Urdu Novels

Back | Home |  

فریب ِنظر
لمبے سے برآمدے کے آخری سرے پر بڑا بے ہنگم سا کچن تھا۔
وہ اوپری منزل سے نیچے اُترا تو سیدھا چلتا ہوا اسی کے دروازے پر آ کر رکا۔
اُونچی چھت والا، کھلا کھلا سا کچن، جہاں اگر بالکل ایک طرف، دیوار کے ساتھ لگے چولہے اور دوسرا متعلقہ سامان دکھائی نہیں دے رہا ہوتا تو وہ اسے بڑی اماں کے گھر کا کوئی عام سا کمرہ ہی سمجھتا، جہاں بہت سارے لوگ محض اتفاقاً جمع ہو بیٹھے ہوں۔
اپنی دیوار کے ساتھ بچھے تخت پر سر جوڑ کر بیٹھی خواتین، چھوٹی سی کافی ٹیبل پر بیٹھے حضرات اور سلیب کے ساتھ کھڑی کچھ اور خواتین۔ ایک نظر میں ہی اُس نے اس سارے منظر کو تفصیل سے دیکھنا چاہا۔
مگر ابھی بہت کچھ اور تھا۔
’’اوئے، ایاز! اندر آئو نا۔ وہاں دروازے میں کیوں کھڑے ہو؟‘‘
آملیٹ کے لئے انڈے پھینٹتی ہوئی شنو آپا کی نگاہ اُس پر پڑی تو انہوں نے اسے وہیں سے پکارا۔
مجمع اغیار میں وہی ایک مانوس شکل تھی۔
وہ کچھ جھجکتے ہوئے اندر چلا آیا۔
چاروں طرف مچے شور میں چند لمحوں کے لئے خلل سا پڑا۔ اپنی اپنی مصروفیت ترک کر کے سب ہی نے اس نو وارد کا جائزہ لیا اور پھر گفتگو کا ایک نیا عنوان کھل گیا۔
’’آپ کی تعریف؟‘‘

’’اتنی صبح صبح کہاں سے تشریف آئی ہے؟‘‘
’’پہلے تو کبھی دیکھا نہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
سوالات کی بوچھاڑ میں وہ اچھا خاصا بھیگ چکا تھا اور ستم یہ کہ اس کا جواب سننے کے لئے ان میں سے کوئی بھی اسے موقع دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔
وہ سب ہی بے تحاشا بولتے تھے۔
اور ان لوگوں کے ساتھ اسے ایسے ہی رہنا تھا، جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان۔ بے بس سی نگاہوں سے وہ سامنے کھڑی شنو آپا کو دیکھ رہا تھا، جو اپنے طور پر ایک ٹھیک ٹھاک سا سسپنس پیدا کر کے فخریہ طور پر مسکرا رہی تھیں۔
تب ہی بڑی ممانی نے پہیلی بوجھ ہی لی۔
’’آمنہ کا بڑا بیٹا ہے، کل رات آنے والے تھے نا تم تو۔‘‘
اپنے درست اندازے پر ان کا گورا رنگ خوشی سے سرخ ہو رہا تھا۔ ’’وہاں کیوں کھڑے ہو، ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو۔ یہاں۔‘‘ وہ ان کے حکم پر بے ساختہ کھنچتا چلا گیا اور اسی سال خوردہ تخت کے کنارے پر جا بیٹھا۔
’’بچپن میں دیکھا تھا تمہیں۔ بالکل بدل گئے ہو۔ اتنے سے کو لے کر آئی تھی، آمنہ۔‘‘ انہوں نے تخت کے لیول سے ذرا ہی اوپر ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے ایاز کا سابقہ سائز بتایا۔
’’ذرا جو اس غریب کو چین کا سانس لینے دیتے ہو۔ ہر وقت بیمار، ہر وقت کا رونا، جل جل کر رنگ بھی اس وقت تو سیاہ ہو رہا تھا، اب تو کافی اچھا رنگ نکال لیا ہے، تم نے۔‘‘ اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے جو سپاس نامہ پیش کیا، وہ خاصا شرمندہ کرنے والا تھا۔
دبی دبی سی ہنسی کی آوازیں، اس نے خود بھی صاف سنی تھیں۔


’’رنگ تو بدل گیا، مگر باقی عادتوں کا پتہ نہیں، بدلیں یا نہیں۔‘‘ کسی نے بہت ہنس کر کہا بھی۔
’’اچھا، بدتمیزی نہیں۔‘‘ بڑی ممانی نے اس سارے گروپ کو تنبیہی نگاہوں سے دیکھا، جن کے ہاتھ میں اُس کا مذاق اُڑانے کا اختیار انہوں نے خود دیا تھا۔
’’تھوڑے سے شرارتی ہیں، مگر دل کے بہت اچھے ہیں یہ سب۔ ابھی تمہاری ان سے دوستی ہو جائے گی تو پھر بہت اچھا لگے گا تمہیں۔‘‘
انہوں نے شاید اسے تسلی دینے کے لئے کہا تھا۔ وہ خاموش ہی رہا۔
اگلے بارہ ہفتے اسے یہاں گزارنے ہی تھے۔ بڑی اماں کے گھر نہ سہی، کسی ہوٹل یا ہاسٹل میں سہی۔
’’میں بڑی ہوں اور یہ چھوٹی، اور یہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ انہوں نے حسبِ مراتب تعارف کرانا شروع کیا۔ حالانکہ وہ نہ بھی بتاتیں، تب بھی وہ پہچان چکا تھا۔
بڑی ممانی، چھوٹی ممانی اور چھوٹی ممانی کی بہن، آنٹی سلیا۔
پنجاب کے آخری سِرے پر بسے گائوں میں زندگی گزارتے ہوئے اماں کا چاہے کسی اور بات پر بس نہ چلا ہو، مگر انہوں نے ننھیالی رشتوں کی پہچان اسے گھول کر پلائی تھی۔
بڑی اماں اُن کی سگی خالہ تھیں اور یہ تینوں سینئر خواتین، ان کی جانے کن کن رشتوں سے بہنیں بھی لگا کرتی تھیں۔
اپنا سارا تعلیمی دور ہاسٹل میں گزارتے ہوئے وہ جتنے دن کے لئے بھی گھر ہوا کرتا، وہ اسے ان سب رشتہ داروں سے متعلق ذرا ذرا سی باتوں سے تفصیلاً آگاہ کرتی رہتیں، جن سے محض فون یا برسوں بعد ملنے کا ناتا رہ گیا تھا۔
انہیں شاید ڈر تھا کہ تعلق کا یہ آخری سِرا بھی کہیں اُن کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے اور وہ محض ان کا دل رکھنے کے لئے سب کچھ دلچسپی سے سنے جاتا۔
مگر اس وقت یہ ساری سابقہ معلومات بڑی حد تک کارآمد ثابت ہو رہی تھیں۔
رات گئے جب وہ یہاں پہنچا تھا تو صرف شنو آپا اور سہیل بھائی سے ہی ملاقات ہوئی تھی۔

جملہ اہلِ خانہ کسی مہندی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ شنو آپا نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بڑی شرمندگی محسوس کی تھی۔
’’اگر خبر ہوتی کہ تم آ رہے ہو تو ضرور کچھ لوگ تو گھر پر رُکے ہی رہتے۔‘‘
حالانکہ اُسے کوئی ایسا خاص شوق بھی نہیں تھا، مجمع لگا کر وقت گزارنے کا۔ سو اُس نے تو دل میں شکر کا کلمہ پڑھا تھا اور کھانے سے فارغ ہو کر اوپر کی منزل میں اپنے لئے مخصوص کئے جانے والے کمرے میں جا کر آرام سے سو گیا تھا۔ سہیل بھائی کی فیکٹری کی وین ہارن دے رہی تھی۔
’’میری موٹر بائیک گھر پر ہی ہوتی ہے، سارا دن۔ تم فوزیہ سے چابی لے لینا۔ اور ویسے تو گاڑی بھی ہے۔ چاہو تو وہ لے جانا۔‘‘
کچن سے نکلنے سے پہلے انہوں نے اپنی بیوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایاز کو تاکیداً کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فی الوقت اُسے گاڑی یا بائیک کسی کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ اس شہر میں وہ مکمل طور پر اجنبی تھا، بغیر کسی کی گائیڈنس کے جاتا بھی تو کہاں؟
اب اُس سے ناشتے کے لئے پوچھا جا رہا تھا۔
اماں نے اکلوتی اولاد ہونے کے باوجود اسے نخریلا نہیں بننے دیا تھا اور باقی کسر ہاسٹل کے بدمزہ کھانوں نے پوری کر دی تھی۔ پر یہاں کوئی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔
اصلی گھی کے پراٹھے، دیسی انڈے، مکھن۔ سب کا خیال تھا کہ وہ یہی سب ناشتے میں لیتا ہو گا، سو اُسے سادہ بریڈ سلائس کے ساتھ ہاف فرائی انڈا کھاتا دیکھ کر وہ سب ہی بڑے غیر مطمئن تھے۔
ٹیپو اور فراز، چھوٹی ممانی کے بیٹے تھے۔
ٹیپو کو اپنے بینک پہنچنا تھا اور فراز نے ابھی بیٹھے بیٹھے، آج یونیورسٹی سے چھٹی کر لینے کا پروگرام بنا لیا تھا۔
’’انتہائی بداخلاقی کی بات ہے کہ سب گھر والے ایک ایک کر کے اپنے اپنے کاموں پر چل دیں۔ کم از کم میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘
’’کیوں، گھر پر اور لوگ بھی تو ہیں۔ اور وہ، مراد بھائی!‘‘ ایاز کو کچھ یاد آیا۔


’’اُف۔۔۔۔۔۔۔‘‘ معلوم نہیں، اُس نے ایکٹنگ کی تھی یا واقعی اُسے حیرت ہوئی تھی۔
’’تو مراد بھائی کی شہرت چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ دیکھا امی! آپ نے؟‘‘
فراز نے چھوٹی ممانی کی طرف دیکھا۔
’’بڑا بھائی ہے تمہارا۔ ہر وقت مذاق مت اُڑایا کرو۔ سیدھا ہے، غریب۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ۔۔۔۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی تخت سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔
ایاز کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ آخر ناراض کس بات پر ہوئی ہیں۔ وہ ناشتہ کر چکا تھا اور شنو آپا نے اس کے ناشتے سے پہلے ہی یاد دلایا تھا کہ اسے ابھی دونوں ماموئوں سے ملنا ہے۔
وہ سیدھا وہاں سے نکل کر بڑی اماں کے کمرے کی طرف ہی آنا چاہ رہا تھا، مگر اس بڑے سارے گھر سے ابھی اس کی واقفیت بڑی سرسری سی ہی تھی۔ فراز کے موبائل پر بیل ہو رہی تھی۔ سو اُسے ڈسٹرب نہ کرنے کے خیال سے وہ خود ہی برآمدے میں سے اندر کی طرف جاتے کاریڈور میں مڑ گیا۔
’’انہیں کیا حق پہنچتا ہے، جو وہ میرے بارے میں اس طرح کی بازپرس کریں اور وہ بھی اتنے گھٹیا الفاظ میں۔ میں صاف کہہ رہی ہوں، بڑی اماں! کسی دن اتنا برا ہو گا، جس کا آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔‘‘ اندر سے کسی کی تلخی میں ڈوبی آواز سنائی دے رہی تھی۔
وہ کچھ حیرت زدہ سا ہو کر وہیں رک گیا۔ اتنے خوش مزاج گھرانے میں اس بداخلاقی کا کیا کام تھا، بھلا۔
جواباً وہ ہلکے ہلکے کچھ کہہ رہی تھیں۔ مگر اس کے پلّے، سوائے دو چار الفاظ کے، کچھ نہ پڑ سکا۔ بہرحال پہنچا وہ بالکل صحیح جگہ تھا۔ بڑی اماں کے دروازے کے اوپر لگے آیت الکرسی کے فریم کو دیکھ کر اسے اتنا تو فوراً ہی کنفرم ہو چکا تھا۔
’’ہاں، تو میں نے کب منع کیا ہے؟ مگر ابھی کیوں؟ سانس لینے کے لئے تھوڑی سی ہوا تو آنے دیں۔ قربانی سے پہلے ہی دم گھٹ کر مر گئی تو سارا مزا ہی کِرکِرا ہو جائے گا، سب کا۔‘‘
پہلے سے بھی زیادہ اونچی آواز اور لہجے کی کڑواہٹ اور بھی بڑھی ہوئی۔

اسے اندر جانا چاہئے تھا، یا پھر یہیں سے واپس برآمدے میں جا کر کھڑا ہو جانا بہتر تھا۔ اس چھوٹے سے وقفے میں وہ یہ چھوٹا سا فیصلہ کر بھی نہیں سکا تھا کہ کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔
گندمی رنگت والے چہرے پر اور تو کچھ خاص نہیں تھا، مگر آنکھیں بڑی خوب صورت تھیں۔ سبز سی، جھلملاہٹ دیتی ہوئی۔
اُس نے ایک نظر میں ہی جانا۔
’’شرم تو نہیں آتی، اس طرح چھپ کر کسی کی باتیں سنتے ہوئے۔ اور یہ سیدھے اندر کس طرح چلے آ رہے ہو؟ روکا نہیں کسی نے تمہیں؟‘‘
حیرت بھری جھلاہٹ میں وہ اس سے کہہ رہی تھی۔ ٹھیک سامنے بیٹھی بڑی تائی کی ’’ہیں، ہیں‘‘ پر بھی جب وہ خاموش نہیں ہوئی تو انہیں مجبوراً اٹھ کر دروازے تک آنا پڑا۔
’’ایاز ہے۔ آمنہ کا بیٹا۔ رات آیا ہے۔ یوں ہی سوچے سمجھے بغیر بولنا نہ شروع ہو جایا کرو۔ مگر اور کیا سنتی ہو، جو یہ سنو گی۔ تم نے تو ٹھان ہی رکھی ہے، ہمیں شرمندہ کروانے کی۔‘‘ وہ خفا ہونے لگیں۔
’’تو مت کہا کریں نا، مجھے کچھ۔ اس چڑیا گھر میں اور بھی تو جانور ہیں، انہیں سدھاریں۔‘‘
بجائے شرمندہ ہونے کے وہ مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کر کے جا چکی تھی۔
’’برا مت ماننا، اس کا دماغ تو ہے ہی خراب۔ سمجھ میں نہیں آتا، کیا کریں۔ ہے بھی لڑکی ذات۔ لڑکا ہوتا تو تمہارے دونوں ماموں کب کا نکال چکے ہوتے یہاں سے۔‘‘
اسے اندر لاتے ہوئے بڑی اماں بتانے لگیں تو وہ اُن کی شکل دیکھنے لگا۔
اولاد کتنی ہی نافرمان اور بدتمیز کیوں نہ ہو، ان کے خاندان میں اس طرح کی کوئی مثال نہیں تھی کہ کسی کو گھر سے نکال دیا ہو۔
وہ پوچھنا چاہ رہا تھا، مگر اسے سکھایا گیا تھا کہ کسی کے بھی ذاتی معاملات میں دخل، حد درجہ بدتہذیبی کے زمرے میں آتا ہے۔
بڑی اماں کو بھی شاید اُس کے نو وارد ہونے کا خیال آ گیا تھا، اسی لئے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اس سے ناشتہ کا پوچھنے لگیں تو اس نے بھی اس بدلے ہوئے موضوع میں ہی عافیت جانی۔ دونوں ماموں آفس جانے سے پہلے تائی کو خدا حافظ کہنے آئے تو ان سے بھی ملاقات ہو گئی۔

of 13 
Go