپ کو ڈر کیوں نہیں آتا، اس موسم سے۔ دیکھئے تو نگوڑے بادل کتنے زور سے کڑکتے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے لپک رہے ہیں۔ اور اس پر یہ بجلی جب کڑکتی، چمکتی ہے، تو یوں لگتا ہے ابھی سروں پر آگرے گی۔ مجھے بوڑھی عورت ہونے کے باوجود ڈر لگ رہا ہے۔ آپ تو پھر جوان ہو اور جوان جہان لڑکیاں تو ایسے موسم میں ماں کی گود میں منہ چھپا کر اپنے بستر پر دبکی رہتی ہیں اور ایک آپ ہیں۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑکر روبی کو دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اماں کے خاموش ہوتے ہی پھٹ پڑی۔
’’ڈر؟ خوف؟ یہ کس کو کہتے ہیں؟ بھیانک موسم کس کو کہتے ہیں؟‘‘ ہونہہ وہ وحشت بھری ہنسی کے ساتھ بولی۔
’’یہ الفاظ بہت چھوٹی عمر میں میری زندگی کی کتاب سے مٹ چکے ہیں۔‘‘ ملازمہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے روبی کو دیکھا۔ تبھی بھیانک آواز کے ساتھ بجلی نہ صرف کڑکی تھی بلکہ چمکی بھی یوں تھی جیسے قریب ہی کہیں گری ہو۔ مارے خوف کے کانپتے ہوئے اماں نے روبی کے غصے کی پروا کیے بغیر آگے بڑھ کر خود ہی کھڑکی کے دروازے بند کردیئے، پھر سمجھانے والے انداز میں بولی۔
’’بی بی جی! سیانے لوگ کہتے ہیں جب آندھی اور طوفان آتے ہیں تو ان میں بہت سارے جن، بھوت اور دوسری بہت ساری چھوٹی بڑی بلائیں شامل ہوتی ہیں۔ اس موسم سے ڈرنا چاہیے، بچنا چاہیے، دروازے بند کرکے خاص کر کنواری لڑکیوں کو اپنے کمرے میں رہنا چاہیے، ورنہ کچھ نہ کچھ غلط ہوجاتا ہے۔‘‘
اماں کی بات ادھوری رہی‘ کیونکہ اب وحشت اس کی آنکھوں ہی میں نہیں پورے جسم میں سرایت کرچکی تھی۔ اماں نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر اس کو بستر کے قریب لانا چاہا۔ مگر اب روبی پر دیوانگی طاری ہورہی تھی۔ اماں کا ہاتھ جھٹک کر وہ پھر کھڑکی کے قریب آئی اور اس کو پوری کی پوری کھولتے ہوئے جنونی انداز میں چلائی تھی۔
’’اماں تم کتنی بے ضرر چیزوں کو خوفناک کہہ رہی ہو۔ بھلا انسان سے بڑھ کر بھی کوئی چیز بھیانک یا خوفناک ہوسکتی ہے۔ انسان کو آج تک جتنا دکھ، جتنی تکلیفیں، خود انسان نے پہنچائی ہیں، شاید ہی کسی دوسری چیز نے پہنچائی ہوں۔ ہاں کبھی میں بھی اس موسم سے خوف کھاتی تھی۔ بہت ڈرتی تھی، کبھی میں بھی اس موسم سے، اس چمکتی بجلی، کڑکتی بجلی اور گرجتے بادلوں سے خوفزدہ ہوکر خود کو بچی سمجھ کر ڈر جاتی تھی۔ ہاں 17برس کی لڑکی بچی ہی تو ہوتی ہے۔ مگر وہ بچہ نہیں تھا۔ اور نہ ہی لڑکا تھا۔ وہ 26برس کا ایک سمجھدار نوجوان تھا، مرد تھا اور میرا جرم یہ تھا کہ میں اس سنگدل سے محبت کرتی تھی اور ویسے بھی اس وقت گھر میں اس کے سوا کوئی تھا بھی تو نہیں۔ اس لیے میں اس کے پاس چلی گئی، پناہ کے لیے، اپنے خوف سے نجات حاصل کرنے کیلئے۔ کیونکہ یہ موسم مجھے ڈرا دیتا تھا۔ میں بچپن سے ہی اس موسم سے ضرورت سے زیادہ خوف کھاتی تھی۔ میں تو اس کو اپنا سمجھ کر اس کے پاس اپنے خوف سے نجات حاصل کرنے کو گئی تھی کہ وہ میری محبت تھا، میرا محبوب تھا۔ یوں بھی اس وقت میں انسان کو انسان کا بہت بڑا ہمدرد اور سہارا سمجھتی تھی۔ مگر اس نے اس وقت جو میرے ساتھ رویہ اختیار کیا، جو کہا، کیا وہ اسے کہنا چاہیے تھا، کرنا چاہیے تھا۔‘‘
 بات کرتے کرتے وہ رکی اور اذیت سے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کی سماعتوں میں پھر وہی بازگشت تھی۔ کیا خوب صلہ دیا تھا بلال نے اس کی معصوم محبت کا، چاہت کا، اس کے اعتبار کا۔
’’تم آوارہ ہو، سنا تم نے۔ ذلیل لڑکی! تم آوارہ ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں میں آوارہ ہوں۔‘‘ روبی نے زور سے چیختے، چلاتے ہوئے کھڑکی کے دونوں پٹ پوری قوت سے ایک دوسرے پر دے مارے۔ شیشہ ٹوٹ کر کرچیوں کی صورت میں ہر طرف بکھر گیا۔ مگر اب اسے کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔ وہ ہر احساس سے عاری ہوچکی تھی۔ اس نے اپنے بیڈروم میں موجود ہر چیز اٹھا اٹھا کر پھینکنی شروع کردی تھی۔ باہر والا طوفان اب گویا کمرے کے اندر بھی آگیا تھا۔ اس نے چیختے، چلاتے، دیوانگی کے عالم میں سب کچھ ہی توڑ ڈالا تھا۔ وہ چیختے، چلاتے ایک ہی جملہ کہا کرتی تھی۔

’’ مجھے تم سے نفرت ہے بلال! مجھے تم سے نفرت ہے، بلال! شدید نفرت۔‘‘ کہ اس کے، آج کے اس مقام کا ذمہ دار جہاں وہ تھی، بلال ہی تو تھا۔ مگر آج وہ بلال کا نام لینے کی بجائے صرف یہ کہہ رہی تھی۔
’’مجھے سب سے نفرت ہے۔ مجھے سب سے نفرت ہے۔‘‘
 اور یہ سب کون تھے۔ اماں سمجھ نہ سکی۔ وہ چیخنے چلانے کے ساتھ ساتھ اب ہاتھ پائوں بھی چلا رہی تھی۔ اماں اس کو سنبھالتے سنبھالتے نڈھال ہورہی تھی اور روبی جب تھک کر چور چور ہوگئی تو نیم بے ہوشی کے عالم میں اپنے بیڈ پر گر کر وہ اپنے ماحول تو کیا خود اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوچکی تھی۔
بوڑھی ملازمہ کتنی دیر گم صم سی کھڑی بے سدھ پڑی روبی کو دیکھتی رہی۔ پھر دروازہ بند کرکے خود اپنے کمرے میں چلی آئی کہ اس کو اچھی طرح معلوم تھا، اب صبح تک روبی یونہی بے سدھ پڑی رہے گی۔ اب فکر کی کوئی بات نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔ یوں بھی روبی کو سنبھالتے سنبھالتے وہ خود بھی تھک کر نڈھال ہوچکی تھی۔ اس لیے مزید وہاں کھڑی رہنے کی بجائے وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
دوسرے دن کی صبح نکھری نکھری روز سے کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھی۔ گزری رات طوفان کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ نیلگوں آسمان ہمیشہ سے کچھ زیادہ ہی اجلا اجلا لگ رہا تھا۔ جبکہ روبی ابھی تک آڑی ترچھی بیڈ پر پڑی سو رہی تھی۔ اماں دبے پائوں روبی کے کمرے میں آئی اور بغور روبی کو دیکھنے لگی۔ چونکہ روتے روتے سوئی تھی اس لیے آنسوئوں کے نشان ابھی بھی چہرے پر موجود تھی۔ اس کے خوبصورت سیاہ شولڈر کٹ بال تکیے پر ادھر ادھر بے ترتیب بکھرے پڑے تھے۔ اور اس کا خوبصورت، بے داغ، شفاف چہرہ کسی دیوی کی طرح مقدس لگ رہا تھا۔ اماں کا جی چاہا آگے بڑھ کر محبت سے اس کے معصوم چہرے پر ہاتھ پھیرے یا پھر محبت اور شفقت سے اس کی پیشانی چوم لے۔ مگر چاہنے کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکی کہ ایسا کرنے سے نہ صرف وہ اٹھ سکتی تھی بلکہ خفا بھی ہوسکتی تھی۔ اس لیے اماں بیڈ سے ذرا پرے کھڑی محبت سے اس کو دیکھنے لگی۔ کتنی خوبصورت ہے، جوان بھی، دولت مند بھی اور ایک معروف مشہور ہستی بھی، بہت پیاری مگر بالکل تنہا۔ نجانے کیا غم یا دکھ اپنے اندر چھپائے جی رہی ہے کہ جب بھی طوفانی موسم ہوتا ہے یہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوجاتی ہے۔ خدا جانے وہ کونسی یاد یا بات ہے جو اس طوفانی موسم سے وابستہ ہے۔ جو اچھی بھلی لڑکی ایسے موسم میں مارے وحشت کے پاگل ہوجاتی ہے اور یہ بلال کون ہے؟ جس کا نام لے کر وہ اپنی نفرت کا اظہار کرتی تھی۔ مگر حیرت ہے آج روبی نے بلال کا نام نہیں لیا تھا۔ یہ بلال کون تھا؟ محبوب تھا یا کچھ اور۔ اماں کبھی نہ سمجھ سکی کہ اس ایک جملے کے علاوہ وہ کبھی کچھ اور نہ کہتی تھی۔
’’بلال مجھے تم سے نفرت ہے، شدید نفرت۔‘‘
اماں کو تقریباً دس برس ہوچکے تھے، اس کے ساتھ رہتے ہوئے۔ مگر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کے بارے میں کچھ جان نہ سکی تھی۔ پل میں تولہ، پل میں ماشہ وہ اس کے بارے میں جانتی بھی تو کیسے، اس کا کوئی بھی ملنے والا کبھی اس گھر میں نہیں آیا تھا۔ اس بے حد خوبصورت اور بڑے گھر میں وہ اماں کے ساتھ بالکل تنہا رہتی تھی۔ اماں اکثر سوچتی‘ یہ بے چاری شاید اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہے، مگر نہیں۔ کوئی نہ کوئی تو ہوگا اس کا اپنا بھی۔ نجانے وہ کیا حالات ہوں گے جو اس نے سب کو چھوڑ کر یہ تنہائی کی زندگی اختیار کی تھی۔ وہ اس ملک کی ایک مشہور و معروف اداکارہ تھی، جس کی ہر فلم باکس آفس پر کامیابی سے ہمکنار ہوتی تھی۔ وہ جس کی ایک جھلک دیکھنے کو دنیا ترستی تھی۔ بات سننے کو تڑپتی تھی۔ مگر وہ اپنی ذات میں کتنی دکھی اور تنہا تھی۔ یہ صرف اماں جانتی تھی اور اس بات کا اماں کو پورا یقین تھا کہ اس کا تعلق بازار گناہ یعنی ہیرامنڈی سے ہرگز نہیں تھا۔ جیسا کہ اکثر اداکارائوں کا تھا۔
وہ یقینا کسی معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی کہ اس کا اٹھنا بیٹھنا اداکارائوں جیسا نہیں تھا۔ وہ گھر کے باہر اداکارہ تھی، تو گھر کے اندر ایک بے حد سادہ لڑکی، بے حد کم گو اور گم صم سی، جو باتیں کم کرتی تھی اور سوچتی زیادہ تھی۔ اماں کے مزید کچھ سوچنے سے پہلے ہی معاً روبی نے کروٹ بدلی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ روبی نے سامنے کھڑی اماں کو حیرت سے دیکھا، پھر خلاف امید نرم لہجے میں پوچھا۔
’’کیا بات ہے، اماں! آپ صبح صبح میرے روم میں، کوئی کام ہے کیا۔‘‘
’’ نہیں بی بی جی! کام کیا، میں تو یونہی آپ کو دیکھنے آئی تھی۔‘‘ اماں نے جلدی سے وضاحت کی۔
’’مجھے کیوں بھلا، مجھے کیا ہوا؟‘‘ روبی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ چونک پڑی۔ پہلے حیران ہوکر خود کو دیکھا، پھر سارے روم پر اک نگاہ ڈالی، سب کچھ ہی ٹوٹ چکا تھا۔ دریچے کا شیشہ، ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ، پرفیوم کی شیشیاں، قیمتی میک اپ کا سامان، سب کچھ ہی تو ٹوٹ چکا تھا اور اب سارے روم میں بکھرا پڑا تھا۔ روبی کچھ دیر کھوئی کھوئی سی نگاہوں سے ہونٹ کاٹتے ہوئے یہ سب دیکھتی رہی۔ اچانک سامنے دیوار پر لگے وال کلاک پر نگاہ پڑی تو ٹائم دیکھ کر چونک پڑی، پھر اچھل کر بیڈ سے نیچے اتری تو اماں یکدم چیخی۔
’’بی بی جی! دھیان سے کہیں پائوں میں کانچ نہ لگ جائے۔ رکیں میں آپ کو چپل پکڑاتی ہوئی۔‘‘
 رات کی کوئی چیز بھی تو اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی تھی۔ مگر روبی‘ اماں کی وارننگ کی پروا کیے بغیر بیڈ سے اتر چکی تھی اور فرش پر بکھری کرچیاں بھی اپنا کام دکھا چکی تھیں۔ اماں کی مزید سرزنش سے بچنے کے لیے وہ سیدھی واش روم میں گھس گئی اور پائوں سے بہنے والے خون نے بیڈ اور واش روم کے درمیان خون کی ایک لائن بنا دی تھی۔ اس نے لباس اتارے بغیر ہی شاور کے نیچے کھڑے ہوکر شاور کھول دیا اور
of 97 
Go