Urdu Novels

Back | Home |  

 

بندمٹھی میں سلگتی ریت……صائمہ اکرم
سردیوں کی گلابی شام اس پختہ دیواروں والے گھر میں سسک سسک کر دم توڑ رہی تھی۔ اس کا گلابی رنگ جوں جوں پگھلتا جا رہا تھا‘ اس گھر کے واحد کمرے میں موجود لڑکی کی سانسیں اور اُمیدیں ویسے ویسے اُکھڑ رہی تھیں۔ اس مٹتی ہوئی شام کی نیم جاں آنکھوں میں غضب کی اُداسی تھی۔ خوشگوار خنک ہوا سر کنڈے کے جھاڑوں میں سے گزرتی مبہم سرسراہٹیں پیدا کر رہی تھی۔
اس لڑکی کو معلوم تھا کہ اگر یہ خوفناک رات گزر گئی تو اس کی آنے والی زندگی میں صرف اندھیرے ہی اندھیرے ہوں گے۔ خوف اور دہشت کے سنپولیے اسے اپنے وجود پر رینگتے محسوس ہو رہے تھے۔ وہ ہراساں نظروں سے اس کمرے میں موجود ہر چیز پر نظریں جمانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کمرے میں لگا ساٹھ واٹ کا بلب دیواروں کی خستگی کو نمایاں کر رہا تھا۔ اُکھڑا ہوا پلستر‘ چھت پر لگا پرانا پنکھا‘ بوسیدہ چارپائی اور ٹوٹی ہوئی کرسی… وہ اب ہونٹوں کو کچلتے ہوئے دُھندلی آنکھوں سے زمین کو گھور رہی تھی۔ آسمان کے سینے سے پھوٹتا ہوا خنک اندھیرا اب اس کی آنکھوں سے رگوں میں اُترنے لگا تھا۔ کمرے میں موجود واحد مضبوط سلاخوں والی کھڑکی سے نظر آنے والا نیم کا درخت اور اس کی جھکی ہوئی شاخیں اب اس کے دُکھ پر آہیں بھر رہی تھیں۔ ہر سُو خزاں کا حزن و ملال ٹھہرا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ کھلی ہوئی کھڑکی سے سرد ہوا کا جھونکا اس کے بدن سے ٹکرایا تو خفیف سی کپکپی طاری ہو گئی۔ دروازے پر دستک دے‘ دے کر اس کی گلابی ہتھیلیاں دُکھنے لگی تھیں‘ لیکن اسے اس بات کی قطعاً پروا نہیں تھی۔
’’دروازہ کھول دیں‘ مجھ پر رحم کریں‘ مجھے حویلی جانے دیں۔‘‘ چیختے چیختے اس کا گلا بیٹھ گیا تھا۔ رات کا سرد تنفس اس کی سانسوں سے اُلجھنے لگا تھا۔
یہاں سے فرار کو کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس نے پلکیں جھپک کر آنکھوں کے گرد تنی نمی کی چادر کو ہٹایا اور کمرے کے روشندان کو بے بسی سے دیکھا۔ اس کا حجم اتنا کم تھا کہ وہ کسی طرح بھی سمٹ سمٹا کر بھی وہاں سے نہیں گزر سکتی تھی۔ رو رو کر اس کا گلا بیٹھ گیا تھا۔ وہ اب ٹھنڈ ے فرش پر ننگے پائوں کھڑی بے حس و حرکت کمرے کی کھڑکی سے گزرتی رات کو بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔ صحن میں لگے اکلوتے نیم کے درخت کی شاخیں ساکت ہو گئی تھیں۔ سرمئی آسمان پر اِکا دُکا تارے بجھے‘ بجھے سے لگ رہے تھے۔ سرمئی ریشم جیسی رات بہت تیزی سے گزرتی جا رہی تھی۔ اس کا نڈھال وجود رات کے ملائم بدن میں دھنستا جا رہا تھا۔
فجر کی اذان اس کی سماعت پر بہت دھیمی دستک دے کر لوٹ گئی تھی۔ وہ بے بسی کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئی۔ وہ رگوں کو کاٹتی ہوئی سردی سے بے نیاز تھی۔ گلے میں بے شمار آنسو آن بیٹھے تھے۔
’’یاخدا! مجھ سے کہاں غلطی ہو گئی؟‘‘
’’حیدر لالہ تو مجھے زندہ زمین میں گاڑ دیں گے۔‘‘ 
’’اوہ خدایا! میں کس‘ کس کو صفائی دوں گی۔‘‘ مختلف وہم اور اندیشے زہریلے ناگوں کی طرح سر اُٹھا رہے تھے۔ عجیب بے بسی‘ مایوسی اور وحشت کمرے میں رقص کر رہی تھی۔
پھر ایسا لمحہ آیا جب گھر کی ہر شے پر چھایا سناٹاا ور اندھیرا اپنا لبادہ اتار چکا تھا۔ پاکیزہ سکوت تار تار ہو چکا تھا۔ باہر نکلنے کی تمام راہیں مسدود ہو چکی تھیں۔ اس کے رخساروں پر مسلسل پرُحدت قطرے پھسل رہے تھے۔
’’اے خدا! اب کیا مانگوں؟‘‘ مانگنے کے لیے کچھ بھی تو نہیں رہا تھا‘ اب وقت کی ظالم ڈور اس کے ہاتھوں سے پھسل چکی تھی۔ اس نے بے اختیار اپنے بازو پر بندھی رسٹ واچ کو دیکھا درد اور خوف نے اس کے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا۔ اسے اغوا ہوئے پورے بارہ گھنٹے ہو چکے تھے۔
٭٭٭
لال حویلی کے بڑے سے سیاہ گیٹ کو بوگن ویلیا کی آتشی گلابی اور سفید پھولوں والی بیل نے اپنی بانہوں کے حصار میں لے رکھا تھا۔ اس حویلی کے مکینوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ صبح ان کے لیے قیامت خیز ثابت ہو گی۔ دُودھیا دھند کی چادر اوڑھے موسم سرما کی سرد ہوا نے پوری حویلی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ گیٹ سے پورج تک آنے والی سیاہ تار کول کی سڑک پر ساری رات گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی تھی۔ پوری حویلی کے ملازمین اور مکینوں کے چہرے سہمے ہوئے اور آنے والے وقت سے خوفزدہ تھے۔

 


 

باہر سے نظر آنے والی لال حویلی قدیم اور جدید طرز تعمیر کا خوبصورت امتزاج تھی۔ وسیع و عریض لان میں سکھ چین‘ املتاس اور موسمی پھلوں کے درختوں کی بھرمار تھی۔ لان کے ایک گوشے میں سوئمنگ پول تھا۔ جس کے گرد چندنا اور مور پنکھ کے پودے گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ حویلی کے پیچھے وسیع و عریض میدان کے ایک سائیڈ پر سید سجاد حسین شاہ کے گھوڑوں کا فارم تھا اور دوسری سائیڈ پر لگے جنگلے میں موروں کا ایک جوڑا اکثر اٹکھیلیاں کرتا دکھائی دیتا تھا۔ باہر سے نظر آنے والی اس قدیم اور جدید طرز کی حامل حویلی میں زنان خانہ اور مردانہ خانہ بالکل علیحدہ علیحدہ تھے اور زنان خانے میں صرف خواتین ملازمائوں کو جانے کی اجازت تھی۔
سید پیر محمد شاہ کی وفات کے بعد بھاری بھرکم ذمے داریوں کا بوجھ سید سجاد حسین کے کندھوں پر آ چکا تھا۔ جو اُن کی واحد اور دیرینہ اولاد تھے اور… ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے دو بیویوں سے صرف ایک بیٹا اور تین بیٹیاں دی تھیں۔ اس وقت لال حویلی کے زنان خانے میں موت جیسی خوفناک اور دل کو چیرنے والی خاموشی کا راج تھا۔ لکڑی کے منقش تخت پر گائو تکیے سے ٹیک لگائے بے جی کی زبان صدمے سے گنگ تھی۔ ان کے پاس بیٹھی روبی پھپو سر جھکائے بے بس سی بیٹھی تھیں۔ ان کا چہرہ خوف سے پیلا پھٹک تھا۔ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی اریبہ اور عروہ ہاتھ پیر چھوڑے پتھر کے بت کے مانند کھڑی تھیں۔ ان کی بڑی بڑی برائون آنکھوں کے گرد راتوں رات سیاہ حلقے نمودار ہو گئے تھے اور شنگرفی ہونٹ مرجھائے ہوئے پھولوں کی پتیاں لگ رہے تھے۔ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ان کی ماں کا چہرہ زرد اور سپاٹ تھا‘ جبکہ سید سجاد حسین کی شعلے برساتی آنکھیں ان سب پر جمی ہوئی تھیں۔ دیوار کے بائیں سائیڈ پر رکھے صوفے پر بیٹھی مدیحہ نے استہزائیہ مسکراہٹ سے سب کا جائزہ لیا۔ اس وقت ان کا دماغ سرُور کے انوکھے نشے میں ہلکورے لے رہا تھا۔
’’لالہ جی ! قسم خدا کی ! میں سارا وقت بچیوں کے پاس تھی۔ بس کھانے کے وقت تھوڑا سا اودھم مچا اور بچیاں میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئیں۔ اریبہ اور عروہ تو میرے سامنے تھیں۔ میں نے سمجھا کہ مومنہ بھی وہیں ہو گی۔‘‘ روبینہ سہمی ہوئی آواز میں ایک دفعہ پھر صفائی دے رہی تھیں۔ ان کی آواز گہرے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
’’بکواس بند کرو روبینہ شاہ! مجھے یہ بے ہودہ وضاحتیں مت دو۔‘‘ وہ ایک دفعہ پھر بھڑک اُٹھے تھے۔ ان کے ماتھے کی شکنیں گہری جبکہ بھویں تن سی گئی تھیں‘ جبکہ کراری آواز گہرے تنفر کا پتا دے رہی تھی۔
’’مجھے وہ منحوس‘ ذلیل اور بے غیرت لڑکی کہیں سے مل جائے تو میں اس کا وہ حشر کروں گاکہ ’’لال حویلی ‘‘ میں صدیوں تک اس عبرت ناک سزا کی مثالیں دی جائیں گی۔ اس گھٹیا لڑکی کو تو میں پاتال کی گہرائیوں سے بھی نکال لائوں گا‘ جو دن دہاڑے میری عزت سے کھیل گئی۔ اسے معلوم نہیں کہ لال حویلی میں اس قسم کے نافرمان لوگوں کا کیا حشر ہوتا ہے؟ پالتو کتوں کی خوراک بنائوں گا اسے…‘‘ ان کے لہجے میں نفرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ وہ مغلظات بکتے ہوئے خونخوار آنکھوں سے کمرے میں موجود تمام خواتین کو دیکھ رہے تھے اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سب کو گولیوں سے بھون دیں۔
’’سجاد شاہ حوصلے اور صبر سے کام لو۔ ہماری بچی کی تربیت غلط نہیں ہوئی۔ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہو۔‘‘ اس طرح کے ماحول میں بات کرنے کا حوصلہ صرف بے جی ہی کر سکتی تھی۔
’’بے جی! اپنی اولاد کے رنگ ڈھنگ سے والدین سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہوتا اور اس بدذات کے بچپن سے ہی لچھن ایسے تھے… بھاگ‘ بھاگ کر مردانے میں جاتی تھی۔ ضد کر کے کالج میں داخلہ لیا اور ہماری ناک کے نیچے اس نے اپنے کمرے میں موبائل کافی دنوں تک چھپا کے رکھا۔ اپنی پھپھو کی طرح اس کی جوانی بھی بے لگام ہو رہی تھی۔ کچھ نہ کچھ تو چاند اس نے چڑھانا تھا‘ چڑھا لیا۔ میری جان کا عذاب ہیں یہ جونکیں‘ پہلے چار بہنوں نے میری زندگی کو عذاب بنائے رکھا…اوپر سے خدا نے بیٹیوں کی صورت میں تین منحوس صورتیں میرے گھر بھیج دیں۔‘‘ انہوں نے زخمی نظروں سے تخت پر بیٹھی اپنی والدہ کو دیکھا۔
سیدہ شگفتہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے مجازی خدا کو دیکھتی رہ گئیں۔ اتنی زہر آلود سوچ اور اتنا نفرت انگیز انداز۔ سیدہ مدیحہ ہاتھ ملتے ہوئے مصنوعی تفکر سے بولیں۔
’’آئے ہائے‘ کوئی میرے بچے کا تو پتا کروائے جب سے اسے اس بے غیرت کے بھاگنے کی اطلاع ملی ہے اپنا پسٹل اور جیپ لے کر نکلا ہوا ہے۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں تین‘ تین سلیں اس کے سینے پر دھری ہیں‘ میں کہتی ہوں شاہ صاحب آپ دلاور کو فون کریں اور پوچھیں حیدر شاہ کہاں ہے؟ مجھے تو ہول اُٹھ رہے ہیں۔‘‘ ان کی آواز بلند اور انداز سراسر تمسخرانہ تھا۔
’’کچھ نہیں ہوتا تمہارے بیٹے کو‘ اسی نے سفارش کی تھی کہ محمود شاہ کے بیٹے کے عقیقے میں سب کو جانے دیں اور اوپر سے وہ دو گن مین بھی ساتھ تھے۔ وہ ان سب کی موجودگی میں کہیں دفعان ہو گئی اور ان کم بختو کو پتا تک نہ چلا۔ ’’سید شاہ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا‘ جبکہ سیدہ مدیحہ تو جیسے پھٹ پڑی تھیں۔

 

’’ہاں تو میرے معصوم بیٹے کو ان منحوسوں کے کرتوتوں کا کیا پتا۔ اسے کیا خبر تھی کہ وہ کس گند کو ساتھ لیے جا رہا ہے اور اندر ہی اندر یہ کھچڑی کب سے پک رہی ہے۔ اوپر سے لال حویلی کی سب سے ’’سیانی‘‘ کو آپ نے ساتھ روانہ کیا تھا۔ اب کیا خبر… اندر سے کون‘ کون ملا ہوا…؟‘‘
’’مدیحہ منہ سنبھال کر بات کرو۔‘‘ بے جی تڑپ کر غصے سے بولی تھیں۔
’’میں تو منہ سنبھال لوں گی‘ لیکن گائوں والوں کی زبانیں کون سنبھالے گا۔ گھر سے بھاگ جانے والی لڑکی کا جرم سیاہ رات کی تاریکی سے بھی زیادہ خوفناک اور ہولناک ہوتا ہے۔ لوگ شاہ صاحب اور میرے بیٹے کی طرف دیکھ کر ہنسیں گے‘ انگلیاں اٹھائیں گے۔‘‘ سیدہ مدیحہ آج موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھیں اور کچھ بیٹے کی ماں ہونے کے احساس نے خودبخود شاہ صاحب کی نظروں میں انہیں معتبر بنا دیا تھا اور وہ ان کی دوسری ’’لاڈلی‘‘ بیوی ہونے کا اکثر ناجائز فائدہ اٹھا جاتی تھیں۔
’’میں انگلیاں اٹھانے اور ہنسنے والوں کو جان سے مار دوں گا‘ زندہ دفن کر دوں گا حرام خوروں کو‘ کسی کی جرأت نہیں ہے کہ سید سجاد حسین شاہ اور حیدر سجاد شاہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے۔‘‘ وہ ایک دفعہ پھر آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ چہرہ اندرونی فشار سے سرخ‘ لہجہ زہر آلود اور انداز میں سرد مہری کا عنصر واضح تھا۔
’’ارے کمی کمین لوگوں کی کہاں جرأت؟ وہ تو ہمارے لیے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے… میں تو ’’شریکوں‘‘ کی بات کر رہی ہوں۔ ان تک بھی خبر پہنچ گئی ہو گئی۔ آج تو سید شہباز شاہ کی حویلی میں چراغاں ہو گا۔ دیگیں کھڑک رہی ہوں گی۔‘‘ سیدہ مدیحہ شاہ بولتے بولتے ایک دم چونکیں اور نسبتاً دھیمے لہجے میں بولیں۔
’’شاہ جی! آپ نے سید سجاول علی شاہ کا پتا کروایا۔ کہیں… ‘‘ وہ فقرہ اُدھورا چھوڑ کر شاہ جی کی طرف دیکھنے لگیں‘ جن کے چہرے پر زلزلے کے آثار پیدا ہو گئے تھے۔ بے جی اور شگفتہ شاہ نے انتہائی ناپسندیدہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’میں تمہیں شکل سے بے وقوف‘ چغد یا گھامڑ لگتا ہوں؟‘‘ شاہ جی کے سرد اور طنزیہ لہجے پر مدیحہ شاہ گھبرا گئیں۔ انہیں شاہ جی کی آنکھوں سے جھلکتے تنفر کی گہرائی کا اندازہ ہوا‘ لیکن وہ مصلحتاً خاموش رہیں۔ ’’سب سے پہلے ان گھٹیا لوگوں کا ہی پتا کروایا تھا‘ سجاول شاہ آج کل باہر مرا ہوا ہے‘ بلاول لاہور میں گلچھڑے اُڑا رہا ہے اور خودمعظم شاہ اس دو ٹکے کی اداکارہ کے ساتھ دبئی میں ہے۔‘‘ شاہ جی بھوکے شیر کی طرح غرّائے تھے۔
’’میں نے تو یونہی پوچھا تھا۔‘‘ وہ خفیف سا ہو کر گویا ہوئیں۔ اسی لمحے کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلا انتہائی اشتعال انگیز انداز میں حیدر شاہ اندر داخل ہوا تھا۔ لیکن سامنے باپ کو دیکھ کر تھوڑا سا ٹھٹکا‘ ستا ہوا چہرہ‘ آنکھوں میں سرخ ڈورے‘ بکھرے ہوئے بال‘ چھ فٹ سے اونچا قد اور گھنی مونچیں‘ اس کے انگ انگ سے بے چینی اور غصہ مترشح تھا۔
’’آ جائو‘ پتا چلا اس کا…؟‘‘ شاہ جی کی خشک اور بے تاثر آواز پورے کمرے میں گونجی۔
’’اگر پتا چلتا تو اس کی جگہ یہاں لاش آتی میرے ساتھ۔‘‘ اس کا لہجہ بھی پتھریلا تھا۔
’’میں کہتی ہوں لعنت بھیجو… اس بدچلن پر‘ بس پورے گائوں میں مشہور کروا دو کہ دیناپور سے آتے ہوئے گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ کم بخت ‘ آوارہ مر گئی۔ کم از کم پورے گائوں میں تو کسی کی جرأت نہیں کہ آپ کی بات سے اختلاف کر سکے۔‘‘ سیدہ مدیحہ کے اس مشورے پر بے جی نے بڑی چبھتی ہوئی نظروں سے انہیں دیکھا۔ شاہ جی بھی اپنی جگہ پر پہلو بدل گئے‘ جبکہ حیدر شاہ صرف باپ کے لحاظ میں خاموش تھا‘ ورنہ اس کے اندر ابلتا ہوا الائو اس کے چہرے سے صاف جھلک رہا تھا۔
’’ماں جی! لوگوں کو بے وقوف مت سمجھیں۔ اس حویلی کے ملازم اندھے یا بہرے نہیں… یہ وہ دور نہیں جب ملازم اپنے مالکوں کے راز سینوں میں دفن کر لیتے تھے۔ یہ سب حرام خور ہیں جہاں سے اچھا کھانے کو ملے وہیں کتے کی طرح لپکتے ہیں۔ وہ بے غیرت کہیں سے ہاتھ آلگے تو اس کے ٹوٹے ٹوٹے کر کے حویلی کے اندھے کنویں میں پھنکوا دوں گا۔‘‘ وہ اکھڑ لہجے میں بولا تھا‘ لیکن شاہ جی کچھ توقف کے بعد بولے۔
’’اور رنگ پور والوں کی کوئی خیر خبر؟‘‘ شاہ جی سپاٹ لہجے میں پوچھ رہے تھے۔
’’کچھ نہیں‘ سجاول حقیقت میں انگلینڈ‘ معظم چچا دبئی اور بلاول لاہور میں ہی ہے۔ میں نے ان کے بہت قریبی لوگوں سے پتا کروایا ہے… سجاول پرسوں پاکستان آئے گا‘ جبکہ معظم چچا اگلے ہفتے۔‘‘
of 52 
Go