Urdu Novels

Back | Home |  

گونگے دُکھ ۔۔۔۔۔قبال بانو


نظم پہلا جھوٹ

آنسو کا قطرہ
انگلی کی نرم پور پر
دِھیرے دِھیرے لرز رہا ہے
اور میں
سوچ رہی ہوں
کاش
پانی کی یہ بوند
اُسی لمحے پلکوں پہ آٹپکتی
جب تم نے
پہلا جھوٹ بولا تھا


…٭٭٭…


گھونگٹ کی اوٹ سے صالحہ خاتون نے گونج کی طرح تڑپتے دل کو قابو میں کرتے ہوئے نہایت ہی ڈرتے ڈرتے دیکھا۔ ملک رضا علی گیلانی نہایت بے قراری سے کمرے کے وسط میں ٹہل رہے تھے۔ دبیز ایرانی قالین کی وجہ سے آہٹ سنائی نہیں دے رہی تھی‘ مگر صالحہ خاتون کو یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے رضا علی کے قدموں کی ہر دھمک ان کے دل پر پڑ رہی ہو۔
صالحہ خاتون کب سے ان کی منتظر تھیں۔ بیٹھے بیٹھے ان کی کمر تختہ ہو گئی تھی، مگر انہیں تو ملک رضا علی کا انتظار تھا، کہ عورت کی قسمت میں عموماً انتظار ہی تو ہوتا ہے۔
پھر ثمینہ کھٹکے کی آواز پر اُٹھ کر چلی گئی‘ مگر سرگوشی میں صالحہ خاتون کو بتا گئی تھی۔
’’ بھابی! لالا آ گئے ہیں‘ اب میرا یہاں کوئی کام نہیں۔‘‘
ثمینہ کے لہجے میں شرارت رقصاں تھی اور صالحہ خاتون کی دُنیا ہی ڈگ مگ ہو گئی تھی۔ بدن کی عمارت میں دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا، کہ صالحہ خاتون کو محسوس ہوا، جیسے ابھی پسلیوں کی حد توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ انہوں نے سانس روک کر آنکھیں موند لیں۔
پھر تو کتنی ہی ساعتیں بیت گئیں‘ کتنے ہی بے درد لمحے سسکتے تڑپتے ہوئے گزر گئے۔ صالحہ خاتون آنکھیں بند کئے منظر دیکھ رہی تھیں، کہ ابھی ملک رضا علی گیلانی ان کے چھپرکٹ کے پاس آئیں گے‘ اپنے لہجے کی ملائمت اور لفظوں کی مدھ ان کی سماعتوں میں انڈیلتے ہوئے ان کی مخروطی انگلیوں والے ہاتھ تھام کر کتنے ہی وعدے کریں گے‘ مستقبل کو حسین لفظوں کا روپ دیں گے۔
ان سے ہمیشہ وفادار رہنے اورمحبت کرنے کے وعدے لیں گے اور وہ سر جھکائے ان کی ہر بات کا جواب اثبات میں ہی دیں گی، کہ یہ رات ایسی تو نہیں ہوتی ،جو مرد کی کسی بھی بات سے انحراف کیا جائے؟
اور بھلا نئی نویلی دلہن کی یہ مجال کہاں؟
پھر یہی سہاگ رات تو وہ رات ہوتی ہے، جب ازدواجی زندگی کی عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور اگر پہلی رات ہی عورت مرد کے دل میں اتر جائے، تو عمارت اسی قدر مضبوط ہوتی ہے۔
یہ رات جس کے بارے میں صالحہ خاتون نے کتنی ہی خوبصورت باتیں سن رکھی تھیں۔ یہ ان کی زندگی کی وہ حسین رات تھی‘ جس کے خواب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیاں دیکھنے لگتی ہیں‘ مگر کبھی کبھی یہ خواب دیکھے نہیں جاتے، بلکہ آپ ہی آپ آنکھوں میں یہ سپنے بن کر در آتے ہیں۔
انسانی فطرت پر بھلا بند باندھے جا سکتے ہیں؟ صالحہ خاتون جیسی سنجیدہ لڑکی نے بھی اس رات کے بارے میں ڈھیروں خواب دیکھے تھے‘ کیا کچھ نہ سوچا تھا۔ یہ اور بات کہ اس سوچ میں ملک رضا علی گیلانی


کا نام تو ذہن کی کسی بھی روزن سے کبھی بھی داخل نہیں ہوا تھا‘ بلکہ وہ تو اس نام سے واقف ہی نہ تھیں‘ تو بھلا کس طرح سوچوں میں لے آتیں‘ مگر جب رضا علی سے منسوب ہوئیں، تو ان کے بارے میں ضرور سوچا تھا۔
وہ اپنے دس مرلے کے مکان کی دہلیز پار کرکے اماں بی اور ابا میاں کی دعائوں کے سائے تلے رضا علی کی دس کنال کی حویلی میں آ گئی تھیں۔ ان کی خواب گاہ میں ان کے چھپرکھٹ پر زندہ حقیقت کی طرح بیٹھی تھیں‘ مگر ملک رضا علی تو پھولوں سے لدے چھپر کھٹ کے پاس ہی نہ آئے۔ کمرے میں آئے ضرور تھے، مگر ان کے منہ سے کوئی لفظ بھی نہ نکلا تھا۔ بس جب سے آئے تھے، مسلسل ٹہل رہے تھے‘ نہ جانے کون سی پریشانی تھی‘ کون سا دکھ تھا؟
کیسی چبھن تھی‘ جس کی کسک نے انہیں پارے کی طرح متحرک کر رکھا تھا۔
انجانے سے دُکھ تھے، جو دونوں کے بیچ بول رہے تھے۔
مگر لگتا تھا، ان کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ ہو‘ لفظ گونگے ہوگئے ہوں۔
بس ایک دم ہی تو دونوں کی کایا پلٹ گئی تھی۔ صرف قبولیت کے تین لفظوں نے سب پرانے رشتے ختم کر دیئے تھے۔
’’ایسا میں نے کب سوچا تھا؟‘‘ رضا علی نے شیروانی کے بٹن کھولتے ہوئے رنگین پایوں کے بڑے سے پلنگ کی طرف دیکھا، جس کے چاروں طرف پھولوں کی لڑیاں لٹکی ہوئی تھیں اور یہ سیج ان کی سیج تھی۔
ان پھولوں کے پیچھے وہ سرخ دہکتا ہوا انگارہ صالحہ خاتون کی صورت میں موجود تھا‘ جس کے قرب کی آنچ سے رضا علی کو پگھل جانا چاہیے تھا۔ اپنے لمس سے انہیں صالحہ خاتون کے وجود میں چنگاریاں بھرنی تھیں‘ پھر جس قدر حدت بڑھتی رضا علی اسی قدر پگھلتے۔
’’ نہیں! نہیں صالحہ خاتون تم میں وہ تپش نہیں، جو مجھ کو پگھلا سکے‘ کہ میں نے کبھی بھی تو تمہارے قرب کی خواہش نہیں کی تھی اور جس کے قرب کی خواہش تھی‘ اس کا تو تصور ہی میرے دل کو موم کر دیتا ہے۔ اس کے تو تصور ہی میں اتنی حدت ہے کہ میں پگھل جاتا ہوں۔ تم تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتیں۔‘‘
’’ ہاں وہ میری سعیدہ… میری روح… میری کائنات‘ جس کی تصویر میرے دل کے ہر اک خانے میں فٹ ہے‘ جس کا لہجہ میری سماعتوں میں نغمگی بکھیرتا ہے‘ جس کے لمس سے میرے اندر خواہشوں کی کونپلیں پھول بننے لگتی ہیں۔‘‘
’’ہاں صالحہ خاتون‘ تم کبھی بھی وہاں نہیں پہنچ سکتیں‘ جہاں سعیدہ ہے‘ اور وہ میرے دل کی مسند پر ہمیشہ موجود رہے گی‘ کہ میں نے اپنے شعور میں پہلی بار جسے چاہا، وہ سعیدہ لغاری ہے۔‘‘
’’اپنے دل کی تمام تر شدتوں اور رُوح کی گہرائیوں سے میں نے اسے چاہا اور دلوں میں بسنے والے تو نکل بھی جاتے ہیں، مگر جو رشتے روح کے تاروں سے جڑے ہوں‘ وہ بھلا کبھی ٹوٹ سکتے ہیں؟‘‘
ملک رضا علی کے ذہن میں یادوں کی ہوا خوب چل رہی تھی۔
سعیدہ کے نام نے ان کے دل کی رگوں کو آرے کی طرح کاٹنا شروع کر دیا‘ اور وہ انہیں اتنی شدت سے یاد آ رہی تھی، کہ دل کی نازک رگیں ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔
’’ میں! میں تم سے شرمندہ ہوں سعیدہ جانی!‘‘
رضا علی نے ہونٹ کچلتے ہوئے سعیدہ کو دل ہی دل میں مخاطب کیا اور صوفے پر ڈھ سے گئے۔
’’ میں اس لمحے خود کو بہت کمزور محسوس کررہا ہوں‘ بالکل ٹوٹ گیا ہوں‘ ہو سکے تو تم مجھے معاف کر دینا، کہ تم سے کئے ہوئے وعدے پورے نہ کر سکا اور اس سفاک لمحے ہار گیا، جب تمہاری محبت پر بہن کی محبت غالب آ گئی۔‘‘ انہوں نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔
’’اس سمے تم مجھے دیکھو تو تم رو دو گی۔ مجھے پکا یقین ہے‘ اپنے ایمان کی حد تک‘ دیکھ سکو تو دیکھو، کہ ملک رضا علی گیلانی کا سارا طنطنہ اور وقار خاک میں مل گیا ہے۔ اس کااونچا شملہ اس کے اپنے قدموں تلے روندا گیا ہے‘ جبکہ صالحہ خاتون کاکوئی دوش نہیں ہے‘ کوئی قصور نہیں ہے‘ مگر اس وقت میری خواب گاہ میں اس کی موجودگی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی‘ حالانکہ یہ میری منکوحہ ہے۔ نکاح کی ڈور نے ہم دونوں کو ایک دوسرے سے مضبوطی سے باندھ دیا ہے‘ مگر کیا کروں کہ میرا دل اس رشتے کو تسلیم ہی نہیں کررہا ہے۔ دل ایک دُکھتا ہوا پھوڑا لگ رہا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ یہاں سے بھاگ جائوں‘ تمہارے پاس آ جائوں‘ مگر سعیدہ لغاری تم بھی تو مجھے قبول نہیں کرو گی۔‘‘
انہوں نے سوچا‘ پھر وہ صوفے سے اٹھ کر تیزی سے چھپر کھٹ کی طرف بڑھے۔ پلنگ پر بیٹھے تو صالحہ خاتون کے دل کے سمندر میں دھڑکنوں کا جوار بھاٹا آ گیا۔ کتنے ہی لمحے بنا کسی آہٹ کے گزر گئے۔
’’ گھونگھٹ اٹھائوں یا نا… سوچوں کے بھنور میں وہ ابھرنے‘ ڈوبنے لگے اور پھر لمحوں ہی میں فیصلہ ہو گیا۔ وہ صالحہ خاتون کو توڑ دینا چاہتے تھے۔‘‘


’’ سوری سعیدہ!‘‘ انہوں نے ہولے سے کہا۔ صالحہ خاتون دھڑکنوں کے شور میں کچھ بھی تو نہ سن سکیں۔ اگر سن لیتیں، تو ملک رضا علی کی ساری بے قراری‘ تڑپ اور چبھن سمجھ جاتیں۔
رضا علی اپنے دل میں سجی مورت سے شرمندہ تھے‘ مگر ان کے سامنے پلنگ پر بھی ایک مورت موجود تھی‘ جو حقیقت تھی‘ خواب نہ تھی۔ وہ اسے چھو سکتے تھے‘ محسوس کر سکتے تھے‘ ہاتھ بڑھا کر اسے بانہوں میں سمیٹ سکتے تھے۔
کوئی خدشہ‘ کوئی دھڑکا نہ تھا اور یہی ہوا کہ انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے صالحہ خاتون کا گھونگھٹ اُلٹ دیا۔
چوڑیاں کھنکیں‘ لب کپکپائے‘ آنکھوں میں کاجل کے ساتھ گلابی ڈورے بھی تیرنے لگے۔ دل کی دھڑکنیں مزید بڑھ گئیں۔
رضا علی میں شاید اس حسن جوالا کو دیکھنے کی تاب نہ تھی‘ یا وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتے تھے‘ کہ دیکھ کر سراہنا بھی تو پڑتا ہے اور وہ اس پوزیشن میں نہ تھے کہ صالحہ خاتون کی سج دھج اور ان کے حسن کو سراہتے۔ تبھی تو انہوں نے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل لیمپ کا بٹن دبا دیا۔ خواب گاہ تاریکی میں ڈوب گئی اور پھر ساعتیں ریشم کی مانند سرسر کر کے سرکنے لگیں۔

…٭٭٭…


ملک رضا علی گیلانی پشت ہا پشت سے زمیندار تھے۔ نواب پور کی سینکڑوں ایکڑ سونا اُگلتی اراضی کے تنہا وارث تھے۔ ان کی صرف ایک بہن تھی‘ ثمینہ گیلانی۔ ان دونوں میں ایسی محبت تھی، کہ جیسی بہن بھائی میں ہونی چاہیے‘ بلکہ رضا علی بہن کو کچھ زیادہ ہی چاہتے تھے۔
چاہتے تو وہ سعیدہ کو بھی تھے، مگر سعیدہ اور ثمینہ کی محبتوں میں جذبوں کا بڑا فرق تھا۔ ثمینہ سامنے ہوتی تو ان کا دل برادرانہ اور پدرانہ محبتوں کے آبشار لٹاتا اور سعیدہ کی قربت ان کے بت میں آگ دہکا دیتی۔ سعیدہ جو ان کے دل میں بستی تھی‘ رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی‘ ذہن میں گونجتی تھی۔ سعیدہ کے قرب ہی کا تو اعجاز تھا، جو ان کی آنکھوں میں خمار بھر دیتا تھا۔ آواز میں گمبھیرتا آ جاتی اور لفظ اپنی ادائیگی بھول جاتے تھے۔
سعیدہ ان کی پھوپھی زاد تھی۔ جب وہ پیدا ہوئی تو اسے رضا علی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ اسی طرح سعیدہ کا چھوٹا بھائی نادر خان لغاری‘ ثمینہ سے منسوب تھا۔ اس خاندان میں ہمیشہ ہی سے ادلے بدلے کی شادیاں ہوتی تھیں۔
نادر خان اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں آسٹریلیا گیا ہوا تھا‘ لیکن اس نے بزرگوں کے فیصلے پر سر خم کرتے ہوئے دل بھی خم کر دیا تھا اور ثمینہ کو اپنانے کے خواب پلکوں کی منڈیروں پر سجا رکھے تھے، کہ اب وہ اس کے والدین ہی کی نہیں‘ نادر کے دل کی پسند بھی بن گئی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے سعیدہ لغاری‘ رضا علی کے دل کی اولین تمنا تھی اور انہیں اس وقت ایک ہونا تھا‘ جب نادر اور ثمینہ کی تعلیم مکمل ہو جاتی۔ ان دونوں کی خاطر رضا اور سعیدہ بھی جدائی اور ہجر کا عذاب بھگت رہے تھے۔
نادر کی وجہ سے رضا علی نے ثمینہ کو بھی تعلیم دلوائی تھی۔ صرف اس لیے کہ وہ نادر کے آنے تک مصروف رہے۔ ثمینہ لاہور میں گورنمنٹ کالج میں بی اے فائنل کی طالبہ تھی۔ نادر کو بھی اسی سال کے اوائل میں آنا تھا اور رضا علی اس دن کے منتظر تھے‘ جب سعیدہ کو ان کی خواب گاہ کی رونق بڑھانی تھی۔
ملک رضا علی گیلانی نے خود تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی‘ کیونکہ جب وہ تھرڈ ایئر میں تھے، تو ان کے والد علی خان گیلانی دل کے جان لیوا دورے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ثمینہ ان دنوں نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ ایک دم ہی گھر کی اور باہر کی تمام ذمہ داریاں رضا علی کے سر آن پڑیں۔
بگڑے ہوئے رئیس زادے تو وہ پہلے ہی تھے۔ انہیں کب کسی کا ڈر اور خوف رہا تھا۔ جب چاہا‘ جس قدر چاہا اور جو چاہا ملک علی خان گیلانی نے کبھی ان کا ہاتھ نہ روکا تھا۔ ہاتھ شروع ہی سے کھلا رہا تھا اور اب جبکہ باپ کاسایہ بھی نہ رہا تھا، تو تجوری میں سجے ہوئے نوٹوں کی گڈیاں ان کی تھیں۔ پیسہ ایک ایسی چادر ہے، جو ہر عیب پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ بری عادتیں تو ان میں پہلے ہی سے تھیں، جو تقریباً ہر رئیس میں پائی جاتی ہیں۔ دولت کی چادر میں چھپ کر ’’ سب کچھ‘‘ کرتے پھر بھی اُجلے ہی رہتے۔
یوں بھی مرد باہر کچھ بھی کرتا رہے‘ پھر بھی نواں نکور رہتا ہے۔ یہ عورت تو نہیں جس کی ’’ غلطی‘‘ مجسم ہو کر اس کے وجود میں پرورش پانے لگتی ہے۔ رضا علی گیلانی رتن پور جاتے‘ سعیدہ کی قربت میں خوشیوں کی مئے کے جرعے رج رج پیتے اور جب واپس نواب پور آتے تو پھرکئی روز تک اپنے آپ کو کسی اور کومل وجود کے سائے سے دور رکھتے‘ مگر فطرت بھلا بدل سکتی ہے؟ البتہ پہلو میں وجود کوئی اور ہوتا، مگر ان کے تصور میں سعیدہ ہوتی۔
’’ بس سعیدہ جب تم آ جائو گی نا‘ پھرمیں کسی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھوں گا۔ یہ تو تمہاری یاد اور تڑپ کوبھلانے کے لیے بہلاوا ہے۔ تم آ جائو گی، تو پھر میں کسی دوسری عورت کی قربت کی خواہش نہیں کروں گا‘ مگر ابھی تو سب جائز ہے نا۔‘‘
اس جائز گناہ کو کرتے ہوئے وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے رہے۔ آنکھیں سعیدہ کے سپنے سجائے رہتیں اور دل کے آنگن میں اسی کی آہٹ گونجتی رہتی۔

of 139 
Go